Baaghi TV

Tag: علامہ ابتسام الہٰی ظہیر

  • مسلم امہ کی پستی دین سے دوری صف بندی کرنا ہوگی علامہ ابتسام الہی ظہیر

    مسلم امہ کی پستی دین سے دوری صف بندی کرنا ہوگی علامہ ابتسام الہی ظہیر

    معروف عالم دین علامہ ابتسام الہی ظہیر نے کہا ہے کہ مسلم امہ کی پستی کی وجہ دین سے دوری ہے وقت تقاضہ ہے اللہ تعالی اور آخری نبی حضرت محمد مصطفیﷺ کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان مسلم لیگ(ق)کراچی ڈویژن کے صدر محمد جمیل احمد خان کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ میں کیا۔ علامہ ابتسام الہی کا کہنا تھا ا ازسرنو صف بندی کرکے ہی اپنا کھویا ہوا وقار و مقام حاصل کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں اسکے لئے ہر مسلمان کو متحد و منظم ہوکر قرآن و سنت پر عمل کرنا ہوگا .اسں موقع پر معروف مذہبی اسکالر علامہ قاری ڈاکٹر خلیل الرحمان جاوید نے کہا کہ اللہ رب العزت کی وحدانیت اور عشق مصطفیﷺ کامل ایمان کی دلیل ہے اسں موقع پر پاکستان مسلم لیگ(ق)سندھ کے سیکرٹری اطلاعات محمد صادق شیخ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نے ہمیشہ بلاتفریق علما و مشاخ سے رابطہ رکھا ہے مسلم لیگ کے قائد چوہدری شجاعت حسین کی قیادت میں تعمیر وطن کے لئے تمام طبقات سے رابطوں کو مزید موثرکریں گے۔اسں موقع پر پاکستان مسلم لیگ کراچی کے صدر محمد جمیل احمد خان نے کہا کہ مسلم لیگ قومی جماعت ہے اور تعمیر وطن۔ ترقی و خوشحالی کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔ اور علما مشائخ کے ساتھ مل جلکر مسلم لیگ کو مضبوط کرینگے۔ اسں موقع پر مسلم لیگ اسپورٹسں ونگ کے صدر سید مشرف علی۔ کامران شیخ اور دیگر موجود تھے۔

    پولیو مہم کا آغاز، سندھ کے ایک کروڑ بچوں کو پولیو قطرے پلائے جائیں گے

    پولیو مہم کا آغاز، سندھ کے ایک کروڑ بچوں کو پولیو قطرے پلائے جائیں گے

    کراچی‘ فیڈرل بی ایریا میں سلنڈر دھماکا، 2 افراد جاں بحق

    کراچی: اورنگی ٹاون میں خاتون اور بچوں کے گلے کاٹنے والاملزم گرفتار

  • بچے سے بدفعلی کی کوشش، غیر قانونی پنچایتوں کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا،پولیس

    بچے سے بدفعلی کی کوشش، غیر قانونی پنچایتوں کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا،پولیس

    بچے سے بدفعلی کی مبینہ کوشش، پولیس حرکت میں آ گئی، آئی جی پنجاب نے حکمنامہ جاری کر دیا ،

    فیصل آباد کے علاقے تاندلیانوالہ میں کم سن بچے سے زیادتی کے مبینہ واقعے کے بعد پنچائیت کے ذریعے معاملہ ختم کرنے کے واقعے پر پنجاب پولیس اعلی ترین سطح پر حرکت میں آگئی،پنجاب پولیس نے اعلان کیا کہ پنچائیت کے ذریعے رہا ہونے والے ملزم کے کیس سے ڈس چارج کو پراسیکوشن ڈیپارٹمنٹ چیلنج کرے گا ،بچے کے والد کاکہنا تھا کہ مسجد انتظامیہ نے صلح کروانے کی کوشش کی،میں نے سوچا آج میرے بچے کے ساتھ یہ ہو رہا کل کسی اور کے بچے کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے،میں نے ضروری سمجھا کہ میرا بیٹا آج اس آفت سے بچ گیا ہے تو دوسروں کے بچوں کو بھی بچانا ہے

    تاندلیانوالہ میں بچے سے مبینہ زیادتی کا واقعہ گزشتہ ہفتے سامنے آیا تھا،علما کرام کی مداخلت کے بعد ملزم کو رہا کروا دیا گیا تھا، سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ ریاست مدعی بنے اور ملزم کے خلاف کاروائی کرے اب پولیس حکام کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تاندلیانوالہ میں کم سن بچے سے ریپ کی کوشش کے کیس میں متوازی عدلیہ اور غیر قانونی پنچایتوں کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے تاندلیانوالہ میں کم سن بچے سے زیادتی کی کوشش کے کیس میں ڈی آئی جی لیگل، ایس ایس پی انویسٹی گیشن فیصل آباد اور ایس پی صدر فیصل آباد کے ہمراہ متاثرہ بچے اور اس کے والد سے آج ملاقات کی۔ متاثرہ بچے کے والد کو ریاست کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا گیا،پنجاب پولیس نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ سے اس کیس کے حوالے سے مکمل مشاورت کی، جن کی سفارشات کے تحت پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ اس ملزم کی بریت کو چیلنج کرے گا کیونکہ اس کیس میں پنچایت کے دباؤ کے تحت ملزم کی رہائی ممکن ہوئی، ملزم کی رہائی کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ تفتیش کا عمل انجام کو پہنچ گیا ہے،پنجاب پولیس متوازی عدلیہ اور غیر قانونی پنچایتوں کی طرف سے بغیر کسی امتیاز یا غیر قانونی سماجی دباؤ کے، متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کو یقینی بنائے گی۔

    زیادتی کیس، مولانا مجرم ثابت ہوں تو قرار واقعی سزا دی جائے،علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر
    دوسری جانب صلح کروانے والے علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کا کہنا ہے کہ بعض عناصر پراپیگنڈہ کر رھے ھیں کہ میں نے زیادتی کے مجرم کی متاثرہ بچے کے باپ سے صلح کروادی یہ بات سو فیصد بے بنیاد ھے ایسا عمل کرنا قانونی اور شرعی اعتبار سےسنگین جرم ھے ،تاندلیانوالہ میں میں بچے کے باپ کی دعوت پر انکے تجویز کردہ مقام پر پہنچا جس وقت بچے کے باپ نے پبلک میں یہ موقف اپنایا کہ زیادتی یا ھراسیت نہیں ھوئی تو میں نے اور دیگر سیاسی اور مذھبی شخصیات نے باقی تنازعہ اور پاوں دبانے والی بات پر معافی دینے کی بات کی معافی جنسی زیادتی کے حوالے سے نہ تھی،ہمارا ریاست اور اسکے ماتحت اداروں سے مطالبہ ھےکہ مولانا ابوبکر بچہ اور اسکا والد ابھی بھی موجود ہیں میرٹ پر تفتیش کی جائے اگر مولانا مجرم ثابت ہوں تو قرار واقعی سزا دی جائے اور اگر مولانا بے گناہ ھوں تو اچھے طریقے سے تفتیش کرکے جھوٹا الزام لگانے والوں کا محاسبہ کیا جائے.

    واقعہ کا مقدمہ کمسن بچے کے والد کی مدعیت میں تھانہ سٹی تاندلیانوالہ میں درج کیا گیا، درج ایف آئی آر کے مطابق سائل جناح کالونی کا رہائشی ہے، سائل کا بیٹا طیب جس کی عمر 12 سال ہے نماز مغرب ادا کرنے کے لئے مسجد قدس محلہ اسلام پورہ میں گیا کافی دیر تک واپس نہ آیا تو تشویش ہوئی، دیگر احباب کے ہمراہ مسجد گئے تو ساتھ والے مکان میں ابوبکر معاویہ جو مسلح تھا، اسکے پاس کلاشنکوف تھی، وہ شلوار اتار کر بیٹے سے زیادتی کی کوشش کر رہا تھا،ہمیں دیکھ کر انہوں‌نے شلوار پہن لی اور ہم پر اسلحہ تان لیا کہ اگر کوئی قریب آیا تو جان سے مار دوں گا،میرے بیٹے کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کر کے سخت زیادتی کی گئی ہے.

