Baaghi TV

Tag: علی ظفر

  • علی ظفر کی سیاستدانوں کو مشورے پر مبنی پوسٹ سے سبہی خوش اور متفق

    علی ظفر کی سیاستدانوں کو مشورے پر مبنی پوسٹ سے سبہی خوش اور متفق

    ملکی سیاسی حالات پر اس وقت ہر کوئی گفتگو کرتا دکھائی دیتا ہے اور فنکار ہوں یا گلوکار ہو ہر کوئی کسی نہ کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ کرتا ہوا دکھا دیتا ہے۔بہت سارے ایسے فنکار اور گلوکار ہیں جو بڑی تعداد میں نہ صرف اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کو سپورٹ کررے ہیں بلکہ ان کے جلسے جلوسوں میں بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان میں شان شاہد کا نام قابل زکر ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے جلسوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ہر کوئی اس وقت اپنی پسند نہ پسند اور حالات کے مطابق ملکی سیاسی بحث میں نہ صرف حصہ لیتا ہے بلکہ سیاستدانوں اور عوام کو مشورے بھی دیتا ہے۔ایسا ہی مشورہ علی

    ظفر نے دیا دو روز قبل سیاستدانوں کو انہوں نے ایک ٹویٹ کیا اور اس میں لکھا کہ ”سیاسی قائدین کو میرا عاجزانہ مشورہ ہے کہ اپنی دولت کا پانچ فیصد پاکستان کے لیے عطیہ کریں تاکہ قوم بھی متاثر ہو کر ایسا ہی کرے۔ مثال بنیں“ علی ظفر کی اس پوسٹ کے نیچے بہت سارے کمنٹس کئے گئے جہاں ان کے حق میں بات کی گئی وہیں ان سے کہا گیا کہ فنکار کیوں نہ ایسا کریں۔ علی ظفر کی مشورے بھری یہ پوسٹ کافی وائرل ہو رہی ہے اور بہت سارے لوگ علی ظفر کی اس پوسٹ کو سراہ رہے ہیں اور گلوکار و اداکار کا ملک کے لئے درد اور جذبے کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

  • اداکارہ سعدیہ خان کو ملی ایک بڑی خوشخبری

    اداکارہ سعدیہ خان کو ملی ایک بڑی خوشخبری

    ماڈل و اداکارہ سعدیہ خان جنہوں نے ڈرامہ سیریل ” خدا اور محبت“ سے شہرت حاصل کی ان کو ملی ہے ایک بہت بڑی خوشخبری ۔یہ خوشخبری ان کو ایک مہینہ پہلے ملی تھی لیکن انہوں نے نامعلوم وجوہات کی بنا ءپر اپنے پرستاروں کے ساتھ تاخیر سے شئیر کی ۔اداکارہ سعدیہ خان نے انسٹاگرام پوسٹ کے زریعے اپنے مداحوں کو بتایا ہے کہ انہیں دبئی کا گولڈن ویزہ ملا ہے انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خوش قسمت ہوں کہ میرا شمار بھی اب ان فنکاروں میںہو گا جن کو دبئی کا گولڈن ویزہ ملا ہے ۔انہو ں نے گولڈ ویزہ ملنے پر عرب امارات کی حکومت اور وہاں کے رہنماﺅں کا شکریہ ادا کیا انہوں نے مزید یہ بھی لکھا کہ محبت کرنے والے پر امن ملک میں دس سا ل کی رہائش ایک خواب تھا جو اس ویزے کے زریعے پورا ہوا ہے میں بہت زیادہ خوش ہوں اور اپنے پرستاروں سے معذرت خواہ ہوں کہ یہ خوشخبری میں نے ان کے ساتھ بہت تاخیر سے شئیر کی ۔

    یاد رہے کہ سعدیہ خان سے قبل گولڈن ویزہ گلوکار علی ظفر کو بھی ملا گلوکار فخر عالم وہ پہلے پاکستانی فنکار تھے جن کو دبئی کا گولڈن ویزہ ملا تھا ۔انہیں جب ویزہ ملا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ میرے لئے دوہرے اعزاز کی بات ہے کیوں کہ میں ایک طرح سے پہلا پاکستانی فنکار ہوں جسے یہ گولڈن ویزہ ملا ہے، دوسرایہ کہ مجھ سے پہلے جتنے بھی پاکستانیوں نے یہ ویزہ حاصل کیا اس کے لئے درخواست دی تھی جبکہ مجھے یہ اعزازی طور پر دیا گیا ہے۔

