Baaghi TV

Tag: علی امین گنڈا پور

  • شراب برآمدگی کیس : علی امین گنڈاپور اشتہاری قرار،وارنٹ گرفتاری جاری

    شراب برآمدگی کیس : علی امین گنڈاپور اشتہاری قرار،وارنٹ گرفتاری جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو مسلسل عدم پیشی پر اشتہاری قرار دے دیا۔

    علی امین گنڈا پور کے خلاف شراب و اسلحہ برآمدگی کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ہوئی، جس کی کارروائی جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے کی،عدالت نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔

    سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور عدالتی کارروائی کے لیے مقررہ تاریخ پر پیش نہیں ہوئے،عدالت نے مسلسل غیر حاضری کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دینے کا زبانی حکم سنایا۔

    یاد رہے کہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں مقدمہ درج ہے۔

    صبا قمر کے خلاف متنازع بیانات پر صحافی نے معافی مانگ لی

    
نیو مری میں آتشزدگی، شعلے دو گھروں تک پہنچ گئے

    شہباز شریف وزیراعظم بنتے ہی وعدے بھول گئے، مرتضیٰ وہاب

  • شراب برآمدگی کیس: علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری

    شراب برآمدگی کیس: علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    سینیئر سول جج مبشر حسن چشتی نے وزیر اعلیٰ کے پی کیخلاف شراب و اسلحہ برآمدگی کیس کی سماعت کی،علی امین گنڈا پور عدالت میں پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیےکیس کی سماعت 27 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی،وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں مقدمہ درج ہے۔

    دوسری،جانب،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نےکہا ہے کہ صوبے کو امن و امان کے مسائل کا سامنا ہے، جب تک افغانستان میں حالات ٹھیک نہیں ہوں گے، خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

    رقوم کی ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس غیر شرعی قرار

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سے پاکستان میں تعینات برٹش ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،اس موقع پر علی امین گنڈا پور نےکہا کہ خطے میں قیامِ امن کے مستقل حل کے لیے مذاکرات اور جرگوں کا راستہ اپنانے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نےکہا کہ خیبر پختونخوا نےکئی عشروں تک افعان بہن بھائیوں کی مہمان نوازی کی، ہم افغان مہاجرین کی باعزت انداز میں واپسی چاہتے ہیں، صوبائی حکومت وطن واپس جانے والے افعان مہاجرین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہی ہے،صوبائی حکومت برطانوی حکومت کے ذیلی اداروں خصوصا سیڈ اور ایس این جی پروگرام کی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، ان پروگرامز نے صوبائی محکموں کی استعداد کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    جلدہی،ملک کے 7 بڑے شہروں میں 5G کی سہولت فراہم کی جائے گی،شزا فاطمہ

    صوبائی حکومت دونوں پروگرامز کے تسلسل کو جاری رکھنے کی خواہاں ہے، ہمیں کلائمیٹ چینج کے چیلنجز درپیش ہیں، ان اثرات سے نمٹنے کے لیے خطیر سرمایہ کاری کر رہے ہیں، حالیہ سیلابوں سے تباہ شدہ انفراسٹرکچرز کی بحالی کا عمل بھی جاری ہے،صوبائی حکومت معاشی ترقی، خصوصا ضم شدہ اضلاع میں روزگار کے مواقع کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

    ترقیاتی وسائل کے بہتر استعمال کے لیے منصوبوں کی مؤثر پلاننگ اور شفافیت کے لیے سرکاری امور کی ڈیجیٹائزیشن پر کام کر رہی ہے، صوبائی حکومت کو ان شعبوں میں بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔

    سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر برقرار

    صوبے میں برطانوی حکومت کے تعاون سے جاری عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ سماجی شعبوں میں صوبائی حکومت اور برطانوی اداروں کی شراکت داری اور تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

    دوران ملاقات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے سیڈ اور ایس این جی پروگرامز کے بعد صوبے میں ایک نیا پروگرام شروع کرنے کا بھی عندیہ دیا۔

  • شراب و اسلحہ برآمدگی کیس : علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    شراب و اسلحہ برآمدگی کیس : علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے شراب و اسلحہ برآمدگی کیس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کیخلاف شراب و اسلحہ برآمدگی کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے کی،عدالت نے وکلا کی ہڑتال کے باعث سماعت بغیر کسی کاروائی کے ملتوی کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے،کیس کی آئندہ سماعت 23 ستمبر کو ہوگی، علی امین گنڈا پور کیخلاف تھانہ بارہ کہو میں مقدمہ درج ہے۔

    واضح رہے کہ 10 ستمبر کو اسلام آباد کی سیشن عدالت نے شراب و اسلحہ برآمدگی کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے، عدالت نے وکیل کی وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی تھی،جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، علی امین گنڈاپور کی جانب سے عدالت میں کوئی بھی پیش نہیں ہوا تھاعدالت نے علی امین گنڈاپور کو گرفتار کر کے 17 ستمبر کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

    وزیر اعظم کا پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کا دورہ ،انگریزی چینل کا افتتاح

    ایران،رہائشی عمارت میں خوفناک دھماکہ،6 افراد کی موت

    جی ایچ کیو حملہ کیس:عمران خان ویڈیو لنک پر پیش ہونگے

  • علی امین گنڈا پور کی کالا باغ ڈیم بنانے کی بات سے متفق ہوں،عظمیٰ بخاری

    علی امین گنڈا پور کی کالا باغ ڈیم بنانے کی بات سے متفق ہوں،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پہلی بار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی کالا باغ ڈیم بنانے کی بات سے متفق ہوں-

    ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمی بخاری نے کہا کہ ملتان اور جنوبی پنجاب میں سیلاب کے خطرات لاحق ہیں، پنجاب حکومت ایک ایک متاثرہ کا گھر بسانے تک ریلیف کا کام جاری رکھے گی، اس وقت سیلاب کی بہت خطرناک صورتحال ہے، ملتان کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں اگر سندھ میں سیلاب آتا ہے تو ہمیں تکلیف ہوگی،پہلی بار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی کالا باغ ڈیم بنانے کی بات سے متفق ہوں، ہمیں بیٹھ کرفیصلہ کرنا ہوگا، اب تک سیلاب سے 41 افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔

    عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ ایک طرف عوام سیلاب کی تباہ کاریوں سے مشکلات کا شکار ہیں تو دوسری طرف ایک مخلوق میں نہ کوئی خدا کا خوف ہے نہ کوئی پاکستانیت ہے جو سیلاب پر پروپیگنڈا کرکے افراتفری پیدا کرتے ہیں، پیپلزپارٹی کو خط لکھ کر بہتر لگتا ہے لیکن ان کے مشورے کے بغیر بھی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اچھا کام کررہی ہے، کچے کے ڈاکوؤں سمیت ہر ایک کی زندگی اہم ہے وہ باہر آئیں گے تو سرینڈر کریں تو انہیں ساری سہولیات ملیں گی،بھارتی ہائی کمیشن کبھی کبھی پانی کی اطلاع دے دیتا ہے تینوں دریاؤں پر پانی آنے سے تیاری نہ کرتے تو ناقابل تلافی نقصان ہوجاتا۔

    بیلجیئم کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے اور اسرائیل پر سخت پابندیاں لگانے کا اعلان

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اپنے بیان میں ‏وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کالا باغ ڈیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبائیت کے چکر میں پورے پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، پاکستان کے فائدے کو پیچھے نہیں دھکیلا جاسکتا، سب کو مطمئن کرکے مستقبل کیلئے کالا باغ ڈیم جیسا منصوبہ بننا چاہیے،صوبوں کے تحفظات ختم کرکے قوم کے فائدے کے لیے کالا باغ ڈیم بنانا چاہیے۔

    بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا

  • وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا،علی امین گنڈاپور

    وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا،علی امین گنڈاپور

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ،عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے، میں مدد لینے والوں میں سے نہیں، مدد دینے والوں میں سےہوں، وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا۔

    سوات میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہاکہ شہدا کےلواحقین اورزخمیوں کومعاوضوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، معاوضوں کی ادائیگی کے لیے ڈیڑھ ارب روپے جاری کر دیے گئے ہیں، تمام محکموں نےسیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں بہترین کام کیا۔

    علی امین گنڈاپور نے کہاکہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ہرممکن مدد کریں گے، گھر بناکردیں گے، بستیاں قائم کریں گے، ہم کسی پر احسان نہیں کررہے،عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے، سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کریں گے، کسی پر احسان نہیں کررہے،عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے۔

    انہوں نے کہاکہ میرے پاس وسائل موجود ہیں، مدد کے لیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا، متاثرہ علاقوں میں انفرااسٹرکچرکو فوری بحال کیاجائے گا، انہوں نے کہاکہ میں مدد لینے والوں میں سے نہیں، دینے والوں میں سے ہوں، وسائل موجود ہیں، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا، بونیرمیں پانی کے راستےمیں قائم عمارتوں کی وجہ سےزیادہ نقصان ہوا۔

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے سیلاب سے متاثرہ ضلع بونیر کا دورہ کیا اور ڈی سی آفس میں سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال اور ریلیف و بحالی کی سرگرمیوں کے بارے میں اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں سیلاب سے شہید ہونے والے افراد کو ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی، اجلاس کو بونیر میں سیلاب کی تباہ کاریوں،ریسکیو اور ریلیف و بحالی کی سرگرمیوں بارے بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس کو بتایا کہ بونیر کی 7 ویلج کونسلوں میں کلاؤڈ برسٹ سے مجموعی طور پر 5 ہزار 380 مکانات کو نقصان پہنچا، اب تک 209 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، 134 افراد لاپتہ ہیں جبکہ 159 افراد زخمی ہوئے ہیں،ضلع بونیر سمیت 8 متاثرہ اضلاع میں ریلیف ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، بونیر میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، سیلاب میں پھنسے 3500 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع میں 10 ایکسکیویٹرز، 22 ٹریکٹرز، 10ڈی واٹرنگ پمپس، 5واٹرباؤزرز اور 10ڈوزر کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں انجام دی جارہی ہیں، ریلیف سرگرمیوں میں 223 ریسکیو اہلکار، 205 ڈاکٹرز، 260 پیرا میڈیکل اسٹاف اور 400 پولیس اہلکار حصہ لے رہے ہیں، سول ڈیفنس کے 300 رضاکار اور پاک فوج کی 3 بٹالین بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں، متاثرہ لوگوں کو خوراک،صحت سہولیات،ٹینٹس، کمبل میٹرس سمیت تمام ضروری اشیا فراہم کی جا رہی ہیں، پیر بابا6 کلومیٹر روڈ،گوکند کا 3.5 کلومیٹر روڈ کلیئر کرلیا گیا جبکہ 15 مقامات پرلینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ بھی کلیئرکر لیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ سیلابی صورتحال میں صوبائی حکومت کے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کا بروقت رسپانس قابل ستائش ہے، سول انتظامیہ اب ریلیف اور بحالی کے کاموں میں بھی اسی جذبے سے کام کرے، متاثرہ لوگوں کی بحالی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، سیلاب میں شہید ہونیوالوں کے لواحقین اور زخمیوں کو بلا تاخیر معاوضوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، صوبائی حکومت نے اس مقصد کیلیے ڈیڑھ ارب روپے جاری کر دیے ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں رابطہ کرنے اور تعاون کی یقین دہانی پر وزیر اعظم اور تمام وزرائے اعلی کا مشکور ہوں۔

  • افغانستان سے متعلق فیصلے ہماری مشاورت کے بغیر ممکن نہیں،علی امین گنڈا پور

    افغانستان سے متعلق فیصلے ہماری مشاورت کے بغیر ممکن نہیں،علی امین گنڈا پور

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان اور ترقی ہماری اولین ترجیح ہے، خیبرپختونخوا میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ہر حد تک جائیں گے-

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ وفاق خیبرپختونخوا پر اپنے نام نہاد فیصلے مسلط نہیں کرسکتا، صوبے میں کسی بھی قسم کا نیا آپریشن قابل قبول نہیں، وفاق کو دوٹوک پیغام ہے بارڈر سیکیورٹی وفاق کی ذمہ داری ہےخیبرپختونخوا میں امن و امان اور ترقی ہماری اولین ترجیح ہے، خیبرپختونخوا میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ہر حد تک جائیں گے، وفاق خیبرپختونخوا پر اپنے نام نہاد فیصلے مسلط نہیں کرسکتا۔

    راولپنڈی:غیرت کے نام پر قتل 17 سالہ لڑکی کی پورٹ عدالت میں پیش

    علی امین گنڈا پور نے کہا کہ افغانستان سے متعلق فیصلے ہماری مشاورت کے بغیر ممکن نہیں، خیبرپختونخوا میں امن وامان کی بحالی کے لیے اپنا جرگہ بنا رہے ہیں، وفاق خیبرپختونخوا کے وسائل پر قابض ہے، ضم اضلاع کو بھی فنڈز فراہم نہیں کیے جارہے، صوبے میں کسی بھی قسم کا نیا آپریشن قابل قبول نہیں، وفاق کو دوٹوک پیغام ہے بارڈر سیکیورٹی وفاق کی ذمہ داری ہے، اگر آپ لوگ ناکام ہورہے ہیں تو صوبائی پولیس سیکیورٹی سنبھال لے گی۔

    ہمایوں سعید شوٹنگ کے دوران شدید زخمی

  • ہم کسی بھی وفاقی فورس کو صوبے میں کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے،علی امین گنڈاپور

    ہم کسی بھی وفاقی فورس کو صوبے میں کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے،علی امین گنڈاپور

    پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو کسی بھی فیصلے پر اعتماد میں نہ لینا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

    آل پارٹیز کانفرنس کے بعد علی امین گنڈاپور نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اے پی سی کا جنہوں نے بائیکاٹ کیا، ان کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں، آج کی کانفرنس صرف امن و امان کے حوالے سے تھی، ماضی میں دہشتگردی کے خلاف آپریشن ہوا دہشت گردی سے ہمارے صوبے کا بے حد نقصان ہوا ہےقبائلی علاقوں کے مشیروں سے مشاورت کے بعد گرینڈ جرگہ بلا رہے ہیں آپریشن کی اجازت نہ ہی دی جائے گی او نہ ہی کوئی آپریشن قبول ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ گڈ طالبان کی اجازت نہیں دیں گے،ہمارے ادارے گڈ طالبان کو سپورٹ کررہے ہیں، یہاں گڈ طالبان کی کوئی گنجائش نہیں ہے پہلے ادارے ڈرون سے کارروائی کررہے تھے، اب دہشت گرد بھی ڈرون کے ذریعے حملے کررہے ہیں ہم صوبے میں ڈرون کے ذریعے کارروائی کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔

    ظاہر جعفر نفسیاتی طور پر صحت مند قرار

    انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں 300 پولیس اہلکار مقامی اقوام کے ذریعے تعینات کریں گے سرحدوں کی حفاظت وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے، وفا قی ادارے سرحدوں کی حفاظت کریں، ہم اپنی سرزمین کی حفاظت کر سکتے ہیں،صوبے اور قبائلی علاقوں سے جو وعدے کیے گئے تھے وہ پورے کیے جائییں اگست میں این ایف سی کا وعدہ کیا گیا، ہم اس کے لیے آئینی مطالبہ کررہے ہیں۔صوبے کے جو اثاثے ہیں وہ ہمارے ہیں، ہمارے اختیار میں ہیں ، مائنز اینڈ منرلز بل میں ایسی کوئی شق نہیں ہے کہ صوبے کا اختیار چھینا جارہا ہے۔

    ممبئی ٹرین دھماکہ کیس: مسلمان نوجوانوں کی رہائی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کو وفاقی فورس بنانے کے خلاف عدالت جارہے ہیں ہم کسی بھی وفاقی فورس کو صوبے میں کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے یہاں کوئی آپریشن نہیں ہونے دیا جائے گا آل پارٹیز کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں کو اگر فیصلوں کا علم تھا تو وہ بھاگ گئے ہیں ہم اپنے فیصلے خود کریں گے جوصوبے کے عوام کے لیے ہوں گے یہ چاہتے ہیں دہشت گرد کارروائی کریں، ڈرون حملے ہوں اور آپریشن ہو،محسن نقوی ان کی آنکھوں کا تارا ہے، یہ کرکٹ کے فیصلے کرسکتا ہے، فلائی اوور بنا سکتا ہے لیکن ہمارے صوبے کے فیصلے نہیں کر سکتا۔

    اسحاق ڈار کل امریکی ہم منصب سے ملاقات کریں گے، دفتر خارجہ

  • 5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی نے تحریک چلائی ہے تو وہ بانی پی ٹی آئی نے چلائی ہے، تحریک شروع ہو چکی ، حکومت میں رہیں یا نہ رہیں ، 90 دن میں آر یا پار کریں گے۔

    لاہور میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ عام انتخابات سے پہلے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان چھینا گیا، بانی پی ٹی آئی کیخلاف بوگس اورسیاسی کیسز ہیں ، ہمارے خلاف کیسز میں انہیں کچھ نہیں ملا،ہمارے خلاف ابھی بھی کارروائیاں جاری ہیں، پی ٹی آئی کو احتجاج کرنے کے آئینی حق سے روکا جا رہا ہے، پاکستان کے ہر شہر اور محلے سے لوگوں کو اکٹھا کریں گے، تحریک کو آگے کیسے لے کرجائیں گے اس حوالے سے لائحہ عمل دیں گے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان کے لیے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، مذاکرات فیصلہ سازوں سے ہوں گے ، ملک میں آئین اور قانون کی عملداری ہونی چاہیے ،ہم نے کوئی غلطی کی ہے تو سزا کے لیے تیار ہیں، اگر سازش ثابت ہو جائے تو مجھے چوک میں لٹکا دیں، اگر سزا پر بات آئے تو پھر سب کو سزا ہو گی،تحریک کا اعلان بانی نے کیا وہی لیڈ کریںگے ، ہماری گزارش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، عوام دیگر سیاسی جماعتوں کو مسترد کر چکے ہیں۔

    90 روزہ تحریک لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    انہوں نے کہ میں نے اپنی غیرموجودگی میں مولانا فضل الرحمان کو ہرایا ،میرے بھائی نے بھی مولانا فضل الرحمان کو شکست دی، مولانا فضل الرحمان اپنے حلقے میں الیکشن نہیں لڑ سکتےمجھے کہا گیا فضل الرحمان کے بارے میں بات نہ کریں، مولانا فضل الرحمان اور پورے صوبے میں ان لوگ فارم 47 پر آئے، مولانا اندر سے اب بھی ملے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ سیاسی تحریک کے 90 دن کا آغاز گزشتہ رات سے ہو چکا ہے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ یہ تحریک ”آر یا پار“ ہوگی اور اس کی قیادت خود بانی پی ٹی آئی کریں گے، بانی پی ٹی آئی کے دور میں دہشت گردی پر قابو پایا گیا، امن قائم ہوا اور ملک کی معیشت نے بہتری کی راہ پکڑی۔ موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ سیاسی کارکنوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، لیکن وقت آنے پر ہمارے سیاسی مخالفین خود ہی میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔

    علی امین گنڈاپور خود تین میں ہیں نہ تیرہ میں،ووٹ سے نہیں بلکہ نوٹ سے جتوایا گیا، حافظ حمد اللہ

    علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ 5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا، حکومت نے ہمارے خلاف درجنوں مقدمات بنائے لیکن انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا ’ہم نے ہمیشہ آئینی راستہ اپنایا، سڑکوں پر احتجاج کرنا میرا قانونی اور جمہوری حق ہے جسے کوئی طاقت مجھ سے نہیں چھین سکتی، موجودہ سیاسی و معاشی بحران کا حل صرف اور صرف شفاف انتخابات اور آئینی بالادستی میں ہے، اور اس کیلئے پی ٹی آئی کی تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے،اس بار صرف تحریک نہیں بلکہ ایک نظریاتی بیداری کی لہر ہے جو پاکستان بھر میں پھیل چکی ہے۔ ’آنے والے 90 دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا کہ عوام کا حق غالب آئے گا یا جبر کا نظام باقی رہے گا۔‘

    تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کھولے جارہے ہیں، دریائے سندھ میں سیلاب کا خدشہ، ایڈوائزری جاری

