Baaghi TV

Tag: علی عمران شاہین

  • دیوالیہ ہوئےتو کیا ہو گا؟ حق سچ :خصوصی تحریر:-علی عمران شاہین

    دیوالیہ ہوئےتو کیا ہو گا؟ حق سچ :خصوصی تحریر:-علی عمران شاہین

    ہمارے ملک کو ایک عرصے سے "دیوالیہ، دیوالیہ "کا لفظ بول بول کو اتنا ڈرایا جا رہا ہے کہ جیسے دیوالیہ ہونے کے بعد ہم سب زندہ درگور ہو جائیں گے،حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم واقعی دیوالیہ ہو جائیں تو دو فائدے ہوں گے۔

    نمبر1: ہمیں اس کے بعد باہر سے کوئی قرض نہیں ملے گا، خاص طور پر عالمی مالیاتی ادارے جب کہ دوست ممالک کو کوئی نہیں روک سکتا،

    اب اگر بیرونی قرضے نہ ملیں تو یہ ملک خصوصاً نچلے عوام کے لیے بہت اچھا ہے کہ قرضوں کا انہیں تو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا اور لگ بھگ سارا قرضہ حکمران اور طاقتور ترین اشرافیہ کی عیاشی اور موج مستی میں اڑتا ہے جب کہ اس کا اصل اور سود عوام کو ادا کرنا پڑتا ہے اور یہ سود اور قرضہ عوام و ملک دونوں کے لیے سخت نقصان دہ ہیں۔

    اگر ہم اپنی اوقات اور جیب کے مطابق خرچ کریں تو جیسے غریب آدمی چند ہزار میں بھی گزارہ کراور نظام چلالیتا تو ایسے ہی سب کچھ چل سکتا ہے، لیکن اس کے مقابل امیروں کا لاکھوں کی محض عیش اڑا کر بھی جی نہیں بھرتا۔

    (اگر 4 کروڑ کی امپورٹڈ گاڑی میں نہ بیٹھا جائے اور بے حساب پیسے سے کلبوں کی موج مستی نہ کی جائے تو انسان کتنا گھس کر کمزور ہو گا ؟ یہی سوچ کر حساب لگا لیں ، یہی فرق ہے۔)

    نمںر2: دیوالیہ ہونے کے بعد کسی دیوالیہ ملک پر یہ لازم نہیں رہتا کہ وہ بیرونی قرضے اور ان کا سود اس وقت تک ادا کرے کہ جب تک وہ خود یہ نہیں سمجھ لیتا اور اسکا اعلان کر نہیں دیتا کہ اب اس کے حالات مکمل ٹھیک ہو چکے ہیں اور اب وہ قرضہ اور اس کا سود ادا کر سکتا ہے۔

    شاید آپ کے علم میں ہو کہ پاکستان نے اس سال 80 کھرب کے سالانہ بجٹ میں سے 38 کھرب بیرونی قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے رکھے ہیں

    اب اگر ہمارا ملک دیوالیہ ہو جائے تو یہ قرضہ اور سود دوبارہ مکمل بحالی تک معاف ہی رہے گا۔

    یوں ذرا سوچیں ،اگر ملک کم از کم ایک سال دیوالیہ رہتا ہے تو نہ اسے نئے قرض کا بوجھ اٹھانے کو ملے گا اور نہ پرانی ادائیگی کرنا پڑے گی،اگر ہم وہی 38 کھرب اپنے ملک پر خرچ کریں تو کتنا بڑا فائدہ ہو سکتاہے ؟ آپ خود تصور کر لیں۔

    دیوالیہ ہونے کا نقصان۔
    دیوالیہ ہونے کے بعد آپ باہر اپنا مال بھیج یعنی برآمدات کر سکتے ہیں لیکن درآمدات مشکل ہو جاتی ہیں کیونکہ خریداری کے لیے ڈالر موجود نہیں ہوتے،

