Baaghi TV

Tag: عفت رحیم

  • سیمی راحیل نے ایوارڈز کی تقسیم پر سوال اٹھا دئیے

    سیمی راحیل نے ایوارڈز کی تقسیم پر سوال اٹھا دئیے

    شوبز انڈسٹری میں بہت سارے ایسے فنکار ہیں جن کو ایوارڈز کی تقسیم پر اعتراض ہے. ان کا کہنا ہے کہ ایوارڈز کی تقسیم منصفانہ نہیں‌کی جاتی، اپنی پسند کے فنکاروں‌کو ایوارڈ‌دے دئیے جاتے ہیں. ایسا ہی کہنا ہے سیئنر اداکارہ سیمی راحیل کا ان کا کہنا ہے کہ بہت سارے ایسے فنکاروں‌کو ایوارڈ دئیے جاتے ہیں جنہوں نے کچھ کیا بھی نہیں ہوتا نہ ہی ان کے کریڈٹ پر اتنا کام ہوتا ہے. انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایوارڈز جو دئیے جا رہے ہیں وہ کن بنیادوں پر دئیے جاتے ہیں. جن کو ایوارڈ ملنے چاہیں ان کو دئیے نہیں جاتے. یہ ایک کھیل ہے جو چل رہا ہے

    اور ہم سب دیکھ رہے ہیں. سیمی راحیل نے کہا کہ ایوارڈز کسی بھی فنکار کی حوصلہ افزائی کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں لیکن مجھے تو نہ کبھی ایوارڈ دیا گیا اور نہ ہی کسی ایوارڈ شو میں مجھے مدعو کیا گیا ہے. سیمی راحیل تو نے تو باقاعدہ طور پر کہہ دیا کہ ہماری انڈسٹری میں برے لوگوں کو ایوارڈز دئیے جا رہے ہیں ایسا نہیں‌ہونا چاہیے ، جن کا حق ہے ایوارڈ اسی جو دیا جانا چاہیے.یاد رہے کہ اس سے قبل اداکار علی عباس اور عفت رحیم نے بھی ایوارڈز کے فئیر ہونے پر سوال اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ ایوارڈز زیادہ تر سفارشی ہوتے ہیں اسلئے ہمیں ان پر یقین نہیں ہے.

  • عقل کے اندھے ہیں جو عمران خان کو سپورٹ کررہے ہیں:عفت رحیم

    عقل کے اندھے ہیں جو عمران خان کو سپورٹ کررہے ہیں:عفت رحیم

    مااڈل، اداکارہ و ہوسٹ‌عفت رحیم نے کہا ہے کہ میں کسی وقت میں عمران خان کو بہت زیادہ سپورٹ‌ کرتی تھی لیکن ان کے اپنے قول و فعل کے تضاد نے مجھے ان سے دور کر دیا ہے اور میں نے انکی حمایت چھوڑ دی ہے اورمشی خان ہوں یا کوئی اور ان کو اگر میری باتیں یا میرا وہ پروگرام جس میں،میں ان کے لیڈر پر طنز کرتی ہوں برا لگتا ہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے میرا نہیں. میں اپنے حصے کا سچ بول رہی ہوں یہ لوگ اپنے حصے کا سچ بول رہے ہیں. میں پوسٹ کرنے کے بعد کمنٹس نہیں‌پڑھتی لہذا جس کو جو بولنا ہے بولتا رہے.عمران خان کے سپورٹرز میں تو اتنا بھی حوصلہ نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کی رائے کو ہی ہضم کر لیں. میں مذاق میں ایک پروگرام کرتی ہوں اور اگر اس مذاق میں سچائی ہے تو دل کو لگ رہی ہے نا اور عمران کے حامیوں کو غصہ آرہا ہے.عمران خان جب تک صرف سپورٹس مین تھے چپ رہتے تھے ہم ان کو سراہتے تھے ان کی شخصیت سے بھی متاثر تھے لیکن 2014 کے دھرنوں میں جب انہوں‌ نے بل جلانے کی بات کی،گیلی شلواروں کی بات کی، ڈی آئی جی کو گھسیٹنے کی بات کی ، بدتمیزی اور عدم برداشت کو فروغ دیا تو میری ان کے بارے میں‌ رائے بدلنا شروع ہو گئی جیسے جیسے عمران نے اپنا منہ کھولنا شروع کیا خود کو ایکسپوز کرتے گئے اب صرف عقل کے اندھے ان کو سپورٹ کررہے ہیں جن میں تھوڑی عقل ہے وہ ان کی بات نہیں سنتے.عمران خان کے زمانے میں ہم جس قدر اخلاقی پستی میں گرے ہیں شاید ہی پہلے ایسا کبھی ہوا ہو گا. مشی خان کو جو کہنا ہے کہتی رہیں مجھے نہ ان کو بلکہ کسی کو بھی جواب نہیں دینا لیکن جو ٹھیک سمجھتی ہوں وہ ضرور بولتی رہوں گی.