Baaghi TV

Tag: عدلیہ

  • ملک بنانا ریپبلک بن چکا،مجال ہےعدلیہ سمیت کسی ادارے نے نوٹس  لیا ہو،مصطفیٰ کمال

    ملک بنانا ریپبلک بن چکا،مجال ہےعدلیہ سمیت کسی ادارے نے نوٹس لیا ہو،مصطفیٰ کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ عام آدمی کی حالت زار پر حکومت، اپوزیشن، کسی سیاسی جماعت، عدلیہ اور ادارے کا دھیان نہیں۔ سب کو صرف اپنی ذات کی پڑی ہوئی ہے۔ غریب پورا دن مزدوری کرکہ شام کو گھر واپس لوٹے تو 16 گھنٹے بجلی نہیں، صبح پانی نہیں، بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے پیسے نہیں ، بیمار ہوجائے تو ہسپتال تک جانے کے پیسے اسکے پاس نہیں لیکن اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، سب حکومت سنبھالنے اور گرانے میں لگے ہوئے ہیں۔

    کراچی ڈسٹرکٹ ایسٹ سے پی ایس پی کے بلدیاتی امیدواران سے خطاب کرتے ہوئےمصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ملک چلانے والوں کی بے حسی اور خود غرضی نے غریب طبقے کو خودکشیوں پر مجبور کردیا ہے۔ سنا تھا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے لیکن صد افسوس کہ پاکستان میں اس وقت ریاست نام کی چیز نہیں ہے۔ جنگل کا قانون رائج ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس، اس کا بدترین عملی نمونہ حالیہ بلدیاتی انتخابات اور این اے 240 کا ضمنی انتخاب ہیں جہاں ایک جانب حکومت، انتظامیہ، الیکشن کمیشن، پولیس اور ڈاکو مل کر پیپلز پارٹی کو جتانے کے لیے سرگرم تھے، ڈاکو بیلٹ باکس لے کر فرار ہو گئے، پولیس پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان پر ٹھپے لگاتی رہے وہیں این اے 240 کے ضمنی انتخاب میں بدترین دھاندلی کی گئی.

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک بنانا ریپبلک بن چکا لیکن مجال ہے کہ عدلیہ سمیت کسی ادارے نے نوٹس تک لیا ہو۔ پہلے عمران خان کی حکومت چلانے کے لیے پیپلزپارٹی کو کھلی چھوٹ دے دی گئی تھی اب شہباز شریف کی حکومت چلانے کے لیے پیپلزپارٹی کو سندھ میں کلین چٹ تھما دی گئی ہے۔ عام آدمی نااہل اور کرپٹ حکومتوں سے تو پہلے ہی مایوس تھا لیکن اب ریاست سے مایوس ہو رہا ہے، یہ تو الله کا شکر ہے کہ پاکستانی قوم محب وطن ہے بصورت دیگر حالات قابو سے باہر ہوتے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اپنا مئیر لانے کی خواہشمند تمام سیاسی جماعتیں پچھلے کئی سالوں سے بلدیاتی نظام حکومت میں موجود ہیں، انکے چئیر میینز، وائس چئیر مینز، کونسلرز موجود ہیں لیکن کراچی اور حیدرآباد کے حالات بدترین ہوگئے۔ یہ تمام سیاسی جماعتیں فیل ہوچکی ہیں کیونکہ نعرے مارنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اہلیان کراچی و حیدرآباد کو سمجھنا ہوگا کہ اگر مسائل حل کرنے کا کسی کے پاس تجربہ، اہلیت اور کردار ہے تو وہ صرف ہمارے پاس ہے، ہم ہی کراچی کو ٹھیک کرسکتے ہیں.

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک چلانے والے پاکستان کی معاشی شہ رگ پہ رحم کریں اور مزید تجربات سے گریز کریں۔ پاک سرزمین پارٹی کے نمائندوں کو کامیاب بنائیں، قوم لسانیت اور فرقہ پرستی سے باہر نکلے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے ایڈمنسٹریٹر کے باوجود کراچی کو رہنے کے لائق دنیا کے 7 بدترین شہروں سے 5 بدترین شہروں میں شامل کرا دیا ہے۔ انتخابات قریب آتے ہی ہر جماعت کو کراچی یاد آ جاتا ہے۔ کراچی والوں کو اب ان نعروں سے بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔

  • درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    لاہور ہائیکورٹ، لانگ مارچ کے دوران موبائل سگنلز کی بندش، گرفتاریوں پیٹرول کی ممکنہ عدم فراہمی کیخلاف مزید درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب سمیت دیگر سے کل جواب طلب کر لیا لاہور ہائیکورٹ نے پولیس اور انتظامیہ کو غیر قانونی چھاپوں سے روک دیا،عدالت نے حکم دیا کہ رات کی تاریکی میں چھاپے نہ مارے جائیں ۔کسی کو غیر قانونی طور پر ہراساں نہ کیا جاہے ۔

    جسٹس چودھری عبدالعزیز نے انصاف لائرز فورم سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی درخواستگزاروں کی طرف سے اظہر صدیق، انیس ہاشمی ایڈووکیٹس پیش ہوئے، عدالت نے کہا کہ ہم تو شروع سے یہ دیکھ رہے ہیں، کبھی ن لیگ، کبھی پیپلز پارٹی کبھی ٹی ایل پی والے تو کبھی باقی سیاسی پارٹیاں اسلام آباد پر چڑھائی کر دیتی ہیں،میں نہ ٹی وی دیکھتا ہوں نہ مجھے پتا ہے کیا ہو رہا ہے،دوسرے فریق کو سننے کے بعد ہی سارا معاملہ واضح ہوگا،آج ایک اور درخواست پر حکومت سے کل جواب طلب کیا ہے یہ درخواستیں بھی کل سنیں گے،وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ کتنے لوگ نظر بند ہیں انکی لسٹ بھی منگوا لیں، جسٹس چوہدری عبدالعزیزنے کہا کہ حکومت کو کل کیلئے نوٹس ہیں آئی جی سمیت دیگر سے بھی جواب طلب کر رکھا ہے، جب ایک درخواست آ چکی ہے تو باقیوں کی ضرورت نہیں ہے،یہ درخواستیں دائر کر کے آپ بھی اپنا غصہ ہی نکال رہے ہیں،

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ 25 مئی کو تحریک انصاف حقیقی آزادی مارچ کرنے جا رہی ہے،حکومت کی جانب سے لانگ مارچ کے شرکاء کو روکنے کیلئے غیرقانونی اقدامات کئے جا رہے ہیں، مسلم لیگ ن کی جانب سے لوگوں ہے بنیادی حقوق کو صلب کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، پی ٹی آئی کے غیرقانونی طور پر گرفتار اور نظر بن کارکنان کو آزاد کرنے کا حکم دیا جائے،لاہور سے لانگ مارچ کے راستے میں کھڑی کی گئی تمام رکاوٹوں کو ہٹانے کا حکم دیا جائے، موبائل سگلنز اور انٹرنیٹ کی بندش سے روکا جائے،مارچ کے راستوں کر بند کرنے کیلئے کنٹینرز کا استعمال روکنے کا حکم دیا جائے،لانگ مارچ کے راستوں میں پیٹرول، ڈیزل کی دستیابی کو یقینی بنانے کا حکم دیا جائے،لانگ مارچ کے شرکاء کیخلاف طاقت کا استعمال کرنے سے روکا جائے، لانگ مارچ کے شرکاء کو تحفظ دینے کیلئے رینجرز اور پولیس کو تعینات کیا جائے، لانگ مارچ کے شرکاء کیخلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکا جائے، درخواست کے حتمی فیصلے تک پی ٹی آئی کے کارکنوں کی نظر بندیاں اور گرفتاریاں معطل کی جائیں،

    پرامن احتجاج اور مارچ ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، شاہ محمود قریشی

    ملتان میں پولیس کریک ڈاون ،پی ٹی آئی کے 70 سے زائد کارکنان گرفتار

    پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے گھروں پرچھاپے،عمران خان کا ردعمل

    ماڈٌل ٹاؤن میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ کے گھر چھاپہ،دوران فائرنگ پولیس اہلکار شہید

    ’خونی مارچ ہوگا‘ کے اعلانانات کرنے والوں سے حساب لیں گے،وزیر داخلہ

    لال حویلی، پولیس چھاپے کے دوران رکن اسمبلی گرفتاری سے بچنے کیلئے پچھلے گیٹ سے فرار

    لانگ مارچ،متحرک کارکنان کی فہرستیں تھانوں کو مل گئیں

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

  • اداروں کیخلاف تنقید، سمیع ابراہیم پر مقدمہ درج

    اداروں کیخلاف تنقید، سمیع ابراہیم پر مقدمہ درج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اداروں کے خلاف تنقید، سمیع ابراہیم پر مقدمہ درج کر لیا گیا

    سمیع ابراہیم پر مقدمہ پنجاب کے ضلع اٹک میں درج کیا گیا ہے، تھانہ صدر میں درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ سمیع ابراہیم نے یوٹیوب پر اپنے وی لاگ میں قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف پراپیگنڈا کیا اور کہا کہ عمران خان کی حکومت کو سازش کے تحت ہٹایا گیا ۔ عمران خان حکومت کا خاتمہ آئینی اور قانونی طریقے سے ختم ہوئی لیکن ملزم نے ریاست پاکستان کے حساس ادارے اور انصاف کے ادارے کے خلاف تحریک چلائی اور اداروں کا تشخص مجروح کیا درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ سمیع ابراہیم فوج اور عدلیہ میں تقسیم اور بحران کی کیفیت پیدا کرنا چاہتا ہے، سمیع ابراہیم نے اپنے یوٹیوب پر پاک فوج ،عدلیہ کے خلاف نازیبا پروپیگنڈہ کیا اور جذبات مجروح کئے، ایف آئی آر میں سمیع ابراہیم ولد نامعلوم لکھا گیا ہے، مدعی کا نام اختر جاوید ہے اور اٹک کا رہائشی ہے

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ سمیع ابراہیم نے ریاست پاکستان کے حساس ادارے اور انصاف کے ادارے کے خلاف پروپیگنڈہ کیا، تحریک چلائی، ملزم کے اس کام سے ریاست، قوم،اداروں کے تشخص، امن و سلامتی کو مجروح کیا، ملزم کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے

    دوسری جانب اینکر سمیع ابراہیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ تھانہ اٹک میں اینکر پرسن سمیع ابرہیم کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ سمیع ابرہیم کو گرفتار کرنے کے لئے حکومت کی تیاری مکمل۔

    میری اپنی جان بھی اپنے ملک کے لئے حاضر ہے، لیفٹیننٹ ناصر حُسین خالد شہید کی والدہ

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

    شہادت سے سات ماہ پہلے بیٹے کی شاد ی کی تھی،والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید

    عمر کی طرح میری بھی جان اس مُلک کے لئے حاضر ہے۔کیپٹن عمر شہید کی بیوہ کے تاثرات

  • اپوزیشن کی نئی چال:سپریم کورٹ پردباو  بڑھانےکیلیے100 سےزائدخط لکھوا دیے

    اپوزیشن کی نئی چال:سپریم کورٹ پردباو بڑھانےکیلیے100 سےزائدخط لکھوا دیے

    اسلام آباد :اپوزیشن کی نئی چال:سپریم کورٹ پردباوبڑھانےکیلیے100 سےزائد شخصیات سےخط لکھوا دیے ،اطلاعات کے مطابق 100 سے زائد ممتاز شخصیات نے چیف جسٹس کے نام خط لکھ کر ’نظریہ ضرورت‘ دفن کرنے کا مطالبہ کیا ہے

    پاکستان کی 100 سے زائد ممتاز شخصیات نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کے نام کھلا خط لکھ کر ‘نظریہ ضرورت’ دفن کرنے کا مطالبہ کردیا ۔

    100 سے زائد ممتاز ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے چیف جسٹس پاکستان کے نام کھلے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی قاسم سوری کے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کی قانونی حیثیت کے معاملےمیں آئین اورقانون پر سمجھوتہ نہ کیاجائے ۔

    خط کے مصنفین نےگزشتہ حکومت کے مجوزہ فیصلوں کو قوم کی فلاح وبہبود اور یگانگت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فیصلوں کے غیرقانونی پائے جانے کی صورت میں ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے فیصلوں کا سدباب کیا جا سکے۔

    خط میں ایک جوڈیشنل کمیشن کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ سابقہ حکومت کے خلاف بیرونی سازش کے الزامات کے بارے میں ثبوت و شواہد کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔

    اس کے عللاوہ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ غیرثابت شدہ الزامات کو بہانہ بنا کر پارلیمانی عمل کو معطل اور اراکین پارلیمنٹ کے حق رائے شماری کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔

    خط میں مزید کہا گیا ہےکہ سپریم کورٹ آج آئین کے تقدس کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گا وہ ہماری قومی زندگی اور مستقبل کے حوالے سے دور رس اثرات مرتب کرےگا اور ہماری آئندہ نسل کی عزت و آبروہ اور خوشحالی کا دارومدار صرف آئین کی بالادستی اور ایسی سیاست کے فروغ میں ہے جس میں باہمی احترام اور شائستگی کے اجزا شامل ہوں۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اتوار کے روز تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونی تھی تاہم ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک کو آئین کے خلاف قرار دے کر مسترد کردیا۔

    قرارداد مسترد ہونے کے بعد عمران خان نے قوم سے خطاب میں صدر پاکستان کو اسمبلی تحلیل کرنے کا کہا جس کے بعد صدر عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کردی۔

    ادھر ذمہ دار ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ خط لکھوائے گئے ہیں اور ان خطوط کے پیچھے اپوزیشن کی جماعتیں ہیں جو سپریم کورٹ پردباو بڑھا کرڈپٹی اسپیکر کی ولنگ کو ختم کرانا چاہتی ہیں

  • جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس:استثنیٰ:اٹھنےوالےسوالات:     جوابات کون دےگا:عدلیہ اداوں پرغورکرے:فوادچوہدری

    جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس:استثنیٰ:اٹھنےوالےسوالات: جوابات کون دےگا:عدلیہ اداوں پرغورکرے:فوادچوہدری

    اسلام آباد:فروغ نسیم نےسچ فرمایا:لوگ بھی کہہ رہے ہیں کہ”مجھّاں مجھّاں دیاں بہناں ہوندیاں نیں”:عدلیہ خوداپنےوقار کی ذمہ دار:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے متعلق ساتھی ججز کے فیصلے پرمحتاط مگرقابل غور عرض کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرقانون ڈاکٹرفروغ نسیم نے سچ فرمایا کہ اگر جج جوابدہ نہیں تو میں اور وزیراعظم خاندان کے اثاثوں سے متعلق کیوں جوابدہ ہوں

    وفاقی وزیرفواد چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ اگریہی اندازعدل رہا تو پھرعدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچ سکتا ہے ، غریب اور عام شہری سوال کررہے ہیں کہ اگرججز خلائی مخلوق ہیں اور وہ قانون کے سامنے جوابدہ نہیں تو پھرسیاستدان، بیوروکریٹس اور دیگر سرکاری اور غیرسرکاری ملازمین پر کیوں عدل کی تلوار لٹکائی جارہی ہے

    فواد چوہدری نے کہا کہ میں محسوس کررہا ہوں کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو استثنائی اعزاز ملنے کے خلاف ایک ردعمل پیدا ہورہاہے جوآگے بڑھ کر انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے ، عدلیہ کا وقار مجروح ہوسکتا ہے ، لوگوں کاعدلیہ سے اعتماد اٹھ سکتا ہے اور یہ چیزیں عدالتی نظام کی بقا اور اس کے استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ہیں

    فواد چوہدری نے کہا کہ میں تو یہ مشورہ ہی دے سکتا ہوں کہ عدلیہ کو عالمی رینکنگ میں اپنی تیزی سےگرتی ساکھ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے

    اپنے بیان میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیر قانون فروغ نسیم کا سوال اہم ہے، اگر جج صاحبان بیوی بچوں کے اثاثوں کے ذمہ دار نہیں تو سیاستدانوں، بیوروکریٹس کا احتساب کیسے ممکن ہے؟فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو عالمی رینکنگ میں اپنی تیزی سےگرتی ساکھ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر قانون فروغ نسیم نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ جب جج جوابدہ نہیں تو میں اور وزیراعظم اپنے خاندان کے اثاثوں سے متعلق کیوں جوابدہ ہوں۔

    وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ فل بینچ کا فیصلہ غلط اور تضادات کا حامل قرار دے دیا۔

    ایک نجی ٹی وی میں‌ گفتگو کرتے ہوئے فروغ نسیم کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ نے بڑے پن کا مظاہرہ کیا، ہم جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےمخالف نہیں، ہمارے پاس ایک معلومات آئی وہ ہم نے آگے بڑھائی۔

    ان کا کہنا تھاکہ کیا مسزسریناعیسیٰ نے یہ وضاحت دی کہ پیسے کہاں سے آئے؟ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہےکہ میرا تعلق امیرخاندان سے ہے، ایف بی آرنےاپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مسزسرینا عیسیٰ اپنے ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہیں۔

    سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے فروغ نسیم کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ درست نہیں ہے، ہمارے پاس قانونی آپشنز موجود ہیں، معزز ججز کے اختیارات سب سے زیادہ اورذمہ داری بھی سب سے زیادہ ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ میں آج وزیرقانون نہیں بلکہ آزاد شہری اوربطوروکیل بات کررہا ہوں، میرا جسٹس فائزعیسیٰ سے کوئی ذاتی معاملہ نہیں ہے۔

    وزیرقانون کا کہنا تھاکہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی طرح دیگرسرکاری افسران بھی پبلک آفس ہولڈرز ہیں، کیا اب ڈسٹرکٹ ججز اورانتظامی افسران بھی اہل خانہ کے معاملات سے آزاد ہونگے؟ اگرایسا ہے توپھرمیں بھی کیوں اپنے اہل خانہ کے اثاثے ظاہرکروں؟

    ان کا کہنا تھاکہ اگر سپریم کورٹ کا جج اپنے اہل خانہ کے اثاثوں کا جواب دہ نہیں تو کیا یہ معیار دیگر سرکاری ملازمین کیلئے بھی ہوگا؟ اگر جج جواب دہ نہیں تو مثلاً میں اور وزیراعظم اپنے خاندان کے اثاثوں سے متعلق کیوں جواب دہ ہوں؟

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

    سپریم کورٹ نے کیس کا مختصر فیصلہ 26 اپریل 2021 کو سنایا تھا اور عدالت نے 9 ماہ 2 دن بعد نظر ثانی درخواستوں کا تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اضافی نوٹ تحریر کیا ہے جب کہ فیصلہ 45 صفحات پر مشتمل ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی اور اہلخانہ کا ٹیکس ریکارڈ غیر قانونی طریقے سے اکٹھا کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے اور اگرفرض کرلیا جائے تو کیا تحقیقات کرنے والوں کے اس عمل سے جسٹس فائز عیسی اور ان کی اہلیہ کے غیرقانونی اثاثوں کا کفارہ ادا ہوجائے گا ، عدلیہ کو فیصلہ دیتے وقت معاشرے ، ملک اور نسلوں کا سوچنا چاہیے تھا نہ کہ اہنے ایک ساتھی کو ریلیف دینے کی کوشش کرنی چاہیے تھی

  • بھارتی عدالتی نظام بھارتی فوج کےزیراثر:تحریک آزادی کشمیراورپاکستان کے‌خلاف مشترکہ حکمت عملی ہے

    بھارتی عدالتی نظام بھارتی فوج کےزیراثر:تحریک آزادی کشمیراورپاکستان کے‌خلاف مشترکہ حکمت عملی ہے

    سرینگر:بھارتی عدالتی نظام بھارتی فوج کےزیراثر:تحریک آزادی کشمیراورپاکستان کے‌خلاف مشترکہ حکمت عملی ہے:حریت کانفرنس نے انکشاف کردیا ،بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ قابض بھارتی فورسز نے کالے قوانین کی آڑ میں علاقے میں سول انتظامیہ اور عدالتی اداروں کا مکمل کنٹرول حاصل کر رکھا ہے جس کے تحت لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بغیر کسی جرم کے قتل کیا جاتا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور تسلیم شدہ حق خودارادیت کا جائز مطالبہ اٹھانے کی وجہ سے کشمیری سیاسی قیدیوں کے ساتھ روا رکھے گئے غیر انسانی رویے کی مذمت کی۔ ترجمان نے بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف جاری مزاحمتی تحریک کو خالصتاً ایک سیاسی اور مقامی تحریک قرار دیتے ہوئے کہ بھارتی سامراجی نظام حکمرانی عوام کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے پیش آرہا ہے اور فوج اور پیرا ملٹری دستوں کے ذریعے ان کے بنیادی حقوق کو پامال کر رہا ہے۔

