Baaghi TV

Tag: عدلیہ

  • خواجہ آصف  کم سن ملازمہ پر تشدد کرنے والی جج کی اہلیہ کو ضمانت ملنے پرنالاں

    خواجہ آصف کم سن ملازمہ پر تشدد کرنے والی جج کی اہلیہ کو ضمانت ملنے پرنالاں

    اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سول جج کی اہلیہ کے مبینہ تشدد سے شدید زخمی ہونے والی رضوانہ تشدد کیس کی مرکزی ملزمہ کو ضمانت ملنے کے عدالتی فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ نے کم سن ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں مرکزی ملزمہ اور سول جج کی اہلیہ سومیہ عاصم کی 1 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض 7 اگست تک عبوری ضمانت منظور کی تھی۔


    خواجہ آصف نے ٹویٹرپر عدلیہ پر تنقید کی اور بظاہر ان کا اشارہ رضوانہ تشدد کیس میں مرکزی ملزمہ کو ضمانت دیے جانے کے بارے میں تھا وفاقی وزیر نے ٹوئٹ میں لکھا کہ عدلیہ کے فیصلے ایسے حالات بنا رہے ہیں کہ بچی کے والدین ان حالات کے جبر سے مجبور ہو کر ظلم کے آگے ہتھیار ڈال دیں یہاں ہر ایک کی برادری ہے جو اپنے ظالم کی بھی پناہ گاہ بن جاتی ہے،غریب کی کوئی برادری نہیں جو اسے پناہ دے، ریاست بھی صاحب وسائل کی پناہ گاہ ہے۔

    فلم ”باربی“ کوپنجاب سینسر بورڈ کی جانب سے نمائش کی اجازت مل گئی

    واضح رہے کہ منگل کو رضوانہ تشدد کیس کی مرکزی ملزمہ نے ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد سے رجوع کیا عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ سومیہ نے کبھی رضوانہ کو تشدد کا نشانہ نہیں بنایا، عدالت ملزمہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرے درخواست گزار پڑھی لکھی ہیں اور سول جج کی اہلیہ ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ رضوانہ اپنے والدین کی مرضی سے ان کے یہاں کام کرتی تھی لیکن اس کے علاوہ ایف آئی آر میں جو کچھ درج ہے وہ جھوٹ ہے رضوانہ کی عمر 17 برس ہے اور سومیہ نے ہمیشہ اس کے ساتھ نرمی سے کام لیا اور رضوانہ سے اسی طرح کا برتاؤ کیا جو وہ اپنے 7 سے 12 برس کے تین بچوں کے ساتھ کرتی تھیں۔

    ترکیہ میں سویڈن کے اعزازی قونصل خانے پرفائرنگ،عملے کی خاتون شدید زخمی

    واضح رہے کہ سرگودھا سے تعلق رکھنے والی رضوانہ نو روز سے لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے گزشتہ روز رضوانہ کے علاج کیلئے بنائے گئے میڈیکل بورڈ کا اہم اجلاس ہوا۔ جس میں فیصلہ کیا گیا کہ رضوانہ کو خون لگایا جائے گا ، پینٹاگلوبیلنٹ نامی انجکشن بھی رضوانہ کو لگے گا۔

    میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر جودت سلیم کا کہنا تھا کہ رضوانہ کے جسم میں خون کی شرح 9 فیصد ہے، خون کی بوتل لگائی جائے گی رضوانہ کے کمر کے زخم میں پیپ بھر گئی تھی، جسے فوری صاف کر دیا ہے، رضوانہ کو خصوصی ہوا والے بیڈ پر لٹایا گیا ہے پینٹا گلو بیلنٹ والا انجکشن بھی شروع کیا جائے گارضوانہ کا وزن لگ بھگ 30 کلو کے قریب ہے، وزن کی مناسبت سے انجکشن کی خوراک لگائی جائے گی۔

