Baaghi TV

Tag: علی امین گنڈا پور

  • علی امین گنڈاپور کا قیام امن پر سکیورٹی اداروں کو سلام

    علی امین گنڈاپور کا قیام امن پر سکیورٹی اداروں کو سلام

    وزیر اعلیٰ خیبر پی کے علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ملک کے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، انہیں قیام امن میں کردار ادا کرنے پر سلام پیش کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہار نہیں ماننی بلکہ مقابلہ کرنا سیکھنا ہو گا اور ہار کی وجہ سے مایوسی ایمان کی کمزوری ہے۔ اوورسیز پاکستانی نوجوانوں کو تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ افغان بارڈر پر وہ اقدامات نہیں کیے گئے جوکرنا چاہیے تھے اور غلط پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا کے حالات خراب ہیں، افغانستان کے ساتھ پاکستان کا طویل بارڈر ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام نے بھی قربانیاں دیں، سیکیورٹی فورسز کو قیام امن میں کردار ادا کرنے پر سلام پیش کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت نجی سیکٹر کے تعاون کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی اور تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، ڈگری انسان کو نہیں بناتی بلکہ محنت بناتی ہے.

    جنوبی کوریا میں صدر نے مارشل لاء نافذ کردیا

    پنجاب میں سرکاری ملازمین کیلئے پنشن میں اضافہ ختم

    حکومت کر لی، اب آرام سے جیل کاٹو، مریم نواز کا عمران خان کو مشورہ

    پاکستان کا سکیورٹی کونسل میں مسلم ممالک کی مستقل نشست کا مطالبہ

  • گنڈا پور کا امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کا دعوی

    گنڈا پور کا امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کا دعوی

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ ہماری حکومت میں امن و امان کی صورتحال بہترہوئی.سی ٹی ڈی نے ہزاروں دہشتگرد کارروائیاں ناکام بنائیں، پراسیکیوشن بہترکام کررہی ہےانھیں سلام پیش کرتا ہوں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور میں کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ اپیکس کمیٹی مین وزیراعظم نے کہا تھا سی ٹی ڈی فعال نہیں ہے، وزیراعظم کو غلط معلومات ملی ہیں،سی ٹی ڈی مستحکم ادارہ ہے۔ صوبے میں سی ٹی ڈی کے 16 اسٹیشنز فعال ہیں، سی ٹی ڈی نے ہزاروں دہشت گرد کارروائیاں ناکام بنائیں۔ ہم نے ابھی پراسکیوشن پر کام شروع کردیا ہے، پرسکیوشن بہتر کام کر رہی ہے ان کو سلام پیش کرتا ہوں، آئندہ ہفتے پراسکیوشن میں اور لوگوں کو بھی لارہے ہیں۔ سی ٹی ڈی میں زیرحراست ملزمان کے لیے خصوصی سیل تیار کیے ہیں، زیرحراست ملزمان کی اصلاح بہت ضروری ہے۔علی امین گنڈا پور نے کہاکہ سی ٹی ڈی کو کل مزید ایک ارب روپے جاری کیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ اب ہمیں فرانزک کے لیے پنجاب سمیت کہیں جانے کی ضرورت نہیں، 20 بم پروف گاڑیوں کی خریداری کررہے ہیں۔سی ٹی ڈی اہلکاروں کی کٹس کا مسئلہ ہے، 300 کٹس کے لیے کل فنڈز مہیا کریں گے، 16 اسنائپرز کے لیے بھی فنڈز دے رہے ہیں،ہمارے پاس بہت لمبی سرحد ہے،ملک کے قربانیاں دیتے رہے گے۔ پولیس کوٹہ 5 فیصد سے بڑھا کر 12 سے زیادہ کردیا،شہدا کے لواحقین کو پلاٹس دے رہے ہیں۔

  • جو بھی ہتھیار اٹھائے گا وہ دہشت گرد کہلائے گا،علی امین گنڈاپور

    جو بھی ہتھیار اٹھائے گا وہ دہشت گرد کہلائے گا،علی امین گنڈاپور

    کوہاٹ: وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ جو بھی ہتھیار اٹھائے گا وہ دہشت گرد کہلائے گا، دہشت گردوں کا انجام جہنم ہے-

    باغی ٹی وی: دورہ کوہاٹ میں کُرم کے معاملے پر قائم گرینڈ جرگے میں شرکت کے خطاب میں انہوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدا یت دی کہ جو بھی امن کو خراب کرے گا اس کے ساتھ دہشت گردوں والا سلوک کیا جائے صوبائی حکومت کی درخواست پر فوج علا قے میں امن کے لیے تعینات ہے، فوج، پولیس اور انتظامیہ مل کر علاقے میں پائیدار امن کے لئے مربوط کوششیں کر رہے ہیں، علاقے میں قائم تمام کے تمام مورچے بلا تفریق ختم کیے جائیں۔

    وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ، علاقے میں امن کے لئے وفاقی حکومت ایف سی کے پلاٹونز فراہم کرے، گرینڈ جرگہ مکمل امن کے قیام تک علاقے میں رہے، صوبائی حکومت ہر ممکن سپورٹ فراہم کرے گی، جو لوگ علاقے میں امن خراب کر رہے ہیں مقامی کمیونٹی اس کی نشاندہی کرےفریقین کے درمیان نفرت کی فضا کو ختم کرنے کے لئے مقامی عمائدین اپنا کردار ادا کریں انہوں نے ہدایت دی کہ علاقے میں لوگوں کے پاس موجود بھاری اسلحہ جمع کیا جائے جبکہ سرحدی علاقے کے لوگوں کے پاس موجود اسلحہ بھی امانتاً جمع کیا جائے۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جو بھی ہتھیار اٹھائے گا وہ دہشت گرد کہلائے گا، دہشت گردوں کا انجام جہنم ہے، علاقے کے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے لئے فنڈز ترجیحی بنیادوں پر جاری کئے جائیں، صوبائی حکومت ان بے گھر افراد کی باعزت واپسی یقینی بنائے گی۔

  • وفاق میں ہمت ہےتو  گورنر راج لگا کر دکھائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    وفاق میں ہمت ہےتو گورنر راج لگا کر دکھائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ وہ وفاق کی جانب سے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے سے ڈرتے نہیں ہیں، وفاق میں ہمت ہے تو لگا کر دکھائے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرسی نہیں عزت اور خودداری چاہیے، اپنے حق کےلئے پرامن طریقے سے جدوجہد کرتے رہیں گے۔ ہمت ہے تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگا کر دکھائیں، ہم گورنر راج سے نہیں ڈرتے۔واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ کچھ دیر قبل وزیراعظم کے مشیر برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا تھا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ گورنر راج لگانا مناسب اقدام ہوگا اور کچھ عرصے کے لیے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر کلیئر ہیں، وفاقی کابینہ کے اراکین کی اکثریت گورنر راج کی حامی ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ کچھ عرصے کے لیے گورنر راج لگانے پر غور کر رہے ہیں، پہلی کوشش ہے کہ صوبائی اسمبلی میں قرارداد لائی جائے۔ہ اسمبلی میں قرارداد نہیں آتی تو دوسرا راستہ بھی ہے، وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر گورنر راج لگاسکتے ہیں اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لایا جاسکتا ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے قانون نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 10 روز میں بلایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاملات حد سے بڑھ گئے تو گورنر راج لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔جو چیز آئین میں موجود ہو (گورنر رول) اس کا آپشن ضرور موجود ہوتا ہے، گورنر رول ماضی میں لگائے گئے ہیں، جب مرض لاعلاج ہوجاتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔یاد رہے کہ 24 نومبر کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا مرکزی قافلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں اسلام آباد جانے کے لیے نکلا تھا۔تاہم، 26 نومبر کو رات گئے رینجرز اور پولیس نے اسلام آباد کے ڈی چوک سے جناح ایونیو تک کے علاقے کو پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے کارکنوں سے مکمل طور پر خالی کرالیا تھا اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے اسلام آباد پر لشکر کشی کی گئی، اس کا مقصد ملکی استحکام کو تباہ کرنا تھا۔شہباز شریف نے مزید کہا تھا کہ اسلام آباد پر لشکر کشی کرنے والے شرپسند ٹولے کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے، استغاثہ کے نظام میں مزید بہتری لاکر شرپسند عناصر کی فوری شناخت کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔آج وزیر اعظم شہباز شریف نے مستقبل میں شرپسندوں کی اسلام آباد میں آمد کو روکنے، گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت میں انتشار و فساد پھیلانے والوں کی نشاندہی، ان کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔

    پی ٹی آئی شرپسندوں کا پولیس سے زبردستی نعرے لگوانے کا قابل مذمت واقعہ

    انڈونیشیا اور ملائیشیا میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، 30 افراد جاں بحق

