Baaghi TV

Tag: عرفان مہر

  • بیویوں کے ہاتھوں شوہروں کا قتل معمول:آخرکیوں؟ماہرین پریشان ہوگئے

    بیویوں کے ہاتھوں شوہروں کا قتل معمول:آخرکیوں؟ماہرین پریشان ہوگئے

    کراچی :بیویوں کے ہاتھوں شوہروں کا قتل معمول:آخرکیوں؟ماہرین پریشان ہوگئے،اطلاعات کے مطابق ملک بھر سے بیویوں کے ہاتھوں شوہروں کے قتل کے واقعات جس طرح تیزی سے ہورہےہیں اس پرماہرین نفسیات وصحت بڑے پریشان دکھائی دیتے ہیں‌، شاید اس کی وجہ یہ ہےکہ معاشرے میں عدم برداشت کی بڑھتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر جرائم میں روزبروز اضافہ ہوتا ہے، جس کو زیادہ تر اختتام جانی اور مالی نقصان کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔

    ویسے تو ملک بھرسے درجنوں واقعات پچھلے ہفتے رپورٹ ہوئے ہیں مگرکراچی کے کچھ واقعات نے تو سب کو ہلا کررکھ دیا ہے، کراچی کے مختلف علاقوں میں خواتین کے ہاتھوں شوہروں کے ہونے والے قتل کے واقعات نے سماجی حلقوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ گذشتہ 15 دنوں کے دوران شہر قائد میں تین اشخاص کے ایسے قتل ہوئے ہیں جن میں خواتین بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ملوث ہیں۔

    تازہ ترین واقعہ کراچی کے علاقے نیو کراچی میں پیش آیا جہاں خاتون نے ماہانہ خرچ نہ دینے پر تیز دھار آلے سے شوہر کا گلا کاٹ دیا۔ تفصیلات کے مطابق خمیسو گوٹھ ، نیو کراچی انڈسٹریل ایریا سیکٹر 5 کی رہائشی خاتون نے ماہانہ خرچ نہ دینے پر اپنے شوہر کو قتل کرنے کی کوشش کی مگر متاثرہ شخص بروقت طبی امداد ملنے پر بچ گیا۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ شخص خالد ولد محمد صالح کو اتوار اور پیر کی درمیانی شب زخمی حالت میں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد دی گئی۔ نیو کراچی صنعتی ایریا تھانہ کے ایس ایچ او غلام یاسین نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ ماہانہ خرچ نہ دینے پر پیش آیا ہے۔

    دوسرا واقعہ کراچی کے علاقے صدر میں پیش آیا جہاں 9 اور 10 دسمبر کی درمیانی شب ملزمہ رباب عرف عاصمہ نے شیخ سہیل نامی شخص کو بہیمانہ انداز میں قتل کرنے کے بعد لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے تھے۔

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ شیخ سہیل اور گرفتار خاتون رباب عرف عاصمہ نے 2013 میں شادی کی تھی، خاتون اور اس کا شوہر 7 سال سے آئس کا نشہ کر رہے تھے۔ وقوعہ والی رات دونوں نے حد شے زیادہ نشہ کیا اور اسی دوران خاتون نے شوہر کو تھپڑ مارا اور دونوں میں جھگڑا ہو گیا۔

    تفتیشی حکام کا بتانا ہے کہ خاتون نے شوہر کے سر پر لوہے کی راڈ ماری اور پھر مارتی چلی گئی۔ جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

    تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ واردات کے دوران خاتون نے شوہر کی لاش سے پہلے گردن علیحدہ کی اور پھر ہاتھ کاٹنے کے بعد گلی میں پھینک دیے۔ لیکن گلی چوکیدار نے ملزمہ کو مقتول کے ہاتھ کھڑکی سے باہر پھینکتے ہوئے دیکھ لیا تھا جس پر خاتون نیچے آئی اور دونوں کٹے ہوئے ہاتھ اٹھا کر واپس لے گئی۔

    تیسرا واقعہ کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پیش آیا جہاں 2 دسمبر کو سندھ بار کونسل کے سیکریٹری عرفان ملاح کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔

    تفتیش میں یہ افسوسناک پہلو سامنے آیا ہے کہ اس قتل میں مقتول کی اہلیہ ملوث ہیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق گرفتار ملزمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس قتل کی اصل ماسٹر مائنڈ مقتول کی بیوی اور سالی ہیں۔

    شارع فیصل پولیس نے قتل کے اگلے روز مقتول کے بھائی رضوان مہر کی مدعیت میں دو نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ایف آئی آر 1997 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 اور 3 کے تحت درج کی گئی تھی۔

    محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے مقدمے کی تازہ ترین پیشرفت کے مطابق دو گرفتار ملزمان میں سے ایک مرحوم عرفان مہر کا سالا ہے جس نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ اسے قتل کرنے کی ہدایات اور رقم اپنی دونوں بہنوں سے ملی تھیں۔ ملزم کے مطابق عرفان مہر کا اپنی اہلیہ کے ساتھ رویہ اچھا نہیں تھا۔

    پولیس کے مطابق ملزم کی بہن نے قتل کرنے کے لیے دو لاکھ 20 ہزار روپے دیے جس سے اسے نے ایک موٹر سائیکل اور پستول کا بندوبست کیا۔

    رواں سال 7 جون کو کراچی کے علاقے صفورہ میں کال سینٹر کے کروڑ پتی مالک شہباز نتھوانی کو اس کی اہلیہ نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر قتل کیا تھا۔

    محکمہ انسداد دہشتگردی سندھ ( سی ٹی ڈی) نے ایک ہفتے کی ماہرانہ تفتیش کے بعد دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے شواہد حاصل کیے تھے۔

    راجہ عمر خطاب کے مطابق اہلیہ نے شوہر کے قتل کو ڈکیتی کے دوران مزاحمت کا رنگ دیا جبکہ تفتیش کے دوران حقائق اس کے بیان کے برعکس نکلے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور جیو فینسنگ سے ملزم جمشید خالد کی واردات سے کئی گھنٹے پہلے سے علاقے میں موجودگی کا انکشاف سامنے آیا۔

  • عرفان مہرکوسگی بیوی،بیٹی ،سالے اوردیگرسسرالیوں نے مل کر قتل کیا:گرفتار ملزم کے سنسنی خیز انکشافات

    عرفان مہرکوسگی بیوی،بیٹی ،سالے اوردیگرسسرالیوں نے مل کر قتل کیا:گرفتار ملزم کے سنسنی خیز انکشافات

    کراچی :عرفان مہرکوسگی بیوی،سالے اوردیگرسسرالیوں نے قتل کیا:گرفتار ملزم کے سنسنی خیز انکشافات،اطلاعات کے مطابق گلستان جوہر میں سندھ بار کونسل کے سیکرٹری عرفان مہر قتل کے وقت فائرنگ کرنے والے ملزم کا حقیقی بیٹا بھی اسی کار میں مقتول کے ساتھ بیٹھا تھا۔

    عرفان مہر قتل کیس میں گرفتار مقتول کے بھائی نسبتی غلام اکبر نے کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ پولیس کے سامنے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

    اس ہائی پروفائل قتل کیس کا سراغ لگانے والی سی ٹی ڈی کی خصوصی ٹیم کے انچارج راجہ عمر خطاب کے مطابق عرفان مہر کو قتل کرنے کا ٹاسک اس کی بیوی صاحبزادی اور سالی شبانہ عرف کراڑی عرف چھوٹی نے اپنے حقیقی بھائی ملزم غلام اکبر کو دیا۔

    گرفتار ملزم غلام اکبر کے بیان کے مطابق مبینہ طور پر مقتول عرفان مہر اپنی بیوی یعنی اس کی بہن کے ساتھ سخت رویہ رکھتا تھا جس سے وہ تنگ تھی اور تینوں بہن بھائیوں نے مل کر قتل کی منصوبہ بندی کی۔

