Baaghi TV

Tag: علی ظفر

  • سینیٹ اجلاس،چیئرمین پی سی بی کے استعفیٰ کا مطالبہ

    سینیٹ اجلاس،چیئرمین پی سی بی کے استعفیٰ کا مطالبہ

    تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے سینیٹ اجلاس کے دوران اظہارخیال کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا

    سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی آج ہی استعفیٰ دیں، ہمارے ملک میں صرف کرکٹ ایک کھیل رہ گیا تھا، بنگلا دیش سے کرکٹ میں شکست نہیں تباہی ہوئی ہے، کرکٹ تباہ ہو رہی ہے،کرکٹ تباہی کی کیا وجہ ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ میں محسن نقوی اس کے چیئرمین ہیں، مصطفیٰ رمدے او دیگر افراد ممبران ہیں،ممبران پی سی بی اور چیئرمین پی سی بی میں کرکٹ کا کس کو پتہ ہے، پی ٹی آئی اور قوم کی آواز ہے، حکومت بھی چاہتی ہے کہ محسن نقوی جائے،کیوں کہ یہ حکومت کا بندہ نہیں ہےمحسن نقوی بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ استعفی دے کر گھر چلے جائیں،

    علی ظفر کے اظہار خیال کے بعد مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ کرکٹ تنزلی کے مسئلے پر سیر حاصل گفتگو کی ضرورت ہے، کرکٹ کے معاملے پر کوئی تحریک لائیں اور اس پر بات کریں۔

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    احساس ہو تو کچھ شرم ہوناں،احمد علی بٹ بابر اعظم پر پھٹ پڑے

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    ہم نے سچ بولا،شوق پورا کرنا ہے تو کر لیں، احمد شہزادبابر اعظم پر پھر برس پڑے

  • پی ٹی آئی سینیٹر نے  مفاہمت کے لیے تین شرائط پیش کر دیں

    پی ٹی آئی سینیٹر نے مفاہمت کے لیے تین شرائط پیش کر دیں

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما سینیٹر علی ظفر نے حکومت سے مفاہمت کے لیے تین شرائط پیش کر دیں۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ 10 متنازع حلقوں کے آڈٹ کرائے جائیں،پی ٹی آئی کی خواتین قیدیوں کو رہا کیا جائےاور احتجاج کی اجازت دی جائے،یہ اقدامات کیے جائیں تو معیشت،صحت ،تعلیم اور سکیورٹی معاملات میں تعاون ہوسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سیاسی قوتوں کے درمیان مفاہمت کی خواہش ظاہر کر تے ہوئے کہا تھا کہ ایک پارٹی برسراقتدار آکر دوسری کو تختۂ مشق بناتی ہے، اس عمل کا خاتمہ ہونا چاہیے، انتقام کے چکر میں بہت زیادتیاں ہو گئیں، پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے کہاکہ ہم حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان دراڑ پڑنے کا انتظار نہیں کریں گے، اب ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی قوتوں کے درمیان مفاہمت ہو۔