    اب ایک ملک یہ کہہ دے کہ ہم دیوالیہ ہو چکے لہذا صرف انتہائی ضروری درآمدات ہی کریں گے تو اس پر کوئی پابندی نہیں رہتی جو اب ہم پر اس وقت لاگو ہے۔

    اس سب کا سراسر نقصان حکمران و طاقت ور ترین اشرافیہ کو ہوتا ہے کہ جن کے کتے اور بلیوں کی مہنگی ترین خوراک بھی باہر سے آتی ہے۔ ان کا اپنا تو نہ ہی پوچھیں جو پھل سبزیاں بھی غیر ملکی کھاتے ہیں،

    (دوسری طرف غریبوں کے کتے بلیاں گلیوں محلوں کا گند کچرا کھا کر بھی زندہ و صحت مند رہتے ہیں جب کہ یہ اسی اشرافیہ کے لیے زندگی موت کا مسلہ ہے )

    آپ کو یاد ہو گا کہ چند ہفتے پہلے جب ہماری نئی حکومت نے درآمدات پر پابندی لگائی تھی تو اس میں کتوں بلیوں کی خوراک،ان کی ادویات اور ویکسین اور دیگر بیش قیمت انسانی غذائی اشیاء کو پہلے دن سے مستثنٰی رکھا گیا تھا۔ یہیں سے یہ سب کھیل سمجھ لیں۔

    اب آپ خود بتائیں کہ ہم عام شہری روزانہ کتنی ایسی چیزیں کھاتے ہیں؟ جو براہ راست باہر سے پیک شدہ آتی ہیں۔(یہ سب آپ کو وہاں ہی ملے گا جہاں آپ شاید کبھی کبھار سیر کے لئے ہی گئے ہوں گے )

    دیوالیہ ہونے کے نقصان کو سمجھنے کے لیے یہی کافی ہے

    یہ بھی یاد رکھیں کہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں چین روس جاپان امریکا میکسیکو کینیڈا ارجنٹائن تک کئی کئی بار دیوالیہ ہو چکی ہیں لیکن وہ آج بھی قائم و مضبوط ہیں۔

    دیوالیہ ہونا کسی ملک کی بنیاد یا عام عوام کا مسلہ قطعاً نہیں،یہ صرف اور صرف ایک خاص کلاس کا مسلہ ہے اور وہ اسے بنیاد بنا کر آج ملک کے غریب و پسے عوام کی ہڈیوں کا گودا بھی نچوڑ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔

    ( سری لنکا کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے، اس پر پھر بحث ہو گی )

    ایک اور بات یاد رکھیں کہ دیوالیہ ریاست کے بیرون ملک جانے والے ہوائی یا بحری جہاز روکے جانے کا خطرہ ہوتا ہے جب کہ پاکستان کے پاس تقریبآ سارے ہوائی اور بحری جہاز لیز یا کرائے پر ہیں جنہیں روکا نہیں جاسکتا اور پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے جس کی افراتفری عالمی تشویش کا باعث ہے ۔ اس لیے عالمی طاقتوں کی کوشش یہ ہے کہ پاکستان پر مسلسل دباؤ رکھا جائے اور اسے گھٹنوں پر لایا جائے اور اسے سب سے پہلے ایٹمی قوت سے محروم کیا جائے ، محض دیوالیہ سے ان کا پروگرام پورا نہیں ہو گا بلکہ مزید دور ہو جائے گا۔

    ( آپ کو بھی اس پر اپنی ماہرانہ رائے کا حق حاصل ہے لیکن لغو کلامی بازی سے پرھیز فرمایا،علمی و تحقیقی بات کی جائے )

  • اردوہی کیوں ضروری ہے؟خاص تحریر:علی عمران شاہین

    اردوہی کیوں ضروری ہے؟خاص تحریر:علی عمران شاہین

    سات سال بھی بیت گئے اور عدالت عظمیٰ کا نفاذ اردو کا فیصلہ اور حکم بھی کاغذات اور فائلوں کی دبیز تہوں میں دفن ہی رہا۔پاکستان کے منصف اعظم کی کرسی پر محض چند دن کے لیے متمکن ہونے والے منصف جواد ایس خواجہ نے اپنے وداع کے دن یہی آخری فیصلہ سنایا تھا کہ”آئین کا حکم پورا کیا جائے اور اردو کو فوری اور ہر سطح پر مکمل نافذکر دیا جائے۔”

    ویسے کیسی حیرت کی بات ہےکہ ہر سطح پر نفاذ اردو حضرت قائد اعظم کا بھی حکم تھا جنہوں نے ڈھاکا میں کھڑے ہوکر فرمایا تھا کہ” ہماری قومی و سرکاری زبان صرف اور صرف اردو ہو گی اور جو کوئی اس پر آپ کو گمراہ کرے گا وہ آپ کا سب سے بڑا دشمن ہو گا۔”پھر 1948، 1956 ،1961 اور پھر 1973 کا آئین بنا تو ہر جگہ اردو کو قومی و سرکاری زبان تسلیم کیا گیا اور موجودہ آئین میں واضح طور پر دفعہ251 کی شق 1 میں لکھا گیا کہ 15 سال کے اندر اندر قومی زبان اردو کو ہر سطح پر لاگو اور نافذ کر دیا جائے گا لیکن افسوس در افسوس یہ بھی نہ ہو سکا۔

    اسی پر پاکستان کے حقیقی محب و درد مند نفاذ اردو کی درخواست لے کر 2003 میں عدالت عظمیٰ پہنچے اور قائد اور آئین کا حکم پورا کرنے کے لیے التجائیں کیں لیکن یہ درخواستیں ریکارڈ روم کا حصہ بن گئیں تاآنکہ جواد ایس خواجہ نے 2015 میں انہیں وہاں سے کھوج نکالا اور پھر عمل درآمد کا حکم دیا۔کس قدر حیرت کی بات ہے کہ حضرت قائد ،آئین اور عدالت عظمیٰ بلکہ اس کے منصف اعلیٰ تک کا حکم سب کچھ 75 سال سے پاؤں تلے روندا جا رہا ہے اور کسی کو یہاں کوئی توہین آئین شکنی یا توہین عدالت و جج یا آئین کی یوں پامالی جو غداری بھی ہے معمولی بھی نظر نہیں آتی۔

    ابھی ہم نے چند ماہ پہلے دیکھا کہ اسی عدالت عظمیٰ کے منصف اعظم نے کراچی میں بیسیوں غریب و بے کس لوگوں کا آشیانہ نسلہ ٹاور کس بے دردی سے ریزہ ریزہ کروا دیا کہ حضور کا اقبال بلند رہے اور حکم نافذ ہوتا نظر آئے اور یہ سب ہو گیا لیکن اگر کسی حکم پر کبھی عمل نہیں ہوا تو وہ نفاذ اردو کا معاملہ ہے۔
    یہ کتنی کھلی حقیقت ہے جو ہم آج تک سمجھ نہیں سکے یا سمجھنے پر تیار نہیں کہ قوم کو جاہل اجڈ اور غیر ترقی یافتہ رکھنے میں سب سے بڑی وجہ اردو کا نافذنہ ہونا ہے لیکن ہم اس کو ماننے پر تیار نہیں۔ پوری دنیا پر نگاہ دوڑا لیں، ہر ترقی یافتہ قوم آپ کو اپنی زبان ہی پڑھتی،اس میں پڑھاتی اور سیکھتی سکھاتی ملے گی سوائے ہمارے بدقسمت ایک ملک کے۔

    براعظم یورپ میں 28 ملک گنے جاتے ہیں لیکن سوائے برطانیہ کے کسی کی زبان انگریزی نہیں اور سب کا نظام شاندار و مثالی اور بہترین چل رہا ہے.
    جاپان ہو یا چین، روس ہو کوریا،سارا یورپ ہو یا ترکی بلکہ ان سے بھی آگے ایران تک میں سب کا سب کچھ ان کی اپنی مقامی زبانوں میں ہے،جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی وہ بھی سیکھتے ہیں، اور وہ ہم سے کتنے آگے ہیں؟ بتانے کی ضرورت نہیں اور ہم عقل کے سارے پردوں کو تالے لگا کر اور اپنی زبان اردو چھوڑ کر انگریزی کی پوجا میں مصروف بلکہ اس گوری ماتا کے قدموں میں اپنی ساری نسل کو ذبح کر رہے ہیں، کیونکہ فیل ہونے کو جو مضمون رکھا گیا ہے وہ انگریزی ہی تو ہے۔

    یہ بھی حقیقت کتنی بار کر ہم دیکھ چکے اور جب گزشتہ حکومت نے سارا نظام تعلیم مکمل انگریزی کیا تو تاریخ میں سب سےزیادہ طلبہ فیل ہو کر ہمشیہ کے لیے ناکارہ قرار پا گئے، وجہ؟ صرف بدیسی زبان انگریزی۔

    ذرا سوچئیے کہ
    اگر وہ سب ملک سب کچھ اپنی زبانوں میں پڑھ سیکھ بول کر آگے جا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟
    چند دن قبل مجھے ایک سیاح کی بنگلا دیش میں سیاحتی ویڈیو دیکھنے کا موقع ملا تو وہ بتا رہا تھا کہ یہاں سب گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں بنگلا زبان میں ہیں اور مجھے سمجھنے میں شدید دقت پیش آرہی ہے۔

    جی ہاں ، یہ بات ہے بنگلا دیش کی اور کسی کو دقت ہوتی ہے ہوتی رہے بنگلادیش لیکن اسی روش پر قائم ہے جس پر سب ترقی یافتہ و مہذب قومیں عمل پیرا ہیں اور آج ہمارے ہاں سمیت ہر جگہ اسی بنگلا دیش کی ہی تو مثالیں دی جاتی ہیں کہ اس نے یہ کمال کردیا، وہ کردیا اتنی ترقی کر لی اتنا آگے نکل گیا، لیکن اس کے اس پہلو پر کوئی غور نہیں کرتا۔

    اردو وہ زبان ہے کہ جو آج دنیا میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھی مجموعی طور پر دوسری بڑی زبان قرار دی جاتی ہے اور باقی سب لوگ تو اسے پانچ بڑی عالمی زبانوں میں ضرور شامل کرتے ہیں اور یہ کیفیت قیام پاکستان سے بہت پہلے کی ہے۔

    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم جدید علوم بغیر انگریزی کے کیسے حاصل کریں ؟ لیکن انہیں اپنے سے بہت چھوٹے لیکن بہت ترقی یافتہ ، ہالینڈ ، پولینڈ ناروے کے ساتھ ترکی اور ایران نظر نہیں آتے جو یہ سب کچھ اپنی زبانوں میں کررہے ہیں،ہم نے انگریز کی غلامی کی ، اس نے ہم پر انگریزی لادی ، اس کا سو ڈیڑھ سو سال اور آزاد کے بعد 75 سال گزار کر بھی ہم میں آج کتنے ہیں جنہیں انگریزی ٹھیک آتی ہو ؟

    حال یہ ہے کہ پاکستان کا 90 فیصد میڈیا اردو میں ہے اور جو دو انگریزی چینل شروع ہوئے تو ان میں ایک چند ماہ بعد بند اور دوسرا اردو ہو گیا، کہ یہ سب ہمارے ہاں بدیسی ہے،ہم نے اردو کو چھوڑا، انگریزی کو اپنایا اور حال یہ ہے کہ باہر نکل کر دیکھیں بالکل صحیح و درست انگریزی شاید ہی کسی کو آتی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ اس کا ہمارے معاشرے و سماج اور ہمارے رگ و پے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

