Baaghi TV

Tag: عدالتیں

  • کوئی قانون ہاتھ میں لیتا ہے تو ریاست کو  فوری اقدام کرنا چاہیے۔اسلامی نظریاتی کونسل

    کوئی قانون ہاتھ میں لیتا ہے تو ریاست کو فوری اقدام کرنا چاہیے۔اسلامی نظریاتی کونسل

    اسلامی نظریاتی کونسل کا 237واں اجلاس چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

    کونسل نے مؤرخہ 25مئی 2024ء کو سرگودہا میں توہین قرآن اور مشتعل ہجوم کی طرف سے مسیحی خاندانوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ توہین قرآن اور مسیحی خاندانوں پر حملے کرنے والے افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس موقع پر کونسل نے اپنی سابقہ سفارش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے جرائم کے فیصلوں کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں جو دن رات سماعت کرکے ان جرائم پر اکسانےاور منصوبہ بندی کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دیں۔ کونسل نے مزید کہا کہ عوام میں یہ رجحان بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیا جائے۔ ایسا کرنا قرآن و سنت، آئین پاکستان اور متفقہ قومی دستاویز” پیغام پاکستان” کے خلاف ہے۔اگر کوئی قانون ہاتھ میں لیتا ہے تو ریاست کو اس کے خلاف فوری اقدام کرنا چاہیے۔

    مزید برآں کونسل نےسزا یافتہ مجرم کی سزا معافی کے متعلق سپریم کورٹ کی طرف سے موصولہ سوالات اور عدالت عالیہ لاہور کی طرف سے طلاق یافتہ بیٹی کے نفقے کے متعلق سوالات پر بھی غور کیا۔

    حج عام آدمی کی پہنچ میں کیسے آئے گا……؟ تحریر:محمد نورالہدیٰ

    40781 عازمین حج سعودیہ پہنچ گئے.

    سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز،محمد نورالہدیٰ

     سینیٹر طلحہ محمود وزارت سنبھالنے کے بعد پہلے روز ہی متحرک

    خواتین کو محرم کے بغیر حج کیلئے رجسٹریشن کی اجازت

  • کے پی کے انصاف وکلاء فورم کا اجلاس،9 مئی کے واقعات میں وکلاء کی نامزگی غیر قانونی قرار

    کے پی کے انصاف وکلاء فورم کا اجلاس،9 مئی کے واقعات میں وکلاء کی نامزگی غیر قانونی قرار

    باغی ٹی وی کے مطابق خیبر پختو نخوا انصاف وکلاء فورم کا اجلاس ہوا ہے اجلاس کی قیادت سینئر قانون دان قاضی محمد انور نے کی ،،انصاف لائرز فورم نے موقف اپنایا کہ پولیس نو مئی واقعات میں بے جا وکلاء کو نامزد کرہے ہیں، وکلا کو ان واقعات میں نامزد کرنا غیر قانونی ہے، باغی ٹی وی کے رپورٹ کے مطابق انصاف لائرز فورم نے بتایا کہ خیبر پختونخوا بار کونسل اور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سے مشاورت پر کمیٹی تشکیل دے دی, کمیٹی مشترکہ طور پر صوبے میں وکلاء کا اجلاس منعقد کرنے کے لیے ملاقاتیں کرے گی ۔ آئی ایل ایف کے پی نے مزید بتایا کہ اجلاسوں میں آئندہ لائحہ عمل طے کریں گے ۔ واضح رہے کہ 9 اور 10 مئی کے پر تشدد واقعات میں ملوث تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وکلاء کی گرفتاریاں جاری ہے جس پہ گزشتہ دنوں پشاور بار کونسل کی جانب سے ہڑتال بھی کیا گیا تھا،ہرتال کے بعد گرفتار وکیل کو عدالت میں پیش کے ضمانت پر رہا کیا گیا،تاہم وکلاء فورم کی جانب سے اس طرح کی کاروایئوں کا بند کرنے کے لئے اجلاس کیا گیا جس میں وکلاء کی گرفتایوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا،

  • لاہور میں نئی عدالتوں کے قیام کے لیے اسٹیٹ لینڈ دینے کا فیصلہ

    لاہور میں نئی عدالتوں کے قیام کے لیے اسٹیٹ لینڈ دینے کا فیصلہ

    لاہور میں نئی عدالتوں کے قیام کے لیے اسٹیٹ لینڈ دینے کا فیصلہ

    انٹی کرپشن کے نئے دفتر کے لیے بھی اسٹیٹ لینڈ دی جائے گی ایکوائر کی جانے والی زمین کے مالکان کو یکمشت رقم کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد اختر زمان کی زیرصدارت سکروٹنی کمیٹی آکشن آف لینڈ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ممبر ٹیکسز نوید حیدر شیرازی، سیکرٹری کالونیز، سیکرٹری ایس اینڈ آر ،ڈی جی پی ایل آر اے سمیت دیگر افسران نے شرکت کی ،اجلاس میں بورڈ آف ریونیو کے تمام اداروں کو ایک ہی جگہ پر اکٹھا کرنے کی تجاویز زیر غورآئیں،

    اجلاس میں عدالتوں اور دیگر محکموں کے نئے دفاتر کی بلڈنگز کے لیے اسٹیٹ لینڈ دینے کے معاملات زیر بحث رہے۔ہربنس پورہ میں عدالتوں کی نئی بلڈنگز کے لیے 40 کنال اسٹیٹ لینڈ دینے کی تجویز سامنے آئی،انٹی کرپشن کے دفاتر کے لیے بھی ہربنس پورہ میں 10 کنال اسٹیٹ لینڈ دی جائے گی ،سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے کہا کہ لیز پر دی جانے والی اسٹیٹ لینڈ کو موجودہ ریٹس کے مطابق آکشن میں دیا جائے۔اے ڈی سی آر کو ہدایت کی گئی کہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں عدالتوں کی نئی بلڈنگز کے لیے جگہ تلاش کی جائے،اسلام آباد ویسٹ گریڈ اسٹیشن کے لیے بھی لینڈ دینے کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔

    دوران ڈکیتی ماں باپ کے سامنے حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ درندوں کی زیادتی

    لودھراں میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ،پولیس کا کاروائی سے گریز

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    شادی کا جھانسہ ، ویڈیو بناکر زیادتی اور پھر بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

  • لاہور ہائیکورٹ : پنجاب کی ماتحت عدالتوں کے ججز کے تقرر و تبادلے

    لاہور ہائیکورٹ : پنجاب کی ماتحت عدالتوں کے ججز کے تقرر و تبادلے

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی ماتحت عدالتوں کے ججز کے تقرر و تبادلے کردیئے

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ہائیکورٹ نے 11 سیشن ججز جبکہ 54 ایڈیشنل سیشن ججز سمیت ایک سول جج کے تقرر تبادلے کیے. چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی منظوری کے بعد رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا-

    پنجاب بھر میں بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پرتبادلے

    نوٹیفیکیشن کے مطابق سیشن جج ملتان مشتاق اوجلہ کو اٹک تعینات کردیا، سیشن جج اٹک محمد اکرم کو خانیوال تعینات کردیا ہے جبکہ سیشن جج ابراہیم کو راجن پور سے لیہ تعینات کردیا گیا سیشن جج شاہد اسلام کو بھکر ،شوکت کمال کو وہاڑی تعینات کردیا گیا ہے –

    لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق سیشن جج لیہ غفار مہتاب کو ٹوبہ ٹیک سنگھ تعینات کردیا گیا ہے
    ایڈیشنل سیشن جج دلدار شاہ کو خانیوال سے فیروز والا تعینات کردیا گیا، ایڈیشنل سیشن جج ثاقب فاروق کو وہاڑی سے فیصل آباد تعینات کردیا گیا ہے-

    فوج اورعدلیہ کے خلاف مواد نشر کرنے پر قانونی کاروائی کی جائے گی،پیمرا کی الیکٹرانک…

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں حمزہ شہباز نے ملاقات کے دوران پنجاب بھر میں بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پرتبادلے کا فیصلہ کیا جس کے مطابق فیصل آباد، ملتان، سیالکوٹ، گجرات سمیت دیگر اضلاع میں کمشنر، ڈپٹی کمشنرز تبدیل کیے جائیں گے آئی جی پنجاب اور کمشنر لاہور کو فوری طور پر تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کام نہ کرنے والے محکموں کے سیکرٹریز کو تبدیل کیا جائیگا، ہر محکمے کی ہفتہ وار رپورٹ وزیراعلیٰ خود لیں گے-