  • علی ظفر نے پی ایس ایل 9  کے ترانے کا نام بتا دیا

    علی ظفر نے پی ایس ایل 9 کے ترانے کا نام بتا دیا

    لاہور: عالمی شہرت یافتہ پاکستانی گلوکار علی ظفر نے ایچ بی ایل پی ایس ایل (پاکستان سُپر لیگ) کے سیزن 9 کے ترانے کا نام بتادیا ہے ۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل 9 کا آغاز 17 فروری کو ہوگا، پہلا میچ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 34 میچ کھیلے جائیں گے، پی ایس ایل کا فائنل 18 مارچ کو کراچی میں ہوگا،پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ایونٹ کی تیاریاں جاری ہیں جبکہ شائقین اس سیزن کے ترانے کا انتظار کررہے ہیں شائقین کرکٹ کے انتظار کو ختم کرتے ہوئے علی ظفر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پی ایس ایل کے ترانے کے حوالے سے پوسٹ جاری کی ہے۔
    https://x.com/AliZafarsays/status/1754176018997555282?s=20
    علی ظفر نے پاکستان سُپر لیگ کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ کی پوسٹ ری ٹوئٹ کی جس میں ترانے کی دُھن تھی اور ساتھ ہی پوسٹ پر لکھا تھا کہ جب مقابلہ ہو ٹکر کا تو کُھل کے کھیل،اس بار پی ایس ایل کا ترانہ کھیلنے اور بے خوف ہو کر جینے کے بارے میں ہے تو اسی لیے میں نے “کُھل کے کھیل” کے عنوان سے ترانہ لکھا ہے”،ڈانس کے لیے اپنے جوتے تیار کرلیں کیونکہ ترانہ بہت جلد آنے والا ہے-

  • فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے پہ آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے،علی ظفر

    فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے پہ آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے،علی ظفر

    تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایک تاریخی سماعت ہوئی ہے،کوئی کہتا تھا الیکشن ہو گا کوئی کہتا الیکشن نہیں ہو گا یہ ایک پریشانی کا عالم تھا،

    علی ظفرکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا انتخابات 90 روز میں ہی ہونا تھا،الیکشن کمیشن آئین کے مطابق الیکشن شیڈول دے،سپریم کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ چیف الیکشن کمیشن آج ہی صدر سے مشاورت کرے،سپریم کورٹ نے واضح احکامات دئیے ہیں کہ کسی نے خلاف ورزی کی تو وہ نتائج کا خود ذمہ ہو گا،سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے پہ آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے،پی ٹی آئی نے ہمیشہ انتخابات کی بات ہے،الیکشن کمیشن نے بھی کہا ہے کہ 11 فروری کو الیکشنز کروانے کے لئے تیار ہیں

    واضح رہے کہ عام انتخابات میں کیس سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئندہ سماعت تک تاریخ طے کرکے آئیں، اٹارنی جنرل آپ صدر سے ملاقات فکس کرائیں ،ہم سماعت کل تک ملتوی کرتے ہیں، جو بھی ملاقات کا نتیجہ ہوگا وہ آرڈرمیں شامل کرینگے، ہم دونوں آئینی ادراوں کے اختیار کم نہیں کررہے ہیں،ہماری گزشتہ سماعت کا حکم نامہ صدر کو دکھائیں،جو تاریخ دی جایے گی اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا، سپریم کورٹ بغیر کسی بحث کے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے،ہم امید کرتے ہیں عام انتخابات کی تاریخ طے کی جائیگی،اس بارے میں کل عدالت کو آگاہ کیا جائیگا،جو بھی طےہوگا اس پر تمام کے دستخط موجود ہونگے۔ایک دفعہ تاریخ کا اعلان ہو جانے پر تصور کیا جائے یہ پتھر پر لکیر ہو گی،تاریخ بدلنے نہیں دیں گے،ہم اسی تاریخ پر انتخابات کا انعقاد یقینی بنوائیں گے،عدالت اپنے فیصلے پر عمل درآمد کروائیگی ،سماعت کل تک ملتو ی کر دی گئی.

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • سینیٹ میں علی ظفر تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر بن گئے

    سینیٹ میں علی ظفر تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر بن گئے

    سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر تبدیل ، ایوان بالا میں سینیٹر شہزاد وسیم کی جگہ سینیٹر علی ظفر تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیئے گئے،

    سینیٹ اجلاس کے دوران پی پی رہنما سینیٹر نثار کھوڑو نےا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی اقتدار پاکستان کی عوام کے پاس نہیں،کہا گیا پاکستان کے عوام اس اہل نہیں کہ انہیں قومی سطح کے فیصلے کرنے دیاجائے،حکومت وقت نے فلسطین کے لئے اب تک کیا کیا ؟ہمیں اپنے اندر اعلیٰ اخلاقی معیارات پیدا کرنا ہوں گے،ہماری ہمدردیاں فلسطین کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گی،ذوالفقار علی بھٹو نے تمام لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا،اگر بھٹو ہوتے تو دنیا کی صورتحال کچھ اور ہوتی.

