Baaghi TV

Tag: عبدالقدیر رامے

  • اسلام کا مزاج؟ — عبدالقدیر رامے

    اسلام کا مزاج؟ — عبدالقدیر رامے

    کچھ جملے فیس بک اور یوٹیوب کی دنیا میں ویڈیو ٹائیٹل پر دیکھے تھے فلاں حضرت نے وہابیوں کی چھترول کی دی.. فلاں حضرت نے بریلویوں کی بینڈ بجا دی.. فلاں حضرت نے دیوبندیوں کے پھٹے اکھاڑ دیے.. فلاں حضرت نے شیعوں کی کلاس لگا دی.. حیاتی ممامتی ایک دوسرے پر چڑھ گئے وغیرہ وغیرہ

    وقت گزرنے کے ساتھ اسی مزاج کو اسلام کا مزاج سمجھ لیا گیا لیکن حقیقت میں اس کا اسلام سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا کہ ہمارے ہاں رائج فرقوں کا اسلام سے تعلق ہے

    اسی سلسلے کا ایک جملہ..

    فیفا کپ کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا.. مغرب اور لبرلز کے منہ پر طمانچہ..

    یہ جملہ کوئی چھ سو مرتبہ پڑھ چکا ہوں.. سوچ رہا ہوں کہ اس ملائیت زدہ معاشرے کے نزدیک قرآن کی کیا حیثیت ہے؟ ان کے نزدیک قرآن مجید کا مقصد طمانچے لگانا ہے؟

    آئیے قرآن کی روشنی میں دیکھتے ہیں

    قرآن کے نزول کا مقصد

    ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۖ فِيْهِ ۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ

    یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں، پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے۔

    شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَالْفُرْقَانِ.

    ’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں‘‘۔

    نبی اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت کا مقصد

    وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَٰلَمِينَ
    اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے ۔

    امت مسلمہ کا مقصد

    كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ

    تم بہترین امت ہو جو لوگوں (نفع رسانی) کے لئے ظاہر کی گئی، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو

    تبلیغ کا طریقہ

    قُلۡ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ۟ ؔ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیۡ ؕ وَ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ

    آپ کہہ دیجئے میری راہ یہی ہے میں اور جو میری اتباع کرنے والے ہیں ـ اللہ کی طرف بلا رہے ہیں بصیرت کے ساتھ ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں ۔

    حکمت اور بصیرت اول ہے اگر قطر میں فیفا کپ کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا اور شائقینِ فٹبال لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں تو بہت اچھا ہے یہی حکمت اور بصیرت ہے جس کا مظاہرہ قطر کے عوام اور وہاں کی انتظامیہ کر رہی ہے

    لیکن پاکستانیوں کے اس طمانچے والے رویے سے کتنے ہی لوگ ہیں جو بدظن ہوتے ہیں اور مزید ہٹ دھرمی پر اترتے ہیں ان کی کیلکولیشن بھی کرتے جائیں..

    اپنے رویے کو تبدیل کریں.. انسان سے نفرت کو دل سے نکالیں..

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ کے دوران ایک دشمن کو گرایا اس کا سر کاٹنے لگے تو اس شخص نے آپ رضی اللہ عنہ کے چہرہ پر تھوک دیا.. آپ رضی اللہ عنہ اسے وہیں چھوڑ کر واپس چل دیے.. اس نے اٹھ کر پیچھے بھاگ کر روک کر پوچھا کہ مجھے قتل کیوں نہیں کیا؟ فرمایا جب تو نے مجھ پر تھوکا تو مجھے غصہ آ گیا.. میں تجھے اللہ کیلئے قتل کرنا چاہتا تھا لیکن جب میرا ذاتی غصہ شامل ہو گیا تو میں نے تجھے قتل نہیں کیا.. اس شخص نے کہا چلیں پھر یہی بات ہے تو مجھے بھی اس دین میں شامل کر لیں جس کے آپ ماننے والے ہیں..

    جنگ کیلئے آئے شخص کو کلمہ پڑھا دیا.. یہ ہوتی ہے حکمت اور بصیرت..

    وہ نہیں جو ہمارے فیس بک اور یوٹیوب کے مجاہدین لکھتے ہیں قرآن کی تلاوت سے آغاز اور زناٹے دار طمانچہ.. اسلام کی بات کرنے کیلئے الفاظ کا انتخاب درست کریں تاکہ آپ کی باتوں میں اثر پیدا ہو..

  • فیفا ورلڈ کپ قطر اور الباکستانی عوام — عبدالقدیر رامے

    فیفا ورلڈ کپ قطر اور الباکستانی عوام — عبدالقدیر رامے

    خیر عرصہ قبل ہم پر دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کے فتوے تو لگ ہی چکے تھے البتہ آج نیا اور دلچسپ فتویٰ لگا.. جلن کا فتویٰ..

    کچھ باتیں کلئیر کر دوں کچھ دوست باتوں کی گہرائی کو سمجھے بناء کمینٹ کرتے ہیں اور پھر جواب لیے بناء بلاک کرکے نکل جاتے ہیں جس کی ہمیں قطعاً پرواہ نہیں ہے لیکن باقی دوستوں کیلئے سرِ دست عرض یہ ہے کہ مجھے کسی بھی مسلم ملک کے سسٹم سے کوئی مسئلہ نہیں، وہ جیسا بھی سسٹم اپنائیں ان کا حق ہے..

    سعودیہ تاریخی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے، ترکی عرصہ سو سال سے لبرل ہے، ایران کٹر مسلکی مذہبی ریاست ہے، افغانستان ایک الگ سکول آف تھاٹ کے سسٹم گزر رہا ہے.

    ہر سسٹم کی کچھ مثبت چیزیں ہوتی ہے اور کچھ منفی.. سو فیصد درست کہیں بھی کچھ بھی نہیں ہوتا البتہ مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں قطعاً عار نہیں ہے کہ مذکورہ بالا تمام ممالک کا سسٹم ہمارے ملک سے کہیں بہتر ہے وہاں سسٹم خرابیوں کے باوجود اپنی عوام کو کچھ نہ کچھ دے رہا ہے لیکن ہمارے ہاں کا سسٹم عوام کو دینا تو کُجا.. دن بدن عوام سے چھین ہی رہا ہے..

    عوام کی بات کی جائے تو مذکورہ بالا تمام ممالک کے عوام مجموعی طور دینی اقدار میں ہم سے کہیں آگے ہیں انفرادی اعمال میں کہیں بہت زیادہ آگے ہیں اجتماعی معاملات بھی ہم سے کہیں بہتر ہیں.

    حکومتوں کی بات کی جائے تو ان کے ہاں ایک پالیسی ہے جسے ہر حال میں اپلائی کرتے ہیں اور پورے ملک کے سب ادارے اسی پالیسی کے پابند ہوتے ہیں یعنی کہ ڈسپلن سب پر لاگو ہے..

    2000 سے پہلے قطر کی طرف کوئی دیکھنا گوارہ نہیں کرتا تھا لیکن پھر انڈسٹریل انقلاب نے قطر کا رخ کیا اور دنوں میں قطر اس خطے کی معاشی طاقت بن گیا..

    صرف یہ کہ نیک نیتی اور درست پالیسی.. انہوں نے بڑی بڑی کمپنیوں سے معاہدے کیے جنہوں نے انڈسٹری لگائی اور ابتدائی چند سال کی انکم ان کمپنیوں نے لی.. اس کے بعد وہ انڈسٹری ریاست قطر کی ملکیت میں چلی گئی..

    ان لوگوں کی کام سے لگن کا اندازہ اس بات سے لگائیں میں 2016 میں قطر گیا تب وہاں فیس بک پر 2022 کے ورلڈ کپ کے ایڈ دیکھنے کو ملا کرتے تھے.

    پچھلے سال میں قطر ایئرویز کی فلائٹ سے 28 نومبر کو اسلام آباد سے نجف براستہ قطر گیا تو فلیٹ میں دیے گئے کھانے کی پیکنگ پر فیفا ورلڈ کپ 2022 کا اشتہار تھا یہاں تک چاکلیٹ پر بھی چاکلیٹ کے ذریعے ہی لوگو بنایا ہوا تھا جس کی تصویر لگائی ہے.. مطلب کہ جس کمیٹی کے سپرد یہ فیفا کپ 2022 کی ایڈوائزنگ کا کام تھا انہوں نے کوئی راستہ خالی نہیں چھوڑا پوری تندہی سے کام کیا..