    سچی بات یہ ہے کہ اگر آج بھی ہم اردو کو مکمل نافذ و رائج کر دیں تو قوم بہت تیزی سے آگے جا سکتی ہے اور ہم نے جو قابلیت کا معیار انگریزی کو بنایا ہے اس سے جب نجات ملے گی تو بے شمار ٹیلنٹ ضائع نہیں ہو گا بلکہ ہمارے کام آئے گا۔ ہماری اگلی نسل لفظوں سطروں کی رٹو نہیں بنے گی بلکہ علم سیکھے گی،
    بطور مسلمان یہ بھی یاد رکھیں کہ عربی کے بعد دین کی تحقیق و تحریرکا سب سے زیادہ کام اردو میں ہوا ہے اور شاید جلد پہلے نمبر پر ہو گا جب کہ انگریزی میں تو اس کا پاسنگ بھی نہیں۔

    اردو ایسی کمال زبان ہے کہ گورے بھی اسے بہت جلد وباآسانی سیکھ لیتے ہیں جب کہ انگریزی کا حال بتانے کی ضرورت نہیں۔اسی ضمن کی ایک اور بات،
    اردو دنیا کی وہ باکمال زبان ہے کہ جس میں دنیا کی ہر زبان کے حروف و حرکات ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جب کہ اسے چھوڑ کر سب کچھ انگریزی ماتا کے حوالے کرنے والے یاد رکھیں کہ عربی زبان کے اکثر حروف و حرکات کا متبادل انگریزی میں ہے ہی نہیں اور یوں ہماری اگلی نسلیں کلمہ طیبہ تک ٹھیک نہیں پڑھ پائیں گی اور یہ ہم دیکھ بھی رہے ہیں ۔

    ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی شدید کمی ہے تو انگریزی کے غلام تیار کرکے ہم اپنا بچا کھچا ٹیلنٹ بھی باہر کی دنیا کے حوالے کر دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ برین ڈرین ہورہا یعنی قابل لوگ اور قابلیت باہر جا رہی ہے،یہ تو ہونا ہی ہے جب آپ نے اپنا آپ سمجھا ہی نہیں تو نتیجہ یہی تو ہوگا۔

    آج کی دنیا کی سب سے بڑی معاشی و ترقی یافتہ طاقت چین نے تو اپنے ملک میں صرف اپنی زبان رکھی ہے اور انگریزی پر مکمل پابندی ہی عائد کی ہوئی ہے، اب بتائیے کہ وہ اتنی زیادہ اور انتہائی تیز رفتار ترقی کیوں کر رہا ہے؟ ویسے ہم نے اگر بدیسی زبان ہی اپنانی ہے تو انگریزی ہی کیوں ؟ چینی کیوں نہیں ؟ جو دوست بھی ہے اور دروازے پر بھی۔ لیکن اصل میں ہم جن کے غلام بن چکے ان سے نجات چاہتے بھی نہیں۔

    کمال حیرت کی ایک اور بات سنیں کہ ہمیں انگریزی کا غلام رکھنے کے لیے سب سے زیادہ تعلیمی فنڈ و معاونت جرمنی اور ہالینڈ دیتے ہیں جن اپنے ہاں انگریزی ہے ہی نہیں۔ یوں غلامی کی تہ در تہ چادریں پر ہم تن کر سخت سے سخت ہی ہوئے جا رہی ہیں۔
    اللہ کرے ہمیں آج بھی کچھ سمجھ آ جائے

  • جنرل ضیاءالحق شہیدکون تھا..؟تحریر:-علی عمران شاہین

    جنرل ضیاءالحق شہیدکون تھا..؟تحریر:-علی عمران شاہین

    شہید جنرل ضیاء الحق رحمہ اللہ وہ تھا

    *۔۔۔۔۔۔جس نے1977میں ملک کو انتہائی نازک مرحلے جب پر طرف افراتفری و خونریزی جاری تھی بروقت ایکشن کرکے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچایا تھا،
    *۔۔۔۔۔۔جس نے ملک سے تمام علیحدگی پسند باغی گروپوں کو انتہائی اعلیٰ حکمت عملی سے دوبارہ قومی دھارے میں لا کر محب وطن بنا تھا۔تب نسیم ولی خان مٹھائی کےٹوکرے لے کر اسلام آباد ایوان صدر پہنچی تھی۔
    *۔۔۔۔۔۔اتنا شریف و ملنسار تھا کہ جی ایم سید کو اس کے آبائی علاقے سن سندھ میں گھر جا کر ملا اور ذوالفقار علی بھٹو کے جبر سے نجات کے لئے جاری سندھ علیحدگی کی سب سے بڑی اور منظم ترین تحریک” سندھو دیش” کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔
    *۔۔۔۔۔۔ذوالفقار علی بھٹو کے ظلم سے ستائے اور علیحدگی و دہشت گردی پر آمادہ و پیادہ افغانستان مفرور بلوچ اور پشتون طبقات کو واپس ملک لایا تھا،ظالمانہ حیدر آباد ٹریبونل ختم کیا،ہزاروں شہریوں کی قاتل ایف ایس ایف ختم کی۔
    *۔۔۔۔۔۔ذوالفقار علی بھٹو کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے جیلوں میں پڑے دسیوں ہزار بےگناہ سیاسی کارکنوں اور شہریوں کو رہائی عطا کی۔
    *۔۔۔۔۔۔۔جس نے پہلی بار صوم و صلوۃ و زکوۃ کا سرکاری اہتمام و حکم جاری کیا،صلا ۃ کمیٹیاں محلے کی سطح تک بنیں ،نماز کا سرکاری سطح پر باقاعدہ حکم جاری کرکے ادائیگی شروع کروائی، زکوٰۃ و عشر کمیٹیاں بنیں، زکوٰۃ کی حقداروں تک تقسیم کا نظام تشکیل دیا۔
    *…..قومی مجلس شوریٰ تشکیل پائی جو جید علمائے کرام و اسکالرز پر مشتمل تھی کہ کوئی کام غیر اسلامی نہ ہو اور اگر ہو تو اسے روکا جاسکے۔
    *…..توہین مذہب و توہین اسلام ، توہین نبی مکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،انبیائے کرام علیھم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرباقاعدہ سزا کے قوانین متعارف کروائے جو آج تک موجود اور دشمنوں کے لیے سردردی کا باعث ہیں۔
    *۔۔۔۔۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کرکےقادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی،ملک میں حدود آرڈیننس سمیت بےشماراسلامی قوانین بنوائے اور رائج کئے۔
    ،سرکاری افسران کے رویے پر احتساب کا نظام بنایا
    *۔۔۔۔۔۔۔ہر تقریب کے آغاز میں تلاوت اور نعت کا اہتمام شروع کروایا، جو آج بھی ہر جگہ رائج ہے۔
    *۔۔۔۔۔۔۔فوج کو ایمان تقویٰ جہاد فی سبیل للہ کا ماٹو دیا،فوج کو پاکستانی رنگ میں رنگا،قرآنی جہادی آیات و احادیث ہر طرف عام کیں ،فوجی کاشن تک اردو میں جاری کروائے،
    *۔۔۔۔۔۔نئی اسلامی صدی کے آغاز پر اقوام متحدہ میں تقریر کی تووہاں پہلی اور تاحال آخری بار تلاوت قرآن کا اہتمام کروایا