    سینیٹر بہرہ مند تنگی نے ا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حماس کو ختم کرنے کا اعلان فلسطین کو ختم کرنے کا اعلان ہو گا،کیا صرف تقاریر سے فلسطین کے زخمیوں کو دوائیاں مل سکتی ہیں؟اس ہاؤس میں سلیم مانڈوی والا کی طرح ارب پتی لوگ موجود ہیں،ہمیں فلسطین کے لئے مالی امداد کا اعلان کرنے کی ضرورت ہے،

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • نوے دن میں انتخابات کروائیں،کوئی شکایت نہیں ہوگی،علی ظفر

    نوے دن میں انتخابات کروائیں،کوئی شکایت نہیں ہوگی،علی ظفر

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے،

    تحریک انصاف کے وفد نے الیکشن کمیشن میں حکام سے ملاقات کی اور تحریک انصاف نے نوے دن میں انتخابات کرانے کا مطالبہ کردیا،آئین کے آرٹیکل 224کے تحت نوے روز میں انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی زمہ داری ہے،پی ٹی آئی وفد کی جانب سے نوے روز میں انتخابات بارے قوانین اور عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دئیے گئے،پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ آئین مقدم ہے ایکٹ آئین کے ماتحت ہوتا ہے،ملاقات میں پی ٹی آئی وفد نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی قیادت ویڈیولنک پر شریک ہونا چاہتی تھی مگر اجازت نہیں دیشاہ محمود قریشی،عمرایوب،سینیٹر شبلی فراز،عون بپی اور اعجاز چودھری کو ویڈلنک پر شریک کرنا چاہیئے تھا،وقت کی کمی کے باعث ویڈیولنک سہولت میسر نہیں تھی،

    پی ٹی آئی وفد نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے، سینیٹر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ خوش آئند ہے کہ الیکشن کمیشن نے مشاورت کے لئے بلایا،تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے سامنے تین نکات رکھے،الیکشن کمیشن کو بتایا کہ نوے دن میں انتخابات ہونے ہیں،آئین اور سپریم کورٹ کے دو فیصلے نوے دن انتخابات کا کہتا ہے،نوے دن میں انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،ہم نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ آئین کی پاسداری کریں،پی ٹی آئی ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے،90دن میں شفاف الیکشن کرائیں تو ہم سے کوئی شکایت نہیں ملے گی،ہم آئین کے مطابق پورا تعاون کریں گے.

    واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت نگران حکومت ہے، الیکشن کمیشن نے آئین کے مطابق نوے دن میں الیکشن کروانے ہین تا ہم الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا اعلان کر دیا ہے جس کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہو گی، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ الیکشن نوے روز میں ہی ہونے چاہئے، اس ضمن میں شاہ محمود قریشی نے نگران وزیراعظم کو خط بھی لکھا ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لئے بلایا ہے تو وہیں الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو مشاورت کے لئے بلا لیا ہے، الیکشن کب ہوں گے ، ابھی تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • ہتک عزت دعویٰ: خواتین عوامی طور پر جنسی ہراسانی سنگین جیسے جھوٹے الزامات لگا سکتی ہیں،میشا شفیع

    ہتک عزت دعویٰ: خواتین عوامی طور پر جنسی ہراسانی سنگین جیسے جھوٹے الزامات لگا سکتی ہیں،میشا شفیع

    لاہور: جنسی ہراسانی کے الزام پر گلوکارعلی ظفر کے ہتک عزت کے دعوے کی سماعت کے دوران گلوکارہ میشا شفیع سے ڈیزائنر تالیہ ایس مر زا کی جانب سے فیس بک پر کی گئی پوسٹ پر جرح کی گئی-