    بلوچستان میں بارشوں کے باعث 332 مکانات تباہ،پنجاب میں 7 اگست تک بارشیں متوقع

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج الفرید ظفر نے بتایا کہ انجکشن 5 لاکھ مالیت کا ہے ، یہ سرکاری طور پر مفت لگائے جائیں گے، انجکشن سے جسم میں انفیکشن ختم ہونے میں مدد ملے گی نگراں وزیر صحت نے انجکشن لگانے کی ہدایت دی ہے، بچی کو وینٹی لیٹر کی فی الوقت ضرورت نہیں لیکن وینٹی لیٹر تیار رکھا گیا ہے۔

  • کوئی بدعنوانی کرتا ہے تو احتساب ہوگا اور بلا تفریق ہوگا ،عرفان قادر

    کوئی بدعنوانی کرتا ہے تو احتساب ہوگا اور بلا تفریق ہوگا ،عرفان قادر

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب عرفان قادر نے گورنر ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست دانوں کا احتساب سیاست دان نہیں بلکہ دوسرے ادارے کرتے ہیں سیاست دانوں کا احتساب نیب اور دیگر ادارے کرتے ہیں مگر ججز نے اپنا احتساب اپنے ہاتھوں میں رکھا ہوا ہے

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بدعنوانی کرتا ہے تو اسے احتساب کا سامنا کرنا ہوگا ،کوئی بدعنوانی کرتا ہے تو احتساب ہوگا اور بلا تفریق ہوگا ،ججز ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے بعد استعفیٰ دیتے ہیں اور پینشن لے کر گھر چلے جاتے ہیں احتساب کے متعلق پاکستان کے آئین میں کوئی ابہام نہیں ہے ججز ریٹائرڈ بھی ہو جائیں تب بھی ان کے خلاف کوئی کیس نہیں چل سکتا پروسیڈنگ ہوتی ہے تو فرق نہیں پڑتا کوئی حاضر سروس ہو یا ریٹائرڈ ہو،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج محسن کیانی کے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں ۔ان کے سفری اخراجات دیکھ کر پوری کہانی سامنے آ جاتی ہے ۔خود احتسابی تقاضہ کرتی ہے کہ چیف جسٹس فوری سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلا کر اس سنگین معاملہ کو دیکھیں ۔

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سالوں میں ہم نے دیکھا تھا سپریم کورٹ متحرک ہوتی ہے اور ڈائریکشن دی جاتی تھی کہ کیسز کو چلایا جائے کچھ معاملات میں جج صاحبان نے احتساب اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے آج کے پاکستان میں عدلیہ کے فیصلوں پر میرے تحفظات ہیں ججز کے مس کنڈکٹ پر سپریم جوڈیشل کونسل بنائی گئی ہے اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی,ثاقب نثار کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں آیا تو کہا گیا جب جج ریٹائرڈ ہوتا ہے تو اسکو نہیں بلا سکتے آئین میں لکھا ہے کہ اگر کوئی جج مس کنڈکٹ میں ملوث ہو تو اسکو ہٹایا جاسکتا ہے ججز بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں ہم مستعفی ہوجاتے ہیں بڑی عجیب سی بات ہے آپ مس کنڈکٹ کریں اسکے بعد سارے آلاونسز وغیرہ بھی لیتے رہیں اگر عدلیہ نے اپنا احتساب خود ہی کرنا ہے تو پھر قانون اور آئین کے مطابق کریں

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    تحریک لبیک کا مہنگائی مارچ ،مبشر لقمان نے بھی حمایت کر دی

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

  • عدلیہ انصاف نہیں سیاست کررہی ہے،وقت آگیا ہے پارلیمنٹ  اپنا رول منوائے،خواجہ آصف

    عدلیہ انصاف نہیں سیاست کررہی ہے،وقت آگیا ہے پارلیمنٹ اپنا رول منوائے،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی صورتحال سب کے سامنے ہے،عدلیہ انصاف نہیں سیاست کررہی ہے۔