  • پیکا آرڈیننس کے سیکشن 20 کیخلاف میشا شفیع کی درخواست سماعت کیلئے منظور

    پیکا آرڈیننس کے سیکشن 20 کیخلاف میشا شفیع کی درخواست سماعت کیلئے منظور

    مشیا شفیع جن کا علی ظفر کے خلاف ہراسانی کا کیس چل رہا ہے ابھی تک یہ الزام کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا یعنی عدالتی کاروائی ابھی تک کی جتنی بھی ہوئی ہے اس میں دونوں فریقین میں سے کسی ایک کو سچا یا جھوٹا قرار نہیں دیا گیا ۔تاہم میشا اور علی ظفر دونوں کے پرستار ان کو سوشل میڈیا پر کافی سپورٹ کرتے ہیں لیکن جب سے کیس عدالت میں چل رہا ہے ان فریقین کی طرف سے ایک دوسرے پرالزامات لگانے کا سلسلہ تھم چکا ہے ۔اب حال ہی میں میشا شفیع کے وکیل نے پیکا آرڈیننس کے سیکشن 20کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں دی جسے سپریم کورٹ نے سماعت کے لئے منظور کر لیا ہے ۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، سپریم کورٹ نے میشا شفیع کے خلاف فوجداری کارروائی سے روکتے ہوئے گلوکارہ کی درخواست حکم امتناع جاری کر دیا۔اس حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے حکم جاری کیا گیا کہ اگلی سماعت تک ہتک عزت پر میشا شفیع کے خلاف فوجداری کارروائی روک دی جائے، گلوکارہ کے خلاف سول مقدمہ جاری رہے گا۔سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی
    یاد رہے کہ میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراسمنٹ کے الزمات لگائے ہیں اور کیس کا فیصلہ تاحال نہیں آسکا۔
    ۔۔۔۔

  • علی ظفر کی ہمدردیاں جانی ڈیپ کے ساتھ

    علی ظفر کی ہمدردیاں جانی ڈیپ کے ساتھ

    گلوکار و اداکار علی ظفر نے کہا ہے کہ جانی ڈیپ کے ساتھ جو بھی ہوا ہے میں اسے شاید صرف ایک فیصد ہی سمجھ سکتا ہوں میری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں ۔گلوکار نے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ یا پیسے جانی ڈیپ کی اس تکلیف کو کم نہیں کر سکتی جو انہوں نے اس سارے وقت میں سہی ہے ۔مزید کہا کہ اس کیس کے دوران ان کی زندگی کا جو اہم وقت برباد ہوا ہے اس میں وہ اپنے مداحوں کے لئے بہت کچھ کر سکتے تھے ان کے چہروں پر مسکراہٹیں لا سکتے تھے لیکن افسوس ایسا نہیں ہوسکا۔

    جانی ڈیپ نے اپنے حق میں فیصلہ آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں میرے کیس کو دیکھ کر دوسرے مرد اور عورتیں جن کے حالات میرے جیسے تھے ان کو مدد ملی ہو گی ۔مجھ پر میڈیا کے زریعے جو الزامات لگائے گئے انہوں نے میرے کیرئیر اور زندگی پر منفی اور گہرا اثر ڈالا ۔جانی ڈیپ نے عدالت کا شکریہ بھی ان لفظوں میں ادا کیا ” جیوری نے مجھے میری زندگی واپس کردی میں ان کا شکر گزار ہوں“۔
    جانی ڈیپ کو پوری دنیا میں ان کے مداحوں نے اس مشکل وقت میں بہت زیادہ سپورٹ کیا لیکن جب فیصلہ ان کے حق میں آیا تو انہوں نے سب کا شکریہ ادا کیا ۔
    یاد رہے کہ امریکی ریاست ورجینیا کی جیوری نے جانی ڈیپ کیس کا فیصلہ سنایا فیصلے کے مطابق جانی ڈیپ کو بدنام کرنے پر سابقہ اہلیہ ایمبر ہرڈ 15 ملین ڈالر جرمانہ دیں گی جبکہ ایمبر ہرڈ پر غلط الزام لگانے پر ڈیپ سابقہ بیوی کو 2 ملین ڈالر دیں گے۔

  • معروف گلوکارعلی ظفر خدشات میں مبتلا، مداحوں کے نام اہم پیغام جاری

    معروف گلوکارعلی ظفر خدشات میں مبتلا، مداحوں کے نام اہم پیغام جاری

    لاہور:معروف گلوکارعلی ظفرکا مداحوں کے نام اہم پیغام جاری،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے معروف ترین گلوکار علی ظفر کو اپنی بڑھتی عمر کے باعث بڑھاپے کا خوف لاحق ہوگیا ہے۔

     

     

    گزشتہ روز علی ظفر کی 42 ویں سالگرہ پر انہیں مداحوں کی جانب سے خوب مبارکباد دی گئی۔علی ظفر نے بھی انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے ویڈیو میں اپنے چہرے کا تجزیہ کرتے ہوئے بڑھتی عمر کے اثرات کا جائزہ لیا۔

     

     

    مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ اپنا جائزہ بھی لیتے رہیں۔

    علی ظفر نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا کہ ایک ایسے دور میں جہاں ہم اپنی تصویر کے بارے میں حد سے زیادہ فکر مند ہیں، ایچ ڈی کلیئرٹی کے ساتھ آئی فون کیمرے پر بغیر کسی فلٹر یا میک اپ کے عمر ایک اہم کلینیکل ٹیسٹ ہے۔انہوں نے اپنے چہرے کے ساتھ آنکھوں کے گرد اور ماتھے پر پڑنے والی جھریوں کا جائزہ بھی لیا۔

    گلوکار اور اداکار بڑھتی عمر کے ساتھ اپنے چہرے میں آنے والی تبدیلیوں سے مطمئن نظر آئے اور جھریاں چھپانے کے لیے انجیکشنز لگوانے کی بھی مخالفت کی۔

    علی ظفر نے کیپشن میں مزید لکھا کہ اس تجربے کو گھر پر نہ آزمائیں اور نہ ہی اس پر میمز بنائیں، اس تجربے کے بعد مجھے جج نہ کریں اور نہ ہی مجھے ان فالو کریں اور دوستوں کے ساتھ شیئر نہ کریں،ر سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے یا مجھے سنجیدہ نہ لیں، اس کا مذاق اڑائیں، ہنسیں، لطف اٹھائیں، ہنستے رہیں اور گاتے رہیں۔

  • عزت کا راستہ یہ ہی ہے کہ منحرف رکن مستعفی ہو کر گھر جائے،سپریم کورٹ

    عزت کا راستہ یہ ہی ہے کہ منحرف رکن مستعفی ہو کر گھر جائے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر کی جانب سے دلائل ویڈیو لنک پر دیئے گئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کا کہ 10منٹ میں دلائل مکمل نہ کیے گئے تو مخدوم علی خان کو سنیں گے،پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ میں دس منٹ میں اپنے دلائل مکمل کر لوں گا،63 اے کو شامل کرنے کا مقصد ہارس ٹریڈنگ کو ختم کرنا تھا،63 اے کی خلاف ورزی آئین کی خلاف ورزی ہے،63اے کے نتیجے میں ووٹ شمار نہیں ہو گا،ووٹ کاسٹ تو ضرور ہو گا لیکن اس کو گنا نہیں جائے گا

    علی ظفر نے کہا کہ 63اے سیاسی جماعتوں کے ممبر سے متعلق ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ علی ظفر آپ کہہ رہے ہیں ووٹ کاسٹ نہیں ہوں گے، علی ظفر نے کہا کہ میں عدالتی تشریح کے ذریعے استدعا کر رہا ہوں، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ انحراف کا فیصلہ پارٹی سربراہ نے کرنا ہے،اگر سیاسی جماعت کی کوئی ہدایت ہی نہ ہو تو ووٹ گنا جائے گا یا نہیں ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ووٹ شمار کرنا اور انحراف کرنا دونوں مختلف چیزیں ہیں ، علی ظفر نے کہا کہ پہلے سربراہ ہدایات جاری کرے گاپھر ممبران کے خلاف ڈکلیئریشن جاری کرے گا،جسٹس جمال خان نے کہا کہ کیاڈکلیئریشن کی عدم موجودگی میں بھی ووٹ نہیں گنا جائے گا،

    جسٹس جمال خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ووٹ گنا نہ جائے تو مطلب جرم ہی نہیں کیا۔ ووٹ نہ ڈالنے کی کوئی قدغن لگائی نہیں گئی۔تریسٹھ اے میں بتایا گیا ہے کہ ووٹ تو کاسٹ کرلیں گے لیکن سیٹ چلی جائے گی۔ اگر ممبر رکن اسمبلی نے فیصلہ کرنا ہے کہ ووٹ کرنا ہے یا نہیں؟ جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ووٹ کاسٹ ہونے کے بعد ہی پارٹی سربراہ ڈیکلریشن دے گا۔ پارٹی سربراہ ووٹ کاسٹ ہوتے وقت بھی اسپیکر کوبتاسکتا ہے،جسٹس جمال خان نے کہا کہ ووٹ کاسٹ ہونے کے بعد پارٹی سربراہ پہلے شوکاز نوٹس دے گا جواب لے گا۔ نوٹس کے بعد ملنے والے جواب سے پارٹی سربراہ مطمئین ہو کر شوکاز ختم بھی کر سکتا ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں پارلیمانی پارٹی کی ہدایت اکثریت کی ہوتی ہے۔آپ کہہ رہے ہیں پینل کوڈ نہیں کہ جرم ہو گیا ہے۔ تو لاش ملنے کے بعد ہی کارروائی ہو گی۔ آپ کہہ رہے ہیں بھٹو دور میں شامل کیے گیے آرٹیکل 96 کی طرح اقلیت کا ووٹ شمار نہیں ہو گا۔ قومی مفاد اور اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے ووٹ کو نہیں گننا چاہیے؟ رضا ربانی اور فاروق نائیک کا کہنا ہے پارٹی سربراہ ان کے بے پناہ اختیارات کو روکنے کے لیے سزا واضح نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ فیصلہ سربراہ کرتا ہے یا پارلیمانی پارٹی کرتی ہے، آئین میں تریسٹھ اے شامل کرنے کا مقصد انحراف کے کینسر کو ختم کرنا تھا، عدالت نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کو تحریری معروضات جمع کروانے کی ہدایت کردی،پاکستان مسلم لیگ ق نے علی ظفر کے دلائل اپنا لیے پاکستان مسلم لیگ ق کی جانب سے وکیل اظہر صدیق پیش ہوئے اور کہا کہ آرٹیکل 63 اے تحریک عدم اعتماد کیخلاف حفاظتی دیوار ہے،
    ق لیگ کے وکیل نے میثاق جمہوریت کا حوالہ دیا اور کہا کہ جمہوریت کے چمپئن بننے والوں نے مینڈیٹ کے احترام کا معاہدہ کیا تھا، عملی طور پر جو کچھ کیا گیا وہ میثاق جمہوریت کیخلاف ہے،

    وکیل مسلم لیگ ن مخدوم علی خان نے کہا کہ آج ایک گھنٹے میں دلائل مکمل نہیں کر سکوں گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگلے دو ہفتے بینچ دستیاب نہیں ہوگا،چاہتے ہیں آرٹیکل تریسٹھ اے پر جلد از جلد اپنی رائے دیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ 14 مئی کو بیرون ملک سے میری واپسی ہوگی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنے دلائل کا خلاصہ بیان کر دیں پھر دیکھیں گے،مخدوم علی خان نے کہا کہ قومی اسمبلی کی مدت پانچ سال ہوتی ہے، منحرف رکن اسمبلی کی مدت تک ہی نااہل ہو سکتا، آئین کی تشریح کا عدالتی اختیار ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ ماضی میں پارلیمنٹ عدالت کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کرتی رہی۔عدالت نے کبھی اپنے اختیارات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ عمران خان نے آرٹیکل تریسٹھ اے کے حوالے سے آئینی درخواست بھی دائر کی ہے،ائینی درخواست میں کوئی سیاسی جماعت یا منحرف رکن فریق نہیں۔ آئینی درخواست میں صرف منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی مانگی گئی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس میں اٹھایا گیا سوال ہی درخواست میں بھی اٹھایا گیا ہے۔

    ن لیگی وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کے سامنے اب کوئی مواد نہیں کہ اراکین کیوں منحرف ہوئے،رشوت لینے کے شواہد ہیں نہ ہی یہ معلوم کہ ضمیر کی آواز پر منحرف ہوئے رکن کیوں منحرف ہوا یہ شواہد اسکا کام نہیں، بعض آئینی ترامیم پر وکلا اور عوام نے احتجاج کیا ،ساتویں ترمیم میں سول اداروں کی مدد کے لیے فوج طلب کرنے کی منظوری ہوئی، سول اداروں کی مدد کے لیے آئی فوجی اقدامات کو عدالتی دائرہ اختیار سے باہر رکھا گیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا عدالت صرف سوال کی حد تک آئین کی تشریح کر سکتی ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت سے رائے مانگی گئی ہے،عدالت اپنا اختیار184 تھری میں استعمال کر سکتی ہے ،آرٹیکل 63 اے پارٹی سے بے وفائی روکنے کے لیے نہیں ہے،

    دورانِ سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد اوراس لعنت کو ختم کرنے کے لیے ووٹ کو نہیں گننا چاہیے عدالت کا کام تمام آئینی سوالات کا جواب دینا ہے، جاننا چاہیں گے آرٹیکل 63 اے پر رائے کس حد تک دے سکتے ہیں کیا عدالت ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات کے الفاظ کی قیدی ہے یا اس سے ہٹ کر تشریح کر سکتی ہے؟ ملک کو میچور مہوریت کی طرف لےکر جانا ہوگا اورمچور جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ قانون سازسیر حاصل گفتگو کریں

    جسٹس جمال مندوخیل نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر سے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو تکلیف ہے تو اس کینسر کا علاج خود کریں، صرف ایک سیاسی جماعت منحرف اراکین اسمبلی کے خلاف ہے، ہمارے سامنے جماعتوں کی اکثریت آپ کے مؤقف کے خلاف ہیں، آپ کیا توقع کررہے ہیں ہم اکثریت کو چھوڑ کر آپ کی بات مانیں گے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ عزت کا راستہ یہ ہی ہے کہ منحرف رکن مستعفی ہو کر گھر جائے،

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس

    تنقید سے فرق نہیں پڑتا،عدالت کے دروازے ناقدین کیلئے بھی کھلے ہیں،چیف جسٹس

  • ہتک عزت کیس :عدالت کا میشا شفیع کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم

    ہتک عزت کیس :عدالت کا میشا شفیع کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم

    لاہور کی سیشن عدالت نے میشا شفیع کی جانب سے بذریعہ ویڈیو لنک بیان پر جرح کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے میشا شفیع کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصئلات کے مطابق گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے ہتک عزت کے کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے جرح مکمل کروانے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

    میشا شفیع نے قانون کو مذاق سمجھا ہوا ہے،عدالت کا اظہار برہمی

    درخواست میں میشا شفیع نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کینیڈا میں مقیم ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوسکتی، انہوں نے استدعا کی کہ عدالت میں بیان پر جرح ویڈیو لنک کے ذریعے کی جائے۔

    عدالت نے میشا شفیع کی درخواست مسترد کردی اور سماعت کے بعد سیشن عدالت نے آئندہ سماعت7 اپریل تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ میشا شفیع نے ہتک عزت کے کیس میں جرح مکمل کروانے کے لیے گزشتہ ماہ فروری میں عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ بیرون ملک رہنے کی وجہ سے ان کی جرح ویڈیو لنک کے ذریعے مکمل کی جائے۔

    میشا شفیع کی درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد

    میشا شفیع کی درخواست پر علی ظفر نے اپنے وکلاء کے ذریعے سیشن کورٹ میں اپنا مؤقف جمع کرواتے ہوئے گلوکارہ کی درخواست کی مخالفت کردی علی ظفر نے عدالت میں جمع کروائے گئے اپنے جواب میں عدالت سے استدعا کی کہ میشا شفیع کی درخواست جرمانے کے ساتھ واپس کی جائے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سماعت میں ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر کی ایف آئی اے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج کردیں تھیں –

    عدالت سے میشا شفیع کی درخواست خارج ،علی ظفر کا رد عمل بھی سامنے آگیا

    علی ظفر نے عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں سوال کیا تھا کہ محترمہ (میشا شفیع) سے بڑی عزت سے صرف ایک سوال پوچھئے گا کہ وہ کیا حقیقت ہے جس کے نمایاں ہوجانے کے ڈر سے وہ عدالت سے اتنے سال کہتی رہیں کہ کووڈ میں کینیڈا سے عدالت نہیں آسکتیں مگر پھر کوک اسٹوڈیو کے لیے فوراً آپہنچیں اور پھر عدالت کو بتائے بغیر اپنی جرح بیچ میں چھوڑ کر واپس چلی گئیں؟-

    سوشل میڈیا مہم کیس: گرفتاری وارنٹ کی خبر پر بے بنیاد ہے، لینا غنی نجی خبر رساں…

    علی ظفرکی میشا شفیع کی درخواست جرمانے کیساتھ مسترد کرنے کی استدعا

  • علی ظفرکی میشا شفیع کی درخواست جرمانے کیساتھ مسترد کرنے کی استدعا

    علی ظفرکی میشا شفیع کی درخواست جرمانے کیساتھ مسترد کرنے کی استدعا

    لاہور: پاکستان شوبز انڈستری کے عالمی شہرت یافتہ اداکار اور گلوکار علی ظفر نے میشا شفیع کی درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کرنے کی استدعا کردی۔

    باغی ٹی وی : سیشن کورٹ لاہور میں اداکار علی ظفر نے میشا شفیع کی ویڈیو لنک پر جرح کی درخواست پر جواب جمع کرادیاعلی ظفر نے میشا شفیع کی درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کرنے کی استدعا کردی۔

    عدالت سے میشا شفیع کی درخواست خارج ،علی ظفر کا رد عمل بھی سامنے آگیا

    اداکار و گلوکار علی ظفرنےمیشا شفیع کی درخواست کو بے بنیاد اور عدالتی وقت کا ضیاع قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالت میشا شفیع کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کرے-

    انہوں نے کہا کہ میشا شفیع نے اس سے قبل بھی ویڈیو لنک کے ذریعے جرح کی درخواست دی، لیکن درخواست کا فیصلہ ہونے سے پہلے ہی میشا شفیع دبئی میں ایک کنسرٹ میں شرکت کےلیے چلی گئیں۔

    ایڈیشنل سیشن جج خان محمود نے وکلا کو بحث کےلیے 19 مارچ کو طلب کر لیا۔

    واضح رہے کہ گلوکارہ میشا نے جرح ویڈیو لنک کے ذریعے مکمل کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

    میشا شفیع کی درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد

    خیال رہے کہ گزشتہ سماعت میں لاہور ہائیکورٹ ہوئی ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر کی ایف آئی اے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج کردیں تھیں-

    میشا شفیع نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ایف آئی اے نے علی ظفر کی درخواست پر حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا جبکہ ایف آئی اے نے ملزمان کا موقف لیے بغیر مقدمہ درج کیا درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے۔

    میشا شفیع نے قانون کو مذاق سمجھا ہوا ہے،عدالت کا اظہار برہمی

    علی ظفر نے عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں سوال کیا تھا کہ محترمہ (میشا شفیع) سے بڑی عزت سے صرف ایک سوال پوچھئے گا کہ وہ کیا حقیقت ہے جس کے نمایاں ہوجانے کے ڈر سے وہ عدالت سے اتنے سال کہتی رہیں کہ کووڈ میں کینیڈا سے عدالت نہیں آسکتیں مگر پھر کوک اسٹوڈیو کے لیے فوراً آپہنچیں اور پھر عدالت کو بتائے بغیر اپنی جرح بیچ میں چھوڑ کر واپس چلی گئیں؟

    علی ظفر نے ایک اور ٹوئٹ میں مزید کہا تھا کہ اور پھر نہایت احترام سے پوچھیے گا کہ کیا وہ میرے ہرجانے کے کیس میں جہاں ان کو ان کا موقف بیان کرنے کا پورا موقع دیا جار ہاہے، اپنی جرح مکمل کروانے کے لیے اس ہفتے کی 12 تاریخ کو عدالت آئیں گی؟ یا پھر سے نہیں آئیں گی؟-

    سوشل میڈیا مہم کیس: گرفتاری وارنٹ کی خبر پر بے بنیاد ہے، لینا غنی نجی خبر رساں…

  • عدالت سے میشا شفیع کی درخواست خارج ،علی ظفر کا رد عمل بھی سامنے آگیا

    عدالت سے میشا شفیع کی درخواست خارج ،علی ظفر کا رد عمل بھی سامنے آگیا

    لاہور ہائیکورٹ سے گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر کی ایف آئی اے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج کر دیں جس پر اداکار و گلوکار علی ظفر کا ردعمل سامنے آیا ہے-

    باغی ٹی وی :لاہور ہائیکورٹ میں میشا شفیع کی ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمہ خارج کرنےکی درخواست پر سماعت ہوئی ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر کی ایف آئی اے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج کردیں-

    میشا شفیع سمیت دیگر نے اپنے خلاف درج ایف آئی اے کے مقدمے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا عدالت نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    میشا شفیع نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ایف آئی اے نے علی ظفر کی درخواست پر حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا جبکہ ایف آئی اے نے ملزمان کا موقف لیے بغیر مقدمہ درج کیا درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے۔


    علی ظفر نے عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں سوال کیا ہے محترمہ (میشا شفیع) سے بڑی عزت سے صرف ایک سوال پوچھئے گا کہ وہ کیا حقیقت ہے جس کے نمایاں ہوجانے کے ڈر سے وہ عدالت سے اتنے سال کہتی رہیں کہ کووڈ میں کینیڈا سے عدالت نہیں آسکتیں مگر پھر کوک اسٹوڈیو کے لیے فوراً آپہنچیں اور پھر عدالت کو بتائے بغیر اپنی جرح بیچ میں چھوڑ کر واپس چلی گئیں؟


    علی ظفر نے ایک اور ٹوئٹ میں مزید کہا کہ اور پھر نہایت احترام سے پوچھیے گا کہ کیا وہ میرے ہرجانے کے کیس میں جہاں ان کو ان کا موقف بیان کرنے کا پورا موقع دیا جار ہاہے، اپنی جرح مکمل کروانے کے لیے اس ہفتے کی 12 تاریخ کو عدالت آئیں گی؟ یا پھر سے نہیں آئیں گی؟‘‘۔

  • سوشل میڈیا مہم کیس: گرفتاری وارنٹ کی خبر پر بے بنیاد ہے، لینا غنی نجی خبر رساں ادارے پر برس پڑیں

    سوشل میڈیا مہم کیس: گرفتاری وارنٹ کی خبر پر بے بنیاد ہے، لینا غنی نجی خبر رساں ادارے پر برس پڑیں

    حال ہی میں نجی خبر رساں ادارے دنیا نیوز نے دعویٰ کیا تھا کہ علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا مہم کیس میں عدالت نے دنیا نیوز میشا شفیع اور لینا غنی کو آخری موقع دیتے ہوئے گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں جس کی تردید لینا غنی نے کی ہے-

    باغی ٹی وی : اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لینا غنی کا کہنا تھا کہ سچ کہوں تو یہ سب بہت غیر حقیقی لگتا ہے میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن میں ایس اپڈیٹس پوسٹ کعروں گی کہ میں جیل میں نہیں ہوں، کبھی کبھی مجھے اپنی زندگی سے جوڑنا اتنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ اگر میں گرفتار ہو جاتی ہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ میرا فون میرے پاس ہو گا اس لیے کال نہ کریں اس کے بجائے پیغام بھیجیں تاکہ میں بعد میں پیغامات پڑھ سکوں –

    لینا غنی نے کہا کہ اس خبر کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟اس بارے میں لینا نے بتایا کہ ایک دوست نے پریشان ہو کر مجھے فون کیا کہ کیا میں جیل میں ہوں جب میں نے بتایا کہ میں نہیں ہوں تو اس نے مذاق کیا کہ وہ مجھے جیل میں ملنے کے لیے ٹفن لے کر تیار ہےلیکن مذاق ایک طرف جب میں نے مضمون پڑھا حالانکہ میں جانتی تھی کہ یہ سچ نہیں ہے پھر بھی مجھے بہت دُکھ ہوا-

    لینا غنی کا کہنا تھا کہ جب بھی ایسی خبریں گردش کرتی ہیں تو میں مختلف انداز میں متحرک ہو جاتایہوں۔ ابھی میں خوش ہوں۔ کیونکہ یہ سست صحافت نہیں یہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ یہ بُرائی ہے. اس قسم کی صحافت کا ایک ایجنڈا ہوتا ہے۔ اور یہ تقریباً ہمیشہ ایسے لوگوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے جو بولتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ کس طرح کوئی نیوز ایجنسی اس حکم کے باوجود غلط رپورٹنگ کر سکتی ہے کہ وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے میرے نام کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ ہمیں اس بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے کہ انہیں دوسرے کیسز کی تفتیش اور رپورٹ کیسے کرنی چاہیے جو شاید اتنے ہائی پروفائل نہیں ہیں۔

    لینا غنی نے دنیا نیوا ہر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کیا کرنا ہے دنیا ٹی وی؟ آپ کی غلچ اور جعلی رپورٹنگ تو دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئی ہے-

    دوسری جانب لاہور کی مقامی عدالت نے گلوکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم چلانے کے کیس میں گلوکارہ میشا شفیع کی مستقل حاضری معافی اور پلیٹر مقرر کرنے کی درخواست مسترد کردی مقامی عدالت نے میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے فیصلے کو بھی برقرار رکھا-

    علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے کیس کی سماعت لاہور کی ضلع کچہری عدالت میں جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضی ورک نے کی، جس دوران دونوں فریقین کے وکلا نے دلائل مکمل کیےعدالت میں میشا شفیع نے درخواست دائر کی تھی کہ انہیں مستقل طور پر حاضری سے استثنیٰ قرار دیا جائے گلوکارہ کے وکیل کی جانب سے دائرہ کردہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ میشا شفیع بیرون ملک ہیں، انہیں حاضری سے معافی دی جاٸے اور ان کی جگہ پلیڈر مقرر کرنے کی اجازت دی جائے –

    لاہور کی ضلع کچہری عدالت میں جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضی ورک نے تین دن قبل کیس کی سماعت کی تھی، جس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا چار صفحات کے جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں عدالت نے ملزمان کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے میشا شفیع اور ماہم جاوید کی حاضری معافی اور نمائندہ مقرر کرنے کی درخواست مسترد کی عدم حاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدم حاضری سے ٹرائل متاثر ہو رہا ہے۔

    عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میشا شفیع نے قانون اور انصاف کے عمل کو مذاق بنایا ہوا ہے اور وہ عدالت کے ساتھ عدالت سے چھپن چھپائی کھیل رہی ہیں۔

    عدالت نے تحریری فیصلہ میں لکھا کہ میشا شفیع اور ماہم جاوید کی عدم حاضری کے باعث ٹرائل بری طرح متاثر ہورہا ہےعدالت نے میشا شفیع اور ماہم جاوید کو آخری موقع دیتے ہوئے ان کے قابل ضمانت گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیےعدالت نے ادکارہ عفت عمر کی حاضری معافی کی درخواست بھی مسترد کی اور اپنے ریمارکس میں لکھا کہ ملزمان نے درخواست میں قانون کے مطابق بات نہیں کی۔

    عدالت نے ملزمان علی گل پیر اور لینا غنی کی چالان سے بری کرنے کی درخواست بھی مسترد کی اور ریمارکس میں لکھا کہ ملزمان کے جس ٹوئٹر اکاؤنٹ سے علی ظفر کے خلاف مہم چلائی گئی وہ آج بھی موجود ہےعدالت نے تحریری حکم نامے میں لکھا کہ علی گل پیر اور لینا غنی نے عدالت میں خود تسلیم کیا کہ انہوں نے ٹوئٹس کیں۔

    عدالت نے گلوکارہ کی درخواست مسترد کردی، ساتھ ہی عدالت نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے احکامات کو بھی جاری رکھا عدالت نے ملزمہ کو 19 مارچ کو پچاس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا-

    عدالت نے 9 فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران میشا شفیع اور ماہم جاوید کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور انہیں پچاس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

    گزشتہ سماعت کے دوران ملزمہ عفت عمر، فیضان رضا، حسیم الزمان، فریحہ ایوب، علی گل اور لینا غنی نے حاضری مکمل کروائی تھی اس سے قبل گزشتہ ماہ جنوری میں ہونے والی سماعت میں بھی میشا شفیع پیش نہ ہوسکی تھیں، جس پر عدالت نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

    مذکورہ کیس میں میشا شفیع نے 21 دسمبر 2021 کو ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جب کہ دیگر ملزمان نے بھی حاضری سے مستثنیٰ سے متعلق عدالت سے رجوع کر رکھا تھا علی ظفر کے خلاف تمام ملزمان کی جانب سے سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے کیس کا فیصلہ عدالت نے 24 دسمبر 2021 کو محفوظ کرلیا تھا، جسے ممکنہ طور پر عدالت آئندہ ماہ تک سنائے گی۔

    میشا شفیع اور علی گل پیر سمیت دیگر ملزمان کے خلاف گلوکار علی ظفر نے سوشل میڈیا پر بدنام کرنے کی منظم مہم چلانے کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے علی ظفر نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائے جانے کا مقدمہ ابتدائی طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں 2018 میں دائر کروایا تھا، جس کے بعد ایف آئی اے نے تقریبا 2 سال تک تفتیش کی تھی۔

    ایف آئی اے کی جانب سے دو سال تک تفتیش کیے جانے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے دسمبر 2020 میں اپنی تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں گلوکارہ میشا شفیع، اداکارہ عفت عمر، گلوکار علی گل پیر اور حمنہ رضا سمیت 9 افراد کو علی ظفر کے خلاف جھوٹی مہم چلانے کا مجرم قرار دیتے ہوئے عدالت سے ان کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