Baaghi TV

Tag: علیم خان

  • این ایچ اے کی خالی جگہوں کے کمرشل استعمال کیلئے کمیٹی قائم

    این ایچ اے کی خالی جگہوں کے کمرشل استعمال کیلئے کمیٹی قائم

    اسلام آباد: وفاقی وزیر مواصلات علیم خان نے کہا کہ این ایچ اے کا 50 ارب روپے کا اضافی ریونیو “ڈیپازٹ اکاؤنٹ” ہوگا-

    باغی ٹی وی: وفاقی وزیر مواصلات علیم خان کی زیر صدارت نیشنل ہائی وےاتھارٹی کا جائزہ اجلاس ہوا جس میں حفاظتی باڑ کے معاملے پرتحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی جو 10 دن میں رپورٹ پیش کرےگی،اجلاس میں سیالکوٹ سے کھاریاں اور راولپنڈی موٹروے کو 4 سے 6 لین بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اس موقع پرعلیم خان نے کہاکہ این ایچ اے کا 50 ارب روپے کا اضافی ریونیو “ڈیپازٹ اکاؤنٹ” ہوگا،فنڈز ضائع نہیں کرنے دیں گے،یہ پیسہ ان منصوبوں پر لگے گا جہاں سے مزید ریونیو حاصل ہو، این ایچ اے کے محصولات میں 400ارب روپے کا اضافہ چاہتا ہوں،اولین ترجیح ایم 6 موٹروے کی تعمیر ہے، سکھر تا حیدرآباد کو کراچی تک بنائیں گے۔

    کورونا وائرس، چین نے امریکی سینٹرل انٹیلیجنس کی رپورٹ مسترد کر دی

    علیم خان نے کہا کہ جون تک ریونیو ٹارگٹ حاصل ہو گیا تو این ایچ اے اسٹاف کو ایک تنخواہ کا بونس دیں گے،سیکریٹری مواصلات خود معائنہ کریں گے، موٹرویز پرمرمت کا کام فروری میں مکمل کریں،موٹروے ایم ون سے اسلام آباد ائیر پورٹ کو بلا رکاوٹ راستہ فراہم کیا جائے،پاکستان کے قومی روڈ نیٹ ورک کو خطے کا جدید ترین روڈ نیٹ ورک بنانا چاہتے ہیں۔

    وفاقی وزیر مواصلات کی ہدایت پر این ایچ اے کی خالی جگہوں کے کمرشل استعمال کیلئے کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

    پیکا ایکٹ کالا قانون ہے جوکسی صورت قبول نہیں ،بیرسٹر گوہر

  • علیم خان کی نجکاری کے تمام منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

    علیم خان کی نجکاری کے تمام منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

    وفاقی وزیر برائے نجکاری، عبدالعلیم خان کی زیر صدارت پرائیویٹائزیشن کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف اداروں کی نجکاری کے لیے فنانشل ایڈوائزرز کی تقرری پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    اجلاس میں نجکاری کے عمل کو مزید تیز کرنے اور اس کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد نجکاری کے عمل کو شفافیت کے ساتھ اور جلد از جلد مکمل کرنا ہے تاکہ عوامی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ انہوں نے پرائیویٹائزیشن کے تمام منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت بھی دی۔عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ "نجکاری کے عمل میں کسی قسم کی تاخیر یا رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام فیصلے مکمل شفافیت اور معیار کے مطابق ہوں۔” انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا یہ عزم ہے کہ تمام پرائیویٹائزیشن منصوبوں میں مالیاتی شفافیت کو اہمیت دی جائے اور ان منصوبوں میں بہترین عالمی معیار کی پیروی کی جائے۔

    اجلاس میں مختلف اداروں کی نجکاری کے حوالے سے فنانشل ایڈوائزرز کی تقرری کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس عمل کی تیز رفتار تکمیل کے لیے فنانشل ایڈوائزرز کی جلد تقرری کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ حکومت عوامی مفاد میں نجکاری کے عمل کو ترجیح دے گی، اور اس کے نتیجے میں عوامی اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ اجلاس میں وزارتِ خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، جنہوں نے نجکاری کے عمل کو بہتر بنانے اور شفافیت کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔اس موقع پر عبدالعلیم خان نے کہا کہ نجکاری کے عمل میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی، اور اس کا مقصد صرف اور صرف معیشت کی ترقی اور عوامی اداروں کی بہتری ہے۔اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس عمل کی نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ نجکاری کے تمام منصوبے شفاف، مؤثر اور جلد از جلد مکمل ہوں۔

    فیصل واوڈا،بیرسٹر گوہر کی "مسکراتے ” ہوئے ملاقات

    کابل میں دھماکہ،افغان وزیر خلیل الرحمان حقانی جاں بحق

    ملزم فیض حمید پر فردجرم،قید اور موت کی سزا،سب ختم شد،عمران خان شدید مایوس

  • سروسز انٹرنیشنل ہوٹل  کی کامیاب نجکاری، کمیشن کی ساکھ میں اضافہ ہو گا ،علیم خان