    باغی ٹی وی: سیشن کورٹ لاہور میں گلوکار علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے پر سماعت ہوئی،دوران سماعت میشا شفیع سے پوچھا کہ تالیہ ایس مرزا نے آپ کے بھائی پر الزام لگایا کیا آپ اس کے اپنے بھائی پر لگائے گئے الزام کو مانتی ہیں؟جوا ب میں میشا شفیع نے کہا کہ تالیہ کی پوسٹ پر مجھے اور ہر اس شخص کو جو پڑھ رہا ہے کہ اس کا سامنا کسی ایسی چیز کی بنیاد پر ہوا جو اسے محسوس ہوا اور اس نے معافی کی پیش کش کی۔
    meesha shafi
    وکیل نے سوال پوچھا کہ جہاں تک آپ کو تشویش ہے کیا آپ اپنے بھائی پر تالیہ ایس مرزا کے الزام کو مانتی ہیں ہاں یا نہیں؟ میشا نے کہا کہ میں اس سوال کا جواب ہاں یا ناں میں نہیں دے سکتی یہ بہت بڑی بات ہے لیکن اگر کچھ ہوا تو کم از کم اس کو معافی مانگنے چاہئے تھی۔ چونکہ وہ میرے اور اپنے اس الزام کے بارے میں جھوٹ بول رہی ہے جس کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ اس پر یقین کرنا تھوڑا مشکل ہے میں اپنے بارے میں تالیہ کے اس بیان سے متفق نہیں ہوں کہ میں کسی کے بارے میں بدنیتی پر مبنی افواہیں پھیلاؤں گی-

    علی ظفر کے وکیل نے دوران جرح پوچھا کہ آپ نے اپنی جرح میں بیان کیا کہ تالیہ نے آپ پرالزام اس لئے لگایا گیا ہے کہ آپ اسے اور دوسری خواتین کو بدتمیز کہتی ہیں اور ان پر پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کا الزام لگاتی ہیں، کیا آپ ان الزامات سے انکار کرتی ہیں؟ –
    meesha shafi
    میشا نے جواب میں کہا کہ ہاں کام کی مقدار جو میں نے اس پروجیکٹ میں کی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ معیار اور جو ان کا رویہ تھا اس نے کہا ہے کہ وہ نوعمر تھی لیکن میں نہیں تھی۔

    میشا سے سوال پوچھا گیا کہ کیا عورت آپ پر ایسے سنگین جھوٹے الزامات لگا کر کھلے عام جھوٹ بول سکتی ہے؟ جس پرمیشا نے کہا "کچھ بھی ممکن ہے”
    ، اس پر مدعا علیہ میشا کے وکیل نے شدید اعتراض اٹھایا کہ یہ سوالات مکمل طور پر غیر متعلق ہیں اور بار بار کیے جانے والے سوالات ہیں۔

    ذکا اشرف کا ہائرڈ ماڈٌل پر تبصرہ،اے سی سی کا ردعمل سامنے آگیا

    علی ظفر کے وکیل نے دوران جرح پوچھا کہ اگر آپ اور آپ کے بھائی پر تالیہ کا الزام غلط ہے تو اس کا کیا مقصد ہوگا؟جس پر میشا نے کہا کہ میں نے تالیہ کی اس احمقانہ پوسٹ ہ کے بارے میں بہت گہرائی سے نہیں سوچا۔ بہت سے لوگوں نے میرے بارے میں بہت خوفناک باتیں کیں اور میں نے کچھ نہیں کہا۔دنیا میں بہت برے لوگ ہیں۔

    واضح رہے کہ تالیہ ایس مرزا نے اپنی فیس بک پوسٹ پر ایک نوٹ لکھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے میشا شفیع کی طرف سے پھیلائی جا نے والی جھوٹی افواہوں سے نمٹنے کا ذاتی تجربہ ہوا ہے جب ہم نوعمر تھے جو کہ بہت پہلے کی بات ہے۔مجھے اور ایک اور خاتون کو تھیٹر پروڈکشن میں میشا بظاہر کاسٹ کے ساتھ بیٹھ ک سلٹس کہتے تھے اور دعویٰ کیا کرتے تھےکہ میں نے اس عورت کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے تھے۔

    ہتھنی نورجہاں کی موت کے بعد عہدے سے ہٹائے گئےخالد ہاشمی چڑیا گھر کے دوبارہ …

    talia S Mirza
    تالیہ ایس مرزا نے لکھا کہ دوسری عورت جو این سی اے سے تھی اور وہ شادی شدہ تھی اور اس نے سب سے اپنی شادی کا احترام کرنے کو کہا۔ میں 18 سال کی تھی میں نے ان کے سامنے ہار ماننے سے انکار کر دیا۔ اس گندگی کی اہمیت لیکن لوگ برسوں تک میرے پاس آئے اور مجھ سے پوچھا کہ پوری کاسٹ میرے بارے میں ایسا کیوں کہتی تھی۔ کاسٹ ممبران جنہوں نے مجھ سے بات کی انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ میشا سے سنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ پروڈکٹ میں دوسری عورت کا مذاق اڑانے کا ایک برا طنزیہ طریقہ تھا؟ کاش لوگ اپنے خاندان کے لیے وہی معیار رکھیں جو وہ دوسروں کے لیے رکھتے ہیں۔

    حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ وعدوں کو پورا کرے گی،وزیراعظم

    تالیہ ایس مرزا نے مزید لکھا کہ اس کے بھائی کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا جس کے لیے میں نے اس کا سامنا کیا وہاں اس تصادم کے گواہ موجود تھے اور جس کے لیے اس نے معذرت کی تھی یہ اسی دن ہوا تھا؟ میں اس پروڈکشن میں مکمل طور پر بے اختیار ہونے کے باوجود اور کوئی پشت پناہی نہ ہونے کے باوجود .شاید علی نے اسے ہراساں کیا ہو میں نہیں جانتی لیکن میں جانتی ہوں کہ وہ بدنیتی پر مبنی افواہیں پھیلانے میں ماہر ہے ۔شاید ہم جیسے لوگوں کو بھی خاموشی توڑنی چاہیے؟

    یاد رہے کہ علی ظفر نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائے جانے کا مقدمہ ابتدائی طور پروفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) میں 2018 میں دائر کروایا تھا، جس کے بعد ایف آئی اے نے تقریبا 2 سال تک تفتیش کی تھی ایف آئی اے کی جانب سے دو سال تک تفتیش کیے جانے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے دسمبر 2020 میں اپنی تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی-

    فلک نے میری عادات خراب کر دی ہیں سارا خان

    عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں گلوکارہ میشا شفیع، اداکارہ عفت عمر، گلوکار علی گل پیر اور حمنہ رضا سمیت 9 افراد کو علی ظفر کے خلاف جھوٹی مہم چلانے کا مجرم قرار دیتے ہوئے عدالت سے ان کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی تھی بعد ازاں علی ظفر نے جھوٹا الزام لگانے پر میشا شفیع کے خلاف سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا-

  • اگر کسی فیصلے میں غلطی ہے تو اس کو درست کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس

    اگر کسی فیصلے میں غلطی ہے تو اس کو درست کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل تھے،
    پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے دلائل شروع کئے، وکیل علی ظفر نے 1962 کے عدالتی ایکٹ کا حوالہ دیا،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہہت اچھا فیصلہ ہے یہ ریویو سے متعلق تھا، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کو اپنا پرانا فیصلہ ری اوپن کرنے میں بہت ہچکچاہٹ اور احتیاط برتنی چاہیے ،فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حتمی ہونے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے میں وزڈم ہے وہ قانونی عمل کو حتمی بنانے کی بات کر رہے ہیں، آپ کی جانب سے اب تک تین پوائنٹ اٹھائے گئے ہیں، علی ظفرنے کہا کہ مقدمات کے حتمی ہونے کا تصور بڑا واضح ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے، ہمارا قانون کہتا ہے کہ اگر کسی فیصلے میں غلطی ہے تو اس کو درست کیا جا سکتا ہے ، علی ظفر نے کہا کہ فیصلہ قانون اور حقائق کے برخلاف ہوگا تو ہی درست کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت دانشمندی ہے جو قانونی عمل کو حتمی بنانے کی بات کر رہے ہیں،عدالت دیکھ رہی ہے کہ کیا پارلیمنٹ قانون کے ذریعے نظر ثانی کو بڑھا سکتی ہے، آپ کی دلیل ہے کہ نظر ثانی کو اپیل میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، دوبارہ سماعت کا تصور اپیل کا ہے، علی ظفرنے کہا کہ آرٹیکل 184/3 حتمی احکامات کے لیے بنایا گیا ہے،جب 184/3 کی شرائط پوری ہو رہی ہوں تو عدالت حکم جاری کرتی ہے، اگر کسی کو آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق دیا جائے تو یہ ازخود نوٹس کے اختیارات کم کرنے کے مترادف ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا پارلیمنٹ نظرثانی قانون کو وسیع کرسکتی ہے،آئین میں نظرثانی کے دائرہ اختیارکوبالکل واضح لکھا گیا ہے،وکیل نے کہا کہ میرا کیس ہی یہی ہے کہ ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈر ایکٹ خلاف آئین ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجداری ریویو میں صرف نقص دور کیا جاتا ہے جبکہ سول میں اسکوپ بڑا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کے آئینی تقاضے ہیں مگر اسے اپیل میں نہیں بدلا جاسکتا،اگر نظرثانی میں اپیل کا حق دینا ہے تو آئینی ترمیم درکار ہوگی،نظرثانی کیس میں صرف نقائص کاجائزہ لیا جاتا ہے نئے شواہد بھی پیش نہیں ہوسکتے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ازخود نوٹس کی نظر ثانی تک اس قانون کو محدود کر دیا گیا ہے، علی ظفر نے کہا کہ یہ قانون الیکشن کمیشن کی نظر ثانی پر اپلائی نہیں ہوتا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ قانون پچھلے فیصلوں پر اپلائی ہو اور مستقبل کے کیسز پر بھی لیکن پنجاب الیکشن کیس پر نہ ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین دائرہ اختیار میں کمی کی اجازت دیتا ہے لیکن یہ آئینی ترمیم کے زریعے ہونا چاہیے ،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ازخود نوٹس کے ذریعے ریویو کا حق دیا گیا ہے اس کا مطلب ہے کہ آئین اختیارات میں کمی کی اجازت تو دے رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی کے لیے عدالتی فیصلوں میں غلطیوں کی نشان دہی کرنا ہوتی ہے ، کیا آئین سازوں کو نظر ثانی اور اپیل کا فرق معلوم تھا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ پارلیمان سب کچھ کر سکتی ہے لیکن آئینی ترمیم کے ذریعے، قانون سازی کے ذریعے نہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی میں سماعت کا حق اور غلط قانون قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اپیل نہیں بنایا جا سکتا ،

    سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیس ،علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے، سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کو کل سنیں گے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

  • تحریک انصاف پر پابندی کیلئے ضروری شواہد اکھٹے کر رہے ہیں،وفاقی وزیر داخلہ

    تحریک انصاف پر پابندی کیلئے ضروری شواہد اکھٹے کر رہے ہیں،وفاقی وزیر داخلہ

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جماعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ پر غور کر رہے ہیں، کچھ ضروری شواہد اکھٹے کر رہے ہیں جیسے ہی مل جائیں گے فوراََ پابندی لگا دی جائے گی

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے گھر پر چھاپے مارے جا رہے ہمارے علم میں نہیں ہے، چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے کی اجازت ہم نہیں دیتے اور میں اس پر مذمت کرتا ہوں ،جو لوگ پارٹی چھوڑ رہے ہیں وہ باقاعدہ پارٹی پر چارج شیٹ لگا رہے ہیںپارٹی چھوڑنے والے لوگوں کے ساتھ کوئی زور زبردستی نہیں کی جا رہی ہے، فیاض الحسن چوہان سمیت پارٹی کے اپنے لوگ عمران خان کی اصلیت سامنے لے کر آرہے ہیں ،وہ لوگ سمجھتے ہیں اور سمجھ گئے ہیں 9 مئی کے واقعات میں نفرت کی سیاست کو پروان چڑھایا جا رہا ہے جماعت چھوڑنے والوں کا ضمیر جاگ گیا ہے ،دباو ہو تو پارٹی چھوڑیں مگر عمران خان کی حقیقت نہ سب کے سامنے لے کر ائیں،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    دوسری جانب تحریک انصاف پر پابندیوں کے حوالہ سے تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر علی ظفر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر تحریک انصاف پر پابندی لگی تو عدالت جائیں گے اور ایک ہی دن میں عدالت حکومت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دے گی،توڑ پھوڑ انفرادی عمل ہے اس بنیاد پر کسی جماعت پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، ماضی میں جماعت اسلامی پر بھی پابندی لگانے کی کوشش کی گئی تھی، سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ آپ کسی سیاسی جماعت پرپابندی نہیں لگا سکتے

  • اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،بیرسٹرعلی ظفر

    اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،بیرسٹرعلی ظفر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کئی روز سے جاری بحران آج ختم ہوا ہے، عدم اعتماد کے ووٹ کی کہانی کا سلسلہ ایک بار پھر آج ختم ہوا تا ہم دوبارہ سیاسی سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم واپس لے لیا،عدالت نے گورنر پنجاب کی جانب سے وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کردیا، عدالتی فیصلے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو پرویز الہی نے حلف دیا تھا وہ کیس کی سماعت تک تھا ،یہ سب کو سمجھ آجانی چاہیئے کہ آئین سب سے اوپر ہے پرسنل سکورنگ نہیں ہونی چاہیئے ، وزیر اعلی اور کیبنٹ کے خاتمے کا نوٹیفکیشن سیٹ آسائیڈ کردیا گیا ہے گورنر پنجاب کو ان کی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے اپنا حکم واپس لیا جو اچھی بات ہے سیاسی معاملات ایوانوں میں ہی حل ہونے چاہییے وزیر اعلی کا حق ہے کہ جب مرضی اسمبلی توڑ سکتا ہے اگر اعتماد کے ووٹ کی تحریک آجائے تو اعتماد کا ووٹ لینا ضروری ہوگا،

    وزیراعلی پرویزالہی کے وکیل علی ظفرنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق وزیر اعلی اور ان کی کابینہ آگئی ہے اسمبلیاں توڑنے کا جو حلف دیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے ۔گورنر نے اچھا کیا کہ غلطی مان لی پوری قوم کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ آج آئین کی جیت ہوئی ہے عدالت نے کہا ہے کہ عدم اعتماد ہوگیا ہے تو وہ معاملہ ختم ہوگیا ہے گورنر کے آرڈر کو چیلنج کیا تھا عدالت فیصلہ کرنے والی تھی گورنر نے نوٹیفیکیشن واپس لے لیا ہے اس کا مطلب گورنر نے غلطی مان لی ہے ،چیف سیکریٹری کے نوٹیفیکیشن کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے،عدالت کا تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے بعد اس پر مزید بات ہوسکتی ہے وزیراعلیٰ پنجاب اور کابینہ دوبارہ اپنی جگہ بحال ہوگئی ہے،اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،جب اپوزیشن کے مطلوبہ ووٹ نہیں تھے تو انہوں نے عدم اعتماد واپس لی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم