Baaghi TV

Tag: علماء کرام

  • پاکستان میں پہلا "ماں کے دودھ کا ڈونر بینک”،علماء کرام نے کی مخالفت

    پاکستان میں پہلا "ماں کے دودھ کا ڈونر بینک”،علماء کرام نے کی مخالفت

    سندھ حکومت کی جانب سے شہر قائد کراچی میں قائم کئے گئے پاکستان کے پہلے ہیومن ملک بینک( ماں کے دودھ کا ڈونر بینک) کی پاکستانی علماء کرام نے مخالفت کر دی ہے

    شہر قائد کراچی میں پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بینک سندھ حکومت نے بنایا تھا، محکمہ صحت سندھ نے سرکاری ہسپتال میں ہیومن ملک بینک کا افتتاح کیا تھا،ہیومن ملک بینک دنیا بھر کے ہسپتالوں میں قائم ہیں جہاں پر نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹس میں قبل از وقت یا بیمار بچوں کو دودھ فراہم کیا جاتا ہے، پاکستان میں ہیمن ملک بینک نہیں تھا تاہم سندھ حکومت آگے بڑھی اور ہیومن ملک بینک کھول دیا جس کے بعد پاکستانی علما کرام نے ہیومن ملک بینک کی مخالفت کی ہے.

    کراچی میں سندھ حکومت نے ہیومن ملک بینک یونیسیف کے تعاون سے کھولا، ہیومن ملک بینک سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹولوجی میں کھولا گیا،صوبائی وزیر صحت بھی اس موقع پر موجود تھیں، ہیومن ملک بینک میں مائیں ان نوزائیدہ بچوں کے لیے دودھ جمع کرا سکیں گی جو بچے کسی بھی وجہ سے ماں کا دودھ پینے سے محروم رہ گئے ہوں گے ، ملک بینک ان بچوں کو ڈونر دودھ فراہم کرے گا جو کسی بھی وجہ سے اپنی ماں کا دودھ حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

    ہیومن ملک بینک دودھ پلانے والی ماؤں کے عطیہ کردہ دودھ کو جمع کرنے سمیت اسے حفظان صحت کے اصولوں کے تحت پراسیس اور ذخیرہ کرنے کے ساتھ اس کی تقسیم بھی کرے گی،ہیومن ملک بینک کے عملے کو تربیت کے لیے متعدد اسلامی ممالک میں بھیجا جائے گا اور بینک کو مکمل شریعہ ضوابط کے تحت چلایا جائے گا،میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیومن ملک بینک میں دودھ عطیہ کرنے والی خواتین اور دودھ حاصل کرنے والے بچوں کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر ماں کا دودھ دیگر ہسپتالوں کے بچوں کو بھی فراہم کیا جائے گا۔

    کراچی میں ہیومن ملک بینک کا افتتاح ہوا تو سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی ،جسکے بعدپاکستانی علماء کا ردعمل سامنے آیا ہے، علما کی جانب سےکہا گیا ہے کہ ” انسانی خیر خواہی کے عنوان سے کیا جانے والا یہ عمل اللہ پاک کے حکم حرمت رضاعت کے منافی اور اعلانیہ بغاوت کے مترادف ہے اس لئے کہ جن رشتوں سے نسب کی وجہ سے نکاح حرام ہے، ان میں سے کئی رشتے رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہیں،ہیومن ملک بینک کا قیام اسلام کے احکامِ رضاعت کے خلاف ایک منظم سازش اور مغربی ایجنڈے کا حصہ ہے تمام مسلمانوں، ائمہ مساجد اور دینی حلقے کو اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے”.

    پاکستان کے معروف عالم دین مولانا زاہد الراشدی کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ ہیومن ملک بینک رشتوں کے شرعی نظام کو سبوتاژ کرنے کی کارروائی ہے، اس طرح دودھ پینے سے یہ پتا نہیں چلے گا کہ کون کس کا بیٹا اور کون کس کی بہن ہے،

    پاکستان کے نامور عالم دین مفتی تقی عثمانی نے بھی ہیومن ملک بینک کی مخالفت کی،اور ہیومن ملک بینک ناجائز ہونے کا فتویٰ جاری کر دیا،مفتی تقی عثمانی نے اپنے فتویٰ میں مجمع الفقہ الاسلامی جدہ کا بھی حوالہ دیا جس میں ہیومن ملک بینک کی ممانعت کی قرارداد پاس کی گئی تھی،

    واضح رہے کہ 1985 میں مجمع الفقہ الاسلامی جدہ میں ہیومن ملک بینک مسئلہ زیرِ بحث آچکا ہے، مجمع الفقہ الاسلامی کے متعلقہ اجلاس سے پہلے دو صرف دو مقالے موصول ہوئے ،ایک ڈاکٹر یوسف القرضاوي کی طرف سے جس میں اس عمل کو مستحسن قرار دیا گیا ہے، اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اس دودھ سے رضاعی رشتہ ثابت نہیں ہوگا. دوسرا مقالہ ڈاکٹر محمد علی البار کا ہے جس میں ڈاکٹر قرضاوی کے بر عکس رائے اختیار کی گئی ہے. مباحثے میں بھی چند حضرات ہی شریک ہوئے ہیں، جن میں ڈاکٹر مصطفی زرقاء نے قرضاوی کی حمایت کی ہے اور مفتی محمد تقی عثمانی نے ڈاکٹر علی البار کی. ڈاکٹر محمد المختار السلامی نے حرمت رضاع کے بارے میں فی الحال کوئی رائے قائم نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے.آخر میں مجمع کی قرار داد میں یہ کہا گیا ہے کہ اس طرح کے ملک بینک قائم کرنا ناجائز ہے، دو وجہ سے، ایک تو اس پر مرتب ہونے والے مفاسد کی وجہ سے دوسرے اس دودھ سے حرمتِ رضاع ثابت ہو جائے گی اور پتا نہیں چلے گا کہ کون کس کا رشتہ دار بن رہا ہے.

    ماں کا دودھ زندگی کی بنیاد
    آیت مبارکہ میں ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو دوسال تک دودھ پلائیں آج کا سائنسی دور بھی یہی کہتا ہے کہ پیدائش سے لے کردوسال تک مائیں اپنے بچے کو اپنا دودھ ضرورپلائیں کیونکہ۔نوزائیدہ بچے کواس عمر میں ماں کا اپنا ہی دودھ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ بچے کی غذائی ضرورت یہ ماں کا دودھ پورا کر لیتا ہے ماں کے دودھ کوزندگی کی بنیاد کہا گیا ہے اس سلسلے پروونشنل مینجر ڈاکٹر امین مندو خیل نے کہا کہ بچے کے لیے ماں کا دودھ ہی اولین غذا ہے جو بچے کو تقویت دیتا ہے اورمختلف جان لیوا اور وبائی امراض سےبچوں کومحفوظ رکھتا ہے بلکہ ماں کے دودھ میں اللہ۔تعالی نے وہ قوت بخشی ہےجو کہ بچے میں قوت مدافعت بھی پیدا کرتا ہے اور بہت سی خصوصیات کا حامل ہےاوربچے کی غذائی کی ضرورتیں ماں کے دودھ سے پوری ہوتی ہیں ڈاکٹرامین مندوخیل نے یہ بھی بتایا کہ ماں کے دودھ پلانے کے زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اس بات کے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ بچے کو ماں کا دودھ پلانے سے ماں کو درج ذیل فائدے ملتے ہیں جو ماں کی زندگی کے لیے بڑے اہم ترین ہیں پیدائش کے دوران وقفہ چھاتی یا بیضہ دانی کے سرطان کے خطرات کم ہو جاتے ہیں ماں۔صحت مند اور تندرست رہتی ہے جبکہ بچے کے لیے بھی درج ذیل فوائد ہیں کہ بچوں کو ماں کا دودھ وبائی امراض ہیضے دست کی بیماری اور اس کی شدت سے بچاتا ہے.ماں کا دودھ بچوں میں سانس کے وبائی امراض کان کے درمیانی حصے کی۔سوزش دانتوں کے گلنے سڑنے اور دانتوں کی بے ترتیبی سے بچانے کا باعث بننے کے علاوہ بچے کی ذہانت میں بھی اضافہ کرتا ہے ,اس میں کوئی شک نہیں کہ ماں دودھ بچے کی زندگی کی بنیاد ڈالتا ہے اور ماں کا دودھ دو سال تک بچے کی صحت و تندرستی اور اس کے صحت مند مستقبل کے لیے انتہائی لازم ہے بلکہ آیت کریمہ بھی ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ دو سال تک مسلسل پلائیں   ہمارے ہاں لوگوں کی ایک سوچ ہے کہ ماں جب بچے کو زیادہ دودھ پلائے گی تو صحت کے حوالے کمزور ہو جائیگی یہ سوچ قطعی غلط ہے بلکہ ماں جتنا دودھ پلائے گی اتنا ہی دودھ ماں کے جسم میں پیدا ہوتا ہے اور ماں کے لیے کوئی کوئی پرابلم نہیں بلکہ اس میں بہتری ہے اور بچہ جب بھی دن میں جتنی بار مانگے ماں بچے کو اپنا دودھ پلائے تاہم ایک بات ضروری ہے کہ ماں جب حاملہ ہو اور بچے کی پیدائش کے بعد دودھ پلاتی ہو تو ماں کی خوراک پر بھی خصوصی توجہ دینی ہو گی کیونکہ یہ توجہ ماں اور بچے دونوں کی۔صحت کے لیے ضروری ہے بچے کو ایک گھنٹے کے اندر اندر پیدائش کے بعد ماں کا۔دودھ پلانے کا آغاز کر دیا جائے بچے کی زندگی کے پہلے چھ ماہ کے دوران اسے صرف اور صرف ماں کا دودھ دیا جائے اور بچے کو دو سال تک ماں کا دودھ پلانا جاری رکھا جائےاور اس دوران پہلے چھ ماہ بعد بڑھتے ہوئے بچے کی غذائی ضروریات پورا کرنے کے لیے محفوظ ٹھوس اور نیم ٹھوس غذا کا آغاز کر دیا جائے بچے کو ماں کادودھ پلانے کیقلیل اور طویل المعیاد قیمت پورے معاشرے کو ادا کرنا پڑتی ہے ماہرین کاکہنا ہے کہ جو بچے جو ماں کا دودھ نہیں پیتے کند ذہن ہوتے ہیں اور اس بناء پر وہ اچھی تعلیم اور بعد ازاں مناسب روزگار سے محروم ہو جاتے ہیں ماں کا دودھ صحیح طرح سے نہ پلانا بیماریوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے علاج معالجے پر ہونے والے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں حاملہ اور دودھ پلانے والی ماوں کی اپنی غذائی ضروریات پوری ہو سکیں مقامی طور پر دستیاب بہترین غذائیں جو دودھ پلانے والی ماوں کی ضرورت ہیں جیسے گوشت مچھلی انڈا دودھ دہی تازہ پھل۔سبزیاں دالیں اور پھلیاں استعمال کریں دن میں کم از کم آٹھ گلاس پانی ضرور پئیں لہذامائیں اپنے بچوں کو اپنا ہی دودھ پلائیں

    بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار اونٹ کراچی منتقل،مصنوعی ٹانگ لگائی جائے گی

    گورنر سندھ کا مبینہ بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار شخص کو 2 اونٹ دینے کا اعلان

    سانگھڑ، کھیت میں داخل ہونے پر وڈیرے نے اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

    گائے کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو وائرل،ملزم گرفتار،بکری اورکتے بھی بنے نشانہ

  • وزیر داخلہ 4 روزہ دورے کیلئے عراق روانہ

    وزیر داخلہ 4 روزہ دورے کیلئے عراق روانہ

    وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان عراقی وزیر داخلہ کی خصوصی دعوت پر 4 روزہ دورے کیلئے عراق روانہ ہو گئے

    علماء کرام کا وفد بھی وزیر داخلہ کے ہمراہ ہے ،اپنے دورے کے دوران وزیر داخلہ عراقی صدر، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقات کریں گے ،ہر سال لاکھوں زائرین عراق کا سفر کرتے ہیں، جن کو ویزہ کے حصول اور وہاں قیام سے متعلق مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، پچھلے سال یہ صورتحال ایک بحرانی کیفیت اختیار کر گئی تھی

    دورے کے دوران زائرین کی سہولت اور ان مشکلات کے حل سے متعلق عراقی حکومت سے بات کی جائے گی اور اس ضمن میں ایک معاہدہ بھی کیا جائے گا وزیر داخلہ پاکستانی سفارت خانہ میں عراق میں مقیم پاکستانیوں کیلئے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ سسٹم کا افتتاح بھی کریں گے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

  • شادیوں میں خواجہ سراؤں اور فنکاروں کو دعوت دینے والوں کی نکاح نہ پڑھانے کا فیصلہ

    شادیوں میں خواجہ سراؤں اور فنکاروں کو دعوت دینے والوں کی نکاح نہ پڑھانے کا فیصلہ

    کے پی کے ضلع خیبر لنڈی کوتل میں گرینڈ جرگہ میں زخہ خیل خیبر کے علماء کرام نے متفقہ طور پر شادیوں میں خواجہ سراؤں اور فنکاروں کو دعوت دینے والوں کی نکاح نہ پرھانے کا فیصلہ کر لیا ،اس حوالے سے علماء کرام کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے مطابق شادیوں میں خواجہ سراؤں کی شرکت اور موسیقی محافل کے انعقاد کرنے پر علماء کرام نے نکاح پڑھانے سے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے،اعلامیہ کے مطابق
    شادیوں میں موسیقی محافل کے انعقاد پر خاندان والوں کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھائینگے ، اور ایسی تقریبات میں اہلیان علاقہ بھی شرکت نہیں کریگی ، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ شادیوں کی تقریبات میں خواجہ سراء کی شرکت شریعت اور قبائلی روایات کے منافی ہے ، خلاف ورزی کرنے والے خاندان کے کسی میت کا جنازہ بھی نہیں پڑھایا جائے گا، اعلامیہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے،کہ ایسے خاندان کے ساتھ کوئی ہمدردانہ تعلقات نہیں رکھے جائیں گے، علماء نے شادیوں میں ہوائی فائرنگ روکنے کی بھی استدعا کی ہے،

  • منبر و محراب کا چراغ جو بجھ گیا، ازقلم :غنی محمود قصوری

    منبر و محراب کا چراغ جو بجھ گیا، ازقلم :غنی محمود قصوری

    منبر و محراب کا چراغ جو بجھ گیا

    ازقلم غنی محمود قصوری

    موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی مذہب،فرقے گروہ کو انکار نہیں ہر کسی کا ماننا ہے کہ موت برحق ہے اسی لئے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہےاللہ کے اسی فرمان سے اسلام کی حقانیت کا دعوی مذید بلند و بالا ہو جاتا ہے انسان و جن ،حشرات و جانورات حتی کہ ہر مخلوق کو موت لازم آتی ہے-

    بظاہر تو انسان اپنی موت مر جاتا ہے مگر وہ اپنے اخلاق،اپنے علم،اپنی سخاوت و دیگر اچھے وصف کے باعث اپنی موت کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے جہاں اموات کا سلسلہ جاری ہے وہاں پیدائش کا سلسلہ بھی جاری ہے اور یہ عمل قیامت تک چلے گا-

    ایک عالم دین کی موت سے اہلیان علاقہ دینی علم کی نعمت سے وقتی طور پہ محروم ہوتے ہیں جبکہ بہت بڑے عالم دین کی وفات سے بہت زیادہ لوگ محروم ہوتے ہیں اور یہ خلاء پر ہوتے دیر لگتی ہےعلماء دین کی شان بہت بلند ہے کیونکہ قرآن میں فرمان ہے-

    اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ؕ ترجمہ: بیشک اللہ سے حقیقتاً وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم سے آراستہ ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ العلماء ورثة الأنبياء

    یعنی کہ علماء کرام انبیاء کے وارثین ہیں اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ انبیاء کرام نے درہم و دینار وراثت میں نہیں چھوڑا بلکہ انہوں نے وراثت میں دین اسلام کا علم چھوڑا ہے جو کہ دنیاوی فائدے کیساتھ اخروی مستقل فائدے کا سبب ہے اور جس نے اس وراثت کو پالیا وہ کامیاب ٹھہرے گا ان شاءاللہ

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک علم اٹھا نہ لیا جائےجبکہ دوسری حدیث میں فرمان ہے اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھاتا کہ بندوں(کے سینوں) سے نکال لے، بلکہ علماء کو موت دے کر علم کو اٹھاتا ہے، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار (مفتی و پیشوا ) بنا لیں گے اور ان سے (دینی مسائل) پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے (خود بھی) گمراہ ہوں گے اور (دوسروں کو بھی) گمراہ کریں گے-

    اس حدیث سے اندازہ کریں کہ علمائے کرام کی کس قدر ضرورت بھی ہے اور ان کی عزت بھی عامی انسانوں سے کس قدر زیادہ ہےجب کوئی عالم دین وفات پاتا ہے تو غم تو بہت ہوتا ہے مگر اس غم پہ صبر کرنا چائیے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے –

    لَئِنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ‌ وَلَئِنۡ كَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِىۡ لَشَدِيۡدٌ‏
    ترجمہ: اگر تم شکر گزار رہے تو میں تمہیں بڑھاؤں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہو گا

    اگر ہم حقیقتاً دیکھیں تو ماں باپ کے بعد سب سے اعلی تربیت ایک استاد اور خاص کر عالم دین استاد ہی کر سکتا ہے اور یہی عالم دین انسان کو محدث،مبلغ،مفسر،مجاھد اور داعی بناتا ہے

    گزشتہ چند دن قبل 29 مئی 2023 کو پاکستان کے نامور اور بہت بڑے عالم دین حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی کا انتقال ہوا جو کہ پاکستان کے اہل علم اور خاص ہر علماء کے لئے ایک بہت بڑا خلاء چھوڑ گئے کہ جس کو پر ہونے میں وقت لگے گا
    حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی رحمتہ اللہ علیہ کی پیدائش اپنے ننھیال میں قصور کی تحصیل پتوکی کے گاؤں گوہر چک میں 27 اگست 1946 کو ہوئی جبکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا آبائی گاؤں بھٹہ محمد تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ ہے

    1966 میں آپ نے گجرانوالہ سے درس وتدریس کا آغاز کیا اور 1992 میں مرکز طیبہ مریدکے،ضلع شیخوپورہ کی بنیاد رکھی اور اسی مرکز کے بانی و مدیر مقرر کئے گئے اور تا دم مرگ اسی مرکز کے لئے خدمات سرانجام دیتے رہے
    اس مرکز سے ہزاروں شاگرد نا صرف اعلی پائے کے عالم بنے ہیں بلکہ بہت اچھے سائنسدان،سیاستدان، صحافی،وکیل،ڈاکٹر و دیگر اہم شعبوں پہ فائز ہوئے ہیں جو کہ حضرت مولانا عبدالسلام بن محمد بھٹوی کے شاگرد ہیں

    آپ ملک بھر کے 150 دینی مدارس کے نگران اعلیٰ بھی مقرر تھے مگر اس کے باوجود انتہاء کے عاجز و سادہ مزاج شخصیت کے مالک تھے بندہ ناچیز نے خود ان کو کئی بار دیکھا کہ مریدکے مرکز کے ایک سادہ سے گھر میں اپنے شاگردوں کے علاوہ اہلیان علاقہ و دیگر آنے والے لوگوں کو بڑی عاجزی سے دوائی دیتے تھے اور بار بار بابت دوائی و مسائل کے پوچھنے پہ بھی ہرگز غصہ نا کرتے تھے بلکہ بڑے پیار سے سمجھاتے تھے-

    آپ حکمت سے پیسے نا کماتے بلکہ گی سبیل اللہ دوائی دیتے تھے بسا اوقات ملک کے دیگر حصوں سے بھی لوگ ان سے دوائی لینے آتے تھے حکمت کے ساتھ ہومیو پیتھک طریقہ علاج پہ بھی ان کو عبور حاصل تھا –

    آپ نے حکمت کی اعلی ڈگری فاضل نظریہ مفردات حاصل کی اور طب پہ عبور حاصل ہونے کے باوجود درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور درجنوں کتب لکھیں جن میں تفسیر القران ،بلوغ المرام،ترجمہ حصن المسلم ،ہم جہاد کیوں کرتے ہیں،اور مسلمانوں کو کافر قرار دینے کا فتنہ، بڑی اہم کتب ہیں جن کو ہر مسلک کے لوگ پڑھتے ہیں-

    حضرت بھٹوی صاحب کی یہ خوبی بڑی اہم تھی کہ آپ تمام مسالک کو قریب کرتے تھے نا کہ ایک دوسرے پہ کفر و ارتداد کے فتوے لگاتے تھےاسی لئے تمام مسالک کے لوگ اور بلخصوص علماء کرام ان کی خاص عزت کرتے تھے –

    حضرت عبدالسلام بھٹوی رحمتہ اللہ علیہ 2019 سے مجاھدین کی مالی معاونت کے الزام میں شیخوپورہ جیل کے زیر سایہ حراست میں قید کاٹ رہے تھے اور اسی دوران بخاری کی شرح بھی لکھ رہے تھے کہ خالق حقیقی کے بلاوے پہ دار فانی کوچ کر گئے،اناللہ واناالیہ راجعون اللھم اغفرلہ و ارحمہ آمین

    ان کی وفات سے ایک بہت بڑا خلاء پیدا ہو گیا جو کہ وقت کے ساتھ بھر جائے گا انبیاء کے ورث حضرت بھٹوی رحمتہ اللہ علیہ نے کوئی جاگیر تو نہیں چھوڑی مگر علم کی صورت میں ہزاروں جید علمائے دین کی وراثت چھوڑی ہے ،شیخ الحدیث،مفسر قران و حدیث،مفکر اسلام اور مجاھدین کے استاد حضرت عبدالسلام بن محمد بھٹوی کا شمار اس صدی کے بڑے بڑے علماء میں ہوتا ہے، کہ جن کے ہزاروں جید عالم دین شاگرد ہیں آپ کے شاگردوں کے شاگرد اس وقت جید عالم دین ہیں-

    دعا ہے کہ جس طرح حضرت حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی نے دین اسلام کی خدمت کی ایسے ہی اللہ تعالی ان کی اولاد اور ان کے شاگردوں کو بھی دین اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

    آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ایک نظم کیساتھ اختتام تحریر کرتا ہوں یہ نظم غالباً 1991 کو شائع ہوئی تھی

    اپنے ارمان تو اس وقت ہی پورے ہونگے
    خلد میں جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت ہو گی

    رات دن گر اپنے ہی درپے آزاد رہیں
    غیر کو کب کسی تکلیف کی حاجت ہوگی؟

    مشکلیں ڈال کے تو نے در رحمت کھولا
    کیا خبر تھی تیری مشکل بھی عنایت ہو گی

    ہر محلے میں کوئی صدر کوئی ناظم ھے
    سرخرو کیسے خلافت سے جماعت ہو گی؟

    بےبس و عاجز و مجبور کو داتا کہنا
    اس سے بڑھ کر بھی بھلا کوئی ضلالت ھو گی؟

    بھیک غیروں سے حفاظت کی جو مانگیں ہر دم

    ایسے اشراف کی کیا خاک کرامت ہو گی؟؟

    نوجوان شوق شہادت سے ہیں سرشار مگر

    منتظر ہیں کہ بزرگوں سے اجازت ہو گی

    وضع و صورت ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمہیں منظور نہیں
    کون سے منہ سے تمنائے شفاعت ہو گی؟

    جب فقیہانِ وطن سود کی تلقین کریں
    منتظر رہیے کہ جلد قیامت ہو گی

    بار سب جس سے گناہوں کے اتر جاتے ہیں
    میری قسمت میں بھی یارب وہ شہادت ہو گی

    نقش حرمین نگاہوں میں بسا رہتا ہے
    تیری رحمت سے ہی آئندہ زیارت ہو گی

    اپنے ارمان تو اس وقت ہی پورے ہونگے
    خلد میں جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت ہو گی

  • علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟  — نعمان سلطان

    علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟ — نعمان سلطان

    اعتراض :–کیا علماء کرام قدامت پرست ہیں. اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں.

    جواب :–اس اعتراض کے دو حصے ہیں.

    پہلا حصہ ہم علماء کرام کو قدامت پرست کیوں کہتے ہیں.

    دین اسلام آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت ہم تک پہنچا. کیوں کہ یہ دین اللہ پاک کا آخری اور مکمل دین ہے. اس لئے ہم نے دنیا میں زندگی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنی ہے.

    اس لئے ہمیں جب بھی کسی شرعی حکم کے بارے میں جاننا ہوتا ہے تو ہم قرآن، حدیث اور اجماع امت کو دیکھتے ہیں. اگر وہاں سے راہنمائی ملے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر علماء امت قیاس کرتے ہیں اور اس کے مطابق وقت کے علماء متفقہ طور پر شرعی مسئلے کا حل بتاتے ہیں.

    یہ یاد رکھیں کہ دین کے اصول اور حکم اٹل ہیں ہم ان میں کمی بیشی نہیں کر سکتے ہیں. اور جب ہم اپنے شرعی معاملات کے حل کی راہنمائی کے لئے چودہ سو سال پیچھے دیکھتے ہیں تو یہ قدامت پرستی نہیں بلکہ اسلام کی حقانیت اور جامعیت کا ثبوت ہے.

    اعتراض کا دوسرا اور اہم حصہ کہ علماء جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں؟؟؟؟

    جدید دور کے تقاضوں سے ہم عموماً مراد کپڑوں میں شلوار قمیض کے بجائے پینٹ شرٹ، زبان میں اردو اور عربی کے بجائے انگریزی، مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بجائے کسی یونیورسٹی کی ڈگری، اس کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیاں جیسے ہوٹلنگ، کوئی گیم(کھیل ) یا کوئی سیمینار وغیرہ اور اس کے علاوہ روشن خیالی (اس کی تعریف لوگوں کی نظر میں مختلف ہے اور لوگوں کا سب سے زیادہ زور بھی اسی پر ہوتا ہے ) شامل ہیں.

    ابھی ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا پڑے گا کہ مدارس میں اکثریت غریب گھرانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں. اور روشن خیالی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں اوپر گنوائی گئی وہ غریب گھرانوں کے بچے دوران تعلیم اور کسی مسجد یا مدرسے میں نوکری ملنے کے بعد بھی افورڈ ہی نہیں کر سکتے. تو وہ انہیں اختیار کیسے کریں گے.

    اب جہاں تک بات روشن خیالی کی ہے. اگر وہ ممنوعات دین کے بارے میں ہے. تو جو دین کے اصول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے طے ہو گئے ان میں ہم تبدیلی نہیں کر سکتے.

    لیکن بعض مقامات پر جہاں شریعت میں گنجائش یا ابہام ہے وہاں پر بعض علماء ضد میں آ کر انہیں بھی ممنوع کے درجے میں لے جاتے ہیں..اور اسی وجہ سے لوگ علماء سے متنفر ہوتے ہیں.

    ان مسائل کا حل:

    ابھی ضرورت اس امر کی ہے کہ جیسے سکولوں میں اسلامیات اور قرآن کی تعلیم لازمی ہے ایسے ہی مدرسوں میں بھی انگریزی سمیت جدید علوم کی تعلیم لازمی قرار دی جائے.ہمیں چاہیے ہم علماء کو صرف شادی بیاہ، جنازوں اور نمازیں پڑھانے تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی سوشل تقریبات کا لازمی جز بنائیں تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں اور علماء اور نوجوان نسل کے درمیان فاصلے کم ہو سکیں.

    پہلے وقتوں میں امیرالمومنین مرکزی مسجد میں خود نمازیں پڑھاتے تھے خطبے دیتے اور اہم اعلانات (جیسے اعلان جنگ وغیرہ) کرتے تھے. وہ اپنے وقت کے دین کے عالم بھی ہوتے تھے اور وہ اپنے طرز عمل سے ثابت کرتے تھے کہ علماء کرام کا کام صرف امامت کرنا نہیں بلکہ امت کی اصلاح اور قیادت کرنا ہے.

    اس کے علاوہ مفتی حضرات کے لئے ماہرین کی مدد سے دو سال کا فزکس، بائیو اور کیمسٹری کا سپیشل کورس مرتب کیا جائے. جس میں ارتقاء، بگ بینگ اور ان سے متعلقہ نظریات اور جدید تحقیق کے بارے میں آسان اور عام فہم زبان میں انہیں بتایا جائے.

    اور انہیں پابند کیا جائے جب تک آپ یہ کورس نہیں کرتے آپ صرف عالم دین ہوں گے. دینی معاملات میں فتویٰ نہیں دے سکیں گے. اور حکومت وقت کی طرف سے مساجد کے لئے چار یا پانچ درجے بنائے جائیں.

    مسجد کے خادم، خطیب، قاری اور مفتی صاحب کو اچھے گریڈ میں اچھی سے اچھی تنخواہ دی جائے تا کہ وہ فکر معاش سے بے فکر ہو کر دین کی خدمت کر سکیں.

    مساجد اور مدارس جب تک زکوٰۃ خیرات کے پیسے پر چلتے رہیں گے وہاں سے فرقہ واریت ختم نہیں ہو گی.. حکومت کو تمام دینی مدارس اور مساجد کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیے. اور مدارس میں علماء کے ساتھ ساتھ متعلقہ مضامین کے ماہر اساتذہ کو بھی طلباء کی تعلیم و تربیت کے لئے مستقل بنیادوں پر بھرتی کرنا چاہیے.ان تمام اور ان جیسے دیگر اقدامات سے جو مدارس سے علماء کی کھیپ تیار ہو گی وہ لازمی پراعتماد اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گی.

  • امن کے قیام اور جرائم کے تدارک کے لئے علماء کرام لاہور پولیس کے شانہ بشانہ

    امن کے قیام اور جرائم کے تدارک کے لئے علماء کرام لاہور پولیس کے شانہ بشانہ

    سربراہ لاہور پولیس غلام محمود ڈوگر سے مختلف مکاتب فکر،مسالک کے علماء و اکابرین کےوفد کی ملاقات۔ علامہ مشتاق حسین جعفری،علامہ حافظ کاظم رضا نقوی،مفتی سید عاشق حسین وفد میں شامل۔علامہ اصغر عارف چشتی،قاسم علی شاہ،علامہ محمد عاصم مخدوم وفد میں شامل تھے۔
    سید تاثیر علی شاہ،چوہدری ارشد گجر،ملک محمد آصف و دیگر علماء کرام کی شرکت۔اجلاس میں امن کمیٹی کے ارکان اور نمائندگی میں باہمی مشاورت سےاضافہ کی تجاویز پر غور کیا گیا۔
    ہمارا مذہب،ہمارا کلچر اوراقدار ہمیں آپس میں متحد ہونے کا درس دیتی ہیں۔معاشرے کی اصلاح اور نئی نسل کی رہنمائی کے لئے علماء کرام اور امن کمیٹیاں کردار ادا کریں۔امن کمیٹیوں کو باہمی مشاورت سے مزید وسعت دینے، فعال اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔مستقل امن اور ملک کے وسیع تر مفاد میں اتحاد، یگانگت،رواداری کا فروغ کی اشد ضرورت ہے۔دشمن سوشل میڈیااور ففتھ جنریشن وار کے ذریعے ہماری دینی اقدار کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔علماء کرام،امن کمیٹیاں اور معاشرہ مل کر نئی نسل کی اصلاح اور رہنمائی کا بیڑا اٹھائیں۔سی سی پی او لاہور
    سی سی پی او لاہور کی زیر نگرانی قبضہ گروپوں، بدمعاشوں کے خلاف مہم کی پرزور حمایت کرتے ہیں۔
    امن کے قیام اور جرائم کے تدارک کے لئے علماء کرام لاہور پولیس کے شانہ بشانہ ہے،علماء کرام کا کہنا۔