    سروسز انٹرنیشنل ہوٹل کی کامیاب نجکاری، کمیشن کی ساکھ میں اضافہ ہو گا ،علیم خان

    سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور (ایس آئی ایچ) کی نجکاری کا عمل پنجاب کوآپریٹو بورڈبرائے لیکیوڈیشن (پی سی بی ایل)، سوک کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ (سی سی سی ایل)، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی(ایل ڈی اے)، نجکاری کمیشن اور خریدار کے درمیان فروخت کے معاہدے پر پرائیویٹائزیشن کمیشن اسلام آباد میں دستخط سے کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

    وفاقی وزیر برائے نجکاری،چیئرمین نجکاری کمیشن عبدالعلیم خان نے دستخط کی تقریب میں شرکت کی ۔میسرز فیصل ٹائون (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو اگست 2021 میں ہونے والی کھلی عوامی نیلامی کے نتیجہ میں نجکاری کمیشن نے کامیاب بولی دہندہ قرار دیا تھا جس کی منظوری وفاقی کابینہ نے 27 اکتوبر 2021 کو دی تھی۔وفاقی وزیر نجکاری نے حکومت پنجاب سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے تمام زیر التواء مسائل کے حل کو باہمی تعاون سے ممکن بنایا جس سے اس نجکاری کی تکمیل ہو پائی۔ وفاقی وزیر نے نجکاری پروگرام کی کامیابی اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے تمام تر حکومتی مشینری کے یکجا طور پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور کی کامیاب نجکاری سے پرائیوٹائزیشن کمیشن کی ساکھ میں اضافہ ہو گا اور یہ ادارہ باقی کیسز کو بھی جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو گا۔ عبدالعلیم خان نے مزید کہا کہ کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافے کے لئے غیر ضروری کاغذی کارروائیوں میں وقت ضائع نہیں ہونا چاہیے اور ہمیں نجکاری کے امور کو کم سے کم وقت میں مکمل کرنا چاہیے۔

  • علیم خان کی بدعنوانی میں ملوث افسران کو فارغ کر نے کی ہدایت

    علیم خان کی بدعنوانی میں ملوث افسران کو فارغ کر نے کی ہدایت

    وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیرصدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اعلی سطح اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں زیرو ٹالرنس اپناتے ہوئے کرپٹ افسران و اہلکاران کے خلاف بلا امتیاز سخت ایکشن کرنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے چیئرمین این ایچ اے کو کاروائی کیلئے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے بدعنوانی میں ملوث افسران کو فارغ کر نے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہاکہ کوئی سفارش نہ مانی جائے، تمام سیٹوں پر اہل اور قابل افسران تعینات ہونے چاہئیں۔ اجلاس میں چاروں صوبوں میں این ایچ اے کے زیر تکمیل منصوبوں پر غور کر تے ہوئے کام کی رفتار بڑھانے سمیت اہم فیصلے بھی کئے گئے۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہاکہ لاہور، سیالکوٹ اور کھاریاں سے اسلام آباد موٹروے کو 4کی بجائے 6 ” لین "کا ہونا چاہیے۔ این ایچ اے موٹرویز پر بیرئیرز ختم کرنے اورالیکٹرانک ٹول پلازوں کی تجویز کے منصوبے پر کام کرے۔ اجلاس میں بیلا سے آواران اور ژوب سے لورالائی کی شاہراہوں سمیت کالاشاکاکو سے ملتان روڈ نئے بائی پا س اور سگیاں سے راوی پل تک سڑکوں کی تعمیر پر غور کیا گیا ۔ این ایچ اے کے مارگلہ ہائی وے کی توسیع اور اُسے ایم ون سے منسلک کرنے کا منصوبہ بھی اجلاس میں شامل کیا گیا ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ صوبے بھی این ایچ اے کے ساتھ نئی سڑکوں اور ہائی ویز کی تعمیر میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تمام شاہراہوں اور موٹرویز کو کیمروں اور سی سی ٹی وی سے منسلک کیا جائے۔

    پاکستان میں سرمایہ کاری،معیشت کی بحالی میں عبدالعلیم خان کا کردار اہم

  • پی آئی اے  نجکاری معاملے کو کابینہ کمیٹی کو بھجوانے کا فیصلہ

    پی آئی اے نجکاری معاملے کو کابینہ کمیٹی کو بھجوانے کا فیصلہ

    وفاقی وزیرِ نج کاری عبدالعلیم خان کی زیرِ صدارت نج کاری کمیشن بورڈ کا اجلاس ہوا، جس میں پی آئی اے کی نجکاری سمیت مختلف امور پر غور اور سفارشات کی منظوری دی گئی۔

    اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری کے معاملے کو کابینہ کمیٹی کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا، پرائیویٹائزیشن بورڈ اجلاس میں ممبران کی نجکاری کے عمل میں شرکت کے لئے تین رکنی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ نجکاری کے معاملات قوانین و ضوابط کے مطابق اور ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہونگے۔ پی آئی اے سمیت دیگر اداروں کی نج کاری کے امور کا حتمی فیصلہ کابینہ کمیٹی نے کرنا ہے،پی آئی اے سمیت دیگر اداروں کی نج کاری کے لیے آئندہ پیشکش کا عمل بہتر سے بہتر بنایا جائے، پی آئی اے سمیت دیگر اداروں کی بلا تاخیر نج کاری کو آگے بڑھایا جائے۔ اپنے حلف کے پابند ہیں، ملک و قوم کی بہتری کے لئے جو کچھ ہوا ضرور کریں گے، پی آئی اے نجکاری کے معاملات قوانین و ضوابط کے مطابق اور ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہوں گے،

    پی آئی اے کی نجکاری،سوا کھرب روپے سے زائد کی پیشکش آ گئی

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

  • میری ذمہ داری پی آئی اے ٹھیک کرنا نہیں، بیچنے آیا ہوں، علیم خان

    میری ذمہ داری پی آئی اے ٹھیک کرنا نہیں، بیچنے آیا ہوں، علیم خان

    لاہور: وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ میرا کام پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو ٹھیک کرنا نہیں بلکہ اسے فروخت کرنا ہے۔

    وفاقی وزیر نجکاری، سرمایہ کاری بورڈ اور مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن ہم سب کا قومی اثاثہ ہے جسے بہتر پالیسیوں اور مناسب سرمایہ کاری کے ساتھ آج بھی منافع بخش بنایا جا سکتا ہے اور ہم اسے کسی طور بھی اونے پونے داموں نہیں بیچ سکتے، کے پی کے، پنجاب یا کسی اور صوبے کی حکومت اگر پی آئی اے کی نجکاری میں حصہ لینا چاہتی ہے تو ہم اُن کا خیر مقدم کریں گے۔وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا ڈھانچہ میری چھ ماہ کی وزارت سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا،میرے پاس اُس فریم ورک میں تبدیلی کا کوئی اختیار نہیں تھا اور نہ ہی میری ذمہ داری پی آئی اے کو ٹھیک کرنے کی تھی، میرا کام پی آئی اے کو بیچنا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں لیکن قوم بخوبی جانتی ہے کہ پی آئی اے کو اس حال تک پہنچانے میں ہر حکومت نے بلا تفریق اپنا حصہ ڈالا۔ میں بطور وفاقی وزیر نجکاری اُن قوانین و ضوابط کا پابند ہوں جن کے تحت مجھے نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانا ہے اور پی آئی اے کی نجکاری ضرور کریں گے اور بہتر انداز میں کریں گے۔۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ جہاں تک میری وزارت کا تعلق ہے میں نے مواصلات کے شعبے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سرکاری ادارے کی طرف سے 50ارب روپے کے ریونیو کا اضافہ کیا ہے۔ جس کے لئے میں نے نہ تو کوئی تشہیری مہم چلائی، اشتہارات دیے اور نہ ہی اداریے لکھوائے، یہ میرا قومی فریضہ ہے کہ میں اس ملک کی بہتری اور غریب عوام کے پیسے کو بچانے کے لئے اپنے فرائض سر انجام دوں۔

    عبدالعلیم خان نے گزشتہ دنوں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے سامنے آنے والے موقف پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ بھی مجھ پر تنقید کرتے ہوئے نصیحتیں کر رہے ہیں جو خود لمبا عرصہ پرائیویٹائزیشن کے محکمے کے وزیر رہے،اگر وہ اپنے دور میں اس مسئلے کو حل کر لیتے تو آج یہ معاملہ مجھ تک نہ پہنچتا۔انہوں نے کہا کہ بطور وفاقی وزیر پاکستان پوسٹ کے محکمے سے ایسی 3500 آسامیاں ختم کرائی ہیں جو قومی خزانے پر 2.8ارب روپے کا بوجھ تھیں حالانکہ نوکریاں کسی بھی سیاسی رہنما کیلئے بنیادی ضرورت ہوتی ہیں لیکن میں نے ملکی مفاد کو اپنی سیاست پر ترجیح دی۔

    میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ خود حالات بگاڑنے والے آج مجھ سے سوال کر رہے ہیں حالانکہ اس پی آئی اے کو یہاں تک پہنچانے میں بلا تفریق ہر حکومت نے اپنا حصہ ڈالا۔انہوں نے کہا کہ یہ عہدہ ہمارے پاس امانت ہے، وزارت پر اللہ تعالیٰ اور اس قوم کو جوابدہ ہوں، میں نے آج تک حکومت سے ایک روپیہ بھی تنخواہ، ٹی اے ڈی اے یا کسی اور مد میں وصول نہیں کیا، میں نے سرکاری گاڑی نہیں لی اور نہ ہی کوئی سرکاری ملازم رکھے ہیں، میرے کویت، روس،چین اور دیگر ملکوں کے دورے اپنے خرچ پر تھے اور جہاں تک پی آئی اے کی نجکاری کا تعلق ہے میں اُس دن بھی سرکاری دورے پر سعودی عرب کے وزیر نجکاری کے ساتھ پاکستانی سفارتخانے ریاض میں اجلاس میں تھا جبکہ اُس سے پہلے پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ اور سی سی او پی کے اجلاس میں بھی میں نے شمولیت کی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا تعلق ہے ہمارے پاس مزید آپشن موجود ہیں، اس ادارے کی باقی ماندہ 200ارب روپے کے واجبات کو بھی حکومت نکال کر "کلین پی آئی اے”دے سکتی ہے۔

    وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شفاف تھا، سب کچھ میڈیا کے کیمروں کے سامنے ہوا اور لائیو دکھایا گیا اب اُس کے نتائج کے حوالے سے قیاس آرائیاں کرنے کی بجائے ہم سب کو مل کر اس کا حل نکالنا ہے، ایک دوسرے کو الزام اور ماضی کو رونے کی بجائے ہمیں آگے بڑھنا ہے اس وقت پی آئی اے کے علاوہ9ڈسکوز کی نجکاری پائپ لائن میں ہے، جہاں تک سرمایہ کاری کا تعلق ہے صرف سعودی عرب سے ایم او یوزکی تعداد 34ہو چکی ہے اور 2.8ارب روپے کی سرمایہ کاری سے مختلف معاہدوں پر عملی پیشرفت کا آغاز ہو چکا ہے۔ روس اور چین سے سرمایہ کار آ رہے ہیں اور جہاں تک میرے محکموں کا تعلق ہے مواصلات کے شعبے میں سالانہ ریونیو آئندہ 5برسوں میں 500ارب تک لے جائیں گے، اسی طرح نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو میں انٹرنیشنل فرم دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ وہ چین اور دیگر ملکوں کی طرح پاکستان سے باہر بھی جا کر ٹینڈر حاصل کریں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ این ایچ اے میں سخت پالیسیاں متعارف کروائی ہیں، ایکسل لوڈ پر کوئی سمجھوتہ نہیں، موٹروے اور قومی شاہراہوں کی حفاظت میری ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری ضرور ہو گی اور اس کو پہلے سے بہتر انداز میں کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس حوالے سے مزید بہتر بنائے جا سکتے ہیں البتہ قیاس آرائیوں، تبصروں اور الزامات سے گریز کرنا چاہیے،پی آئی اے میں پوٹینشل موجود ہے،24کروڑ لوگوں کے پاس صرف ایک ائیر لائن جہاں سے وہ ڈائریکٹ فلائٹ کے ذریعے یورپ اور امریکہ جا سکتے ہیں اور ادارے میں بہتری لا کر آگے بڑھا جا سکتا ہے

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • اکرم چوہدری کا  نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    نجی ٹی وی کے چوہدری اکرم کی نئی کارستانیاں سامنے آ گئیں،نجی ٹی وی کے نام پر دورہ لیکن کام ذاتی،دورہ یو کے میں سگے تایازاد بھائی نے چوہدری اکرم کے بچوں کو "سیٹل "کرنے سے انکار کر دیا،نجی ٹی وی مزید بحران و نقصان سے دوچار، نجی ٹی وی کے ڈیجیٹل چینل سے 11 افراد نوکریوں سے گئے، اکرم چوہدری اوورسیز و مقامی نمائندوں سے بھی دیہاڑی لگانے سے باز نہ آئے، چینل نقصان میں جاتا ہے تو جاتا رہے، اپنا بینک اکاؤنٹ بھرتا رہے ،چوہدری اکرم کی پالیسیوں نے نجی ٹی وی میں بے چینی پھیلا رکھی ہے

    نجی ٹی وی کے چوہدری اکرم آج کل یو کے کے دورے پر ہیں وہ نجی ٹی وی کے نام پر ٹرپ کر رہے ہیں لیکن درحقیقت اکرم چوہدری اپنے بچوں کو سیٹل کرنے گئے ہیں، اس ضمن میں پہلے وہ گلاسکو پھرتے رہے،اور مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کے صاحبزادے بھی شامل تھے،وہ ابھی انکو انٹرٹین کرتے رہے،اکرم چوہدری کے سگے تایازاد بھائی چوہدری شوکت علی کا گلاسکو میں ایک ہوٹل ہے ،وہاں انہوں نے بڑی کوشش کی کہ اپنے بیٹے کو سیٹل کر لوں لیکن چوہدری شوکت علی نے انکو نکال دیا اور کہا کہ یہاں کوئی جگہ نہیں،پہلے بھی ہمارے آبائی کاروبار راحت بیکری جو لاہور میں ہے کے بارے میں بتایا ہوا ہے کہ تم اسکے مالک ہو لیکن ایسا نہیں ہے،وہاں سے اکرم چوہدری دلبرداشتہ ہو کر مختلف لوگوں سے مل رہے ہیں، جیو ٹی وی والوں سے بھی مل رہے ہیں

