Baaghi TV

Tag: عرب

  • عمرہ پروازوں میں تاخیر پر سعودی ایوی ایشن کا پاکستان کو سخت مراسلہ

    عمرہ پروازوں میں تاخیر پر سعودی ایوی ایشن کا پاکستان کو سخت مراسلہ

    کراچی:عمرہ پروازوں میں تاخیر پر پاکستانی ایئر لائنز کو جرمانے عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

    سعودی ایوی ایشن نے ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی پاکستان کو سخت مراسلہ ارسال کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق پروازوں کی بروقت آمد و رفت کی شرح 80 فیصد تک ہونی چاہیے، پاکستانی ایئرلائنز کی بروقت آمد و رفت کی شرح صرف 37 سے 69 فیصد ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ صورتحال کو فوری طور پر درست کرایا جائے بصورت دیگر جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے، پی آئی اے کی شرح 69 فیصد، ایئر سیال 46 فیصد، ایئر بلیو 65 فیصد اور سیرین ایئر 37 فیصد ہے، پاکستانی ایئر لائنز کی تاخیر کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے، اگر فوری طور پہ حالات درست نہیں کیے گئے تو ایئر لائنز پر جرمانے بھی عائد کرنا شروع کر دیئے جائینگے،خط سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے صدر نے ڈی جی سی اے اے کو تحریر کیا ہے۔

    سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کیخلاف فیصلہ کن آپریشن کیلئےاعلیٰ سطحی مانیٹرنگ کمیٹی قائم

    مصطفیٰ عامر قتل کیس : ملزم ارمغان کو نفسیاتی مریض ثابت کرنے کی کوشش ناکام

    ایشیاکپ 2025:بھارت نے اسکواڈ کا اعلان کر دیا

  • عرب ممالک میں پہلے روزے کی متوقع تاریخ کا اعلان

    عرب ممالک میں پہلے روزے کی متوقع تاریخ کا اعلان

    آسٹرونومی سینٹر نےعرب ممالک میں پہلے روزے کی متوقع تاریخ کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی: ابوظہبی آسٹرونومی سینٹر کے مطابق عرب ممالک میں پہلا روزہ یکم مارچ کو ہوگا، 28 فروری بروز جمعہ کو رمضان کا چاند نظرآئے گا، متحدہ عرب امارات میں پہلا روزہ تقریباً 14 گھنٹے 13 منٹ کا ہوگا، متحدہ عرب امارات میں آخری روزہ 14 گھنٹے 55 منٹ تک کا ہوگا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں رمضان کے چاند کی پیدائش 29 شعبان کو ہوگی، 28 فروری کی شام 5 بج کر 45 منٹ پرنئے چاند کی پیدائش ہوگی،یکم مارچ کو چاند نظر آنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں 2 مارچ کو پہلا روزہ ہو سکتاہے۔

    سابق سعودی انٹیلیجنس چیف نے غزہ کیلئے مارشل پلان کی تجویز دیدی

    سوشل میڈیا انفلوئنسر کا ایلون مسک کا بچہ جنم دینے کا دعویٰ

    یوکرین میں چرنوبل نیوکلیئر پلانٹ کی چھت پر ڈرون گر کر تباہ

  • امریکا:عرب کمیونٹی کا ٹرمپ اور کملا ہیرس میں سے کسی کو بھی ووٹ نا دینے کا اعلان

    امریکا:عرب کمیونٹی کا ٹرمپ اور کملا ہیرس میں سے کسی کو بھی ووٹ نا دینے کا اعلان

    واشنگٹن: امریکا میں رہنے والی عرب کمیونٹی نے ڈیموکریٹ اور ریپبلکن صدارتی امیدواروں میں سے کسی کو بھی ووٹ نا دینے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی:عرب میڈیا کے مطابق امریکا میں رہنے والی عرب امریکن پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (AAPAC) نے نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس میں سے کسی کو بھی ووٹ نا دینے کو اعلان کیا ہےعرب کمیونٹی نے ڈیموکریٹ اور ریبلک صدارتی امیدواروں کی جانب سے فلسطین اور لبنان میں جاری اسرائیلی جارحیت پر اسرائیل کی حمایت کرنے کے معاملے پر انہیں ووٹ نا دینے کا اعلان کیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق امریکا میں رہنے والی مسلم اور عرب کمیونٹی روایتی طور پر ڈیموکریٹ امیدواروں کی حمایت کرتی رہی ہے اور 2020 کے صدارتی انتخابات میں بھی کمیونٹی نے ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کی حمایت کی تھی۔

    واضح رہے کہ ایک خبر کے مطابق امریکا غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد ایک سال میں اب تک اسرائیل کو 17 ارب ڈالر کی فوجی مدد دے چکا ہے اسرائیلی فورسز کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں فضائی اور زمینی کارروائیاں جاری ہیں جس میں اب تک 43 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

  • عرب ممالک میں 13 کروڑ افراد غربت کا شکار ہیں:اقوام متحدہ

    عرب ممالک میں 13 کروڑ افراد غربت کا شکار ہیں:اقوام متحدہ

    نیویارک:عرب ممالک میں 130ملین (13 کروڑ) افراد غربت کا شکار ہیں۔اس بات کا انکشاف اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا کے جاری کردہ ایک سروے میں کیا گیا ۔

    یورپ دوہری مصیبت میں پھنس گیا:شدید سردی میں روس نےگیس سپلائی بھی کم کردی

    چینی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سروے آف اکنامک اینڈ سوشل ڈویلپمنٹ ان عرب ریجن میں کہا گیا ہے کہ خلیج تعاون کونسل( جی سی سی) ممالک اور لیبیا کو چھوڑ کر عرب خطے کی ایک تہائی آبادی غربت سے متاثر ہے ۔

    روسی وفد کا جلد دورۂ پاکستان کا امکان:تیل کی خریداری پربات ہوگی

    سروے میں آئندہ دو سالوں میں غربت کی سطح میں مزید اضافے کی توقع ہے، جو 2024 میں آبادی کے 36 فیصد تک پہنچ جائے گی۔علاوہ ازیں عرب خطے میں 2022 میں بے روزگاری کی شرح 12 فیصد درج کی ہے۔

    سروے کے مصنف احمد مومی نے کہا کہ جی سی سی اور دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک توانائی کی بلند قیمتوں سے مستفید ہوتے رہیں گی جب کہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کئی سماجی اقتصادی چیلنجوں کا شکار ہوں گے، جن میں توانائی کی بڑھتی قیمتوں، خوراک کی فراہمی میں کمی، اور سیاحت اور بین الاقوامی امداد کی آمد میں کمی شامل ہے۔

    روسی وفد کا جلد دورۂ پاکستان کا امکان:تیل کی خریداری پربات ہوگی

  • عمران خان، ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے۔ سینیٹر سردار سلیم

    عمران خان، ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے۔ سینیٹر سردار سلیم

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان دراصل سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے ہیں کیونکہ ان میں اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ کہناتھا پیپلزپارٹی کے بانی رہنماء اور سابق سینیٹر سردار سلیم کا جنہوں نے باغی ٹی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: سابق وزیر اعظم عمران خان حمایت تو دور مخالفت کرنے کے بھی قابل نہیں ہے۔
    جب سردار سلیم سے باغی ٹی وی نے سوال کیا کہ عمران خان دعوی کرتے ہیں کہ جس طرح ذوالفقارعلی بھٹوکیخلاف امریکہ نے سازش کی تھی ٹھیک اسی طرح انکے خلاف بھی بیرونی سازش ہوئی ہےتواسکے جواب میں سردار سلیم نے کہاکہ: عمران خان نے کونسا ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہےکہ ان کے خلاف امریکہ سازش کرتا؟

    سابق سینیٹر کے مطابق: جہاں تک بات ذوالفقار علی بھٹو کی ہے وہ تو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی کوشش کررہے تھے اوردوسرا انہوں نے تیل پیدا کرنےوالےتمام مسلم ممالک کے حکمرانوں کو مشورہ دیا تھا کےوہ اپنے تیل کی پیداوار کم کردیں اور ان کے اس مشورہ پرعمل کے بعد امریکہ نے گھٹنے ٹیک دیئے تھے کیوں کہ تیل کی پیداوار کم ہونے سے ناصرف انہیں تیل مہنگا خریدنا پڑ رہا تھا بلکہ مقدار میں بھی کم مل رہا تھا۔ اورپھریہ کہ مسلم ممالک اپنا تیل مہنگے دام بیچ کر زیادہ سے زیادہ پیسہ کما رہے تھے جسکے سبب ان ممالک میں مالی خوشحالی آنا شروع ہوگئی۔

    فیٹف کی طرف سے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنےکےعندیہ پرسردارسلیم کا کہنا تھا کہ: "بہت سارے دانشور اس بات پر موثر ہیں کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے میں عمران خان کا زیادہ کردارہے کیونکہ اس نے 34 کی 34 شرائط کو پورا کیا تھا۔ لیکن میرے خیال میں تعصب کی نگاہ سے دیکھنے والوں کو یہ یاد نہیں کہ بات صرف شرائط پوری کرنے کی ہوتی تو پاکستان کوکب کا گرے لسٹ سے خارج کردیا گیاہوتا لیکن اصل معاملہ شرائط پوری کرنے کا نہیں تھا بلکہ امریکہ اوردوسرے یورپی ممالک جو اثررکھتے تھے پر بھارتی حکومت کا دباؤ تھا کہ پاکستان کو وائٹ لسٹ میں نہ ڈالا جائے اور پاکستان کے اس وقت کے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی میں اتنی اہلیت نہیں تھی کہ وہ چین کی بھرپورحمایت کے باوجود بھی امریکہ اوریورپی ممالک کو بھارتی دباؤ سے نکال کر پاکستان کے موقف کو تسلیم کرواتا ۔”
    سردارسلیم سمجھتے ہیں کہ: یہ کارنامہ بی بی شہید کے فرزند اور نوجوان وزیر خارجہ بلاول بھٹوزرداری اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے بڑے احسن طریقے سےکردکھایا۔ جسکے مثبت اثرات آنے والے دنوں میں نظر آئیں گے.

  • ہولوکاسٹ کی حقیقت کو عرب دنیا کے سامنے لانے کی کوشش ہورہی ہے:ٹائمز آف اسرائیل

    ہولوکاسٹ کی حقیقت کو عرب دنیا کے سامنے لانے کی کوشش ہورہی ہے:ٹائمز آف اسرائیل

    تل ابیب :ہولوکاسٹ کی حقیقت کو عرب دنیا کے سامنے لانے کی کوشش ہورہی ہے:ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، شارکا تنظیم کے ساتھ مشترکہ آپریشن میں عرب اور زیادہ تر مسلم ممالک کے نوجوان لیڈروں کا ایک گروپ آشوٹز کا دورہ کر رہا ہے، جو ہولوکاسٹ کی حقیقت کو عرب دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ عرب دنیا اور اسرائیل ابراہیم معاہدے کے اعلان کے بعد۔ ریاستہائے متحدہ (یو ایس) کے محکمہ خارجہ کے مطابق، اعلامیہ کا مقصد "مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا میں باہمی افہام و تفہیم اور بقائے باہمی کے ساتھ ساتھ انسانی وقار اور آزادی کے احترام کی بنیاد پر امن کو برقرار رکھنے اور اسے مضبوط بنانے کی اہمیت کو تسلیم کرنا ہے۔

    ابراہیمی معاہدے کے اعلامیے کے مطابق، "بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے” کو فروغ دینے کے لیے ایک فعال کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ابراہیمی مذاہب یعنی اسلام، یہودیت اور عیسائیت کے درمیان امن کی ثقافت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، مشرق وسطیٰ اور باقی دنیا میں پائیدار امن کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جس میں "وقار اور امید” کی زندگی کو یقینی بنانے کے لیے رواداری اور احترام کی ضرورت ہے۔ اعلامیے کے ذریعے، مقصد بالترتیب سائنس، آرٹ، طب اور تجارت میں ترقی کی مدد سے "انسانی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ کرنا” ہے۔

    راون عثمان جو ایک شامی باپ اور لبنانی ماں کی بیٹی ہیں اور نوجوان لیڈروں کا حصہ ہیں، نے کہا کہ پہلی بار جب اس نے ایک یہودی کو دیکھا تو اسے گھبراہٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ 38 سالہ خاتون نے کہا کہ یورپ جانے سے پہلے اس نے کبھی کسی یہودی کو نہیں دیکھا۔ عثمان نے 2011 میں فرانس منتقل ہونے سے پہلے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سعودی عرب اور قطر میں گزارا تھا۔ عثمان نے مزید کہا کہ وہ "اسٹراسبرگ میں یہودیوں کے کوارٹر میں عبادت گاہ ڈی لا پائیکس کے ساتھ رہتی ہیں” لیکن اسے کبھی احساس نہیں ہوا کہ یہودی دراصل وہاں رہ سکتے ہیں کیونکہ لبنان اور شام میں یہودیوں کے کوارٹرز کو چھوڑ دیا گیا تھا۔

    عثمان اس وقت شارکا تنظیم کے ساتھ مشترکہ تعاون میں پولینڈ میں ہے، اور یوم ہاشوہ پر منعقد ہونے والے دنیا بھر میں ہولوکاسٹ کی یادگاری تقریبات میں سے ایک – رہنے والے بین الاقوامی مارچ میں شرکت کر رہا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، اس سال لگ بھگ 2,500 لوگ آشوٹز I سے برکیناؤ تک دو میل کا سفر کریں گے، جو کہ ایک چھوٹی جماعت ہے جو روس اور یوکرین کی جاری جنگ کے واجبات کے ماضی کے مارچ کے لیے واجب الادا ہے۔

    اس کے علاوہ، اس سال کا مارچ پہلا ہے جہاں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے نوجوان مسلم رہنماؤں کا ایک وفد شرکت کر رہا ہے۔ شارکا تنظیم جس کی بنیاد مبینہ طور پر دسمبر 2020 میں رکھی گئی تھی، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے ابراہم معاہدے پر دستخط کرنے کے چند ماہ بعد، نئے قائم ہونے والے "سفارتی اور اقتصادی تعلقات” اور دونوں کے درمیان حقیقی تعلق قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    شاراکا میں مواصلات اور عالمی امور کے ڈائریکٹر، ڈین فیفرمین کا خیال ہے کہ مصر اور اردن جیسے ممالک میں اس کا فقدان ہے جہاں کی اکثریتی آبادی بڑی حد تک لاتعلق ہے اور اکثر یہودی برادری، خاص طور پر اسرائیل سے "مخالف” ہے۔ فیفرمین نے دلیل دی ہے کہ عرب دنیا نے طویل ترین عرصے سے ہولوکاسٹ کی "انکار” کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ یہودی برادری کی سازش ہے۔ فیفرمین نے مزید کہا کہ اس سال کے مارچ میں نوجوان مسلم متاثر کن افراد کی شمولیت ایک تاریخی موقع ہے کیونکہ "ان کے مختلف پلیٹ فارمز” کے ذریعے – روایتی میڈیا، سوشل میڈیا – اس کو نشر کرنے جا رہے ہیں اور اسے تعلیم کی ایک وسیع تحریک شروع کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کریں گے۔

    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، وفد میں سعودی عرب، اردن، شام، لبنان، مصر، مراکش، ترکی، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے نوجوان اثرورسوخ، کارکن، مصنفین اور سیاست دان شامل ہیں۔ لبنانی نسل کے راوان عثمان نے کہا کہ پہلی بار کسی یہودی سے ملنے سے پہلے ان کے ذہن میں یہودیوں سے رابطہ سختی سے منع تھا۔ عثمان نے مزید کہا کہ اس کے ذہن میں اس کا خیال ہے کہ یہودی خود بخود اس کی نسل کی وجہ سے اس سے نفرت کریں گے۔ نوجوان حزب اللہ کی پرستار نے جاری رکھا کہ جب اس نے مسلمانوں اور یہودیوں کی مشترکہ تاریخ کا مطالعہ کیا تو اس نے محسوس کیا کہ یہاں ایک "بیانات کی جنگ” جاری ہے جسے صرف اسی صورت میں حل کیا جا سکتا ہے جب کوئی یہودی کہانی کو سنتا اور سمجھتا ہے۔ عثمان نے مزید کہا، "مجھے لگتا ہے کہ ہمارے پاس امید ہے، ہم کسی دن امن تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن ہمیں اس پر کام کرنا ہوگا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ خطے کے اپنے پہلے سفر پر ہیں، یہ ان کا آخری سفر نہیں ہوگا۔

    دریں اثنا، عائشہ جلال، جو اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (UNESCO) کے لیے بحرین کے قومی کمیشن برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت میں کام کرتی ہیں، نے کہا کہ اسرائیل کے قومی ہولوکاسٹ یادگار اور عجائب گھر کے دورے کے دوران، انھوں نے اس کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

  • پاکستان:عرب امارات کے درمیان ہفتہ وار 63 پروازیں:فیصلہ کیوں ہوا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    پاکستان:عرب امارات کے درمیان ہفتہ وار 63 پروازیں:فیصلہ کیوں ہوا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    اسلام آباد:پاکستان:عرب امارات کے درمیان ہفتہ وار 63 پروازیں آپریٹ کرنے کا فیصلہ:کیوں ہوا؟اہم وجہ سامنے آگئی ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد قومی ایئرلائن نےپاکستان اور یو اے ای کے درمیان ہفتہ وار 63 پروازیں آپریٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    پی آئی اے انتظامیہ کے مطابق 14 پروازیں اسلام آباد سے دبئی،شارجہ،ابوظہبی،فجیرہ اور ان شہروں سے واپس اسلام آباد کیلئے آپریٹ ہونگی، پشاور سے دبئی،شارجہ، ابوظہبی، العین، فجیرہ اور راس الخیمہ کیلئے 17 پروازیں چلائیں جائیں گی۔

    لاہور سے دبئی،شارجہ،ابوظہبی اور ان شہروں سے لاہور واپسی کیلئے ہفتہ وار 10پروازیں ہوں گی، سیالکوٹ سے دبئی، شارجہ، ابوظہبی اور ان شہروں سے سیالکوٹ کیلئے چار پروازیں آپریٹ ہوں گی۔

    کراچی سے دبئی، شارجہ اور شارجہ، دبئی سے کراچی کیلئے ہفتہ وارسات پروازیں چلیں گی،لتان سے دبئی، شارجہ اور ان شہروں سے ملتان واپسی کیلئے ہفتہ وارپانچ پروازیں ہوں گی۔

    تربت سے شارجہ اور شارجہ سے تربت واپسی کیلئے ہفتہ وار تین پروازیں چلیں گی،فیصل آباد سے دبئی اور دبئی سے فیصل آباد کیلئے ہفتہ وار دو پروازیں ہوں گی،کوئٹہ سے دبئی، اور دبئی سے کوئٹہ کیلئے ہفتہ وارایک پرواز آپریٹ ہوگی۔

    پی آئی اے حکام کے مطابق ان پروازوں کا فیصلہ دونوں ملکوں‌ کے درمیان مسافروں کی آمدورفت کے پیش نظرکیا گیا ہے

  • یمن : مارب کے مغرب اور جنوب میں لڑائی کا دوبارہ آغاز، حوثیوں کا حملہ پسپا

    یمن : مارب کے مغرب اور جنوب میں لڑائی کا دوبارہ آغاز، حوثیوں کا حملہ پسپا

    صنعا :یمن : مارب کے مغرب اور جنوب میں لڑائی کا دوبارہ آغاز، حوثیوں کا حملہ پسپا،اطلاعات کے مطابق یمن میں‌ ایک بار پھر سخت لڑائی شروع ہوگئی ہے، ادھر یمن کے صوبے مارب میں شدید معرکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبے کے مغربی اور جنوبی حصے میں یمنی فوج کی حوثی ملیشیا کے ساتھ جھڑپیں پھر سے شروع ہو گئیں۔ یمنی فوج کو عوامی مزاحمت کاروں کی معاونت حاصل ہے۔

     

     

    ایران نواز حوثیوں نے اتوار کے روز اور پیر کی صبح مارب کے مغربی محاذ الکسارہ پر متعدد عسکری گاڑیاں اکٹھا کر لیں۔ تاہم یمنی فوج کی توپوں نے ان گاڑیوں کو شدید گولہ باری سے نشانہ بنایا اور دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق اس دران میں حوثی ملیشیا کے 8 ارکان ہلاک ہو گئے۔

    ادھر جنوبی محاذ پر یمنی فوج نے دو سمتوں سے کیے گئے حوثیوں کے حملے کو پسپا کر دیا۔ دریں اثنا فوجی توپوں نے مشرقی بلق میں تین عسکری اور ایک بکتر بند گاڑی تباہ کر دی۔

    یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے جوبہ اور ملعاء میں حوثیوں کی عسکری کمک کو نشانہ بنایا۔ اس دوران میں درجنوں عسکری گاڑیاں تباہ کر دی گئیں۔

     

    اس سے قبل عرب اتحاد کے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ اتحاد کی سات کارروائیوں میں البیضاء صوبے کے عسکری کیمپ السوادیہمیں راکٹوں کے لانچنگ پیڈوں ، ہتھیاروں اور عسکری گاڑیوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

    زمینی ذرائع نے العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کو بتایا کہ عرب اتحاد نے البیضاء سے آنے والی حوثیوں کی عسکری کمک کو نعمان ضلع میں تباہ کر دیا۔

    یہ پیش رفت اُس مطالبے کے بعد سامنے آئی جس میں عرب اتحاد نے یمنی شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ البیضاء صوبے میں واقع السوادیہ عسکری کیمپ سے فوری طور پر نکل جائیں۔

  • پاک اسرائیل تعلقات ، فوائد و نقصانات کا ایک تاریخی جائزہ از طہ منیب

    اسرائیل کے قیام اور اس سے تعلقات سے متعلق سوال پر قائد اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے ، اسی طرح 1948 میں قائد اعظم کو پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان کا ٹیلیگرام موصول ہوا جسے اگنور کرتے ہوئے جواب نہیں دیا گیا۔ لیاقت علی خان کے پہلے دورہ امریکہ پر کچھ تاجروں نے انہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد معاشی و تجارتی اہمیت بیان کی تو انہوں نے کہا، "Gentleman our souls are not for sale”۔ پاکستان نے 1948 ، 1967 ، 1973 اور 1982 کی جنگوں میں عربوں کی حمایت کی ، پاک فضائیہ کے شاہینوں کو چار اسرائیلی طیارے گرانے کا اعزاز بھی ہے۔ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان نے پاکستان کو اپنا دشمن نمبر قرار دیتے ہوئے کہ کہا کہ ہمیں عربوں سے زیادہ انکے دوست پاکستان سے خطرہ ہے جسکے مقابل اسرائیل کو اقدامات کرنے ہونگے۔

    یہ تو ہے اسرائیل پاک تعلقات کے معاملات کی کچھ تاریخ تاہم مشرف دور میں انقرہ میں ترکی نے خفیہ طور پر پاک اسرائیل وزراء خارجہ ملاقات کا اہتمام کروایا جسکا مقصد یقیناً مستقبل قریب میں پاک اسرائیل تعلقات کی بحالی تھا۔ تاہم اس کے بعد پاکستان کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات سے متعلق کوئی خاص کاوش دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابھی گزشتہ دو تین سالوں سے مخصوص قبیل کے کچھ اینکرز کی طرف سے مسلسل اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فوائد و ثمرات پر دلائل دیکھنے میں آرہے ہیں یہاں تک کہ کل کامران خان نے کہا کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ طاقت کے ایوانوں میں عمران خان اسرائیل کے حوالے سے خاصا سخت مؤقف رکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اس پر مزید کوئی ڈویلپمنٹ سامنے نہیں آئی۔

    پاکستان میں پبلک پریشر خارجہ و داخلہ امور میں ہمیشہ سے اثر انداز رہا ، ایٹمی دھماکے ہوں ، توہین رسالت کا مسئلہ ہو یا اسرائیل کا تسلیم کرنا اس قسم کے معاملات پر ہمیشہ سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اسکی اپنی جگہ حقیقت لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ریاست کسی فیصلے پر عمل درآمد کا ارادہ کرتی ہے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی جیسے غیر مقبول معاملات بھی کر گزرتی ہے۔

    اسرائیل کی شروع دن سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش رہی ہے ، جبکہ ہم واحد ایٹمی اسلامی ریاست ہیں جو اسرائل کے ناجائز وجود کو دنیا میں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اپنے پاسپورٹ پر بھی لکھ رہا ہے کہ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے ہر ملک میں کارآمد ہے۔ ہمارے تسلیم کرنے سے دنیا میں اسرائیل کے راستے کی واحد رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی اور اسکی سلامتی کو ہم سے لاحق خطرات بھی ختم ہو جائیں گے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر پاکستان کے پالیسی میکرز کہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سرگرم و متحرک ہوتے ہیں تو شاید تجارتی و معاشی فوائد تو حاصل ہو جائیں جیسا کہ ماضی میں بھی لیاقت علی خان کو اس کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف کو کھو دے گا ، کشمیر ہماری بقاء اور خارجہ پالیسی کا بنیادی مرکز ہے اس پر کسی قسم کی اخلاقی کجی کمی ہمیں اقوام عالم میں کھڑا نہیں رکھ پائے گی۔