    ترجمان نے فسطائی بھارتی جیل حکام کے ہاتھوں کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند رہنماﺅں اور کارکنوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نظربندوں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں اور انہیں تنگ و تاریک سیلوں میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی سہولیات اور صحت بخش غذا کی عدم فراہمی کی وجہ سے نظر بند متعدد امراض کا شکار ہو گئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کوروانا کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے نظربندوں کو جیل حکام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    انہوں نے محمد مقبول بٹ، محمد افضل گورو، سید علی گیلانی، محمد اشرف صحرائی، علی محمد آہنگر، مشتاق احمد بٹ اور عبدالرشید سمیت جسمانی تشدد، عدالتی جانبداری یا طبی غفلت سے دوران حراست شہید ہونے والے رہنماﺅں کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بھارت اور مقبوضہ علاقے کی بدنام زمانہ جیلوں میں بند حریت رہنماو¿ں کے خلاف مجرمانہ رویے پر بھارت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر مزاحمتی رہنماو¿ں اور کارکنوں کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی۔

    ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، ڈاکٹر جی ایم بٹ، امیر حمزہ، محمد یوسف میر، محمد یوسف فلاحی، الطاف فنتوش، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی، مقصود احمد بٹ، شاہد یوسف، شکیل یوسف، مشہد یوسف، راشد یوسف صحرائی، اسد اللہ پرے، شوکت حکیم، معراج الدین نندا، رفیق احمد گنائی، پیر ہلال احمد، اب رشید لون، شکیل بٹ، غضنفر اقبال عابد زرگر، شوکت احمد خان، نذیر احمد شیخ، ظہور احمد بٹ، محمود ا، میر توبہ، محمد طوبیٰ، ظہور احمد بٹ۔ محمد ایوب ڈار، قادر بٹ، عاقب نجار، عارف وانی، امتیاز احمد، شیخ فاروق، نذیر پٹھانسمیت دیگر نظر بندوں کی استقامت کو سلام پیش کیا۔

    ترجمان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس پر زور دیا کہ وہ اپنی ٹیموں کے بھارتی جیلوں کے دورے اور کشمیریوں نظر بندوں کی حالت زار کا جائزہ لینے کیلئے بھارت پر دباو ڈالے ۔

  • خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات : عدلیہ کی نگرانی میں کرانے کا فیصلہ

    خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات : عدلیہ کی نگرانی میں کرانے کا فیصلہ

    پشاور:خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات : عدلیہ کی نگرانی میں کرانے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ عدلیہ کی نگرانی میں کرانے کا فیصلہ کر لیا۔

    خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے کے دوران پاکستان تحریک انصاف کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور طویل عرصے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) نے میدان مارا تھا۔ اس دوران لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی دیکھنے کو ملے تھے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں سٹی میئر کے اے این پی کے امیدوار کو قتل کر دیا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے دوسرے مرحلہ ڈی آر اوز، ریٹرنگ افسران عدلیہ سے لینے کا فیصلہ کرلیا، ایڈیشنل سیشن ججز اور سیشن ججز کو ڈی آر اوز، آر اوز لگایا جائے گا، الیکشن کمیشن نے انتظامیہ سے لگائے آر اوز ڈی اراوز کو ہٹا دیا۔

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن جلد پشاور ہائیکورٹ کو ڈی آر اوز آر اوز کےلئے خط لکھے گا، الیکشن کمیشن پشاور ہائیکورٹ سے ماتحت عدلیہ سے نامزدگیاں مانگے گا، الیکشن کمیشن کو 18 ڈی آر اوز،249 آر اوز درکار ہونگے۔

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن پہلے مرحلہ میں ریٹرننگ افسران کے کردار سے مطمئن نہیں، الیکشن کمیشن پشاور ہائی کورٹ کے جواب کے بعد باضابطہ تعیناتیوں کا نوٹیفکیشن کریگا۔یاد رہے کہ کے پی کے میں دوسرے مرحلہ کے بلدیاتی انتخابات 27 مارچ کو ہونگے۔

  • پولیس اور عدلیہ ملک کے کرپٹ ترین ادارے قرار ،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان سروے

    پولیس اور عدلیہ ملک کے کرپٹ ترین ادارے قرار ،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان سروے

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ذریعےملک میں کرپشن کا پیمانہ جانچنے کیلئے کرائے گئے نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے(این سی پی ایس) 2021 میں پولیس اور عدلیہ کو ملک کے کرپٹ ترین ادارے قرار دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بدھ کی صبح 1 بجے جاری کردہ سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام کی ایک بڑی اکثریت حکومت کی خود احتسابی کے معاملے پر مطمئن نہیں جبکہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ملک میں بدعنوانی کی اہم ترین وجوہات کمزور احتساب (51.9 فیصد)، طاقت ور لوگوں کا لالچ(29.3 فیصد) اور کم تنخواہیں (18.8 فیصد) ہیں-