    *۔۔۔۔۔۔ ملک کا وقار اتنا بلند کیا کہ پندرویں صدی ہجری کے آغاز پر اقوام متحدہ میں خصوصی عالمی اجلاس ہوا تو سارے عالم اسلام نے انہیں متفقہ طور پر اپنا لیڈر تسلیم کرتے ہوئے بطور نمائندہ عالم اسلام وہاں خطاب کے لیے چنا اور انہوں نے اس کا حق ادا کیا۔
    *۔۔۔۔۔۔انتہائی خفیہ مہارت سے تیزی کے ساتھ ایٹمی پروگرام مکمل کیا اور ملک کو ایٹمی قوت بنا دیا، جس کا اظہار ڈاکٹر عبد القدیر خان سمیت سبھی ایٹمی سائنسدان برملا کرتے رہے ۔
    *۔۔۔۔۔روس کے خلاف جہاد لڑ کر6 مسلم ریاستیں آزاد کروائیں،جہاں اسلام کو جڑ سےاکھاڑ دیا گیا تھا وہاں دوبارہ اسلام زندہ کردیا۔دنیا میں ناہید ہوچکا نظریہ جہاد زندہ کیا، وسط ایشیا کی مسلم ریاستیں آج بھی انہیں اپنا محسن اعظم سمجھتی ہیں۔
    *۔۔۔۔۔۔کیمونزم کا دنیا سے خاتمہ کردیا،اسی سے یوگو سلوایہ ٹوٹا اور بوسنیا و کوسووا کی شکل میں دو نئے مسلمان ملک یورپ میں بن گئے۔
    *….. ملک کے آئین میں اسلامی حدود آرڈینینس سمیت بہت سے اسلامی قوانین متعارف و داخل کئے، وفاقی اسلامی شرعی عدالت اس کے سپریم کورٹ و ہائیکورٹ بینچز بنائے اور اسلامی نظریاتی کونسل تشکیل دے کر انہیں آئینی حیثیت دی۔
    *۔۔۔۔۔۔دینی طبقات کو بلا تفریق مسلک مضبوط کیا ۔
    مدارس کو بڑے پیمانے پر زمینیں مالی تعاون فراہم کیا،
    بے شمار نئے مدارس بنائے،
    مدارس کی سند کو ڈبل ایم اے تسلیم کیا اور دسیوں ہزار علمائے کرام سرکاری استاد و پروفیسر بنے۔
    (یہ سب اب ختم ہوچکا)
    *۔۔۔۔۔ معاشی استحکام اتنا رہا کہ 11سال میں کوئی چیز معمولی مہنگی نہ ہوئی، بھٹو نے جو زمانہ جنگ کا نظام خوراک بذریعہ راشن سسٹم لاگو کر رکھا تھا اسے مکمل ختم کر دیا۔ہر چیز ہر شخص کو عام خریدنےکی آزادی ملی جو پہلے نہ تھی۔
    *۔۔۔۔۔۔امریکا سے مالی و معاشی تعاون بھی لیا اور کبھی امریکا کو مداخلت کی اجازت بھی نہ دی
    *۔۔۔۔۔۔کشمیر اور خالصتان کی آزادی کی تحریکوں کا آغاز کرکے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا، جو آج بھی بھارت کے گلے کی ہڈی ہیں اور ان کی وجہ سے بھارت اس کے بعد پاکستان ہر کھلی جارحیت کبھی نہ کر سکا۔
    سارک تنظیم تشکیل دے کر بھارت کو ایک نئے جال میں پھنسا دیا جس میں آج تک ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔
    *۔۔۔۔۔۔سرکاری مال سے خود اور اپنے خاندان کو اس قدر دور اور صاف رکھا کہ شہادت کے وقت نہ اپنا ذاتی گھر تھا نہ پلاٹ نہ کوئی جائیداد، پینشن کے پیسوں سے نیا گھر بنا، اولاد وہاں منتقل ہوئی اور تب تک چودھری شجاعت کے گھر اہل خانہ مقیم رہے کہ بے نظیر نے اقتدار میں آتے ہی سرکار گھر خالی کروا لیا تھا۔
    *انہی جرائم پر بالآخر جام شہادت نوش کیا..
    حق مغفرت فرمائے عجب آزاد مرد تھا

    جنرل ضیاء الحق شہید کون تھا……. ؟؟
    #حق #سچ۔۔۔۔۔(علی عمران شاہین)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