Baaghi TV

Tag: عدلیہ

  • قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بات کرنے کی  اجازت نہیں دوں گا، ایاز صادق

    قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بات کرنے کی اجازت نہیں دوں گا، ایاز صادق

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا۔

    نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ نیشنل کالج آف آرٹس ایک بہترین یونیورسٹی ہے این سی اے نے قومی سطح پر شہرت حاصل کر لی ہے، جس کے طلبہ بہت کچھ حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں کے نوجوان طلبہ ریسرچ کے بعد کام کرتے ہیں جو تخلیقی ہوتا ہے۔

    سردار ایاز صادق نے کہا کہ وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گےاحتجاج ضرور کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس میں آگ نہ لگائی جائے اور جانوں کا ضیاع نہ ہو توڑ پھوڑ، ڈنڈوں اور بندوقوں کی موجودگی تشویش کا باعث بنتی ہے اگر کوئی پاکستان کے خلاف بات کرے گا تو اسے گفتگو کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    بھارتی کرکٹر نے بالی ووڈ اداکارہ پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا

    انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں عدلیہ اور ججز کے کردار پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسی طرح افواج پاکستان کے خلاف بات بھی نہیں کرنے دی جائے گی اور صرف اسی گفتگو کی اجازت ہو گی جو آئین کے دائرے میں ہو وہ وزیر اعظم پاکستان سے مشاورت کرتے ہیں اور وزیر اعظم انہیں کسی چیز سے نہیں روکتےمحمود اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم جو کوئی بھی پاکستان کے خلاف بات کرے گا اسے اجازت نہیں دی جا ئے گی، پاکستان کی معیشت مضبوط ہوتی جا رہی ہے زرمبادلہ کے ذخائر 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں پاکستان کے امریکا، چین، روس، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان سے لڑنا عوام کا کام ہے۔

    بھارتی کرکٹر نے بالی ووڈ اداکارہ پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا  عدالتی اصلاحات کا اعلان

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا عدالتی اصلاحات کا اعلان

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ سال 2026 میں عوام کو بہتر اور مؤثر انصاف کی فراہمی کے لیے بامقصد اصلاحات پر عمل کرے گی –

    نئے سال کے موقعے پر سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں چیف جسٹس نے عوام، عدلیہ کے اراکین اور قانونی برادری کو نئے سال کی مبارکباد دی، کہا کہ آئندہ سال عدلیہ ایسی اصلاحات پر کام کرے گی جن کے ذریعے ٹیکنالوجی کو ذمہ داری کے ساتھ انصاف کی خدمت میں استعمال کیا جائے گا-

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ ان کوششوں کی بنیاد ایسے نتائج پر ہوگی جو عوام کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں، جن میں بروقت فیصلے، قابلِ فہم عدالتی طریقۂ کار اور ایک ایسا عدالتی نظام شامل ہے جو عوام دوست اور انسانی اقدار سے ہم آہنگ ہو عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے، اور یہ انصاف بلا تاخیر، غیرجانبدارانہ اور منصفانہ ہونا چاہیے۔

    سال 2026 ے آغاز کے ساتھ ہی یو اے ای میں کئی پالیسیوں میں تبدیلی

    ان کے مطابق یہ ذمہ داری اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب عام شہری امید، اعتماد اور کمزوری کے احساس کے ساتھ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں،چیف جسٹس نے زور دیا کہ نیا سال عدلیہ کے لیے غور و فکر، اصلاح اور انصاف کے ایسے نظام سے وابستگی کی تجدید کا تقاضا کرتا ہے جس کے مرکز میں شہری ہو،انصاف صرف اصولی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر قابلِ رسائی ہونا چاہیے، طریقۂ کار میں باوقار اور نتائج کے ساتھ ساتھ عمل میں بھی منصفانہ ہونا چاہیے۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتی نظام خواتین، بچوں، محروم طبقات اور دور دراز و پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کی ضروریات کے لیے حساس اور جواب دہ ہونا چاہیےچیف جسٹس نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اجتماعی عزم، پیشہ ورانہ صلاحیت اور دیانت داری کے ذریعے عدلیہ عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنائے گی اور آئین میں درج اقدار کی پاسداری جاری رکھے گی۔

    ہونڈا سوک کے نئے ماڈلز کی تعارفی قیمتوں کا اعلان ہو گیا

    انہوں نے ہر شہری کی منصفانہ، آزاد اور ہمدردانہ خدمت کے لیے عدلیہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نیا سال قانون کی حکمرانی پر اعتماد اور ایسا عدالتی نظام لے کر آئے گا جو حقیقی معنوں میں ہر فرد تک پہنچ سکے۔

  • پاکستانی عدلیہ پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ،اسحاق ڈار