  • 90 روزہ تحریک  لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    90 روزہ تحریک لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مطالعاتی دورے پر لاہور آئے ہیں ، 90 روزہ تحریک حکومت بچانے کا بہانہ ہے،علی امین گنڈا پور صرف بڑھکیں مارتے ہیں، سیاسی لوگ ہی سیاسی لوگوں سے مذاکرات کرتے ہیں-

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ علی امین گنڈاپور بطور وزیر اعلیٰ آئیں تو ان کی مہمان نوازی کریں گے، اگر اسلحے کیساتھ آئیں گے تواس کی اجازت نہیں ہو گی کسی کو پنجاب میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی، پنجاب کی ترقی کو آگ نہ لگائیں تو ہمیں وزیراعلیٰ کے لاہور آنے پر کوئی اعتراض نہیں،علی امین گنڈا پور صرف بڑھکیں مارتے ہیں، سیاسی لوگ ہی سیاسی لوگوں سے مذاکرات کرتے ہیں ، جن پر تنقید کرتے ہیں انہی لوگوں کو ہی مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں ،ایک اور 90 دن کا پلان آیا ہے، لگتا ہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور میں پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اب تحریک باقاعدہ طور پر شروع کی جا رہی ہے پاکستان میں صرف بانی پی ٹی آئی ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے حقیقی معنوں میں تحریک چلائی اور ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی کی بات کی۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف قائم مقدمات بے بنیاد ہیں، ان میں کچھ بھی نہیں، اور دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں کسی پارٹی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جیسا پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ فسطائیت کے باوجود پی ٹی آئی کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ ’ہم ہر گلی، کوچے، اور قصبے سے عوام کو جمع کریں گے، ہم سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ملک کو کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں ملک کو قانون کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں،سیاسی تحریک کے 90 دن کا آغاز گزشتہ رات سے ہو چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ یہ تحریک ”آر یا پار“ ہوگی اور اس کی قیادت خود بانی پی ٹی آئی کریں گے، اس بار صرف تحریک نہیں بلکہ ایک نظریا تی بیداری کی لہر ہے جو پاکستان بھر میں پھیل چکی ہے،آنے والے 90 دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا کہ عوام کا حق غالب آئے گا یا جبر کا نظام باقی رہے گا۔‘

  • توہین عدالت کیس :  اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل حکام سے جواب طلب کر لیا

    توہین عدالت کیس : اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل حکام سے جواب طلب کر لیا

    اسلام آباد:عدالتی حکم کے باوجود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین کی عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کیس میں جیل حکام سے جواب طلب کر لیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے علی امین گنڈا پور کی درخواست پر سماعت کی، وکیل درخواست گزار راجہ ظہور الحسن ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ابھی ہم صرف جیل حکام سے جواب مانگ لیتے ہیں۔

    علی امین گنڈاپور کے وکیل راجا ظہور الحسن نے موقف اپنایا کہ اس عدالت کے حکم کے باوجود ہماری ملاقات نہیں کروائی گئی، اس عدالت کے ستمبر اور اکتوبر 2024 کے آرڈر کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ کیا آرڈر تھا ہمارا جس کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟ وکیل راجا ظہور الحسن نے کہا کہ عدالت نے کوآرڈینیٹر کے ذریعے ملاقات کا کہا تھا،جج نے ریمارکس دیئے کہ آپ ستمبر اور اکتوبر 2024 کی بات کر رہے ہیں اب 2025 ہے، آپ چاہتے ہیں ہم کوآرڈینیٹر کے خلاف کارروائی کریں اسے پکڑیں۔

    جسٹس ارباب نےبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہم ریکارڈ منگوا لیں گے اگر کچھ غلط بیانی ثابت ہوئی تو آپ کو جرمانہ عائد کریں گے، ہم نے کوآرڈینیٹر کے ذریعے ملاقات کا کہا تھا کیا ملاقات نہیں ہوئی اسکے بعد؟وکیل راجا ظہور الحسن نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ہم اڈیالہ جیل گئے لیکن ملاقات نہیں ہوئی۔

    عدالت نے جیل حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی، کیس کی آئندہ سماعت کی تاریخ بعد میں جاری ہوگی۔