    TI پاکستان کی ایک پریس ریلیز کے مطابق، TI نے گزشتہ 20 سالوں میں پانچ بار نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے کیا ہے این سی پی ایس 2002،این سی پی ایس 2006، این سی پی ایس 2009، این سی پی ایس 2010 اور این سی پی ایس2011 اور، TI پاکستان نے نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2011 کا انعقاد کیا۔ چاروں صوبوں میں یہ سروے 14 اکتوبر 2021 سے 27 اکتوبر 2021 تک کیا گیا تھا۔ یہ سروے گورننس کے بہت اہم مسائل پر عام لوگوں کے تاثرات کی عکاسی کرتا ہے اور اہم ترین معاملات پر اپہنی رائے پیش کرتا ہے-

    سروے میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ کرپٹ ترین ادارہ پولیس ہے جس کے بعد عدلیہ کا دوسرا نمبر ہے۔ این سی پی ایس میں بتایا گیا ہے کہ ٹینڈر اور ٹھیکے دینے کا شعبہ تیسرا کرپٹ ترین شعبہ ہے جس کے بعد صحت، لینڈ ایڈمنسٹریشن، بلدیاتی حکومتیں، تعلیم، ٹیکسیشن اور این جی اوز کا سیکٹر آتا ہے۔

    TI(ٹرانس پیرنسی ) پاکستان کے اعلان کے مطابق، تازہ ترین رپورٹ کے اہم نتائج درج ذیل ہیں:

    1:نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2021 نے انکشاف کیا ہے کہ پولیس بدعنوان ترین سیکٹر بنی ہوئی ہے، کرپشن میں پولیس پہلے جبکہ عدلیہ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ٹھیکوں اور ٹینڈرز جاری کرنے کا شعبہ تیسرے، صحت چوتھے نمبر پر کرپٹ ترین شعبہ ہے۔ عدالتی اعداد و شمار کے حوالے سے نیشنل جوڈیشل (پالیسی سازی) کمیٹی کی 2020ء کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ میں 46 ہزار 698 کیسز جبکہ ضلعی عدالتوں میں 17 لاکھ 72 ہزار 990 کیسز زیر التوا ہیں۔

    2: لوگوں کی اکثریت (85.9 فیصد تعداد) نے حکومت کے خود احتسابی کے معاملے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے یعنی عوام وفاقی حکومت کی خود احتسابی کو غیر تسلی بخش سمجھتے ہیں-

    3: پاکستانی عوام کی اکثریت اب بھی یہ یہ مانتی ہے کہ سرکاری شعبے میں کرپشن زیادہ ہے سروے کے مطابق پولیس میں 41.4 جبکہ عدلیہ میں 17.4، ٹھیکوں اور ٹینڈرز میں 10.3 فیصد کرپشن ہے اور عوام کے مطابق یہ تینوں ادارے سب سے زیادہ کرپٹ ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر کے ٹھیکوں میں 59.8 فیصد، صفائی اور کچرا جمع کرنے کے ٹھیکوں میں 13.8 فیصد، پانی کی فراہمی میں 13.3 فیصد اور ڈرینج سسٹم کے شعبے میں 13.1 فیصد کرپشن ہوتی ہے اور پبلک سروس کے اہم ترین شعبہ جات میں عوام کو سہولتیں حاصل کرنے کیلئے رشوتیں دینا پڑتی ہیں۔

    4: این سی پی ایس 2021ء کے مطابق، کرپشن کی اہم ترین وجوہات کمزور احتساب (51.9 فیصد)، طاقتور لوگوں کی ہوس (29.3 فیصد) جبکہ کم تنخواہیں (18.8 فیصد) بتائی گئی ہیں۔

    5: کرپشن کم کرنے کیلئے کیے جانے والے اقدامات میں 40.1 فیصد پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ کرپشن کے مقدمات میں سخت سزائیں دی جائیں، 34.6 فیصد نے کہا ہے کہ نیب کی جانب سے کرپشن کیسز کو ہینڈل کرنے میں بہتری لاکر سرکاری افسران کا احتساب کیا جائے، 25.3 فیصد نے کہا ہے کہ کرپشن میں سزا پانے والوں کو عوامی عہدوں سے ہمیشہ کیلئے نا اہل کر دیا جائے۔

    6: سروے میں بلدیاتی حکومتوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح ان حکومتوں کی موجودگی سے پاکستان کوویڈ 19 کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے بہترین انداز سے نمٹ سکتا تھا۔

    7:پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد (47.8 فیصد) کا خیال ہے کہ اگر بلدیاتی حکومتوں کے منتخب نمائندے اپنے عہدوں پر ہوتے تو کورونا کے حوالے سے آگہی مہم موثر انداز سے شروع کی جا سکتی تھی۔

    8: پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد 72.8 فیصد کی رائے ہے کہ مقامی حکومت کی عدم موجودگی کی وجہ سے نچلی سطح پر پبلک سیکٹر کی کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔

    9: مجموعی طور پر 89.1 فیصد پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مستحق شہریوں کے لیے وفاقی حکومت کی کووِڈ 19 ریلیف کی کوششوں کے دوران کسی سرکاری اہلکار کو رشوت نہیں دی۔

    10: آبادی کے ایک اہم تناسب (81.4 فیصد) نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے رشوت دیتے ہیں اور اس کے بجائے یہ واضح تاثر تھا کہ عوامی خدمات کی فراہمی میں سستی یا تاخیر جیسے حربوں کے ذریعے عوام سے رشوت لی جاتی ہے۔

    11: تین حالیہ وفاقی حکومتوں کے تقابلے کے لحاظ سے پاکستانی کی اکثریت (92.9 فیصد) سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے دور (2018 تا 2021) میں مہنگائی اپنی بلند ترین سطح پر ہے جبکہ ن لیگ کے دور (2013 تا 2018) میں یہ 4.6 فیصد جبکہ پیپلز پارٹی کے دور (2008 تا 2013) میں یہ صرف 2.5 فیصد تھی۔

    12: اس کے ساتھ ہی پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد 85.9 فیصد کی رائے ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران ان کی آمدنی سکڑ کر کم ہوگئی ہے۔

    13: بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے لیے شہری جن اہم وجوہات کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں وہ ہیں: حکومت کی نا اہلی (50.6 فیصد)، کرپشن (23.3 فیصد)، سرکاری معاملات میں سیاست دانوں کی غیر ضروری مداخلت (9.6 فیصد) اور پالیسیوں پر عملدآمد میں ناکامی (16.6 فیصد)۔

    14: پاکستانیوں کی اکثریت (66.8؍ فیصد) کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت کی احتساب مہم جانبدارانہ ہے۔

  • سانحہ کھڈیاں قصور ،لوگ عدلیہ پاکستان پر برس پڑے

    سانحہ کھڈیاں قصور ،لوگ عدلیہ پاکستان پر برس پڑے

    قصور
    کھڈیاں کے رہائشی حافظ قرآن نوجوان سمیع الرحمن کو قتل کرنے والے پنجاب ہائی وے پولیس کے ملازم معصوم کو کل قصور پولیس نے گرفتار کر لیا مگر لوگ عدلیہ پر برہم لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل حسین خان والا ،زینب مرڈر کیس اور سانحہ چونیاں کے ملزمان کو سرعام پھانسی ہوتی تو آج یہ دن نا دیکھنے پڑتے
    تفصیلات کے مطابق پرسوں عید کے روز قصور کے نواحی قصبے کھڈیاں خاص میں بدفعلی نا کرنے پر طیش میں آکر پنجاب ہائے وے پولیس کے حاضر سروس ملازم معصوم علی ولد محمد علی قوم ماچھی سکنہ کوٹ سردار کھڈیاں خاص نے پسٹل 30 بور کا فائر مار کر زخمی کر دیا تھا جسے مقتول کے والد قاری خلیل الرحمٰن نے ریسکیو 1122 کے ذریعے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قصور پہنچایا مگر ہسپتال انتظامیہ نے حالت زیادہ تشویشناک ہونے پر لاہور جنرل ہسپتال منتقل کر دیا جو کہ جنرل ہسپتال لاہور میں زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملا ملزم کو ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت کی خصوصی ہدایت پر کھڈیاں پولیس نے چند گھنٹوں بعد ہی گرفتار کرکے حوالات میں بند کرکے مقدمہ نمبر 309/20 درج کر لیا اور تفتیش کا آغاز کر دیا اس بابت مقامی لوگ عدلیہ پاکستان پر برس پڑے اور لوگوں نے کہا کہ اگر سانحہ حسین خانوالا قصور،زینب مرڈر کیس قصور اور سانحہ چونیاں جیسے واقعات کے ملزمان کو عوامی مطالبے پر سرعام پھانسی دی جاتی تو آج ایک حافظ قرآن نوجوان کو یو قتل نا کیا جاتا
    لوگوں نے مذید کہا کے اگر اب بھی عدالت کا کردار وہی رہا تو ایسے واقعات ہوتے رہینگے اور مجبوراً لوگ اپنے بچوں کے تحفظ کیلئے ہتھیار اٹھا لینگے جو کہ ملک و ملت کے لئے مناسب نا ہوگا لہذہ ماضی کی طرح اس بار بھی لوگوں کے ملزم کو سرعام پھانسی کے مطالبے کو رد نہیں کرنا چاہیے عدالت ملزم کو سرعام پھانسی دے کر اسلامی جج ہونے کا ثبوت پیش کریں

  • کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

    کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

    چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں اور ایماندار لوگوں کے لیے احتساب کے عمل سے گزرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک تنگ گلی ہو اور وہ کانٹوں سے بھری ہوئی ہو اور وہ عبور کرکے آپ کو منزل مقصود کی طرف گامزن ہونا ہو اور یہ ایسے ہی ممکن نہیں ہے اس کے لیے یا تو کپڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کروا کر زخمی حالت میں عبور کیا جا سکے گا یا پھر اس گلی یا رستے کو ہی صاف کروا لیا جاۓ گا.

