Baaghi TV

Tag: عرفان صدیقی

  • عرفان صدیقی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،نواز شریف کا پیغام پہنچایا

    عرفان صدیقی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،نواز شریف کا پیغام پہنچایا

    اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی پارٹی قائد نواز شریف کا خصوصی پیغام لے کر مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی : ن لیگی سینیٹر عرفان صدیقی جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچے اور ان سے ملاقات کی،ذرائع کے مطابق عرفان صدیقی پارٹی قائد میاں نواز شریف کا خصوصی پیغام لے کر پہنچے ہیں، ملاقات میں سیاسی صورتحال اور آئینی ترامیم پر مشاورت ہوئی۔

    بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں عرفان صدیقی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن سے دو دہائیوں سے تعلقات ہیں،میں انہیں مبارک باد دینے آیا تھا ایک سوال پر عرفان صدیقی نے کا کہ آئینی ترامیم سے متعلق معاملات دو ہفتوں میں واضح ہوجائیں گے مولانا فضل الرحمٰن کو الیکشن سے متعلق تحفظات ہیں انہوں نے اس بات کی تائید کی ہے کہ آئینی عدالت ہونی چاہیے اگر میڈیا کو کسی بڑی خبر کے انتظار ہے تو ایسا کچھ نہیں ہے اگر کوئی ووٹ کاسٹ کیا جائے تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ اُسے شمار نہ کیا جائےلمولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات غیر سیاسی ہے وہ پارلیمنٹ میں ہیں اور کھل کر اظہارِ خیال کرسکتے ہیں۔

    عرفان صدیقی نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو کیس میں 50 سال بعد کہا گیا ہم سے غلطی ہوگئی مولانا چاہتے ہیں آئینی ترمیم میں کوئی چیز آئین سے متصادم نہ ہو کسی آئینی ترمیم کا جج صاحبان سے کوئی تعلق نہیں ترمیم کے لیے وقت کی بھی کوئی قید نہیں ترمیم اس وقت ہوگی جب اسٹیک ہولڈرز اکثریت قائم کرلیں گے،مولانا فضل الرحمٰن کے بغیر آئینی ترامیم منظور ہو بھی رہی ہوں تو ہم ایسا نہیں چاہیں گےبانی پی ٹی آئی کو دیکھنا چاہیے کہ ملک ان کا بھی ہے۔

  • سعودی عرب میں 10 ہزار سے زائد،بھارت میں 738 پاکستانی جیلوں میں

    سعودی عرب میں 10 ہزار سے زائد،بھارت میں 738 پاکستانی جیلوں میں

    اسلام آباد ( محمد اویس) سینیٹ قائمہ کمیٹی خارجہ نے کمیٹی کو بتایا کہ بیرون ممالک میں کل 21409 پاکستانی مختلف جرائم میں قید ہیں متحدہ عرب امارت میں 5297، سعودی عرب میں 10432 اور بھارت میں 738 قیدی قید ہیں ۔چیئرمین قائمہ کمیٹی کے سوال کہ کیا صوبائی حکام غیرملکی حکام سے ملاقاتیں کرسکتے ہیں جس پر سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد بہت سی چیزیں صوبوں میں ڈیلیوٹ ہوگئی ہیں،کمیٹی نے سندھ طاس معاہدے کو دوبارہ کھولنے اور پاک افغان تعلقات پر بریفنگ مانگ لی۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس سینیٹر عرفان صدیقی کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں سینیٹر عبدالقادر اور سینیٹر شیری رحمان نے شرکت کی ۔وزرات خارجہ نے کمیٹی کو بتایا کہ بیرون ممالک میں کل 21409پاکستانی مختلف جرائم میں قید ہیں متحدہ عرب امارت میں 5297، سعودی عرب میں 10432 اور بھارت میں 738 قیدی قید ہیں ۔ہندوستان کی جانب پاکستان کو سندھ طاس معاہدے پر نوٹس کا معاملہ زیر بحث آیا ۔سینٹر عرفات صدیقی نے کہاکہ میڈیا کے مطابق سندھ طاس معاہدے کو کھولنے کا کہا جارہا ہے، سینٹر شیری رحمان نے کہاکہ ایسا نہ ہوکہ معاہدہ دوبارہ کھولنے سے پاکستان کو نقصان ہو، معاہدے جب ہوا تھا حالات کچھ اور تھے اب کچھ اور ہے، اس معاہدہ کو جو کسٹوڈین ہے ہوسکتا وہ دوبارہ اس طرح سے مدد نہ کرسکے، مودی پہلا شخص ہے جس نے پانی کو ویپن آئز (weponize) کیا، ہندوستان دریائوں پر ڈیمز بنا رہے ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ دوبارہ کھولنے کی وجہ سے پاکستان کو نقصان نہیں ہوگا؟ افغانستان کی وجہ سے امن وامان کی مسائل پیدا ہوئے اس پر بات ہونی چاہیے ۔ جب سے طالبان کی حکومت آئی ہے اس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے تجارت اور خطے کے ساتھ رابطوں پر مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ افغان کونسلر جنرل بھی قومی ترانے پر نہیں کھڑا ہواہے ،پاک افغان تعلقات پر بریفنگ دی جائے۔

    سندھ طاس معاہدے پر بریفنگ طلب،دوبارہ کھولنے سے نقصان تو نہیں ہو گا؟ کمیٹی
    سندھ طاس معاہدے پر کمیٹی نے بریفنگ مانگ لی ۔عرفان صدیقی نے کہاکہ اخبارات میں سندھ طاس معاہدے کو کھولنے کی باتیں ہورہی ہیں اس حوالے سے کچھ بتایا گیا ہے؟ وفاقی سیکرٹری نے کہاکہ سیکرٹری واٹر اور وٹر کمیشن سے معلومات لی جائیں وہ متعلقہ وزارت ہے ۔قومی ترانے پر کھڑے نہ ہونے پر افغان حکومت کے جواب کا انتظار ہے ہم نے ڈیماش دیا ہے حکومتی ادارے اگر کسی غیر ملکی سفارت خانے سے ملنا چاہتا ہے تو اس کے لیے وزارت خارجہ سے اجازت لینی ہوتی ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے پوچھ کیا وزیر اعلیٰ کے پی کے نے ملاقات کے لئے وزارت خارجہ سے اجازت لی تھی جس پر سیکرٹری نے کہاکہ میں یہ دیکھ کر بتاؤں گی کہ کیا اجازت لی تھی کہ نہیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا کہ آپ کو اس بارے میں معلوم ہونا چاہیے تھا ۔کیا صوبائی حکام غیر ملکی سفارتی حکام سے مل سکتے ہیں جس پر سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ 18ویں ترمیم کے بعد بہت سی چیزیں وفاق سے نکل کر صوبوں کے پاس چلی گئی ہیں اور بہت سی چیزیں ڈیلیوٹ ہوگئی ہیں ۔قومی ترانے پر کھڑے نہ ہونے کے معاملے پر صوبوں کو ہم نے ایڈوائزری بھیجی ہے تاکہ اس طرح کا واقع دوبارہ نہ ہو.

    بیرون ملک جرائم میں ملوث پاکستانی افراد کی فہرست طلب

    پی ایچ ڈی کے لئے بیرون ملک جانیوالے 57 اساتذہ واپس نہ آئے

    جعلی سفری دستاویزات پر بیرون ملک جانے والے 2 مسافر گرفتار

    اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خوشخبری،بیرون ملک بیٹھ کر اپنی پراپرٹی ٹرانسفر کرسکیں گے

    بیرون ملک پاکستانیوں کے شرمناک کام،50 فیصد جرائم میں ملوث

    بیرون ملک 29ہزار سے زائد پاکستانی جیلوں میں قید

    بھارت کی صنم فیس بک پر پاکستانی لڑکےکو دل دے بیٹھی،کر لی شادی

    بلاول کامیانمار میں تین پاکستانی نوجوانوں کے مبینہ اغوا کا نوٹس

    سعودی عرب میں 7 پاکستانیوں سمیت 106 افراد کو موت کی سزا

    کرغستان میں 1200 غیرقانونی پاکستانی ہیں جن کو جلد ڈی پورٹ کیا جائے گا، اسحاق ڈار

    پاکستانی سفارتکار کے باورچی کی شرمناک حرکت،بھارت نے ملک بدر کر دیا

    امریکا کے ساتھ میچ سے قبل پاکستانی کھلاڑی امریکا میں کیا "گلُ ” کھلاتے رہے؟

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

  • مولانا فضل الرحمان کا ردعمل مثبت ہے، عرفان صدیقی

    مولانا فضل الرحمان کا ردعمل مثبت ہے، عرفان صدیقی

    مسلم لیگ ن کے رہنما،سینٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے کوئی وقت نہیں مانگا،مولانا نے صرف اتنا کہا تجاویز کو تفصیل کیساتھ دیکھنا ہے

    عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا اصولی طور پر بہت سی چیزوں پر ایگری کرتا ہوں،مولانا نے کہا میں نے لوگوں کے سامنے جانا ہے اور خود تفصیلات کو جاننا چاہتا ہوں،ڈھائی 3 گھنٹوں کی ملاقات میں دیکھا مولانا کا ردعمل مثبت تھا،مولانا نے حکومت اور حکومت نے مولانا کی رائے سے اتفاق کیا مزید کچھ دن انتظار کیا جائے،وقت دیا ہے تاکہ مولانا فضل الرحمان اپنی رائے قائم کر سکیں، مولانا فضل الرحمان جزیات دیکھیں گے اور اپنی رائے دیں گے،اسمبلی اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو جائے گا،آئینی مسودہ کبھی پبلک نہیں ہوتا، قانون مطلوبہ اکثریت مانگتا ہے اگر حاصل نہیں ہوتی تو کوئی قیامت نہیں آتی، آئینی ترمیم ہو جائے گی اس میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی، وقت کا تعین نہیں ہے ہفتہ دس دن بھی لگ سکتے ہیں،

    واضح رہے کہ آئینی ترامیم کے مسودے بارے بات کی جائے تو گزشتہ 48 گھنٹوں میں مولانا فضل الرحمان سے حکومتی رہنماؤں کی متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں تا ہم گزشتہ شام وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مسودے کی کاپی ان کے پاس آ چکی ہے، وہیں جے یو آئی کے مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ مسودہ ہمیں نہیں ملا، مسودہ ملنے کے بعد غور خوض کریں گے ،اتنی جلدی ہی کیا ہے، ایک ماہ بھی مشاورت میں لگ سکتا ہے، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد آئینی ترامیم منظور کی جائیں ،لیکن حکومت نے آئینی ترامیم کی منظوری کے لئے اس سے قبل کوئی ہوم ورک نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے حکومت کو قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس ملتوی کروانا پڑے، نواز شریف بھی گزشتہ روز اسلام آباد گئے اور آئینی ترامیم کے لئے ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنی تھی مگر نواز شریف اجلاس ملتوی ہونے کے بعد واپس آ گئے

    حکومت کی کوشش ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو منایا جائے، مولانا فضل الرحمان سے حکومت کے مسلسل رابطے جاری ہیں، تحریک انصاف بھی مولانا فضل الرحمان سے رابطے میں ہے،گزشتہ رو زہونے والے خصوصی کمیٹی اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ وہ ایکسٹینشن یا مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے،اجلاس میں پی ٹی آئی نے موقف پیش کیا کہ جلد بازی میں قانون سازی نہ کی جائے، یہ ایسا آئینی معاملہ ہے جس پر مزید مشاورت درکار ہے، اپوزیشن جماعتوں نے آئینی عدالت کے معاملے پر حکومت کو مشروط حمایت کا یقین دلایا ہے۔

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

  • قومی املاک کو نقصان  اور انتشار کی سیاست کون سا انقلاب ہے؟عرفان صدیقی

    قومی املاک کو نقصان اور انتشار کی سیاست کون سا انقلاب ہے؟عرفان صدیقی

    اسلام آباد،ایس سی او تجارت ، سرمایہ کاری کانفرنس سے وفاقی وزیر تجارت جام کمال نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کے اقدامات کو سراہتے ہیں،بیلاروس ایس سی او ممالک میں ایک خوش آئند اضافہ ہے،ایس سی او ممالک کے درمیان تعلقات تاریخی اور ثقافتی اقدار پر مبنی ہیں،ایس سی او ممالک کے درمیان روابط کے مزید فروغ کے خواہاں ہیں،

    دوسری جانب سینیٹ میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے،75سال کی عمر میں مجھے ہتھکڑیاں لگائی گئیں،کاش اس وقت بھی اپوزیشن والے میری گرفتاری کی مذمت کرتے،ہم نے وہ قرض بھی ادا کئے جو واجب نہ تھے،پی ٹی آئی دور میں مسلم لیگ ن نے انتقامی کارروائیوں کا سامنا کیاہیروئن ڈالی گئی،دہشتگردی کی دفعات لگائی گئیں، احتجاج ،دھر نے اور لاک ڈاؤن کے نام پر ملک کو عدم استحکام سے دو چار کیا گیا،پاکستان کو ترقی اور استحکام چاہیے، پٹرول بم پھینکنا ،قومی املاک کو نقصان پہنچانااور انتشار کی سیاست کون سا انقلاب ہے؟پاکستان اور اس کے ادارے انشاءاللہ قائم رہیں گے،دوسروں پر الزام لگانے والوں کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے،

  • عرفان صدیقی نے سینٹ قائمہ کمیٹی تعلیم سے استعفی دے دیا

    عرفان صدیقی نے سینٹ قائمہ کمیٹی تعلیم سے استعفی دے دیا

    سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے سینٹ قائمہ کمیٹی سے استعفی دے دیا ہے۔ وہ اب تعلیم کے بجائے قومی صحت کمیٹی کے رکن ہوں گے جبکہ قومی صحت کمیٹی کی رکن مسلم لیگ (ن) کی سینیٹرراحت جمالی کو قائمہ کمیٹی تعلیم میں شامل کر لیا گیا ہے ۔

    یاد رہے کہ بدھ کو سینٹ قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے اجلاس کے دوران اُس وقت تلخی پیدا ہو گئی تھی جب کمیٹی کی چیئر پرسن سینیٹر بشری نجم بٹ نے اپنی جماعت کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی کو بات کرنے سے رو ک کر کمیٹی کے سیکرٹری کو بولنے کا موقع دے دیا تھا ۔اس پر پی ٹی آئی کی سینیٹر فوزیہ ارشد اور ایم کیو ایم کی سینیٹر خالدہ اطیب نے شدید احتجاج کرتے ہوئے چیئر پرسن کو عرفان صدیقی سے معافی مانگنے کو کہا تھا ۔سینیٹر بشری انجم نے معذرت کر لی جسے سینیٹر عر فان صدیقی نے منظور کر لیا۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے آج چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضاگیلانی سے ملاقات کی اور قائمہ کمیٹی تعلیم سے استعفی دے دیا ۔مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر راحت جمالی اب تعلیم اور عرفان صدیقی صحت کی رُکن ہوں گے مارچ 2021 سے مارچ 2024 تک سینیٹر عرفان صدیقی سینیٹ قائمہ کمیٹی تعلیم کے چیئرمین رہے تھے جبکہ سینٹ کے نئے انتخابات کے بعد سینٹر بشری انجم سینیٹ کو چیئر پرسن مقرر کیا گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم میں ایچ ای سی کی طرف سے پرائیویٹ سیکٹر جامعات پر پابندی کے معاملہ پر چیئرپرسن اور ممبران کمیٹی میں تلخی، چیئرپرسن کمیٹی نجی جامعات پر لگی پابندی ہٹانے کیلئے بضد جبکہ اراکین کمیٹی نے چیئرپرسن کے رویئہ کو ایچ ای سی کی اٹانومی سے کھلواڑ قرار دے دیا۔ چیئرپرسن کمیٹی اپنے رویئہ پر نادم، معزرت کر کے کاروائی آگے بڑھائی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم میں پرائیوٹ سیکٹر جامعات کے نمائندگان اور مالکان کو مدعو کیا گیا تھا ۔ پرائیویٹ سیکٹر جامعات کے مالکان نے کمیٹی شرکاء کے سامنے اپنے تحفظات رکھے۔ ایچ ای سی کے نمائندہ نے کمیٹی شرکاء کا بتایا کہ ایچ ای سی نے اسناد کی تصدیق کیلئے ایک پالیسی دے رکھی ہے جو جامعہ اپنے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کا ریکارڈ فراہم نہ کر سکے انہیں تصدیق نہیں دی جاتی۔ پمسیٹ اور یونیورسٹی آف سنٹرل ایشیا نے خلاف قانون نئے کیمپسسز کھولے اور بغیر اجازت کے لاکھوں ڈگریاں تقسیم کیں۔ ایچ ای سی کی طرف سے ان سے جب دیگر صوبوں میں کھولے گئے کیمپسسز کا ریکارڈ مانگا گیا تو وہ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اگر نجی یونیورسٹی مالکان اپنے فارغ التحصیل طلباء کا ریکارڈ فراہم کرتے ہیں تو ہائیر ایجوکیشن کمیشن اپنے کمیشن کے سامنے معاملہ ٹیک آپ کرے گی۔ غیر قانونی کیمپسز سے فارغ التحصیل طلباء کی ڈگریوں کی تصدیق کی اجازت دینا کمیشن کا اختیار ہے۔

    کمیٹی ممبران دوران اجلاس چیئرپرسن کمیٹی بشری انجم بٹ کے رویئہ سے نالاں بھی ہوئے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے معزرت بھی کی۔ کمیٹی اجلاس میں ایف ڈی ایکے ڈیلی ویجز ملازمین کو تنخواہوں کا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    قائمہ کمیٹی کی ایچ ای سی کو جعلی یونیورسٹیوں کو بے نقاب کرنے کی ہدایت

    5000 سے زائد طلباء کی ایچ ای سی کے پہلے لرننگ اسکلز اسسمنٹ ٹیسٹ میں شرکت

    منشیات اور تمباکو کا استعمال ،ایچ ای سی پالیسی 2021 کا نفاذ زیر غور

    ایچ ای سی نے 18تعلیمی اداروں کو نئے داخلے کرنے سے روک دیا

    ایچ ای سی کی جانب سے طالبہ کی ڈگری تصدیق میں تاخیر ،صدر مملکت برہم

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی میڈیا کوآرڈینیٹر سے دھماکہ خیزمواد برآمد،کالعدم تنظیموں سے تعلق،جسمانی ریمانڈ مل گیا

    تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے خلاف کریک ڈاون کا آغاز ہو گیا

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    طبل جنگ بج گیا، لڑائی شروع،پی ٹی آئی پرپابندی

  • بیرون ملک 29ہزار سے زائد پاکستانی جیلوں میں قید

    بیرون ملک 29ہزار سے زائد پاکستانی جیلوں میں قید

    اسلام آباد(محمد اویس)ایوان بالاءکی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفا ن الحق صدیقی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فارن سروسز اکیڈمی ، ادارہ برائے ریجنل سٹڈیز ، ادارہ برائے اسٹیٹجک سٹڈیز کے کام کے طریقہ کار اور کارکردگی کے علاوہ بیرون ممالک جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تعداد، قیدیوں کے نام ، قیدیوںکے جرائم ،قید کی مدت کے علاوہ ان کی رہائی کے لئے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فارن سروسز اکیڈمی ، ادارہ برائے ریجنل سٹڈیز ، ادارہ برائے اسٹیٹجک سٹڈیز کے کام کے طریقہ کار اور کارکردگی کے امور کے حوالے سے متعلقہ اداروں کے سربراہان کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں ان کی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ۔ اراکین کمیٹی نے کہاکہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے جس ادارے کے حوالے سے بریفنگ ہو ان کے ہیڈز کمیٹی اجلاس میں اپنی شرکت یقینی بنائیں ۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہاکہ وزارت خارجہ امور کے متعلقہ سربراہان کی ذمہ داری تھی کہ متعلقہ اداروں کے ہیڈ زکی شرکت کو یقینی بناتے ۔ اگر پارلیمنٹرین ملک کے مختلف حصوں سے ملک کی بہتری کے لئے کمیٹی اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں تو متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے اور سنجید گی سے لیں ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی کو آگاہ کیا جائے کہ ان اداروں کے سربراہان کمیٹی اجلاس میں کیوں نہیں آئے اور وزارت خارجہ امور میں کس کی ذمہ داری تھی کہ ان کو پابند کیا جاتا۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ایسے اداروں کو اس طرح کا رویہ نہیں رکھنا چاہیے پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے ۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہ انتہائی اہمیت کی حامل کمیٹی ہے متعلقہ اداروں کے سربراہان کو اپنی شرکت یقینی بنا کر معاملات پر آگاہی دینی چاہیے تھی۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان اداروں کی بریفنگ کے ایجنڈوں کو آئندہ اجلاس تک ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کے سربراہان کی شرکت کو یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ۔

    بیرون ممالک جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تعداد ،قیدیوں کے نام ، قیدیوں کے جرائم ،قید کی مدت کے علاوہ ان کی رہائی کے لئے وزارت خارجہ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ایجنڈے میں جو معلومات طلب کی گئی تھیں وہ بھی مکمل فراہم نہیں کی گئیں ۔ قائمہ کمیٹی اس معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایسا خصوصی ڈیسک بنانے کی ضرورت ہے جو صرف بیرون ممالک میں قید پاکستانیوں کے معاملات کو ڈیل کرے اور قیدیوں کے لواحقین سے رابطہ رکھے۔ وزارت خارجہ کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ زیادہ تر قیدیوں میں غیر قانونی طور بیرون ممالک میں رہائش اختیار کرنے والوں کی ہے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جب تک ان کے مکمل کاغذات نہیںملتے نام ، جرائم اور دیگر تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان کے بیرون ممالک 87 مشنز سے قیدیوں کی کل تعداد 29065 بتائی گئی ہے جن میں سے 18500 سے زائد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ہیں ۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ اس معاملے کو پہلے بھی اٹھایا گیا ہے ۔ تمام قیدیوں کے نام اور تفصیلات حاصل کیے گئے تھے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس کمیٹی کا سابقہ ریکارڈ بھی حاصل کیا جائے گا اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیںگے جس سے بیرون ممالک قیدیوں کی رہائی میں مدد مل سکے۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بیرون ممالک میں قید پاکستانیوں کی اکثریت معمولی جرائم کی وجہ سے ہے ۔ موثر اقدامات اٹھانے سے قیدیوں کوان کے خااندن سے ملایا جا سکتا ہے ۔سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ قائمہ کمیٹی خارجہ امور نے نہ صرف مانیٹرنگ کا کردار ادا کرنا ہے بلکہ دفتر خارجہ امور کو گائیڈ لائن بھی دینی ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر یہاں کسی بیرون ملک کے شہری کو گرفتار کیا جائے تو ان کا متعلقہ سفارتخانہ فوراً حرکت میں آتا ہے ہمارے مشنز کو بھی پوری طرح متحرک ہونا چاہیے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یورپی ممالک میں پرائیوسی قوانین بہت زیادہ ہیں قیدیوں کی رضا مندی کے بغیر وہاں کی حکومتیں معلومات فراہم نہیں کرتیں۔چیئرمین واراکین کمیٹی نے کہا کہ وہ ممالک جن میں سینٹرل ایشیاءو افریقہ وغیرہ شامل ہے وہاں کے قیدیوں کو ہماری بہت ضرورت ہے ۔ ان ممالک میں پاکستانی قیدیوں کی معلومات حاصل کی جائیں اور کمیٹی کو آگاہ کیا جائے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بیرون ممالک فارن مشنز نے قیدیوں کی رہائی کے لئے وہاں کی حکومتوں کے ساتھ کتنی خط وخطابت کی ہے اس کی تفصیلات سے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سعودی عرب اور یو اے ای ممالک کے ساتھ قیدیوں کی رہائی کے لئے جو اقدام اٹھائے گئے وہ بھی آگاہ کیا جائے ۔ قائمہ کمیٹی نے آج کے اجلاس کو متعلقہ اداروں کے سربراہان کی عدم شرکت اور نا مکمل معلومات کی بناءپر موخر کر دیا اور آئندہ اجلاس میں ان امور کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ۔

    کمیٹی کے آج کے اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عرفان صدیقی، سینیٹر شیری رحمان ، سینیٹر انوار الحق کاکڑ ، سینیٹر عطاالرحمن ، سینیٹرروبینہ قائم خانی ، سینیٹر محمد عبدالقادر کے علاوہ وزارت خارجہ امور کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    لاہور میں کئی علاقوں میں بجلی غائب،لیسکو حکام لمبی تان کر سو گئے

    ایک مکان کابجلی بل 10 ہزار،ادائیگی کیلیے بھائی لڑ پڑے،ایک قتل

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف

    عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری مفتاح اسماعیل کا وزیرا عظم سے بجلی کے معاملے پر نوٹس لینے کی اپیل

  • آج تک کسی کو شناختی کارڈ نہ بنانے پر سزا نہیں ہوئی، چیئرمین نادرا

    آج تک کسی کو شناختی کارڈ نہ بنانے پر سزا نہیں ہوئی، چیئرمین نادرا

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ۔

    چئیرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر نے نادرا کی کارکردگی پر بریفنگ دی، چیئرمین نادرانے کہا کہ نادرا نے واٹس ایپ چینل بنایا جس پر ایک اشاریہ 6 ملین فالورز ہیں، سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ جب 18 سال کا شہری شناختی کارڈ کے لیے نادرا سے رجوع کرتا ہے تو کتنے عرصے میں کارڈ بن جاتا ہے؟ چیئرمین نادرا نے کہا کہ رولز کہتے ہیں کہ 19 سال 3 ماہ تک ہر شہری پر کارڈ بنانا لازم ہے بصورت دیگر سزا ہو گی، شناختی کارڈ نا بنانے کی صورت میں 50 ہزار جرمانہ اور ایک سال کی قید کی سزا ہے، عرفان صدیقی نے کہا کہ آج تک کسی کو شناختی کارڈ نا بنانے پر سزا ہوئی؟ چیئرمین نادرا نے کہا کہ آج تک کسی کو شناختی کارڈ نا بنانے پر سزا نہیں ہوئی، پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ ہر صوبے کے قوانین مختلف اور ہم آہنگ نہیں ہیں،ہونا تو یہ چاہیے کہ یونین کونسل کے ساتھ رجسٹرڈ شہریوں کا ڈیٹا نادرا کے پاس ہو اور وہ شناختی کارڈ بنائے،پاکستان میں 70 ملین افراد کے پاس اسمارٹ فون ہے،

    بنگالیوں کے پاس دستاویز نہیں،شناختی کارڈ جاری نہیں کر سکتے،چیئرمین نادرا
    چیئرمین نادرا نے کمیٹی کو بتایا کہ افغانیوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے میں 9 سو ملازمین ملوث تھے جن کا سعودی عرب نے 12086پاسپورٹ کا ڈیٹادیا تھا ۔ان کے خلاف کارروائی جاری ہے ۔شہادت اعوان نے کہاکہ بنگالی جو کراچی میں رہتے ہیں ان کو شناختی کارڈ جاری کئے جائیں کیوں کہ ان کی تیسری نسل پاکستان میں پیدا ہوئی ہے ان کے پاس شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے پولیس ان کو تنگ کررہی ہے ۔چیئیرمین نادرا جنرل افسر منیر نے بتایا کہ بنگالیوں کو شناختی کارڈ جاری نہیں کرسکتے ہیں ان کے پاس کسی قسم کے دستاویزات نہیں ہیں جو شہریت دینے کے لیے ضروری ہے ۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ جو قانون بنگالیوں کو شہریت دینے سے منع کرتا ہے کیا وہ قانون افغانیوں اور دوسرے ممالک کے لوگوں کو بھی شہریت سے منع کرتا ہے ۔چیئرمین نادرا نے کمیٹی کو بتایا کہ بیرون ملک پیدا ہونے والے پاکستانی بچوں کو 90دن کے اندر قریبی قونصلٹ (سفارت خانے میں) انداج کرنا ضروری ہے لوگ بچوں کے اندراج نہیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔

    2023 میں 3771 اسمگلر گرفتار،چھ لاکھ سے زائد افغانوں کو واپس بھیجا،ڈی جی ایف آئی اے
    ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ 2023میں3771سمگلروں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 49 انتہائی مطلوب سمگلر تھے ۔8706افغانوں کوپاکستان سے دوسرے ملک منتقل کیا ہے جو افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد پاکستان آئے تھے ۔ 6لاکھ 65ہزار567افغانوں کو واپس افغانستان بھیجا ہے ۔دوسال میں 415 ریڈ نوٹس جاری کئے گئے،184 پاکستانیوں کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان واپس لائے ہیں ۔45ہزار80کنکشنز پر 1.10ارب یونٹس کی اور بلنگ کی گئی جس کی ایف آئی اے نے نشاندہی کی اور ریکوری کی گئی ۔ڈی جی امیگریشن نے کمیٹی کو بتایا کہ اس سال 11ہزار لوگوں کو آف لوڈ کیا ہے گزشتہ سال 20ملین لوگوں کو چیک کیا جن میں سے 1 کروڑ پاکستان سے گئے اور ایک کروڑ پاکستان آئے ۔ اس سال اب تک 10ملین سے زائد مسافروں کو چیک کیا ۔

    مالی سال 2023-24 میں 63 لاکھ 36 ہزار 90 پاسپورٹ جاری کئے،ڈی جی پاسپورٹ
    ڈی جی پاسپورٹ مصطفیٰ جمال نے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ مالی سال 2023-24 میں 63 لاکھ 36 ہزار 90 پاسپورٹ جاری کئے گئے ۔جبکہ گذشتہ مالی سال ہمیں 45ارب 17کروڑ 70لاکھ آمدن ہوئی ہے ۔ای پاسپورٹ کی طرف جارہے ہیں فی الحال 6ہزار ای پاسپورٹ روزانہ بنارہے ہیں 163ریجنل پاسپورٹ آفس کی اپ گریڈیشن کررہے ہیں ۔1.8ارب روپے وزارت خارجہ نے دیئے ہیں ان سے واجبات ادا کررہے ہیں اوورسیز کا پاسپورٹ کا کوئی بیک لاک نہیں ہے ۔6عام پاسپورٹ بنانے والی مشین اور 2 ای پاسپورٹ کی مشین خرید لی ہیں ستمبر تک مشین پاکستان آجائیں گی۔ 1لاکھ 65ہزار پاسپورٹ کا بیک لاک ہے ۔سینیٹر عبدالقادر نے کہاکہ ہمیں تو بتایا گیا ہے کہ 6لاکھ تک پاسپورٹ کا بیک لاک ہے؟فیصل سلیم نے کہاکہ سفارتی پاسپورٹ کے بارے میں بتائیں گے کہ جب وہ عہدے پر نہیں رہتے تو ان کے پاسپورٹ منسوخ ہوتے ہیں کہ نہیں؟ڈی جی نے بتایا کہ سفارتی پاسپورٹ کو ان کی معیاد ختم ہونے کے بعد منسوخ کردیا جاتا ہے ۔

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

  • عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا

    عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا

    عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
    مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے

    عرفان صدیقی

    نامور شاعر محمد عرفان المعروف عرفان صدیقی 8 جنوری 1939ء میں اترپردیش کے شہر بدایوں میں پیدا ہوئے تھے، عرفان صدیقی کی ولادت ایک علمی خانوادہ میں ہوئی، جس میں مذہب اور شعر گوئی کی روایت کئی پشتوں سے چلی آرہی تھی، ان کے پردادا مولانا محمد انصار حسین حمیدی زلالی بدایونی شمس العلما خواجہ الطاف حسین حالی کے شاگرد تھے اور دادا مولوی اکرام احمد شاد صدیقی، مولانا سید علی احسن مارہروی کے شاگرد تھے، عرفان صدیقی کے والد مولوی سلمان احمد صدیقی ہلالی بدایونی ایک وکیل اور صاحب طرز ادیب و شاعر تھے، ان کی والدہ مرحومہ رابعہ خاتون کو بھی شعر و ادب سے خاص انسیت تھی اور خود شعر بھی کہتی تھیں، ان کے بڑے بھائی نیاز بدایونی بھی شاعر تھے، محشر بدایونی اور دلاورفگار ان کے قریبی رشتےدار تھے۔

    عرفان صدیقی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ضلع بدایوں کے محلہ ”سُوتھا“میں اپنے گھر میں حاصل کی، پھر کرسچین ہائر سکنڈری اسکول بدایوں سے میٹرک کا امتحان 1953ء میں پاس کیا حافظ صدیق میسٹن اسلامیہ انٹر کالج بدایوں سے انٹر میڈیٹ، بریلی کالج بریلی سے1957ء میں بی۔اے اور 1959ء میں ایم۔اے کیا۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن سے صحافت کا ڈپلوما کیا۔

    1962ء میں حکومت ہند کے محکمہ اطلاعات و نشریات اور وزارت دفاع کے مختلف شعبوں میں اطلاعات، خبر نگاری اور رابطہ عامّہ کی مختلف ذمہ داریوں کو انجام دیتے رہے۔ ڈپٹی پرنسپل انفارمیشن افسر کے عہدے سے 1998ء میں وظیفہ یاب ہوئے اور لکھنو میں آخری دم تک قیام رہا۔

    عرفان صدیقی کی شاعری کے پانچ مجموعے: کینوس، شبِ درمیاں، سات سماوات، عشق نامہ اور ہوائے دشت ماریہ کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی شاعری کی کلیات’دریا‘کے نام سے پاکستان میں اشاعت پذیر ہوئی عرفان صدیقی ایک اچھے مترجم بھی تھے ۔ انہوں نے کالی داس کی ایک طویل نظم ’رت سنگھار‘اور کالی داس کے ڈرامے ’مالویکا اگنی متر‘ کا ترجمہ براہ راست سنسکرت سے اردو میں کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مراکش کے ادیب محمد شکری کے سوانحی ناول کا ترجمہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے 1100ء سے 1850ء تک کے اردو ادب کا ایک جامع انتخاب بھی کیا تھا۔ جو ساہتیہ اکیڈمی سے اشاعت پذیر ہوا۔ 1998 میں عرفان صدیقی کو اترپردیش کی حکومت نے میر اکادمی کا اعزاز عطا کیا تھا،15؍اپریل 2004 کو درمیانی شب میں لکھنؤ میں دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔ نماز جمعہ کے بعد ان کی تدفین ڈالی گنج کے قبرستان میں ہوئی۔

    بحوالہ ریختہ ڈاٹ کام

    عرفانؔ صدیقی کے چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریت پر تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے
    آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر
    ———-
    عجب حریف تھا ، میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
    مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
    ———-
    تو نے مٹی سے الجھنے کا نتیجہ دیکھا
    ڈال دی میرے بدن نے تری تلوار پہ خاک
    ———-
    توڑ دی اُس نے وہ زنجیر ہی دلداری کی
    اور تشہیر کرو اپنی گرفتاری کی
    ———-
    شمعِ خیمہ کوئی زنجیر نہیں ہم سفراں
    جس کو جانا ہو چلا جائے ، اجازت کیسی
    ———-
    اب سخن کرنے کو ہیں نو واردانِ شہرِ درد
    اٹھیے صاحب ! مسندِ ارشاد خالی کیجیے
    ———-
    ہم سب آئنہ در آئنہ در آئنہ ہیں
    کیا خبر کون کہاں کس کی طرف دیکھتا ہے
    ———-
    نقش پا ڈھونڈنے والوں پہ ہنسی آتی ہے
    ہم نے ایسی تو کوئی راہ نکالی بھی نہیں
    ———-
    رات کو جیت تو سکتا نہیں لیکن یہ چراغ
    کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
    ———-
    جل بجھیں گے کہ ہم اس رات کا ایندھن ہی تو ہیں
    خیر دیکھیں گے یہاں روشنیاں دوسرے لوگ
    ———-
    زمانہ کل انہیں سچائیاں سمجھ لے گا
    تم اک مذاق سمجھتے ہو تہمتوں کو ابھی
    ———-
    اپنے لئے تو ہار ہے کوئی نہ جیت ہے
    ہم سب ہیں دوسروں کی لڑائی لڑے ہوئے
    ———-
    ہُو کا عالم ہے گرفتاروں کی آبادی میں
    ہم تو سنتے تھے کہ زنجیرِ گراں بولتی ہے
    ———-
    اٹھو یہ منظرِ شب تاب دیکھنے کے لیے
    کہ نیند شرط نہیں‌خواب دیکھنے کے لیے
    ———-
    ایک کوشش کہ تعلق کوئی باقی رہ جائے
    سو تری چارہ گری کیا ، مری بیماری کیا
    ———-
    ہم نے مدّت سے اُلٹ رکھّا ہے کاسہ اپنا
    دستِ زردار ترے درہم و دینار پہ خاک
    ———-
    میں تو اس دشت میں خود آیا تھا کرنے کو شکار
    کون یہ زین سے باندھے لیے جاتا ہے مجھے
    ———-
    یہ تیر اگر کبھی دونوں کے درمیاں سے ہٹے
    تو کم ہو فاصلۂ درمیاں ہمارا بھی
    ———-
    کہیں خرابۂ جاں کے مکین نہیں جاتے
    درخت چھوڑ کے اپنی زمیں نہیں جاتے
    ———-
    اگر میں فرض نہ کرلوں کہ سن رہا ہے کوئی
    تو پھر مرا سخن رائیگاں کہاں جائے
    ———-
    مجھے یہ زندگی نقصان کا سودا نہیں لگتی
    میں آنے والی دنیا کوبھی تخمینے میں رکھتا ہوں
    ———-
    پیشِ ہوس تھا خوانِ دو عالم سجا ہوا
    اس رزق پر مگر گزر اوقات نہیں ہوئی
    ———-
    یہ کائنات مرے بال و پر کے بس کی نہیں
    تو کیا کروں سفرِ ذات کرتا رہتا ہوں
    ———-
    عذابِ جاں ہے عزیزو ، خیالِ مصرع ء تر
    سو ہم غزل نہیں کہتے ، عذاب ٹالتے ہیں
    ———-
    لوگ کیوں مجھ کو بلاتے ھیں کنارے کی طرف
    میں جہاں ڈوب رھا ھوں وہ کنارہ ہی تو ہے
    ———-
    چاہتی ہے کہ مجھے ساتھ بہا لے جائے
    تم سے بڑھ کر تو مجھے موجِ فنا چاہتی ہے

  • پاکستان کو نوازدو، ن لیگ کا منشور،ایک کروڑ نوکریاں،مہنگائی میں کمی

    پاکستان کو نوازدو، ن لیگ کا منشور،ایک کروڑ نوکریاں،مہنگائی میں کمی

    مسلم لیگ ن کی منشور کی رونمائی تقریب کا آغاز،تقریب میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف،مریم نواز، شہباز شریف ،احسن اقبال،اسحاق ڈار سمیت دیگر شریک تھے

    پاکستان کو نواز دو کے سلوگن سے مسلم لیگ ن نے انتخابی منشور جاری کر دیا،مسلم لیگ ن نے پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ اپنے منشور میں کر دیا،مہنگائی میں تاریخی کمی،اقتصادی شرح نمو 6 فیصد،فی کس آمدنی 2 ہزار ڈالر،تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے گا،مسلم لیگ ن کے منشور میں آئینی و قانون اصلاحات کا ذکر، خاص طور پر ججوں کی تقرری کو میرٹ اور شفاف طریقے سے کرنے پر زور دیا گیا ہے،کسانوں کیلیے سود سے پاک قرضے،فصلوں کے نقصان میں کمی کیلیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال،زیادہ پانی والی فصلوں کی حوصلہ شکنی،کھاد کی بروقت اور کم قیمت پر دستیابی،کھیت سے مارکیٹوں تک سڑکوں کی تعمیر،مسلم لیگ ن کا زراعت کی ترقی کیلیے منشورہے. معاشی ترقی کو اگلے دو سال ۵ فیصد اور اسکے بعد 6 فیصد تک لے جایا جائے گا، صنعتی ترقی کو 7 فیصد تک بڑھایا جائے گا، فی کس آمدنی کو 2000 ڈالرز سالانہ تک بڑھایا جائے گا ، ٹیکس کی شرح کو 10.4 سے 13.5 فیصد تک بڑھایا جائے گا.

    نیب کا خاتمہ،چھوٹے مقدمات کا فیصلہ دو ماہ میں،عدلیہ میں ڈیجیٹل نظام،ن لیگ کا منشور
    مسلم لیگ ن کے انتخابی منشور میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کویقینی بنایا جائے گا، آرٹیکل 62 اور 63 کو اپنی اصل حالت میں بحال کیا جائے گا، عدالتی، قانونی، پنچایت سسٹم، تنازعات کے تصفیے کا متبادل نظام ہو گا، عدالتی، قانونی اور انصاف کے نظام میں اصلاحات کی جائیں گی، بر وقت اور مؤثر عدالتی نظام کا نفاذ کیا جائے گا، یقینی بنایا جائے گا کہ بڑے اور مشکل مقدمات کا فیصلہ ایک سال کے اندر ہو گا، چھوٹے مقدمات کا فیصلہ دو ماہ میں سنایا جائے گا، نیب کا خاتمہ کیا جائے گا، انسداد بدعنوانی کے اداروں اور ایجنسیوں کو مضبوط کیا جائے گا، ضابطہ فوجداری 1898 اور 1906 میں ترامیم کی جائے گیا، مؤثر، منصفانہ اور بروقت پراسیکیوشن ہو گی، عدالتی کارروائی براہ راست نشر کی جائے گی، کمرشل عدالتیں قائم کی جائیں گی، سمندر پار پاکستانیوں کی عدالتیں بہتر اور مضبوط بنائی جائیں گی، عدلیہ میں ڈیجیٹل نظام قائم کیا جائے گا،

    ملک کنویں میں گرنے والا تھا جسے بچایا گیا، عرفان صدیقی
    چیئرمین منشور کمیٹی عرفان صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے منشور کے ساتھ ہی دھند چھٹ گئی ہے جو نیک شگون ہے۔ نومبر میں قائدین نے کام سونپا کہ منشور بنایا جائے ،کوئی ایسی چیز منشور میں نہیں جو ہم اقتدار میں آکر کر نہ سکیں۔ مختلف مراحل میں قیادت کی رہنمائی آتی رہی تاخیر بھی ہوتی رہی تاخیر اس لئے مسلسل اصلاحات و ترمیم ہوئی،
    منشور کےلئے سنجیدہ جماعت کی سنجیدہ کوشش رہی ،ہم نے 32ذیلی منشور کمیٹیاں تشکیل دیں، منشور کمیٹی میں اسحاق ڈار، احسن اقبال، پرویز رشید ، خواجہ سعد رفیق ،اویس لغاری ، کامران مائیکل ، بشیر میمن ، بیرسٹر امجد ملک شامل رہے۔ قائد مسلم لیگ ن خود باقاعدہ جائزہ لیتے رہے، 8، 10 نکات لکھ کر قائد کو دے دیتا تو بڑا آسان تھا اسے جلسے میں رکھنا، ہم نے ماضی کی کارکردگی کو بھی منشور کا حصہ بنایا ہے ، جو وعدے کیے تھے وہ کتنے پورے کیے، آج کے نوجوان نے ہر طرح کی حکومت دیکھ لی ہے، پی پی پی, مسلم لیگ ن, پی ٹی آئی ,مخلوط حکومت سب کی کارکردگی آج کے نوجوان نے دیکھ لی ہے، ان کے لیے فیصلہ کرنا بڑا آسان ہے، مہنگائی جو 30 ،40 پر چلی گئی ہے اسے 3 ،4 پر رکھا ہوا تھا، 16 ماہ کی مخلوط حکومت کے کاموں میں جائیں تو بڑی تفصیل ہے،ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے، ملک کنویں میں گرنے والا تھا جسے بچایا گیا، میاں نوازشریف نے ہدایت کی تھی منشور میں ایسا نقطہ یا وعدہ نہیں شامل ہونا چاہیے جسکو ہم پورا نہ کرسکیں،یہ سنجیدہ جماعت کا سنجیدہ منشور ہے

    نواز شریف نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا تھا کہ میں بیس بیس گھنٹے کے اندھیرے دور کردوں گا،شہباز شریف
    صدر مسلم لیگ ن میاں شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک روایت ہے کہ ہر الیکشن میں جانے سے پہلے ہر پارٹی اپنا منشور پیش کرتی ہے،روایتی منشور آج تک پیش ہوتے رہے،کتنی سیاسی پارٹیوں نے ان پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی،نواز شریف نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا تھا کہ میں بیس بیس گھنٹے کے اندھیرے دور کردوں گا،انھوں نے کہا تھا کہ اپنے پانچ سال میں ان مسائل کو ختم کرنے کی کوشش کروں گا،چودہ اگست دو ہزار چودہ کو لانگ مارچ شروع ہوا اسلام آباد کی طرف،نئی منتخب عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت کے خلاف لانگ مارچ ہوا،جب اے پی سی کا افسوسناک واقعہ ہوا تو یہ دھرنا ختم کرنا پڑا،اے پی سی کے بعد دھرنے ختم کیے گئے، نواز شریف نے اس سب کے باوجود ساڑھے تین سال میں 11 ہزار میگا واٹ کے منصوبے لگائے،کراچی کی گرین لائن تحفہ کے طور پر سندھ کی عوام کو دی، منشور سب پیش کرتے ہیں, عمل کوئی کوئی کرتا ہے،تعلیم کے چیمپئن بننے والوں نے دس سال اپنے صوبے میں کیا کیا سب جانتے ہیں، پی کے ایل آئی گردوں اور جگر کی پیوند کاری کے 20 ارب کی لاگت سے مکمل ہوا، کے پی کے میں ہسپتالوں کو برباد کر دیا انہوں نے، نواز شریف اس شخص کا نام ہے، جس نے دعوے کم کیے اور کام زیادہ کیا، خلاصہ یہ ہے کہ اس منشور میں نوجوان نسل کو ماضی کی طرح تعلیم اور تربیت کے حوالے سے جدید اصولوں کو اپنائیں گے،نوکری کے مواقع فراہم کرنے, پلان دینے کے حوالے سے ایجنڈا ہے،دنیا زراعت کی ترقی میں جہاں پہنچ چکی ہے، اس میں ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، نواز شریف کے منشور کا حصہ قوم کو جوڑنا ہے،ذاتی اختلافات کو بُھلا کر کام کرنا ہے، زہر جو گھولا گیا ہے یہ آسانی سے ختم نہیں ہوگا،

    طاہر القادری کا پاکستان کی سیاست میں کیا کردار ہے جس کے ساتھ آپ چل رہے ہیں ،نواز شریف
    سابق وزیراعظم، قائد مسلم لیگ ن ، نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہر انتقامی کارروائی کے بعد آج پھر آپ کے سامنے بیٹھے ہیں،ہم سب آج پھر آپ کے سامنے اپنا منشور پیش کرنے کیلئے بیٹھے ہیں،عوام کی خدمت کرنے پر کئی بار جیل کا سامنا کرنا پڑا، آج پھر الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں، کیا عجیت اتفاق ہے، کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ غلطی ہوئی کہاں ،انتخابات 2024 لڑنے کی بھرپور تیاری کر رہے ہیں، بڑا عجیب لگ رہا ہے کہ حکومت سے گرائے جانے کے بعد سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے فیصلے کے بعد جیلیں بھگتنے کے بعد آج پھر نواز شریف, شہباز شریف, مریم نواز اور دیگر بھی منشور پیش کر رہے،آج انتقامی کاروائیوں کے بعد بھی ہم سب ایک جگہ موجود ہیں کسی شکایت ، گلے شکوے کے موڈ میں نہیں، یہ چند صفحات سامنے ہیں، پڑھنا نہیں چاہتا، زبانی بولنے کی کوشش کرتا ہوں،پچھلی حکومت نے جو کیا میں ہوتا تو کبھی یہ سب نہ کرتا، پیپلز پارٹی کی حکومت سے بھی ہمارے بہت ایشوز تھے،منشور سے ہٹ کر کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں آج وعدہ کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی نے جب پورا نہیں کیا تو میں نے لانگ مارچ کیا، جج بحال ہو گئے تو واپس لاہور رخ کر لیا، لوگوں نے کہا واپس نہیں جاؤ اسلام آباد جاؤ، میرے منشور میں نہیں لانگ مارچ کرکے حکومت کو ختم کرنا،ہم الیکشن کے بعد جیت گئے ہم نے زرداری کو 6 ماہ کے لیے صدر تسلیم کیا، اس عہدے کی اسی طرح عزت کی،طاہر القادری کے ساتھ کیا واسطہ تھا,اس کا ملک کے ساتھ کیا واسطہ تھا، ان کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا، ن لیگ نے پاکستان کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ دیگر جماعتوں کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا، مگر ہمارے منصوبے کسی سے مخفی نہیں۔مسلم لیگ ن کا منشور بڑی محنت سے تیار کیا گیا ہے اور اگر اللہ تعالی نے ہمیں حکومت میں آنے کا موقع ملا تو اس پر بھر پور عمل درآمد کرینگے،ہم وہ کرینگے جو ہمارے منشور میں لکھا ہے اور اگر اپوزیشن میں بھی گئے تو وہ کچھ نہیں کرینگے جو اُنہوں نے کیا، طاہر القادری کا پاکستان کی سیاست میں کیا کردار ہے جس کے ساتھ آپ چل رہے ہیں ،
    جیل میں مجھے ٹی وی ملا ہوا تھا، جس پر صرف پی ٹی وی آتا تھا، اُس پر بھی صرف کلچرل پروگرام چلتے تھے، خبریں نہیں،