    چوہدری اکرم کی وجہ سے نجی ٹی وی میں آج کل بڑی بے چینی پائی جاتی ہے، انکی وجہ شہرت صحافت نہیں بلکہ چغلیاں ہیں،مخبریاں ہیں، اکرم چوہدری کبھی وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے ایڈوائزر تھے، عثمان بزدار نے انکے ذمہ لگایا تھا کہ جو جو وزیراعلیٰ کا خواہشمند ہے،بننا چاہتا ہے یا عمران خان کے قریب ہے اور لگوا سکتا ہے اسکو خراب کرنا ہے، عثمان بزدار کے کہنے پر اکرم چوہدری از خود نیب میں گئے اور ایک گواہ کے طور پر پیش ہوئے، چینی سیکنڈل میں اکرم چوہدری گواہ کے طور پر پیش ہوئے ،باقی تفصیل جہانگیر ترین ہی بتا سکتے ہیں کہ نیب نے انکے ساتھ کیا کیا، ہاشم بخت، خسرو بختیار کے چھوٹے بھائی کا جب وزیراعلیٰ کے لئے نام آ رہا تھا تو اکرم چوہدری نے اس وقت بھی نیب میں جا کر رپورٹ کر دیا تھا، اکرم چوہدری کی وجہ شہرت یہ ہے اور اب وہ میڈیا کا سفر کر رہے اور جس طرح میڈیا میں آ کر انہوں نے نجی ٹی وی کا نقصان کیا،اب نجی ٹی وی کے ڈیجیٹل سے بھی 11 افراد کو نوکریوں سے نکال دیا گیا، جن میں شہرہ آفاق اینکر بھی شامل ہیں،خود موصوف کے بارے میں سارے یہ کہہ رہے ہیں کہ اوورسیز نمائندوں سے پیسے بٹورتے ہیں، پاکستان میں بھی جو نامہ نگار آئے ہیں غالبا ایک عام تاثر یہی ہے کہ انکی مٹھی گرم کر کے آئے ہیں،

    باغی ٹی وی پر نجی ٹی وی کے حوالہ سے خصوصی سٹوریز جاری ہیں، جلد اگلی قسط،نئے انکشافات کے ساتھ سامنے آئے گی

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

  • پاکستان میں سرمایہ کاری،معیشت کی بحالی میں عبدالعلیم خان کا کردار اہم

    پاکستان میں سرمایہ کاری،معیشت کی بحالی میں عبدالعلیم خان کا کردار اہم

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر ،وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کی محنتیں رنگ لا رہی ہیں، پاکستانی معیشت بہتر، اسٹاک مارکیٹ میں تیزی،بیرون ممالک سے سرمایہ کاری کا آغاز ہو گیا، علیم خان نے عمران خان کا ساتھ چھوڑ کر ٹرولنگ تو برداشت کر لی تاہم پاکستان کا ساتھ نہ چھوڑا اور قائد کے پاکستان کے لئے انتخابات جیت کر پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے سفر کا کامیابی سے آغاز کر دیا.عبدالعلیم خان پاکستان سے محبت کرنے والے ایک مخلص اور بڑا ویژن رکھنے والی شخصیت ہیں جو ہمیشہ پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط و مستحکم بنانے کی نہ صرف بات کرتے ہیں بلکہ اس کے لئے مسلسل اپنا عملی کردار بھی ادا کررہے ہیں .

    علیم خان پاکستان سیاست کا جانا پہنچانا نام ہیں،خدمت خلق میں بھی وہ کسی سے کم نہیں،عبدالعلیم خان کبھی عمران خان کے دست راست ہوتے تھے، شوکت خانم کے سب سے بڑے ڈونر علیم خان تھے،سب سے زیادہ پیسے شوکت خانم ہسپتال کو علیم خان نے دیئے، نمل یونیورسٹی کو بھی علم خان نے فنڈ دیئے،2014 کے دھرنے میں بھی علیم خان نے خوب پیسہ لگایا.پی ٹی آئی چھوڑنے کے باوجود ابھی بھی علیم خان شوکت خانم ، نمل یونیورسٹی کو بھی عطیات دیتے ہیں۔جہانگیر ترین اور علیم خان دھرنے کے کرتا دھرتا تھے، علیم خان اور جہانگیر ترین نے پی ٹی آئی کوچھوڑا تو عمران خان 2014 کی طرز کا دھرنا نہیں کر سکے، جلسے ہو رہے تھے لیکن اس طرز کا دھرنا نہیں ہو سکا،عبدالعلیم خان نے پی ٹی آئی چھوڑی تو انہوں نے بڑی ٹرولنگ برداشت کی، علیم خان کینسر کے مریض ہیں،انہوں نے انتشاری ٹولے کے کینسر کو بھی سروائیو کر لیا،

