Baaghi TV

Tag: عبداللہ سیال

  • ماسک — عبداللہ سیال

    ماسک — عبداللہ سیال

    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    جس طرح تم نے اپنے براؤزر میں کچھ مخصوص ٹیب چھپا رکھے ہیں
    اسی طرح ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    کل دن کی ہی بات ہے، عجب ہوئی اک واردات یے
    میں گھر سے نکلا ہی تھا کہ ایک ماسک پوش نے میری کنپٹی پر رکھ دی بندوق کی نالی، اور زور زور سے کہنے لگا آج چل جائیو سالی
    کہنے لگا کہ نکالو جو کچھ جیب میں ہے
    میں نے کہا نکال لو جو کچھ جیب میں ہے.
    اس نے میری جیبوں کو ٹٹولا، پھر منہ بنا کر بولا
    تم تو خاطر خواہ امیر لگتے ہو، جیب میں صرف دو والے سکے رکھتے ہو.
    میں نے کہا دل سے امیر ہوں، شکل سے غربت جھلکتی ہے
    ماسک جیسی چیز میرے عیبوں کو ڈھکتی ہے.
    مایوس ہو کر اس ٹریگر جو دبایا، پانی کا اک فوارہ سا باہر نکل آیا
    یعنی اس کمینے نے مجھے پاگل بنایا.
    جی میں آئی کہ ڈاکو کو پہچانا جائے، اس کی ڈکیتیوں کو لگام ڈالا جائے
    یہ سوچ کر میں اسکے پیچھے ہو لیا، من ہی من اپنی بے عزتی پر رو لیا
    تھوڑا آگے گیا تو کیا دیکھتا ہوں
    پانچ چھ لڑکے ماسک پہن کر کھڑے ہیں، سبھی کے ہاتھوں میں پستول اور چھڑے ہیں.
    انہی چھڑوں کے ذریعے وہ دیہاڑی لگاتے ہیں
    اور ماسک پہن کر اپنے عیب چھپاتے ہیں.

    جناب منصف!
    ایک سیاسی جلسی میں ہوا شرکت کا احتمال، پڑھے لکھے افراد تھے وہاں خال خال
    جلسی کے اختتام پر کہا گیا دعا کرائی جائے، دعا کے بعد ایک کپ چائے پلائی جائے
    دعا کیلئے مگر کوئی آگے نہ آسکا، مارے شرم کے ہاتھ اٹھا نہ سکا
    اتنے میں ایک ماسک پوش کھڑا ہوا اور ہوا میں ہاتھ بلند کرکے انتہائی نامناسب انداز میں کہا
    "یا الٰہی! تیری… بارگاہ میں التجا کرتے ہیں.”
    میں نے سوچا یہ کس کی دعا کا اثر اتنا دلخراش ہے
    ماسک اترا تو معلوم پڑا، یہ تو ایک بدمعاش ہے
    وہ بدمعاش جس نے اپنے اثاثے فرام نیب چھپا رکھے ہیں
    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    ماسک کے استعمال کا سب سے بڑا فائدہ نوجوان نسل کو یوں ہوا ہے کہ اب ہالی ووڈ کی فلموں میں اداکاروں نے ماسک پہن رکھے ہیں.
    ماسک پہن کر وہ اپنی ثقافت کا سرعام اظہار کر نہیں سکتے
    اور ہم گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھنے سے ڈر نہیں سکتے.