    کچھ لوگوں کا منشور ہی دھرنے اور احتجاج ہے ،اس حق میں کبھی نہیں ہوں کہ دھرنوں سے حکومت گرائی جائے،نواز شریف
    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم بننے کے بعد میں خود بنی گالہ گیا تاکہ بیٹھ کر بات کی جاسکے اور پوچھیں وہ چاہتے کیا ہیں تو پتہ چلا بنی گالہ سے اسلام آباد سڑک بنوانا چاہتے ہیں۔ اگر بات صرف سڑک بنانے کی تھی تو پہلے ہی بتا دیتے، ہم ویسے ہی بنا دیتے ، میں پاکستان کی خاطر گیا تھا انکے پاس،بنی گالہ کی سڑک،کچھ لوگوں کا منشور ہی صرف دھرنے اور احتجاج ہے،ہم وہی کریں گے جو پاکستان کی خوشحالی کا ایجنڈا ہے،ہم اپوزیشن میں آتے تو پھر بھی یہ کام نہیں کریں گے جو انہوں نے کیا، 2013 میں مولانا فضل الرحمن میرے پاس آئے، انہوں نے کہا کہ ہم مل کر حکومت بنا لیتے ہیں، میں نے مشورہ دیا کہ عددی اکثریت ان کی زیادہ ہے, مناسب نہیں, مولانا صاحب نے میری بات مان لی، پنجاب میں 2018 میں ہماری اکثریت زیادہ تھا،ہیلی کاپٹر اڑے کیا کیا نہیں ہوا, دھکے سے حکومت بنائی،پاکستان میں معاشی مسئلہ سب سے بڑا ہے, مہنگائی اس سے جڑی ہوئی ہے، میں جب وزیر اعظم بنا تو مارکیٹوں میں جا کر سبزی کے ریٹ چیک کیے، مشرف دور کا ذکر ابھی نہیں کرنا چاہتا، اگر ہمیں بغیر مداخلت کے کام کرنے دیا جاتا، تو اس ملک شکل کچھ اور ہوتی،

    لگتاہے 2013 میں مولانا فضل الرحمان کی بات نہ مان کر غلطی کی، نواز شریف
    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ہم کبھی اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے،عمران خان نے بلوچستان میں ڈیڑھ سو لوگ مرنے والوں کے حوالے سے کہاکہ میں بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا،نواز شریف کا کہنا تھا کہ جیل میں مجھے ٹی وی ملا ہوا تھا، جس پر صرف پی ٹی وی آتا تھا، اُس پر بھی صرف کلچرل پروگرام چلتے تھے، خبریں نہیں،میرے زمانے میں ٹریکٹر 9 لاکھ روپے کا تھا آج 23 لاکھ کا ہے،بہتر ہوتا کہ 2013 میں اسے خیبر پختونخوامیں آنے ہی نہ دیتے،کچھ لوگ بے وقوف بن جاتے ہیں خاص طور پر خیبر پختون خواہ والے، یہ بیماری ادھر سے ہی آئی ہے۔ اس وقت مولانا سے کہا تھا لیکن شائد ہم سے غلطی ہو گئی عمران خان کو آنے ہی نہیں دینا چاہیے تھا نہ ہوتا بانس نہ بجتی بانسری۔پونے چار سال میں عمران خان کی حکومت نے کیا کیاہے؟میرے زمانے میں کوئی مہنگائی نہیں تھی، مہنگائی انہوں نے کی تھی،میں حکومت لینے کے حق میں نہیں تھا شہباز شریف سے کہا حکومت چھوڑ دیں پھر الٹی میٹم آگیا تو ہم نے کہا اب مقابلہ ہوگا ہم نے اپنی سیاست داؤ پہ لگائی ڈیفالٹ سے ملک بچایا اور آگے بھی ملک کے لئے سیاست قربان کرنی پڑی تو سیاست قربان کردیں گے،حالات کچھ ایسے ہو گئے تھے کہ ہمیں حکومت لینی پڑی ورنہ شہباز شریف کا استعفیٰ تیار تھا اور تقریر بھی لکھی ہوئی تھی لیکن ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا تھا جس کے لیے ہم ڈٹ گئے۔عمران خان سے پوچھا جائے چار سال میں کیا کیا؟ کوئی ایک منصوبہ بتادیں؟ آئندہ بھی کوئی ایسا وقت آیا تو ملک کےلئے کرینگے، یہ جیلیں ویلیں اور جلاوطنی کے باوجود کرینگے، کھڑے رہیں گے، دل کی بات کر رہا ہوں، کوئی پوچھے تو صحیح بابا کسی نے اس ملک میں بنایا کیا ہے، عمران خان سے ہی پوچھ لیں، ایک منصوبہ بتا دو، اُنگلی رکھ دو کہ یہ منصوبہ ہے، نواز شریف کے چہرے پر ہنسی نہیں آرہی حالات ٹھیک ہیں، ملک ڈیفالٹ کے دہانے پرہے ، ایسے کونسا وزیراعظم ہوگا جو ہنسے گا،

  • پارٹی منشور میں مشکلات اور انکے حل کا فارمولا پیش کیا جائیگا،عرفان صدیقی

    پارٹی منشور میں مشکلات اور انکے حل کا فارمولا پیش کیا جائیگا،عرفان صدیقی

    اسلام آباد،مسلم لیگ ن کے رہنماء سینیٹر عرفان صدیقی نے اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کے حکم پر پارٹی منشور کی تیاری شروع کردی ہے،گزشتہ روز باغی ٹی وی کے تجزیہ کار شہزاد قریشی سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف قوم کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک واپس آئے ہیں انہوں نے پارٹی منشور میں تمام پہلوئوں کومد نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے ،انہوں نے کہا کہ ہمارا منشور صرف منشور نہیں ہوگا بلکہ اس پر ان شاءاللہ حکومت میں آنے کے بعد من وعن عمل بھی کیا جائے گا،منشور میں عام پاکستانی کی مشکلات اور ان کے حل کا فارمولا پیش کیا جائیگا،

    عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ کہ میاں نواز شریف اپنی قوم کیلئے آسانیاں پید اکرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں،ان شاءاللہ اس قوم نے جس طرح میاں محمد نواز شریف کا استقبال کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ ہی واحد لیڈرہیں جن کے پاس قوم اور ملکی مسائل کا حل موجود ہے ،سینیٹر عرفان صدیقی کا مزید کہناتھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے سدباب کیلئے منشور میں فارمولا پیش کیا جائیگا ،ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب ملک ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا،اور یہ صرف اور صرف میاں نواز شریف کی قیادت میں ہی ممکن ہے

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری