Baaghi TV

Tag: علی عباس

  • سیمی راحیل نے ایوارڈز کی تقسیم پر سوال اٹھا دئیے

    سیمی راحیل نے ایوارڈز کی تقسیم پر سوال اٹھا دئیے

    شوبز انڈسٹری میں بہت سارے ایسے فنکار ہیں جن کو ایوارڈز کی تقسیم پر اعتراض ہے. ان کا کہنا ہے کہ ایوارڈز کی تقسیم منصفانہ نہیں‌کی جاتی، اپنی پسند کے فنکاروں‌کو ایوارڈ‌دے دئیے جاتے ہیں. ایسا ہی کہنا ہے سیئنر اداکارہ سیمی راحیل کا ان کا کہنا ہے کہ بہت سارے ایسے فنکاروں‌کو ایوارڈ دئیے جاتے ہیں جنہوں نے کچھ کیا بھی نہیں ہوتا نہ ہی ان کے کریڈٹ پر اتنا کام ہوتا ہے. انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایوارڈز جو دئیے جا رہے ہیں وہ کن بنیادوں پر دئیے جاتے ہیں. جن کو ایوارڈ ملنے چاہیں ان کو دئیے نہیں جاتے. یہ ایک کھیل ہے جو چل رہا ہے

    اور ہم سب دیکھ رہے ہیں. سیمی راحیل نے کہا کہ ایوارڈز کسی بھی فنکار کی حوصلہ افزائی کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں لیکن مجھے تو نہ کبھی ایوارڈ دیا گیا اور نہ ہی کسی ایوارڈ شو میں مجھے مدعو کیا گیا ہے. سیمی راحیل تو نے تو باقاعدہ طور پر کہہ دیا کہ ہماری انڈسٹری میں برے لوگوں کو ایوارڈز دئیے جا رہے ہیں ایسا نہیں‌ہونا چاہیے ، جن کا حق ہے ایوارڈ اسی جو دیا جانا چاہیے.یاد رہے کہ اس سے قبل اداکار علی عباس اور عفت رحیم نے بھی ایوارڈز کے فئیر ہونے پر سوال اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ ایوارڈز زیادہ تر سفارشی ہوتے ہیں اسلئے ہمیں ان پر یقین نہیں ہے.

  • پنجابی فلم رنگ عشق دا کا ٹریلر لانچ کر دیا گیا

    پنجابی فلم رنگ عشق دا کا ٹریلر لانچ کر دیا گیا

    سینئر ڈائریکٹر محمد پرویز کلیم اور پروڈیوسر ڈاکٹر کاشف ریاض کی میگا بجٹ کی پنجابی فلم رنگ عشقِ دا کا آج ٹریلر لان کر دیا گیا ہے. تقریب میں فلم کی کاسٹ ہیرو علی عباس،مدیحہ شاہ،سید سیکی ،حسن عباس ،آمنہ راہی،زاریا خان سمیت شوبز شخصیات نے شرکت کی. اداکارہ مدیحہ شاہ نے ایک عرصے کے بعد کسی شوبز کی تقریب میں شرکت کی .وہ عموما کسی بھی تقریب میں کم ہی دکھائی دیتی ہیں. اس تقریب میں جاناں ملک نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی. ڈائریکٹر الطاف حسین ایک عرصے کے بعد کسی تقریب میں دکھائی دئیے. فلم کے

    ہیرو علی عباس نے کہا کہ ہم نے ایک اچھی فلم بنائی ہے اس کی کہانی ایسی ہے کہ ہر کوئی اس سے خود کو ریلیٹ کر سکے گا اور اس کا میوزک بھی بہت اچھا ہے خوبصورت گانوں سے شائقین یقینا محظوظ‌ ہوں گے. سینئر اداکارہ نغمہ بیگم نے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے یہ دیکھ کر کہ نئے بچے اچھا کام کررہے ہیں. مجھے جب جب اچھا کام ملے گا میں کرتی رہوں گی. انہوں نے کہا کہ ایک بار کا فنکار ہمیشہ کا فنکار ہوتا ہے . میں آج بھی کام کرکے اچھا محسوس کرتی ہوں. سعید سہکی نے کہا کہ ہم سب نے مل کر اچھا کام کرنے کی کوشش کی ہے امید ہے کہ شائقین کو یہ فلم ضرور پسند آئیگی.