    جناب منصف!
    اک روز میں اور میرا دوست کررہے تھے کچھ مردانہ باتیں…
    باتوں باتوں میں ہماری آواز ہوگئی اس قدر بلند
    کمرے سے باہر تک جانے لگا ہماری باتوں کا گند

    اتنے میں ایک صاحب اندر جھانکنے آگئے، کہنے لگے نوجوان تم تو چھاگئے
    اس عمر میں جب سب کرتے ہیں بچگانہ باتیں، تم کررہے ہو سرعام مردانہ باتیں
    ذرا اپنی پیاری سی صورت تو دکھاؤ، ذرا اپنا یہ ماسک تو اٹھاؤ
    میں ان کی سازش کو سمجھ گیا اور ماسک اتارے بغیر کہا…

    یہ سب راز قدرت نے غیب میں چھپا رکھے ہیں
    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    اک روز ہمارا امتحاں ہوا، امتحاں نہیں بلکہ طعنۂ جاں ہوا
    اس روز بھی ماسک نے ہماری کم علمی کو چھپایا، پہلے کا A دوسرے کا D ہر کوئی چلایا
    آج بھی ہمارے کارنامے اس لیب چھپا رکھے ہیں
    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    زمانہ بہت خطرناک ہے. ہر کوئی شاطر ہے، ہر کوئی مکار ہے.
    آج کے انساں نے اپنے اندر کیا کیا مکر و فریب چھپا رکھے ہیں
    یہ تو خدائی ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں

    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں…!

  • چھٹی حس — عبداللہ سیال

    چھٹی حس — عبداللہ سیال

    اگلے وقتوں میں کہیں کوئی "چھٹی حس” رہتی تھی. وہ وہاں زمانے کے طور طریقوں سے قدم قدم پر ٹکر لیتی تھی. مثلا صنفِ نازک ہونے کے باوجود وہ ایک بات کو سترہ جملوں میں بولنے کے بجائے اشاروں کنایوں سے کام لیا کرتی تھی. عقل کا سہارا تھی. نوجوان عقل چونکہ بالغ نہیں تھی، اسی لیے "چھٹی حس” سے کتراتی تھی، البتہ بوڑھی عقل "چھٹی حس” سے وقتاً فوقتاً کام لیتی رہتی تھی.

    ایک بار ایک آدمی، جس کے دماغ میں عقل طفلی نے بسیرا کر رکھا تھا، کا ایک جنگل سے گزر ہوا. اچانک رات کے سناٹے میں کچھ عجیب آوازیں سنائی دینے لگیں. "چھٹی حس” جو اب تک بے ہوش تھی، فوراً ہوش میں آئی، اردگرد بھاگنے لگی اور واپس آکر عقل طفلی کو کسی اجنبی شہنشاہِ جنگل کی متوقع آمد سے آگاہ کیا مگر عقل طفلی تو ٹھہری عقل کی دشمن… اس نے کسی خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ٹانگوں کو مذکورہ سمت چلنے کی ہدایت کر دی. اب شیر تو بیٹھا ہی اسی تاک میں تھا کہ یہ قدم بڑھائے اور میں اس کی بوٹی بوٹی کا مزہ لوں. چنانچہ چند قدم بڑھتے ہی شیر اور آدمی آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کی ماسیوں کا حال احوال بوچھنے کی ناکام کوشش کرنے لگے. ایک بار پھر "چھٹی حس” چلائی، "بھائی مانا کہ تیرے رشتے دار عجیب ہیں مگر یہ تیرا خالہ زاد نہیں ہے. یہ شیر ہے شیر. اس سے بچ…”
    عقل َطفلی مگر کہاں ماننے والی تھی… سو زبان کو حکم دیا کہ "یہ شیر ہے تو میں سوا شیر ہوں. یہ سوا شیر ہے تو میں ساڑھے شیر ہوں.” بولے. زبان نے حکم کی تعمیل کی ہی تھی کہ شیر پورا منہ کھول کر دھاڑا. آدمی کا آدھ پاؤ کے بقدر دل حلق میں آکر اچھلنے لگا. یوں عقل طفلی کو خطرے کا احساس ہوا اور وہ "چھٹی حس” کو مدد کیلئے پکارنے لگی مگر اب اس کا کام تو ختم ہوچکا تھا. خیر "چھٹی حس” کو عقل طفلی پر رحم آیا اور وہ راہ فرار سوچنے لگی. شیر نے بوریت بھری جمائی لی. اس کو یقین تھا کہ اب تو چاہے لڑکیاں پانچ منٹ میں میک اپ کرلیں یعنی سورج مغرب سے طلوع ہوجائے، وہ اس آدمی کی ہڈیوں سے یخنی بنا کر مردانہ کمزوری کا علاج کر ہی لے گا. (اس بات کا غالب امکان ہے کہ شیر کو یہ مشورہ شیروں کی بستی میں مقیم "چھٹی حس” نے دیا ہو.)