    باغی ٹی وی : پارلیمنٹ کی حدود محفوظ کرنے کے لیے اداروں کو پیغام دیناچاہیے،ایک شخص کو تمام ترمراعات سے نوازا جارہاہےآئین او رقانون کی سربلندی کے لیے ایوان بحث کرے،اس ادارے کی آئینی حیثیت کوچیلنج کیاجارہا ہےعدلیہ میں ایک گروہ نے سیاست کرنے کا بیڑہ اٹھالیا ہے، یہ گروہ عدل نہیں سیاست کر رہا ہے، ان کے فیصلے سیاست کے تحت ہوتے ہیں-

    پارلیمنٹ کا چیف جسٹس پاکستان کے خلاف ریفرنس لانے کا فیصلہ

    خواجہ آصف نے کہا کہ صاف ظاہر ہے کہ 4 تین کا فیصلہ آیا،اس کی خلاف ورزی ہوئی اقلیتی فیصلے کو فرد واحد نافذ کر رہا ہے، اور عمران خان کو ریلیف دے رہا ہے وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ اپنے آئینی اختیارات استعمال کرے، سپریم جوڈیشل کونسل کو مس کنڈکٹ پر ریفرنس بھیجا جائے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ 2 تین والے ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کوپارلیمنٹ ریفرنس بھیجے آئین میں جو بھی کارروائی درج کی گئی اس پرعمل درآمد ہوناچاہیےوقت آگیاہےکہ پارلیمنٹ آئینی اختیارات کا استعال کرے ماضی میں ایسے واقعات ہوئے جس نے ہولناک اثرات چھوڑے،عدلیہ کی روایات اورآئینی حدود کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔

    لیگی رہنما نے کہا کہ ایک شخص کے مفادات کے تحفظ کیلئے آئین کو تبدیل کیا گیا پہلے کہا گیا کہ پارٹی سےانحراف پر ووٹ گنانہیں جائے گا، جب کہ پرویزالہیٰ کے انتخاب میں 10منحرف ارکان کا ووٹ گنا گیا، حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جج کو ڈی نوٹیفائی کیا، کیا ہم کسی جج کو ڈی نوٹیفائی کرسکتے ہیں۔

    سعودی عرب: حج سیزن کےدوران غیر ملکیوں کےمکہ مکرمہ جانےسے متعلق ہدایات جاری

    وزیر دفاع نے کہا کہ ایک شخص کیلئے ریلیف کی بھرمار ہے، اپنے رشتہ داروں کے کہنے پر فیصلے کئے جاتے ہیں آپ ایک ملزم کوکہہ رہے ہیں وش یو گڈ لک کہا گیا ،کہتے ہیں آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، کہا گیا کہ عمران خان کو فون کی سہولت دی جائے، جبکہ نواز شریف کو دم توڑتی اہلیہ سے بات نہیں کرنے دی گئی۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 75 سال میں انصاف اس طرح پامال نہیں ہوا تھا، عدلیہ کو دیئے گئے اختیارات سے تجاوز کیا گیا، ہماری عدالتوں میں 4 لاکھ مقدمات زیرالتوا ہیں، سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائرکرنےکیلئےکمیٹی بنائی، 4لاکھ زیرالتوا مقدمات کی بھی انکوائری کرائی جائےعدل کےعالمی انڈیکس میں ہم کہاں کھڑے ہیں، عالمی انڈیکس میں 11 درجے تنزلی ہوئی ہے۔

    یہ ممکن ہی نہیں کہ عمران خان اور ان کے سپوٹرز کو شرم آ جائے،عفت …

    انہوں نے کہا کہ گواہی ہے ایک لیفٹیننٹ کرنل جو رانا ثنا اللہ کا محلہ دار ہے ا ن کے کہنے پر یہ فیصلہ کرتے ہیں، خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یادگاروں کو مسمار اور کور کمانڈر کے گھر پر حملہ کیا گیا جی ایچ کیو پر طالبان کے بعد پی ٹی آئی نے حملہ کیا، کارگل کے شہید ہیرو کے مجسمے کی توہین کی گئی، شہدا ہمارے محسن ہیں، یہ قوم ان کی مرہون منت ہیں، جو قوم شہدا کو بھول جائیں وہ مٹ جاتی ہے ہمارے دشمن انڈیا نے چینلز پر تماشا لگایا ہوا ہے،وقت آگیا ہے پارلیمنٹ اپنا رول منوائے، آج ایوان اپنا تاریخی کردار ادا کرے۔

  • نظام انصاف سے لوگوں کا یقین اٹھ چکا ہے،شاہد خاقان

    نظام انصاف سے لوگوں کا یقین اٹھ چکا ہے،شاہد خاقان

    کراچی: سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نظام انصاف سے لوگوں کا یقین اٹھ چکا ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب کوختم کرکے عوام کی جان چھڑائیں بدنصیبی ہے کہ آج ہمارا ملک اس حالت کو پہنچ چکا ہےعمران خان پر60 ارب روپے کی کرپشن کا کیس ہےعوام کا انصاف کےنظام سے اعتباراٹھتا جا رہا ہے دین اور آئین کی بنیاد انصاف پر ہےعدالت عظمیٰ اپنی ساکھ بحال کرنے کیلئے اقدامات کرے ن لیگ نے ریمانڈ بھی بھگتے،جیلیں بھی کاٹیں ہیں۔

    عمران ریاض کوسیالکوٹ ائیر پورٹ سے گرفتار کرنے والا ایس ایچ او معطل

    لیگی رہنما نے کہا کہ کور کمانڈر کے گھر پر حملہ ہوا، کوئی سوموٹو نہیں لیا گیا سپریم کورٹ موجود حالات پر سوموٹو لیتی کہ کیا ہوا ہےعمران خان کو آج تحفظ سپریم کورٹ دے رہی جج کا کام نہیں ہےکہ کسی کو خوش آمدید کہے میں کسی پرعدم اعتماد کا اظہار نہیں کررہا ہوں جو فیصلہ وہ کریں گے سر آنکھوں پر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرنا غلط تھا ملک آج جس حال میں اس میں عدلیہ کا بھی کردار ہے آپ نے ایک سینئرسیاستدان کوعمر بھر کیلئے نااہل قرار دیا لگتا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ ملزمان کو ریلیف دینے کا بن گیا ہے اعلی عدالتیں ملزمان کو ریلیف دینے میں لگی ہوئی ہیں-

    پاکستان میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کا جائزہ لے رہے ہیں،آئی ایم ایف

    شاہد خاقان نے مزید کہا کہ عمران خان کا کیس بلکل واضح ہے سپریم کورٹ عمران خان کو تحفظ فراہم کررہی ہے عمران خان کو احاطہ عدالت سےگرفتارکرنا ٹھیک نہیں تھا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملزم کو رہا کردیا جائے سپریم کورٹ کوآسان حل بتاتا ہوں، نیب کوختم کردیں عمران خان میں ہمت ہےتومقدمات کا سامنا کریں-

  • ججزکولٹکانے اوردھرنےکی باتیں عدلیہ کےخلاف اعلان جنگ ہے،شیخ رشید

    ججزکولٹکانے اوردھرنےکی باتیں عدلیہ کےخلاف اعلان جنگ ہے،شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کے اجلاس میں پولیس کی عدم شرکت سول نافرمانی کی دلیل ہے۔

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پرحملہ کرنا ن لیگ کو وراثت میں ملا ہے، ججز کو لٹکانے اور دھرنے کی باتیں عدلیہ کے خلاف اعلان جنگ ہے اور رجسٹرار سپریم کورٹ کے اجلاس میں پولیس کی عدم شرکت سول نافرمانی کی دلیل ہے۔

    خفیہ مقدمات میں بھی گرفتاری کا خدشہ،عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر …

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عدلیہ نے انارکی اور خانہ جنگی سے بچایا ہے، کل سے فائنل راؤنڈ شروع ہے، 2 سے 4 ہفتوں میں فیصلہ ہو جائے گا، الیکشن ہوں گے، آگ اور خون کی سیاست ختم ہو کر رہے گی معاشی حالات مخدوش اور بحران سنگین ہے، 20 کلو آٹے کا تھیلا 3400 روپے کا ہو گیا ہے-

    انہوں نے کہا کہ کسی پارٹی کوبین کرنا آسان نہیں ہوگا فوج کے حساس اداروں کی عمارتوں پر حملے کی غیر جانبدارتحقیقات کرائی جائیں، فوج عظیم ہے، ن لیگ کی فرمائشی، نمائشی اور دکھاوے کی ریلیوں کی محتاج نہیں۔

    ترکیہ میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن نے آج سے جلسوں اور ریلیوں کا اعلان کیا ہے جب کہ سپریم کورٹ کے باہر احتجاج پیر کو ہوگا ن لیگ کے رہنما جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال پر آج سے جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد کریں گے، سپریم کورٹ کے باہر احتجاج غیر معینہ مدت کے لیے ہوگا یا نہیں؟ فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی، ریاست کی بقا کے لیے زبان کھولنا پڑے گی۔

    آسٹریلیا میں چینی طالبعلموں کی ’ورچوئل کڈنیپنگ‘ میں اضافہ

    انہوں نے کہا کہ دو دن میں جو کچھ ہوا وہ اچانک نہیں ہوا، اس کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب بل جلا کر سول نافرمانی کا اعلان کیا گیا تھا، اب کچے کا ڈاکو بھی 200 تخریب کار لاکر اپنی بات منوالیا کریں گے ۔

  • کہہ چکا ہوں مئی اہم ہے10مئی تک پتالگ جائے گا آرہوگا یا پارہوگا،شیخ رشید

    کہہ چکا ہوں مئی اہم ہے10مئی تک پتالگ جائے گا آرہوگا یا پارہوگا،شیخ رشید

    سابق وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ مذاکرات کا وقت بدلنا بھی ایک مزید دن ضائع کرنے کے مترادف ہے۔

    باغی ٹی وی : اپنی ٹویٹ میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حساس اداروں کواحساس ہےاب سیاست کانہیں ریاست کامسئلہ پیدا ہوگیا ہے موجودہ حکومت کی ہرشعبے میں نااہلی عیاں ہوچکی خاقان عباسی کا آ ٹے میں 20 ارب روپے غبن کے الزام کا وزیراعظم تحقیقات کا حکم دے، آئی ایم ایف سے جھنڈی ہے دوست ممالک ہاتھ نہیں پکڑا رہے فیصلہ ہونا چاہیے بکتر بند گاڑیاں کس کے حکم پر گھروں کے دروازےتوڑتیں ہیں-

    نیب کیسز دیکھ کر ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرتا،شاہد خاقان


    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوچکی ہےحکومت منظم سازش کےتحت عدلیہ کونشانہ بنارہی ہےعدلیہ جیتےگی آئین اورقانون جیتےگا الیکشن ہو کررہیں گےبلاول مغرب کی پالیسی اور حنا ربانی مشرق کی بات کر رہی ہیں ن لیگ مذاکرات پربھی انتشار کا شکار ہے آئی ایم ایف کی ساری شرائط غریب عوام پر لگ چکی ہیں نتیجہ صفر ہے-

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا


    انہوں نے کہا کہ مذاکرات کاوقت بدلنابھی ایک مزیددن ضائع کرنےکےمترادف ہےجب نیت خراب ہوتوبدنیتی کےفیصلےکیےجاتےہیں بھائی وزیراعظم ہوتونوازشریف کوآنےسےکون روک رہاہے ہنگامی بنیادوں پرمحکمہ اوقاف نے 4 تاریخ کولاہور میں لال حویلی کا کیس لگایا ہے پہلےہی کہہ چکاہوں مئی اہم ہے10مئی تک پتالگ جائےگا آرہوگا یا پارہوگا-

    جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس:پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