    اب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو گلی کو طویل محنت و کاوش سے صاف کروا کے گزر جائیں گے اور کئی ہوں گے جو وہاں پہ کھڑے شور ہی مچاتے رہ جائیں گے اور الزام تراشی کا سہارا لے کے دوسروں کو کوستے رہیں گے.

    کچھ ایسی ہی مثال ان کرپٹ سیاستدانوں کی بھی ہے جو برسوں سے اس ملک کو لوٹ کے کھا چکے ہیں اور اپنی من مرضی کے قوانین بنا کے ان قوانین کی آڑ میں بدمعاشیاں کرتے پھرتے ہیں اور اس ملک کو اپنے باپ کی جاگیر گرداننا شروع کر دیتے ہیں.

    جب بھی احتساب کی بات شروع ہوتی ہے تو یہ کرپٹ ٹولہ اکٹھا ہو جاتا ہے اور اپنی سازشوں کے جال بننا شروع کر دیتا ہے تاکہ وہ اس کانٹوں بھری گلی میں پھنسنے کی بجاۓ کسی چور رستے سے فرار ہو جائیں اس کے لیے کبھی وہ نیب کے چیئرمین کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں اور کبھی فوج پہ تنقید شروع ہو جاتی ہے.

    مریم صاحبہ کی کل والی پریس کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو سواۓ پروپیگنڈے اور سازش کے کچھ نہیں ہے اس میں انہوں نے ایک جج صاحب کی ویڈیو جاری کی ہے اور بقول مریم صاحبہ کے ارشد ملک صاحب بتانا چاہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو سزا دینے کے لیے زبردستی فیصلہ لیا گیا ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ محض جھوٹ اور سازش کا پلندہ ہے کیونکہ آج جج صاحب نے اس کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں وہ عدالت بھی پیش ہوۓ ہیں.

    آئیے آپ کی خدمت میں اس ویڈیو کی کچھ جھلکیاں پیش کرتے ہیں ویڈیو کے پہلے حصہ میں یہ کہا گیا ہے کہ استغاثہ لندن پراپرٹیز کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا یہ بات تو اس نے دسمبر 2018 والے فیصلے میں بھی کہی تھی اس میں سرپرائز یا دھماکے دار بریکنگ نیوز والی بات تو نہیں ہے.

    دوسرے حصے میں وہ کہہ رہے ہیں سازندے سرنگی بجاتے وقت مطلوبہ میوزک حاصل کرنے کے لیے کہیں سے تار ٹائٹ کر دیتے ہیں اور کہیں سے ڈھیلے کر دیتے ہیں. اب یہاں پہ مریم صاحبہ اس کی تعبیر لے رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے زبردستی میاں صاحب کو سزا دلوائی حالانکہ اس کی تعبیر کچھ یوں بنتی ہے کہ میاں صاحب کو سزا تو تینوں کیسز میں ملنی چاہئے تھی لیکن اوپر سے شاید ایک کیس پہ سزا کا حکم تھا.

    مریم صاحبہ کے اپنے الفاظ کے پیش نظر کہ آڈیو اور ویڈیو ساؤنڈ علیحدہ علیحدہ ریکارڈ کیے گئے ہیں اس لیے ان میں مطابقت نہیں پائی جا رہی اب یہ مان بھی لیا جاۓ تو جس طرح ویڈیوز کے ٹوٹے ملا کے یہ بنائی گئی ہے یہ فرانزک رپورٹ میں ہی ایکسپوز ہو جاۓ گی اور یہ کورٹ میں بطور ثبوت ناکافی ہو گی.

    دوسری اہم بات جو یہاں محسوس کی گئی ہے اگر یہ آواز ارشد ملک کی ہے تو قوی امکان ہے کہ اسے نشہ آور چیز پلا کے اسے نشے میں دھت کر کے اس کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ آپ دیکھ سکتے ہیں ناصر بٹ جس طرح اسے ورغلا رہا ہے اور اس سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن نشے کی حالت میں بھی وہ العزیزیہ اسٹیل مل میں آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا کیس غلط تھا یا اسے غلط سزا دی گئی ہو. یاد رہے کہ ناصر بٹ خود ماضی میں کئی کیسوں میں اشتہاری بھی رہ چکا ہے اور یہ ارشد ملک کا بہت قریبی دوست بھی ہے جو اسے نشہ آور چیز دے کے اس سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیان دلوانا چاہ رہا تھا لیکن ایسا کچھ تھا ہی نہیں جو وہ اگل دیتا.

    یہ پروپیگنڈہ صرف اور صرف احتساب کے عمل کو شک میں ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ کوئی بھی اس پہ یقین نہ کرے اور حکومت و فوج پہ تنقید کرکے ان کو بدنام کیا جا سکے اور چوروں اور لٹیروں کے بیانیے کو تقویت ملے اور عوام ان چوروں کا ساتھ دیتے ہوۓ سڑکوں پہ نکلیں لیکن ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اب عوام کسی بھی سازش میں نہیں آۓ گی اور اس ملک کو کھانے والے اس کے دشمنوں کا کھل کے مقابلہ کرے گی اور احتساب کے عمل میں حکومت پاکستان کا بھرپور ساتھ دے گی.
    اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو
    پاکستان پائندہ باد