    انسانی "چھٹی حس” کیلئے اتنی مہلت کافی تھی. اس نے فٹافٹ آدمی کے کانوں میں سرگوشی کی، "ہوسکتا ہے یہ شیر غیرت مند ہو، اس کو غیرت دلا کر دیکھو، جان بچ سکتی ہے.”

    عقل طفلی نے فوراً قوت گویائی سے کام لیتے ہوا کہا…

    "جنگل کے بادشاہ ہوکر بھی ننگے پھرتے ہو. ایسی بادشاہت کا کیا فائدہ جو ستر کو بمع چند کمزوریاں ظاہر کرے.”

    بس بادشاہ صاحب "چھٹی حس” کی چالاکی کی تاب نہ لا سکے اور قبل اس کے کہ آدھ پاؤ دل کی دھڑکن رکتی، وہاں سے چل دیے.

    "چھٹی حس” اپنی چالاکیوں کے باعث بستی میں مشہور ہوگئی. اس کی سہیلیاں اس کی چیلیاں بن گئیں. یوں ہر شخص اپنے تھیلے میں” چھٹی حس” لیے پھرتا اور حسبِ ضرورت مدد لے لیتا.

    ایک بار ایک عاشق نے محبوبہ سے کہا، "پہلے کی نسبت اب تم میں وہ خوبصورت دوشیزہ نہیں رہی. جان من اب من سے دو من ہوگئی ہو. غالباً کمر سے کمرہ کہنا غلط نہ ہوگا.”

    بس پھر کیا تھا. محبوبہ کے بھاری بھرکم وجود میں آگ بھڑک اٹھی. قبل اس کے کہ وہ عاشق کا سر پھاڑ دیتی، "چھٹی حس” نے تھیلے سے باہر جھانکتے ہوئے عاشق کو اس کی چرب زبانی کا احساس دلایا اور سدباب کا مشورہ دیا. عاشق فوراً رومانوی انداز میں گویا ہوا،
    "جان من! ناراض کیوں ہوتی ہو؟ سنو، ماں اپنے بیٹے کو چاند کہتی اور بیٹی کو الف کے اضافے سے چندا کہتی ہے. اسی طرح بیٹے کو اگر قمر کہیں تو بیٹی کو قمرا کہیں گے.

    اس تناظر میں جب تمہیں کوئی کمرہ (قمرا) کہے تو یقین مانو اس سے مراد چاند ہوتا ہے. یہ تنقید نہیں ہے بلکہ تعریف ہے.”

    محبوبہ فوراً بولی، "مگر کمرہ میں ‘ک’ آتا ہے اور قمرا میں ‘ق’.”

    "چھٹی حس” کے لیے یہ سوال متوقع تھا. سو جواب یوں بنا…..

    "ق سے قینچی بنتی ہے، ک سے کتی بنتی ہے. دونوں کا کام کاٹنا ہوتا ہے. سو دونوں ایک ہی چیز ہیں.” محبوبہ مطمئن ہوگئی اور "چھٹی حس” نے ایک اور عاشق کو ناکام عاشق یعنی انجنئیر بننے سے بچا لیا.

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ "چھٹی حس” نہ صرف مشکلات میں بلکہ موزوں حالات میں بھی مدد کرنے لگی. سردیوں میں کسی غیر محرم کے ہاتھوں آم لینے سے گرمیوں میں اسی غیر محرم سے مالٹے پکڑنے تک، بہار میں اخلاق سے عاری پتوں سے لے کر خزاں میں کاغذی پھولوں کے حصول تک، ہر جگہ "چھٹی حس” مذکورہ شخص کو متنبہ کرتی رہی.

    ابتدائے آفرینش سے یہ بات دنیا کے ماتھے پر لکھ دی گئی تھی کہ اس دنیا میں دو چیزیں کبھی نہیں آئیں گی، ایک بھٹو کی موت اور دوسرا "چھٹی حس” کا بڑھاپا. چنانچہ آج بھی "چھٹی حس” جوں کی توں زندہ و جاوید ہے اور اپنے کام میں مصروف ہے.

    ابھی پچھلے دنوں میں اپنے پانچ سالہ بھتیجے کو "ڈاکٹر مار دھاڑ” کے پاس لے گیا. ہرچند کہ میں نے بھتیجے کی "چھٹی حس” کا تھیلا گھر رکھ کے جانا چاہا مگر وہ نہ مانا. خیر ڈاکٹر نے تفصیلی معائنہ کرکے مجھ سے اکیلے میں بات کرنا چاہی. میری "چھٹی حس” نے فوراً میرے بھتیجے میں کسی بچگانہ کمزوری کی موجودگی کا عندیہ دیا.

    خیر استفسار پر ڈاکتر مار دھاڑ نے بتایا کہ بھتیجے میں ‘وٹامن پٹائ’ کی کمی ہے. اس کا علاج یہ ہے کہ اس کو ایک ‘ٹیکۂ چماٹ’ لگایا جائے. گفتگو کے دوران ہی بھتیجا وہیں آ دھمکا اور ہماری اشکال دیکھ کر اس کی "چھٹی حس” نے فوراً اس کو طریقۂ علاج سے آگاہ کیا. صورتحال بھانپتے ہی بچے نے رونے میں عافیت جانی اور اس قدر زور سے چلایا کہ ہسپتال سے ملحقہ قبرستان میں مردے اٹھ کھڑے ہوئے، گویا کہ قیامت آگئی ہو. اس کے علاوہ اس ایٹمی چیخ کا نتیجہ یہ نکلا کہ چاروں اطراف میں چار چار کلومیٹر تک بھینسوں کے تھن سوکھ گئے، مجبوراً گوالوں کو خود دودھ دینا پڑا. اگر ان گوالوں نے یہ دودھ چالیس پچاس برس قبل دیا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ اس کو پینے والے آج سیاستدان ہیں…آج کل یہ پینے والے زنانہ مرد اور مردانہ عورتیں ہیں یعنی ٹک ٹاکرز ہیں.

    میری "چھٹی حس” کا چھپکلیوں سے چھتیس کا آکڑا رہا ہے اور چھپکلیوں کا مجھ سے. ہرچند کہ متعدد بار چھپکلیوں کی نسل میں کمی کے واسطے اقدام کرچکا ہوں مگر وہ سب نر تھے. عورت پر ہاتھ اٹھانا ہماری تہذیب کے خلاف ہے لیکن بیوہ چھپکلیاں ہمیشہ مجھ سے بدلہ لینے آجاتی ہیں. یہ تو بھلا ہو میری "چھٹی حس” کا جو اس شر سے محفوظ رہنے میں مدد دیتی ہے.

    ایک بار الماری میں ٹنگی شلوار نکال کر پہنی تو "چھٹی حس” نے کسی گڑبڑ کا اشارہ دیا. اچانک شلوار کی لمبائی پر سفر کرتے ہوئے پائنچے سے ایک آدھ پاؤ کی چھپکلی برآمد ہوئی. میرے ذہن میں خوف کے بجائے سوال پیدا ہوا کہ یہ باہر کیوں آگئی ہے؟ "چھٹی حس” نے فوراً جواب پیش کیا، "غالباً چھپکلی کو اس بات کا احساس ہوگیا ہوگا کہ جس طرح ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتی، اسی طرح ایک شلوار میں دو چھپکلیاں نہیں رہ سکتی…..”

    سنا ہے کہ ایک مخصوص شاعرہ نے اپنی نوزائیدہ صنفِ شاعری کے دفاع میں اپنی "چھٹی حس” سے کام لیتے ہوئے اس کو "غزم” قرار دیا ہے. دراصل مجھے نظم و غزل کے اس ملاپ پر کوئی اعتراض نہیں ہے. البتہ میرا مشورہ ہے کہ غزم کی بجائے نظم کے ‘ن’ اور غزل کے ‘زل’ کا ملاپ کروا کر نئی صنفِ شاعری کو "نزل” کا نام دیا جائے. اس کی وجہ یہ ہے کہ نزل، نزول، انزال ایک ہی شاخ کے الفاظ ہیں. اس لیے جب مخصوص شاعرہ کو "چھٹی حس” کے ذریعے آمد ہوگی اور دو منٹ میں "نزل” تیار ہوجائے گی تو وہ یہ کہہ سکیں گی کہ مجھے ‘سرعت انزال’ ہوتا ہے.

    کہتے ہیں ‘حس مزاح’ ہی "چھٹی حس” ہوتی ہے. میں نے بھی اپنی "چھٹی حس” کو اچھی طرح برتا ہے اور اب میری "چھٹی حس” کہہ رہی کہ کوئی بھی حریف میری "چھٹی حس”کو مات نہیں دے سکتا. واللہ اعلم…!

  • "لڑکپن” — عبداللہ سیال

    "لڑکپن” — عبداللہ سیال

    لڑکپن کو اگر بچپن کے ہم قافیہ کے طور پر دیکھا جائے تو اس کا کچھ اصطلاحی مفہوم سمجھ آتا ہے وگرنہ پہلی بار سننے میں یہ لفظ پٹھانوں کی سویٹ ڈش لگتی ہے.

    لڑکپن انسانی زندگی کا وہ حصہ ہے جب انسان بارہ سے اٹھارہ سال کا ہوتا ہے. یہ وہ دورانیہ ہوتا ہے جب انسان خواب دیکھنا شروع کرتا ہے، جاگتی آنکھوں سے اور سوتی آنکھوں سے بھی. فرق صرف اتنا ہے کہ جاگتی آنکھوں کے خواب انسان کے اختیار میں ہوتے ہیں اور سوتی آنکھوں کے خواب بے اختیار.

    خیر جاگتی آنکھوں میں بہت سے سہانے سپنے سجائے انسان اس عمر میں بہت سے خیالی پلاؤ پکاتا ہے مگر کبھی ان کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا.

    اس دورانیہ کا درمیانی حصہ یعنی پندرہ سولہ سال وہ عمر ہے جب انسان نہ بڑا ہوتا ہے نہ بچہ رہتا ہے. بچوں کے ساتھ بچہ بننے میں شرم محسوس ہوتی ہے جبکہ بڑوں کی محافل میں ان کی کچھ مخصوص باتیں سن کر بھی شرم ہی محسوس ہوتی ہے.
    یہ وہ عمر ہوتی ہے جب انسان غلطیاں کرنا بھی نہیں چاہتا اور غلطیوں کو نہ کرنے کا تجربہ بھی نہیں ہوتا. لہٰذاء ہر بار غلطیاں دہرانے میں ہی دل کا سرور اور ابا کی ڈانٹ حاصل ہوتی ہے.

    لڑکپن وہ عمر ہوتی ہے جب امی جی کوئی کام کر دیں تو غصہ آتا ہے کہ یہ کام میں خود کر سکتا ہوں اور اگر نہ کریں تو بھی غصہ آتا ہے کہ سارے کام مجھ پر چھوڑ دیے ہیں.

