Baaghi TV

Tag: عرب امارات

  • سکلز یونیورسٹی کا دنیا کےکئی ممالک کے ساتھ معاہدے :پاکستان بھی شامل

    سکلز یونیورسٹی کا دنیا کےکئی ممالک کے ساتھ معاہدے :پاکستان بھی شامل

    دبئی :سکلز یونیورسٹی کا دنیا کے ساتھ ممالک کے ساتھ معاہدے :پاکستان بھی شامل،اطلاعات کے مطابق یونیسکو کے نیووک انٹرنیشنل اور ہائیر کالجز آف ٹیکنالوجی کے تعاون سے ابوظہبی میں ایک بہت بڑی تقریب منعقد ہوئی اس تقریب میں ویسے تو دنیا کے اکثرممالک سے ماہرین پہنچے تھے لیکن خوشقسمت صرف 7 ٹھہرے جن میں پاکستان کا بھی نام شامل ہے

     

    پاکستان کے سینئر صحافی مبشرلقمان جو کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے علم کے حوالے سے بہت زیادہ علم رکھتے ہیں ، انہوں نے عرب امارات میں پاکستان کے ایک تعلیمی ادارے کو ایک بہت بڑا مقام ملنے پر اس ادارے کو بھی مبارک باد دی ہے اور اہل وطن کو بھی کہ اب پاکستان سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے دیگر ممالک کے ممتاز تعلیمی اداروں کے ہم پلہ ہوگیا ہے اور پاکستان نے بڑے عرصے کے بعد یہ کامیابی حاصل کی ہے جو ایک بہت بڑا اعزاز ہے

    https://twitter.com/mubasherlucman/status/1491757883083665414
     

    یاد رے کہ جس تقریب کا ذکر مبشرلقمان کررہے ہیں اس اہم تقریب میں خوشقسمت ٹھہرنے والے ممالک کی فہرست کچھ اسطرح ہے

    اروشا ٹیکنیکل کالج، تنزانیہ
    مرکز برائے لچکدار تعلیم، سویڈن
    Iloilo سائنس اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی، فلپائن
    نیشنل سکلز یونیورسٹی، پاکستان
    نیشنل ہائیر انجینئرنگ سکول آف تیونس، تیونس
    یونیورسٹی آف مینجمنٹ "TISBI”، روس
    وائیکاٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، نیوزی لینڈ

     

     

    ٹیکنالوجی کے اعلیٰ کالجوں کو یونیسکو کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

     

    اس سلسلے میں یہ تقریب ابوی ظہبی میں ہوئی ، اس تقریب کو کامیاب کرنے میں یونیسکو ، یونیووک انٹرنیشنل سینٹر اور ہائیر کالجز آف ٹیکنالوجی کا تعاون حاصل تھا ، ہائیر کالجز آف ٹیکنالوجی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد سمیع نے کنسورشیم کے تمام شرکا کا خیر مقدم کیا ، اس کے ساتھ ساتھ یونیسکو ، یونیووک کے سربراہ فریڈرک ہیوبلز نے اس طرح کی معاون کنسورشیا کے ذریعے ٹیکنالوجی تعلیم کو فروغ دینے میں اپنے مرکز کے کردار کو بیان کرتے ہوئے اس کی ضرورت کی اہمیت کو واضح کیا ،

     

     

    یونیسکو ، یونیووک کے تمام آٹھ مراکز کے تعلیمی اداروں کے رہنماوں کی تقریب سے خطاب میں ہائیرکالجز آف ٹیکنالوجی متحدہ عرب امارات کے صدر اور چیف ایگزیکٹو پروفیسر ڈاکٹر عبدالطیف الشمسی بھی شامل تھے وائس چانلسر سکلز یونیورسٹی اور کنسورشیم کے رُکن پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوویڈ نے ہمیں ڈیجٹیلائزڈ اور انتہائی مربوط دنیا میں دھکیل دیا ہے

     

     

     

    اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ UNEVOC یونیسکو کے رکن ممالک کی اپنے TVET سسٹم کو مضبوط اور اپ گریڈ کرنے کی کوششوں میں مدد کرتا ہے۔

     

    کنسورشیم نے 7 فروری 2022 کو ایک آن لائن دستخطی تقریب کے ساتھ پراجیکٹ کے آغاز کا جشن منایا، جس کی میزبانی HCT نے کی، جس میں UNESCO-UNEVOC کے سربراہ فریڈرک ہیوبلر اور پروفیسر عبداللطیف الشامسی، HCT کے صدر اور سی ای او، ساتوں کے سربراہان کی موجودگی میں۔ شراکت دار ادارے، اور ڈاکٹر احمد سامی، حکمت عملی اور مستقبل کے HCT ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جو اس عالمی اقدام کے انتظام کے ذمہ دار ہیں۔

    پروجیکٹ کنسورشیم کا مقصد مستقبل کے ان ممکنہ منظرناموں کی نشاندہی کرنے کے لیے اپنے اراکین کی ادارہ جاتی مستقبل کی دور اندیشی کی صلاحیت کو فروغ دینا ہے، جس کے لیے عالمی ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (TVET) کے شعبے کو مخصوص قابل عمل حکمت عملیوں کے ساتھ تیار کیا جانا چاہیے۔

    اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، فریڈرک ہیوبلر نے نشاندہی کی کہ: "پروجیکٹ ‘مستقبل کی مستقبل کی انسٹیٹیوشنل صلاحیت برائے پوسٹ COVID-19 ورلڈ’ ایک بہت ہی مناسب اور اہم مسئلے کو حل کرتا ہے۔ پچھلے دو سالوں میں موجودہ وبائی بیماری کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور غیر یقینی صورتحال نے تعلیم کے شعبے سمیت معاشرے کے تمام حصوں کو متاثر کیا ہے۔ بحران نے یہ ظاہر کیا ہے کہ TVET اداروں کو ممکنہ خطرات کے ساتھ ساتھ مواقع کی نشاندہی کرنے اور ان کا جواب دینے کے لیے زیادہ چست اور بہتر طور پر تیار ہونا چاہیے۔

     

    پروفیسر عبداللطیف الشامسی، ایچ سی ٹی کے صدر اور سی ای او نے کہا کہ اس عالمی اقدام کے مرکزی مرکز کے طور پر یہ انتخاب HCT کی دیرپا اور مؤثر عالمی موجودگی اور TVET کے میدان میں ایک رہنما کے طور پر اس کی پہچان کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر قابل اطلاق اعلیٰ تعلیم کی منزل بننے کی HCT کی اسٹریٹجک خواہش کے مطابق ہے،

  • عید الفطر پرکتنی چھُٹیاں ہوں گی؟تفصیلات آگئیں‌

    عید الفطر پرکتنی چھُٹیاں ہوں گی؟تفصیلات آگئیں‌

    دبئی :عید الفطر پرکتنی چھُٹیاں ہوں گی؟تفصیلات آگئیں‌ا،طلاعات کے مطابق امارات کے سرکاری کلینڈر کے مطابق امارات میں عیدالفطر کی چھٹیاں 29 رمضان سے 3 شوال تک دی جائیں گی

    اس سال متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کو عید الفطر کے موقع پر چار یا پانچ چھٹیاں یقینی طور پر میسر آئیں گی۔ اماراتی اخبار ’خلیج ٹائمز‘ کا ایک رپورٹ میں کہنا ہے کہ فلکیاتی اندازوں کے مطابق امارات میں اس بار رمضان کا ا?غاز متوقع طور پر 2 اپریل سے ہوگا۔

    اسلامی مہینے 29 یا 30 دنوں کے ہوتے ہیں۔ فلکیاتی اندازے کے مطابق اس سال رمضان متوقع طور پر 30 دن کا ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ امارات میں 2 مئی کو عید الفطر کا پہلا دن ہوگا۔ اب امارات کے سرکاری کلینڈر کے مطابق امارات میں عیدالفطر کی چھٹیاں 29 رمضان سے 3 شوال تک دی جائیں گی۔

    اگر اس سال رمضان 29 دنوں کا ہوتا ہے تو اماراتی باشندوں کو چار دنوں کی چھٹیاں ملیں گی اور اگر رمضان کا مہینہ 30 روزوں پر محیط ہوتا ہے تو انہیں پانچ دنوں کی چھٹیاں ملیں گی۔اگر رمضان کا مہینہ واقعی 30 دنوں کا ہوا تو امارات میں ہفتہ 30 اپریل سے بدھ 4 مئی تک عیدالفطر کی چھٹیاں دی جائیں گی۔

    دوسری طرف پاکستان میں رمضان المبارک کی آمد کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں اور حکومت کی طرف سے غریب عوم الناس کے لیے رمضان پیکج کی تیاریاں بھی جاری ہیں ، یہ بھی امکان ہے کہ بہت جلد اس حوالے سے اعلان کردیا جائے گا ، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اس سلسلے میں احساس راش پروگرام کو ہی اپ ڈیٹ کیا جائے گا اور اس کی ابتدا رمضان المبارک کےمقدس مہینے میں کی جائے گی

  • حوثی باغیوں کے بعد عراقی تنظیم کے یو اے ای پر ڈرون حملے

    حوثی باغیوں کے بعد عراقی تنظیم کے یو اے ای پر ڈرون حملے

    حوثی باغیوں کے بعد عراقی تنظیم کے یو اے ای پر ڈرون حملے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای مسلسل ڈرون حملوں کی زد میں ہے، حوثی باغیوں کے بعد اب ایک نئی تنظیم نے یو اے ای پر ڈرون حملے کئے تا ہم یو اے ای کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ تین ڈرون مار گرائے ہیں،

    یو اے ای کی وزارت دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بدھ کو یواے ای پر ڈرون حملوں کی مذموم کوشش کو ناکام بنایا ہے،حالیہ ہفتوں میں یو اے پر یہ چوتھا حملہ ہے اس سے قبل تین ڈرون اور بیلسٹک میزائل کے حملے ہوئے،حالیہ حملہ کی ذمہ داری ایک غیر معروف گروپ اولیا واعد الحق نے قبول کی، حکام کا کہنا ہے کہ جس تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی وہ عراق میں سرگرم ہے

    اولیا واعد الحق نے یو اے ای پرڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح متحدہ عرب امارات پر ہم نے چار ڈرون سے حملہ کیا،اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا، ہم یہ حملے اسوقت تک جاری رکھیں گے جب تک متحدہ عرب امارات یمن اور عراق میں مداخلت بند نہیں کرتا ،اب نئے حملے مزید خطرناک اور شدت سے ہوں گے

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ وہ "کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے” اور اس ملک کی حفاظت کے لیے "تمام ضروری اقدامات” کر رہا ہے، حکام نے اعلان کیا ہے کہ یو اے ای کی طرف آنیوالے تمام ڈرون کو تباہ کر دیا گیا ہے

    ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے تین حالیہ حملوں کے بعد اب متحدہ عرب امارات کو اس کے شمال اور جنوب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے حوثیوں نے متحدہ عرب امارات پر کئی ڈرون اور میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جنہوں نے یمن میں سات سالہ خانہ جنگی میں اضافے اور علاقائی کشیدگی کو ہوا دی ہے۔

    یو اے ای پر ڈرون حملے کرنے والئ تنظیم نے 23 جنوری کو سعودی دارالحکومت ریاض میں یمامہ محل پر حملے کے بعد متحدہ عرب امارات کو دھمکی دی تھی۔ امارات کو عراق میں ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کی طرف سے دھمکی دی گئی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ متحدہ عرب امارات نے عراق کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں مداخلت کی تھی

    تہران نے متحدہ عرب امارات کے حملوں پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن یمن کے بحران کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے بدھ کے روز اپنے اماراتی ہم منصب سے ٹیلیفون پر یمن پر بات چیت کی۔

    دوسری جانب بہت سے عربوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ بائیڈن انتظامیہ نے ابھی تک حوثیوں کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر دوبارہ کیوں نامزد نہیں کیا، خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تناظر میں، ایک طرف امریکہ یو اے ای کی مدد کرنا چاہتا ہے لیکن یو اے ای پر حملے کرنے والے حوثی باغیوں کو دہیشت گرد قرار نہیں دے رہا،

    عربوں کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے غلطی کی جب اس نے گزشتہ سال حوثیوں کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بائیڈن انتظامیہ کے اس اقدام نے مشرق وسطیٰ میں سب سے خطرناک دہشت گرد گروہوں میں سے ایک کی حوصلہ افزائی کی ہے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    عرب لیگ کے 22 ارکان نے بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کو دوبارہ ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرے، بین الاقوامی امور کے ماہر عاطف سعداوی کا کہنا ہے کہ "بائیڈن انتظامیہ اپنی پوزیشن کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے کس چیز کا انتظار کر رہی ہے؟ کیا وہ تماشائی بننا جاری رکھنا چاہتی ہے؟اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اپنے متضاد موقف کو ختم کرے یمن میں اب جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ داری امریکہ پر ہے. بائیڈن انتظامیہ کا پہلا فیصلہ حوثیوں کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنا تھا، اور یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔

    یمن کی جنگ دنیا کا بدترین انسانی بحران بن چکی ہے۔ امریکی ساختہ بموں کا استعمال کرتے ہوئے سعودی قیادت میں فضائی حملوں میں اسکول کے بچے اور عام شہری مارے گئے ہیں۔ یمن کے حوثی باغیوں نے ملک کی خانہ جنگی کے دوران اندھا دھند بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

    بریکنگ، ابوظہبی ڈرون حملہ،ایک پاکستانی اور 2 بھارتی شہری مارے گئے

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    حوثیوں کے سعودی عرب،یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملے،یو اے ای نے میزائل تباہ کر دیئے

    اسرائیلی صدر کے دورہ کے دوران حوثی باغیوں کا یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملہ

    حوثی باغیوں کے حملے، امریکا کا جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے یو اے ای بھجوانے کا اعلان

  • اسرئیلی صدر اپنے پہلے تاریخی دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے: شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے استقبال کیا

    اسرئیلی صدر اپنے پہلے تاریخی دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے: شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے استقبال کیا

    دبئی اسرئیلی صدر اپنے پہلے تاریخی دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے: شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے استقبال کیا ،اطلاعات کے مطابق اسرئیل کے صدر آئزک ہیرزوگ آج اپنے پہلے سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات(یو اے ای) پہنچ گئے ہیں اور ان کے ہمراہ خاتون اول مشل ہیرزوگ بھی موجود ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے خلیج ٹائمز کے مطابق صدارتی پرواز کے ذریعے ان کی ابوظبی آمد پر متحدہ عرب امارات کے امور خارجہ اور عالمی تعاون کے وزیر شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے ان کا ایئر پورٹ پر استقبال کیا۔

     

     

    دوران پرواز بات کرتے ہوئے اسرائیلی صدر کا کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں کہ یہ بہت متاثر کن لمحہ ہے۔متحدہ عرب امارات آمد پر اسرئیلی صدر اور خاتون اول کا شاندار استقبال کیا گیا جس کے بعد صدر آئزک ہیرزوگ نے شیخ عبداللہ سے سفارتی سطح کی ملاقاتی کی۔

    شیخ عبداللہ بن زید نے 2020 میں وائٹ ہاؤس میں دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے ابراہام معاہدے معاہدے کے دوران متحدہ عرب امارات کے وفد کی قیادت کی تھی۔

     

    صدر آئزک ہیرزوگ نے متحدہ عرب امارات کی تیزی سے ترقی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں متحدہ عرب امارات میں اسرائیل کے صدر کی حیثیت سے پہلے دورے پر آرہا ہوں ۔متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کی جانب سے ابوظبی میں پرتپاک استقبال سے ہمیں خوشی ہوئی اور ہم بہت متاثر ہوئے ہیں۔

    دورے سے متعلق اسرائیلی صدارتی دفتر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی صدر آئزک ہیرزوگ اپنی نوعیت کے پہلے دورے پر گلف ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات گئے ہیں.

    اسرائیلی صدر ایک ایسے وقت میں متحدہ عرب امارات کا دورہ کررہے ہیں جبکہ خطے میں بہت زیادہ کشیدگی ہے اور عالمی طاقتیں ایران کے جوہری معہدے کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

     

    غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی صدر آئزک ہیرزوگ کا کہنا تھا کہ میں ولی عہد شیخ محمد بن زید کی ذاتی دعوت پر متحدہ عرب امارات کی قیادت سے ملاقات کروں گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنے پر میں امارات کی بے باک قیادت کی جرات کو سلام پیش کرتا ہوں اور اور یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اس خطے کے عوام کے لیے امن ہی بہترین متبادل ہے۔

    واضح رہے کہ ہیرزوگ امارات کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی صدر ہیں اور ان سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی دسمبر میں یو اے ای کا دورہ کیا تھا۔

    اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ بحرین کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے 2020 میں وائٹ ہاؤس میں معاہدوں پر دستخط کیے تھے، اس معاہدے کو "ابراہام ایکارڈ” کا نام دیا گیا تھا۔دونوں خلیجی ممالک اور اسرائیل خطے میں ایران اور اس کی اتحادی افواج و ملیشیا کے بارے میں یکساں تحفظات رکھتے ہیں۔

  • متحدہ عرب امارات کی جانب سےلاہور بم دھماکے کی مذمت

    متحدہ عرب امارات کی جانب سےلاہور بم دھماکے کی مذمت

    اسلام آباد: متحدہ عرب امارات نے لاہورانارکلی میں ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت کی طرف سے ہفتے کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ لاہور بم دھماکے کی مذمت کرتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی جانب سے گئی بزدلانہ کارروائی ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے ، دہشتگردی میں ملوث لوگوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات حکومت پاکستان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

    ایک بیان میں، وزارت خارجہ اور بین الاقوامی تعاون پر زور دیا گیا کہ متحدہ عرب امارات ان مجرمانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے، اور تمام انسانی اقدار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کو مستقل طور پر مسترد کرتا ہے جس کا مقصد سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ اور اصول.

    وزارت نے اس گھناؤنے جرم کے متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔

  • اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش بھی کردی

    اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش بھی کردی

    دبئی :اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش بھی کردی،اطلاعات کے مطابق ابو ظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید النہیان کو ریاست اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے فون کیا ہے ، جس میں عرب امارات پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔

    عرب امارات کے ڈپٹی سپریم کمانڈرشیخ محمد بن زاید النہیان سے گفتگو کرتے ہوئے حوثیوں کے حملوں کوبزدلی قرار دیتے ہوئے اسے ایک مجرمانہ فعل قراردای ، اور متحدہ عرب امارات پر اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت پر زور دیا۔

    اسرائیلی صدر نے ان مجرمانہ حملوں کے متاثرین کے لیے شیخ محمد سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔جس کے جواب میں شیخ محمد نے صدر ہرزوگ کا یو اے ای اور اس کے عوام کے تئیں ان کے موقف اور مخلصانہ جذبات کا شکریہ ادا کیا۔

    ادھر ابوظبی میں ہونے والے حوثی باغیوں کے حملے کے بعد اسرائیلی نے متحدہ عرب امارات کو سیکیورٹی انٹیلیجنس میں معاونت کی پیش کش کردی۔

    عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید کو تعزیتی خط لکھا جس میں انہوں نے ایک روز قبل ابوظبی میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی۔

    انہوں نے حوثی باغیوں کے راکٹ حملے میں تین شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ساتھ چلنے اور انتہا پسند تنظیموں کو شکست دینے کی پیش کش کی۔

    اپنے خط میں اسرائیلی وزیراعظم نے لکھا کہ ’اسرائیل خطے میں جنگ اور انتہا پسندی کے خلاف ہے، ہم اپنے اتحاد سے مشترکہ دشمن کو باآسانی شکست دے سکتے ہیں‘۔ نفتالی نے لکھا کہ ’اسرائیل اس جنگ میں ابوظبی کے شانہ بشانہ ہے اور ہم ہر قسم کے تعاون کو بھی تیار ہیں‘۔

    انہوں نے لکھا کہ ’اگر یو اے ای چاہیے تو عوام کی حفاظت اور اس طرح کے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے اسرائیل کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ متحدہ عرب امارات کو کسی بھی حملے کی صورت میں پیشگی اطلاع اور جوابی کارروائی کی معاونت فراہم کرسکتی ہے‘۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں منگل کے روز تین پیٹرولیم ٹینکرز پر ڈرون راکٹ حملے ہوئے، جس میں پاکستانی سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوئے۔

    راکٹ حملے کے بعد ابوظبی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب نئی تعمیر ہونے والی عمارت میں خوفناک آتشزدگی ہوئی تھی۔

    یمن کے حوثی باغیوں نے میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اس کارروائی کو اپنے خلاف جاری آپریشن کا ردعمل قرار دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ ہم ان دہشت گردانہ حملوں کا بھرپور جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔

  • ایران کےحمایت یافتہ حوثیوں کا ڈرون حملہ:پاکستان کا اماراتی حکام سےپاکستانی کی میت واپسی کیلئےرابطہ

    ایران کےحمایت یافتہ حوثیوں کا ڈرون حملہ:پاکستان کا اماراتی حکام سےپاکستانی کی میت واپسی کیلئےرابطہ

    اسلام آباد:ایران کےحمایت یافتہ حوثیوں کا ڈرون حملہ:پاکستان کا اماراتی حکام سےپاکستانی کی میت واپسی کیلئےرابطہ،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے اماراتی حکام سے حوثی باغیوں کے حملے میں پاکستانی کی میت کی واپسی سے متعلق رابطہ کیا ہے۔

    پاکستان سفارتخانہ ابوظبی نے ٹویٹ میں کہا کہ اماراتی حکام سے میت واپسی کیلئے رابطہ ہے، پاکستانی کی میت تدفین کیلئے جلد وطن بھیجی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ حوثی باغیوں کے حملے میں ایک پاکستانی اور 2 بھارتی زخمی ہوئے ہیں، سفیر پاکستان افضل محمود نے اسپتال کا دورہ کیا اور پاکستانی زخمیوں کی عیادت کی۔

    یاد رہے گزشتہ روز یمن کے حوثی باغیوں نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں مختلف تنصیبات پر ممکنہ طور پر ڈرون حملے کئے ہیں۔

    عرب ویب سائیٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں دو مقامات پر آگ لگنے کے مشتبہ واقعات ہوئے ہیں جو کہ ممکنہ طور پر ڈرون حملوں کا نتیجہ ہیں۔

    ابو ظہبی پولیس کا کہنا ہے کہ ابو ظہبی کے صنعتی علاقے مصفاح میں آئل کمپنی کے 3 ٹرکوں اور ایئرپورٹ کی ایسی جگہ پر آگ لگی ہیں جہاں تعمیراتی کام ہورہے تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے مقامات سے چھوٹے طیارے کے پرزے ملے ہیں جو ممکنہ طور پر ڈرون یوسکتے ہیں، یہی ڈرونز یہاں ممکنہ طور پر دھماکوں اور آگ کا سبب بنے ہیں۔

    پولیس نے کہا ہے کہ آئل ٹینکرز میں آگ لگنے سے ایک پاکستان اور 2 بھارتی شہری جاں بحق جب کہ 6 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب حوثی باغیوں کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے اندر فوجی آپریشن کیا ہے۔حوثی باغیوں کے ترجمان نے اس حملے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

    یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے عرب اتحاد کا اہم ملک ہے۔

    یو اے ای نے 2019 کے بعد سے یمن میں اپنے فوجیوں کی تعداد بہت کم کردی تھی لیکن یو اے ای کی جانب سے مسلسل یمن کی سرکاری فوج کو مسلح کرنے اور ان کی تربیت کی جارہی ہے۔

    حوثی باغی سعودی عرب اور یو اے ای کی تنصیبات پر بموں سے لیس ڈرونز کے ذریعے حملے کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب پر میزائل حملے بھی کئے جاتے رہے ہیں۔

  • ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ابو ظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی اتحاد نے یمن پر حملہ کیا ہے

    صنعا کے اللیبیہ ضلع پر سعودی جنگی طیاروں کے فضائی حملوں میں کم از کم 12 شہری ہلاک ہو گئے ہیں سعودی اتحاد نے ان حملوں کو ابوظہبی ہوائی اڈے اور المصافہ کے علاقے میں کل کی انصار اللہ کی کارروائی کا ردعمل قرار دیا۔ان حملوں کے نتیجے میں پانچ رہائشی مکانات تباہ ہو گئے۔ نیز صنعاء کے اسپتالوں کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اب تک 12 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوچکے ہیں۔

    حوثی باغیوں نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی ،اسکائی نیوز عربیہ نے منگل کی صبح رپورٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی افواج نے متحدہ عرب امارات میں حوثیوں کے حملوں کے جواب میں یمنی دارالحکومت صنعا پر بمباری شروع کردی ہے اتحادی فوج کے ایک بیان کے مطابق، ’’یہ فضائی حملے دھمکیوں اور فوجی ضروریات کے جواب میں شروع کیے گئے تھے۔اتحادی فضائیہ صنعا کے آسمان پر چوبیس گھنٹے آپریشن کر رہی ہے۔ ہم شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے فوجی کیمپوں اور حوثیوں کے اجتماعات سے دور رہیں

    میڈیا رپورٹ کے مطابق فضائی حملے میں سابق فوجی عہدیدار کے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہے، حوثیوں نے دعوی کیا ہے کہ سعودی حملے میں تقریبا 20 افراد ہلاک اور متعددزخمی ہوئے ہیں، حملےمیں متعدد گھر بھی تباہ ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے یو اے ای کے ہم منصب سے فون پر بات کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات پر حوثیوں کے حملے کی مذمت کی ہے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے ہم منصب شیخ محمد بن زاید کو فون کیا، جس کے دوران انہوں نے حوثی ملیشیا کے یو اے ای پر حملے کی مذمت کی۔دونوں رہنماؤں نے اس بات کا عزم کیا کہ یہ دہشت گردانہ کارروائیاں جنہوں نے مملکت اور متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا، دونوں ممالک کے "عزم اور ان جارحانہ طرز عمل کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے عزم” میں اضافہ کریں گے، جو حوثی ملیشیا کی طرف سے انجام دیے گئے ہیں، جنہوں نے یمن میں تباہی مچا رکھی ہے، یمنی شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ عوام اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے "افراتفری پھیلانے کی مذموم اور ناکام کوششیں” جاری رکھیں۔

    سعودی پریس ایجنسی کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ولی عہد شہزادوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی ان صریح خلاف ورزیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ان دہشت گردانہ جرائم کو مسترد اور مذمت کریں جو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

    سعودی ولی عہد نے جاں بحق افراد کے لیے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
    شیخ محمد بن زاہد نے مخلصانہ جذبات کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا،گفتگو کے دوران، انہوں نے علاقائی امور اور مشترکہ دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ٹویٹر پر کہا کہ آج مملکت اور متحدہ عرب امارات کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ حملے اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ملیشیا علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرات کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔”اس کے ساتھ ہی، ہم حوثیوں کی مداخلت سے نمٹنے اور مملکت اور اپنے خطے کی سلامتی کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

    حملے کے کچھ دیر بعد، یو اے ای کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے کہا کہ وہ حوثیوں کی ایک دہشت گرد تنظیم کی حیثیت کو بحال کریں۔ امریکی صدر جو بائیڈن، جنہوں نے گزشتہ سال اس تحریک کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی امریکی فہرست سے نکال دیا، دلیل دی کہ اس تقرری سے یمن کو انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے کیونکہ یہ ملک دنیا کے بدترین انسانی بحران کا شکار ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں حوثیوں کے حملوں کے پیچھے کیا ہے؟ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ڈرون حملے کا دعویٰ یمن کے حوثیوں نے متحدہ عرب امارات پر کیا، جس کے نتیجے میں ابوظہبی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے، متحدہ عرب امارات ، جو حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی زیرقیادت اتحاد کا رکن ہے، اور مارچ 2015 سے یمن کی حکومت کی باضابطہ حمایت کر رہا ہے – نے بڑی حد تک حوثیوں پر فائرنگ سے گریز کیا ہے۔ سعودی عرب نے یمن سے بھیجے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کا خمیازہ برداشت کیا ہے اور متحدہ عرب امارات پر حوثیوں کا آخری حملہ 2018 میں ہوا تھا۔

    متحدہ عرب امارات یمن سے آگے ہے، اور یمن کے ساتھ سعودی عرب کی طویل سرحد کے برعکس، اس ملک کے ساتھ کوئی سرحد نہیں ہے۔ لیکن حوثیوں کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو نشانہ نہ بنانے کی طویل عرصے سے ایک فعال حکمت عملی بھی دکھائی دیتی ہے،پچھلے کچھ سالوں سے، متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی براہ راست فوجی مداخلت کو کم کیا ہے۔

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

    بریکنگ، ابوظہبی ڈرون حملہ،ایک پاکستانی اور 2 بھارتی شہری مارے گئے

  • کورونا،اومی کرون اور اب فلورونا کے حملے:عرب امارات نے پھرپابندی عائد کردی

    کورونا،اومی کرون اور اب فلورونا کے حملے:عرب امارات نے پھرپابندی عائد کردی

    دبئی :کورونا،اومی کرون اور اب فلورونا کے حملے:عرب امارات نے پھرپابندی عائد کردی ،اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات کے غیر ویکسین یافتہ شہریوں پر 10 جنوری سے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    اماراتی جریدے نے وزارت خارجہ اور امارت کی سپریم کونسل فار نیشنل سیکیورٹی کی جانب سے جاری بیان کے حوالے سے مزید کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے وہ شہری جنہوں نے کورونا سے تحفظ کے لیے ویکسین کا کورس نہیں کیا انہیں 10 جنوری کے بعد امارات سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    وزارت خارجہ اور امارت کی سپریم کونسل فار نیشنل سیکیورٹی کی جانب سے جاری بیان کے حوالے سے مزید کہا ہے کہ وہ شہری جنہوں نے ویکسین کی دوخوراکیں لگوائی ہیں انہیں سفر کے لیے لازمی طور بوسٹر ڈوز بھی لگوانی ہوگی۔

    مذکورہ فیصلے سے وہ افراد مستثنی ہونگے جنہیں ویکسین سے طبی طورپر استثنی دیا گیا ہے علاوہ ازیں ایسے کیسز جو انسانی ترجیجات کے متقاضی ہوں یا علاج کی غرض سے انکا سفر کرنا ضروری ہو۔

    واضح رہے گزشتہ ہفتے سے کورونا کی نئی شکل ’اومی کرون ‘ اور کورونا کے کیسز میں غیر معمولی طورپر اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے عرب ممالک میں احتیاطی تدابیر سخت کرتے ہوئے ماسک اور سماجی فاصلے کی پابندی کی جارہی ہے۔

    ادھراطلاعات کے مطابق کورونا کی مزید شکلیں سامنے آرہی ہیں اور جو ماہرین نے خدشات ظاہر کیے تھے کہ سات سال تک کورونا مختلف انداز میں حملہ آور ہوتا رہے ان دعووں کی تصدیق میں قوت پیدا ہوتی جارہی ہے ، ادھر اسرائیل میں کورونا وائرس نے نئی شکل اختیار کرلی، پہلا کیس رپورٹ

    ابھی دنیا بھر میں کورونا کے نئے ویریئنٹ اومیکرون کے تابڑ توڑ حملے جاری ہیں کہ اسرائیل میں کورونا نے ایک نئی شکل اختیار کرلی۔اسرائیل میں کورونا وائرس اور فلو انفیکشن کا پہلا مشترکہ کیس سامنے آیا ہے جسے ’’فلورونا‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    سعودی اخبار عرب نیوز کے مطابق اسرائیلی طبی حکام نے پہلے فلورونا کیس کی تصدیق بھی کی ہے۔مذکورہ فلورونا وائرس ایک خاتون میں پایا گیا ہے جس نے حال ہی میں وسطی اسرائیل کے شہر پیتاہ تکوا کے ایک اسپتال میں بچے کو جنم دیا تھا۔

    نوجوان خاتون کو کورونا ویکسین نہیں لگائی گئی تھی۔ خاتون کی میڈیکل رپورٹس میں فلو اور کورونا وائرس دونوں کے پیتھو جینز کی مشترکہ موجودگی کا پتا چلا ہے۔

    اسرائیل میں سامنے آنے والے کورونا وائرس اور فلو انفیکشن کے امتزاج کو ’’فلورونا‘‘ کا نام دیا گیا ہے جبکہ ڈیلٹا اور اومیکرون کے امتزاج کو ’’ڈیلمیکرون‘‘ کہا جا رہا ہے۔

  • عرب امارات:یہودی بچّوں کے پہلے تربیتی کیمپ کا آغاز:یہودی مذہبی رہنما مشن پرمامور

    عرب امارات:یہودی بچّوں کے پہلے تربیتی کیمپ کا آغاز:یہودی مذہبی رہنما مشن پرمامور

    دبئی:عرب امارات میں اسرائیلی وزیراعظم کی آمد یہودیوں کے لیے بڑی مبارک ثآبت ہوئی :یہودی بچّوں کے پہلے تربیتی کیمپ کا آغازبھی انہیں تعلقات کے پیش خیمے کے طور پر پیش کیا جارہاہے: اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں یہودی بچّوں کے پہلے دس روزہ تربیتی کیمپ کا پیر کے روز سےآغازہوگیا ہے۔ملک مقیم ربی نے اس اقدام کو’’گیم چینجر‘‘قرار دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق الصفا ،دبئی میں واقع منی معجزات یہودی پری اسکول میں منعقدہ کیمپ گان ایزی میں شرکاء کو یہود کی تاریخ اور مذہبی طریقوں کے اسباق پڑھائے جائیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ گیند بازی اور ٹیلنٹ شوزوغیرہ بھی کیمپ کی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات میں مقیم ربی لیوی ڈچمین نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ ’’یہ سب کچھ زبردست ہے۔ یہ ابراہیم معاہدے کا براہِ راست نتیجہ ہے اور ہم اس کے بارے میں بہت پرجوش ہیں‘‘۔

    کیمپ گان ایزی کے آغاز کے موقع پر اتفاق سے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے یواے ای کاتاریخی دورہ کیا تھا۔انھوں نےابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی تھی۔ کسی اسرائیلی رہنما کا متحدہ عرب امارات کا یہ پہلا سرکاری دورہ تھا۔

    کیمپ گان ایزی دنیا بھر میں درجنوں مقامات پر منعقد ہوتا ہےاور وہ متحدہ عرب امارات میں یہودی بچّوں کو ان کے مذہبی ورثے کے بارے میں سکھانے کے لیے امریکا اور فرانس سے کونسلروں کولایا جارہا ہے۔ یہ کیمپ 22دسمبر تک جاری رہے گا۔اس میں شرکت کے لیے 50 سے زیادہ بچّوں نے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔

    واضح رہے کہ ربی ڈچمین خود بھی کیمپ گان ایزی میں ایک نوجوان کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ وہ گذشتہ سات سال سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ڈچمین نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ کیمپ متحدہ عرب امارات میں پرورش پانے والے یہودی بچوں کے لیے’کھیل کا پانسہ پلٹنے والا‘ہے۔

    اس سے انھیں نئے دوستوں سے تعلق داری قائم کرنے اور نئے لوگوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔اس ماحول میں متحدہ عرب امارات میں ایک بچّے کا بڑا ہونا معمول کی بات ہے۔

    ربی نے مزید کہا کہ ’’اگرچہ متحدہ عرب امارات میں یہودی برادری 2020 کے وسط میں اسرائیل اوریواے ای کے درمیان باضابطہ طور پرسفارتی تعلقات کے قیام سے پہلے بھی موجود تھی لیکن معاہدۂ ابراہیم پر دستخط دنیا بھر کے یہودکے لیے ایک اشارہ تھا کہ یو اے ای ان کے لیے ایک اچھا گھر بن سکتا ہے‘‘۔

    انھوں نے کہا کہ یہودی خاندانوں کے لحاظ سے اچانک متحدہ عرب امارات نقشے پرآگیا۔معاہدہ ابراہیم سے پہلے شاید وہ کبھی متحدہ عرب امارات میں آنے پر غور نہیں کرتے تھے کیونکہ انھیں یقین ہی نہیں تھا کہ اماراتیوں کااسرائیل کے بارے میں کیا نقطہ نظر ہوسکتا ہے؟ نیز دوسرے موضوعات پر وہ کیا رائے رکھتے ہیں؟‘‘ لیکن ربی اماراتی رہنماؤں کی جانب سے یہودی برادری کے ساتھ حسن سلوک کی خوب تعریف کی ہے۔

    اس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ دوطرفہ تعلقات معمول پر آنے کے بعد اس شانداربرتاؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ’’جب ہم متحدہ عرب امارات میں یہودی زندگی کا احیاء، رواداری اور بقائے باہمی کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ یواے ای میں بچّے ان ہی اقدار کے ساتھ پروان چڑھیں جواماراتی قیادت میں ہیں یعنی رواداری کی اقدار، احترام اور پُرامن بقائے باہمی کی اقداران میں بھی پائی جائیں