Baaghi TV

Tag: عزیر بلوچ

  • عزیر بلوچ کے خلاف 2 مقدمات کا فیصلہ مؤخر

    عزیر بلوچ کے خلاف 2 مقدمات کا فیصلہ مؤخر

    عزیر بلوچ کے خلاف 2 مقدمات کا فیصلہ مؤخر

    جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی اور سہولت کاری کے گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ کو ملزمان کو سہولت فراہم کرنے کے 2 مقدمات کا فیصلہ موخر کردیا،ملزم عزیر بلوچ کے خلاف مقدمات کا فیصلہ اس ماہ کے آخر میں سنایا جائے گا۔

    پولیس کے مطابق ملزمان شمس الدین اور عبد الغفار بگٹی نے اقبالی بیان میں کہا تھا کہ عزیر بلوچ اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ نے اسلحہ کی ترسیل میں سہولت فراہم کی۔ ملزم کے بیان پر عزیر بلوچ کیخلاف دفعہ 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ملزم سے بارود اور گولیاں برآمد کی گئیں تھی۔ ملزمان کیخلاف تھانہ سی آئی ڈی میں 2012 میں درج کیا گیا تھا۔

    قطر: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب سے ملاقات

    گزشتہ،ماہ،کراچی کی عدالت نے غیر قانونی اسلحہ برآمدگی اور سہولت کاری کے مقدمے میں لیاری گینگ کے سرغنہ عزیر جان بلوچ کو بری کرتے ہوئے ریلیز آرڈر جاری کئےتھے، اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ ملزم اگر کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کر دیا جائے،عدالت نے استغاثہ کی جانب سے ناکافی شواہد کی بنیاد پر عزیر جان بلوچ کو غیر قانونی اسلحہ برآمدگی کے مقدمے سے بری کیا-

    غزہ سے اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں

  • کراچی: لیاری گینگ کے عزیر بلوچ اسلحہ برآمدگی اور سہولت کاری کے مقدمے میں بری

    کراچی: لیاری گینگ کے عزیر بلوچ اسلحہ برآمدگی اور سہولت کاری کے مقدمے میں بری

    کراچی کی عدالت نے غیر قانونی اسلحہ برآمدگی اور سہولت کاری کے مقدمے میں لیاری گینگ کے سرغنہ عزیر جان بلوچ کو بری کردیا-

    جوڈیشل مجسٹریٹ ضلع غربی کی عدالت میں لیاری گینگ کے سر غنہ عزیر بلوچ کو پیش کیا گیا، عدالت نے استغاثہ کی جانب سے ناکافی شواہد کی بنیاد پر عزیر جان بلوچ کو غیر قانونی اسلحہ برآمدگی کے مقدمے سے بری کر تےہوئےریلیز آرڈر جاری کر دیے، اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ ملزم اگر کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کر دیا جائے۔

    اس سے قبل وکیل صفائی نے عدالت میں اپنے حتمی دلائل میں بتایا تھا کہ ان کے مؤکل پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، عزیر بلوچ کے خلاف پولیس ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی ہےملزم سیفل نے بیان دیا تھا کہ عزیربلوچ اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ نے اسلحے کی ترسیل میں سہولت فراہم کی تھی۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے عزیر جان بلوچ کو بری کرتے ہوئے ریلیز آرڈر جاری کر دیے، اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ ملزم اگر کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کر دیا جائے،استغاثہ کے مطابق ملزم سے گولا بارود اور گولیاں برآمد کی گئیں تھی، ملزمان کیخلاف تھانہ سی آئی ڈی میں 2012 میں درج کیا گیا تھا، عزیر بلوچ کو 2021 میں اس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔

  • عزیر بلوچ   تین افراد کے قتل کے مقدمے سے بری

    عزیر بلوچ تین افراد کے قتل کے مقدمے سے بری

    کراچی: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے گینگ وار کے ملزم عزیر بلوچ کو تین افراد کے قتل کے مقدمے میں بری کردیا ہے۔ یہ مقدمہ 2009 میں چاکیواڑہ تھانے میں درج کیا گیا تھا، جس میں عزیر بلوچ پر پولیس اہلکار سمیت تین افراد کے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

    عدالت نے ملزم عزیر بلوچ کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے اسے قتل کے الزامات سے بری کردیا۔ وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عزیر بلوچ کو گرفتار ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، تاہم ان بیانات کی بنیاد پر اس کے خلاف ثابت کرنے کے لئے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے۔ وکیل نے مزید کہا کہ مقدمے میں گرفتار دیگر ملزمان پہلے ہی بری ہوچکے ہیں۔عدالت نے تمام دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے گینگ وار کے ملزم عزیر بلوچ کو مقدمے سے بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے بعد عزیر بلوچ کی رہائی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

    یاد رہے کہ عزیر بلوچ ایک معروف گینگ وار ملزم ہے اور اس پر متعدد سنگین الزامات عائد ہیں، جن میں قتل، دہشت گردی اور بھتہ خوری شامل ہیں۔ لیکن اس مقدمے میں عدلیہ نے اس کے خلاف الزامات کو ناکافی شواہد کی بنا پر مسترد کردیا۔

    مشہور کمپوزر آرنلڈ شوئن برگ کا میوزک کیٹلاگ آگ میں جل کر تباہ

    کوئٹہ،کان میں دھماکے کے بعد سرچ آپریشن مکمل، 12 لاشیں نکال لی گئیں

  • لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ  کی عدالت سے  انوکھی فرمائش

    لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی عدالت سے انوکھی فرمائش

    کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں لیاری آپریشن کے دوران پولیس پر حملے کے مقدمے کی سماعت کے دوران لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے عدالت سے انوکھی فرمائش کر دی-

    باغی ٹی وی : عزیر بلوچ نے کہا کہ سب جیل میں میرے پاس ٹیلی ویژن موجود ہے مگر کیبل فراہم نہیں کی گئی انہوں نے جج سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ جیل میں خود آکر دیکھ لیں میرے ساتھ کتنا ظلم ہورہا ہے،عزیر بلوچ نے اپنے وکیل فاروق حیدر جتوئی ایڈووکیٹ کے توسط سے جیل میں سہولیات کی عدم فراہمی پر تحریری درخواست دائر کردی ہے۔

    عدالت نے عزیر بلوچ سے استفسار کیا کہ کیا سب جیل میں آپ کے پاس ٹیلی ویژن موجود ہے؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹیلی ویژن تو دیا گیا ہے لیکن ٹی وی کیبل مہیا نہیں کی گئی، ’نہ میں نیوز چینلز دیکھ سکتا ہوں اور نہ ہی کسی قسم کا انٹرٹینمنٹ کا کوئی پروگرام‘،مجھے جمعہ کی نماز تک مسجد میں ادا نہیں کرنےدی جاتی، اس کے علاوہ ہفتے میں ایک دن بھی اہل خانہ سے ملاقات نہیں کرائی جاتی، سب جیل انتظامیہ کے اس رویے کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے۔

    فاروق حیدر جتوئی ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ میرے مؤکل کو جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں، ان کی قانون کے مطابق اہل خانہ سے ملاقات کروائی جائے،عدالت نے عزیر بلوچ کی درخواست پر سب جیل انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 دسمبر کو جواب طلب کرلیا۔

    واضح رہے کہ 2012 میں لیاری آپریشن کے دوران پولیس پر حملہ کیا گیا تھا، لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ سمیت دیگر کے خلاف اس حوالے سے تھانہ کھارادر میں مقدمہ درج ہے۔

  • پولیس پر حملے اور اقدام قتل ، گواہ نےعزیر بلوچ کو شناخت کرلیا

    پولیس پر حملے اور اقدام قتل ، گواہ نےعزیر بلوچ کو شناخت کرلیا

    کراچی شہرانسداد دہشت گردی کی عدالت میں پولیس پر حملے اور اقدام قتل کے مقدمے میں گواہ نے گینگ وار سرغنہ عز یر بلوچ کو گواہی میں شناخت کرلیا ۔کراچی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے روبرو لیاری آپریشن کے دوران پولیس پر حملہ اور اقدام قتل کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کو پیش کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مقدمہ کے اہم گواہ پولیس اہلکار نے گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو گواہی میں شناخت کرلیا۔ مقدمہ کے گواہ پولیس اہلکار نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرادیا۔ گواہ نے بیان دیا کہ گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے میرے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ 11 مئی 2020 کو سینٹرل جیل میں عزیر بلوچ سے تفتیش کی تھی۔عزیر بلوچ سے تفتیش عدالت کی اجازت لینے کے بعد کی گئی تھی۔تفتیش کے دوران عزیر بلوچ نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا۔ عزیر بلوچ نے دوران تفتیش اعتراف کیا تھا کہ اس نے لیاری آپریشن میں پولیس پر حملہ کیا۔ عذیر بلوچ نے اپنی دیگر ساتھیوں کو پولیس کو مارنے کے احکامات دیئے۔ عابد زمان ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ میرے موکل عذیر بلوچ نے دوران تفتیش ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا۔ ملزم نے اگر ایسا کوئی اعتراف کیا تو وہ کسی میمو یا فرد گرفتاری میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔پولیس کی جانب سے دی جانے والی گواہی جھوٹی اور بے بنیاد ہے۔ عدالت نے گواہ کے بیان کے بعد سماعت ملتوی کردی۔ پولیس کے مطابق 2 اپریل 2012 کو لیاری آپریشن کے دوران گینگ وار کے کارندوں نے پولیس پر حملہ کیا تھا۔ گینگ وار کے دہشتگردوں نے پولیس پر راکٹ لانچر اور فائرنگ سے حملہ کیا۔مقدمہ میں گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ، تاج محمد عرف تاجو، وصی اللہ لاکھو، نور محمد عرف بابا کاڈلہ، زاہد لاڈلہ و دیگر نامزد ہیں۔ مقدمہ میں ملزم شاہد عرف ایم سی بی ضمانت پر ہے۔

    چوری شدہ50 لاکھ سے زائد مالیت کے موبائل مالکان کے حوالے

  • عزیر بلوچ پولیس اہلکاروں کے قتل اور اغوا کیس میں بھی  بری

    عزیر بلوچ پولیس اہلکاروں کے قتل اور اغوا کیس میں بھی بری

    کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس اہلکار سمیت 4 افراد کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ سمیت 3 ملزمان کو عدم ثبوت پر بری کردیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر عزیر بلوچ، ریاض سرور اور شیر افسر کو بری کیا۔ملزمان کے وکلا کے مطابق عزیر بلوچ و دیگر ملزمان کے خلاف استغاثہ کے پاس کوئی شواہد موجود نہیں تھے جس کی بنیاد پر عدالت نے انہیں بری کیا۔پولیس کے مطابق 2010 کو پولیس اہلکار لالا امین، شیر افضل خان، غازی خان و دیگر کا قتل ہوا تھا، مقتولین کو میوہ شاہ قبرستان کے پاس سے دیگر ملزمان نے اغوا کرکے عزیر بلوچ کے حوالے کیا تھا،عزیر بلوچ نے اپنے ساتھیوں سکندر عرف سکو، سرور بلوچ اور اکبر بلوچ کے ساتھ مل کر قتل کیا تھا۔واضح رہے کہ عزیر بلوچ اب تک 2 درجن سے زائد مقدمات میں بنیادی طور پر عدم ثبوت کی وجہ سے بری ہو چکے ہیں۔7 اگست کو کراچی کی ایک سیشن عدالت نے عزیر بلوچ اور ان کے ساتھی غفار ماما کو 15 سال پرانے پولیس مقابلے اور اقدام قتل کے کیس میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا تھا۔فیصلے میں کہا گیا تھا کہ استغاثہ عزیر بلوچ اور غفار ماما کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی۔26 جنوری 2023 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کو ہنگامہ آرائی، پولیس پر حملے اور دہشت گردی سے متعلق 11 سال پرانے ایک اور مقدمے میں عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کیا تھا۔17 دسمبر 2022 کو کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کو مزید دو مقدمات سے بری کیا تھا۔

    محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کا غیر ضروری انتظامی عہدے ختم کرنے پر غور

    یورپی یونین اور جرمنی کا سندھ میں موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کیلئے اشتراک

    کینیڈین ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

    اسسٹنٹ کمشنر ناظم آباد ہاظم بنگوار کو عہدے سے کیوں ہٹایا ،وجہ سامنے آگئی

  • عزیر بلوچ کی اہلخانہ سے ملاقات اور مسجد میں جمعہ پڑھنے کی درخواست

    عزیر بلوچ کی اہلخانہ سے ملاقات اور مسجد میں جمعہ پڑھنے کی درخواست

    انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ کی رینجرز کسڈی ختم کرنے، نماز جمعہ کی ادائیگی اور اہلخانہ سے ملاقات کی درخواست پر اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر اور جیل سپرٹنڈنٹ کو نوٹس جاری کردئیے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی سینٹرل جیل میں انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے روبرو گینگ وار سربراہ عزیر جان بلوچ نے رینجرز کی کسٹڈی ختم کرنے، نماز جمعہ کی ادائیگی اور اہلخانہ سے ملاقات کی سہولیات سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔عزیر بلوچ نے کہا کہ میٹھا رام میں مجھے اہلخانہ سے ملاقات کرنے نہیں دی جاتی، مسجد ہونے کے باوجود نماز جمعہ کی ادائیگی بھی نہیں کرنے دی جاتی۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ یہ معاملہ ہم دیکھ لیتے ہیں. یہ رینجرز اہلکار یہاں کیوں ہوتے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہائی پروفائل کیس ہے جس کی وجہ سے آپ کو سیکورٹی دی گئی ہے۔عدالت نے عزیر بلوچ کی درخواست پر اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر اور جیل سپرٹنڈنٹ کو نوٹس جاری کردیئے اور 4 نومبر تک جواب طلب کرلیا۔ دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ عزیر بلوچ کو ہفتے میں ایک بار اہلخانہ سے ملاقات کی اجازت ملی، لیکن اس کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے ملاقات نہیں کرائی جاتی۔ بطور والد اور شوہر عزیر بلوچ کا اپنے بیوی بچوں سے ملاقات کرنا ضروری ہے۔ عزیر بلوچ کو نماز جمعہ کی ادائیگی کرنے بھی نہیں دی جاتی۔ نماز کی ادائیگی ہر مسلمان پر فرض ہے۔ استدعا ہے سہولیات فراہمی کا حکم دیا جائے۔

    کراچی چیمبر کا وزیراعظم سے 6 ورکنگ ڈے بحال کرنے کا مطالبہ

    کراچی کی خاتون پڑوسی کی مرغیوں کے شور سے تنگ ہائیکورٹ جا پہنچیں

    رئیر ایڈمرل فیصل امین نے کمانڈر کوسٹ کا عہدہ سنبھال لیا

    حریت وفد کی ہیومن رائٹس کونسل، ایم کیو ایم اور فلسطین فاؤنڈیشن کے عہدیداروں سے ملاقاتیں

    جماعت اسلامی سندھ کے نئے امراء اضلاع کے تقرر کا اعلان

  • انتہائی مطلوب ملزم لیاری گینگ وارعزیر بلوچ کا قریبی ساتھی گرفتار

    انتہائی مطلوب ملزم لیاری گینگ وارعزیر بلوچ کا قریبی ساتھی گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پولیس کی کاروائیاں جاری ہیں

    ڈسٹرکٹ سٹی پولیس اور حساس ادارے نے انٹیلیجنس ٹیکنیکل بیسڈ مشترکہ ٹارگٹڈ کارروائی کی اور پولیس کو انتہائی مطلوب لیاری گینگ وار عزیر بلوچ کا قریبی ساتھی گرفتار کر لیا گیا، ملزم کو علاقہ تھانہ کلری کی حدود سے گرفتار کیا گیا. ملزم سے 1 ہینڈ گرینیڈ برآمد کر لیا گیا، ملزم کی شناخت محمد اویس ولد محمد یونس کے نام سے ہوئی ہے. ملزم کا نام ریڈ بک میں بھی شامل ہے. ملزم لیاری گینگ وار عزیر بلوچ گروپ کا اہم کمانڈر ہے, اور عزیر بلوچ کا قریبی ساتھی ہے, کراچی: ملزم انتہائی پیشہ ور ہے اور اس سے قبل کئی مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جا چکا ہے, ملزم ٹارگٹ کلنگ, اغواء برائے تاوان, بھتہ خوری جیسے سنگین نوعیت کے درجنوں مقدمات میں ملوث تھا, ملزم کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 35/2023 بجرم دفعہ 4/5 ایکسپلوزو ایکٹ درج کرکے مزید قانونی کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے,ملزم کا سابقہ کریمنل ریکارڈ اکٹھا کیا جا رہا ہے. ملزم سے دیگر ساتھیوں کے متعلق پوچھ گچھ جاری ہے

    دوسری جانب تھانہ کھوکھرآپار پولیس کی خفیہ اطلاع پر مختلف پولیس کارواٸیوں کے دوران تین ملزمان گرفتار کئے گئے، کھوکھرآپار پولیس نے خفیہ اطلاع پر دو منشیات فروش اور ایک ڈکیت گروہ کے اہم کارندے کو گرفتار کرلیا, پہلی کارواٸی میں منشیات فروش ملزمان کے قبضے سے منشیات ایک پاٸو سے زاٸد چرس برآمد کی, دوسری کاررواٸی میں ڈکیت گروہ کے اہم کارندے سے اسلحہ ایک پسٹل بمعہ ایمونیشن اور ایک چھیننا ہوا ہوباٸل فون برآمد کیا, گرفتار ملزمان کی شناخت, اسٹریٹ کریمنل رحمت اللہ, منشیات فروش غلام سخی اور امان اللہ کے نام سے ہوٸی, گرفتار ملزمان عادی جراٸم پیشہ ہیں اور پہلے بھی بیشتر مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جاچکے ہیں,ابتداٸی تفتیش کے دوران گرفتار ڈکیت گروہ کے کارندے سے ملیر , گلشن اور شاہراہ فیصل پر درجنوں اسٹریٹ کراٸم کی وارداتوں کا انکشاف بھی ہوا ہے, گرفتار ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرکے مذید انٹیروگیشن کیلۓ تفتیشی حکام کے سپرد کردیا گیا ۔

    تھانہ گلستان جوہر پولیس نے اسٹریٹ کریمنل ملزمان کے خلاف کاروائی کی، گرفتار ملزم عادی مجرم ہے پہلے بھی گرفتار ہوکر جیل جا چکا ہے پولیس نے کاروائی کرتے ہوئےبمقام بلاک 10 گلستان جوہر کراچی سے ملزم کوگرفتارکیا-ملزم کے دوسری دو ساتھی موقع سے فرار ہوگٸے۔ گرفتار شدہ ملزم کے قبضہ سے اسلحہ پسٹل ایمونیشن و ایک عدد موبائل فون و پرس برآمد ہوا۔گرفتار شدہ ساتھی نے اپنے فراری ساتھیوں کے نام لیاقت اور عارف بتلاٸے۔ گرفتار شدہ ملزم کی شناخت وسیم ولد رحمت اللہ کے نام سے ہوٸی۔ ملزم کے کریمنل ریکارڈ کی تفصیل زیل ہے 54/2023 بجرم دفعہ 397/34 ت پ تھانہ گلستان جوہر ،55/2023بجرم دفعہ 23/1A سندھ آرمزایکٹ تھانہ گلستان جوہر کراچی ،گرفتار شدہ ملزم کومزید تفتیش کے لئے شعبہ تفتیش حکام کے حوالے کیا گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ضلع کورنگی پولیس نے قانون میرا تحفظ سماجی بہود ادارے کے تعاون سے کیجانب سے اور تفتیش و مقدمات کی مضبوطی کیلٸے ایک تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا,تربیتی ورکشاپ کی مہمان خصوصی سابق آٸی جی سندھ نیاز احمد صدیقی, بیرسٹر شاہدہ جمیل سمیت سول جج صبغت اللہ ہنگوریو, ایس ایس پی انویسٹیگیشن کورنگی ابریز عباسی, اے ایس پی بلال حسن مرزا, پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ, اور دیگر پولیس افسران سمیت شعبہ (قانون میرا تحفظ) کی چیٸرپرسن فوزیہ طارق اور وومین اینڈ چاٸلڈ پروٹیکشن سیل انچارج کورنگی زکیہ اُمِ کلثوم نے بھی شمولیت کی, تربیتی ورکشاپ میں فارینسک کریمنل انویسٹیگیشن, ہومیساٸیڈ, قتل کے مقدمات میں پیش رفت اور تفتیش کے اہم موضوع پر بریفنگ دی گٸی, بیرسٹر شاہدہ جمیل نے فارینسک طریقوں میں بہتری اور وومین اینڈ چاٸلڈ پروٹیکشن سیل کورنگی کی مدد سے پیچیدا کیسسز کو حل کرنے کی کوششوں کو سراہا, سابق آٸی جی سندھ نیاز احمد صدیقی نے ہومیساٸیڈ فارینزک کریمنل انویسٹیگیشن کے بارے میں پرزنٹیشن دی, موت کی تمام اقسام کا احاطہ کرتے ہوٸے موت کی وجہ اور مدت کا تعین کرنے کے فارینسک طریقوں اور کریمنل کیسز سمیت دیگر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے بھی آگاہ کیاگیا, مذید سول جج اور جوڈیشنل مجسٹریٹ ایسٹ کراچی نے عدالت میں مقدمات کی سماعت, ناقص تفتیش اور دیگر وجوہات پر زور دیا جو بری ہونے کی بلند شرح میں معاون ہیں, مذید ایف آٸی آر کی سیکشن میں اضافے کے لیٸے بھی بریفنگ دی, ابریز عباسی ایس ایس پی انویسٹیگیشن ونگ ضلع کورنگی, ایسٹ زون نے ورکشاپ کے تمام مقررین کا شکریہ ادا کیا اور مثبت سفارشات اور تجاویز پیش کرنے پر افسران کی حوصلہ افزاٸی کی, اختتام میں بیرسٹر شاہدہ اور قانون میرا تحفظ کی چیٸرپرسن فوزیہ نے کورنگی پولیس کے آپریشن و انویسٹیگیشن یونٹس کی بہترین کارکردگی کو سراہتے ہوٸے تعریفی اسناد سے بھی نوازا گیا,