Baaghi TV

Tag: عبدالحفیظ چنیوٹی

  • ” دَسْتَک ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” دَسْتَک ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    دَسْتَک کے اردو معنی، دروازہ بجانا، دروازہ اور پھاٹک کھٹکھٹانے اور تھپتھپانے کے عمل کو کہتے ہیں.

    دستک یا ڈور بیل ہماری روٹین اور معمول کا لازمی جز ہے۔

    ہمارا رویہ کسی دوست، عزیز یا پڑوسی کے گھر گئے یا بعض دفعہ اپنے گھر کی دستک یا بیل بجانی ہو تو بیل پر انگلی رکھ کر چسکے لینے لگتے ہیں جو کہ نہایت بےہودہ حرکت ہے۔ اگر مطلوبہ دروازے پر بیل کی بجائے دستک دینی پڑ جائے تو اردگرد کے لوگوں کو بھی مشقت میں ڈال دیتے ہیں۔

    عزیز بھائیو ! ذرا سوچیں کہ ممکن ہے اندر گھر میں کوئی مریض ہو یا کسی کو گھنٹوں کی مشقت سے گذر کر نیند کی گھڑی میسر آئی ہو یا پھر ممکن ہے کوئی کسی اہم امر میں مشغول ہو بعض دفع پردے والے گھر میں کسی مرد کے گھر میں نا ہونے کے سبب بھی تاخیر ہو جاتی ہے لہٰذا حوصلہ تحمل اور بردباری ایک ضروری وصف ہے جس کو ہم سب میں ہونا چاہئیے۔

    اسلامی ہدایات

    کسی کے گھر میں داخل ہونے سے
    قبل اجازت لینے کے آداب کیا ہیں؟

    کسی کے گھر جانے سے قبل اجازت لینا ایک اچھے اور مہذب انسان کی پہچان اور اس کی شرافت کى دليل ہے. ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے پاس اس کی اجازت کے بغیر پہنچ جاتا ہے تو اس کو ایسی حالت میں دیکھے گا جس میں شاید اسے دیکھنا پسند نہ ہو. شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس بات کی بالکل گنجائش نہیں کہ کوئی آدمی کسی کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر داخل ہو. اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا

    “اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ کسی اور کے گھر میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو، اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو.” سورۃ نور 27

    اسی لئے اسلام نے اجازت کے کچھ آداب بیان کئے تاکہ اس کے ماننے والے اس کى روشنى میں اپنى عملی زندگی گزار سکیں.

    1 گھر کے اندر نہ جھانکا جائے۔

    کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے گھر میں اور اوپر نیچے جھانکنے کی، ایسے لوگ اچھے مزاج کے ہرگز نہیں ہو سکتے. بخاری، مسلم كى روايت ہےحضرت ابو هريره رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر کسی شخص نے تمہارے گھر میں بغیر تمہاری اجازت کے جھانکا اور تم نے اسے كنكری پھینک کر ماری اور اس کی آنکھ پھوٹ گئی تو تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں۔

    2 اجازت لینے والے کو چاہئیے کہ وہ دروازے کے بالکل سامنے نا کھڑا ہو، بلکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑا ہو تاکہ براہ راست گھر میں نظر نہ پڑسکے۔ ( نہایت اہم بات )

    پھر دروازے پر کھڑے ہوکر "السلام علیکم” کہتے ہوئے كہے: کیا میں داخل ہوسکتا ہوں؟ دروازے پر دستک دیتے وقت زور زور سے دروازہ پیٹنا اچھی بات نہیں بلکہ اتنی زور سے دروازہ مارا جائے کہ آواز اندر چلی جائے. دروازے پر تین بار ٹھہر ٹھہر کر دستک دے۔

    3 اجازت لینے والے کو چاہئے کہ اپنا نام بتائے۔

    جب آپ کسی کے دروازے پر دستک دیں گے اور وہ آپ کے لئے دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو واضح ہے کہ وہ دروازہ کھولنے سے پہلے آپ کا نام جاننا چاہے گا، اس لئے اپنا نام بتانے میں کسی قسم کے جھجھک کا تجربہ نہیں کرنا چاہئیے۔

    بخاری، مسلم كى روايت هے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
    "میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قرض میں مدد مانگنے کے لئے گیا جو ہمارے باپ پر تھا. میں نے دروازہ پر دستک دی تو آپ نے پوچھا: کون؟ میں نے کہا: میں ہوں. تو آپ نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا "میں” "میں” گویا آپ نے اسے ناپسند كيا۔

    4 اجازت نہ ملنے پر لوٹ جائیں۔

    اگر اجازت نہ مل سکے تو گھر والوں کے بارے میں کوئی برا خیال نہ رکھیں اور وہاں سے لوٹ جائیں کہ ظاهر ہے کہ کسی صحیح وجہ کی بنیاد پر ہی آپ کو اجازت نہیں ملی ہے: اللہ کریم نے فرمایا:-

    سورة النور 28

    ترجمہ: اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس ہو جاؤ تو واپس ہو جاؤ، یہی تمہارے لئے زیادہ اچھی بات ہے. اللہ اچھی طرح جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ سور النور آیت 28..

  • ” موت کے بعد انسان کی 9 آرزوئیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” موت کے بعد انسان کی 9 آرزوئیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ۱- يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﮨﻮﺗﺎ ‏(ﺳﻮﺭة النبأ‏ 40#)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۲- يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي *
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ‏( ﺍﺧﺮﯼ ‏) ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ
    ‏( ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺠﺮ #24 ‏)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۳- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺎﻗﺔ #25)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۴- يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﺗﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #28 )
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۵- يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍللہ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﺣﺰﺍﺏ #66)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۶- يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﺘﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #27)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۷- يَا لَيْتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ #73‏)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۸- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮧ ﭨﮭﯿﺮﺍﯾﺎ ﮨﻮﺗﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻬﻒ #42)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۹- يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺟﮭﭩﻼﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﮞ۔
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﻧﻌﺎﻡ #27)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺭﺯﻭﺋﯿﮟ جن کا ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ، ﺍسی لئے ﺯﻧﺪﮔﯽ میں ہی اپنے عقائد و عمل کا ﺍﺻﻼﺡ کرنا ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔
    ﺍللہ ﺗﻌﺎﻟﯽ ہمیں ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎﺀ ﻓﺮﻣﺎئے۔

  • محمد رسول اللہﷺ کی تلواریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    محمد رسول اللہﷺ کی تلواریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    نبی کریم ﷺ کی ملکیت میں کئی تلواریں تھیں۔امام سیوطی کہتے ہیں کہ آپﷺ کے پاس سات تلواریں تھیں۔ابن حجر ہیثمی نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ کے پاس آٹھ تلواریں تھیں۔ ہر تلوار کا اپنا نام تھا۔ ابن سعد نے سات تلواروں کے نام نقل کئے ہیں۔

    ماثور، ذولفقار، قلعی، بتار، حتف،مخذم، رسوب

    ان میں سے تین تلواریں ۔قلعی، بتار، حتف۔ آپﷺ کو غزوہ بنی قینقاع کے مال غنیمت میں ملی تھیں۔ابن القیم نے نو تلواروں کا ذکر کیا ہے۔یوسف صالحی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس گیارہ تلواریں تھیں۔آج کل نو تلواروں کی رسول اللہﷺ کی طرف نسبت معروف ہے۔ان میں سے آٹھ تلواریں استنبول کے عجائب گھر توپ کاپی میں محفوظ ہیں۔جبکہ ایک تلوار مصر کی ایک مسجد میں ہے