    اسی عمر میں انسان کی جسمانی ساخت بدلنے لگتی ہے. لڑکے اسی عمر میں عالم چنا سے مقابلہ کرنے کی ٹھانتے ہیں اور قد کھینچتے چلے جاتے ہیں جبکہ لڑکیاں آپس میں مقابلہ شروع کر دیتی ہیں کہ تو بڑی چڑیل ہے یا میں…!

    یہ حقیقت ہے کہ اس عمر میں ایک دوسرے کو چڑیل لگنے والی لڑکیاں اپنے ہم عمر و ہم جماعت لڑکوں کے لیے حوریں ہوتی ہیں، البتہ یہ بھی سچ ہے کہ یہ حوریں انہی لڑکوں کی بھاری ہوتی آواز سن کر ایسے ڈر جاتی ہیں جیسے کبوتری بلی کی آواز سن لے. بعض لڑکے وقت سے پہلے بڑے ہونے کے چکر میں خوامخواہ شیونگ کریم کا استعمال کر بیٹھتے ہیں جس کا نقصان بعد میں یہ ہوتا ہے کہ جب تک وہ خود بڑے ہوتے ہیں ان کی داڑھیاں ان سے زیادہ بڑی ہو جاتی ہیں. یہی حال لڑکیوں کا ہوتا ہے جو ناسمجھی میں اپنی ناک اور ہونٹ کے درمیان والے غیرمحسوس بالوں (جن کو میری معلومات کے مطابق اپر لپ کہتے ہیں) کو مونچھ سمجھ کر کاٹ ڈالتی ہیں اور پھر ہر ہفتے باقاعدگی سے اس سزا کو بھگتا جاتا ہے.

    خیر اس چھوٹی سی عمر میں انسان بڑے بڑے دعوے اور وعدے کرنے سے بھی نہیں کتراتا، مثلاً فی زمانہ کا ایک لڑکا اپنی شناسا سے کہنے لگا،

    "تم فکر مت کرو. تمہیں دہی پسند ہے. میں تمہارے لیے خود بھینسوں کا دودھ نکال کر دہی بنا دیا کروں گا.”

    حالانکہ یہ دعوہ کرنے والا لڑکا خود آئرن کی کمی کے باعث پانچ کلو والا آٹے کا تھیلا اٹھانے سے قاصر تھا.

    اس عمر میں عقائد کی ناپختگی انسان کو ہر قسم کی مجلس، دربار، عرس، قل خوانی اور سیاسی ریلیوں تک لے جانے کا سبب بنتی ہے اور گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگانے یا ان کے جواب دینے پر مجبور کرتی ہے. یہی وجہ ہے کہ کسی بھی جلسے میں اس عمر کے لڑکوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے جنھیں محض ایک بوتل یا بریانی کا ڈبہ کھینچ لاتا ہے.

    اس عمر کے لڑکے بہت جذباتی ہوتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے جذبات بہہ نکلتے ہیں. یہ وہی لڑکے ہوتے ہیں جو ساؤتھ انڈین فلمیں دیکھ کر سینا تانے پھڑتے ہیں اور "تارے زمیں پر” دیکھ کر انکا رونا بند نہیں ہوتا. لڑکیوں کا معاملہ کچھ اور ہے، یہ جو مرضی فلم دیکھیں ان پر رونا واجب ہے.

    لڑکپن بہادری کا دور ہوتا ہے. خود سے چھوٹے بچوں کو لال بیگ سے ڈرتا دیکھ یہ لڑکے ان کی ہنسی اڑاتے ہیں مگر یہی لڑکے رات کے وقت کتے کا بھونکنا سن لیں تو خون پسینہ خشک ہو جاتا ہے. خود ہم نے چودہ سال کی عمر میں بھینسوں کے ایک طبیلے میں قدم کھنے کی جسارت کر دی. بس پھر کیا تھا، چوکیدار کتے نے ہماری وہ دوڑیں لگوائیں کہ اگر آپ ہمیں بھاگتا دیکھ لیتے تو یوسین بولٹ کو بھول جاتے.
    خود اعتمادی کی بات کی جائے تو جو لوگ اس کچی عمر میں اس نسخۂ کیمیا کو پا لیتے ہیں، وہ پالیتے ہیں. ورنہ بعد میں چاہنے کے باوجود وہ نہیں بول پاتے جو وہ بولنا چاہتے ہیں. یہاں بولنے سے مراد من پسند جگہ پر شادی کرنے کا اظہار ہرگز نہیں ہے. یہ تو ہر پل پھیلتی کائنات کے اسرار و رموز، سیاست کے اتار چڑھاؤ، فلسفے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، نسل پرستی، ادب، کھانوں اور خواتین جیسے عظیم موضوعات پر اپنے رائے رکھنے اور اس کو بیان کرنے کا نام ہے.

    اس عمر میں انسان بولنا چاہتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ہر بات میں بولنا لازم سمجھتا ہے. میرا چھوٹا بھائی بھی ہر فضول سے فضول تر اور اہم سے اہم ترین بات میں اپنی رائے فرض سمجھ کر پیش کرتا ہے. ایک بار پندرہ سالہ ایک لڑکا رش میں اپنی موٹر-سائیکل سمیت پھنس گیا. اب وہیں ایک دکاندار بار بار اس کو نشانہ بنا کر کہتا "اتنے رش میں ضروری آنا تھا، ضروری آنا تھا.” آخر لڑکے نے بھی کہہ دیا، "انکل! آپ کو پتہ ہے میرے دادا ابو ١٠١ سال کے ہو کر مرے تھے کیونکہ وہ اپنے کام سے کام رکھتے تھے.” اس کے بعد ٹریفک کوئی آدھ گھنٹہ بلاک رہی اور اس دکاندار کے ہونٹ بھی.

    انسان کے بننے یا بگڑنے کا دارومدار اسی عرصہ پر ہوتا ہے کیونکہ انہی سالوں میں وہ میٹرک اور انٹر کے مشکل ترین مراحل سے گزرتے ہیں. آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کامیابی کا معیار ان جماعتوں کا پاس کرنا تو نہیں… مگر چونکہ ہمارے معاشرے میں انٹر کے بعد کسی اعلیٰ یونیورسٹی میں داخلہ کامیابی کی سند ہے، اسی لیے دبلے پتلے لڑکے لڑکیاں اپنے کزنز سے آگے بڑھنے کے لیے جان مار دیتے ہیں اور جو جان نہیں مار پاتے، وہ پھر ایک دوسرے پر جان وار دیتے ہیں.

    خیر جو لوگ بگڑ جاتے ہیں، وہ انہی سالو‍ں کو یاد کر کے پچھتاتے ہیں اور جو لوگ بن جاتے ہیں، وہ ان سالوں کی غلطیاں یاد کر کے افسوس کرتے ہیں. مگر سچ تو یہ ہے کہ ان کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دور ہی ان کی زندگی کا سنہری اور بنیادی دور تھا جس میں ان کی ٹانگیں لمبی اور مضبوط ہوئیں.

    مختصر یہ کہ زمانۂ لڑکپن کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں. فائدہ یہ کہ اس دور کے بعد انسان خوبصورت اور جوان ہو جاتا ہے اور نقصان یہ کہ اس کے بعد انسان سمجھدار اور بڑا ہو جاتا ہے.

  • احسان — عبداللہ سیال

    احسان — عبداللہ سیال

    احسان کو اگر بطور ہم قافیہ انسان کے دیکھا جائے تو اس کا مفہوم واضح ہونے میں تمام تر مشکلات زائل ہوجاتی ہیں. یعنی انسان وہ ہے جو احسان کرتا ہے. بالکل اسی طرح احسان کو بطور ہم قافیہ حیوان کے دیکھا جائے تو اس کا مفہوم مزید واضح ہو جاتا ہے. یعنی جو احسان نہیں کرتا، وہ حیوان ہے.

    لفظ احسان کو توڑ کر تفصیل نچوڑی جائے تو اس لفظ کے ہر حرف نے اپنے اندر ایک وسیع معنی سما رکھا ہے.

    ا سے انسانیت
    ح سے حاصل
    س سے سویرا
    ا سے اندھیرا
    ن سے نزول

    تشریح اس کی یوں کرتا ہوں کہ احسان، ایک ایسا عمل جس کی بدولت معاشرے میں ہر انسان کو دوسرے انسان سے سویرے و اندھیرے انسانیت حاصل ہوتی رہے، یوں کہ جیسے صبح و شام معاشرے پر انسانیت کا نزول ہو رہا ہو. انسانیت سے لبریز، اخلاقی اقدار سے بھرپور ایک معاشرہ جہاں انگلی کا زخم پورے جسم کو تھکا دے اور جہاں دل کا گھاؤ آنکھوں کو رلا دے، احسان اور احسان مندی سے ہی وجود میں آسکتا ہے.

    یہی وجہ ہے کہ آفاقی ذریعۂ ہدایت، جو تاقیامت انسانوں کیلئے مشعلِ راہ ہے، میں خالقِ انسان، انسان کو مخاطب کرکے احسان کی تلقین کرتا ہے اور پھر وہ جو محسن ہوں، ان  کو پسندیدگی کی سند بھی تھما دیتا ہے کہ

    "ان اللہ یحب المحسنین.”

    اب جس کو رب العزت کی پسندیدگی چاہیے تو اسے چاہیے کہ احسان کرے اور جو اس پسندیدگی کا پاس رکھنا چاہے، اسے چاہیے کہ مزید احسان کرے اور امر ہوجائے.

    خود رب العالمین نے احسان کیا جو ڈوبتی کشتئ انسانیت کو پار لگانے کے واسطے اپنے محبوب کو ناخدا بنا کر بھیج دیا.

    اسی مسیحا کے ذریعے انسان کو نیکی کا حکم دیا گیا. بہت سی نیکیوں میں احسان کو سب سے بڑی نیکی مانتا ہوں. اس لیے کہ یہ وہ نیکی ہے جو فرض نہیں تھی. فرض تو فرض ہوتا ہے، فرض ادا کیا تو کیا احسان کیا؟ لیکن اگر بغیر کہے، بنا پوچھے کسی پر احسان کر دیا تو یہ اصل نیکی ہے جو کیے جانے والے شخص کو ہمیشہ اپنے محسن کو یاد رکھنے پر مجبور کردیتی ہے.

    روئے حدیث سے اس بات پر مہر ثبت ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے. چنانچہ توفیق خداوندی سے احسان کرنے والا ہمیشہ ایک درجہ اوپر رہتا ہے اور جس پر احسان کیا جائے، وہ مغلوب ہوتا ہے. یہ امر بھی واقعی ہے کہ مغلوب جو ہوتا ہے، اس کو رہ رہ کر غالب اور کارہائے غالب، جو غالب نے مغلوب کی مدد کیلئے کیے ہوں، یاد آتے ہیں.

    چنانچہ وہ جو احسان کرتے ہیں، اپنے احسانات سمیت ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں اور صفحۂ ہستی پر ان کے ان مٹ نقوش رہ جاتے ہیں.
    لب لباب یہ کہ انسان کو چاہیے حتیٰ المقدور احسان کرتا جائے. نہ احسان کے بدلے احسان قبول کرے نہ احسان کے انکار پر آگ بگولہ ہو، کیونکہ دونوں صورتوں میں وہ درجۂ احسان سے گر جاتا ہے اور کبھی یاد نہیں کیا جاتا.