Baaghi TV

Tag: علامہ اقبال

  • حکومت کا قائداعظم اور علامہ اقبال پر تاریخی ویب سیریز بنانے کا اعلان

    حکومت کا قائداعظم اور علامہ اقبال پر تاریخی ویب سیریز بنانے کا اعلان

    حکومتِ پاکستان نے بانیانِ قوم کی زندگی اور فکر کو جدید انداز میں پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اعلان کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر عالمی معیار کی تاریخی ویب سیریز تیار کی جائیں گی،یہ اقدام محض رسمی تقریبات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اسے قومی فکری تجدید اور نظریاتی بیداری کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بامقصد کہانی کے ذریعے قوم سازی کے عمل کو تقویت دی جا سکتی ہے۔

    وزیر منصوبہ بندی کے مطابق ان پروڈکشنز کے ذریعے نوجوانوں کو قیامِ پاکستان کے نظریاتی پس منظر، آئینی جدوجہد اور قومی اقدار سے روشناس کرایا جائے گا،ائداعظم کی آئینی جدوجہد اور علامہ اقبال کے فکری وژن کی اہمیت آج بھی عالمی سطح پر برقرار ہے تاریخی ڈرامے سافٹ پاور اور ثقافتی سفارتکاری کے مؤثر اوزار بن سکتے ہیں، اسی مقصد کے تحت حکومت تقریباً 50 کروڑ روپے تک سیڈ فنڈنگ فراہم کرے گی ساتھ ہی مصنفین اور پروڈیوسرز کے لیے تحقیقی ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ مواد مستند، تحقیق پر مبنی اور عالمی معیار کے مطابق ہو۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیاکہ تخلیقی صنعت کے ساتھ اشتراک کے ذریعے قومی بیانیے کو مضبوط بنایا جائے گا اور قومی ورثے کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔

  • معروف اداکار عماد عرفانی کا علامہ اقبال سے کیا رشتہ ہے؟

    معروف اداکار عماد عرفانی کا علامہ اقبال سے کیا رشتہ ہے؟

    کراچی: یوسف صلا ح الدین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و ماڈل عماد عرفانی شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے نواسے لگتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: عماد عرفانی گزشتہ دو دہائیوں سے شوبز اور ماڈلنگ کی دنیا کا حصہ ہیں، تاہم انہوں نے ماضی میں کبھی علامہ اقبال کے خاندان سے تعلق سے متعلق انکشاف نہیں کیا،اداکار عماد عرفانی نے حال ہی میں پی ٹی وی کے پروگرام “ ورثہ کے مہمان“ میں شرکت کی جہاں پاکستانی اداکار یوسف صلاح الدین کے مہمان بنے۔

    پروگرام کے دوران عماد عرفانی نے انکشاف کیا کہ وہ اور یوسف صلاح الدین رشتے دار ہیں، پھر یوسف صلاح الدین نے بتایا کہ عماد کی نانی دراصل علامہ محمد اقبال کی بہن تھیں اس لیے عماد عرفانی کا تعلق عظیم شاعر علامہ اقبال سے ہے اور وہ ان کے نانا ہیں۔

    بشریٰ بی بی نے سیکرٹری جنرل انصاف لائرز فورم کو عہدے سے ہٹا دیا

    اس انکشاف سے ان کے مداحوں کو کافی حیرانی ہوئی کیونکہ عماد نے کبھی مفکر پاکستان کےساتھ رشتے کو کسی انٹرویو میں ظاہر نہیں کیا تھا ٹی وی پروگرام میں ساحر علی بگا سمیت مہوش حیات بھی شو کا حصہ تھے جبکہ سونیا حسین نے میزبانی کے فرائض سر انجام دئیے۔

    حکومت اورپی ٹی آئی مذاکرات میں اب تک کوئی حوصلہ افزا پیشرفت نہیں ہوئی،خواجہ آصف

  • علامہ محمد اقبال کا 147واں یومِ ولادت  ادب و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے

    علامہ محمد اقبال کا 147واں یومِ ولادت ادب و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے

    لاہور: مصورپاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے147ویں یومِ ولادت آج ملک بھر میں ادب و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: علامہ اقبال کے یوم ولادت کے موقع پر انہیں خراجٍ عقیدت پیش کرنے کے لیے مزارِ اقبال پرگارڈز کی تبدیلی کی ایک پر وقار تقریب منعقد کی گئی، پاک بحریہ کے چاق و چوبند دستے نے مزار اقبال پر اعزازی گارڈ کے فرائض سنبھالے جبکہ پاکستان رینجرز پنجاب کا دستہ مزار پر اپنے فرائض سے سبکدوش ہو کر رخصت ہوگیا۔

    پاکستان نیوی کے کمانڈر سینٹرل پنجاب ریئر ایڈمرل اظہر محمود نے گارڈز میں شامل پاکستان رینجرز اور پاک بحریہ کے دستوں کا معائنہ کیا، گارڈز کی تعیناتی کے بعد قومی شاعر کے مزار پر امیرالبحر ایڈمرل نوید اشرف، پاک بحریہ کے افسران، سیلرز اور نیوی سویلینز کی جانب سے پھولوں کی چادر چڑھائی گئی۔

    ہیکرز نے بھارتی حکومت کی ای میل آئی ڈیز فروخت کے لیے پیش کردیں

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا یوم اقبالؒ پر پیغام

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کہا کہ یوم اقبالؒ پرعظیم مفکر اورشاہرعلامہ اقبالؒ کی فکروبصیرت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، قیام پاکستان کیلئے شاعر مشرق کی فکری خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، نسل نو کے لئےشاعر مشرق اقبالؒ کا پیغام خودی اور بیداری ہے نوجوان نسل کو فکراقبال سے روشناس کرانا بے حد ضروری ہے،شکوہ اورجواب شکوہ علامہ اقبالؒ کی لازوال تخلیقات ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کی شاعری اردو زبان پرلازوال احسان ہے،فارسی کلام بھی اپنی مثال آپ ہے کلام اقبالؒ کوتعلیمی نصاب کا زیادہ سے زیادہ حصہ بنانے کی ضرورت ہے یوم اقبالؒ پر شاعر مشرق کی فکر کو اپنانے اورپاکستان کو سربلندکرنے کا عہد کرتے ہیں، اقبالؒ کی تعلیمات اورافکار پر عمل ہی ان سے عقیدت کا بہتر طریقہ ہے، علامہ اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کوبیداری کا پیغام دیااوردوقومیت کاشعوربیدار کیا۔

    مریم نواز نے کہا کہ علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری سے نوجواناں برصغیر کو بلند ی کردار کاشعور دیا علامہ اقبالؒ کی فکرانگیز شاعری نے برصغیر کے مسلمانوں کو متحرک اوربیدار قوم میں تبدیل کردیا شاعر مشرق کی فکر اورسوچ کے مطابق پنجاب کے دہقان کو خودمختاری کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

    ”ہومیراکام غریبوں کی حمایت کرنا ……دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا“پسندیدہ اشعار میں شامل ہیں،”میرے اللہ برائی سے بچانامجھ کو ……نیک جوراہ ہو،اس رہ پہ چلانا مجھ کو“بچوں کیلئے میری دعا ہے۔

    دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری عمل اور خود شناسی کی لازوال دعوت ہے۔

    مفکرِ پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے 147 ویں یومِ پیدائش پر پیغام میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ علامہ محمد اقبال ایک صاحب بصیرت شاعر، فلسفی اور بلند پایہ شخصیت تھے علامہ اقبال کے افکار اور تحریروں نے نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا پر گہرا اثر ڈالا، اقبال کے فلسفے نے برصغیر کے مسلمانوں کو متحد کر کے ایک علیحدہ وطن کاخواب دیا،پاکستان کا قیام مصورِ پاکستان کے تصور سے آیا۔

    مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پید اہوئے تھے انہوں نے ابتدائی تعلیم آبائی شہر اور لاہور سے حاصل کرنے کے بعد 1905 میں برطانیہ سے وکالت اور بعد میں جرمنی سے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال نے 1910 میں وطن واپسی کے بعد شاعری کے ذریعے فکری اور سیاسی طور پر منتشر مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگایا۔

    کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن پر دھماکا،4 افراد جاں بحق متعدد زخمی

    علامہ محمد اقبال کی شاعری نے ہندوستان کے مسلمانوں میں نئی روح پھونکی، انہیں نوجوانوں سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں، علامہ اقبال نے نوجوانوں کو شاہین اور عقاب جیسے القابات سے بھی پکارا، ان کی شاعری کے مجموعوں میں بانگ درا، زبور عجم، بال جبریل، ضرب کلیم، جاوید نامہ اور پیام مشرق مشہور ہیں، مصورپاکستان علامہ اقبال 21 اپریل 1938 کو لاہور میں خالق حقیقی سے جا ملے، انہیں بادشاہی مسجد کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

    جیل سے رہا ہو نیوالے کارکن وزیراعلیٰ کے پی سے ایک ہزار روپے …

  • علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    پاکستان میں آج کل سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ مختلف سیاسی نظریات اور مفادات کے درمیان ایک کشمکش کا ماحول ہے۔ الزامات لگتے ہیں، جوابی الزامات لگتے ہیں، کردارکشی ہوتی ہے اور اب تو کردارکشی کے الزامات کو ثابت کرنے کے لئے آڈیو اور وڈیو بھی تیار کرکے بلیک میلنگ کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ اس ساری کشمکش میں اتنی گرد اڑائی جاتی ہے کہ لوگوں کے ذہن سے یہ بات یکسر محو ہو جاتی ہے کہ اس ملک خداداد کو قائم کرنے کا مقصد کیا تھا۔

    برصغیر میں مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کے قیام کا تصور شاعر، فلاسفر اور وکیل علامہ اقبال نے پیش کیا تھا۔ برصغیر سے مغل حکومت کے خاتمے کے بعد اس بات کے واضح اشارے ملنے لگے تھے کہ اگر انگریز ہندوستان سے نکل گئے تو ہندو اپنی اکثریت کے بل پر مسلمانوں کا استحصال کریں گے۔ انیسویں صدی کے لسانی فسادات کے بعد سرسید احمد خان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ثقافتی تضادات کی وجہ سے دونوں کا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ بعد کے واقعات نے ان خدشات کی تصدیق کر دی۔

    ہندوؤں نے آل انڈیا کانگریس قائم کی اور اس کا پہلا سربراہ ایک انگریز کو بنایا گیا۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ کانگریس تمام ہندوستانیوں کی نمائندہ جماعت ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ 1905 کے تقسیم بنگال کے فیصلے کے بعد کانگریس اور قوم پرست ہندوؤں کا ردِعمل واضح طور پر مسلم دشمنی کا مظہر تھا۔ جب مسلمان لیڈروں کو احساس ہوا کہ آل انڈیا کانگریس اصل میں آل ہندو کانگریس ہے تو اس کے جواب میں 1906ء میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ تقسیم بنگال، جو تمدنی اور معاشی طور پر بنگالی مسلمانوں کے لئے فائدہ مند تھی، ہندوؤں کو منظور نہ تھی۔ ان کے شدید ایجی ٹیشن نے انگریزوں کو صرف چھ سال بعد ہی تقسیم بنگال کی تنسیخ پر مجبور کر دیا۔ یہی بات مسلم زعما کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھی۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ اپنے حقوق کے لئے انہیں اپنے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح، جو کانگریس کے بنیادی رکن اور ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلاتے تھے، ہندوؤں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس اتحاد سے مایوس ہو کر برطانیہ چلے گئے تھے۔

    اس پس منظر میں علامہ اقبال نے اپنے مشہور خطبۂ آلہ آباد میں ہندوستان کی تقسیم کا تصور پیش کیا۔ اس خطبے کا مرکزی نکتہ ہی مسلمانوں کی جداگانہ قومیت اور ان کے لئے متحدہ ہندوستان کے اندر ایک علیحدہ ریاست کا حصول تھا۔ یہ خیال رہے کہ اقبال نے جداگانہ مسلم قومیت کا تصور اس وقت پیش کیا جب پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا نیشن سٹیٹ کے جدید تصور کو اپنا چکی تھی اور ترکی کی عثمانی سلطنت کے حصے بخرے کئے جا چکے تھے۔ کیونکہ اقبال اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک ملت سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے نیشن سٹیٹ کو مسترد کرتے ہوئے لکھا تھا:

    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

    1930ء کا خطبۂ الہ آباد انگریزی زبان میں ہے اور قدرے طویل ہے کیونکہ اس میں علمی اور نظریاتی مسائل کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ اس خطبے میں اقبال نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پنجاب ،شمال مغربی صوبہ سرحد ، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک ہی ریاست میں مدغم کر دیا جائے۔ ان کا ابتدائی تصور "ہندوستان کے اندر مسلم ہندوستان” تھا۔ ان کا خواب یہ تھا کہ کم از کم ہندوستان کے شمال مغرب میں سلطنت برطانیہ کے اندر یا اس کے باہر ایک خود مختار حکومت اور شمالی مغربی متحدہ مسلم ریاست آخر کار مسلمانوں کا مقدر ہے۔ آلہ آباد سے پہلے یہ تجویز نہرو کمیٹی کے سامنے بھی پیش کی گئی تھی مگر کمیٹی نے اس بنا پر مسترد کر دی کہ اگر اس پر عمل درآمد کیا گیا تو اتنی وسیع ریاست وجود میں آجائے گی کہ جس کا انتظام مشکل ہوگا۔

    اقبال نے یہ بھی تجویز پیش کی: "جہاں تک رقبہ کا تعلق ہے یہ بات درست ہے لیکن آبادی کے لحاظ سےمجوزہ ریاست بعض موجودہ ہندوستانی صوبوں سے چھوٹی ہو گی۔ انبالہ ڈویژن اور ممکن ہے ایسے اضلاع کو الگ کر دینے سے جہاں غیرمسلموں کی اکثریت ہے اس کی وسعت اور بھی کم ہو جائے گی۔ مسلمانوں کی تعداد میں غلبہ ہو گا اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اپنی حدود کے اندر یہ متحدہ ریاست غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت پوری قوت سے کر سکے گی-”

    اقبال نے قائد اعظم کو ایک علیحدہ وطن کے قیام کے لئے مسلمانوں کی قیادت کے لئے قائل کیا جس کے نتیجے میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ بدقسمتی سے اقبال اور قائد کی وفات کے بعد پاکستان ان لوگوں کے ہاتھ میں آ گیا جن کا پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے قائد کی وفات کے بعد ان کی گیارہ اگست والی تقریر میں دئے گئے وژن کو مسترد کرنے کے لئے "قرارداد مقاصد” منظور کرائی۔ اقبال اور قائد مسلمانوں کے لئے ایک جمہوری ملک کا تصور رکھتے تھے جس کو مسخ کر کے کبھی سوشلزم کے تجربے کئے گئے کبھی قرون اولیٰ کی ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔

    اقبال اور قائد اعظم کے وژن کے مطابق پاکستان مسلمانوں کی جمہوری ریاست ہے جس میں دوسری قومیتوں کو نہ صرف برابر کے حقوق حاصل ہوں گے بلکہ مجوزہ مسلم ریاست ہندوستان کے غیرمسلموں کے حقوق کا بھی تحفظ کرے گی۔ گیارہ اگست کی تقریر بھی خطبۂ الہ آباد کی روح کے عین مطابق ہے انہوں نے کسی مرحلے پر بھی اسے بادشاہت کے تحت مذہبی ریاست بنانے کی کوشش نہیں کی۔ شاید اسی لئے مولویوں نے اس کے قیام کی ڈٹ کر مخالفت کی تھی۔

    پاکستان کو خطبۂ الہ آباد اور گیارہ اگست کی روح کے مطابق ڈھالنے کے لئے ضروری ہے کہ رواداری کو فروغ دیا جائے، مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ملک کی تاریخ کو مسخ کرنے سے گریز جائے۔ پاکستان ہندوستان کی ہندو اکثریت کے ہاتھوں مسلم اقلیت کے استحصال کو روکنے کے لئے ایک جمہوری ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا تھا۔ اس کے مقصد قیام کو بار بار مسخ کیا گیا تاکہ ان طبقات کو پاکستان پر کنٹرول کرنے کا جواز دیا جا سکے جنہوں نے اس کی ڈٹ کر مخالفت کی تھی۔

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

  • 76 واں یوم آزادی،مزار قائد اورعلامہ اقبال پرگارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

    76 واں یوم آزادی،مزار قائد اورعلامہ اقبال پرگارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

    ملک بھر میں آج 76 واں یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے ،کراچی میں مزار قائد اور لاہور میں مزار علامہ اقبال پرگارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد کی گئی۔

    باغی ٹی وی: دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوا،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی اس کے علاوہ نماز فجر میں ملکی ترقی،یکجہتی،امن اور خوشحالی کےلیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں،لاہور میں محفوظ شہید گیریژن میں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی، تقریب میں پاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے نعرہ تکبیر بلند کیاپاک فوج کے جوانوں کے اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔

    بعد ازاں لاہور میں علامہ اقبال کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں پاک فوج کےچاق و چوبند دستے نے شاعر مشرق کو سلامی پیش کی مزار علامہ اقبال پر پاک فوج کے دستے نے رینجرز کی جگہ گارڈز کے اعزازی فرائض سنبھال لیے ہیں میجرجنرل قیصرسلیمان، گیریژن کمانڈر لاہور نے مزاراقبال پر پھولوں کی چادر رکھی اور فاتحہ خوانی کی-

    دوسری جانب پاکستان کے 76 ویں یوم آزادی کے موقع پر کراچی میں مزار قائد پر بھی گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہ ہوئی، پا کستان نیول اکیڈمی کے کیڈٹس نے اعزازی گارڈز کے فرائض سنھبالے، کمانڈنٹ نیول اکیڈمی کموڈور محمد خالد تقریب کے مہمان خصوصی تھے تقریب کے مہمان خصوصی کمانڈنٹ پاکستان نیول اکیڈمی کموڈور محمد خالد تھے، انہوں نے مزار قائد پر پھولوں کی چادر رکھی اور فاتحہ خوانی کی۔

    پشاورمیں بھی جشن آزادی آج پرجوش طریقے سے منایا جارہا ہے، دن کا آغاز اکیس توپوں کی سلامی سے ہوا جبکہ دن بھر مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔

    پاکستان کے یوم آزادی پر،مسلح افواج کے سربراہان، صدرمملکت اور وزیراعظم نے قوم کے نام پیغامات جاری کیے، صدرعارف علوی نے کہا کہ بانیان پاکستان اور کارکنان تحریک ِپاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ہمیں قیام پاکستان کیلئے اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کی قدر کرنی چاہیے، ہمیں عوام کی خوشحالی کیلئے کام کرنا چاہیے۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے قائداعظم کی قیادت میں پاکستان حاصل کرنیوالوں کوخراج عقیدت پیش کیا،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اس قیمتی تحفے کے لیے ہم ان عظیم رہنماؤں کے ہمیشہ احسان مند رہیں گے۔ پاکستان کا تصور عظیم تھا قائد اعظم نے ثابت کیا کہ مسلمان ہر لحاظ سے ایک الگ قوم ہیں، ہمیں اتحاد اور خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کی جانب سے بھی قوم کو یوم آزادی کی مبارکباد دی گئی ہےپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آج کا دن ہمیں ہمارے اسلاف کی ان گنت قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، دھرتی کے ہزاروں بیٹوں نے مادر وطن کے دفاع کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا سب عہد کریں کہ قومی اتحاد کو برقرار رکھ کر دشمن قوتوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے مسلح افواج عوام کی حمایت سے وطن عزیز کی سالمیت اور امن کا دفاع کرتی رہیں گی ، مسلح افواج پاکستانی عوام کی امنگوں کے مطابق قوم کی خدمت جاری رکھیں گی۔

    اس سے قبل پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ قوم اور فوج میں دراڑ ڈالنے کی مذموم کوششیں ناکام ہوں گی اہم اور کٹھن دور سے گزر رہے ہیں افواج پاکستان اور عوام ایک ہیں۔خوف اور مایوسی پھیلانے والوں کا منفی پروپیگنڈا مسترد کرنا ہوگا اپنی عظیم قوم کو امید کا پیغام دیتا ہوں، ملکی خود مختاری اور سالمیت کی خاطر ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، افواج پاکستان اور عوام ایک تھے ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔

  • شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا 145 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

    شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا 145 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

    شاعر مشرق اور عظیم مفکر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا 145 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے، مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب ہوئی-

    باغی ٹی وی : پاکستان نیوی کے دستے نے مزار اقبال پر گارڈز کی اعزازی ذمہ داری سنبھال لی ،پاک بحریہ کے اسٹیشن کمانڈر لاہور کموڈور ساجد حسین تقریب کے مہمان خصوصی تھے-

    علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی اور پھر لاہورآ گئے ان کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا، 1899 میں ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج میں شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے اور اس دوران شاعری بھی جاری رکھی۔

    علامہ اقبال نے 1905 میں برطانیہ چلے گئے جہاں پہلے انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی ٹرنٹی کالج میں داخلہ لیا اور پھر معروف تعلیمی ادارے لنکنزاِن میں وکالت کی تعلیم لینا شروع کردی بعد ازاں بعد وہ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے انھوں نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی-

    ڈاکٹر محمد اقبال نے 1910 میں وطن واپسی کے بعد وکالت کے ساتھ سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کیا اور اپنی شاعری کے ذریعے فکری اور سیاسی طور پر منتشر مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگایا شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال 20ویں صدی کے معروف مفکر، شاعر، مصنف، قانون دان، سیاست دان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔

    شاعر مشرق نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ یورپ اور انگلستان میں گزارا لیکن انہوں نے انگریزوں کا طرز رہن سہن کبھی نہیں اپنایا، اپنی شاعری میں علامہ اقبال نے زیادہ تر نوجوانوں کو مخاطب کیا، علامہ اقبالؒ کو دورِ جدید کا صوفی بھی سمجھا جاتا ہے۔

    علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلانے کے لیے جداگانہ قومیت کا احساس اُجاگر کیا اور اپنی شاعری سے مسلمانوں کو بیدار کیا اُن کے افکار اور سوچ نے اُمید کا وہ چراغ روشن کیا جس نے نا صرف منزل بلکہ راستے کی بھی نشاندہی کی۔

    علامہ اقبال کا شہرہ آفاق کلام دُنیا کے ہر حصے میں پڑھا اور سمجھا جاتا ہے، انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو آپس میں اتحاد اور اتفاق کی تلقین کی اور دعوت عمل دی۔

    1934 کو مسلم لیگ کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے رکن بنے تاہم طبیعت نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ قیام پاکستان سے 9 برس قبل 21 اپریل 1938 کو لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے آپ کا مزار بادشاہی مسجد کے سائے میں مرجع خلائق ہے۔

    حکومت پاکستان نے کئی سال کے بعد رواں برس مفکر پاکستان کے یوم پیدائش کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

  • وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    آج میں نے ارادہ کیا تھا کہ ہمارے وطن عزیز پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کے بارے میں کالم تحریر کرونگا۔لکھنے بیٹھا تو لکھنے کا موڈ ہی نہیں بن رہا تھا۔بہتیرا سوچا کہ جشن آزادی کے حوالے سے کوئی ایسا گوشہ ذہن میں آجاۓ جس پہ سیر حاصل بحث کی جا سکے لیکن الفاظ تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ایسے محسوس ہوتا تھا کہ ایک جمود ہے جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پہ قبضہ جما چکا ہے۔اسی اڈھیر بن میں تھا کہ معا” میرے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا اور "ماما بلو”اندر داخل ہوا۔”ماما بلو”میرے شہر کی ایک ایسی شخصیت ہے جسے میں اپنا راہنماء اور مربی سمجھتا ہوں حالانکہ وہ چٹا ان پڑھ ہے۔کسی اسکول مدرسے یا کسی بھی تعلیمی ادارے کی اس نے آج تک شکل ہی نہیں دیکھی لیکن میں جب بھی لکھنے لکھانے میں کسی الجھن کا شکار ہوتا ہوں تو وہ آکر میری اس مشکل کو آسانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔آج بھی ایسا ہی ہوا۔مجھے پریشان دیکھ کر کہنے لگا کہ صاحب آج آپ کچھ پریشان سے دکھائی دے رہے ہیں۔آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔میں نے اسے بتایا کہ ماما بلو -! طبیعت تو ٹھیک ہے بس آج پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کی بارے میں کچھ لکھنا چاہ رہا تھا لیکن الفاظ ہیں کہ باوجود کوشش کے انکی آمد ہی نہیں ہو رہی۔میری بات سن کر کہنے لگا واہ صاحب یہ بھی کوئی بات ہے-! آپ نے لکھنا ہی ہے تو آجکل کی "یوتھ” کے بارے میں لکھیں اور یہ لکھیں کہ پاکستان بناتے وقت ہم نے اس نوجوان نسل سے کیا توقعات وابستہ کی تھیں اور ساتھ ہی یہ کہ آیا اس نوجوان نسل سے ہماری وہ توقعات پوری ہوئی ہیں یا نہیں جن کی ہم ان سے توقع کر رہے تھے ۔میں نے اسے کہا کہ "ماما بلو”تو ہی بتا -! تیری اس بارے میں کیا راۓ ہے۔؟ کہنے لگا صاحب میں تو ایک پڑھ آدمی ہوں لیکن آجکل کے نوجوان کو دیکھتا ہوں تو مجھے تو یہی لگتا ہے کہ ہم اپنے اس خواب کی تعبیر سے ابھی کوسوں دور ہیں۔میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا صاحب-! سب سمجھتے ہیں کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ زندہ قومیں اپنے طلبہ اور نوجوانوں کو مستقبل کا معمار سمجھتی ہیں کیونکہ یہ نوجوان ہی ہوتے ہیں جو انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اپنے کام سے اپنی کوشش سے اور اپنے جذبہ جنوں سے اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔علامہ اقبال نے بھی انہی نوجوانوں کو ہی اپنا شاہین قرار دیا تھا اور وہ ان کیلئے دعائیں کرتے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ :-

    جوانوں کو میری آہ سحر دے
    پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
    خدایا -! آرزو میری یہی ہے
    میرا نور بصیرت عام کر دے

    علامہ اقبال نے ان نوجوانوں کو انکے اسلاف کے کارنامے یاد دلا کر یہ کہا تھا کہ تو ایک ایسی قوم کا نوجوان ہے جس نے ماضی میں تمام دنیا پہ حکومت کی تھی اور ہر سو اپنا سکہ جمایا ہوا تھا۔اقبال نے انہیں ان کے اسلاف یاد دلاتے ہوۓ کہا تھا کہ:-

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
    تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
    کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا۔

    علامہ اقبال کے بعد بانی پاکستان حضرت قائد اعظم نے بھی نوجوانوں کو مستقبل کا معمار قرار دیا تھا۔انہوں نے نوجوانوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یوں فرمایا:

    ’’نوجوان طلبا میرے قابل اعتماد کارکن ہیں۔ تحریک پاکستان میں انھوں نے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں۔ طلباء نے اپنے بے پناہ جوش اور ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی ہے۔‘‘ 1937 کے کلکتہ کے اجلاس میں قائد اعظم ؒنے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

    ’’نئی نسل کے نوجوانوں آپ میں سے اکثر ترقی کی منازل طے کرکے اقبال اور جناح بنیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ قوم کا مستقبل آپ لوگوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔‘

    ملک کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔یہی تھی وہ امید اور توقع جو قیام پاکستان کے موقع پر ہمارے اسلاف نے ان سے لگائی تھی مگر بدقسمتی سے ہم اس وقت کے نوجوانوں سے اب محروم ہو چکے ہیں۔اب ہمارا واسطہ جن نوجوانوں سے ہے ان میں تو سابقہ نوجوانوں کی خصوصیات کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔شائد ایسے ہی نوجوانوں کیلئے اقبال نے کہا تھا:-

    تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
    کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارا

    آج کا نوجوان تن آسان ہے۔وہ اپنی مردانگی کے جوہر میدان کارزار میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا یعنی فیس بک۔ وٹس ایپ۔ ٹویٹر۔ میسنجر ۔یو ٹیوب۔ ٹک ٹاک اور اسی طرح کی دوسری سائٹس کے میدان میں دکھلانا زیادہ پسند کرتا ہے۔جہاں وہ اپنی سوچ اپنی فکر اور اپنے خیالات سے مطابقت نہ رکھنے والوں کی پگڑیاں اچھالتا ہے۔ان کی تضحیک کرتا ہے۔ان کا ٹھٹھہ اڑاتا ہے۔ان کو دقیانوس اور نہ جانے کیا کیا خیال کرتا ہے۔آج کا نوجوان تحقیق سے مہنہ موڑ کر تقلید کے پیچھے بھاگتا ہے۔

    اس طرح جو کچھ اسے پڑھایا جاتا ہے وہ اسی پہ کاربند ہو کے رہ جاتا ہے۔لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے مفادات کے حصول کیلئے انہیں استعمال کرتے ہیں اور یہ نوجوان بلا کچھ سوچے سمجھے اور غور و فکر کئے ان لوگوں کے پیچھے چل دیتے ہیں۔پھر یہ انہی کی زبان بولتے ہیں اور انہی کے افکار کو اپنا لیتے ہیں ۔ ان میں کچھ ایسے گروہ اور سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہیں جو ان نوجوانوں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے اور اپنے ایجنڈے کی ترویج کیلئے استعمال کرتی ہیں۔

    ایسے لوگوں کے مقاصد کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے اس لئے وہ نوجونوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ان لوگوں کے ارادوں میں اگر کوئی شخص یا تنظیم مزاحم ہونے کی کوشش کرتی ہے تو یہ لوگ ٹرولنگ شروع کر دیتے ہیں اور اس کی عزت کو تار تار کر دیتے ہیں۔

    فی زمانہ حالات اب اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں کہ سارے کا ہمارا سارا معاشرہ پراگندہ خیالی اور ذہنی پستی کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔معاشرے کی اس  حالت کے پس منظر میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں جنہوں نے ایک مشرقی ثقافت۔ رہن سہن اور بود و باش کو گہنا کے رکھ دیا ہے۔کہاں وہ وقت کہ کہ ننگے سر بیٹی اپنے باپ کے سامنے آتے ہوۓ گھبراتی تھی اور ایک بھائی اسے اپنی عزت و وقار کے منافی خیال کرتا تھا کہ اس کی بہن اس کے سامنے اونچی آواز میں بات کرے اور اس کے سامنے آپنے آپ کو تھوڑا سا بنا سنوار لے۔

    یہی بہنیں جب اپنے بھائی کو ذرا غصے میں دیکھتی تھیں تو ڈر کے مارے ان کا خون خشک ہو جایا کرتا تھا۔اس لئے نہیں کہ اس کا  بھائی کوئی خونخوار قسم کی مخلوق ہوتا تھا یا یہ کہ وہ کسی جلاد  فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔بھائی اپنی بہنوں سے پیار بھی رج کے کرتے تھے اور اس کی بات ماننا اور اس کی ضرویات کو پورا کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔بلکہ وہ اپنی بہن کی خوشیوں کی خاطر اپنا تن من دھن بھی اس کے اوپر وار دیا کرتے تھے۔جب یہ حالات تھے تو معاشرہ بھی بڑا آئیڈیل تصور کیا جاتا تھا۔مان بہن بیٹی کو سب کی سانجھی سمجھا جاتا تھا۔

    یہاں تک کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ جب کسی بچی کی شادی ہوتی تو پورا گاؤں بارات کا استقبال کیا کرتا تھا اور سب گاؤں والے مل کر اس بچی کو اس کے پیا گھر پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا کرتے تھے۔مگر آج اس سوشل میڈیا نے ان ساری اقدار و روایات کو ملیا میٹ اور تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

    آج ہمارے معاشرے کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مگر سمجھدار لوگ وہی ہوتے ہیں جو ایسے لوگوں کی ہرزہ سرائیوں پہ توجہ نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی دل جلے کو اس کی تضحیک آمیز ہرزہ سرائیوں کا جواب دینا ضروری نہیں۔ یہ تن آسان مخلوق کا مقصد اور نصب العین صرف یہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی نبض رواں رکھنا چاہتی ہے اسلئے وہ اسی کو اپنی کامیابی خیال کرتے ہیں ۔

    ہمارا ایمان ہے، "وتعز من تشاء و تذل من تشاء” اگر کوئی مغلظ اور متنفر لہجے میں اپنی خباثت کا اظہار کرے تو اسے نظر انداز فرمائیں ، اپنے شہر اور علاقہ کے حوالے سے دستیاب سرکاری مشینری اور وسائل سے عوام کی خدمت کریں۔ آپس کی تلخیوں اور شکر رنجیوں کو پس پشت ڈال کر بھائی چارے کو مضبوط بنائیں اور اپنے نوجوانوں کی اچھی تربیت کریں۔

  • علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور توسیعی منصوبہ کی تفصیلات جاری

    علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور توسیعی منصوبہ کی تفصیلات جاری

    لاہور:پاکستان سول ایوی ایشن نےعلامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور توسیعی منصوبہ کی تفصیلات شیئرکردیں‌ ، پاکستان سول ایوی ایشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ وضاحت بابت علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور توسیعی منصوبے سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے بعد ضروری تھی

    1. پی سی اے اے نے 2017-18 میں لاہور کے علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈے کی توسیع کا منصوبہ بنایا تاکہ بڑھتی ائیر ٹریفک سے نمٹا جاسکے۔ فلائٹ آپریشنز کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مراحل میں توسیع کی منصوبہ بندی کی گئی کیونکہ ہوائی اڈے کی مکمل بندش ممکن نہیں تھی۔

    2. براؤن فیلڈ ہوائی اڈے کے توسیعی منصوبہ بندی درج ذیل مراحل میں کی گئی تاکہ محفوظ فلائٹ آپریشنز میں کم سے کم خلل پڑے:

    لاہور:علامہ اقبال ایئر پورٹ کے رن وے پر جدید نظام کی تنصیب:پاکستانی فضائی نظام…

    فیز 1 – لینڈ سائیڈ ڈویلپمنٹ (کار پارک، سڑکیں، انڈر پاس): مکمل

    فیز 2 – مین رن وے، ریپڈ ایگزٹ ٹیکسی ویز (کوڈ 4F): مکمل

    فیز 3 – ٹرمینل، ایپرن اور متعلقہ سہولیات کی توسیع: اسکیم کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    فیز 4 – بقیہ ایئر سائیڈ انفراسٹرکچر: منصوبہ انڈر پروسیس ہے

    3. کوڈ 4F (فیز 2) کے نئے کنکریٹ رن وے اور ریپڈ ٹیکسی ویز کو مکمل کر کے آپریشنل کر دیا گیا ہے۔

    4. کنکریٹ کے رن وے کی زندگی 25 سے 30 سال ہے اور اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس کی مفید عمر کے دوران یہاں سب سے بڑی کیٹگری کے ہوائی جہاز اترسکتے ہیں اور رن وے کی مفید عمر کے دوران اس کی تعمیر نو کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”526048″ /]

    کوڈ 4F کی تفصیلات(ICAO Doc 9157)

    5. ICAO Doc 9157- Aerodrome Design Manual & Annex 14 (8th Edition) کے مطابق
    کوڈ 4F کے حامل ہوائی جہاز کے لئے رن وے کی پیمائش یہ ہے۔

    اے- رن وے کی کل چوڑائی: 75 میٹر

    بی- ٹیکسی ویز کی کل چوڑائی: 44 میٹر

    6. کوڈ 4F کیٹیگری میں بہت سے طیارے آتے ہیں جن کا وزن اور پروں کی پیمائش مختلف ہوتی ہے جیسے بوئنگ 747-800، 777-900، اور ائر بس 380-800 وغیرہ۔

    علامہ اقبال ایئرپورٹ پر غیرقانونی ہتھیاروں کی کھیپ پکڑی گئی

    لاہور ایئرپورٹ کا رن وے:

    7. لاہور ایئرپورٹ پر مین رن وے اور اس سے منسلک ٹیکسی ویز کے پیمائش درج ذیل ہے:

    اے: مین رن وے کی کل چوڑائی 75 میٹر

    بی: نئی تعمیر کردہ ریپڈ ٹیکسی ویز کی کل چوڑائی: 44 میٹر

    سی: موجودہ ٹیکسی ویز ‘این’، ‘کیو’ اور ‘ایس’: 44 میٹر

    ڈی: موجودہ ٹیکسی ویز ‘پی’ اینڈ ‘آر’: 65 میٹر

    8. رن وے کی طول و عرض کی پیمائش واضح طور پرICAO کوڈ 4F کے معیار پر پورا اترتی ہے۔ تاہم ہوائی جہاز کے وزن کے حوالے سے پابندیاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور ایئرپورٹ کو جاری کردہ سرٹیفکیٹ کوڈ 4F یا اس سے کم (محدود) نوعیت کا ہے۔

    نتیجہ:
    9. مندرجہ بالا تفصیلات کی بنیاد پر لاہور ایروڈروم کو کوڈ 4F یا اس سے کم (محدود) کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ مکمل تفصیلات AIP پاکستان میں بھی شائع کی جائیں گی۔

    10. یاد رہے کہ نیا مین رن وے مال بردار B 747-800، بوئنگ 777-900 کے محدود آپریشنز کے لئے استعمال ہو سکتا ہے، جو کہ کوڈ 4F رن وے ہوائی جہاز ہیں۔ مزید برآں کسی بھی ہنگامی صورت حال کی صورت میں، ایئربس 380 بھی لینڈ کر سکتا ہے لیکن اس کے پروں کے پھیلاؤ کی وجہ سے اسے فی الحال ٹرمینل بلڈنگ میں کھڑا نہیں کیا جاسکے گا۔

    لاہور ائیر پورٹ پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات،سی اے اے نے اہم فیصلہ کر لیا

    11. اس امر سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے کہ ایئربس 380 کوڈ 4E کے حامل ایروڈرومز پر بھی اپریٹ کر سکتا ہے بشرطیکہ مخصوص شرائط پوری ہوتی ہوں۔ (دستاویز منسلک)

    12. فیز 3 اور 4 میں ٹیکسی ویز اور ایپرن کو مسحکم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کے بعد کوڈ 4F طیاروں کے حوالے سے حدود و قیود ختم ہو جائیں گی۔

  • معروف دانشور پروفیسر فتح محمد ملک کی آج چھیاسویں سالگرہ  منائی گئی

    معروف دانشور پروفیسر فتح محمد ملک کی آج چھیاسویں سالگرہ منائی گئی

    پروفیسر فتح محمد ملک 18 جون 1936 کو ضلع چکوال تحصیل تلہ گنگ کے چھوٹے سے گاؤں ٹہی میں ایک غریب کسان ملک گل محمد کے ہاں پیدا ہوئے۔ والدگل محمد کی تعلیم میٹرک تک تھی لیکن وہ اپنے بیٹے فتح محمد ملک کو ہمیشہ تقاریر، مناظرے اور علمی مجالس میں لے جایا کرتے تھے۔ اور گھر میں بھی بچوں کے مطالعہ کیلئے کتب رکھی ہوئی تھی تاکہ ان میں ذوق مطالعہ بڑھے۔ آج پروفیسر فتح محمد ملک کی انکے اسلام آباد کے گھر پر چھیاسویں سالگرہ منائی گئی۔


    پروفیسر فتح محمد ملک نے اردو اور انگریزی زبان میں درجن بھر کتب لکھی ہیں، جن میں “تعصبات، انداز نظر، تحسین و تردید، فلسطین اردو ادب میں، اقبال فکر و عمل، اقبال فراموشی، اقبال اسلام اور روحانی جمہوریت، فیض شاعری اور سیاست، ن م راشد شخصیت اور شاعری، منٹو ایک نئی تعبیر، ندیم شناسی، انتظار حسین شخصیت اور فن، انجمن ترقی پسند مصنفین، فیض کا تصور انقلاب، اردو زبان ہماری پہچان، پاکستان کا روشن مستقبل، اقبال کی سیاسی فکر، پاکستان کے صوفی شعرا، پنجابی شناخت، اسلام بمقابلہ اسلام” وغیرہ شامل ہیں۔ اور یہ جتنی بھی کتابیں ہیں ساری اکٹھی کرکے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے دو جلدوں میں چھاپی ہیں جن میں ایک کا نام “آتش رفتہ کا سراغ” اور دوسری “کھوئے ہوؤں کی جستجو” ہے۔ یعنی یہ دو کتابیں باقی تمام کتب کا مجموعہ ہیں۔جبکہ حال ہی میں پروفیسر محمد ملک کی نئی کتاب Spiritual Heritage of Pakistan کے نام سے شائع ہوئی ہے۔

    باغی وی سے بات کرتے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ: میرا جزبہ اور جنوں درس و تدریس اورتحقیق ہے اور میں چاہتا ہوں کہ نوجوان نسل زیادہ سے زیادہ علامہ محمد اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کا مطالعہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ: اساتذہ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ اپنا کردار ایسا بنائیں کہ طالب علم کو آپ کو اپنا رول ماڈل سمجھیں کیونکہ اساتذہ ہی طالب علموں کے دل میں علمی تجسس پیدا کرکے انہیں ترقی دے سکتے ہیں۔

  • لاہور:علامہ اقبال ایئر پورٹ کے رن وے پر جدید نظام کی تنصیب:پاکستانی فضائی نظام بہترسے بہترہونے لگا

    لاہور:علامہ اقبال ایئر پورٹ کے رن وے پر جدید نظام کی تنصیب:پاکستانی فضائی نظام بہترسے بہترہونے لگا

    لاہور : لاہور:علامہ اقبال ایئر پورٹ کے رن وے پر جدید نظام کی تنصیب:پاکستانی فضائی نظام بہترسے بہترہونے لگا ،اطلاعات کے مطابق عالمی معیار کے درجے کا مقام رکھنے والے لاہور کا علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مرکزی رن وے کی تعمیر نو اور اپ گریڈیشن کا معاملے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

    اس حوالے سے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور ایئرپورٹ پر مرکزی رن وے 6450ملین روپے کی لاگت سے اپریل تک مکمل کرلیا جائے گا۔
    لاہور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرالفا پرائمری رن وے18ایل آر /36 کی تعمیر نو اور اپ گریڈیشن آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔

    ایئرپورٹ کے مرکزی رن وے پر طیاروں کی رہنمائی کیلئے جدید لینڈنگ انسٹومنٹ سسٹم نصب کئے گئے ہیں، موسم کی خرابی اور دھند کی وجہ سے بھی طیاروں کو لینڈنگ میں جدید نظام کے ذریعے رہنمائی حاصل ہوسکے گی۔

    سی اے اے ذرائع کے مطابق فیز ٹو کے کاموں کیلئے رن وے18ایل آر/36 فلائٹ آپریشنز کیلئے بند ہے، فیز ٹو کے کاموں کیلئے رن وے20اپریل تک رن وے استعمال نہیں ہوسکے گا۔

    سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ رن وے18آر/36ایل کو ٹیکسی ان، ٹیکسی آؤٹ کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔

    یاد رہے کہ سال 2018 میں حکومت پاکستان نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر نو کے لیے چینی کمپنی سے 38 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کا معاہدہ کیا تھا، تعمیر نو مکمل ہونے کے بعد یہ ایئرپورٹ پاکستان کا سب سے بڑا ایئرپورٹ بن جائے گا۔

    واضح رہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے شعبہ ایرو ڈروم کی جانب سے ٹیکنیکل آڈٹ رپورٹ میں لاہور ایئرپورٹ کو کلیئر قرار دیا گیا، لاہور ایئرپورٹ بوئنگ اور ائیر بس طیاروں کے لیے مستند ہے۔

    علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ڈائریکٹریٹ برائے ائیر اسپیس اینڈ ائیروڈروم ریگولائیزیشن سروے کے بعد مستند قرار دیا گیا۔ ایروڈروم ریفرنس فور ای کوڈ کے تحت لاہور ائیرپورٹ پر بڑے طیاروں کو آپریشن کے لیے سند مل گئی۔