    عبدالعلیم خان نے پی ٹی آئی کو خیر باد کہا، استحکام پاکستان پارٹی وجود میں آئی، انتخابات میں حصہ لیا، قومی و صوبائی اسمبلی کی سیٹ جیتے، صوبائی اسمبلی کی سیٹ چھوڑی اور مرکز میں وفاقی حکومت میں شامل ہوئے، علیم خان کو نجکاری کی وزارت ملی، وزارت ملنے کے بعد علیم خان نے پاکستانی معیشت کو ترقی کی پٹڑی پر چڑھانے کے لئے دن رات محنت کی،علیم خان نے بطور وزیر نجکاری پچھلے چند ماہ میں بڑی محنت کی ہے پاکستان کی ساکھ عالمی دنیا کے سامنے برقرار کی ہے، باہرکی دنیا میں انہوں نے تعلقات بنائے ہیں، سٹاک مارکیٹ بہتر کرنے میں علیم خان کا کردار ہے، ایس آئی ایف سی کے ساتھ مل کر علیم خان نے پاکستانی معیشت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا، سعودی انویسمنٹ اب سوا دو بلین ڈالر کی آئی ہے، آئی ایم ایف کی بھی اب علیم خان پر نظر ہے کیونکہ نجکاری کے تمام معاملات انہوں نے دیکھنے ہیں وہ کاروباری آدمی ہیں اور سب کر سکتے ہیں.جتنا علیم خان پڑھتے ہیں اور چیزوں کو سمجھتے ہیں، ان کی محنت کی وجہ سے پاکستان آگے بڑھ رہا ہے، اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے تا کہ پاکستان کے لئے مزید خدمات دے سکیں، سعودی انویسمنٹ شروعات اور بارش کا پہلا قطرہ ہے ،سعودی حکام نے علیم خان سے وعدہ کیا ہے کہ اگر کیپسٹی بڑھا لیں تو وہ 25 بلین تک کی سرمایہ کاری کے لئے تیار ہیں.

    سعودی وزیر سرمایہ کاری شیخ خالد بن عبدالعزیز الفالح کے سعودی وفد کے ہمراہ دورہ پاکستان کے موقع پر وفاقی وزیر سرمایہ کاری، نجکاری و مواصلات عبدالعلیم خان نے ملک میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع اور نئے رحجانات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے لئے متعدد پرکشش اور منافع بخش اہم منصوبے موجود ہیں،ہم سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں ہونے والی ہر طرح کی شراکت داری اور سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے۔اسلام آباد میں پاک سعودی منسٹریل راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے سعودی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ مواصلات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے تعمیر کی جانے والی ایم 6 اور ایم 9 موٹرویز کے منافع بخش منصوبوں میں سرمایہ کاری بہترین انتخاب کریں جس سے بندرگاہوں سے پورے ملک میں جانے والی ہر طرح کی ٹرانسپورٹ مستفید ہو گی۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور سعودی وفد نے جوائنٹ منسٹریل کانفرنس میں ”جی ٹو جی ” کی بنیاد پر منصوبوں میں باہمی اشتراک پر بھی غورو خوض کیا جبکہ سعودی بزنس کمیونٹی اور سرکاری حکام کی جانب سے سرمایہ کاری کے مختلف منصوبوں میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا گیا اورمکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ اس موقع پر سعودی وزیر سرمایہ کاری شیخ خالد بن عبدالعزیز الفالح نے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کی پیش کش میں خصوصی دلچسپی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی عوام کے لئے کچھ کرنا سعودی حکومت کی ہمیشہ اولین ترجیح رہی ہے اور ماضی کی طرح مستقبل میں بھی جوائنٹ وینچرز کیے جائیں گے۔

  • سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی میں بحران مزید بڑھنے لگے، گروپ بندی، سما کے نام پر اپنا بزنس چلایا جانے لگا،اکرم چوہدری نے سما ٹی وی کو "ڈبونے” میں کوئی کسر نہ چھوڑی، سی او کے اختیارات کا استعمال، میں اوپر والوں کا بندہ ہوں،مجھے کوئی نہیں ہٹا سکتا،اکرم چوہدری کے دعوے،سماٹی وی میں دھڑے بندی کا آغاز ہو گیا

    پاکستان کا معروف ٹی وی چینل سما ٹی وی گروپ بندی کا شکار ہو چکا ہے،اکرم چوہدری کی پالیسیوں کی وجہ سے سما ٹی وی میں دھڑے بندی شدت اختیار کر گئی ہے، سماٹی وی میں حالیہ بحران کی وجہ سے تمام میڈیا انڈسٹری کو بھی بڑی تشویش ہے کہ پاکستان کا پاکستان کا اچھا چینل جس کا نام، گڈ ول ہے لیکن گروپ بندی کا شکار ہو گیا ہے، جس کا نقصان نہ صرف سما ٹی وی کی ساکھ بلکہ اس کا اثر ملازمین پر بھی ہو گا،باخبر ذرائع کے مطابق سما ٹی وی میں تمام بحران، گروپ بندی کا ذمہ دار سما ٹی وی میں کام کرنے والے اکرم چوہدری کو قرار دے رہے ہیں، ،اکرم چوہدری علیم خان کا دوست ہے لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ وہ علیم خان کا دوست ہے لیکن اکرم چوہدری لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ علیم خان نے مجھے کیا رکھنا میں تو اوپر کی سفارش سے آیا ہوں،بڑوں نے رکھا ہوا ہے، بڑے کون ہیں یہ نہیں پتہ،مجھے کوئی نہیں ہٹا سکتا،اور اب اکرم چوہدری نے سما ٹی وی کے نام پر اپنے بزنس کو چلانا شروع کر دیا ہے

    اکرم چوہدری اپنے بزنس کو سما کے نام پر دھڑلے سے چلا رہے ہیں ، پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقہ فیز 6 ڈی ایچ اے میں اکرم چوہدری نے ایک کافی شاپ بنائی ہوئی ہے جس میں سما ٹی وی کے پوڈ کاسٹ کے لئے مہمانوں کو بلایا جاتا ہے تا ہم اب توسما ٹی وی کے پوڈ کاسٹ بھی کافی عرصہ سے نہیں چل رہے، سما ٹی وی کے پوڈ کاسٹ، وی لاگ،کے لیے لوگوں کو بک کیا جاتا ہے اور انہیں کہا جاتا ہے کہ کہ سما ٹی وی کے لئے پوڈکاسٹ ہے اور ریکارڈنگ کے لئے فلاں کافی شاپ پر آ جائیں کیونکہ ہمارا سٹوڈیو فری نہیں ہوا، سما کے لئےکی جانے والی ریکارڈنگ پھر اس کافی شاپ پر کی جاتی ہیں،سما ٹی وی کے پوڈ کاسٹ کے لئے مہمانوں کو اکرم چوہدری کی کافی شاپ پر لے جایا جاتا ہے تا کہ کافی شاپ چلنا شروع ہو جائے، اب مہمانوں نے بھی اس پر شکایات کرنی شروع کر دی ہیں کہ ہمیں سما ٹی وی کا کہہ کر کافی شاپ کیوں پربلایا جاتا ہے

    سما ٹی وی اس وقت دو لوگوں کا گروپ ہے، ایک ایچ آر کی ڈائریکٹر ہیں شائمہ، اور سی او جنید امین ہیں،جنید امین نام کے سی ای او ہیں، انکے تمام اختیارات اکرم چوہدری استعمال کرتے ہیں،شعیب صدیقی جو ایم پی اے کا الیکشن لڑے تھے وہ پارک ویو کے سی ای او تھے لیکن ان پر وہاں کافی الزامات لگے تھے،شعیب صدیقی کی جگہ اب پارک ویو کا جنید امین کے پاس چارج ہے اور وہی سما ٹی وی کے سی او بھی ہیں، جنید امین سما ٹی وی میں صرف آتے ہیں چائے پیتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اور انکے تمام اختیارات اکرم چوہدری استعمال کر رہے ہیں،

    سما ٹی وی کے حوالہ سے اچھی خبر نہیں ہے،سما ٹی وی میں غیر ملکی نمائندے رکھے جا رہے ہیں اور ان سے خاص، ذاتیات پر ڈیلیں ہو رہی ہیں، اکرم چوہدری ان ڈیلوں کے روح رواں ہیں، باغی ٹی وی جلد اس بارے بھی قارئین کو تمام تر تفصیلات سے آگاہ کرے گا.

    واضح رہے کہ باغی ٹی وی اس سے قبل بھی سما ٹی وی بارے سٹوری شائع کر چکا ہے کہ سما ٹی وی بحران کا شکار، نجم سیٹھی پروگرام کی ایڈیٹنگ سے پریشان،تو دیگر بھی نوکریاں چھوڑنے کا تیار، اکرم چودھری نے سب اچھا کی رپورٹ دے کر سما ٹی وی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، عبدالعلیم خان نے سما ٹی وی کی فروخت کے لئے غورو خوض شروع کر دیا

  • سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    سما ٹی وی بحران کا شکار، نجم سیٹھی پروگرام کی ایڈیٹنگ سے پریشان،تو دیگر بھی نوکریاں چھوڑنے کا تیار، اکرم چودھری نے سب اچھا کی رپورٹ دے کر سما ٹی وی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، عبدالعلیم خان نے سما ٹی وی کی فروخت کے لئے غورو خوض شروع کر دیا