    ملزم کے مطابق اس واردات کے لیے اس کی دلچسپی اس لیے بھی تھی کہ وہ 30،40 لاکھ روپے کا مقروض تھا جبکہ عرفان مہر کے قتل کی صورت میں انہیں مقتول کے پاس کیش کی شکل میں موجود لگ بھگ 70،80 لاکھ روپے ملنے کی اُمید تھی۔

    ملزم کے مطابق اس کی بہن صاحبزادی نے اس کام کے لیے ابتدائی طور پر اسے ایک لاکھ 60 ہزار روپے اور پھر چند دن بعد مزید 60 ہزار روپے دیے۔

    ملزم نے مزید بتایا کہ ان پیسوں سے اس نے ایک لاکھ 50 ہزار روپے میں نئی 125 موٹر سائیکل خریدی اور پستول کا بندوبست کیا۔

    ملزم کے مطابق اس سے قبل اس نے اس کام میں معاونت کیلئے اپنی چھوٹی بہن شبانہ کے شوہر رحیم بخش مہر کو آمادہ کیا تاہم بعد میں اپنے ایک دوست واجد جاکھرو کو شریک جرم بنایا۔

    ملزم نے بیان میں کہا کہ اس کیلئے اس نے واجد کو 40 ہزار روپے دیے اور مزید 60 ہزار روپے کام کے بعد دینے کا وعدہ کیا۔

    ملزم کے مطابق واردات سے قبل اس نے مقتول عرفان مہر کی خود ریکی کی اور واردات سے ایک روز قبل صدر سے ٹراؤزر اور جیکٹ خریدیں بعد ازاں کالے رنگ کے دو ہیلمٹ خریدے اور اس نے کینٹ اسٹیشن پر واقع ایک ہوٹل میں قیام کیا۔

    ملزم غلام اکبر کے مطابق واردات والے دن وہ اور واجد 125 موٹر سائیکل پر بیٹھ کر گلستان جوہر بلاک 13 پہنچے اور چیپل لگژری اپارٹمنٹ کے سامنے پارک کے ساتھ کھڑے ہوکر عرفان مہر کے نکلنے کا انتظار کرنے لگے۔

    ملزم کے مطابق عرفان مہر اپنے بچے کو لے کر اسکول چھوڑنے کیلئے گھر سے نکلا تو اس کی بہن صاحبزادی نے موبائل فون سے اسے اطلاع دی ، عرفان مہر بچے کو اسکول چھوڑ کر واپس آیا تو انہوں نے اسے نشانہ بنایا۔

    ملزم کا کہنا ہےکہ واردات کے وقت اس نے دیکھا کہ اس کا اپنا بیٹا خوشحال گاڑی کی پچھلی سیٹ پر عرفان بھائی کے ساتھ بیٹھا تھا تاہم اپنے بچے کو بچاتے ہوئے اس نے پے در پے فائرنگ کی۔

    ملزم کے مطابق واردات کے بعد وہ وہاں سے سہراب گوٹھ پہنچے اور پھر ایک گوٹھ میں پہنچ کر کچھ دیر قیام کیا، کپڑے تبدیل کیے۔ اور پھر وہاں سے کینٹ اسٹیشن پہنچے جہاں ہوٹل سے سامان لے کر چیک آؤٹ کیا اور کرائے کی کار میں شکارپور چلے گئے۔

    سی ٹی ڈی کے افسر راجہ عمر خطاب کے مطابق انہوں نے ٹیکنیکل بنیادوں پر اس واردات کا سراغ لگایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واردات میں مقتول کی بیوی صاحبزادی اور سالی شبانہ مرکزی ملزمان ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ عرفان علی مہر کو یکم دسمبر کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا جب وہ اپنی بچی کو اسکول چھوڑ کر واپس آرہے تھے۔