    پسنجر سیفٹی، سہولیات اور پنکچوئلٹی پر کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے،سی ای او پاکستان ریلوے

  • کیا آپکا چینل عدالتوں سے زیادہ آئین کو سمجھتا ہے.سیاسی بیانیوں سے ہمیں فرق نہیں پڑتا،.عالت

    کیا آپکا چینل عدالتوں سے زیادہ آئین کو سمجھتا ہے.سیاسی بیانیوں سے ہمیں فرق نہیں پڑتا،.عالت

    12 بجے عدالت کیوں کھلی؟ قیدیوں کی وین کیوں آئی ؟ اہم راز سے پردہ اٹھ گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ،صحافی ارشد شریف کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے چینل پر کاشف عباسی کیا کہہ رہے ہیں؟ یہ کہا گیا کہ عدالتیں کیوں کھولی گئیں، کونسا آرڈر سپریم کورٹ نے جاری کیا جس سے کسی کو مسئلہ ہوا؟کیا لوگوں کا اعتماد عدالتوں پر سے ختم کرنا چاہتے ہیں؟ عدالتیں کیوں کھولیں ایک بیانیہ بنا دیا گیا ہے،عدالتیں کھلیں کیونکہ کسی کو آئین توڑنے کی اجازت نہیں دے سکتے، سپریم کورٹ نے اس روز کونسا آرڈر پاس کیا؟ آپکا چینل اس دن کہہ رہا تھا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے،جو درخواست دائر ہوئی تھی وہ اگلے روز جرمانے کے ساتھ خارج ہو گئی تھی،کیا آپ چاہتے ہیں کہ یہ عدالت اہم نوعیت کے معاملات کو نہ دیکھے،یہ عدالت تنقید سے نہیں گھبراتی لیکن عوام کا اعتماد ختم کیا جا رہا ہے،

    چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اے آر وائی نیوز کے رپورٹر کو روسٹرم پر بلا لیا ،اور استفسار کیا کہ کیا آپ نے ہائیکورٹ کی پریس ریلیز اپنے ادارے سے شیئر نہیں کی تھی؟ رپورٹر نے عدالت کو جواب دیا کہ میں نے ادارے کو آگاہ کر دیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مطیع اللہ جان والے معاملے پر اس عدالت نے کس وقت آرڈر کیا تھا؟ اگر رات کو ارشد شریف کو کوئی اٹھائے تو یہ عدالت کیس نہ سنے؟آپکو اس عدالت کو جواب دینا ہو گا کہ یہ مہم کیوں چلائی جا رہی ہے؟ سپریم کورٹ نے واضح پیغام دیا کہ کسی کو آئین توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، عدالتیں بول نہیں سکتیں تو انکے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے،کیا آپکا چینل عدالتوں سے زیادہ آئین کو سمجھتا ہے ؟جھوٹ کے اوپر ایک بیانیہ بنا دیا گیا ہے، عدالتیں کھل گئیں،ہم تنقید سننے کو تیار ہیں لیکن اس طرح تو نہ کریں،عدالت نے پسے ہوئے طبقے کی درخواستیں عدالتی اوقات کے بعد بھی سنی ہیں، اگر آئین یا پسے ہوئے طبقے کا کوئی معاملہ ہو تو عدالتیں 3 بجے بھی کھلیں گی، اس عدالت کا گزشتہ 3 سال کا ریکارڈ اٹھائیں،آپکے چینل نے مسنگ پرسنز اور بلوچ طلبہ پر کتنے پروگرام کیے؟ یہ عدالت مسنگ پرسنز اور بلوچ طلبہ کے مسائل سنتی ہے، یہ پہلی بار نہیں ہے کبھی ایک شروع ہو جاتا ہے کبھی دوسرا،ہم نے حلف لیا ہوا ہے ان سیاسی بیانیوں سے ہمیں فرق نہیں پڑتا،یہ کام نہ کریں یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق صدر پی ایف یو جے افضل بٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کونسا آرڈر پاس کیا جو تنقید کی جا رہی ہے،افضل بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ نے ایسا کوئی آرڈر نہیں کیا تھا، سلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز کے بارے میں جس طرح کی باتیں ہوتی ہیں، اس لیےکہ وہ جواب نہیں دے سکتے،یہاں پر کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے، میں ہائیکورٹ کے رپورٹر کو کریڈٹ دیتا ہوں وہ زبردست کام کرتے ہیں،سیاسی بیانیوں کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد ختم کیا جا رہا ہے،9اپریل کو اس عدالت نے کوئی بھی درخواست انٹرٹین نہیں کی،اگلے روز ایک لاکھ جرمانے کے ساتھ مسترد کی، صحافیوں کو اس شہر میں گولیاں ماری گئیں دن دیہاڑے اٹھایا گیا،کیا عدالت نے جرم کیا کہ انکی درخواستیں سنیں یا ارشد شریف کی سن رہے ہیں،ایک چیف جسٹس نہایت اہم نوعیت کا کیس کسی بھی وقت سن سکتا ہے،2019میں نوٹیفکیشن نکالا کہ اہم کیسز عدالتی اوقات کے بعد بھی سنے جائیں گے،میں نے کہا کہ اہم نوعیت کی درخواست آئے گی تو وہ مجھ تک ضرور پہنچے گی، پھر یہ بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ ہم کسی کے کہنے پر رات کو بیٹھے تھے کیا کوئی ہمیں اپروچ کرنے کی جرات بھی کر سکتا ہے؟ اس بیانیے کو عدالتوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، کیا یہ بیانیہ اس دن سے نہیں چل رہا کہ عدالتیں رات کو کھلیں،افسوس ناک ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا،اگر 4 جولائی 1977 کو عدالتیں بیٹھی ہوتیں تو آج تاریخ مختلف نہ ہوتی، 12اکتوبر 1999 کو عدالتیں بیٹھی ہوتیں تو کیا تاریخ مختلف نہ ہوتی؟

    ارشد شریف نے کہا کہ ہم مسنگ پرسنز کا ایشو اٹھانا چاہتے ہیں لیکن نامعلوم لوگوں کی جانب سے روکا جاتا ہے، ہم یہ معاملہ اٹھانا چاہتے ہیں لیکن غیراعلانیہ سنسر شپ ہے اور دھمکیاں ملتی ہیں، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ نے 9 اپریل کی رات بڑا واضح موقف دیا ہے،عدلیہ کسی غیرآئینی اقدام کو برداشت نہیں کریگی اور بات ختم،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ارشد شریف اور ان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کا مسئلہ حل ہو گیا؟ وکیل نے کہا کہ کال آئی کہ بوئنگ 777 کی اسٹوری پر کوئی ایکشن لیا جا رہا ہے،انہوں نے مجھے پٹیشن فائل کرنے کا کہا تھا جو میں نے دائر کی،ارشد شریف نے بتایا کہ رات ڈیڑھ بجے بھی گھر کے باہر سادہ کپڑوں میں لوگ موجود تھے، عید آ رہی ہے، ان دنوں میں وکیل سے رابطہ بھی مشکل ہو جاتا ہے،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عید کے دنوں میں بھی کچھ ہوا تو عدالت کھلے گی؟

    ایف آئی اے حکام نے عدالت میں کہا کہ ہم نے کوئی ایکشن نہیں لیا، کوئی انکوائری نہیں کی،ہراساں کرنے کے الزام میں بھی کوئی صداقت نہیں، ہم نے اس متعلق تحریری وضاحت بھی جاری کر دی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 9اپریل کی رات اس عدالت کی صرف لائٹس آن ہوئی تھیں کسی کو کیا مسئلہ ہے؟ شائد آئیسکو کو لائٹس آن ہونے سے کوئی مسئلہ ہوا ہو، فیصل چودھری نے کہا کہ خبریں چلیں کہ قیدیوں کی وین بھی آ گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کی وین اس لیے آئی کہ مظاہرین وہاں آ گئے، ان کے لیے وین آئی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 12 مئی تک ملتوی کر دی

    کامیاب تحریک عدم اعتماد،محسن بیگ،پاکستانی صحافت اور ہمارا پوری دنیا میں نمبر

    ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ ارشد شریف یا کسی بھی صحافی کو ایف آئی اے ہراساں نہ کرے

  • رات کو عدالتیں کیوں کھلی؟  وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے وجہ بتا دی

    رات کو عدالتیں کیوں کھلی؟ وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے وجہ بتا دی

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے رات کو عدالتیں کھلنے کی وجہ بتا دی کہا کہ عمران خان کا بنایا گیا صدر پاکستان پنجاب میں آئین شکنی کر رہا ہے، اس لئے رات کو عدالتیں کھلتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے سابقہ حکومت کی جانب سے رات کو عدالتیں کھلنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کے احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ رات کو عدالتں کیوں کھلیں؟-

    حکومت اورمیڈیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا فیک نیوز کے خاتمے کیلئے قانون سازی کرنے کا فیصلہ

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان فسطائیت اور آئین شکنی چھوڑیں، پارلیمان کے اغوا کار نہ بنیں، آئین، جمہوریت اور پارلیمان کو یرغمال بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں عدالتیں کیوں کھلتی ہیں، پوری قوم عارف علوی کی آئین شکنی دیکھ رہی ہے، عدالتیں کھلیں تو عمران خان سازش کے جھوٹ بولنے لگیں گے، عدالتوں پر بھی الزام لگانے لگیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کے صدر عارف علوی، گورنر پنجاب سمیت تمام آئین شکن ٹولے کو آرٹیکل 6 کی سزا ملنی چاہیے، صدر، گورنر اورپوری پی ٹی آئی بیمار پڑجائے تب بھی حمزہ شہباز حلف ضرور لیں گے، آپ بیمار ذہن، غیر جمہوری اور فسطائی شخص ہیں، آپ کا سیاہ دور رات کی سیاہی کی طرح مٹ رہا ہے۔

    عمران خان نے عام پاکستانی شہری کو پاک فوج کے خلاف کر دیا ہے،بھارتی تجزیہ نگارکا حامد میر کی ٹوئٹ پر…

    قبل ازیںوزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سے میڈیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ملاقات ہوئی تھی جس میں فیک نیوز سے متعلق اہم فیصلہ کیا گیا تھا وفاقی وزیر نے غیرملکی سازش میں صحافیوں پر عمران خان کے سنگین الزامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ملکی سازش کے نام پر اداروں، عدلیہ، میڈیا پر کیچڑ اچھالنے والوں کو اسپیس نہ دی جائے، جھوٹ پر مبنی انتشاری فسادی بیانیے کے تدارک میں میڈیا اپنا کردار ادا کرے، سیاستدانوں کی جائے پناہ آزاد، غیرجانبدار میڈیا ہوتا ہے، ہم اسے طاقتور کریں گے۔

    عمران خان کے سابق پرسنل سیکرٹری اور دوست کی اربوں کی کرپشن، تحقیقات کا حکم

  • اسلام آباد میں تمام عدالتیں کھل گییں، تاہم غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند۔

    اسلام آباد میں تمام عدالتیں کھل گییں، تاہم غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند۔

    اسلام ہائی کورٹ پر حملے کے بعد تمام عدالتیں کھل گئیں ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سمیت تمام ججز اور عملے نے کام شروع کردیا لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکیورٹی کے انتظامات، غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ابھی بند ہے۔بار ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے اعلان کے باوجود وکلاء عدالتوں میں پیش ہورہے ہیں اور عدالتوں میں سائلین کو ریلیف کی فراہمی شروعکردی گئی ہے، نيز فوری نوعیت کے کیسز پر احکامات جاری ہیں۔
    اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکلا نے جزوی ہڑتال کر دی، بعض وکلا کیسز کی پیروی کے لیے عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔

  • امریکی وزیر خارجہ کو عدالتی فیصلے پر تشویش، نظرِ ثانی کی خواہش کا اظہار،  شاہ محمود قریشی

    امریکی وزیر خارجہ کو عدالتی فیصلے پر تشویش، نظرِ ثانی کی خواہش کا اظہار، شاہ محمود قریشی

    ملتان : وزیراعظم عمران خان کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مؤقف واضح ہے۔امریکی وزیر خارجہ کو ایک عدالتی فیصلے پر تشویش تھی جس پر انہیں اعتماد میں لیا. امریکی وزیر خارجہ نے عدالتی فیصلے پر نظرِ ثانی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف پیش رفت کی ہے۔ پاکستان میں عدالتیں مکمل آزاد، آئین و قانون کے مطابق فیصلے کر رہی ہیں۔ شاہ محمود قریشی