    سما ٹی وی جس کے مالک وفاقی وزیر عبدالعلیم خان ہیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے،اکرم چودھری کی من مانیوں نے سما ٹی وی کی کٹیا ڈبو دی،سما ٹی وی کے اینکر نجم سیٹھی پروگرام کی ایڈیٹنگ صحیح نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہو چکے ہیں،طلعت حسین نے الیکشن کے دنوں میں سما ٹی وی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا لیکن نہیں چھوڑا، ابصار عالم سما ٹی وی میں آئے پروگرام کو کامیاب کرنے کی کوشش کی لیکن ابصار عالم کا پروگرام بھی "وڑ” گیا، سما ٹی وی کے مالک عبدالعلیم خان چینل کی موجودہ صورتحال سے انتہائی پریشان اور اذیت کا شکار ہیں،نجم سیٹھی جو پروگرام کر رہے تھے انکے پروگراموں کی ایڈیٹنگ تیس تیس ہزار روپے تنخواہ لینے والے کر رہے ہیں جس کی وجہ سے نجم سیٹھی پریشان ہیں کیونکہ انکی ایڈیٹنگ درست نہیں ہوتی،نجم سیٹھی کئی بار نشاندہی کر چکے ہیں لیکن ان کی بات نہیں مانی گئی اور وہی ایڈیٹر ہی کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے نجم سیٹھی ناخوش ہیں،

    اینکر طلعت حسین بھی سما ٹی وی میں ہیں اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ الیکشن کے بعد سما ٹی وی چھوڑ دیں گے لیکن انہوں نے نہیں چھوڑا ،ابھی تک سما ٹی وی میں ہی ہیں،تاہم انتظامیہ سے ناخوش ہیں،سما ٹی وی نے حال ہی میں اینکر طلعت حسین کا ایک پروگرام آن ایئر نہیں کیا تھا جس پر طلعت حسین نے معافی مانگ لی تھی،صحافی طلعت حسین نے 16 جولائی کی رات 10 بجکر 53 منٹ پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ایکس“ پر اپنی پوسٹ میں ریکارڈ پروگرام آن ایئر نہ ہونے پر مہمانوں سے معافی مانگی،اپنی پوسٹ میں طلعت حسین نے لکھا کہ ’کاشف عباسی، شہزاد اقبال، عامر الیاس رانا اور منیب فاروق سے معافی مانگتا ہوں جنہوں نے میرے پروگرام ’ ریڈ لائن ود طلعت ’ میں شرکت کی تھی، جو آج (منگل) ریکارڈ کیا گیا لیکن نشر نہیں ہوا،سینئر صحافی طلعت حسین نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’پروگرام کے آن ایئر نہ ہونے کی وجوہات میرے کنٹرول سے باہر ہیں.طلعت حسین کے بارے میں بھی اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ بھی کسی وقت سما ٹی وی چھوڑ سکتے ہیں،

    معروف صحافی وتجزیہ کار ابصار عالم نے سما ٹی وی جوائن کیا، ابصار عالم نے پروگرام تو شروع کر لیا لیکن ان کو بھی وہ پذیرائی نہ مل سکی جو ملنی چاہئے تھی، ابصار عالم کا بھی سما ٹی وی پر پروگرام مقبول نہ ہو سکا، چینل انتظامیہ کی کوشش تھی کہ ابصار عالم کا پروگرام کامیاب ہو تا ہم انہیں ناکامی ہوئی، اور ابصار عالم کا پروگرام بھی "وڑ” چکا ہے، جس کی وجہ سے علیم خان انتہائی پریشان ہیں، نجم سیٹھی کی پروگرام کی ایڈیٹنگ کی پریشانی ،طلعت حسین کا پروگرام آن ایئر ہونا،اور پھر ابصار عالم کے پروگرام کا کامیاب نہ ہونے کی وجہ سے علیم خان دلبرداشتہ ہیں، اکرم چودھری جو خود کو علیم خان کا ایڈوائزر کہتے ہیں، سما ٹی وی کے تمام معاملات وہی دیکھ رہے ہیں اور سما ٹی وی میں موجودہ بحران کے ذمہ دار بھی وہی ہیں، اکرم چودھری کی وجہ سے ہی سما ٹی وی جو پاکستان کا ایک بڑا چینل تھا کی پذیرائی میں کمی ہوئی ہے، سما ٹی وی پر اب کوئی بھی پروگرام لائیو نشر نہیں ہو رہا بلکہ تمام پروگرامز کی ریکارڈنگ پہلے ہوتی ہے اور پھر انکو چلایا جاتا ہے ۔انہی حالات کےپیش نظر سما ٹی وی کے مالک ،وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے سماٹی وی کے فروخت کے لئے مشاورت شروع کر دی ہے، عنقریب ایسی خبر سننے کو ملے گی کہ سما ٹی وی ایک بار پھر "فروخت” ہو گیا، اور اسکی تمام تر ذمہ داری اکرم چودھری پر ہی عائد ہو گی.