Baaghi TV

Tag: عزم استحکام

  • "عزم استحکام ” سے  حصول امن کے مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے،علماو مشائخ کانفرنس

    "عزم استحکام ” سے حصول امن کے مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے،علماو مشائخ کانفرنس

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی علماء و مشائخ امن کانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے علماء و مشائخ کا آج کا نما ئندہ اجلاس محرم الحرام 1446 ھ وما بعد آنے والے ایام میں ملک میں یگانگت ، بھائی چارہ اور امن کی فضاء قائم رکھنے میں اہم کر دار ادا کرے گا۔ ملک کے اندرونی حالات میں موجود شد ت پسند ی اور انتہا پسند ی کی با قی ماندہ جڑیں بھی اب ختم ہو نے کے قریب ہیں۔ خاص کر "عزم استحکام ” سے نیشنل ایکشن پلان کو نہ صرف تقویت ملے گی بلکہ حصول امن کے مطلوبہ نتائج بھی حاصل ہوں گے۔ ایک بار پھر محراب و مبنر سے پیغام پاکستان کے ضابطہ اخلاق کو عام کر نے اور اس ضابطہ اخلاق کو معا شرے کے بنیادی تانے بانے تک پہچانے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ محرم الحرام کے حوالہ سے الگ ضابطہ اخلاق کو بھی عام کر ناانتہائی اہم ہے ۔ یہ اہم ذمہ داری علماء و مشائخ ہی سرانجام دے سکتے ہیں۔ دستور کی بالادستی قائم کی جائے اور ہر شہری کے بنیادی حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھا جائے ۔ ایک طرف مقدسات اسلام کی تعظیم کر نا ہو گی تو دوسری طرف تکفیر، نفرت انگیزی ،تشدد، تعصب، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے حقیقی اقدامات بھی کر نا ہوں گے۔ ملکی قانون اور شریعت کی رو سے اپنے اپنے مسالک اور عقائد کی تبلیغ ضرور کی جائے لیکن اس کی آڑ میں کسی شخص، فرقہ یا کسی قومی ادارے کے خلاف نفرت انگیز تحریر و تقریر سےاپنے آپ کو روکا جائے۔آج کا یہ اجتماع ملک میں ہجوم کے ہاتھوں ملزمان کی ہلاکت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ با لائے قانون نہ تو اس طرح کے قتل کی کوئی اجازت ہے اور نہ ہی اس طرح کے قتل کے ملزمان کو ہیرو بنایا جائے ۔ پاکستانی معا شرے میں کمزور طبقات کے حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنا نے کے لئے حقیقی اقدامات کر نا ہوں گے۔غزہ فلسطین میں اسرائیلی ظلم و ستم کی شدت سے مذمت کرتےہیں اور پوری دنیا سے بالعموم اوراہل اسلام سے خصوصاً مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ظلم کو روکنے کے اقدامات کئے جا ئیں۔

    اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ راغب نعیمی کی جانب سے پیغام پاکستان کی روشنی میں ضابطۂ اخلاق جاری کیا گیا ہے

    1۔ تمام شہریوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی بالادستی کو تسلیم کریں، ریاست پاکستان کی عزت و تکریم بجا لائیں اور ساتھ ہی ساتھ ہر حال میں ریاست کے ساتھ اپنی وفاداری کے حلف کو نبھائیں۔
    2۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام شہری بنیادی حقوق کی عزت و تکریم کو یقینی بنائیں جیسا کہ دستور پاکستان میں مندرج ہیں، بشمول قانون کی نظر میں مساوات، سماجی اور سیاسی حقوق، اظہار خیال، عقیدہ، عبادت اور اجتماع کی آزادی۔
    3۔ دستور پاکستان کی اسلامی ساخت اور قوانینِ پاکستان کا تحفظ کیا جائے گا۔ پاکستان کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ شریعت کے نفاذ کے لیے پرامن جدوجہد کریں۔
    4۔ اسلام کے نفاذ کے نام پر جبر کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح کارروائی، تشدد اور انتشار کی تمام صورتیں بغاوت سمجھی جائیں گی اور یہ شریعت کی روح کے خلاف ہیں اور کسی فرد کو یہ حق نہیں کہ وہ حکومتی، مسلح افواج اور دیگر سکیورٹی کے اداروں کے افراد سمیت کسی بھی فرد کو کافر قرار دے۔
    5۔ علماء، مشائخ اور زندگی کے ہر شعبے سے متعلقہ افراد کو چاہیے کہ وہ ریاست اور ریاستی اداروں خاص طورپر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کی بھرپور حمایت کریں تاکہ معاشرے میں سے تشدد کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے۔
    6۔ ہر فرد ریاست کے خلاف لسانی، علاقائی، مذہبی اور فرقہ وارانہ تعصّبات کی بنیاد پر چلنے والی تحریکوں کا حصّہ بننے سے گریز کرے۔ ریاست ایسے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔
    7۔ کوئی شخص فرقہ وارانہ نفرت، مسلح فرقہ وارانہ تنازعہ اور جبراً اپنے نظریات کسی دوسرے پر مسلّط نہ کرے کیونکہ یہ شریعت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور فساد فی الارض ہے۔
    8۔ کوئی نجی یا سرکاری یا مذہبی تعلیمی ادارہ عسکریت کی تبلیغ نہ کرے، تربیت نہ دے اور نفرت انگیزی، انتہاپسندی اور تشدد کو فروغ نہ دے۔ ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف قانون کے مطابق ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
    9۔ انتہا پسندی، فرقہ واریت اور تشدد کو فروغ دینے والوں، خواہ وہ کسی بھی تنظیم یا عقیدے سے ہوں، کے خلاف سخت انتظامی اور تعزیری اقدامات کیے جائیں گے۔
    10۔ اسلام کے تمام مکاتب فکر کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے اپنے مسالک اور عقائد کی تبلیغ کریں، مگر کسی کو کسی شخص، ادارے یا فرقے کے خلاف نفرت انگیزی اور اہانت پر مبنی جملوں یا بے بنیاد الزامات لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
    11۔ کوئی شخص خاتم النبیین حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم، جملہ انبیاء کرام امہات المؤمنین، اہلِ بیت اطہار، خلفاء راشدین اور صحابہ کرامؓ کی توہین نہیں کرے گا۔ کوئی فرد یا گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے گا نہ ہی توہینِ رسالت کے کیسز کی تفتیش یا استغاثہ میں رکاوٹ بنے گا۔
    12۔ کوئی شخص کسی مسلمان کی تکفیر نہیں کرے گا اور صرف مذہبی سکالر ہی شرعی اصولوں کی وضاحت مذہبی نظریے کی اساس پر کرے گا۔ البتہ کسی کے بارے میں کفر کے مرتکب ہونے کا فیصلہ صادر کرنا عدالت کا دائرہ اختیار ہے (مسلمان کی تعریف وہی معتبر ہوگی جو دستور پاکستان میں ہے)۔
    13۔ کوئی شخص کسی قسم کی دہشت گردی کو فروغ نہیں دے گا، دہشت گردوں کی ذہنی و جسمانی تربیت نہیں کرے گا، ان کو بھرتی نہیں کرے گا اور کہیں بھی دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوگا۔
    14۔ سرکاری، نجی اور مذہبی تعلیمی اداروں کے نصاب میں اختلافِ رائے کے آداب کو شامل کیا جائے گا کیونکہ فقہی اور نظریاتی اختلافات پر تحقیق کرنے کے لیے سب سے موزوں جگہ صرف تعلیمی ادارے ہوتے ہیں۔
    15۔ تمام مسلم شہری اور سرکاری حکام اپنے فرائض کی انجام دہی اسلامی تعلیمات اور دستور پاکستان کی روشنی میں کریں گے۔
    16۔ بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں، خنثیٰ اور دیگر تمام کم مستفیض افراد کے حقوق کے حوالے سے اسلامی تعلیمات ہر سطح پر دی جائیں گی۔
    17۔ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب اور مذہبی رسومات کی ادائیگی اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق کریں۔
    18۔ اسلام خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خواتین سے ان کے ووٹ، تعلیم اور روزگار کا حق چھینے اور ان کے تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچائے۔ ہر فرد غیرت کے نام پر قتل، قرآن پاک سے شادی، ونی، کاروکاری اور وٹہ سٹہ سے باز رہے، کیونکہ یہ اسلام کی رو سے ممنوع ہیں۔
    19۔ کوئی شخص مساجد، منبر و محراب، مجالس اور امام بارگاہوں میں نفرت انگیزی پرمبنی تقاریر نہیں کرے گا اور فرقہ وارانہ موضوعات کے حوالے سے اخبارات، ٹی وی یا سوشل میڈیا پر متنازعہ گفتگو نہیں کرے گا۔
    20۔ آزادی اظہار اسلام اور ملکی قوانین کے ماتحت ہے، اس لیے میڈیا پر ایسا کوئی پروگرام نہ چلایا جائے جو فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کا سبب بنے اور پاکستان کی اسلامی شناخت کو مجروح کرے۔

    عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزم استحکام آپریشن کا غلط تاثر لیا گیا

    معاشی مشکلات کی وجہ سے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے، خواجہ آصف

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

    وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی، وفاقی کابینہ نے نیشنل ایکشن پلان کے اپیکس کمیٹی کے فیصلوں کی توسیع کر دی ہے،دوران اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی قابلِ تجدید شمسی توانائی تک رسائی یقینی بنانے کے لیے سولر پینلز پر کسی قسم کی نئی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی، کم لاگت قابل تجدید شمسی توانائی ہر شہری تک پہنچائیں گے،معیشت کو مثبت سمت پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کررہے ہیں،اللہ کے فضل وکرم سے ملک معاشی استحکام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے،چھوٹے اور درمیانے پیمانے کی صنعت کو ترقی دے کر ملکی برآمدات میں اضافہ کریں گے،اشرافیہ اور ملکی وسائل کا استحصال کرنے والوں کی مراعات کو ختم کیا جائے گا،عام آدمی کے معاشی تحفظ اور اُسے یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے

    عزم استحکام کا مقصد دہشتگردوں کی باقیات، گٹھ جوڑ اور انتہاپسندی کو فیصلہ کن طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے،وزیراعظم
    کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے وژن عزم استحکام کے حوالے سے گردش کررہی غلط فہمیوں اورقیاس آرائیوں کے حوالے سے ارکان کو اعتماد میں لیا۔اور کہا کہ عزم استحکام ایک کثیر جہتی، مختلف سیکورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی وژن ہے، اس مقصد کے لیے کسی نئے و منظم مسلح آپریشن کی بجائے پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا،بڑے پیمانے پر مسلح آپریشن جس کے نتیجے میں نقل مکانی کی ضرورت ہو،وژن عزم استحکام کے تحت ایسے کسی آپریشن کی شروعات محض غلط فہمی ہےعزم استحکام کا مقصد دہشت گردوں کی باقیات، جرائم و دہشت گرد گٹھ جوڑ اور ملک میں پر تشدد انتہاپسندی کو فیصلہ کن طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے

    پی آئی اے کی بڈنگ اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی،کابینہ کو بریفنگ
    وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اراکین کو ہدایت کی کہ بجٹ 2024-25بحث کے دوران وزراء پارلیمان میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں .اجلاس کو ریاستی اداروں کی نجکاری بالخصوص پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز کی نجکاری پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے، پری بڈنگ کے عمل میں دلچسپی کا اظہار کرنے والی کمپنیاں پی آئی اے کی مختلف سائٹس کا دورہ کر رہی ہیں. پی آئی اے کی بڈنگ اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی. وزیرِ اعظم نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے اور اس میں شفافیت کے عنصر کو کلیدی اہمیت دینے کی ہدایت کی.

    ٹرکوں کے پرزوں پر مشتمل ایک کنٹینر کی کراچی سے کابل ٹرانزٹ اجازت
    وفاقی کابینہ نے وزارت تجارت کی سفارش اور اقوام متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام افغانستان کی استدعا پر ٹرکوں کے پرزوں پر مشتمل ایک کنٹینر کی کراچی سے کابل ٹرانزٹ اجازت دے دی۔ یہ خصوصی اجازت حکومت پاکستان کی جانب سے صرف ایک مرتبہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے وزارتِ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی ڈویژن کی سفارش پر وزارت مذہبی امور، حکومتِ پاکستان اور وزارتِ اسلامی امور، دعوت و رہنمائی سعودی عرب کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی منظوری دے دی۔ وفاقی حکومت نے ریاستی اور سرحدی علاقوں کی ڈویژن کی سفارش پر اور سپرم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بہاولپور کے امیر(مرحوم) کی غیر منقولہ جائیداد کے لیے قائم عمل درآمد کمیٹی کی مدت میں مارچ 2025 تک توسیع دینے کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ (FAB)کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری کی منظوری دے دی۔

    چینی کی قیمت پر نظر رکھنے کے لئے کابینہ کمیٹی بنانے کی ہدایت
    وفاقی کابینہ کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چینی کی برآمد کے فیصلے کے بارے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں اور اس حوالے سے شوگر ایڈوائزی بورڈ و متعلقہ اداروں نے آئندہ کرشنگ شروع ہونے سے پہلے کی کھپت اور اضافی چینی کے ذخائر کا تخمینہ لگا کر باقی ماندہ میں سے قلیل مقدار میں چینی کی برآمد کی منظوری دی ہے. وزیرِ اعظم نے اس موقع پر واضح ہدایت جاری کی کہ چینی کی قیمت میں کسی بھی قسم کے اضافے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی. علاوہ ازیں وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کردی جو چینی کی قیمت پر نظر رکھے گی اور اگر چینی کی قیمت میں کسی بھی قسم کے اضافے کا اندیشہ ہوا تو اسکی مزید برآمد کو روک دیا جائے گا.

    وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر وزارت منصوبہ بندی ڈویژن کی تیار کی گئی قومی اقتصادی کونسل (NEC) کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 2022-23 کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی اجازت دینے کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 13 جون 2024 کو منعقد ہونے والے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز(Cabinet Committee on Legislative Cases)کے11جون 2024 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی ادارےCabinet Committee on State Own ed Enterprises (CCoSOEs) کے20 جون 2024 کو منعقد ہونے والے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    واضح رہے کہ  وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی

  • آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام، وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آپریشن عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق حالیہ اعلان کردہ وژن کا نام عزم استحکام رکھا گیا ہے، اس کا موازنہ گزشتہ مسلح آپریشنز جیسے ضرب عضب، راہ نجات سے کیا جارہا ہے، گزشتہ مسلح آپریشنز میں نوگو ایریاز میں ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، ان کارروائیوں کےلیے مقامی آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی ضرورت تھی، اس وقت ملک میں ایسے کوئی نوگو ایریاز نہیں ہیں اور دہشت گردوں کی پاکستان میں منظم کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کو شکست دی جا چکی ہے، بڑے پیمانے پر کسی فوجی آپریشن پرغور نہیں کیا جا رہا ہےجہاں آبادی کی نقل مکانی کی ضرورت ہوگی، عزم استحکام پاکستان میں پائیدارامن واستحکام کےلیے ایک کثیر جہتی وژن ہے، عزم پاکستان مختلف سکیورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی وژن ہے جس کا مقصد نظرثانی شدہ قومی ایکشن پلان کےنفاذ میں نئی روح اور جذبہ پیدا کرنا ہے، عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے، قومی ایکشن پلان سیاسی میدان میں قومی اتفاق رائے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردوں کی باقیات، سہولت کاری اور پرتشدد انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا، عزم استحکام سے ملکی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے مجموعی طور پر محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے گا، قومی سلامتی اور ملکی استحکام کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے سے شروع کیے گئے اس مثبت اقدام کی پذیرائی کرنی چاہیے، تمام غلط فہمیوں کو دور کرنے کے ساتھ اس موضوع پر غیر ضروری بحث کو بھی ختم کرنا چاہیے۔

    سیاسی جماعتیں ووٹ بینک کے لئے نہیں پاکستان کیلئے سٹینڈ لیں، وزیر دفاع
    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن عزم استحکام کا موازنہ ضرب عضب ،راہ نجات اور ردالفساد سے کیا جارہا ہے لیکن ان آپریشنز کی نوعیت مختلف تھی مگر مقاصد ایک ہی تھے اور یہ آپریشن بھی دہشتگردوں کے خلاف ہے جس کا آغاز کیا جائے گا، تین جماعتیں ووٹ بینک محفوظ رکھنے کے لیے آپریشن کی مخالفت کر رہی ہیں، ووٹ بینک کے لیے نہیں ملک کے لیے اسٹینڈ لیں، اپوزیشن جماعتوں کی تشویش ضرور دور کریں گے، آپریشن پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا، آپریشن کے سیاسی عزائم نہیں، مقصد دہشت گردی کی لہر ختم کرنا ہے، آپریشن کا فوکس بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہو گا

    تحریک انصاف دور حکومت میں بسائے گئے شدت پسندوں کے گھر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، وزیر دفاع
    وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایپکس کمیٹی میں کسی قسم کا اختلاف نہیں کیا، صوبوں کو مالی مدد کرنا ہو گی، عدلیہ نے قومی سلامتی کی کوشش میں سپورٹ نہ کیا تو آپریشن مؤثر نہیں رہے گا، تحریک انصاف کے دور حکومت میں بسائے گئے شدت پسندوں کے گھر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، دہشت گردوں کی واپسی تباہی لے کر آئی، جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے کہا تھا وزیرِ اعظم کے کہنے پر قدم اٹھا رہے ہیں، ماضی میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہوئے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا جائے گا، اے پی ایس واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا، اس وقت اور آج کل صورتِ حال میں بہت فرق ہے، فاٹا کے علاقوں میں دہشت گردوں کا قبضہ ہوچکا تھا، فاٹا کے علاقے نوگو ایریاز بن چکے تھے، آج ایسی صورتحال نہیں،ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان میں بی ایل اے رات کے وقت کارروائی کرتے ہیں، سوات میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی تھی،پانچ چھ ہزار دہشت گروں اور طالبان کو یہاں بسایا گیا، طالبان کے مشہور لیڈروں کو معافی بھی دی گئی، اس اقدام سے تباہی آئی، امن نہیں آیا، امن پارہ پارہ ہوا، آپریشن عزم استحکام کے حوالہ سے بیورو کریسی اور میڈیا کی حمایت کی بھی اشد ضرورت ہوگی، پچھلے آپریشن میں نقل مکانی ہوئی تھی، یہ آپریشن انٹیلی جنس بیسڈ ہوں گے، ہم نے دونوں جنگیں امریکی تحفظات کے لیے لڑیں، ردالفساد اور ضرب عضب کے بعد امن قائم ہوا تھا.

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    واضح رہے کہ دو روز قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی

  • سینیٹ اجلاس،ملکی استحکام بانی پی ٹی آئی کے سطح جڑا ہے،شبلی فراز

    سینیٹ اجلاس،ملکی استحکام بانی پی ٹی آئی کے سطح جڑا ہے،شبلی فراز

    پیرکو سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال ناصر کی زیرصدارت ہوا۔

    سینیٹ میں شہید فوجی جوانوں کے حوالے سے دعائے مغفرت کرائی گئی سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے دعائے مغفرت کروائی،وطن کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے عیسائی فوجی جوانوں کے لئے سینیٹ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

    جس ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی ہو دہشتگردوں سمیت کوئی عدم استحکام پیدا نہیں کرسکتا ،شبلی فراز
    سینیٹ میں قائدحزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ جو استحکام ہم ڈھونڈ رہے ہیں وہ آئین و قانون کی بالادستی کے بغیر پہنچ سے باہر رہے گا ،جنہوں نے انتخابات جیتے ہیں ان کے مینڈیٹ کا احترام کرنا ہوگا ،اس مرتبہ کا انتخابات دھاندلی زدہ انتخابات کی ماں تھا ،ایک لیڈر پر سیاسی مقدمات بنا کر اسے جیل میں ڈالا گیا پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں اور کارکنوں کو نشان عبرت بنایا جارہا ہے ،پنجاب پی ٹی آئی کے لیے کربلا بنا ہوا ہے ،پنجاب میں آمریت اور فسطائیت ہے۔اپیکس کمیٹی میں آپریشن عزم استحکام شروع کرنے کا اعلان کیا مختلف قسم کے ملٹری آپریشن دیکھے ہیں جتنی شہادتیں ہوئی سب پاکستانی ہیں گزشتہ ایک دو ماہ سے فوجی جوانوں کی شہادتوں میں اضافہ ہوا ہے آپریشن عزم استحکام ہمیں تھوڑا ہٹ کر نظر آتا ہے ۔نہیں سمجھ آتا کہ اس کو کیسے لیں ۔استحکام حاصل کرنے کے لئے آپریشن نہیں استحکام لانے والی چیزیں چاہیے معاشی استحکام ہوتا ہے جو استحکام ہم ڈھونڈ رہے ہیں وہ اس وقت تک دور رہے جب تک آئین و قانون کی بالادستی اور عوام کی حقیقی نمائندگی ہو ملک صاف شفاف انتخابات نہیں ہوئے ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر پر سیاسی مقدمات بنا کر جیل میں ڈالا گیا پی ٹی آئی رہنماؤں کارکنوں اور خواتین کو جیل میں ڈال کر نشانہ عبرت بنایا جا رہا ہے پنجاب میں فسطائیت اور آمریت ہے پنجاب میں پی ٹی آئی کے لوگوں پر جھوٹے مقدمات کئے جاتے ہیں ان حالات میں کیسے ملک میں استحکام آئے گا جو مقدمات بنائے گئے وہ مکمل طور پر مذاق ہے انتخابات میں اربوں روپے خرچ کرکے جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا ،ہم سے انتخابی نشان اور مخصوص نشستیں چھینیں گئیں ، کوئی بھی آپریشن کرلیں ایسی صورتحال میں استحکام کیسے آسکتے۔مہنگائی کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال بدتر ہوگی ،کچھ لوگ جمہوریت کے لبادے میں گدھ کا کردار ادا کررہے ہیں۔آپ نے اپوزیشن کو دیوار سے لگادیا ہے ،وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا آپ ہمیشہ اقتدار میں نہیں ہوں گے ، بجٹ بنانے والوں کے پاس کوئی اخلاقی قوت نہیں ،ایک ارب ڈالر کے لئے ہم دنیا میں کشکول لے کر گھوم رہے ہیں ۔استحکام آزادانہ منصفانہ انتخابات اور جمہوریت میں چھپا ہوا ہے ، شبلی فراز نے کہاکہ جس ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی ہو دہشتگردوں سمیت کوئی عدم استحکام پیدا نہیں کرسکتا ،اقتدار میں موجود لوگوں نے ملک کو ہر طرح کے خطرات سے دوچار کردیا ہے ،ایوان بالا کو قوانین کے مطابق چلایا جائے ،اپوزیشن کے بغیر آپ نہیں چل سکتے ، ملکی مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ بانی پی ٹی آئی پر قائم مقدمات ختم کرکے اسے رہا کیا جائے ، ملکی استحکام کی چابی قیدی 804 کے پاس ہے ،اس ملک کو اکٹھا بانی پی ٹی آئی نے رکھا ہے ۔ملکی استحکام بانی پی ٹی آئی کے سطح جڑا ہے وہی استحکام لا سکتا ہے ،

    سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت پر اتفاق کرنا چاہئیے ایسا نہ کیا گیا تو آنے والا وقت مزید مشکل ہو گا، سلیم مانڈوی والا
    خزانے اور محصولات کی قائمہ کمیٹی کے چئیرمین سلیم مانڈوی والا نے کمیٹی کی جانب سے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر سفارشات پر مبنی رپورٹ ایوان میں پیش کر دی سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ ہمیں سفارشات کے لئے عموما چودہ دن ملتے ہیں۔اس بار ہمیں صرف چھ دن دئیے گئےمیں تمام کمیٹی ارکان، سینیٹ عملے، میڈیا ،مختلف وزارتوں کے حکام نے بہت تعاون کیا،32 سٹیک ہولڈرز نے کمیٹی میں نمائندگی کی اور اپنی سفارشات پیش کیں۔18.9کھرب روپے کے بجٹ میں سے 9 کھرب سے زیادہ سود کی ادائیگی میں صرف کرتے ہیں۔2.4 ملین نان فائلرز کو کوئی نہیں پوچھ رہا ۔بڑے سیٹھوں اور مالدار افراد پر بھی کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔تفصیلی مشاورت کے بعد جامع رپورٹ مرتب کی ہے ،یہ پارلیمنٹ اور حکومت قرضوں پر چل رہی ہے ،ہم بجٹ کو پورا کرنے کے لیے قرض لیتے ہیں جس کا حجم بڑھتا جارہا ہے،ہم ٹیکس ادا کرنے والوں پر پھر ٹیکس لگا دیتے ہیں نان ٹیکس پیئرز کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ، قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر ملازمت پیشہ افراد پر ٹیکس میں اضافے کو مسترد کیا ہے۔نوزائیدہ بچوں کے دودھ پر ٹیکس اضافے کو بھی یکسر مسترد کیا گیا ہےمعذور افراد کے بارے میں قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ حکومت ان سے ملکر ان کے مسائل حل کرے ،پولٹری فیلڈ پر ٹیکس سے متعلق قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ حکومت اس پر نظر ثانی کرےجو ہسپتال مریضوں سے پیسے نہیں لیتے انھیں مراعات دی جائیں۔جو ہسپتال مریضوں سے پیسے لیتے ہیں ان کو مراعات نہ دیں۔سستے موبائل فون پر ٹیکس کو قائمہ کمیٹی نے مسترد کرتے ہوئے اس کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی، پہلی بار سکول کے بچوں کی پینسل، ربڑ کاغذ پر ٹیکس لگایا گیا جس کو قائمہ کمیٹی نے مسترد کیا۔اس ٹیکس کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی۔انہوں نےکہاکہ فائلر اور نان فائلر کے درمیان فرق دنیا بھر میں اور کہیں نہیں۔ہمیں ملکی معیشت اور بجٹ تیاری میں کوئی بہتری نظر نہیں ا رہی۔ہمیں ملکی معیشت پر سیاست نہیں کرنی چاہئیے۔تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت پر اتفاق کرنا چاہئیے۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو آنے والا وقت مزید مشکل ہو گاملکی معیشت مضبوط ہو گی تو ملک مضبوط ہو گا۔

    سینیٹ میں عزم استحکام آپریشن کے خلاف تحریک انصاف کے سینیٹرز نے ایوان میں شدید احتجاج کیا ۔ چیئرمین کے ڈائس کاگھیرو کیا ،پختونوں کا قتل نا منظور ،ایک اور فوجی آپریشن نامنظور، مکمل بلڈوز نامنظور کے نعرے لگائے ۔احتجاج کے بعد تحریک انصاف کے سینیٹرز ایوان سے واک آؤٹ کرگئے ۔

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان
    سینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن کیا چاہتی ہے کہ کیا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہ ہو؟میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیا خیبرپختونخوا میں امن بحال نہیں ہونا چائیے؟ اپیکس کمیٹی میں فوجی آپریشن کی منظوری تمام وزارء اعلی کی موجودگی میں کیا گیا۔یہ طالبان خان کا تحفظ مانگتے ہیں لیکن دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہیں چاہتے۔مشکل وقت میں مشکل بجٹ پیش ہوا جس پر ہم نے تنقید بھی کی۔کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہےکیا مذہب کے نام پر سرعام لوگوں کو سزائیں دینا درست ہے؟ اپوزیشن چاہتی ہے کہ پاکستان میں امن، استحکام نہ آئے۔اس سے پہلے سوات میں بھی ایسی صورتحال دیکھنے کو ملی تھی۔جس پر بےنظیر بھٹو شہید نے سوات میں پاکستان کا پرچم لہرانے کا نعرہ لگایا تھا جو ان کا آخری نعرہ ثابت ہوا.سینیٹر شیری رحمن نےسوات اور سرگودھا میں ہجوم کے ہاتھوں دو افراد کو سرعام قتل کے خلاف سینیٹ میں قراداد پیش کی، قرارداد میں کہاگیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں شہریوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کرے۔ایوان نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود قراداد منظور کر لی۔

    کیا قبرپر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ؟ سینیٹر انوشہ رحمان کا ایف بی آر حکام سے سوال

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    وفاقی بجٹ،128سفارشات پرمبنی رپورٹ سینیٹ میں پیش،سفارشات منظور
    سینیٹ نے بجٹ سفارشات منظور کر لیں، 128سفارشات پرمبنی رپورٹ چئیرمین فنانس کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے پیش کی ،سینیٹ نے سفارشات کی منظوری دے دی ،سیلز ٹیکس میں 1300 ارب روپے اضافے کی تجویز واپس لینے کی سفارش کی گئی،اور کہا کہ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں 50 فیصد کمی کی جائے،ڈائریکٹ ٹیکس میں اضافہ کیا جائے، سینیٹ نے مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی بھی سفارش کر دی، 660 سی سی تک کی کاروں پر الیکٹرک گاڑیوں کی طرح زیرو کسٹمز ڈیوٹی مقرر کرنے کی سفارش کر دی،فاٹا اور پاٹا میں لوکل سپلائی پر ٹیکس چھوٹ 30 جون 2025 تک دینے کی سفارش کر دی،تعمیراتی شعبے کیلئے فنانس ایکٹ 2019 کا ٹیکس رجیم بحال کرنے کی سفارش کر دی،تعمیراتی شعبے پر عائد پر ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کر دی،اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کےفروغ کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کرنے کی سفارش کی گئی،کمپنیوں کے بغیر نوٹس اکاونٹ بلاک کرنے کا قانون ختم کرنے کی سفارش کی گئی،کسٹم ایکٹ 1969 میں ترمیم کی تجویز پیش کی گئی ،سیل ٹیکس ایکٹ 1990 میں بھی ترمیم کی سفارش کی گئی،انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں بھی ترمیم سفارشات کا حصہ ہے،درآمد شدہ اور مقامی سولر انڈسٹری کی اشیاء پر یکساں ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ، سٹیشنری کی آٹھ اشیاء پر ٹیکس واپس لینے کی سفارش کی گئی ،مارکیٹ میں فروخت ہونے والی تمام اشیاء پر قیمتوں کا اندراج ہونا چاہیے ، چیریٹی کے نام پر ٹیکس چھپانے والی تنظیموں کی نشاندہی کی سفارش بھی رپورٹ کا حصہ ہے،ایف بی آر میں 5000 سے زاہد خالی نشستوں کو مکمل کرنے کی سفارش قومی اسمبلی کو بھجوا دی گئی،موبائل ٹیلی فونز پر اضافی ٹیکس نافذ نہ کرنے کی سفارش پیش کی گئی ،پولٹری فیڈز پر سیل ٹیکس واپس لینے کی سفارش کی گئی ہے،اس ٹیکس سے پولٹری کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ،نیوز پرنٹ پر نافذ دس فیصد جی ایس ٹی واپس لینے اور اسے زیرو ریٹ سٹیٹس میں لانے پر غور کی سفارش کی گئی،ادویات اور سرجری میں زیر استعمال بعض اشیاء میں بھی جی ایس ٹی ختم کرنے کی سفارش کی گئی.

    تنخواہ دار طبقے کی کوئی یونین نہیں وہ کس سے احتجاج کریں،فیصل سبزواری
    ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر فیصل سبزواری نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ تنخواہ دار طبقے کے لئے ٹیکس میں چھوٹ دی جائےتنخواہ دار طبقے کی قاںل ٹیکس آمدن کی حد بڑھائی جائے۔تنخواہ دار طبقے کی کوئی یونین نہیں وہ کس سے احتجاج کریں تنخواہ دار طبقے کی بجائے مجموعی آمدن پر ٹیکس لگایا جائےغریب کسان اور ہاری کو ٹیکس سے مکمل جھوٹ دی جائے ۔

    عزم استحکام آپریشن پر ہم سب کو لبیک کہنا ہو گا، پاکستان کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، فیصل واوڈا
    سینیٹر فیصل واڈا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہونے جا رہا ہے اور ہو کر رہے گا یہ ملک کسی کی ذاتی جاگیر نہیں یہ بجٹ بھی منظور ہو گا اور ڈنکے کی چوٹ پر منظور ہو گاوزیر خزانہ نے ہماری سفارشات بہت تحمل سے سنی اور تعاون کیاوفاق میں غیر ضروری وزارتوں کو فی الفور ختم کیا جائےبجٹ کو مکمل سپورٹ کرتے ہیں پورے ملک کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی اٹھارہ فیصد ٹیکس لاگو ہو گاوزیر خزانہ کسی کے دباو میں نہ آئیں پارلیمان اپ کے ساتھ کھڑی ہے آپریشن تو ہو گا آپریشن پر ہم سب کو لبیک کہنا ہو گا ڈنکے کی چوٹ پر بجٹ پاس ہو گا ، نجکاری بھی ہو گی جب سب کو 18 فیصد ٹیکس سلیب دینا ہے تو کے پی کو بھی یہی ہو گی نجکاری پر وزیر خزانہ کی حمایت کرتے ہیں اضافی منسٹریاں ختم کی جائیں بجٹ کی مکمل حمایت کریں گےہم اپنے حصے کا ٹیکس بوجھ لیں اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس پورے ملک پر لگاو ،آپریشن ملک میں استحکام لائے گا ، قومی اسمبلی میں اتنے غلط الفاظ استعمال کیے گیے بے حیا لوگوں نے قومی اسمبلی میں اس بے ہودہ بات پر ڈیسک بجائے وزیر خزانہ کو دباو میں آنے کی ضرورت نہیں.

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاکہ بجٹ بحث پر تمام سینیٹرز کی رائے پر مبنی نکات یومیہ ہمیں موصول ہوتی رہیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے بہت محنت سے سفارشات دیں ان سفارشات کا ضرور جائزہ لیں گےکل بروزمنگل قومی اسمبلی کی بجٹ تقریر میں دیکھیں گے کہ سینیٹ سفارشات پر بہت سی سفارشات کو مالیاتی بل کا حصہ بنائیں گے.

  • ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آپریشن عزم استحکام، عدم استحکام آپریشن ہے جو پاکستان کو مزید کمزور کرے گا، ماضی کے جتنے آپریشن ہوئے اُس کے نتائج تو سامنے رکھیں،

    کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سب اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، لیکن ایک طبقہ سمجھے کہ اس نے حاکم اور باقی سب نے غلام رہنا ہے،یہ درست نہیں،شہباز شریف وزیراعظم نہیں ہے، بس کُرسی پر بیٹھ کر خوش ہے،اس وقت ملک میں ریاست کی رٹ نہ ہونے کےبرابر ہے، ریاست بے رحم ہوچکی اور عوام کو اپنا دشمن سمجھتی ہے، بلوچستان کے بارے میں نہیں جانتا، مگر خیبر پختونخوا میں سورج غروب ہونے کے بعد پولیس تھانوں میں بند ہوجاتی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات ہوئی, یہ ہماری مشاورتی مجلس تھی، الیکشن کے بعد کی صورتحال پر ایک دوسرے کو سننا مقصد تھا، تاریخ خود کو دہراتی ہے، ہم پارلیمنٹ میں بھی اپنا مؤقف دے چکے اور باہر بھی، ہم نے عوامی رابطے کا ایک سفر شروع کیا تھا، عوام نے ہمیں جو پذیرائی دی وہ نا قابل فراموش ہے، ہماری سالوں کی تاریخ غلامی کے خلاف جنگ لڑ نے کی ہے، عزم استحکام آپریشن پاکستان کو مزید کمزور کرے گا، آئین پر عمل کرکے ہی پاکستان مضبوط ہو سکتا ہے، یہاں تک کس نے پہنچایا ملک کو؟کون ذمہ دار ہے؟

    ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں سےمشاورت کا عمل اسلام آباد میں ہو رہا ہے، دوستوں کےساتھ ملاقاتیں ہوئیں، ہم نے اچھا وقت گزارا، سب سے ملاقاتیں رہتی ہیں۔ ہمیں نئی سوچ کے ساتھ ایک منزل طے کرنا ہوگی،ہم ایک چھت کے نیچے رہنے والے لوگ ہیں،ہم وہ لوگ ہیں جو مستقبل میں اسی چھت کے نیچے رہنا چاہتے ہیں یہ آئین ہماری ضمانت ہے،

    صحافی نے سوال کیا کہ جس اسٹیبلشمنٹ پر آپ تنقید کررہے ہیں ماضی میں سیاستدانوں نے انہی کو ہار پہنائے ہیں، جس پر مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا کہ یہ آپ ان سے پوچھیں کہ اس وقت انہوں نے سیاستدانوں کو گلے کیوں لگایا؟

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    واضح رہے کہ دو روز قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی

  • ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے

    ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا، ابھی تک آپریشن عزم استحکام کی کلیئرٹی نہیں۔نا ہی آپریشن عزم استحکام کی کوئی وضاحت دی گئی ہے کہ کس ایریا میں ہوگا ، کہاں ہوگا کب ہوگا اور نہ ہی میری آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی سے کوئی ملاقات ہوئی ہے ، جب اس آپریشن پر پر بریفنگ دی جائے گی تب ہی اس پر کوئی بات ہو سکتی ہے، آئی ایس پی آر کا جب پلان آجائے گا،تب ظاہری بات ہے بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ تو یہ کام نہی ہوسکتا۔ ایپکس کمیٹی میں ایک پالیسی بنائی گئی میری عمران خان سے پالیسی پر بات ہوئی، پالیسی تھی کہ امن و امان قائم ہو اور دہشت گردی ختم ہو ، پاکستان میں ہم امن بالکل چاہتے ہیں، 9 مئی کیسے ہوا، کس نے کیا پتہ لگنا چاہیے، میری آرمی چیف سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، دہشت گردی کو روکنے کے لیے افغان حکومت کے ساتھ مل کر پالیسی بنا سکتے ہیں، اس پالیسی بنانے میں ہم مدد کر سکتے ہیں،

    علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ مراد راس کی 1700 کالیں پکڑی گئی ہیں یہ انہوں نے کہا اس نے پریس کانفرنس کی اسے چھوڑ دیا گیا ہماری دو خواتین ایک ہی گاڑی میں موجود تھیں ایک نے پریس کانفرنس نہیں کی تو اسے پورے پاکستان میں گھمایا جا رہا ہے ایسے نہیں چلے گا فارم 45 کھولیں اس کے بعد بات چیت ہو گی۔

    علی امین گنڈا پور کی عمران خان سے ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان نے اہم ہدایات دیں، پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی علی امین گنڈا پور سے کے پی ہاوس میں آج ملاقات کریں گے، علی امین گنڈا پور عمران خان پیغام پارٹی کو پہنچائیں گے، آپریشن عزم استحکام پر گفتگو ہوگی

    واضح رہے کہ دو روز قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، اجلاس میں دہشتگردی کی عفریت سے نمٹنے کیلئے آپریشن عزم استحکام شروع کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا تاہم اس فیصلے کے بعد مختلف حلقوں بالخصوص مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے مختلف مفروضات سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں جو عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس حوالے سے کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے مطالعے سے سب کچھ صاف اور واضح ہو،

    *آپریشن عزم استحکام کا دائرہ کار*
    آپریشن “عزم استحکام” کا دائرہ پورے ملک تک ہو گا نا کہ کسی ایک صوبے یا مخصوص علاقے تک۔ حتٰی کہ دہشت گردوں کے تعاقب میں سرحد پار آماجگاہوں کو نشانہ بنانے سے بھی دریغ نہیں کیا جائیگا۔ کل کے اجلاس میں تمام وزراء اعلی نے یکسو ہو کے اس فیصلے کی توثیق بھی کی۔ اس سلسلے میں تمام سفارتی کوششیں بھی بروئے کار لائی جائینگی۔

    *سیکورٹی فورسز کی استعداد کار میں اضافہ*
    دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے زمینی آپریشن کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائیگا جس میں جدید آلات، بہتر انٹیلیجینس، موثر ڈیٹا کی فراہمی، فورینسک کی بہترین سہولیات، بائیو میٹرکس کا موثر استعمال اور گاڑیوں کی رجسٹریشن کی پڑتال جیسے اقدامات شامل ہیں۔ بارڈر مینجمنٹ کے نظام کو مزید فعال کیا جائیگا تاکہ کسی بھی غیر قانونی کراسنگ کا تدارک کیا جا سکے۔

    *عزم استحکام کیلئے قومی جذبہ اور اتحاد و یگانگت*
    اجلاس میں تمام سیاسی، عسکری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جہاں سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے نبرد آزما ہیں وہیں دہشت گردی کی اس جنگ میں کامیابی کیلئے پوری قوم یکجا ہے اور یہ جنگ جیتنے کیلئے قومی اتحاد اور یگانگت بنیادی عوامل ہیں۔ یہ جنگ کسی مخصوص سیاسی جماعت، مذہبی یا لسانی گروہ کی نہیں بلکہ پاکستان کی جنگ ہے اور تمام حاضرین نے اس کی توثیق کی۔ یہ پاکستان کی مستقبل کی نسلوں کی جنگ ہے۔جو بھی تاریخ کے اس اہم موڑ پہ اس جنگ کے خلاف منفی سیاست کرے گا وہ تنہا رہ جائے گا اور تاریخ اُسے معاف نہیں کرے گی-

    *آئینی اور قانونی معاونت*
    شرکاء نے متفقہ طور پہ اس آپریشن کی کامیابی کیلئے ایک موثر اور بِلا خوف قانونی سپورٹ کی ضرورت پہ زور دیا۔ دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے مؤثر عدالتی نظام کی کلیدی حیثیت کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا اور ماضی میں دہشت گردوں سے روا رکھی جانے والی نرمی کو کامیابی کے حصول میں ایک رکاوٹ قرار دیا گیا۔ اس سلسلے میں موجود عدالتی سقم دور کرنے کی ضرورت پہ زور دیا گیا۔

    مخصوص سیاسی جماعت اور اسکے سوشیل میڈیا کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات
    مخصوص سیاسی جماعت کے گوہر خان اور اسد قیصر نے آپریشن عزم استحکام کے حوالے سے بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی آپریشن کے آغاز سے قبل پارلیمان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ہم کسی طور بھی کسی آپریشن کی حمایت نہیں کر سکتے ان بیانات کے تناظر میں مندرجہ ذیل عوامل کا احاطہ کرنا بہت ضروری ہے

    ایک جانب وزیر اعلیٰ پختونخواہ کا نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی میں بھرپور شرکت کرنا، آپریشن عزم استحکام اور دیگر اہم فیصلوں پر اپنی ہر طرح کی مدد اور تعاون کا یقین دلانا اور دوسری جانب گوہر خان اور اسد قیصر آپریشن مخالف بیان ، مخصوص سیاسی جماعت کے اندر تفریق کو واضح کرتا ہے-اگرمخصوص سیاسی جماعت کے رہنما سمجھتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہے تو پھر اسی جماعت کا وزیراعلی عزم استحکام کی بھرپور تائید کیسے کر رہا ہے۔۔۔؟
    مخصوص سیاسی جماعت رہنماوں کیجانب سے آپریشن عزم استحکام کی مخالفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس جماعت کو ملک کے قومی سلامتی کے حوالے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔جہاں تک مخصوص سیاسی جماعت کے رہنمائوں کی جانب سے آپریشن عزم استحکام کی کی پارلیمان سے منظوری کی بات ہے اگر اس فیصلے کو منظوری کیلئے پارلیمان میں لایا بھی جاتا ہے تو تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی نظر آئیں گی-مخصوص سیاسی جماعت کے دور حکومت بھی بارہا ایوان میں دہشت گردی کے خلاف قراردادیں پیش کی جاتی رہی ہیں جو بھاری اکثریت سے منظور بھی ہوتی رہی ہیں ،مخصوص سیاسی جماعت پارلیمان کا جواز بنا کر عزم استحکام کو متنازعہ بنانا, اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ جماعت دہشت گردی کے ساتھ منسلک ہوتی جا رہی ہے اور مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے قومی سلامتی سے جڑے مفادات بالائے طاق رکھتے ہوئے اس پر سیاست کرنا انتہائی تشویشناک ہے

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ عزم استحکام آپریشن کیسے کیا جائے گا؟ اس پر بحث کریں گے، ایوان میں قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس بلایا جائے گا،وزیراعظم بھی اجلاس میں شریک ہوں گے،قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھاکہ عزم استحکام آپریشن سے متعلق وزیردفاع بات کرنا چاہتے تھے لیکن اپوزیشن نے بات نہیں کرنے دی، ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے، کچھ ایشوز بے ضرر ہوتے ہیں، اس سے آپ کی اور ہماری سیاست کو نقصان نہیں، عزم استحکام پر وزیر دفاع بات کررہے تھے، لیکن آپ نے ایک لفظ نہیں سنا، اپوزیشن مشاورت نہ کرنے کا الزام لگاتی ہے لیکن ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں آپ کے وزیراعلیٰ نے کوئی بات نہیں کی، وزیردفاع کی تقریر کا ایک لفظ اپوزیشن نے نہیں سنا، کیسے مشاورت کریں؟ آپ کے وزیراعظم کی طرح ناراض ہوکر ہمارا وزیراعظم باہر نہیں بیٹھے گا، بلکہ پوری کابینہ کے ساتھ یہاں موجود ہوگا۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے پاکستان میں کسی بھی قسم کے آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کوئی ایپکس کمیٹی پارلیمان سے بالا تر نہیں ہے، بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کوئی بھی آپریشن ہو اس کیلئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، کوئی بھی کمیٹی کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو آئین کے مطابق پارلیمان سپریم ہے، کوئی بھی آپریشن ہو، اس کے لیے پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے،اسد قیصر کا کہنا تھا ہم کسی آپریشن کی حمایت نہیں کرتے، کوئی فیصلہ یا معاہدہ ہوا ہے تو اسے پارلیمنٹ میں لایا جائے۔