    پاکستانی عدلیہ پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ،اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان عدلیہ پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ہے اور میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا، اگر کسی کو انگریزی نہیں آتی تو وہ سیکھ لے۔

    وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ رواں سال جولائی میں پاکستان کے پاس اقوام متحدہ کی صدارت تھی، جس دوران مسئلہ فلسطین پر بھرپور موقف اپنایا گیا کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے ملاقات کی، جبکہ واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات ہوئی جو بہت کامیاب رہی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران 3 اہم میٹنگز ہوئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور پاکستان کے دور صدارت میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی،کئی سالوں بعد فلسطین کے حوالے سے سلامتی کونسل میں پاکستان کی قرارداد منظور ہوئی جسے اب مختلف فورمز پر بطور حوالہ پیش کیا جارہا ہے،فلسطین کانفرنس میں غزہ کے مسئلے پر بھی بھرپور آواز اٹھائی گئی اپنے دورے کے دوران پاکستانی برادری، تاجروں اور صحافیوں سے بھی ملاقات کی گئی جبکہ مشرق وسطیٰ اور ایران کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    یکم ستمبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    نائب وزیر اعظم کے مطابق کابل اور ڈھاکہ کے دورے بھی کامیاب رہے، برطانیہ میں سندھ طاس معاہدے کے ماہرین اور کشمیری رہنماؤں سے بھی ملاقات کی گئی، قومی ایئر لائن کی مانچسٹر کے لیے براہ راست پرواز رواں سال ستمبر تک شروع ہو جائے گی جبکہ برطانیہ میں پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹ کا ون ونڈو آپریشن بھی شروع کیا گیا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی عدلیہ پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ہے، اور عدلیہ سے متعلق ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اگر کسی کو انگریزی نہیں آتی تو وہ سیکھ لے۔

    فیلڈ مارشل کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    ان کا کہنا تھا کہ 20 اگست کو کابل کا دورہ کیا، کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کا سہ فریقی اجلاس ہوا، افغان وزیر خارجہ سے دوطرفہ ملاقات بھی ہوئی، اپریل میں دورہ افغانستان کے دوران جو اعلانات کیے گئے تھے اس پر عمل درآمد ہوا، افغان وزیر خارجہ نے پاکستان کی اس بات کو سرہا، پاکستان نے گریٹر اسرائیل کا منصوبہ مسترد کیا ہے پاکستان اپنی پالیسی پر قائم ہےفغان قیادت سے ملاقات میں چین اور پاکستان دونوں کو سیکیورٹی تحفظات تھے، ہمارے تحفظ ٹی ٹی پی سے متعلق تھے، ہم نے افغانستان سے کہا یا تو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کریں یا ہمارے حوالے کریں۔

    نائب وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ چین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا، چینی وزیر نے پاکستان میں مختلف ملاقاتیں کی، چینی وزیر خارجہ سے سی پیک ٹو پر بات ہوئی، ایم ایل ون اور قراقرم ہائی وے اس میں سر فہرست منصوبے ہیں۔

  • چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں عدالتی اصلاحات پر اجلاس، اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں عدالتی اصلاحات پر اجلاس، اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس یحیی آفریدی کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عدالتی نظام کی بہتری کے لیے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اجلاس کی نوعیت اور مقاصد پر روشنی ڈالی۔ اس دوران مختلف اقدامات اور اصلاحات پر بات چیت کی گئی، جو مستقبل میں عدالتی عمل کو مزید موثر، شفاف اور تیز تر بنانے کے لیے اہم ہوں گے۔

    اجلاس میں عدالتی اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان اصلاحات کا مقصد عدالتی عمل کو مزید مؤثر اور عوام کے لیے قابل رسائی بنانا تھا۔عدالتی عمل کو ڈیجیٹل بنانے پر زور دیا گیا تاکہ عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر کی جانے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ اجلاس میں عوامی انصاف کی رسائی کو وسیع کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ عدالتی نظام تک عوام کی رسائی کو آسان بنایا جائے، تاکہ عوام کو فوری انصاف مل سکے۔عدالتی شفافیت اور تیز انصاف کے حوالے سے اصلاحات کے بنیادی اہداف مقرر کیے گئے۔ ان اصلاحات کے ذریعے عدلیہ کے عمل کو نہ صرف شفاف بنایا جائے گا بلکہ عوام کو تیز ترین انصاف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ کیسز کے التواء کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ اقدامات کیسز کی جلد سماعت اور ان کے فیصلوں کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اہم ہوں گے۔ عوام سے تجاویز لینے کے لیے "آن لائن فیڈبیک فارم” کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ عوام اپنی آراء اور شکایات کو براہ راست عدلیہ تک پہنچا سکیں اور عدالتی اصلاحات میں فعال کردار ادا کر سکیں۔اجلاس میں عدلیہ کے وقار کو عالمی سطح پر بحال کرنے کی کوششوں پر بھی زور دیا گیا، خصوصاً ورلڈ جسٹس انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے۔سپریم کورٹ نے اپنے عدالتی عمل کو مزید شفاف بنانے کا عزم کیا ہے، تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل میں مکمل اعتماد ہو۔اجلاس میں عدلیہ کے افسران کی تجاویز اور آراء پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں مختلف موضوعات پر تفصیل سے بحث کی گئی۔

    اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ عدلیہ میں اصلاحات کے یہ اقدامات نہ صرف عدالتی نظام کی بہتری کی طرف اہم قدم ہیں، بلکہ عوام کے لیے انصاف کی رسائی کو آسان اور مؤثر بنائیں گے۔ چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اصلاحات جلد نافذ کی جائیں گی اور عدلیہ میں اصلاحات کی یہ راہ عوام کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنے گی۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس،بچوں سے زیادتی ، چائلڈ کورٹس کے قیام کا بل منظور

    بچوں کا جنسی استحصال،برطانوی وزیراعظم ایلون مسک کی پوسٹوں پر پھٹ پڑے

  • 40 فیصد  مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

    اسلام آباد: آئینی ترمیم کے نتیجے میں 20 لاکھ سے زائد زیرالتوا کیسوں کے سائلین کو جلد انصاف ملنے کی امید ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ترمیم کی منظوری کے بعد ملک کی عدالتوں نے آئینی درخواستوں کی سماعت معطل کر دی ہے، آئندہ ماہ سے ملک بھر کی عدالتوں میں زیرسماعت 40 فیصد درخواستیں آئینی بنچوں کو منتقل کی جائیں گی، سپریم کورٹ اور پانچوں ہائی کورٹس کی آئینی درخواستوں اور رٹ پٹیشنز کے فیصلے آئینی بنچ کریں گے، جس سے مقدمات کی سماعت میں تیزی آئے گی۔

    ملک میں ضلع، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے عوام کو یہ امید ہے کہ یہ آئینی ترمیم انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز کرے گی،یہ بات بھی اہم ہے کہ آئین کے آرٹیکل 37ڈی میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاست سستے اور آسان انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔

    اس کی دو اہم وجوہات ہیں: پہلی یہ کہ آئینی بنچوں میں منتقل ہونے والے تقریباً 40 فیصد مقدمات کی تعداد میں کمی آئے گی، اور دوسری وجہ ہائی کورٹس کے ججوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل ہے، جو وقتاً فوقتاً ان کی کارکردگی کو جانچے گا۔

  • اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج

    اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج

    اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت بڑ ھ گیا، حکومت آئینی ترامیم کرنے جا رہی، تحریک انصاف کی کوششوں کے باوجود انہیں ناکامی ہو گی اور حکومت پی ٹی آئی کے اراکین کو ہی توڑ کر ترامیم منظور کروائے گی.پاکستان کی پارلیمان آج ایک اہم سنگ میل عبور کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد ملک میں دائمی امن، سیاسی استحکام اور عوام کی خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ فیصلے پاکستان کی تقدیر بدلنے اور قوم کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچانے کا وعدہ ہیں۔عدلیہ سے متعلق آئینی ترمیم کل پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی

    آئینی ترامیم کل اتوار کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کئے جانے کا امکان
    عدلیہ سے متعلق آئینی ترامیم کل اتوار کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، دو اراکین اسمبلی کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے آج ترامیم پیش نہیں کی جائیں گے، ن لیگی رہنما حمزہ شہباز اور جے یو آئی کے مولانا عبدالغفور حیدری آج پاکستان واپس پہنچیں گے ،حمزہ شہباز فرانس گئے ہوئے تھے جبکہ عبدالغفور حیدری چین گئے ہوئے تھے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اعلیٰ حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آئینی ترامیم کل پارلیمنٹ میں پیش کی جا سکیں گی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کل بروز اتوار بلائے جانے کا امکان ہے۔

    علاوہ ازیں پارلیمنٹ میں آئینی ترامیم پیش کیے جانے کا معاملہ ،رات گئے حکومتی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے،حکومتی وفد نے مولانا فضل الرحمان سے آئینی ترمیم میں تعاون کی درخواست کر دی، مولانا فضل الرحمان نے آج پارٹی سے مشاورت کے بعد جواب دینے کی یقین دہانی کروا دی، جے یو آئی ف کے پارلیمانی ایوانوں میں تیرہ ووٹ فیصلہ کن حیثیت اختیار کرگئے

    سپریم کورٹ کے ججوں کی مدتِ ملازمت 65 سال سے بڑھا کر 68 سال کرنے اور ہائی کورٹس کے ججوں کی مدتِ ملازمت 62 سال سے بڑھا کر 65 سال کرنے کی تجویز شامل ہوگی، ججز تقرری کے طریقۂ کار میں بھی تبدیلی کا امکان ہے،جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو ایک بنانے کی تجویز آئینی ترمیم کا حصہ ہوگی۔

    آئینی ترمیم، میثاق جمہوریت کے تحت آئینی عدالت کے قیام کا امکان
    حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کی جانے والی مجوزہ آئینی ترامیم کی تفصیلات سامنے آئی ہیں،ذرائع کے مطابق آئینی پیکج میں میثاق جمہوریت کے تحت آئینی عدالت کے قیام کا امکان ہے جبکہ نئے چیف جسٹس کے ساتھ نئی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز بھی زیر غور ہے، آئینی عدالت کے لئے الگ چیف جسٹس کی تعیناتی کی تجویز زیر غور ہے،نئی عدالت کا مقصد آئینی مقدمات اور مفاد عامہ کے مقدمات کو الگ الگ کرکے عدالت عظمیٰ پر بوجھ کم کرنا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی ذرائع کا بتانا ہے کہ نئی آئینی عدالت کے قیام کا معاملہ مجوزہ آئینی ترمیم کا حصہ ہو گا، مفاد عامہ کے دیگر کیسز موجودہ سپریم کورٹ میں سنے جائیں گے جبکہ آئینی عدالت 5 رکنی ہونے کی تجویز ہے، آئینی عدالت میں آئین کے آرٹیکل 184، 185 اور 186 سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہو گی، آئینی عدالت کی تشکیل میں چاروں صوبوں اور وفاق کے ججز کی نمائندگی کی تجویز بھی زیر غور ہے، آئینی عدالت میں صوبوں کی طرف سےآئین کی تشریح کےمعاملات بھی زیرغورآسکیں گے،پاکستان پیپلز پارٹی کے مطالبے پر میثاق جمہوریت کے تحت آئینی عدالت کے قیام کو آئینی پیکج کا حصہ بنایا جا رہا ہے

    وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کی تجویز زیرِ غور ہے، مگر اس سے کسی جج کی حق تلفی نہِیں ہوگی، ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے سے تمام موجودہ ججوں کا فائدہ ہوگا،آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کے نمبرز پورے ہوگئے ہیں۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس آج 3 بجے سہ پہر اور سینیٹ کا اجلاس آج شام ہی 4 بجے ہوگا،اسلام آباد میں سیاسی پارہ ہائی ہو چکا ہے، اراکین کو اسلام آباد سے باہر جانے سے روکا گیا ہے، پی ٹی آئی کے گرفتار اراکین بھی پارلیمنٹ لاجز میں ہیں اور اسمبلی اجلاس میں شریک ہوں گے،ہفتہ کو عمومی طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کیا جاتا کیونکہ ہفتہ اتوار کو اراکین اسمبلی اپنے حلقوں میں جاتے ہیں تا ہم اس بار قومی اسمبلی و سینیٹ کا اجلاس ہفتہ کو طلب کیا گیا ہے، مولانا فضل الرحمان نے اجلاس کی وجہ سے دورہ کراچی ملتوی کر دیا ہے،

    گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ آئینی ترمیم کے لیے حکومت کے پاس تعداد پوری ہو چکی ہے۔ تاہم وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کوئی آئینی ترمیم آنے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے

    دوتہائی اکثریت یعنی ایوان کے کل ممبران 336میں سے 224 ممبرز کی حمایت ضروری ہے، جے یو آئی (ف) سمیت حکومت کے پاس نمبر222تک پہنچ گیا، ترمیم کی منظوری کیلئے اسے صرف دو آزاد اراکین توڑنے ہونگے، اپوزیشن اراکین کی تعداد 111تک محدود ہے، پی ٹی آئی کےحمایت یافتہ 4 اراکین آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینگے

    حکومت اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے اہم آئینی ترمیم لانا چاہتی تھی ، جس کیلئے ایوان زیریں میں اسے دوتہائی اکثریت یعنی ایوان کے کل ممبران 336 میں سے 224 ممبرز کی حمایت ضروری تھی،قومی اسمبلی کے ایوان میں اس وقت 312 ممبران موجود ہیں جبکہ خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں سمیت 24 نشستیں یا تو متنازع ہیں یا ابھی خالی ہیں جن پر نوٹیفیکیشن ہونا ہے، حکومتی اراکین کی تعداد 213 بنتی ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی تعداد 111 ہے، پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 68، ایم کیو ایم کے 22 اراکین، ق لیگ کے پانچ، استحکام پاکستان پارٹی کے چار، مسلم لیگ ضیا، نیشنل پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہے، اسی طرح اپوزیشن اراکین کی تعداد 101 ہے جس میں سنی اتحاد کونسل کے 80، آزاد اراکین چھ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آٹھ اراکین، بی این پی، مجلس وحدت المسلمین اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہیں،جے یو آئی ف ملا کر حکومتی نمبر 222 تک پہنچ جائے گا اوراسے صرف دو آزاد اراکین توڑنے ہوں گے

    آئینی ترامیم،وزیراعظم کا پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ
    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آئینی ترامیم پر پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے،وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج شام 7 بجے وزیرِ اعظم ہاؤس میں طلب کر لیا ،وزیرِ اعظم آئینی اصلاحات کے بارے میں پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لیں گے اجلاس کے بعد ارکان کو عشائیہ بھی دیا جائے گا، اجلاس میں آئینی ترامیم بارے اراکین کو آگاہ کیا جائے گا، اجلاس میں ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اراکین شریک ہوں گے

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

  • ایک ادارہ پارلیمنٹ میں بار بار مداخلت کرتا ہے،بلاول

    ایک ادارہ پارلیمنٹ میں بار بار مداخلت کرتا ہے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ انصاف بھی دلواتی ہے اور مہنگائی کا مقابلہ بھی کر سکتی ہے،

    بلاول کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کوئی جوڈیشری ہماری عدلیہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی ،ایک ادارہ پارلیمنٹ میں بار بار مداخلت کرتا ہے، کوئی طریقہ نکالنا ہوگا کہ سیاسی دائرہ میں رہ کر لڑائی لڑی جائے،ملک میں حالات ایسے ہیں کہ کچھ آپ کے ہاتھ میں ہے اور کچھ نہیں ،صوبوں میں لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال مشکل ہوتی جارہی ہے، ٹی وی پر صرف غدار غدار چل رہا ہوتا ہے، ہم ایک دوسرے کو چور چور کہہ رہے ہوتے ہیں جبکہ پاکستان کی عوام اس وقت معاشی بحران سے گزر رہے ہیں، بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کو ملک چھوڑنا پڑا، بنگلہ دیش کے حالات کو غور سے دیکھ رہے ہیں،کیا میں نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان چھینا تھا؟ ،ایک مری ہوئی سیاسی جماعت کو عین اس وقت فائدہ پہنچایا گیا کہ پوری جماعت موبلائز ہو گئی، آپ ان کو ایسے سیٹیں دیتے ہیں جیسے ٹافیاں،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ایک ادارے کا تو یہ حال ہے کہ انصاف بھی دیتا ہے ڈیم بھی بناتے ہیں سموسے اور ٹماٹر کی قیمتوں کا تعین بھی کرسکتے ہیں ،پاکستان کی عدلیہ کو دنیا کی بہترین عدلیہ ہی کہوں گا ،ہمیں عدلیہ کی وجہ سے تین نسلوں کی جدوجہد کرنا پڑی ،عدلیہ نے شہید بھٹو کو فیئر ٹرائل نہیں ملا تسلیم کیا ،عدلیہ نے کہا کہ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کرسکتی،آج عدلیہ چائے کی پیالی میں طوفان برپا کررہی ہے ،اسی عدلیہ نے ایک جماعت کو ایک فیصلہ دے کر سیاسی فائدہ دیا ،اسی عدلیہ نے ایک جماعت سے انتخابی نشان لیا ،پھر اسی عدلیہ نے جو مانگا بھی نہیں وہ بھی اسے دے دیا گیا ،اس بحران کا ذمہ دار اس ایوان میں بیٹھا کوئی شخص نہیں، یہ بحران عدلیہ کی وجہ سے ہے، عدالت نے کہا تھا یہ تو انہوں نے الیکشن میں دھاندلی کی جس کی وجہ سے نشان نہیں ملے گا، انتخابی نشان سے متعلق فیصلہ میں نے نہیں سنایا

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں شہیدوں کے کوٹے سے متعلق احتجاج ہوا، شہیدوں کے کوٹے کو حسینہ واجد نے ختم کیا تھا، احتجاج شروع ہوا حسینہ واجد کو حکومت چھوڑنا پڑی، ہمیں عوام کے اصل مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

    ارشد ندیم نے اپنی محنت سے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا۔بلاول
    بلاول کا مزید کہنا تھا کہ کھیلوں کے فروغ کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، ارشد ندیم کو پوری قوم کی جانب سے مبارک باد دینا چاہتا ہوں، لیاری کے بچے فیفا ورلڈ کپ جیت کر لاسکتے ہیں، وفاقی وزیر کھیل صوبائی وزراء کے ساتھ بیٹھ کر انڈومنٹ فنڈ قائم کریں، ارشد ندیم کا ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومت کو جیسے دینا چاہیے تھا نہیں دیا، کھیلوں کیلئے ہر صوبے کا انڈومنٹ فنڈ مختص کیا جائے، پاکستانی نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں، کوشش ہونی چاہیے کہ آئندہ اولمپکس میں مزید تمغے جیتیں، ارشد ندیم نے اپنی محنت سے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا۔

    ارشدندیم کو قومی اسمبلی میں‌خراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش

    سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

  • سسیلین مافیا،گاڈ فادر اور پراکسی جیسے الفاظ کہیں گے تو کون برداشت کرے گا،طلال چودھری

    سسیلین مافیا،گاڈ فادر اور پراکسی جیسے الفاظ کہیں گے تو کون برداشت کرے گا،طلال چودھری

    اسلام آباد: ن لیگی رہنما اور سینیٹر طلال چودھری نے کہاہےکہ ثاقب نثار نے مجھے پیغام بھیجا نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف بیان دو، پیغام بھیجا کہ بیان دو گے تو پارلیمنٹ جاؤ گے ورنہ جیل جاؤ گے۔

    قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا، اس دوران سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ عدالت کا وقار آئین بنانے والوں کو نہیں، آئین توڑنے والوں کو سزا دینے سے بلند ہوگا، ہم نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کا احترام کیا اور ہمیں توہین عدالت کے نوٹس ملے لیکن ہم نے اس کا کھلے دل سے سامنا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پی سی او ججز کو نکالو، قانونی ججز کی بات نہیں کی تھی، جلسے میں کہا تھا کہ پی سی اوججز انصاف نہیں دے سکتے، مجھے توہین عدالت قانون کا نشانہ اس لیے بنایا گیا کہ میں نظریے پر کھڑا تھا ، دنیا میں توہین عدالت کا قانون ختم ہو چکا ہے، اداروں کے درمیان تصادم نہیں ہونا چاہیے، درگزر کا اصول عدالت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، آپ سسیلین مافیا،گاڈ فادر اور پراکسی جیسے الفاظ کہیں گے تو کون برداشت کرے گا، مجھے نوٹس ملنے سے 6 ماہ پہلے اعجاز الاحسن نے کہا وزیر اعظم کا معاملہ حل کریں پھر جو باہر باتیں کرتے ہیں انہیں دیکھتے ہیں۔

    اسلام آباد میں آئی ٹی پارک کی تعمیر کا کام جلد از جلد مکمل …

    ہم قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہیں ہمارا کام ہے قانون سازی کرنا، سینیٹر فیصل سبزواری

    سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ آئین صرف ججز کی نہیں ،عوامی نمائندوں کی عزت کے حوالے سے بھی بات کرتا ہے،ہم قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہیں ہمارا کام ہے قانون سازی کرنا کہ توہین کے بھی قواعد و ضوابط طے ہوں، یہ نا ہو آج میرا موڈ اچھا نہیں تو فلاں جو بات تھی وہ توہین عدالت ہے، ہماری انفرادی اور مشترکہ عزتیں اچھالنے کا حق کسی کو نہیں ہونا چاہیے، پاکستان میں سلیکٹو جسٹس تو دیکھا ہے مگر توہین میں بھی ججز صاحبان سلیکٹو رہتے ہیں، اگر آپ کسی مخصوص جماعت کہ ہیں تو آپ کو کھلی چھوٹ ہے کہ کچھ بھی کہہ دیں۔

    انہوں نے کہاکہ ہم قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہیں ہمارا کام ہے قانون سازی کرنا کہ توہین کے بھی قواعد و ضوابط طے ہوں، یہ نا ہو کہ آج میرا موڈ اچھا نہیں تو فلاں جو بات تھی وہ توہین عدالت ہے۔سینیٹر نے فیصل واڈا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کو جج صاحبان نے کہا کہ یہ پراکسی ہیں، حامد خان صاحب نے اپنی کتاب میں ججز کی پراکسی کا ذکر کیا تو لکھنے والے اس بات کی دلیل پیش کرتے ہیں، ہاں فیصل واوڈا پراکسی ہیں اس ایوان کے عوام کے اور تب بھی ان کو پراکسی کہا جائے کسی منفی معنی میں تو اس ایوان کے نمائندوں کی عزتوں پر بھی حرف اٹھتا ہے۔

    غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری،مزید 85 فلسطینی شہیدv

    سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ یہاں توہین توہین کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، لوگوں کے لاکھوں ووٹ سے منتخب ہونے والے ممبر اسمبلی اور سینیٹرز کے علاوہ سب کی عزت ہے، آئین صرف ججز کی عزت کے حوالے سے بات نہیں کرتا وہ عوامی نمائندوں کی عزت کے حوالے سے بھی بات کرتا ہے، ٹی وی پر صبح سے شام تک ریمارکس کا کھیل چلتا ہے، ہماری پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایک چیف جسٹس نے کہا کہ نسلہ ٹاور کو گرا دو کہ وہاں امیر لوگ نہیں رہتے، تو یہ کونسا انصاف ہے اور میں اس پر بات کروں تو کہتے ہیں کہ توہین آمیز لہجہ ہو رہا ہے، میں لوگوں کے لیے بات نہ کروں آئین سازی اور آئین میں ترمیم کا اختیار پارلیمنٹ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں، سابق چیف جسٹس نے آئین کو خود ہی دوبارہ لکھ دیا تھا آرٹیکل 62، 63 کے معاملے پر، آپ کے فیصلے سے آئین میں آپ کی مداخلت ہوئی ہے، ہمیں یہ آزادی نہیں چاہیے کہ کہ 50، 50 کیسز میں ضمانتیں دے دیں-

    پارلیمنٹ کی توقیر کا آئین کے حوالے سے تحفظ کرنا بہت ضروری ہے، اس کو ذاتی ایجنڈا نا بنایا جائے، جب ذاتی ایجنڈوں پر بات ہوتی ہے تو ہمیں طیش آتا ہے،سینیٹر محسن عزیز

    چین روس کو مہلک امداد فراہم کر رہا ہے،برطانیہ

    پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب ہماری پارٹی کو جھنڈا لگانے کی اجازت نہیں تھی کسی نے آواز نہیں اٹھائی، سینیٹر چوہدری اعجاز کے کئی مرتبہ پروڈکشن آرڈر جاری کئے، اس ایوان میں بارہ لوگوں کی موجودگی میں الیکشن میں تاخیر کا بل پاس کیا گیا تو کیا یہ پارلیمنٹ کی عزت تھی؟ ایک چیف جسٹس نے کہا الیکشن کروائے جائیں تو اس پر عمل نہیں کیا گیا، ایک جج کے پاس کون سی فورس ہوتی جو وہ اپنے فیصلے پر عمل کرائے، پارلیمنٹ کی توقیر کا آئین کے حوالے سے تحفظ کرنا بہت ضروری ہے، اس کو ذاتی ایجنڈا نا بنایا جائے، جب ذاتی ایجنڈوں پر بات ہوتی ہے تو ہمیں طیش آتا ہے، اگر لاپتہ افراد کی بات کی گئی ہے تو کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم لاپتہ افراد کی بات کریں،اگر کسی جج نے لاپتہ افراد کی بات کی ہے تو ہمیں اس جج کی حمایت کرنی چاہیے،اگر ایک جج نے ہفتے کے روز عدالت کھول کر نواز شریف کی صحت کی ضمانت مانگی ہم نے اس وقت بات کیوں نہیں کی، توہین کا قانون ہے تو ہمیں بیٹھ کر اس پر قانون سازی کرنی چاہیے، یہاں بیٹھ کر ذاتی ایجنڈے کی بات نہیں کرنی چاہیے۔

    لگتا ہے کچھ ججز کیخلاف ایک پراکسی شروع ہوئی ہے اور ہم بھی اسی کیساتھ چل رہے ہیں، سینیٹر کامران مرتضی

    نیپرا کا بجلی مزید مہنگی کرنے کا ارادہ

    جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ تاثر مل رہا ہے یہ اجلاس بلانے کا مقصد ایک ہی ہے، ایک سپریم کورٹ اور کچھ ہائی کورٹس کے ججز آج بھی نشانے پر ہیں، شاید وجہ یہ ہے کہ کوئی فیصلہ یا ریمارکس نہ آئے، لگتا ہے کچھ ججز کیخلاف ایک پراکسی شروع ہوئی ہے اور ہم بھی اسی کیساتھ چل رہے ہیں، ایسے محسوس کروانا کہ یہ ادارہ کسی اور ادارے سے برتر ہے، محسن اختر کیانی، بابر ستار اور اطہر امن للہ کو نشانہ بنایا گیا، محسن اختر کیانی لاپتہ افراد کا معاملہ اٹھا رہے، ہم میں سے کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ لاپتہ افراد کا مسئلہ اٹھائے، بابر ستار کا مسئلہ بھی آپ کو پتہ ہے کیا چیز چل رہی ہے، اس طرح سے ججز کے ساتھ نا کریں، اطہر من اللہ صاحب کا گناہ کیا ہے وہ بھی ہم جانتے ہیں۔

  • ہمارے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ

    ہمارے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے اگر انصاف ہوگا تو ہی نظام چلے گا ، یہ بات ان کو بھی سمجھ آنی چاہیے ۔

    جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ریفارمز پبلک اداروں میں جلد نہیں آتی ،اداروں کو ٹھیک کرنے کا یہ صحیح وقت ہے ،ملک میں آزاد عدلیہ کا نظام چاہتے ہیں ،آئین کہتا ہے کہ عدلیہ آزاد ہونی چاہیے،عدلیہ میں ریفارمز کے حوالے سے گذارشات کروں گا ،ادارے کو چلانے کیلئےانفرادی سوچ کو بھلانا ہو گا،اگر یہ کر گئے تو مضبوط عدلیہ ہو گی،کسی سیشن جج سے پوچھوں تو وہ کیس کے بارے میں نہیں بتا سکتے ،میں عدلیہ کی تاریخ سے بہت خوش نہیں ہوں ،ہمیں اسمارٹ ٹیکنالوجی کو ڈسٹرکٹ لیول تک لے کر جانا ہے ،پاکستان میں 24لاکھ کیس زیر التوا ہیں ،ججزکو مخصوص کیسز لگانے کا نظام نہیں ہونا چاہیے ،میرٹ پر کیسز ریفر کیے جا ئیں گے ،پریکٹس اینڈ پروسیجر سے بہتری آئے گی ،موجودہ چیف جسٹس نے اپنی پاورز کو کٹ کر کے کمیٹی بنائی ،بینچ کی تشکیل اور کیسز ریفر کرنا ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہونی چاہیے،ہمارے سسٹم میں مافیا کام کر رہا ،ٹیکنالوجی سے اس کا خاتمہ ہوگا،20 لاکھ کیسز ڈسٹرکٹ جوڈیشل کے پاس التوا میں ہے ،تنازعات کو حل کرنے کے دنیا میں اور بہت سے طریقے ہیں ،
    دنیا میں ثالثی کا نظام ہے،138 اضلاع میں ثالثی نظام قائم کریں گے،

    جو جج پرفارم نہیں کررہا اُسے سسٹم سے باہر کریں، کرپشن اور نااہلی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ روز 4ہزار ججز کام کررہے ہیں کچھ فیصلے برے ہوسکتے ہیں، عدالتوں میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے عدالتی نظام میں مداخلت کا مطلب اپنے آپ کو کمزور کرنا ہے یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں جس کی سمجھ نہ آئے۔ اگر عدالتی نظام کمزور ہو گا تو آپ بھی کمزور ہوں گے ،اس معاملے پر زیادہ بات نہیں کرونگا کیونکہ ہم از خود نوٹس میں یہ معاملہ دیکھ رہے ہیں۔جو جج پرفارم نہیں کررہا اُسے سسٹم سے باہر کریں، کرپشن اور نااہلی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے،ایک چیف جسٹس آتے ہیں ایک طرف لے چلتے ہیں، دوسرے چیف جسٹس آتے ہیں دوسری طرف لے چلتے ہیں،برازیل میں سب سے بڑا بجٹ عدلیہ کا ہے اور آرمی کا دوسرا نمبر ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ کرکٹ میچ ہارنے پر سٹرائیک کردی جاتی ہے، لوگ اپنے بکریاں زیور فروخت کر کے آتے ہیں اور آگے سٹرائیک ہوتی ہے،اسٹے کلچر کا خاتمہ کرنا ہوگا،،پاکستان میں 1 ہزار افراد کے لیے 1 وکیل ہے۔

    عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جسٹس منصور علی شاہ نے اس شعر سے تقریر کا اختتام کیا،
    مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
    منصف ہو تو حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو مختص پروٹوکول واپس کردیا

    ہمیں ہندوکمیونٹی کی آپ سے زیادہ فکر ہے،چیف جسٹس کا رکن قومی اسمبلی رمیش کمار سے مکالمہ

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • ایرانی حملہ،پاکستان کی قانونی برادری مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے،سپریم کورٹ بار

    ایرانی حملہ،پاکستان کی قانونی برادری مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے،سپریم کورٹ بار

    سپریم کورٹ بار نے ایران کی جانب سے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے

    سپریم کورٹ بار کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار نے مسلح افواج کے جوابی ردعمل کو سراہا، سپریم کورٹ بارپاکستان کی قانونی برادری مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے، سپریم کورٹ بار نے سپریم کورٹ کے ججز اور عدلیہ کیخلاف منفی مہم پر تشویش کا اظہارکیا اور کہا کہ آزادی اظہار ہر ایک کا حق ہے، لیکن اس کی حدود ہونی چاہئیں، آزادی اظہار رائے کی آڑ میں عدلیہ کیخلاف مہم چلانا ناقابل قبول ہے،عدالتی فیصلوں کے بارے میں کھلی بحث کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے،عدالتی فیصلوں پر تنقیدی خیالات کی اجازت ہے،عدالتی فیصلوں کے بعد ججز اور انکے اہلخانہ کو نشانہ بنانا ناقابل برداشت ہے،

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

     سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کریں گے،

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    مجھے نہیں معلوم بشریٰ بی بی کہاں ہیں، میرا بشریٰ بی بی سے کوئی رابطہ نہیں

     (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا نشان بھی نہیں ہونا چاہیے ۔

    سریم کورٹ بار نے رائے کے ذمہ دارانہ اظہار کی ضرورت پر زوردیا، سپریم کورٹ بار نے منفی پراپیگنڈہ کرنے والوں کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کیا،سپریم کورٹ بار نے اسلام آباد کی کچہری میں وکلا پر پولیس فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی اور اعلیٰ پولیس حکام سے واقعہ کی انکوائری کا مطالبہ کیا.

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب