Baaghi TV

Tag: عطاتارڑ

  • سول نافرمانی کی جو کال دی گئی ہے وہ مزاخیہ خیز ہے،عطاتارڑ

    سول نافرمانی کی جو کال دی گئی ہے وہ مزاخیہ خیز ہے،عطاتارڑ

    لاہور: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اس ملک کے لئے ہمارے بڑوں نے بڑی قربانیاں دی، سول نافرمانی کی جو کال دی گئی ہے وہ مزاخیہ خیز ہے، ملک میں انتشار نہیں ہوگا جہاں بھی ہوگا ہم اس کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : لاہور کے علاقے بہار کالونی میں کرسچن برادری سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ ہم کرسمس کی خوشیاں آپ کے ساتھ مل کر منائیں گے، آپ کی ہر خوشی ہر غم میں آپ کا یہ بھائی آپ کے ساتھ کھڑا ہے، کرسچن کمیونٹی نے دنیا کے بہترین فائٹر پائلٹ پیدا کیے، جس طرح تمام کمیونیٹیز اپنا کردار ادا کررہی ہیں، آپ سب کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے-

    عطا تارڑ نے کہا کہ میرے اوپر زیادہ ذمہ داری ہے کہ اقلیت برادری کا تحفظ کروں، ملک پاکستان اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، ہم نے اس کی حفاظت کرنی ہے، اس کی ترقی میں حصہ ڈالنا ہے، اس ملک کے لئے ہمارے بڑوں نے بڑی قربانیاں دی، سول نافرمانی کی جو کال دی گئی ہے وہ مزاخیہ خیز ہے، یہ جو نافرمانی اور تشدد کی سیاست ہے عوام نے اسے مسترد کردیا ہے-

    انہوں نے کہا کہ جھوٹا بیانیہ بنا کر لاشوں کی سیاست کی جارہی ہے، سول نافرمانی کی کال شرمناک ہے، تمھاری نافرمانی کی ایسی کی تیسی پھیر چکی ہیں، نافرمانی تو تمہارے خون کے اندر ہے، لوگوں نے اس کو مسترد کیا ہےن افرمانی اور تشدد کی سیاست کو عوام رد کرچکے ہیں ورنہ یہ دوڑ نہ لگاتے، جو مرضی کرلو تمہاری دال نہیں گلنی، تمہارے لوگ دم دبا کر بھاگے ہیں اور آگے ان کا کوئی فیوچر نہیں ہے۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ لطیف کھوسہ کی سیاست کرنے کی عمر نہیں رہی ہے، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ دوڑ کیوں لگائی، بھاگے کیوں؟ یہ انتشار کرنا چاہتے ہیں جو ہم انہیں کرنے نہیں دیں گے، نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہورہا ہے،، اصل ویڈیو سامنے لے آتے تو جھوٹی غزہ اور فلسطین کی ویڈیوز کا سہارا نہ لینا پڑتا، یہ انتشار چاہتے ہیں جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی-

    انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں امن و امان لانے کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آرہی،کرم میں لاشیں گریں دیگر معاملات ہوئے، کے پی حکومت کی امن وامان کی طرف توجہ نہیں ہے، یہ جھوٹے بیانیے پر سارا پیسہ لگا رہے ہیں، دہشتگردی کے خلاف جو کچھ ہوسکا وفاقی حکومت کرے گی۔

  • شرپسند عناصر کا قائد مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، عطا تارڑ

    شرپسند عناصر کا قائد مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ مسلح افغان شہریوں اور شرپسند عناصر کی قیادت کرنے والا مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عطاتارڑ نے بتایا کہ مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، وہ نہ صرف اس احتجاج میں شریک تھے بلکہ انہوں نے تربیت یافتہ جھتے بھیجے تھے جن کو مظاہرے کے دوران لاشیں گرانے کی احکامات دیئے گئے تھے۔یہ کس طرح کی سیاست ہے، مراد سعید یہ کام پہلے بھی کرتے رہے ہیں، انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی، ریڈ زون میں جانے کا مقصد ریاستی رٹ کو ختم کرنا تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلحہ انتشاریوں کے پاس تھا، بین الاقوامی میڈیا پر بھی پراپیگنڈا کیا جارہا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فائرنگ کی ایک ویڈیو نہیں آئی، لاشوں کے حوالے سے پراپیگنڈا کیا جارہا ہے، پمز اور پولی کلینک ہسپتال نے اپنی پریس ریلیز میں واضح کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ سے ہلاکت نہیں ہوئی۔عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ اگر فائرنگ کی گئی تو وہ احتجاجی مظاہرین میں سے کی گئی، کرم میں کہرام مچا ہوا ہے مگر تمام تر توجہ سیاست کے اوپر ہے، اگر احتجاج کا فیصلہ کیا تھا تو پھر موقعے سے بھاگے کیوں؟ مظاہروں کی وجہ سے ملکی معیشت کو یومیہ 192 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا کی عوام کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے یہ کال مسترد کی اور ان کے پاس آخر میں تقریباً 2 ہزار لوگ رہ گئے، خیبرپختونخوا کی عوام تعلیم اور صحت مانگتے ہیں، وہاں کی عوام انتشار کی سیاست نہیں چاہتے۔ ان کو اصل مایوسی سیاسی طور پر لاشیں گرانے میں ناکامی پر ہورہی ہے، ان کے پاس براہ راست فائرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔عطاتارڑ نے کہا کہ مراد سعید اس سازش میں شامل تھے، جتنے لوگ فرنٹ لائن سے پکڑے گئے ایک سازش کے تحت لائے گئے تھے، سیاسی ناکامی کو چھپانے کے لیے جھوٹا بیانیہ چلے گا نہیں، یہ ایک غیر قانونی پرتشدد احتجاج تھا، اس میں غیر قانونی طور پر اسلحہ لایا گیا تھا اور بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔ گزشتہ کئی دنوں سے میڈیا اور سوشل میڈیا چینلز پر احتجاج کی ناکامی کو چھپانے کے لیے جھوٹا بیانیہ بنایا جارہا ہے ،پاکستانی عوام کے سامنے تمام تر حقائق رکھنا ضروری ہیں۔کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا امن تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی مظاہروں میں تربیت یافتہ جرائم پیشہ اور افغانی موجود تھے، تمام لوگ اسلحہ بخوبی چلانا جانتے تھے لیکن اس دفعہ کے احتجاج میں آخری کال کے نام سے سنسنی پھیلائی گئی۔ یہ سارے احتجاج غیر ملکی مہمان کی آمد کے موقع پر ہی کیوں کیے جاتے ہیں، ریاست گھٹنے نہیں ٹیکتی، ریاست کا کام رٹ کو بحال کرنا اور امن و امان، شہریوں کے حقوق اور حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔عطا تارڑ نے کہا ہمارے پاس انٹیلی جنس رپورٹس دی تھی کہ فائنل کال میں کوشش کی جائے گی کہ خون بہایا جائے اور لاشیں گرائی جائیں، ٹیکس پیئر کے پیسوں سے اگر کسی بھی صوبائی حکومت کو وسائل دیئے جاتے ہیں تو اس کامقصد غیر قانونی احتجاج پر کڑوڑوں روپے خرچ کرنا نہیں ہوتا۔اس موقع پر سیکریٹری داخلہ خرم علی آغا کا کہنا تھا کہ ان سے کہا درخواست دیں کہ کہاں جلسہ کرنا ہے لیکن نہیں دی، غیرملکی وفد کی آمد پر ہمیں سیکیورٹی پلان تشکیل دینا پڑا، سیکیورٹی اداروں نے بہت ہمت دکھائی اور صابر رہے، انہوں نے کسی قسم کا اسلحہ استعمال نہیں کیا، پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) کے کارکنان نے ہر قسم کا ہتھیار استعمال کیا اور تشدد کیا، املاک کو نقصان پہنچایا،فوج کو صرف ریڈ زون میں تعینات کیا گیا تھا۔پریس کانفرنس کے دوران احتجاج سے حراست میں لیے گئے ملزمان کی ویڈیو اور ان کے اعترافی بیان بھی دکھائے گئے۔عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران بلا اشتعال فائرنگ کے ثبوت دکھائیں گئے ہیں، کسی ایک اہلکار کی جانب سے فائرنگ کا ثبوت نہیں، اموات کا جھوٹا پراپیگنڈا اپنی موت مرے گا، اب خیبرپختونخوا کی عوام کی خدمت کرنے کا موقع ہے، احتجاج سے گرفتار ملزمان نے بھی کہا کہ پی ٹی آئی رہنما ہمیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بطور سیاست دان یہ نہیں چاہتا کہ کوئی ایسا ایکشن ہو جس سے لوگوں کے مینڈیٹ کی توہین ہو، ہم سیاسی لوگ ہیں، ہم نے فیک خبروں کو اچھی طرح بے نقاب کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب جھوٹ ہر طرف سے آئے گا تو ہمارے پاس ایک ہی آپشن رہ جاتا ہے، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ایک ٹاس فورس بنائی جاتے اور اس کے تحت جو جھوٹا الزام لگائے اس کو اسے ثابت کرنے کے لیے بلایا جائے، ریاست کمزور نہیں ہوتی، وہ صرف اپنے شہریوں کا خیال کرتی ہیں۔

    سابق ایم این اے علی حسن گیلانی حادثے میں جاں بحق

    گنڈا پور کا امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کا دعوی

    مریم نواز نےسندھی ثقافت کی تعریف کر دی

  • ایس ایچ او تھانہ جوہر ٹاؤن کو معطل کردیا: وزیرداخلہ پنجاب عطا تارڑ

    ایس ایچ او تھانہ جوہر ٹاؤن کو معطل کردیا: وزیرداخلہ پنجاب عطا تارڑ

    لاہور:صوبائی وزیرداخلہ عطااللہ تارڑ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ضمنی الیکشن سے پہلے ہی ٹینشن، لاہور کے حلقہ پی پی 167 میں پی ٹی آئی اور ن لیگی کارکنوں کا تصادم ہوا، حکومتی امیدوار نذیر چوہان اور تحریک انصاف کے خالد گجر کے بیٹے زخمی ہوگئے، فریقین نے ایک دوسرے پر فائرنگ کے الزامات عائد کئے جبکہ عطا تارڑ نے کہا کہ کل کے پر تشدد واقعہ پر ایس ایچ او تھانہ جوہر ٹاؤن کو معطل کردیا گیا ہے۔

     

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ پنجاب نے کہا کہ ایس ایچ او جوہر ٹاؤن کو معطل کرنے کا حکم دیتا ہوں کیونکہ وہ امن و امان قائم کرنے میں ناکام رہے، متعلقہ ایس پی رپورٹ طلب کریں گے کیوں اسلحہ کی نمائش اور اس پر پابندی کیوں نہیں کی گئی، نذیر چوہان پر جان لیوا حملہ ہوا کسی امیدوار کو اسلحہ کی نمائش اور ساتھ لانے پر پابندی ہے، جس امیدوار کو زیادہ خطرہ ہوگا انہیں دو پولیس اہلکار گارڈ کے طور پر دئیے جائیں گے، جس طریقے سے فائرنگ ہوئی کہ نذیر چوہان کی گاڑی کو چھلنی کیا گیا، جو بھی فائرنگ واقعہ میں ملوث ہوگا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

     

    عطا تارڑ نے مزید کہا کہ جہاں جہاں ضمنی الیکشن ہے وہاں اسلحہ کی نمائش پر سخت پابندی ہوگی، پولیس افسران کی اندھا دھند پوسٹنگ کی گئیں جس کے ریٹ طے تھے جس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں، امن و امان کی صورت برترین مقام تک پہنچ چکی ہے، نذیر چوہان پر فائرنگ خالد گجر نے کی، سیٹیں گولیوں سے چھلنی ہوئی، خالد گجر کے بیٹے عادل کے سر پر چوٹ آئی جو کہ جناح ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جنسی حراسانی اور زیادتی کا نشانہ بننا اور ان میں اضافہ باعثِ تشویش ہے، بچوں و خواتین سے زیادتی کے واقعات میں شدت سے اضافہ ہوا ہے، پنجاب میں روزانہ چار سے پانچ کیسز ریپ کے رپورٹ ہو رہے ہیں، ریپ کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز نے آتے ہی فرض شناس افسران کی تعیناتیاں کیں، چوکیاں، اٹک، باٹا پور جیسے ریپ واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، حکومت نے فیصلہ کیا ہے بچوں عورتوں کے خلاف تشدد ریپ کیسز پر خصوصی اقدامات کر رہے ہیں، جنسی حراساں، زیادتی کا نشانہ اور زور زبردستی پر حکومت سوچ رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت ریپ کیسز پر ایمرجنسی کا اعلان کرتی ہے، ہم نے ریپ کیسز پر کیبنٹ کمیٹی امن و امان تمام کیسز کا جائزہ لے گی، سول سوسائٹی، خواتین حقوق کی تنظیمیں، اساتذہ، وکلا سمیت مختلف اداروں سے مشاورت کی جائے گی، ملتان میں بچہ سے زیادتی والا کزن، خاتون سے زیادتی کرنے والا ہمسایہ تھا، والدین سے اپیل کروں گا کہ بچوں کے تحفظ کےلئے آگاہی دینا ہوگی، فیملی ممبر بغیر نگرانی کے گھروں میں اکیلا نہ چھوڑا جائے، فرانزک لیب اور سیف سٹی سے ریپ کیسز کے ملزمان کو پکڑا گیا، ریپ کے خلاف آگاہی مہم اور بچوں کو بھی اسکولوں میں جنسی حراسگی پر بتائیں گے۔

    وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اب والدین کو آگاہی دینا ہوگی بچوں کو کس طرح تحفظ کرنا ہے، خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات پر ہیلپ لائن اور قوانین میں بھی ترامیم کریں گے، قوانین میں ترامیم کر کے خواتین کے حقوق کا تحفظ، سزاؤں میں اضافہ کریں گے، ڈی این اے سیمپل کو فاسٹ ٹریک کے ذریعے اقدامات کئے جائیں گے، زیادتی پر دو ہفتوں میں ایسا نظام لائیں گے جس سے واقعات میں کمی آئے گی۔