    1- البتار

    البتار رسول اللہﷺ کی معروف تلوار ہے ۔
    البتّار کا معنیٰ السيف القاطع یعنی کاٹ دینے والی تلوار ہے۔
    اس کی لمبائی 101 سینٹی میٹر ہے۔ اسے سیف الانبیاء یعنی نبیوں کی تلوار بھی کہا جاتا ہے، یہ تلوار نبی ﷺ کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھی۔

    یہ تلوار حضرت داؤود علیہ السلام کو اس وقت مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی جب ان کی عمر بیس سال سے بھی کم تھی۔ اس تلوار پر ایک تصویر بھی بنی ہوئی ہے جس میں حضرت داؤودعلیہ السلام کو جالوت کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے جو کہ اس تلوار کا اصلی مالک تھا۔ مزید تلوار پر ایک ایسا نشان بھی بنا ہوا ہے جو بتراء شہر کے قدیمی عرب باشندے (البادیون) اپنی ملکیتی اَشیاء پر بنایا کرتے تھے۔
    اس تلوار پر حضرت داؤود علیہ السلام ، سلیمان علیہ السلام ، ہارون علیہ السلام ، یسع علیہ السلام ، زکریا علیہ السلام ، یحیٰ علیہ السلام ، عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء مبارکہ کنندہ ہیں۔
    آج کل یہ تلوار ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کاپی میں محفوظ ہے۔

    2- الذوالفقار

    یہ تلوار رسول اللہ ﷺ کو غزوہ بدر میں بطور مالِ غنیمت ملی تھی۔ اس کو رسول اللہﷺ ہر وقت پاس رکھتے تھے۔عاص بن وائل کی ملکیت میں تھی۔جو غزوہ بدر میں قتل ہوا۔فتح مکہ کے وقت یہ تلوار رسول اللہﷺ کے پاس تھی۔یہ تلوار بعد میں عباسی خلفاء کے پاس رہی۔
    بعض روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تلوار حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرما دی تھی۔ غزوہِ اُحد میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اسی تلوار کے ساتھ میدانِ جنگ میں اُترے اور مشرکینِ مکہ کے کئی بڑے بڑے سرداروں کو واصلِ جہنم کیا۔ اکثر حوالے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ تلوار خاندانِ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں باقی رہی۔ اس تلوار کی وجہِ شہرت یا تو دو دھاری ہونے کی وجہ سے ہے یا پھر اس پر بنے ہوئے ہوئے دو نوک نقش و نگار کی وجہ سے ہے۔
    اس تلوار کی کل لمبائی 104 سینٹی میٹر جس میں 15 سینٹی میٹر چوڑا دستہ ہے۔۔۔
    یہ تلوار بھی استنبول کے توپ کاپی میوزیم میں محفوظ ہے.

    3- العضب

    (العضب یعنی تیز دھار والی)
    عضب تلوار رسول اللہﷺ کو حضرت سعد بن عبادہ نے تحفے میں دی تھی۔ روایات کے مطابق یہ تلوار غزوہ بدر سے قبل آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کی گئی تھی۔
    اور یہی وہ تلوار ہے جو آپﷺ نے غزوہ اُحد میں حضرت ابودجانہ کو عطا کی۔ یہ تلوار مصر کے دار الحکومت قاہرہ کی ایک مسجد جس کا نام مسجد حسین بن علی ہے، میں محفوظ رکھی گئی ہے۔
    آجکل یہ تلوار مصر کے شہر قاہرہ کی مشہور جامع مسجد الحسین بن علی میں محفوظ ہے۔

    4-الماثور

    یہ تلوار حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے والد ماجد کی وراثت کے طور پر ملی تھی۔
    یہ تلوار ایک اور نام ’ماثور الفجر‘ سے بھی مشہور ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی معیت میں جب یثرب کی طرف حجرت فرمائی تو یہی تلوارآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلوار بمعہ دیگر چند دوسرے جنگی سامان کے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرما دیئے تھے۔
    اس تلوار کا دستہ سونے کا ہے ۔اور اس تلوار کی لمبائی 99 سینٹی میٹر ہے

    5- الحتف

    یہ تلوار بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔
    اس تلوار کے بارے میں یہ روایت ہے کہ یہ تلوار حضرت داؤود کے مبارک ہاتھوں سے بنی ہوئی ہے ، یہ تلوار یہودیوں کے قبیلے لاوی کے پاس اپنے باپ داداؤں سے بنو اسرائیل کی نشانیوں کے طور پر نسل در نسل چلی آرہی تھی، حتیٰ کہ آخر میں یہ نبی ﷺ کے مبارک ہاتھوں میں مالِ غنیمت کے طور پر پہنچی۔
    حتف تلوار کی لمبائی 112 سینٹی میٹر اور چوڑائی 8 سینٹی میٹر ہے۔ یہ تلوار بھی ترکی کے توپ کاپی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

    6- المخذم

    اس تلوار کے حوالے سے دو مختلف آراء سامنےآتی ہیں۔
    اول یہ تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرمائی اور بعد میں اولادِ علی میں وراثت کے طور پر نسل در نسل چلتی رہی۔ دوئم یہ تلوار سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اہلِ شام کےساتھ ایک معرکہ میں مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔ اس تلوار پر ’زین الدین العابدین‘ کے الفاظ کنندہ ہیں۔
    اس تلوار کی لمبائی 97 سینٹی میٹر ہے۔
    اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کاپی استنبول‘ میں محفوظ ہے۔

    7- القضیب

    یہ کم چوڑائی والی سلاخ نما تلوار ہے۔ جو سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ دفاع کی خاطر تو ضرور موجود رہی ہوگی مگر غزوات میں آپ ﷺ نے اس کا استعمال نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔
    تلوار پر چاندی کے ساتھ ’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب‘ کے الفاظ کنندہ ہیں۔
    اس تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے اور اس تلوار کی میان کسی جانور کی کھال کی بنی ہوئی ہے۔
    اورآجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کاپی استنبول‘ میں محفوظ ہے۔

    8- القلعی

    رسول اللہ ﷺ کی ایک تلوار کا نام القلعی تھا، اس قلعی تلوار ان تین تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے جنگ میں مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھیں۔
    تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے اورتلوار کی خوبصورت میان اسکو دوسری تلواروں میں ایک نمایاں مقام دیتی ہے۔
    یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’’توپ کاپی‘‘استنبول میں محفوظ ہے۔

    9- رسوب

    یہ تلوار نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملکیتی 9 تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ تلوار پر سنہری دائرے بنے ہوئے ہیں جن پر حضرت جعفر الصادق رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی کنندہ ہے۔
    اس تلوار کی لمبائی 140 سینٹی میٹر ہے ۔
    یہ بھی استنبول میں توپ کاپی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

  • ” رویہ بدلنا ہوگا ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” رویہ بدلنا ہوگا ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    صالح اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے،والدین کی اولاد پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں جن میں سب سے اہم ان کی اچھی اور صالح تربیت کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے کے بہترین فرد بن سکیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے!اے ایمان والوں اپنے آپ کواور اپنے اہل و عیال کو (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں
    (سورۃ التحریم آیت نمبر ۶)

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں ہر کوئی نگراں ہے اور ہرکوئی اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہے اور آدمی اپنے گھر کا ذمہ دار ہے اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی:۔(صحیح بخاری وصحیح مسلم)

    اولاد والدین کے لئے امانت ہے اور قیامت کے دن وہ اپنی اولاد کے متعلق جواب دہ ہونگے۔اگر انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت اسلامی انداز سے کی ہوگی تووہ والدین کے لئے دنیا و آخرت میں باعث راحت ہوگی۔

    صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ’’جب بندہ مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے مگر تین عمل باقی رہتے ہیں (۱)صدقہ جاریہ(۲)ایساعلم کہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں(۳)

    صالح اولاد جو ان کے لئے دعا کرتی رہے۔‘‘

    یہ اولاد کی تربیت کا ثمرہ ہے جب ان کی صالح تربیت کی جائیگی تو وہ والدین کے لئے ان کی زندگی میں بھی فائدہ مند ہوتی ہے اور ان کی وفات کے بعد بھی۔

    والدین اس دنیا میں وہ ہستیاں ہوتی ہیں جو ہر حال میں اپنی اولاد کا ساتھ دیتی ہیں۔ والدین کا مثبت رویہ اولاد کو بنا بھی سکتا ہے اور منفی رویہ تباہ بھی کر سکتا ہے۔

    ہمارے ہاں اکثر والدین over possessive ہو جاتے ہیں جو بچے کی شخصيت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ مطلب بچوں کی حد سے ذیادہ فکر کرنا, ہر وقت ساتھ رکھنا, اور بچوں کا ہر فیصلہ خود کرنا اور یہ کہنا کہ "ہم بہتر سمجھتے ہیں بچے کبھی خود صحیح فیصلہ نہیں کر سکتے”۔ یہ رویہ بچوں میں قوت فیصلہ, اچھائی و برائی کا فرق, اور سب سے بڑھ کر اپنی سوچ کو ختم کر دیتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اکثر والدین یہ سب اتنے پیار اور محبت سے کرتے ہیں کہ بچے سمجھ ہی نہیں پاتے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ انھیں ہمیشہ والدین درست لگتے ہیں۔ اور اگر ذرا بھی یہ بچے بڑا ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو مان اور بھروسہ ان کے قدموں کی زنجیریں ثابت ہوتے ہیں۔ اور اگر اچانک کوئی مصیبت آجائے تو یہ بچے بلکل سنبھل نہیں پاتے اور نا ہی کوئی حکمت عملی طے کر سکتے ہیں۔

    کچھ والدین اپنی اولاد کے ساتھ بہت سخت گیر ہوتے ہیں۔ وہ سب کچھ اپنے ہاتھ میں رکھنے کے قائل ہوتے ہیں۔ وقت دینا, ساتھ بیٹھنا تو دور کی بات ہے وہ ہمیشہ سخت رویہ اپنائے رکھتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ بچوں کو ڈرا کر ہی قابو کیا جا سکتا ہے نہیں تو یہ سر پر چڑھ جاتے ہیں۔ ایسے والدین اپنے بچوں کا اعتماد, کچھ کرنے کی لگن, اور شخصیت کو مسخ کر دیتے ہیں۔ بچوں کا ڈر انھیں صرف ” جی ٹھیک ہے” کہنے کا عادی بنا دیتا ہے۔ مطلب وہ اس احکامات ماننے والے بن جاتے ہیں۔ بوقت مصیبت یہ بچے بھی اکثر حوصلہ کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ کبھی اکثر وہ چھوڑ دیتے جو یہ چاہتے ہیں چاہے وہ کھلونے ہوں, کیریر ہو یا شادی کا فیصلہ یہ بچے وہی کرتے ہیں جو بڑے چاہتے ہیں۔ ان کا ڈر کبھی ان کی چھپی صلاحيتوں کو نکھرنے نہیں دیتا۔ یہ بچے اپنی کامیابی بھی اپنی والدین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

    تیسرے نمبر پر وہ والدین آتے ہیں جو بہت لاپروہ ہوتے ہیں یعنی "Ignorant ” ۔ یہ والدین بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی زندگی میں ان کا ہونا نا ہونا برابر ہوتا ہے۔ وہ نا تو کبھی پیار سے پیش آتے ہیں اور نا ہی غصے سے۔ یہ والدین بھی بچوں کو ڈیمج کر دیتے ہیں۔ کیونکہ بچوں کی شخصيت سازی میں والدین کا بہت قلیدی کردار ہوتا ہے۔ ایسے بچے اکثر نشے کے عادی بن جاتے ہیں۔ لاپرواہی اور غیر سنجیدگی ان کی نمایاں صفات بن جاتی ہیں۔ کچھ بچے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لئے بچپن میں ہی بڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کی ضروریات زندگی اور تربیت اپنے سر لے کر وہ اپنی عمر سے بڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ ہوتے بہت کم ہیں۔

    چوتھے نمبر وہ والدین آتے ہیں جو آئیڈیل ہوتے ہیں۔ یہ والدین اپنے بچوں سے پیار بھی کرتے ہیں اور حالات کے مطابق سختی بھی۔ یہ والدین اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرتے ہیں جو ان شخصيت کو نکھار دیتی ہے۔ یہ بچے با اعتماد, با ہمت, اور بہترین فیصلہ ساز ہوتے ہیں۔ یہ اپنے کیریر اور زندگی کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ یہ اپنی راہیں اور منزلوں کا تعین خود کرتے ہیں۔ یہ معاشرے کی تعمير و ترقی میں قلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ فیصلہ سازی, منصوبہ بندی, لیڈرشپ اور ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے میں یہ بچے بہتر ہوتے ہیں۔

  • ” سورۃ النازعات کا تعارف” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” سورۃ النازعات کا تعارف” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    قرآن مجید کے 30 پارے کی79 ویں سورت جس میں 46 آیات، الفاظ 179 اور حروف 762 ہیں۔

    دور نزول: مکی

    نام
    پہلے ہی لفظ النٰزعٰت سے ماخوذ ہے۔

    زمانہ نزول
    حضرت عبد اللہ بن عباس کا بیان ہے کہ یہ سورہ نباء (عم یتسآءلون) کے بعد نازل ہوئی ہے۔
    یہ ابتدائی زمانے کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔

    اس کا موضوع قیامت اور زندگی بعد موت کا اثبات ہے اور ساتھ ساتھ اس بات پر خبردار بھی کیا گیا ہے کہ خدا کے رسول کو جھٹلانے کا انجام کیا ہوگا۔

    آغاز کلام اللہ میں موت کے وقت جان نکالنے والے اور اللہ کے احکام کو بلا تاخیر بجانے والے اور حکم الٰہی کے مطابق ساری کائنات کا انتظام کرنے والے فرشتوں کی قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے کہ قیامت ضرور واقع ہوگی اور موت کے بعد دوسری زندگی ضرور پیش آ کر رہے گی۔ کیونکہ جن فرشتوں کے ہاتھوں آج جان نکالی جاتی ہے، انہی کے ہاتھوں دوبارہ جان ڈالی بھی جا سکتی ہے اور جو فرشتے آج اللہ کے حکم کی تعمیل بلا تاخیر بجا لاتے اور کائنات کا انتظام چلاتے ہیں، وہی فرشتے کل اسی خدا کے حکم سے کائنات کا یہ نظام درہم برہم بھی کر سکتے ہیں

    اس کے بعد لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ یہ کام، جسے تم بالکل ناممکن سمجھتے ہو، اللہ تعالٰی کیلئے سرے سے کوئی دشوار کام ہی نہیں ہے جس کیلئے کسی بڑی تیاری کی ضرورت ہو۔ بس ایک جھٹکا دنیا کے اس نظام کو درہم برہم کر دے گا اور دوسرا جھٹکا اس کیلئے بالکل کافی ہوگا کہ دوسری دنیا میں یکایک تم اپنے آپ کو زندہ موجود پاؤ۔ اس وقت وہی لوگ جو اس کا انکار کر رہے تھے، خوف سے کانپ رہے ہوں گے اور سہمی ہوئی نگاہوں سے وہ سب کچھ ہوتے دیکھ رہے ہوں گے جس کو وہ اپنے نزدیک ناممکن سمجھتے تھے۔ پھر حضرت موسٰی اور فرعون کا قصہ مختصراً بیان کر کے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ رسول کو جھٹلانے اور اس کی ہدایت و رہنمائی کو رد کرنے اور چالبازیوں سے اس کو شکست دینے کی کوشش کا کیا انجام فرعون دیکھ چکا ہے۔ اس سے عبرت حاصل کر کے اس روش سے باز نہ آؤ گے تو وہی انجام تمہیں بھی دیکھنا پڑے گا۔

    اس کے بعد آیت 27 سے 33 تک آخرت اور حیات بعد الموت کے دلائل بیان کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے منکرین سے پوچھا گیا ہے کہ تمہیں دوبارہ پیدا کر دینا زیادہ سخت کام ہے یا اس عظیم کائنات کو پیدا کرنا جو عالم بالا میں اپنے بے حد و حساب ستاروں اور سیاروں کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے؟ جس خدا کے لیے یہ کام مشکل نہ تھا اس کے لیے تمہاری بارِ گرد تخلیق آخر کیوں مشکل ہوگی؟ صرف ایک فقرے میں امکانِ آخرت کی یہ مسکِت دلیل پیش کرنے کے بعد زمین اور اس سروسامان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو زمین میں انسان اور حیوان کی زیست کے لیے فراہم کیا گیا ہے اور جس کی ہر چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ وہ بڑی حکمت کے ساتھ کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ اشارہ کر کے اس سوال کو انسان کی عقل پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ خود اپنی جگہ سوچ کر رائے قائم کرے کہ آیا اس حکیمانہ نظام میں انسان جیسی مخلوق کو اختیارات اور ذمہ داریاں سونپ کر اس کا محاسبہ کرنا زیادہ مقتضائے حکمت نظر آتا ہے یا یہ کہ وہ زمین ہر طرح کے کام کر کے مر جائے اور خاک میں مل کر ہمیشہ کے لیے فنا ہو جائے اور کبھی اس سے حساب نہ لیا جائے کہ ان اختیارات کو اس نے کیسے استعمال کیا اور ان ذمہ داریوں کو کس طرح ادا کیا؟ اس سوال پر بحث کرنے کی بجائے آیات 34 – 41 میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب آخرت برپا ہوگی تو انسان کے دائمی اور ابدی مستقبل کا فیصلہ اس بنیاد پر ہوگا کہ کس نے دنیا میں حدِ بندگی سے تجاوز کر کے اپنے حدا سے سرکشی کی اور دنیا ہی کے فائدوں اور لذتوں کو مقصود بنا لیا اور کس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا اور نفس کی ناجائز خواہشات کو پورا کرنے سے خود کو بچایا۔ یہ بات خود بخود اوپر کے سوال کا صحیح جواب ہر اس شخص کو بتا دیتی ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی سے پاک ہو کر ایمانداری کے ساتھ اس پر غور کرے گا۔ کیونکہ انسان کو دنیا میں اختیارات اور ذمہ داریاں سونپنے کا بالکل عقلی، منطقی اور اخلاقی تقاضا یہی ہے کہ اسی بنیاد پر آخر کار اس کا محاسبہ کیا جائے اور اسے جزا یا سزا دی جائے۔

    آخر میں کفار مکہ کے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ وہ قیامت آئے گی کب؟ یہ سوال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بار بار کرتے تھے۔ جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اس کے وقت کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ رسول کا کام صرف خبردار کر دینا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور۔ اب جس کا جی چاہے اس کے آنے کا خوف کر کے اپنا رویہ درست کر لے اور جس کا جی چاہے بے خوف ہو کر شترِ بے مہار کی طرح چلتا رہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تو وہی لوگ جو اس دنیا کی زندگی پر مر مٹتے تھے اور اسی کو سب کچھ سمجھتے تھے، یہ محسوس کریں گے کہ دنیا میں وہ صرف گھڑی بھر ٹھہرے تھے۔ اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ اس چند روزہ زندگی کی خاطر انہوں نے کس طرح ہمیشہ کے لئے اپنا مستقبل برباد کر لیا۔

  • ” 5 اکتوبر 1947ء بھارتی حکومت نےپاکستان کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” 5 اکتوبر 1947ء بھارتی حکومت نےپاکستان کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    جوناگڑھ برصغیر کی پانچ سو باسٹھ ریاستوں میں سے ایک تھی جو انگریزوں کے برصغیر پر قبضہ سے برطانوی سامراج کے زیرِ تسلط آگئیں- یہ شاہی ریاستیں اپنے اندرونی معاملات کے نظم و نسق کے حوالے سے آزاد تھیں لیکن دفاع اور خارجی معاملات برطانوی حکومت کی ذمہ داری تھی- برٹش انڈیا کی 562 ریاستوں میں جو نا گڑھ آمدنی کے اعتبار سے پانچویں بڑی ریاست تھی جبکہ مسلمان ریاستوں میں دوسرے نمبر پہ تھی – 1947 کے تقسیمِ ہند کے قانون کے مطابق تمام ریاستوں کو تین آپشن دیئے گئے کہ پاکستان سے الحاق کرلیں یا بھارت کے ساتھ الحاق کرلیں یا پھر چاہیں تو آزاد حیثیت میں رہیں- اس وقت جوناگڑھ کے نواب سر مہابت خانجی نے گورنر جنرل آف پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ الحاقی دستاویز Instrument of Accession پر دستخط کئے اور 15 ستمبر 1947 کو جوناگڑھ باقاعدہ طور پر پاکستان کا حصہ بن گیا اور سٹیٹ ہاؤس آف جوناگڑھ پہ پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا – نواب آف جوناگڑھ جناب نواب مہابت خانجی نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ ریاست کی کونسل،

    (جس میں مسلمان اورہندو سب شامل تھے،)

    کی رضامندی سے کیاتھا-

    جیسا کہ بھارت نے برطانوی حکومت کی ملی بھگت سے ہر جگہ سیاسی طاقت کو اپناتے ہوئے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیریں اور جارحانہ اقدامات کئے اِسی طرح جوناگڑھ پہ بھی عالمی قوانین کے خلاف جارحانہ اقدام کیا اور 9 نومبر 1947ء کو بھارت نے مختلف افواہیں پھیلاتے ہوئے جونا گڑھ پر غیر قانونی فوج کشی کے ذریعے قبضہ کر لیا- جونا گڑھ پر غیر قانونی فوج کشی اور مظالم کے سبب بہت سے مسلمان ہجرت کر کے کراچی آ گئے- تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نے میجر کے- ایم- اظہر کو جونا گڑھ بھیجا مگر ان کا سامنا پہلے سے موجود قابض بھارتی افواج سے ہوا- محدود وسائل کے سبب پاکستان وہاں زیادہ فوج نہیں بھیج سکتا تھا کیونکہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے باعث پہلے ہی پاک بھارت جنگ چل رہی تھی-

    یہ ایک تاریخی امر ہے کہ بھارت کا ان ریاستوں پر قبضہ پہلے سے طے شدہ تھااور اس عمل میں انگریز وائسرائے ماؤنٹ بیٹن اور اُن کی اہلیہ کا کردار بھی اہم تھا جبکہ رہی سہی کسر بھارت نے پاکستان کے محدود وسائل اور انگریز جرنیل کے ماتحت فوج کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاستوں پر قبضہ کر کے نکال دی- ریاست جوناگڑھ پر بھارتی قبضہ بھارتی توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم (اکھنڈ بھارت) کو ظاہر کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ابتدا ہی سے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرنے کا بھی ثبوت ہے یہ حقیقت حیدر آباد دکن اور جموں و کشمیر پر بھی غیر قانونی قبضے سے واضح ہوتی ہے-مزید برآں مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں کردار پر بھارتی وزیر اعظم کے اعترافی بیان سے بھارت کی اینٹی پاکستان پالیسی کا تسلسل واضح ہوتا ہے-

    بد قسمتی سے ابتدا میں پاکستان نے جوناگڑھ کا مقدمہ لڑا لیکن جوں جوں وقت گزرا، یہ مسئلہ محض کتابوں تک محدود ہوتا گیا اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اب کتابوں میں بھی اس مسئلہ کا ذکر ناپید ہوتا جا رہا ہے اور نوجوان نسل اس مسئلہ سے آگاہ نہیں ہو رہی- عالمی نظام میں سر اٹھا کر جینے کے لئے قوموں کی خودداری بہت اہمیت رکھتی ہے اور اس لئے ہمیں ہر قیمت پر اپنے قانونی حصے جونا گڑھ اور شہ رگ جموں و کشمیر کا مقدمہ لڑنا ہے اور انہیں بھارتی غیر قانونی و غیر اخلاقی تسلط سے نکالنا ہے-

    قائد اعظم خود ایک قانون دان تھے اور قانون کی عملداری پر یقین رکھتے تھے- نواب آف جوناگڑھ کے پاکستان کی طرف جھکاؤ اور الحاق کی وجہ قائداعظم کا ریاستوں کے حکمرانوں کو آزادانہ فیصلے کرنے کے حق دینا بھی تھا- جبکہ دوسری طرف بھارت ریاستوں کے حکمرانوں کو دھمکا کراپنے ساتھ الحاق پر مجبورکر رہاتھا- لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کئی ریاستوں کو مختلف طریقوں سے مجبور کیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں- ماؤنٹ بیٹن نے آن دی ریکارڈ یہ بات کی کہ ’’اگر میں 15 اگست کو ریاستوں کی ایک ٹوکری لے آؤں تو کانگریس ہر وہ قیمت دینے کو تیارہو گی جو میں لینا چاہوں گا ‘‘۔ اسی لیے کانگرس نے ماؤنٹ بیٹن کو گورنر جنرل آف انڈیا تسلیم کر لیا تھا –

    کشمیر اور جونا گڑھ کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ کشمیر کے بھارت سے نام نہاد الحاق کے وقت مہاراجہ ہری سنگھ اپنی ریاست کا دارلحکومت چھوڑ کر بھاگ چکا تھا اور عملاً ریاست پر کنٹرول کھو چکا تھا اور عوام اس کے خلاف تھی مزید یہ کہ آج تک بھارت نے کشمیر کی الحاقی دستاویز کو بھی ظاہر نہیں کیا جبکہ جونا گڑھ کے نواب نے ریاستی کونسل کی رضا مندی کے ساتھ پاکستان کےساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اورباقاعدہ دستخط شدہ الحاقی دستاویز پاکستانی حکومت کے حوالے کی جس پہ دو خود مختار ریاستوں (پاکستان و جوناگڑھ) کے قانونی سربراہان (گورنر جنرل آف پاکستان و نواب آف جوناگڑھ) کے دستخط ہیں –

    الحاقی دستاویز ایک قانونی معاہدہ ہےجو دو ریاستوں کے مابین طے پاتا ہے اور کسی بھی علاقہ پہ کنٹرول کے لیے قانونی حیثیت رکھتا ہے-
    یہ الحاقی دستاویز بین الاقوامی قانون کے تحت ایک معاہدہ کی حیثیت رکھتا ہے- اگرجونا گڑھ کی قانونی حیثیت کا بین الاقوامی قوانین کی نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جونا گڑھ پاکستان کا حصہ ہے- ویانا کنونشن آن لاء آف ٹریٹیز کے مطابق’ معاہدہ‘ سے مراد دو یا دو سے زائد ریاستوں کے مابین طے پایا جانے والا ایسا معاہدہ ہے جو تحریری شکل میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو ۔ پھر ویانا کنونشن آن لأ آف ٹریٹیز یہ بھی کہتا ہے کہ وہ معاہدہ جو مذکورہ فریقین کے مابین ہوگا اس کی حیثیت’’عالمی‘‘ ہوگی اگرچہ وہ ایک دستاویز پہ مشتمل ہو یا متعدد ضمنی و متعلقہ دستاویزات پہ مشتمل ہو –

    جونا گڑھ کی الحاقی دستاویز:

    (۱) ایک عالمی معاہدہ ہے-

    (۲) دو ریاستوں کے مابین طے پایا گیا ہے-

    (۳) تحریری صورت میں موجود ہے-

    (۴) بین الاقوامی قانون کے مطابق طے پایا-

    ایک مستند و تاحال قابلِ عمل دستاویز کی صورت میں ہے-

    لہٰذا جونا گڑھ کا الحاقی دستاویز ایک بین الاقوامی معاہدہ کی تمام شرائط پہ پورا اترتا ہے-مسئلہ جوناگڑھ تب تک اپنی قانونی حیثیت رکھتا ہے جب تک الحاقی دستاویز کی قانونی حیثیت برقرار ہے- ایک عالمی معاہدے کی قانونی حرمت ہوتی ہے جس کا احترام ہر قوم پہ واجب ہے جیسا کہ ویانا کنونشن آن لاء آف ٹریٹیز 1969 میں اس بات کا اعادہ کیا گیا- آرٹیکل 26 ‘پیکٹا سنٹ سروانڈہ کے مطابق دو فریقین کے مابین معاہدہ طے پا جانے کے بعد دونوں فریقین پہ لازم ہے کے وہ اس معاہدہ پر نیک نیتی سے عمل درآمد کریں-

    بین الاقوامی قانون میں عالیجاہ نواب آف جونا گڑھ کی ایک منفرد حیثیت ہے- داخلی اور بین الاقوامی قوانین میں نواب آف جو نا گڑھ ’’جلاوطن مگر خود مختار ” کی حیثیت رکھتے ہیں جن کے اپنے حقوق ہیں یعنی ایک ایسا شخص جو اپنی ریاست کا اقتدار کھو چکا ہو لیکن اس کے پاس اس مقصد کیلئے قانونی دستاویزات موجود ہوں اِسے عوامی اور آسان زبان میں یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک اراضی کی لیگل رجسٹری تو آپ کے نام پہ ہو مگر عملاً اس پہ قبضہ کسی قابض قوت کا ہو، لہٰذا قانونی مالک اس جگہ کے آپ ہوں گے قبضہ بھلے کسی کے پاس ہوگا – اس لحاظ سے دیکھا جائےتو عالمی قوانین کے تحت نواب آف جوناگڑھ آج بھی جونا گڑھ کے قانونی حکمران ہیں -لیکن ان کی قانونی حیثیت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتے ہیں- جو ان کے ساتھ کئے گئے قانونی معاہدہ کے تحت ہے- یہی وجہ ہے کہ جونا گڑھ کا علاقہ پھر سے پاکستان کے نقشہ میں متنازعہ علاقہ کے طور پر موجود ہے-

    جونا گڑھ کا الحاقی دستاویز پاکستان کے لیے ایک بائنڈنگ کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان کا کیس قانونی طور پر بہت مضبوط ہے- یہ باعث افسوس ہے کہ جب جونا گڑھ پر قبضہ ہوا، ہم نے احتجاج بھی کیا اور اقوامِ متحدہ میں بھی گئے مگر بعد میں اس معاملے کو آگے نہیں بڑھا سکے- اسی طرح بنگلہ دیش کی صورت میں بھارت نے سازشوں سے ہمارے ملک کے حصے پر قبضہ کر کے الگ ملک بنایا-ہم توجہ ہی نہیں کرتے کہ بھارت ابتداء ہی سے ہماری سرزمین کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے- بدقسمتی سے ہم جونا گڑھ کو بھول چکے ہیں حتیٰ کہ اسلام آباد میں جونا گڑھ ہاؤس کے لیے جگہ مختص کی گئی لیکن اس پر بھی سیاسی قابضین مسلط ہوگئے- جونا گڑھ کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے ہمیں جونا گڑھ پر تفصیلی کتب شائع کرنی چاہیں- نوجوان نسل کو اس مسئلہ سے لازمی طور پر آگاہ رکھنا چاہئے جو اسی صورت ممکن ہے کہ اس مسئلہ کی تاریخ ہمارے نصاب میں شامل ہو- اسی طرح جونا گڑھ کو پاکستان کے ہر نقشے میں ظاہر کرنا چاہئے- پاکستان کو اس مسئلہ کوعالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہیئے تاکہ عالمی برادری بھی اس مسئلہ سے آگاہ ہو-

    جونا گڑھ ہماری تاریخ کا حصہ ہے لیکن بد قسمتی سے ہم اس تاریخ کو بھلاتے جارہے ہیں – ہمارے بچے اور نوجوان جونا گڑھ کے بارے میں نہیں جانتے باوجود اس کے کہ جوناگڑھ پہ پاکستان کا قانونی حق ہے- چین ، ہانگ کانگ حاصل کرنے کے لیے100 سال تک جدو جہد کرسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ اس مسئلہ سے متعلق آگاہی پیدا کر کے ہم تاریخ میں موجود غلطی کو درست کر سکتے ہیں بھارت نے فوجی مداخلت سے جونا گڑھ پر قبضہ کیا تھا اور اس فوجی مداخلت میں نہ صرف گاڑیاں بلکہ ٹینک بھی استعمال کئے گئے۔

  • "محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ اللعالمین ہیں” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    "محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ اللعالمین ہیں” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اور کردار سب سے اچھے ہوں۔

    یہ بات مشہور ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حسن اخلاق اور کردار کا بہترین نمونہ تھے۔ وہ نرم مزاج، ہمدرد اور معاشرے میں کسی بھی حیثیت کے باوجود ہر ایک کے لئے ہمیشہ مہربان تھے۔ حتیٰ کہ ان کے دشمن بھی اس کے کردار کی بہت زیادہ باتیں کرتے تھے۔

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ حسن اخلاق صرف شائستہ ہونے کا نام نہیں ہے۔ وہ دوسروں کے بارے میں فکر مند ہیں اور ان کی ضروریات کو ہم سے پہلے سوچتے ہیں۔ فرمایا:

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘
    (صحیح البخاری ومسلم)

    “مضبوط وہ نہیں ہے جو اپنی طاقت سے لوگوں پر غالب آجائے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھے۔”
    (صحیح البخاری ومسلم)

    “اگر کسی نے تم پر ظلم کیا ہے تو اس کا بدلہ احسان سے نہ دو بلکہ اس سے بہتر چیز سے اس کی تلافی کرو۔” ( ترمذی)

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لایا ہوں۔‘‘
    (بخاری ومسلم)

    “جب دو مسلمان ملیں گے، مصافحہ کریں گے اور ایک دوسرے سے مسکرائیں گے تو اللہ ان دونوں کو معاف کر دے گا۔” ( ترمذی)

    “ایمان میں سب سے کامل ایمان والے وہ ہیں جن کے اخلاق بہترین ہیں۔” ( ترمذی)

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری ومسلم)

    “سب سے پیاری چیزیں جن سے میرا رب اپنی تسبیح کرتا ہے وہ رحم اور شفقت ہے۔” (صحیح البخاری)

    “اپنے بھائی کے لیے تمہاری مسکراہٹ صدقہ ہے۔” (ابو داؤد)

    ان احادیث سے ہم یہ سیکھیں گے کہ اچھے اخلاق ہمارے ایمان کا ایک اہم حصہ ہیں، اور یہ کہ ہمیں ہمیشہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور احترام کے ساتھ پیش آنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں بھی اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے، اور کبھی کسی سے بدلہ نہیں لینا چاہیے جس نے ہم پر ظلم کیا ہو۔ اس کے بجائے، ہمیں بہت زیادہ مہربان اور معاف کرنے والے بن کر ان کے ساتھ معاملات درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

    جب ہم دوسروں سے ملتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ مسکراہٹ اور مصافحہ کے ساتھ ان کا استقبال کرنا چاہیے۔ شائستگی کا یہ آسان عمل کسی کو قابل قدر اور تعریف کا احساس دلانے میں بہت آگے جا سکتا ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جو ہم سب کر سکتے ہیں، چاہے ہماری سماجی حیثیت یا معاشی صورتحال کچھ بھی ہو۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کا بہترین کردار تھا۔ وہ اپنی شفقت، ہمدردی اور سخاوت کے لیے مشہور تھے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ احترام اور شائستگی کے ساتھ پیش آئے، چاہے ان کی سماجی حیثیت یا مذہب کچھ بھی ہو۔

    حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے فصاحت و بلاغت کے انداز میں بھی مشہور تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کیا اور اس انداز میں بات کی جو سچائی اور مہربان دونوں تھی۔ ان کی تقریریں ہمیشہ متاثر کن اور حوصلہ افزا ہوتی تھیں، بغیر کسی سخت یا جارحانہ انداز کے۔

    مجموعی طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین کردار اور شائستہ انداز نے انہیں اس وقت کے دیگر رہنماؤں سے ممتاز کر دیا۔ اور یہ ان بہت سی وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے وہ آج بھی پوری دنیا کے مسلمانوں میں قابل عزت اور قابل احترام ہیں۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ حسن اخلاق صرف شائستہ ہونے کا نام نہیں ہے۔ وہ دوسروں کے بارے میں فکر مند ہیں اور ان کی ضروریات کو ہم سے پہلے سوچتے ہیں۔ فرمایا:

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کچھ واقعات:

    ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے کپڑے کے ساتھ گلی میں چلتے ہوئے دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور شائستگی سے کہا، “معاف کیجئے، جناب، لگتا ہے آپ کے کپڑے ٹھیک نہیں ہیں، کیا آپ چاہیں گے کہ میں ان کو ٹھیک کرنے میں آپ کی مدد کروں؟” وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانی سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے فوراً توبہ کی اور مسلمان ہو گیا۔

    ایک اور موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اعرابی آیا اور ان کے بالکل سامنے حاجت کی۔اعرابی کی بدتمیزی سے سب کو ناگوار گزرا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے۔ جب آپ کے ساتھیوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے کچھ کیوں نہیں کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایسی بات کہنے کے بجائے چھوڑ دوں گا جس سے اللہ ناراض ہو۔

    ایک دفعہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد کے لیے آئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اسے کیا ضرورت ہے اور اس نے کہا کہ اسے اپنے بچوں کے لیے کھانا چاہیئے. اس کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اتار کر اسے دے دی اور فرمایا کہ یہ لے لو اور اسے بیچ کر اپنے بچوں کے لیے کھانا خریدو۔

    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار جنازے کے پاس سے گزر رہے تھے اور آپ نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ جب آپ کے ساتھیوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “کیا یہ کافی نہیں کہ ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹتے ہیں؟ ہم سب کو اپنے بھائی کی مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔”

    ایک دفعہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور مدد کی درخواست کی۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اسے کیا چاہیے اور اس آدمی نے کہا کہ اسے پیسے کی ضرورت ہے۔ نبیؐ نے اپنی قمیص اتار کر اس شخص کو دے دی اور فرمایا کہ اسے بیچ دو اور اس رقم کو اپنی مدد کے لیے استعمال کرو۔

  • ” توجہ دیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” توجہ دیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    معدے کی تیزابیت، جلن، یا ایسڈیٹی ہاضمہ کے سب سے عام مسائل میں سے ایک ہے، جس کا سامنا زیادہ تر لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ یہ بیماری سننے میں تو ایک معمولی مسئلہ لگتی ہے مگر جس شخص کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کیلئے یہ انتہائی بے چینی کا باعث بنتی ہے۔

    معدے کی تیزابیت کی سب سے عام وجوہات میں ذہنی دباؤ، بے وقت کھانے کی عادت، مخصوص دوائیں، بہت زیادہ مسالے دار کھانوں کا استعمال، اور معدے کی مختلف بیماریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی بھی معدے کی تیزابیت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

    اس مسئلے سے چھٹکارا پانے کیلئے عام طور پر گھریلو علاج کو مفید سمجھا جاتا ہے، تاہم ان گھریلو علاج کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی چیزوں سے بھی پرہیز کا مشورہ دیا جاتا ہے جو معدے کی تیزابیت کا باعث بنتی ہیں۔

    اگر معدے کی جلن کا شکار ہیں تو سافٹ ڈرنکس سے پرہیز کریں کیوں کہ یہ معدے میں مخصوص گیسوں کو جمع کر کے تکلیف میں اضافہ کرتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ترش پھلوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے کہ ان پھلوں میں بھی تیزابیت پائی جاتی ہے۔

    معدے کی تیزابیت کا علاج:

    زیرہ
    دلیہ
    ادرک
    دہی
    سونف
    ہرے پتوں والی سبزیاں
    ناریل کا پانی
    کیلا
    گُڑ

    مندرجہ ذیل گھریلو علاج معدے کی تیزابیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

    زیرہ:

    معدے کی تیزابیت کی وجہ سے سانس کی بو کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے اس لیے تیزابیت کو کنٹرول کرنے کے لیے زیرہ ایک مددگار مصالحہ ہے جو ہاضمہ کے نظام کو بہتر بناتا ہے اور پیٹ درد کی شدت کو بھی کم کرتا ہے جس کی وجہ سے سانس کی بو کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس مسئلے سے چھٹکارا پانے کے لیے ایک چائے کے چمچ زیرہ کو ایک کپ پانی میں ابال کر قہوہ بنا لیں اور اس قہوے کو ہر کھانے کے بعد باقاعدگی سے استعمال کریں، کچھ دنوں تک اس گھریلو ٹوٹکے پر عمل کرنے سے معدے کی جلن میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔

    دلیہ:

    دلیہ کو بچوں کی غذا بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ یہ بہت نرم غذا ہے جو آسانی کے ساتھ ہضم ہو جاتی ہے۔ اس لیے اکثر طبی ماہرین تیزابیت لاحق ہونے کی صورت میں اسے استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔دلیے میں موجود فائبر پیٹ کے اپھار اور واٹر ریٹینشن کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ معدے میں بننے والے ضرورت سے زائد ایسڈ کو بھی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ فائبر کے بھرپور دیگر غذائیں بھی معدے کی تیزابیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

    ادرک:

    تیزابیت کی بیماری میں یہ جڑ نما سبزی بہت مفید ہے، کیوں کہ ادرک بہت سے طبی فوائد کی حامل ہے۔ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کو کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو معدے کی ایسڈیٹی، بد ہضمی، سینے کی جلن، اور پیٹ کے دیگر مسائل کے لیے بھی مفید ہے۔اگر آپ معدے کی تیزابیت کا شکار ہیں تو ادرک کا قہوہ استعمال کرنا شروع کر دیں، ادرک کا ایک ٹکڑا لے کر اسے ایک کپ پانی میں ابال لیں اور ٹھنڈا ہونے پر پی لیں۔ اس کے علاوہ ادرک کے تازہ ٹکڑے کو کھانے کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    دہی:

    دہی کو اگر معدے کی تیزابیت کا بہترین علاج کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ دہی میں ایسے مفید غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو معدے کی جلن کو کم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر آپ کو اکثر معدے کی جلن کا سامنا رہتا ہے تو نہار منہ دہی کو استعمال کرنا شروع کر دیں، کچھ دنوں تک اسے استعمال کرنے سے معدے کی تیزابیت میں واضح کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ دہی کی افادیت میں اضافہ کرنے کے لیے آپ اس میں کیلا اور خربوز بھی شامل کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ایسڈیٹی کم ہو گی بلکہ آپ کو بھرپور غذائیت بھی میسر ہوگی، جس سے آپ کو تھکاوٹ اور کمزوری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

    سونف کے کچھ دانے چبانا تیزابیت کی شدت میں واضح کمی کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سونف سے بنی چائے غذائی نالی کی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے بھی بہت مفید سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سونف سے بنا ہوا مشروب بد ہضمی اور پیٹ پھولنے کے خلاف بھی نہایت مفید ہے۔

    ہرے پتوں والی سبزیاں:

    معدے کی تیزابیت سے چھٹکارا پانے کے لیے ہرے پتوں والی سبزیاں بھی بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔ آپ اس مسئلہ سے چھٹکارا پانے کے لیے دھنیا، پودینا، میتھی، اور بند گوبھی وغیرہ کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔معدے کی تیزابیت کا سامنا زیادہ تر مضرِ صحت غذاؤں کے استعمال کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے، اس لیے ایسی غذاؤں کی جگہ ہرے پتوں والی صحت مند غذائیں استعمال کرنی چاہیئے

    ناریل کا پانی:

    معدے کی جلن لاحق ہونے کی صورت میں جب ناریل کا پانی استعمال کیا جاتا ہے تو تیزابی سطح الکلائن میں بدل جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ناریل کا پانی استعمال کرنے سے معدے میں ایسے اجزاء ی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے جو تیزابیت کے مضرِ صحت اثرات سے بچاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناریل کا پانی فائبر سے بھی بھرپور ہوتا ہے جو تیزابیت کو روکنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

    کیلا:

    ایسڈیٹی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کیلے کو نہایت مفید سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اس میں اکلائن کافی مقدار میں پایا جاتا ہے جو ایسڈیٹی کے خلاف مؤثر کام کرتا ہے۔معدے کی جلن سے چھٹکارا پانے کیلئے آپ ہر روز ایک سے دو کیلے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کیلے کو دہی میں شامل کر کے بھی کھا سکتے ہیں، اس سے بنا ہوا خوش ذائقہ ملک شیک بھی استعمال کیا جاتا سکتا ہے۔ کیلے کو دودھ اور دہی کے ساتھ استعمال کرنے سے نہ صرف معدے کی تیزابیت میں کمی آئے گی بلکہ آپ کی طاقت میں بھی اضافہ ہو گا۔

    گُڑ:

    گُڑ کو بھی معدے کی جلن کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، اس میں میگنیشیم وافر مقدار میں پائی جاتی ہے جو ہاضمہ کے نظام کو طاقت فراہم کرتی ہے اور تیزابیت کو کم کرتی ہے۔معدے کی جلن سے چھٹکارا پانے کے لیے کھانے کے بعد گُڑ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ کر چوستے رہیں، اس سے نہ صرف ایسڈیٹی میں کمی آئی گی بلکہ آپ کے جسم کا درجہ حرارت بھی معتدل رہے گا۔معدے کی تیزابیت کے لیے یہ علاج نہایت مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ان علاج کی مدد سے آپ کے معدے کی تیزابیت میں کمی نہ آئے تو آپ کو پھر کسی ماہرِ امراضِ معدہ سے رابطہ کرنا ہو گا۔

  • ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    سگریٹ کیا ہے؟

    سگریٹ ایک بیلن کی شکل میں خصوصی کاغذ کو گویا لحاف کی طرح بناکر اور اس کے اندر تمباکو بھر دیا جاتا ہے۔

    سگریٹ صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے اور ماحولیاتی آلودگی اور عوامی صحت کی تباہی کا اہم سبب ہے. اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کرنے والے یاد رکھیں کہ سگریٹ نوشی سے منہ کا کینسر بھی بنتا ہے۔

    امریکا کے سائنسدانوں کی ایک 2010ء کی تحقیق کے مطابق کسی بھی انسان کے جسم میں پہلی مرتبہ پیے جانے والے سگریٹ کے پہلے اولین کش ہی لمحوں میں ایسے جینیاتی نقصانات کی وجہ بن سکتے ہیں، جن کا تعلق سرطان سے ہوتا ہے۔اس کا مستقل استعمال صحت پر کئی مضر اثرات کا باعث ہوتا ہے۔

    تمباکو نوشی نہ صرف اُس شخص کے لیے جو اِس عادت کا شکار ہے بلکہ اُن افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو اُس کے آس پاس رہتے ہیں، جسے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہتے ہیں۔ یعنی، آپ خود تو سگریٹ نہیں پی رہے ہوتے لیکن دوسروں کی سگریٹ کا دھواں آپ کے پھیپھڑوں کو اور آپ کے نظامِ صحت کو بھی انتہائی نقصان پہنچاتا ہے جتنا خود سگریٹ پینے والوں کو۔

    طبی ماہرین ایک طویل عرصہ سے لوگوں کو تمباکو نوشی ترک کرنے کے بارے میں بتا رہے ہیں، لیکن اگر امریکا کی طرح دنیا بھر میں سماجی طور پر بھی سگریٹ نوشی کو روکا جائے تو یقینی طور پر سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوگی۔ عالمی ادارہٴ صحت کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے چھ میں سب سے زیادہ خطرے کی وجہ سمجھی جاتی ہے۔

    عالمی ادارہٴ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے کم از کم 50لاکھ افراد پھیپھڑوں کے سرطان، دل کے امراض اور دوسری وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو سنہ 2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

    ہم میں سے کوئی بھی اِن اعداد و شمار کا حصہ ہو سکتا ہے،اس لئے احتیاط بہت ضروری ہے اپنے گھر سے آغاز کیا جائے۔ اپنے بچوں کو شروع سے ہی تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں بتایا جائے اور اس بات کی خبر رکھیئے کہ کہیں وہ چوری چھپے سگریٹ تو نہیں پیتے۔ بچوں کو روکنے کا سب سے بڑا طریقہ یہ ہے کہ بڑے اُن کے سامنے سگریٹ نہ پئیں۔

  • ” شناخت ضروری ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” شناخت ضروری ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) میں کیا درج ہوتا ہے؟

    اِس کارڈ میں شہری کا نام، پتہ، ولدیت، تاریخ پیدائش اور بائیو میٹرک معلومات کے ساتھ ایک شناختی نمبر شامل ہوتا ہے۔ یہ منفرد نمبر ہر شہری کے لئے الگ ہوتا ہے اور کبھی کسی اور شہری کو نہیں دیا جاتا۔

    اب چلتے ہیں تصویر کے دوسرے رخ کی جانب اور کوشش کرتے ہیں اک چھوٹی سی تاکہ اس مسئلہ کا حل نکل جائے۔

    خانہ بدوش فارسی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد وہ شخص جس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہ ہو . انگریزی ادب میں اس کیلئے ” vagrant ” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے،
    خانہ بدوشوں کی طرز زندگی عام افراد سے مختلف ہوتی اور نہ ہی ان کا کوئی مستقل ٹھکانہ ہوتا،

    خانہ بدوش سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی ایک جگہ قیام نہیں کرتے بلکہ جابجا گھومتے پھرتے ہیں

    یہ عموماً شہری علاقوں سے باہر خالی زمینوں اور پلاٹوں پر خیمے اور جھونپڑیاں لگا کر ڈھیرے جما لیتے ہیں۔ کالی رنگت والے خاندانوں کے اکثر افراد منشیات کے عادی پائے گئے ہیں۔ نہ صرف مرد بلکہ ان کی عورتیں حتیٰ کہ کمسن بچے بھی تمباکو نوشی اور چرس وغیرہ کی لعنت میں مبتلا ہیں۔ان میں خود محنت مزدوری کر کے بال بچوں کا پیٹ پالنے والے مرد آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسی جھونپڑیوں میں رہنے والے خانہ بدوش مرد سارا سارا دن خیموں میں پڑے رہتے ہیں جبکہ ان کی خواتین تو بھیک مانگتی ہیں، اپنا، اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے خاوند کو بھی پالتی ہیں۔

    ان سب چیزوں کے علاوہ جو توجہ طلب اور بہت ضروری عمل ہے اور سب سے زیادہ تشویشناک بات جو ہے وہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو کوئی نہیں جانتا کہ یہ لوگ کہاں سے آتے ہیں، کہاں جاتے ہیں، ان کی کوئی شناخت نہیں، ایسے افراد میں ملک دشمن افراد بھیس بدل کر آرام سے اپنے اہداف تک پہنچ سکتے ہیں اور ملکی سلامتی کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

    ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے والوں کو اس ایشو پر خصوصی توجہ دینی چاہئیے، ایسے افراد کی شناخت والے معاملے پر کسی قسم کی کوتاہی ہمیں سنگین مسائل سے دوچار کر سکتی ہے۔