مشہور پاکستانی کوہ پیماؤں محمد علی صدپارہ اور جان سنوری کی 2021 کی سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران پیش آنے والے المناک حادثہ پر The Last First: Winter K2 نامی ڈاکومنٹری نے 2026 کے سانڈنس فلم فیسٹیول میں بین الاقوامی پذیرائی حاصل کی ہے،یہ فلم ایوارڈ یافتہ ہدایتکار عامر بار لیو کی ہدایت کاری میں بنائی گئی ہے-
پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کے کے ٹو (K2) پر لاپتہ ہونے کے واقعے پر کینیڈین فلم میکر ایلیا سیکلی نے ایک دستاویزی فلم (ڈاکومنٹری) بنائی ہے، جو ان کی لاشوں کی تلاش، آخری لمحات اور ساجد سدپارہ کی جانب سے ان کی لاشوں کو کیمپ فور پر لانے کے مشن پر مبنی ہے۔، فلم میں کوہ پیمائی کی دنیا کے ‘آخری عظیم انعام’ کے حصول کی کوشش کا دل دہلا دینے والا قصہ بیان کیا گیا ہے۔
فروری 2021 میں موسم سرما کے دوران کے ٹو سر کرنے کی کوشش میں یہ کوہ پیما لاپتہ ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کی تلاش کے لیے طویل آپریشن کیا گیا ایلیا سیکلی نے اس مشن کے دوران جان سنوری کا کیمرہ، گارمین ڈیوائس اور فون تلاش کیے، جن سے ان کے آخری لمحات کی تفصیلات ملیں۔
ساجد سدپارہ کی جدوجہد: ڈاکومنٹری میں علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کی جانب سے اپنے والد اور ساتھیوں کی لاشوں کو ‘بوٹل نیک’ (Bottleneck) جیسے خطرناک مقام سے واپس لانے کے جذباتی اور تکنیکی سفر کو دکھایا گیا ہے اس فلم میں علی سدپارہ کی پاکستان کے لیے کوہ پیمائی میں خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے،یہ دستاویزی فلم جان جوکھم میں ڈال کر پہاڑوں کو سر کرنے والے ان بہادر کوہ پیماؤں کی کہانی بیان کرتی ہے۔
ساجد صدپارہ، جو اس حادثے سے بچ گئے اور بعد میں اپنے والد کی تلاش میں حصہ لیا، پارک سٹی میں فلم کے پریمیئر میں موجود تھے انہوں نے ناظرین کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کیے، کے ٹو پر استعمال کی گئی حکمت عملی اور اس لمحے کی تفصیل بتائی جب ان کے والد اور سنوری چوٹی سے واپس آتے ہوئے لاپتا ہو گئے۔
فیسٹیول کے منتظمین نے کہا کہ دی لاسٹ فرسٹ ایک ایسی دستاویزی فلم ہے جو کے ٹو کی سردیوں میں کوہ پیمائی کے انتہائی خطرات کو اجاگر کرتی ہے۔
عامر بار لیو نے فلم کے بارے میں کہا کہ جنوری 2005 تک دنیا کے سب سے بلند 14 پہاڑ، جو 8,000 میٹر سے بلند ہیں، سردیوں میں سر کر لیے گئے تھے صرف ایک پہاڑ باقی تھا، کے ٹو،انہوں نے کہا کہ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے والا پہلا شخص بننا کوہ پیمائی کی آخری بڑی ناقابلِ حصول کامیابی یعنی دی لاسٹ فرسٹ تھا۔