    پی ٹی آئی پر پابندی ،قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

    الیکشن ایکٹ ،لاپتہ افراد ،آئی پی پیز ،قرضے معافی ،درخواستیں سماعت کیلیے مقرر

    پیپلزپارٹی گورنر راج ،پارٹی پر پابندی کے حق میں نہیں، وزیراعلیٰ سندھ

  • ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا بھاگے کیوں ؟کارکن کے سوال پر علی امین پھر بھاگ نکلے

    ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا بھاگے کیوں ؟کارکن کے سوال پر علی امین پھر بھاگ نکلے

    کے پی کے کے ضلع مانسہرہ میں پی ٹی آئی کارکنان نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے سامنے آنے پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ شب سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد مظاہرین سے خالی کرالیا، آپریشن شروع ہوتے ہی وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی موقع سے فرار ہوگئیں اور کارکن بھی بھاگ نکلے تھے۔علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی اسلام آباد سے فرار کے بعد مانسہرہ پہنچے تھے۔مانسہرہ میں پریس کانفرنس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور سے سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ایک کارکن کی جانب سے سوال کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے نئی حکمت عملی کیا ہے؟ اس پر علی امین کا کہنا تھاکہ نئی حکمت عملی بانی پی ٹی آئی خود دیں گے۔ایک اور کارکن نے پوچھاکہ آپ کیسے یہاں پہنچے ؟ جبکہ ایک کارکن نے شعر پڑھ کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے سوال کیا۔ کارکن نے شہاب جعفری کا ’تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا‘ شعرپڑھا تاہم وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کارکنوں کے جواب دیے بغیر وہاں سے روانہ ہوگئے۔

    ہم مستقبل کیلیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، مراد علی شاہ

    کرم:سیز فائر میں توسیع، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعیناتی کا فیصلہ

    بانی کی ہدایت نہ ماننے پر پی ٹی آئی کمیٹی کا اظہار تشویش

    بیلاروس کے صدر کا قربانیوں پرپاک فوج کو خراج تحسین

  • سپریم کورٹ بار کا  نقوی اور گنڈاپورسے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    سپریم کورٹ بار کا نقوی اور گنڈاپورسے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں رؤف عطا نے گزشتہ روز اسلام آباد کے ڈی چوک میں پاکستان تحریک انصاف کے مظاہرین کے خلاف گرینڈ آپریشن پر اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق، سویلین بالادستی کی آواز اٹھائی، سپریم کورٹ بار سفاکانہ اور قابل مذمت اقدام کی طرف آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔صدر سپریم کورٹ بار میاں روف عطا نے کہا کہ نہتے مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلانے پر انتہائی تشویش ہے، اس طرح کی وحشیانہ طاقت کا استعمال وفاقی وزیر داخلہ کے حکم پر کیا گیا، محسن نقوی سے فی الفور مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ آمرانہ ذہنیت کے ساتھ ساری صورتحال کو غلط طریقے سے ہینڈل کر رہے تھے، اس بربریت کے نتیجے میں مارے جانے والے ہمارے پاکستانی شہری تھے۔ وفاقی وزیر داخلہ عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں، بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے جانی نقصان سے بچایا جاسکتا تھا، وفاقی حکومت سے وزیر داخلہ کا قلمدان کسی عوامی نمائندے کو سونپنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ بار وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی ہے، مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم سے انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے۔صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے بارہا وفاق پر حملہ کرنے کی کوشش کی، وہ غیر آئینی خواہشات کی تکمیل کے لیے حکومتی وسائل کو بے رحمی سے ضائع کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا اپنا صوبہ بدامنی کا شکار ہے جب کہ گزشتہ روز دونوں طرف بے شمار جانیں ضائع ہوئیں، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں، عام شہریوں کا نقصان ہوا، بغیر کسی تاخیر کے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمارے دل ان لوگوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔

    بلوچستان اسمبلی ، پی ٹی آئی پر پابندی کی قرار داد کل پیش کی جائے گی

    سبرامنیم سوامی کا اڈانی اسکینڈل پر مودی سے استعفے کا مطالبہ

    بیلاروس کے صدر پاکستان کا دورہ مکمل کر کے وطن روانہ

    عمران خان جیل میں ،ولیم ہیگ آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر منتخب

  • عمران خان کی کال پر دھرنا جاری رہے گا،علی امین گنڈا پور

    عمران خان کی کال پر دھرنا جاری رہے گا،علی امین گنڈا پور

    مانسہرہ: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ عمران خان کی کال پر دھرنا جاری رہے گا۔

    باغی ٹی وی : مانسہرہ میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمارے لیڈر کو جیل میں ڈالا گیا، ہم نے ہمیشہ حقیقی آزادی کی بات کی ہے، ڈھائی سال سے ہماری جماعت پر ظلم کیا جارہا ہے، تشدد نہ ہوتا تو ہمارے لوگ جواب نہ دیتےہم نے اسلام آباد میں احتجاج کے لیے پرامن کال دی، ہم اپنے جائز حقوق کی بات کررہے ہیں، ہماری پارٹی کے ساتھ جبر کیا گیا ہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی نے ڈی چوک جانے کی اجازت دی۔

    علی امین نے کہا کہ یہ جنگ ہماری نسلوں کی جنگ ہے، پورے ملک کو بتانا چاہتا ہوں ہمارا دھرنا جاری ہےمیں اپنے ورکرز کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، جو کارکن گرفتار ہیں انہیں رہا کروائیں گے جیسے پہلے کرایا تھا، عمران خان نے کہا ہےکہ جب وہ کہیں گے تب دھرنا ختم ہوگا، تو یہ بات یاد رکھیں یہ دھرنا ابھی جاری ہے، یہ دھرنا عمران خان کے اختیار میں ہے ہمارا دھرنا ایک تحریک ہے جو جاری ہے-

    انہوں نے کہا ہےکہ عمران خان کی کال تک دھرنا جاری رہےگا، ہمیں عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا، اور نہ ہی اسمبلی کا فلور یا پارلیمان کا تقدس ہے نہ اس کا اس ملک میں کوئی احترام رہ گیا ہےہمارا لیڈر جیل میں ہے، اس کی اہلیہ کو بھی جیل میں ڈالا گیا، مجھ پر 9 مئی کے درجنوں مقدمات درج ہیں، کوئی ایک ویڈیو دکھا دیں جہاں میں ہوں، جس ملک کے وزیراعلیٰ کو انصاف نہ مل سکے تو عام آدمی کو کیا انصاف ملے گا، یہ صوبہ اپنا حق اور اپنا مینڈیٹ لینا جانتا ہے۔

    وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ ہماری پارٹی پاکستان تحریک انصاف اور ہمارے لیڈر عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم ایک پرامن پارٹی ہیں اور ہم پاکستان کی واحد پارٹی ہیں کہ جنہوں نے ہمیشہ ہماری نوجوان نسل اور ہماری آنے والی نسل کے لیے ملک میں قانون کی بالادستی، اپنے آئین کا تحفظ، اپنی حقیقی آزادی، اپنی خودداری اور حقیقی جمہوریت کی بات ہے۔

    وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ اب ہمارے پاس کیا چوائس ہے؟ ظاہر ہے ہمارے پاس یہی چوائس ہے کہ جلسے کی اجازت نہ ملے تو ہم جاکر مظاہرہ کرکے اپنا ایک بیانیہ دیں؟بات یہ ہے کہ ہم لوگوں نے اس سے پہلے جب جلسے کا اعلان کیا ہم نے ایک پُرامن کال دی، بارہا میں نے اور عمران خان نے کہا کہ ہم ڈی چوک جائیں گے، پرامن طریقے سے جائیں گے اور پرامن طریقے سے ڈی چوک سے آگے نہیں جائیں گے۔

  • ڈی چوک سے فرار علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے

    ڈی چوک سے فرار علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے

    مانسہرہ: ڈی چوک میں احتجاج سے فرار ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور اور بشریٰ بی بی نے مانسہرہ پہنچ کر پناہ لے لی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کے ساتھ عمر ایوب خان بھی موجود ہیں، علی امین خان گنڈا پور ،بشریٰ بی بی اور عمر ایوب خان مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے،پریس کانفرنس سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کی رہائش گاہ پر انصاف سکرٹریٹ میں 11 بجے ہوگی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے احتجاج کے باعث مظاہرین کے خلاف اسلام آباد کے بلیو ایریا میں گرینڈ آپریشن کیا گیا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی موقع سے فرار ہوگئے، اطلاعات کے مطابق دونوں ڈی چوک ایریا سے اکھٹے فرار ہُوئے۔

    ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی اورعلی امین گنڈا پور کیسے اور کدھر فرار ہُوئے، حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا،بلیو ایریا میں گرینڈ آپریشن میں رینجرز، اے ٹی ایس کمانڈوز اور پنجاب پولیس شامل تھی، گرینڈ آپریشن میں ڈیڑھ ہزار کے قریب پنجاب اور اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے حصہ لیا، خیبر چوک اور کلثوم پلازہ کے درمیان آپریشن کے دوران پولیس نے تمام ہٹائے گئے کنٹینرز کو واپس نصب کر دیا، تحریک انصاف کے مرکزی کنٹینر کو آگ لگ گئی، تحریک انصاف کے 450 سے زائد کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

  • کہیں جانے نہیں دیں گے، کارکنوں نے گنڈاپور کو گھیر لیا

    کہیں جانے نہیں دیں گے، کارکنوں نے گنڈاپور کو گھیر لیا

    وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کو کارکنوں نے گھیرلیا اور کہا کہ آپ کہیں نہیں جائیں گے، علی امین گنڈاپور نے جواب دیا کہ میں کہیں نہیں جارہا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان کا قافلہ اسلام میں احتجاج کے لیے پیش قدمی کرتے ہوئے بشری بی بی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں غازی بروتھا نہر کے قریب رکا ہوا ہے۔ غازی بروتھا پہنچ کر علی امین گنڈاپور نے کارکنوں کو رکنے کی ہدایت کی اور کہا کہ تھوڑی دیر وقفے کے بعد روانہ ہوں گے۔ بعدازاں کارکنوں نے علی امین گنڈاپور کو گھیر لیا اور کہا کہ آپ کہیں نہیں جائیں گے جس پر گنڈاپور نے جواب دیا کہ میں کہی نہیں جارہا آپ کے ساتھ ہوں، ریسٹ ایریا میں نماز پڑھتے ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما و ترجمان اختیارولی خان نے دعوی کیا ہے کہ گنڈاپور اور بشری بی بی دونوں ریلی سے رفوچکر ہو چکے ہیں۔ علی امین گنڈاپور پانچ گھنٹے میں صوابی سے برہان نہیں پہنچ پائے ۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ریلی میں سرکاری ملازمین سمیت پندرہ سو سے دو ہزار افراد شامل تھے۔ کارکن قیادت کی سست رفتاری پر نالاں ہوکر واپس مڑ رہے ہیں۔ سخت موسم میں کارکنان مایوس ہوکر قیادت کو کوسنا شروع ہو گئے ہیں۔ فائنل کال پی ٹی آئی کے خاتمے کی فائنل کال ثابت ہو رہی ہے۔

    بھارت:مسجد گرا کر مندر کی کوشش،ہنگامے

    مری میں بھی کل تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ

    شہریوں کی سہولت کیلیے نادرا کی خودکار مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ

    دنیا کے کئی ممالک میں پی ٹی آئی کا احتجاج

  • کرم کی صورتحال کی خود نگرانی کر رہا ہوں، علی امین گنڈاپور

    کرم کی صورتحال کی خود نگرانی کر رہا ہوں، علی امین گنڈاپور

    پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کرم کی صورتحال کی خود نگرانی کر رہا ہوں۔

    باغی ٹی وی: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواعلی امین گنڈاپور کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ضلع کرم کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا، ضلع کرم کا دورہ کرنے والے حکومتی وفد نے وزیر اعلیٰ کو ابتدائی رپورٹ پیش کی۔

    حکومتی وفد نے علی امین گنڈاپور کو پاراچنار میں اہل تشیع کے عمائدین سے ملاقات کے بارے میں آگاہ کیا، وزیر اعلیٰ نے تنازعے کے حل کے لئے تجاویز لیں حکومتی وفد نے تجاویز اور مطالبات سے آگاہ کیا،حکومتی وفد کل صدہ میں اہل سنت عمائدین سے بھی ملاقات کرکے ان سے بھی تجاویز لے گا۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ کرم واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، کوشش ہے کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں،فریقین کے جو بھی جائز مطالبات ہوں گے ، وہ پورے کئے جائیں گے، صوبائی حکومت علاقہ عمائدین کی مشاورت اور تجاوز کی روشنی میں آگے کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومتی وفد فریقین اور علاقہ عمائدین کے ساتھ بیٹھ کر حتمی تجاویز پیش کرے، تنازع کے حل کی طرف جانے کے لئےعلاقے میں سیز فائر ناگزیر ہے فریقین سے اپیل ہے کہ سیز فائرکریں تاکہ تنازعے کے حل کی طرف پیشرفت ہوسکے، علاقہ عمائدین اور مشران حکومتی وفد اور مقامی انتظامیہ سے بھر پور تعاون کریں علاقے میں امن کا قیام صوبائی حکومت کی سب سے پہلی ترجیح ہے، جس کے لئے تمام دستیاب آپشنز بروئے کار لائے جائیں گےمذاکرات تمام مسائل کے بہترین حل ہیں، پشتون روایات کے مطابق جرگے کے ذریعے اس مسئلے کا پر امن حل نکالیں گے۔