    پولیس نے اندراج مقدمہ کے بعد ملزم ابوبکر معاویہ کو گرفتار کیا ، گرفتاری کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ، مولانا ابوبکر معاویہ کی گرفتاری کے بعد مذہبی رہنما متحرک ہو گئے اور متاثرہ بچے کے والد سے جا کر ملاقات کی اور صلح کروا دی جس کے بعد مولانا ابوبکر معاویہ کو رہا کر دیا گیا.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    چکوال،مدرسے کے دو اساتذہ کی 15 طلبا کے ساتھ بدفعلی

    معروف مدرسے کے مہتمم کی طالب علم کے ساتھ زیادتی 

    ناجائز تعلقات سے منع کرنے پر بیوی نے شوہر کو مردانہ صفت سے محروم کر دیا

    لاہورپولیس کا نیا کارنامہ،نوجوان کو برہنہ سڑکوں پر گھمایا، تشدد سے ہوئی موت

    خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے دوملزمان گرفتار

    واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

    گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

    پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

    دولہا کے سب ارمان مٹی میں مل گئے، دلہن نے کیوں کیا اچانک انکار؟

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

  • ہر لب پہ ابتسام ہے.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    ہر لب پہ ابتسام ہے.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    علامہ احسان الٰہی ظہیر اس صدی کے عظیم مبلغ گزرے ہیں, اللہ نے آپ کو بیش بہا صلاحیتوں سے نوازا تھا. مسلک اہلحدیث کی وہ جان تھے. لیکن 1986 ء میں قلعہ لچھمن سنگھ لاہور میں دوران جلسہ آپ کو بم دھماکے میں شہید کردیا گیا. آپ کی شہادت کے بعد اہلحدیث ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تمام دینی جماعتیں ایک ہیرے سے محروم ہوگئیں. وہ ہیرا جب گرجتا تھا تو پنڈال میں خاموشی چھا جاتی تھی. آج اللہ نے علامہ احسان الٰہی ظہیر کے صاحبزادوں کو بھی بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے. علامہ صاحب کے بڑے صاحبزادے ابتسام الٰہی ظہیر صاحب روزنامہ دنیا سے بطور کالم نگار منسلک ہیں, عالم ہیں اور مجھے حیرانگی اس وقت ہوئی جب مجھے معلوم ہوا ابتسام الٰہی ظہیر نے 1997ء میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ صحافت کے لیکچرر کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں انہوں نے پوسٹ گریجویٹ سطح پر شعبہ صحافت میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں لیکچر دیے۔ سیاست میں بھی بھی حصہ لیتے ہیں گذشتہ انتخابات میں ایم ایم اے کے امیدوار کی حیثیت سے قصور سے حصہ بھی لیا اور کثیر تعداد میں ووٹ حاصل کئے. لاہور کی جامع مسجد لارنس روڈ جو ان کے والد صاحب نے تعمیر کروائی اس کے خطیب بھی ہیں. ابتسام الٰہی ظہیر سے متعلق سوشل میڈیا پر گذشتہ کئی دنوں سے غیر اخلاقی تعصب پر مبنی مواد شئیر کیا جارہا ہے.

    واقعہ کچھ یوں ہے سوشل میڈیا پر اذان الہی نامی شخص نے اہل بیت کی شان میں گستاخی کی, کچھ شرپسند عناصر نے اذان الہی کو ابتسام الٰہی ظہیر صاحب کا بھتیجا قرار دے کر توپوں کا رخ ان کی طرف موڑ دیا. ابتسام الٰہی ظہیر صاحب کے خلاف ہر طرف طوفان بدتمیزی بپا کیا گیا. انہیں قتل کی دھمکیاں دی گئیں. ان کے خلاف سوشل میڈیا پر بھرپور کمپین چلائی گئی. انہوں نے واضح طور پر تردید کی کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور میں خود اس کی سزا کا مطالبہ کرتا ہوں. میرے خیال کے مطابق ابتسام الٰہی ظہیر صاحب چند دنوں سے سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھے اور دین دشمن لوگوں کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی تھی انہوں نے یہ حربہ آزمایا. دوسری طرف آپ کو بھارت کے اس یوٹیوبر میجر کی ویڈیو یاد ہوگی جس میں وہ کہہ رہا تھا ہم پیسے دے کر پاکستان میں مسالک کو آپس میں لڑاتے ہیں اس واقعے کے پیچھے بھی مجھے اسی طرح کی کوئی کہانی لگ رہی ہے .پہلے شیعہ و سنی اور دیوبندیوں کو آپس میں لڑایا گیا اب انہوں نے اس کام کے لیے اہلحدیث عالم کا انتخاب کیا. حرمت رسول ﷺ کا مسئلہ ہو,صحابہ و اہلیت کا مسئلہ ہو, یہاں تک کے پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہو میں نے انہیں صف اول میں پایا. ایسا شخص کیسے اہل بیت کی گستاخی کا سوچ سکتا ہے جس کے خود شب روز منبر رسول ﷺ پر گذرتے ہوں..

    میں ایک نشست میں تھا وہاں سب ابتسام الٰہی ظہیر صاحب سے اظہار یکجہتی کے لئے جمع تھے سب کی آنکھوں میں میں ایک تڑپ دیکھ رہا تھا. سب اپنے اس رہنماء کو کھونا نہیں چاہتے ,ان کی حفاظت کے لئے پرعزم تھے.راولپنڈی ,لاہور, گوجرانوالہ میں حافظ صاحب سے اظہار یکجہتی کے لئے پروگرام منعقد کئے گئے. آج ملک و دین کے دشمنوں نے حافظ ابتسام الٰہی ظہیر کی آواز کو دبانا چاہا لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ آج ہر لب پہ ابتسام ہے… پاکستان کی حکومت اور ادارے ابتسام الہی ظہیر صاحب کو تحفظ فراہم کریں تاکہ وہ کسی بھی سازش کا شکار نہ بن سکیں.

  • علامہ ابتسام الہٰی کی پریس کانفرس

    علامہ ابتسام الہٰی کی پریس کانفرس

    قصور علامہ ابتسام الہٰی ظہیر کی قصور آمد کھڈیاں سانحہ پر پریس کانفرس کی
    تفصیلات کے مطابق آج قصور میں دوپہر ایک بجے علامہ ابتسام الہٰی ظہیر نے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کھڈیاں میں عید کے دن قتل کئے جانے والے حافظ قرآن سمیع الرحمن کے ملزم معصوم علی کی پھانسی کا مطالبہ کیا علامہ صاحب نے کہا کہ ملک میں ایسے واقعات اس لئے جنم لے رہے ہیں کیونکہ قرآن و سنت کا نظام موجود نہیں اگر قرآن و سنت کا نظام قائم ہو جائے تو ایسے واقعات ہر گز نہیں ہونگے مگر افسوس کہ حکمران قرآن و سنت کے نفاد میں سنجیدہ نہیں ہیں
    علامہ صاحب نے کہا کہ ملزم کو جلد سے جلد پھانسی دے کر نشان عبرت بنایا جائے اور لوگوں کی امنگوں کے مطابق سرعام پھانسی دی جائے ماضی میں بھی اس مطالبے کو پورا نہیں کیا گیا جس کی بدولت ایسے واقعات بڑھ رہے ہیں
    اس موقع پر مقتول سمیع الرحمن کے والد قاری خلیل الرحمٰن بھی موجود تھے