Baaghi TV

Tag: عدالتی اصلاحات

  • قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے عدالتی اصلاحات کے فریم ورک کی منظوری دیدی

    قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے عدالتی اصلاحات کے فریم ورک کی منظوری دیدی

    قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے اپنے 61ویں اجلاس میں نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی ہے-

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک کو ورلڈ جسٹس پراجیکٹ رول آف لا انڈیکس سے ہم آہنگ کیا گیا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں شواہد پر مبنی عدالتی اصلاحات کو فروغ دینا، انصاف تک رسائی، شفافیت اور عدالتی نظام کی پیش گوئی کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس سپریم کورٹ میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، وفاقی وزیر قانون و انصاف، سیکریٹری وزارتِ قانون و انصاف، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ہائیکورٹس نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک اور انٹرنیشنل فریم ورک فار کورٹ ایکسیلنس کی سیلف اسیسمنٹ چیک لسٹ اختیار کر سکیں گی، جبکہ اصلاحاتی اقدامات کی پیش رفت کا سہ ماہی جائزہ لینے اور مؤثر رپورٹنگ کا نظام بھی قائم کیا جائے گا۔

    اعلامیے کے مطابق لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور وزارتِ قانون و انصاف فریم ورک پر عمل درآمد کے لیے خصوصی سیل قائم کریں گے، لا اینڈ جسٹس کمیشن سیکریٹریٹ رول آف لا سے متعلق اشاریوں کی نشاندہی اور توثیق کرے گا، جنہیں مرحلہ وار نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ میں شامل کیا جائے گا۔

    اس مقصد کے لیے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ایک خصوصی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم بھی تیار کیا جائے گا، جس کے ذریعے اصلاحات کی پیشرفت کی نگرانی اور باقاعدہ رپورٹس مرتب کی جائیں گی،سیکریٹریٹ عدالتی شعبے میں استعدادِ کار بڑھانے کے اقدامات کو بھی مربوط کرے گا۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ فریم ورک پر عمل درآمد سے متعلق پیش رفت کا جائزہ 8 اکتوبر 2026 کو ہونے والے آئندہ اجلاس میں لیا جائے گا، جبکہ پاکستان کی ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لا انڈیکس میں سالانہ کارکردگی کا بھی باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا، جس میں ادارہ جاتی مضبوطیوں، خامیوں اور مزید اصلاحات کے لیے سفارشات شامل ہوں گی۔

    قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدالتی اصلاحات کو شواہد، قابلِ پیمائش نتائج اور بین الاقوامی معیارات کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا، جس سے ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا جدت، شواہد پر مبنی طرزِ حکمرانی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

    اجلاس میں جبری گمشدگیوں سے متعلق مجوزہ کمیشن پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، کمیٹی نے اس ضمن میں حکومت کے اقدامات کو سراہاوفاقی وزیر قانون و انصاف نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کمیشن کی سربراہی کے لیے سپریم کورٹ کے سابق ججز کے نام زیرِ غور ہیں اور کمیشن کی تشکیل اور قواعدِ کار جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔

  • عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا

    عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا

    حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پرنٹنگ کارپوریشن کو گزٹ نوٹیفیکیشن کا حکم دے دیا ،صدر نے اس بل کو دوسری بار دستخط کے بغیر واپس بھجوا دیا تھا ،سپریم کورٹ نے اس پر عمل درآمد روک دیا تھا ،بل منظوری کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل اب قانون کی شکل میں نافذ ہوچکا ہے ۔

    سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

    صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل دستخط کیئے بغیر پارلیمنٹ واپس بھجوا دیا تھا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بل منظور ہوا تھا، ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر علوی نے کہا کہ بل کی درستگی کا معاملہ عدالتی فورم کے سامنے زیر سماعت ہے. لہٰذا معاملہ زیر سماعت ہونے کے احترام میں بل پر مزید کارروائی مناسب نہیں۔ عدالتی اصلاحات سے متعلق یہ بل 10 اپریل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کثرت رائے سے ترامیم کے ساتھ منظور ہوا تھا۔

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • قومی اسمبلی میں عدالتی اصلاحات کا بل پیش

    اسلام آباد: قومی اسمبلی میں ’سیاسی معاملات میں عدلیہ کی بے جا مداخلت‘ کے خلاف قرارداد منظور کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی:وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں عدالتی اصلاحات ترمیمی بل ’سیاسی معاملات میں عدلیہ کی بے جا مداخلت کا مسودہ منظور کیا گیا۔

    وفاقی حکومت کا عدالتی اصلاحات کیلئے فوری قانون سازی کا فیصلہ

    سیاسی معاملات میں عدلیہ کی بے جا مداخلت کا بل وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیش کیا ان کا کہنا تھا کہ ایوان عدالیہ کی مداخلت کو سیاسی عدم استحکام کا باعث سمجھتا ہےیہ ایوان چار ججزکے فیصلے پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے توقع کرتا ہے اعلیٰ عدلیہ سیاسی و انتظامی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن خودمختار ادارہ ہے اس کے آئینی اختیارات میں مداخلت نہ کی جائے’یہ ایوان سمجھتا ہے کہ تمام اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت غیر جانبدار نگران حکومتوں کے تحت ہونے چاہییں وہ دستوری معاملات جن میں اجتماعی دانش درکار ہو اور اس کا مطالبہ بھی ہو، اس کی سماعت عدالت عظمیٰ کا فُل کورٹ کرے۔

    پہلی ششماہی میں 10.21 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں. سٹیٹ بنک

    دوسری جانب حکومت کی جانب سے چیف جسٹس کے اختیارات کم کرنے کیلئے عدالتی اصلاحات کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جس میں تجویز پیش کی گئی کہ چیف جسٹس کےہمراہ 2 سینئر ترین ججز پر مشتمل کمیٹی از خود نوٹس لینے کا فیصلہ کرے بل میں ایک اور تجویز پیش کی گئی کہ 3ججز پر مشتمل کمیٹی بینچزکی تشکیل اور کیسز تفویض کرنے کا فیصلہ بھی کرے گی جن میں چیف جسٹس بھی شامل ہوں گے-

    وفاقی وزیر قانون سینیٹراعظم نذیر تارڑ کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی میں سپریم کورٹ نے انتظامی معاملات پر ایک دن میں 4 ازخود نوٹس لیے، سپریم کورٹ کے قواعد سے متعلق بہت تنقید ہوتی رہی ہے، ماضی میں بعض ازخود نوٹس ادارے کی تکریم میں اضافے کا باعث نہیں بنے، کئی نوٹس کے تحت ایسے فیصلے ہوئے جس سے نقصان ہوا، ادارے کا تقدس متاثر ہوا۔

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے3 سینئر ترین جج از خود نوٹس لینے کا فیصلہ کریں گے، از خود نوٹس کے فیصلے پر 30 روزمیں اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا ہے ، اپیل دائر ہونے کے14 روز کے اندر سماعت کیلئے مقرر کرنا ہوگی ازخود نوٹس کے استعمال سے سپریم کورٹ کے وقار کو نقصان پہنچا، گزشتہ روز 2جج صاحبان کا موقف سامنے آنے سے تشویش پیدا ہوگئی تھی ۔

    ڈیجیٹل مردم شماری،خواجہ سراؤں کی حقیقی تعداد کا تعین مشکل

    انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بل پیش ہونے کے بعد ارکان اسمبلی نے بل کو اجلت میں منظور کرنےکی مخالفت کی اور تجویز پیش کی گئی کہ تمام آئینی اداروں کو ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیے ، سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف ارکان اسمبلی کی تجویز پر عدالتی اصلاحات کا بل متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا ہے-

    اس کے بعد ایوان میں بل پر بحث کی گئی، بعدازاں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشزف نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بھیج دیا اور کہا کہ آرڈر آف دی ڈے یہ تھا کہ سپریم کورٹ سے متعلق بل آج ہی پاس کیے جائیں، ایوان کی رائے کے مطابق دونوں بل لاء اینڈ جسٹس کمیٹی کو بھیجے جارہے ہیں انہوں نے رولنگ دی کہ سپریم کورٹ سے متعلق دونوں ترمیمی بل کمیٹی کو بھیجے جاتے ہیں اور کمیٹی سے درخواست ہے کہ رپورٹ جلد ایوان میں پیش کرے۔

    مریم نواز بھائی کی مقروض،کیپٹن ر صفدر دوستوں کے مقروض

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس کل صبح ہوگا جس کی صدارت چیئرمین محمود بشیر ورک کریں گے قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کل ہی بل منظور کرکے ایوان میں رپورٹ دے گی، قومی اسمبلی کل عدالتی اصلاحات ترمیمی بل کی حتمی منظوری دے گی اور پھر مجوزہ بل جمعرات کو سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