    دوسری طرف پاکستان کو 2 لاکھ ملازمین کی خدمات اس موقع پر فراہم کرنے کا کہا گیا تھا جس میں پاکستان اس بیروزگاری کے دور میں صرف 43 ہزار افراد بھیج سکا.. وہ بھی ایسے لوگ جو خود تگ و دو کرکے ایجنٹوں کو پیسے دے کر چلے گئے حکومت نے اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں لی…

    یہاں تک ہو گئی ایک بات.. دوسری بات یہ کہ مجھے قطر میں آنے والے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے یا ان کے اسلام قبول کرنے سے یا شراب کے متعلق اقدامات لینے سے کوئی جلن نہیں ہے لیکن اس معاملے کو انتہائی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے جس کے بہت سے پہلو پوشیدہ ہیں..

    پہلی بات تو یہ کہ قطر اور دیگر عرب ممالک کا رویہ پاکستان کے بارے میں انتہائی دوہری پالیسی پر مبنی ہے.. چیدہ چیدہ بتاؤں تو

    پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کو ترجیح دینا، پاکستان کے کرپٹ عناصر سے تعلقات رکھنا انہیں سہولت کاری فراہم کرنا اور لوٹ مار کے بعد نکلنے میں مدد کرنا انہیں اپنے ملکوں میں پناہ دینا.

    پاکستان سے لُوٹا گیا مال سب سے پہلے عرب ممالک میں جاتا ہے جہاں رائل فیملیز کے لوگ ان کرپٹ عناصر کی مدد کرکے بلیک منی کو وائیٹ منی میں تبدیل کرواتے ہیں اور ان کے ساتھ کاروباری شراکت داری کرتے ہیں اس دوران یہ ممالک یہ قطعاً نہیں سوچتے کہ یہ پیسے پاکستان سے نکلنے کے بعد پاکستان کے مسلمانوں یا دیگر عوام پر کون سی قیامتیں برپا ہوتی ہیں ان کی زندگی کس عذاب میں دھنستی چلی جاتی ہے .

    مطلب کہ جب آپ ریاستی سطح پر غیرمسلم کو دعوت دیتے ہیں کہ ہمارے جیسے ہو جاؤ تو آپ کس کیریکٹر اور کس اخلاقی قدر کے ساتھ اسے یہ بات کہہ رہے ہیں؟

    میری دعا ہے کہ جنہوں نے اس موقع پر اسلام قبول کیا ہے اللہ کریم انہیں استقامت عطاء فرمائے اور مزید اہلِ خیر کو مشرف بہ اسلام ہونے کی توفیق عطاء فرمائے .

    لیکن مجموعی طور پر ہم مسلمانوں اور ہماری ریاستوں کا کیریکٹر ایسا ہے سہی کہ ہم انہیں یہ کہہ سکیں کہ ہمارے جیسے ہو جاؤ؟ اگر ہمارے کردار درست ہو جائیں تو ہمارا دنیاوی عمل ہی تبلیغ بن جائے اس کیلئے ہمیں الگ سے کسی کو کچھ کہنا ہی نہ پڑے کیونکہ یہ ایک ایسا وقت جا رہا ہے کہ دیگر ادیان کے لوگوں کی اکثریت اپنے ادیان سے مطمئن نہیں ہے یہاں تک کہ ایتھیسٹس کی اکثریت بھی ذہنی تذبذب کا شکار ہے ان کی اکثریت کو الہامی دین کی تلاش ہے اگرچہ اظہار نہ بھی کرتے ہوں .

    اس وقت ہماری ریاستوں کا مجموعی کردار اور ہمارے عمومی اقدار بہتر ہوں گے تو لوگ ہمارے دین کو قبول کریں گے ورنہ یقین کریں کہ یہ ہمارے مسلمان ممالک کی حکومتوں کی بددیانتی پر مبنی پالیسیاں اور ہم مسلمانوں کے اعمال اور بدعنوانیاں ہی اسلام کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں مثال دیتا ہوں جس طرح کی حرام توپیاں محترمہ انجلینا جولی ہمارے ملک میں آکر دو مرتبہ دیکھ کر گئی ہیں وہ ہمارے اعمال دیکھ کر یا پھر شریف خاندان کی الثانی خاندان کے ساتھ مشترکہ کرپشن دیکھنے کے وہ ان دو حکومتوں کی دعوت پر اسلام قبول کر لیں گی؟

    اس لیے دوستو ت بزرگو.. ٹھنڈے رہا کرو.. ہر معاملے کو مفت کی ہائیپ نہ دیا کرو.. اگر کچھ لوگ مسلمان ہوئے ہیں تو انہیں مسلمان رہ لینے دو ایسا نہ ہو کہ ہمارے کرتوت انہیں پتہ چل جائیں .

    مزید یہ کہ ان کے مسلمان ہونے پر صرف اتنا شور مچاؤ کہ اگلی مرتبہ بھی کپ کی میزبانی کسی مسلمان ملک کو مل سکے.. بات سمجھ رہے ہو؟

    بیشک سب کو اپنی جانب کر لو لیکن پیچھے آنے والوں کے راستے بند مت کرو..

    رہی بات شراب پر پابندی والی.. تو بندۂ ناچیز نے 2016 میں قطر کے دوحا ایئرپورٹ کے مالز پر زندگی میں پہلی مرتبہ شراب کی بوتلیں دیکھیں اور عام مارکیٹ کے شاپنگ پلازوں میں شراب بِکتی دیکھی تھی قطر ایئر ویز میں دوران پرواز اگر کوئی شراب پینا چاہے تو اسے فراہم کی جاتی ہے..

    قطر نے صرف دورانِ میچ اسٹیڈیم میں شراب نوشی پر پابندی عائد کی ہے.. اس کے علاوہ چلے گی اور علاطول چلے گی..

  • شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان اور پریشان مریض — عبدالقدیر رامے

    شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان اور پریشان مریض — عبدالقدیر رامے

    پچھلے پانچ دن سے چھوٹی بہن شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان میں داخل ہیں ڈلیوری کیس تھا پلیٹ لیس کم ہونے کی وجہ سے طبیعت خراب ہو گئی تھی ان کا علاج چل رہا ہے.

    ہسپتال کے حالات یہ ہیں کہ زچہ بچہ وارڈ میں ایک بیڈ پر دو سے تین مریض موجود ہیں. رات بچے کی پیدائش ہوئی تو اسے بھی فوراً نومولود بچوں کی وارڈ میں داخل کروانا پڑا.

    وہاں بچوں کو جنگلہ نما ٹوکری میں ڈالا جاتا ہے ایک ٹوکری میں ایک بچے کی گنجائش تھی لیکن وہاں بھی دو دو بچے ایک ٹوکری میں موجود ہیں.

    بچوں کے ورثاء کو وہاں رکنے کی اجازت نہیں ہے. وہ وارڈ کے دونوں دروازوں پر پہرہ لگا کر پورا دن اور پوری رات کھڑے ہوتے ہیں کہ بچہ اغواء نہ ہو جائے. کیونکہ ایسے واقعات سرکاری ہسپتالوں میں ہو چکے ہیں.

    اس کے علاوہ سنیں.. یہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہے اور اکلوتا اکلوتا میڈیکل کالج صرف یہی ہے لیکن سرکاری کاغذات میں اس کا سٹیٹس نیم سرکاری ہسپتال کا ہے یہاں پر اِن ڈور میں ایڈمٹ مریضوں کی ادویات بھی جیب سے خرید کر دینا پڑتی ہیں. یعنی کہ بس مریض کا چیک اپ اور رہائش فری ہے علاج کے پیسے لگتے ہیں یہاں پر ضلع رحیمیارخان کے علاوہ ضلع راجن پور اور ضلع گھوٹکی سندھ تک کے مریض آتے ہیں.

    اب دوست کہیں گے کہ یار تم لوگ صحت کارڈ پر پرائیویٹ علاج کیوں نہیں کرواتے؟ تو عرض یہ ہے کہ یہاں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں جدید مشینری ہی موجود نہیں جس کی ضرورت انتہائی نگہداشت کے مریضوں کیلئے پڑتی ہے اسلیے وہ سیریئس مریض کو دیکھ کر پہلے ہی ہاتھ کھڑے دیتے ہیں کہ بھائی اسے رحیمیارخان لے جاؤ..

    ہم بھی پہلے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں گئے تھے لیکن وہاں سے ریفر کیا گیا.

    ہمارے مریض کے بارے میں ڈاکٹر کا اندازہ تھا کہ بچے کو پیدائش کے بعد کچھ وقت کیلئے شیشے میں رکھنا پڑے گا اسلیے ہمیں جانا پڑا..

    تعلقات کی بناء پر کہیں سے سفارش کروا کر ماں اور بچے کو اکیلے اکیلے بیڈ دلوا سکتے تھے لیکن وہ بھی نہیں کیا کہ اس بیڈ سے جس مریض کو منتقل کیا جائے گا وہاں مریض زیادہ ہو جائیں گے ان بیچاروں کی زندگی مزید تنگ ہو جائے گی اس لیے اس بھی گریز کیا..

    اس کے علاوہ اس ہسپتال کے فضائل سناؤں تو آپ عش عش کر اٹھیں گے.. یہاں پر ایم آر آئی اور سی ٹی سکین کروانے کیلئے تین مہینے کا انتظار کرنا پڑتا ہے البتہ یہ نیم سرکاری ہسپتال ہے تو آپ انہیں کیش پر کرنے کا بولیں تو ایم آر آئی فوراً ہو جائے گا.

    سی ٹی سکین والی مشین یہاں اکثر خراب رہتی ہے کیونکہ سی ٹی سکین والے کھاتے کے انچارج ڈاکٹر صاحب کا اپنا کلینک ہسپتال کے بالکل سامنے ہے وہ کروڑوں روپے خرچ کرکے وہاں مشینیں لائے تھے اب سب کا سی ٹی سکین سرکاری ہسپتال میں کریں گے تو انہیں کروڑوں روپے خرچ کرنے کا کیا فائدہ ہو گا.. اس لیے اس نیم سرکاری ہسپتال کی مشینری اکثر خراب رہتی ہے ٹھیک کرنے کیلئے باقاعدہ ٹینڈر نکلتا ہے..

    ان حالات میں مجھ سے کوئی پوچھے کہ نئے آنے والوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے تو میرا پیغام یہی ہے کہ نئے پیدا ہونے والے نہ آئیں تو ہی بہتر ہے.. یہاں حالات بالکل بھی ٹھیک نہیں ہیں.

  • تھوکیے مت!!! — عبدالقدیر رامے

    تھوکیے مت!!! — عبدالقدیر رامے

    یار یہ لوگوں کو پاس بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر تھوکنے کی کیا بیماری ہے؟

    چند روز قبل ایک سیفٹی سیشن کیلئے میٹنگ روم گئے.. پتہ چلا کہ ٹرینر ابھی آیا نہیں باہر بیٹھ کر ہی انتظار کرنا پڑے گا.. سب بندے درختوں کے نیچے دو دو تین تین ٹولیوں کی شکل میں بیٹھ گئے.. مجھے معلوم تھا کہ یہ یہاں بیٹھ کر اور کچھ کریں نہ کریں.. ایک سگریٹ لازمی پئیں گے جس کا دھواں مجھے تنگ کرے گا، دوسرا تمباکو اور چونے کا مکسچر لازمی رگڑیں گے جسے پھونک سے اڑا کر چھانیں گے تو سانس کے ساتھ ناک کو چڑھے گا اور تیسرا تھوک لازمی پھینکیں گے..

    یہ باتیں میری میموری میں پکی پکی فٹ ہیں.. لہٰذا میں بندوں سے زیادہ تر دور ہو کر بیٹھتا ہوں.. وجہ نفرت نہیں.. وجہ یہ ہے کہ میں ان تینوں چیزوں سے الرجک ہوں..

    لہٰذا حسبِ عادت میں ان سے قدرے فاصلے پر درخت کے نیچے بلاک رکھ کر بیٹھ گیا..

    کچھ دیر ہی گزری ہو گی.. ان دور بیٹھے ہوئے بندوں کو نادیدہ طاقت نے اکسایا اور وہ میرے پاس دائیں بائیں آ کر بیٹھ گئے.. ایک نے سگریٹ جلا لیا.. دوسرے نے تمباکو کی ڈبی نکالی، وہ تمباکو بنانے لگا تو دو دوسروں نے بھی مانگ لیا.. تینوں نے تمباکو بنا کر اس کی پھک اڑائی اور تمباکو منہ میں رکھ کر زمین کو تھوکو تھوک کرنا شروع کر دیا.. دل میں گالیاں دیتے ہوئے اٹھا اور پرے جا کر کھڑا ہو گیا..

    اب اس وقت فون کال کرنے کیلئے روم سے باہر بینچ پر بیٹھا ہوں ایک میرا رومیٹ ہی نکلا اور یہاں کھڑے ہو کر برش کرنا شروع کردیا.. تھوک پر تھوک پھینکی جا رہا ہے..

    مجبور ہو کر اسے کہا یار واش بیسن پر چلا جا.. تیری مہربانی کیوں مجھے آوا ذار کر رہا ہے…

    ریفائنری میں جاب کی جگہ پر میٹل سٹرکچر کے بنے ہوئے گیارہ فلور ہیں.. پتہ اس وقت لگتا ہے جب اوپر والے فلور کی گریٹنگز سے تھوک نیچے آ کر گرتا ہے.. کچھ بندے تو یہ حد کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی فلور پر ہیں ریلنگ پر آئیں گے وہاں سے گراؤنڈ پر تھوک پھینکیں گے اپنی طرف سے وہ اچھا کر رہے ہوتے ہیں کہ نیچے والی گریٹنگ پر کام کرنے والوں پر تھوک نہ گرے لیکن گراؤنڈ فلور والوں کا کوئی خیال نہیں.. اب گیارہویں فلور سے زمین تک تھوک پہنچنے میں جو وقت لگے گا عین ممکن ہے اس دوران کوئی گزرتا ہوا بندہ اسی جگہ پہنچ جائے اس پر گر جائے.. یا پھر ہوا سے اس کے ذرات کہاں تک جائیں کچھ معلوم نہیں..

    پاکستان میں ہم جیسا بندہ موٹر سائیکل کی سواری ہی عام طور پر کرتا ہے کاروں والے کار کا شیشہ کھول کر تھوک کی فائرنگ کر رہے ہوتے ہیں.. آگے والے موٹر سائیکل سوار پیچھے آنے والوں کا خیال کیے بغیر تھوک پھینک رہے ہوتے ہیں

    کسی بندے کے ساتھ بات کرنے کیلئے کہیں رک جائیں تو وہ پانچ منٹ کی بات کرتے ہوئے دس مرتبہ تھوک پھینکتا ہے..

    خاص طور پر کراچی والوں نے حد ہی کی ہوئی ہے.. کراچی میں کیا اردو سپیکنگ، کیا مہاجر، کیا پنجابی، کیا کشمیری، بلوچی، پٹھان، سندھی یا ہزارہ وال، کیا مرد اور کیا عورتیں .. کوئی بھی گٹکے سے محفوظ نہیں، بس میں بیٹھیں گے تو شیشے والی سائیڈ گٹکا مین کی ہی ہو گی.. اور اس نے وہیں سے باہر والوں کو منور کرتے رہنا ہے.. پھر اچھی اچھی صاف ستھری عمارتوں میں جگہ جگہ دیواروں پر لال رنگ کا گند ہی گند نظر آتا ہے..

    پچھلے سال کراچی میں ایک مارکیٹ میں گیا.. نیا رنگ و روغن بتا رہا تھا کہ مالک نے اچھا خاصا خرچہ کیا ہے.. وہاں سیڑھیوں میں اوپر نیچے تک گٹکے اور پان کے انتخابی نشانات لگے ہوئے تھے..

    پوچھنا یہ ہے کہ یہ بیماریاں عربوں، انڈونیشین، چائنیز، جرمنز، فلپینی، کورینز اور برطانوی باشندوں میں نہیں دیکھی، ان سب کے ساتھ کام کیا ہے ان میں ایسی کوئی معیوب حرکت یا بیماری نہیں دیکھی ..پاکستانیوں اور انڈینز میں یہ حرکات اور بیماریاں کیوں ہیں؟

  • یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ کوئی بتائے گا مجھے؟ — عبدالقدیر رامے

    یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ کوئی بتائے گا مجھے؟ — عبدالقدیر رامے

    ایک بات آج تک سمجھ نہیں آئی. پاکستان میں چائنیز کمپنیوں میں کام کیا، ان کے ورکرز جو بطورِ قیدی سزا کاٹ رہے تھے انہیں پاکستان بھیجا گیا کام کرنے کیلئے، جس Designation پر ہم تھے اسی پر وہ تھے، ان کے تنخواہ ہم سے چھ گنا زیادہ تھی، رہائش، کھانا بھی ہم سے بہت اچھا تھا اور کھانا انہیں کمپنی دیتی تھی جبکہ ہمیں کھانے کے پیسے دے کر بھی ان سے کہیں گھٹیا کھانا ملتا تھا، رہائش انہیں اے سی ملی تھی اور ہمیں خیمے ملے تھے جن میں ایک پیڈسٹل فین تھا. جب وہ گھوم کر دوسری طرف چکر لگانے جاتا تھا تو پیچھے والوں کو اتنی دیر میں مچھر کاٹ کھاتے تھے. یہ صرف اس ایک پراجیکٹ کی بات نہیں پورے پاکستان میں ہر جگہ پراجیکٹس کی زندگی ایسی ہی ہے اور ایسے ہی چند معدودے سکوں کے عوض انسانیت کی تذلیل کی جاتی ہے.

    دوسری جانب ہم بیرون ملک جاتے ہیں، اس سے پہلے جن ملکوں میں گئے وہاں تو لوکل بندے ورکر لیول پر ملے ہی نہیں، سعودیہ میں آخری سال 2020 میں دیکھے لیکن وہ بھی کام وام نہیں کرتے تھے بس دیہاڑی لیتے تھے بہرحال تنخواہ ان کی پھر بھی ہم سے زیادہ تھی.

    اب ہیں عراق میں…

    یہاں ہمارے ٹیکنیشنز کے ساتھ لوکل ہیلیپر ہیں. سویپرز بھی لوکل ہیں. یعنی unskilled لیبر ہیں. ان کی تنخواہ ہمارے ٹیکنیشنز سے بھی زیادہ ہے، ان کو رہائش ہم سے بہتر ملی ہے کہ وہ ایک کمرے میں چار آدمی رکھے گئے ہیں اور ہم چھ. انہیں الماریاں مہیا کی گئی ہیں ہمیں نہیں کی گئیں، ان کے کمرے ہم سے کھلے ہیں ہمارے کمرے تنگ ہیں.

    ان کا کھانا ہم سے کہیں زیادہ اچھا ہے اور ہمارا کھانا بالکل تھرڈ کلاس ہے، پھر لوکل گورنمنٹ ہالیڈیز کی بات کی جائے تو انہیں ان ہالیڈیز پر کام کرنے کا اوور ٹائم دیا. جاتا ہے اور ہماری ہالیڈیز مار لی جاتی ہے. عید اور جمعہ کے علاوہ کی چھٹیوں کے علاوہ کسی ہالیڈے کا کوئی اوور ٹائم نہیں دیا گیا.

    جبکہ بڑی عید کے بعد محرم میں دس اور اب صفر میں چھ ہالیڈیز ہیں لیکن ڈکار گئے.

    مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم پاکستانی عراق جیسے غریب ملک کے شہریوں سے بھی گئے گزرے ہیں کہ اپنے ملک میں بھی راندہ درگاہ ہیں اور دوسرے ملک میں بھی راندہ درگاہ.

    اور سنیں دنیا کے چند بڑے ایئرپورٹس دیکھے، انہوں نے اپنے لوکل شہریوں کیلئے وی آئی پی کاؤنٹرز بنائے ہیں. اور ہم جیسے خارجی لائنوں میں لگے دیکھے چاہے کوئی امریکی شہری ہی کیوں نہیں تھا.

    لیکن پاکستان میں لوکلز کے ساتھ ایئرپورٹس پر گھٹیا سلوک اور لمبی لائینیں دیکھیں جبکہ دوسرے ملکوں کے شہریوں کے لیے وی آئی پی کاؤنٹرز اور بہترین رویہ دیکھا.

    یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ کوئی بتائے گا مجھے؟