  • مفتی تقی عثمانی کا موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں سیاستدانوں اور دیگر اداروں کومشورہ

    مفتی تقی عثمانی کا موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں سیاستدانوں اور دیگر اداروں کومشورہ

    نامور عالم دین مفتی تقی عثمانی نے موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں سیاستدانوں اور دیگر اداروں کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنے کا مشورہ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ اگر کسی گھر کے لوگ آپس میں لڑ رہے ہوں اور گھر میں آگ لگ جائے توکیا اس وقت یہ بحث کی جائیگی کہ آگ کس نے لگائی یا واحد راستہ یہ ہوگا کہ سب ملکر آگ بجھائیں؟ موجودہ بحران کا حل صرف یہی ہے کہ تمام جماعتیں اور ادارے منافرت اور دشمنی کے بجائے سرجوڑکرملک کوبچائیں-


    انہوں نے مزید لکھا کہ قرآن کریم فرماتاہے کہ "تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں اس لئے اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراو اوراللہ سے ڈرو تاکہ تمھارےساتھ رحمت کامعاملہ کیا جائے ” عوام اور بااثرحضرات کافرض ہے کہ وہ اس قرآنی حکم پرعمل کرکے رھنماوں کو ساتھ بٹھانے کی بھرپور کوشش کریں-


    مفتی تقی نےکہا کہ فوج اور عدلیہ کو یقیناًسیاست میں دخل نہیں دینا چاہئیے لیکن ایسے سنگین حالات میں جماعتوں کو ساتھ بٹھا کر غیرجانب داری سے خالص ملک کے مفاد اور قومی سلامتی کے لئے مسئلے کاحل نکالنا انکا فرض بنتا ہے اللہ تعالی اسکی توفیق عطا فرمائے آمین-

  • گلیاں ہو جاون سُنجیاں — حسام درانی

    گلیاں ہو جاون سُنجیاں — حسام درانی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اتنے اتار چڑھاو ہیں کے سیاست کے طالبعلم سیاسیات میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی اس سوچ میں ہوتے ہیں کے کونسا سسٹم ملک عزیز میں چل رہا ہے، برصغیر میں ایک وقت میں جہاں گاندھی جیسا زیرک سیاست دان تھا تو دوسری جانب قائد اعظم سواسیر کی شکل میں سامنے تھے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا رہا انکے پیشرو اس قابل ہی نا تھے کے وہ گاندھی یا قائد کی وراثت کو آگے لے جاتے جسکا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

    خیر بات کرتے ہیں پاکستان کی تو حالیہ لاٹ میں موجود سیاست دانوں کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دیکھانے کے برابر ہے مطلب ” اللہ دے اور بندہ لے”

    پاکستان کی سیاست میں سب سے بڑا کردار ہمیشہ سے ہے عدلیہ کا رہا ہے، بطور سیاست کے طالبعلم کے احقر ہمیشہ عدلیہ کو ایک ایسے مقام پر دیکھتا رہا جس کے باے میں بات کرنا یا غلط سوچنا بقول لکھاری

    ” اس مقام پر فرشتوں کے پر جلتے ہیں”

    لیکن 1947 سے لے کر تا دم تحریر الحمداللہ عدلیہ نے ہمیشہ نظریہ ضرورت کو ہی پاکستان کی سیاست میں رائج کیا، اور ہمیشہ وقت کے بادشاہ کا ساتھ دیا جیسے ایک وقت میں یورپ چرچ کے طابع تھا ویسے ہی مقننہ ہمیشہ سے ہی عدلیہ کے طابع رہی بلکہ حالیہ دنوں میں تو کسی بھی قسم کی قانون سازی کی سہولت بھی مقننہ سے لے کر عدلیہ نے اپنے پاس رکھ لی اور دے پر دے فیصلوں کے بعد یہ کہتے نظر آئے کے اگر ہمارا کوئی فیصلہ غلط تھا تو اسکو درست کرنے کا ہمیں پورا اختیار حاصل ہے، خیر” دروخ با گردن راوی” سانوں کی تے تینوں کی۔۔۔