  • علی عباس  کو کیسے کردار کرنا پسند ہیں ؟‌

    علی عباس کو کیسے کردار کرنا پسند ہیں ؟‌

    سینئر اداکار علی عباس نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ مجھے نیگیٹو کردار کرنے زیادہ اچھے لگتا ہے ان میں اداکاری کا بہت زیادہ مارجن ہوتا ہے. اور میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ایسے کردار کروں جو شائقین پسند کریں چاہے وہ نیگیٹو ہوں یا پازیٹیو. علی عباس نے مزید کہا کہ قلندر ڈرامے میں میرا کردار پچھلے ڈرامے سے ہٹ کر ہے، پچھلے ڈرامے میں میرا کردار بہت نیگیٹیو تھا اور میں چاہتا تھا کہ اس بار کچھ پازیٹیو کرنا چاہیے. میں شکر گزار ہوں‌ اپنے مداحوں کا کہ انہیں میری اداکاری اور میرا کردار قلندر میں اچھا لگ رہا ہے. علی عباس نے مزید کہا کہ مجھے سیاست میں بالکل بھی دلچپسی نہیں ہے، اور نہ ہی میرا کوئی پسندیدہ سیاستدان ہے. انہوں نے کہا کہ میں

    نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ میں سوچ سمجھ کر بولوں اور میرا جو امیج ہے کہ میں سنجیدہ کردار کرتا ہوں تو میں سنجیدہ بھی ہوں گا تو ایسا نہیں‌ہے میں بہت زیادہ ہنسی مذاق کرنے والا انسان ہوں. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر مجھے کامیڈی کردار ملے تو میں ضرور کروں گا مجھے کامیڈی کرنا اچھا لگتا ہے.کامیڈی بھی آسان کام نہیں ہے لیکن اداکار کو ہر کردار کو چیلنج سمجھ کر قبول کرنا چاہیے جب مداح آپ کے ساتھ ہوں تو پھر اداکاری کے پراجیکٹس میں رسک لے لینا چاہیے.

  • لاہور میں علی عباس کے ڈرامہ کی شوٹنگ جاری

    لاہور میں علی عباس کے ڈرامہ کی شوٹنگ جاری

    لاہور میں علی عباس کے ڈرامہ کی شوٹنگ جاری
    وسیم عباس کے بیٹے علی عباس آج کل لاہور میں موجود ہیں اور یہاں ان کے ڈرامہ کی شوٹنگ جاری ہے ۔علی عباس کا سپیل 30تاریخ سے شروع ہو گا لیکن باقی کاسٹ کے ساتھ لاہور سے باہر شوٹنگ چل رہی ہے ۔علی عباس کے ساتھ اس کی کاسٹ میں منیب بٹ ،میکال ذوالفقار ، کاشف محمود ،کومل میر ،علی طاہر ،اسماءعباس و دیگر شامل ہیں ۔ڈرامہ سیریل قلندر کے ڈائریکٹر کا نام صائمہ وسیم ہے لکھاری ثمرہ بخاری ہیں جبکہ پرڈیوسر میکال ذوالفقار ہیں ۔علی عباس اس ڈرامے میں ایک اہم کردار میں نظر آرہے ہیں ۔علی عباس کا شمار پاکستان کے ڈرامہ انڈسٹری کے ان فنکاروں میں ہوتا ہے

    جو یہ نہیں دیکھتے کہ جو کردار ان کو آفر کیا گیا ہے وہ منفی ہے یا مثبت بلکہ وہ کردارکو دیکھتے ہیں اس میں اداکاری کی کتنی گنجائش ہے ۔علی عباس نے منفی کرداروں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ علی عباس بہت زیادہ بولڈ اور بلنٹ بھی ہیں جو چیز اچھی نہ لگے بول دیتے ہیں لگی لپٹی نہیں رکھتے ۔وہ کہتے ہیںپاکستان میں جو ایوارڈز دئیے جاتے ہیں وہ سفارشی ہوتے ہیں یوں وہ ایوارڈز دئیے جانے کے عمل پر اکثر انگلی اٹھاتے ہیں ۔علی عباس کہتے ہیں کہ وہ جو بھی پراجیکٹ سائن کرتے ہیں سوچ سمجھ کر کرتے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسا کوئی کردار یا کہانی نہ ہو جو شائقین کے لئے بوریت کا باعث بنے ۔علی عباس چند دن تک قلندر کی شوٹنگ کےلئے لاہور میں ہی موجود رہیں گے ۔

  • ماہرہ خان کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ گالیاں پڑی تھیں،علی عباس کا انکشاف

    ماہرہ خان کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ گالیاں پڑی تھیں،علی عباس کا انکشاف

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار علی عباس نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ماہرہ خان کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ گالیاں پڑی تھیں۔

    باغی ٹی وی : اداکار علی عباس حال ہی میں ایک آن لائن شو میں شریک ہوئے جہاں میزبان نے ان سے پوچھا کبھی آپ کو سوشل میڈیا پر ٹرول کیا گیا ہے جس پر علی عباس نے جواب دیا بالکل مجھے سوشل میڈیا پر ماہرہ خان کی وجہ سے گالیاں پڑی تھیں۔

    علی عباس نےمزید کہا کہ سوشل میڈیا پر ماہرہ خان کی ایک تصویر آئی تھی دوپٹے کے بغیر حالانکہ ماہرہ خان نے پورے کپڑے پہنے ہوئے تھے، ان کا لباس بالکل بھی غیر مناسب نہیں تھا کہ جس کی وجہ سے ان پر تنقید کی جاتی لیکن پھر بھی لوگ ان پر بہت زیادہ تنقید کررہے تھے اور سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شور مچا ہوا تھا کہ ماہرہ خان ڈوپٹے کے بغیر کیوں آگئیں۔

    اداکار نے بتایا کہ میں نے ماہرہ خان کی تصویر کے ساتھ سوشل میڈیا پر ان کا ساتھ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر انہوں نے دوپٹہ نہیں پہنا تو چلو تم دیکھنا بند کردو لیکن ماہرہ خان کی حمایت کرنے پر مجھے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ گالیاں پڑیں۔

    اداکار کا مزید کہ لوگوں نے مجھے اتنا زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا اور ایسی گالیاں دیں جو مجھے زندگی میں کبھی کسی نے نہیں دیں۔ مجھے لوگوں کا رویہ بہت برا لگا اس واقعے کے بعد میں نے سبق سیکھ لیا کہ مجھے دوبارہ ایسا نہیں کرنا۔

    واضح رہے کہ ماہرہ خان کی گزشتہ برس مئی میں کراچی پریس کلب کے باہر فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کیا گیا جس میں عوام کی بڑی تعداد کے ساتھ پاکستانی فنکاروں ماہرہ خان، شہریار منور، نادیہ حسین، صنم جنگ، گلوکار فلک شبیر، سماجی کارکن جبران ناصر اور سیاسی کارکن فاروق ستار سمیت کئی مشہور شخصیات نے شرکت کرکے مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تھا

    سوشل میڈیا پر جہاں فنکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے حق میں اٹھائی جانے والی آوازوں کو سراہا گیا تھا وہیں لوگوں کی بڑی تعداد نے صرف اس بات پر فوکس کیا کہ ماہرہ خان احتجاج میں بغیر دوپٹے کے شریک ہوئی ہیں۔ اور لوگوں نے ان پر تنقید کرنی شروع کردی۔

    سوشل میڈیا پر لوگوں نے ماہرہ خان کی احتجاج میں شرکت کی تصاویر اور ویڈیوز پر تنقیدی تبصرے کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’آپ مسلمان ہیں آپ کا دوپٹہ کہاں ہے؟‘‘ جب کہ کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ دوپٹہ نہ لینے سے تمہاری پکڑ ہوگی۔

    سوشل میڈیا پر جب تنقید حدسے بڑھ گئی تو علی عباس کے علاوہ یاسر حسین اور اداکار احمد علی بٹ نے ماہرہ خان کی حمایت میں آواز اٹھائی اور تنقید نگاروں کو جواب دیا تھا کہ ’’جن لوگوں کو دوپٹہ نظر نہیں آیا، ان کو عقل کہاں سے نظر آئے گی، شرم اپنی نظروں میں ڈھونڈو، عورت کے لباس میں نہیں، کپڑوں سے نکل کر اصل مسئلے پر بات کرو خدا کا خوف کرو-