    ویسے آجکل جو حالات ہم دیکھ رہے ہیں وہ بطور صحافی یا ٹی وی پروگرام پروڈیوسر گزشتہ 9 سال سے دیکھ رہے ہیں، اگر سہوا کچھ قلم سے الفاظ تحریر بھی ہو جائیں تو ڈر لگ جاتا ہے کے کہیں تو ہین عدالت کے مرتکب نا ہو جائیں، کہیں کسی ادارے کا فون نا آ جائے کہیں ہتک سیاسی کے ذمرے میں نا آ جائیں اور اگر ان تما م سے بچ جائیں تو توہین مذہب اور توہین ریاست کی انتہائی گہری اور لمبی چوڑی کھائی سامنے نظر آ رہی ہوتی ہے۔۔

    میرا یار بوٹی اکثر مجھے کہا کرتا ہے کے اگر تم چاہتے ہو کے لوگ تمہاری بات سنیں تو کچھ نا بولو، چاہتے ہو کے لوگ تمہارے کہے پر عمل کریں تو کچھ نا لکھو، پہلے تو اس بات کی سمجھ نہیں آتی تھی لیکن اب آہستہ آہستہ بات کی سمجھ آ تی جا رہی ہے، لیکن میرا یار خاص ایجنٹ ایکس ہمیشہ ایک ہی بات کرتا ہے کے انسان جب تک زندہ ہے اسکو کھرک رہتی ہے ۔۔۔۔ آگے آپ سب سمجھ دار ہیں
    بات تو کہیں کی کہیں نکل گئی ، قصہ مختصر یہ کے ” گھسن نیڑے یا رب نیڑے” ویسے تو اس وقت ملک میں عدلیہ ہی سب سے ہاٹ فیورٹ ہے یار لوگ اسکی کے فیصلوں پر لڈیاں ڈالتے ہیں اور ساجا، ماجا گاما اپنا ساڑ نکالتے ہیں، لیکن جو بھی ہے ہر دو فریق جو کبھی فاعل، یا مفعول کی حالت میں رہتے ہیں کچھ دنوں کے بعد اپنا بابا اوپر رکھنے کے لئے تکڑی والے بابا کے پاس پہنچ جاتے ہیں اب تکڑی والے بابا کی مرضی وہ جسکی روٹی میں سے حصہ نکال کر خود کھا لے یا دوسرے پلڑے میں رکھ دے، اس معاملے میں کبھی میرا یار بوٹی خوش ہوتا ہے یا پھر میرا یار ایجنٹ ایکس نہال، لیکن ہر دوصورت میں ہمارے پاس بیچنے کے لئے منجن وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

    لیکن اگر بات حق و سچ کی ہو تو میرا ہیرو تمہارا ولن ، مطلب جو چیز میرے حق میں ہو وہ ہی سچ ہے اور باقی سب جھوٹ، اب اگر حالیہ حالات کو دیکھا جائے تو تمامتر ملکی سیاسی جماعتیں ، تمامتر ہائیکورٹس و سپریم کورٹس کی بار کونسلز ، اور 12 ججز ایک جانب لیکن ہم خیال تکڑی والے بابے سمیت ایک سیاسی پارٹی ایک جانب۔

    2018 کے اوائل میں بھی حالات ایسے ہی تھے جب اس وقت کے بابے نے چن چن کر تمامتر ممکنہ رکاوٹوں کو یا تو جیل کی ہوا کھلائی یا انکو اس قابل ہی نا چھوڑا کے وہ کسی ایک مطلب ایک کے مقابلے میں نا آ سکیں ، وہ سابقہ بابا جی اپنے ہر فیصلہ کے بعد کسی کوفیض یاب کرنے کے بعد کہا کرتے تھے کے انکے فیصلے تاریخ کا حصہ بنتے ہیں اور جب کوئی ناہنجار انکے سامنے انکے ہی کسی پرانے فیصلہ کا حوالہ دیا کرتا تھا تو اسکی کھنچائی کر دی جاتی تھی کے تم ہوتے کون ہو میرے سابقہ فیصلے کو میرے سانے دہرانے والے اس وقت اس فیصلہ کی ضرورت تھی اب نہیں

    ایک وہ وقت تھا اور اب ایک یہ وقت ہے جب قاضی القضاء اس بات کو خود ہی دہرانے پر مجبور ہو گئے ہیں کے وہ نہایت پرہیزگار، عبادت گزار و متقی ہیں وہ جو بھی فیصلہ کریں وہ وقت کی ضرورت ہے ابھی حالیہ دنوں میں جب انکو کہا گیا کے جناب اپکا سابقہ فیصلہ یہ تھا تو انہوں نے فرمایا بے شک وہ فیصلہ غلط تھا لیکن وہ اس وقت ضروری تھا اور اب جو فیصلہ دے رہا ہوں وہ اس وقت کی ضروت ہے۔۔۔
    بقول میرے منشی کے ” بگے نک آلے کتورے دی جوٹھ حلال اے”

    اور تکڑی والے بابا جی کے حالیہ معرکتہ آلارا فیصلہ کے بعد سامنے آئی۔۔۔

    اب بابا جی نے بنواس لے لیا ہے اور سوہنا ہر سو یہ گاتا پھر رہا ہے ۔۔

    گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے

  • اقوام متحدہ ایران کے معاملے میں جانبداری دکھا رہا ہے:ایرانی عدلیہ کا اظہارناراضگی

    اقوام متحدہ ایران کے معاملے میں جانبداری دکھا رہا ہے:ایرانی عدلیہ کا اظہارناراضگی

    تہران :ایران کی عدلیہ میں انسانی حقوق کمیٹی نے ایک ایرانی شہری کے سلسلے میں سویڈن کی عدالت کے فیصلے کی حمایت کرنے پر ایران کے امور میں اقوام متحدہ کے ہیومن راٹس رپورٹر کی حمایت پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

    حمید نوری ایک ایرانی شہری ہیں جو دوہزار انیس میں اپنے گھریلو مسائل کے حل کے سلسلے میں سویڈن گئے تھے جہاں پہنچتے ہی انہیں سویڈن کے سکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تھا اور اب وہ تقریبا بتیس مہینوں سے جیل میں قید ہیں۔

    نوری پر سویڈن میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ چونتیس سال قبل ایران میں انجام دئے گئے بعض اقدامات میں دخیل تھے اور الزام عائد کرنے والوں کا تعلق ایران مخالف دہشتگرد تنظیم مجاہدین خلق یا ایم کے او سے ہے۔ سویڈن کی ایک عدالت سترہ ہزار بے گناہ ایرانی شہریوں کا قتل کرنے والے دہشتگرد گروہ ایم کے او کے عناصر کی شکایت پر حمید نوری پر مقدمہ دائر کیا اور اس کیس پر سماعت کے بعد انہیں جمعرات کے روز عمر قید کی سزا سنا دی۔

    سویڈن کی عدالت کے اس فیصلے سے اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس رپورٹر جاوید رحمان نے بھی اپنی حمایت کا اعلان کیا جس پر ایرانی عدلیہ کے ہیومن راٹس کمیشن نے سخت برہمی ظاہر کی ہے۔

    ایران کی عدلیہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے ایک ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جاوید رحمان بجائے اس کے کہ سویڈن میں ایک شخص کے خودسرانہ طور پر گرفتار کئے جانے اور پھر مسلسل اسکے بنیادی حقوق کی پامالی پر اعتراض اور سویڈن کے حکام کو جوابدہ بناتے، وہ انکی حمایت پر اتر آئے ہیں۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ جاوید رحمان کے بیان سے یہ ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ وہ ایران کے سلسلے میں اپنی پوزیشن سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں جسے برطانیہ کی بھی حمایت حاصل ہے اور وہ بنیادہ انسانی حقوق کی پامالی کی قیمت پر ایران مخالف عناصر کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