انسداد دہشت گردی عدالت بنوں نے ممبر قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم) کے سرکردہ رہنما علی وزیر کی دو نوں مقدمات میں ضمانت منظور کرلی.،عدالت نے ایک کیس میں 2 لاکھ مچلکے جبکہ دوسرے کیس میں80 ہزار مچلکے جمع کرنے کا حکم دیا ہے.
واضحرہے کہ علی وزیر کو 19 مئی کو شمالی وزیرستان میںاس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ میرانشاہ سے رزمک جارہے تھے.اس سے پہلے 14 جون کو بروز منگل پشاور ہائی کورٹ نے رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما علی وزیر کی 45 دن کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔جسٹس اعجاز انور اور جسٹس سید ایم عتیق شاہ پر مشتمل بنچ نے یہ حکم علی وزیر کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیا تھا جس میں حکومت کو ان کے خلاف درج مقدمات کی تعداد سے آگاہ کرنے اور حفاظتی ضمانت دینے کی ہدایت کی درخواست کی گئی تھی۔
Tag: علی وزیر

ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا

پشاور ہائی کورٹ نے علی وزیر کی راہداری ضمانت منظور کر لی
پشاور ہائی کورٹ میں ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کے خلاف درج مقدمات کی تفصیل اور درج ایف آئی آر کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی ہے ،، سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ایس ایم عتیق شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی عدالت نے علی وزیر کی 45 دن کی راہداری ضمانت منظور کرلی گئی،
سماعت شروع ہوتے ہی درخواست گزار وکیل نے استدعا کی کہ علی وزیر کے خلاف صوبے میں 14 مختلف ایف آئی آرز درج کئے گئے ہیں۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 5 ایف آئی آرز میں ہم نے ضمانت حاصل کرلی ہے۔ درخواست گزار کے خلاف اگر کوئی اور ایف آئی آر ہے تو اس کی تفصیل ہمیں فراہم کی جائے۔ درخواست گزار وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم عدالتوں میں پیش ہورہے ہیں, راہداری ضمانت دی جائے تاکہ متعلقہ عدالت میں پیش ہوں جائے۔ جسٹس اعجاز انور نے استدعا منظور کرتے ہوئے،14 دن کی راہداری ضمانت دے کر دوسرے عدالتوں میں پیش ہونے کی مہلت دی، وکیل درخواست گزار کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ علی وزیرکے خلاف صوبے کے مختلف علاقوں میں 9 ایف آئی آر درج ہے جس کے لئے سب جگہوں پہ اتنا جلدی پیش ہونا ممکن نہیں، جس پر عدالت نے علی وزیر کی 45 دن کی راہداری ضمانت منظور کر لی،،
چوتھا مقدمہ، علی وزیر کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا
رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی چوتھے کیس میں درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی
اے ٹی سی کراچی نے علی وزیر کی ایک لاکھ روپے کے عوض ضمانت منظور کر لی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملزم کسی اور مقدمہ میں گرفتار نہیں تو رہا کیا جائے، علی وزیر کے خلاف چوتھا مقدمہ کراچی بوٹ بیسن تھانے میں درج تھا علی وزیر کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں چار مقدمات درج ہیں علی وزیر کی تین مقدمات میں ضمانت پہلے منظور ہوچکی ہے
علی وزیر پر پی ٹی ایم کے کراچی میں پروگرام کے بعد سہراب گوٹھ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں رکن قومی اسمبلی علی وزیر ، پی ٹی ایم کی مرکزی قیادت سمیت کارکنان کو نامزد کیا گیا تھا۔پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد علی وزیر کی گرفتاری کی کوشش کی مگر خیبرپختونخواہ میں موجودگی کی وجہ یہ ممکن نہ ہوسکا جس کے بعد پولیس اور محکمہ داخلہ سندھ نے خیبرپختونخواہ حکومت سے گرفتاری اور حوالگی میں مدد طلب کی اور علی وزیر کو گرفتار کر لیا،علی وزیر جیل میں ہیں،
ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ
محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا
پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ
ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس

علی وزیرخرابی صحت کے باعث سینٹرل جیل سے جناح اسپتال منتقل
کراچی.: پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر کو سینٹرل جیل سے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
باغی ٹی وی : جیل پولیس کے مطابق پی ٹی ایم کے اسیر رہنما کو کمر میں درد اور بلڈ پریشر کی شکایت کے بعد پولیس کی بھاری نفری کی نگرانی میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
بینظیر بھٹو کے اصول ہمارے لئے ہمیشہ مشعل راہ رہیں گے،بلاول
پولیس حکام کے مطابق علی وزیر کو علاج کی غرض سے بکتر بند میں اسپتال لایا گیا جب کہ ان کی حفاظت پر جیل پولیس کے علاوہ علاقہ پولیس کی بھی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
علی وزیر کو دسمبر 2020 میں پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن کے خلاف کراچی کے تھانہ سہراب گوٹھ میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ان پر پی ٹی ایم کی ایک ریلی کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور تضحیک آمیز تقریر کرنے جیسے الزامات عائد ہیں جس پر انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔
نومبر 2021 میں سپریم کورٹ نے ان کی درخواست ضمانت منظور کر لی تھی لیکن ان کے خلاف شاہ لطیف تھانے میں بھی ایک ایف آئی درج تھی جس کی بنیاد پر انھیں رہائی نہیں مل سکی تھی۔ شاہ لطیف تھانے میں درج ایف آئی آر کے لیے اُن کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی-
عامر لیاقت کی قبر کشائی کا فیصلہ،سابقہ اہلیہ کا اپیل دائر کرنے کا اعلان
میر کلام وزیر نے کہا تھا کہ علی وزیر کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور ہوتی ہے تو دوسرا مقدمہ اور ایف آئی آر درج کر کے گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے۔
پشتون تحفظ تحریک کیا ہے؟
پشتون تحفظ تحریک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں رہنے والے پشتونوں کی سماجی تحریک ہے جس کا آغاز مئی 2014 میں ہوا۔ اپنے آغاز میں اس تحریک کی بنیاد محسود تحفظ تحریک کے نام سے ہوئی جس کا مقصد جنگ سے متاثرہ وزیرستان اور سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں زمینی مسماریوں کا خاتمہ اور سیکورٹی چوکیوں پر پشتونوں کی ذلت کی روک تھام کرنا تھا-
جنوری 2018 ء میں نقیب اللہ محسود کی کراچی میں پولیس مقابلے کے دوران ماروائےعدالت ہلاکت کے بعد اس تحریک کو عروج ملا اس کی مقبولیت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے اس کا نام "محسود تحفظ تحریک” سے تبدیل کر کے "پشتون تحفظ تحریک” رکھا گیا۔ اس تحریک کے سربراہ انسانی حقوق کے کارکن منظور پشتین ہیں جب کہ اہم رہنماؤں میں علی وزیر اور محسن داوڑ شامل ہیں-

علی وزیر کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا
علی وزیر کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا
سندھ ہائیکورٹ نے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی ایک اور مقدمے میں ضمانت منظور کرلی
سندھ ہائیکورٹ نے ضمانت کے عوض علی وزیر کو پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ ملزمان محسن داوڑ، منظورپشتین اورڈاکٹر جمیل کو گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی گئی جب کہ مقدمے میں نامزد تین ملزمان کی ضمانت کو بھی چیلنج نہیں کیا گیا
رکن قومی اسمبلی علی وزیر پر اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں تین مقدمات درج ہیں جن میں سے دو میں ان کی ضمانت منظور ہوچکی ہے۔علی وزیر کے خلاف مقدمات شاہ لطیف اورسہراب گوٹھ کے تھانوں میں درج ہیں
علی وزیر پر پی ٹی ایم کے کراچی میں پروگرام کے بعد سہراب گوٹھ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں رکن قومی اسمبلی علی وزیر ، پی ٹی ایم کی مرکزی قیادت سمیت کارکنان کو نامزد کیا گیا تھا۔پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد علی وزیر کی گرفتاری کی کوشش کی مگر خیبرپختونخواہ میں موجودگی کی وجہ یہ ممکن نہ ہوسکا جس کے بعد پولیس اور محکمہ داخلہ سندھ نے خیبرپختونخواہ حکومت سے گرفتاری اور حوالگی میں مدد طلب کی اور علی وزیر کو گرفتار کر لیا،علی وزیر جیل میں ہیں،
زرداری کے بعد فریال تالپور گرفتار،بزدلوں کی حکومت ہے، بلاول کا رد عمل
زرداری کے پروڈکشن آرڈرکے مطالبہ پر فواد چودھری خاموش نہ رہ سکے
ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ
محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا
پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ
ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس

سندھ ہاؤس کا کمرہ سب جیل قرار،کس کو جیل میں ڈالنے کی ہوئی تیاری؟
سندھ ہاؤس کا کمرہ سب جیل قرار،کس کو جیل میں ڈالنے کی ہوئی تیاری؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کا بڑا مطالبہ پورا کر دیا گیارکن قومی اسمبلی علی وزیراسلام آباد پہنچ گئے علی وزیر کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا علی وزیر کو کراچی کی سنٹرل جیل سے رہا کیا گیا تھا جس کے بعد وہ اسلام آباد پہنچے دوسری جانب محکمہ داخلہ سندھ نے سندھ ہاؤس اسلام آباد کو سب جیل قرار دینے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا، علی وزیر کو سندھ ہاؤس اسلام آباد میں رکھا جائے گا جہاں اپوزیشن کے اراکین اسمبلی موجود ہیں، علی وزیر کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کےخلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ کاسٹ کیے جانے کا امکان ہے سندھ ہاؤس کا کمرہ نمبر 214 سب جیل قرار دیا گیا ہے، علی وزیر کی سکیورٹی کی سخت ہدایت کی گئی ہے
اپوزیشن نے علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا،شیزا فاطمہ،نوید قمر کا کہنا ہے کہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کے لیے درخواست جمع کروا دی، درخواست نوید قمر، محسن داوڑ اور ن لیگی رہنماؤں نے جمع کروائی ، اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں پی پی چیئرمین بلاول زرداری نے کہا تھاکہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کے لئے درخواست دیں گے، اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اپوزیشن نے علی وزیر کے پروڈوکشن آرڈر کے لئے درخواست دے دی ہے
اپوزیشن اراکین کا کہنا تھا کہ علی وزیر کے پروڈکش آرڈر جاری کئے جائیں اور علی وزیر کو بطور ممبر قومی اسمبلی عزت و احترام کے ساتھ اپنا ووٹ کاسٹ کرنےکا موقع دیا جائے، جب تک عدم اعتماد کی تحریک کا رزلٹ نہیں نہیں آ جاتا پارلیمنٹ لاجز میں رکھاجائے یہ اسکا حق ہے ،
قبل ازیں اسلام آباد میں سیاسی ماحول موسم کی شدت کے ساتھ ساتھ مزید گرم ہو رہا ہے، اپوزیشن کی ملاقاتیں، رابطے جاری ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے رکن قومی اسمبلی رفیق جمالی کی جانب سے دئیے گئے ظہرانے میں شرکت کی، ظہرانے میں پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے تمام اراکین قومی اسمبلی شریک تھے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی پی پی اراکین قومی اسمبلی کو تحریک عدم اعتماد کے اجلاس کے حوالے سے اہم ہدایات دیں
اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائش گاہ آمد@AAliZardari @BBhuttoZardari @CMShehbaz pic.twitter.com/EWLEdbdxYu
— Sardar Abid (@SardarAbidppp) March 31, 2022
قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائش گاہ آمد ہوئی ہے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان اور اختر مینگل کے درمیان سیاسی امور پر گفتگو کی گئی، ملاقات میں خالد مقبول صدیقی، شاہ زین بگٹی، خالد مگسی اور اسلم بھوتانی پر مشتمل سابق حکومتی اتحادی بھی موجود تھے یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی، شیری رحمان، خورشید شاہ، نوید قمر، محسن داوڑ و دیگر بھی ملاقات کے موقع پر موجود تھے
پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ آج اسپیکر قومی اسیمبلی کے پاس عدم اعتماد پر ووٹنگ میں تاخیر کا کوئی آئینی و اخلاقی جواز نہیں ہوگا،عمران خان کی مصنوعی اکثریت اب اقلیت میں تبدیل ہو چکی ہے،عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوئی تو آج عمران خان کے سلیکٹڈ حکومت کا آخری دن ہوگا، عمران خان کس غیبی امداد کے انتظار میں ہیں؟ ڈوبتی ہوئی حکومت اب مبینہ خط کو سہارہ بنا کر بچنا چاہتی ہے، ایم کیو ایم، بی اے پی، جمہوری وطن پارٹی اور آزاد ارکان کی اپوزیشن اتحاد میں شمولیت کے بعد عمران خان کو وزیراعظم کا منصب پر ایک دن بھی نہیں رہنا چاہئے تھا،کارکنان کو انتشار پر اکسانے سے بہتر ہے عمران خان استعفی دے دیں،
پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو ابھی تک قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی میں شرکت کی دعوت نہیں ملی،ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ خط جلسوں میں لہرایا جانے کے بجائے پارلیمنٹ میں پیش کیاجاتا، خط پر پارلیمنٹ میں بحث کرائی جاتی 40پنکچر والی اسٹریٹجی یہاں استعمال نہ کی جائے، یہ ڈرامہ عدم اعتماد کی تحریک کے دوران کیوں شروع ہوا؟خط جب موصول ہوا اسوقت ریلیزکیوں نہ ہوا، شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ خط سے قومی سلامتی کمیٹی کا کوئی تعلق نہیں،اسپیکر پر ہمارا کوئی اعتماد نہیں ،ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ خط وزیر اعظم نے اپنے سفیر سے کہہ کرلکھوایا اقتدار کو بچانے کے لیے ایسے طریقے اختیار کیے جارہے ہیں،بیک ڈور سے ہو یا فرنٹ ڈور سے ہم آئینی طریقہ اپنا رہے ہیں ،سپریم کورٹ نے کہا ہے کسی کو ریڈ زون آنے کی اجازت نہ دی جائے ،اگر پی ٹی آئی کے ایک لاکھ لوگ آئیں گے تو ہم نے راولپنڈی عہدیداروں کو بتادیا ہے
خالد مگسی کا کہنا تھا کہ منحرف ارکان پر حملے کی معاشرے میں اجازت نہیں،اپوزیشن اور حکومت میں کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہورہے،شاہ زین بگٹی کا کہنا تھا کہ حکومت کیوں پر امید ہے وہ ہی بتاسکتی ہے اپوزیشن کے نمبرز پورے ہیں عمران خان حکومت بچانے کی کوشش کررہے ہیں وزیراعظم نے کراچی کے لیے ریلیف پیکج دیا تو کیا بلوچستان نظر نہیں آیا
مہنگائی مکاؤ مارچ مہنگائی کے کپتان سے نجات کا مارچ ہے،مریم اورنگزیب
اتحادیوں کو منانے کا مشن،حکومت متحرک، اہم ملاقاتیں طے
عمران خان کو کہہ دیا وقت سے پہلے الیکشن کرواؤ،شیخ رشید
10 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے ؟سینیٹر پلوشہ خان
ہنڈیا آدھی تو تقسیم ہوچکی،ابھی بہت سے ادا کار تبدیل ہونے ہیں،چودھری پرویز الہی
ہم سلیکٹڈ کے سامنے نہیں جھکیں گے ،بلاول
مہنگائی مکاؤ مارچ،مریم نواز نے نکلنے سے پہلے کیا کیا؟ تصاویر سامنے آ گئیں
سرپرائیز آنا شروع، بزدار کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع
عدم اعتماد، وفاق، پنجاب کے بعد اگلی باری خیبر پختونخوا کی
پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہو گئی
پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان
بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا
جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں
خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا
عاصم نذیر بھی ن لیگ میں شامل ہو گئے؟ سرپرائز ہی سرپرائز
حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید
وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری
دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان
وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا
دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا
دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے
قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا
پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار
عمران خان کو اپنے بھی چھوڑ گئے، پارلیمنٹ لاجز میں ہلچل،فائلیں جلائی جانے لگیں
پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب،وزیراعظم کا قوم سے خطاب بھی متوقع

اپوزیشن کا علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ
اپوزیشن نے علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کر دیا
شیزا فاطمہ،نوید قمر کا کہنا ہے کہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کے لیے درخواست جمع کروا دی، درخواست نوید قمر، محسن داوڑ اور ن لیگی رہنماؤں نے جمع کروائی ، اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں پی پی چیئرمین بلاول زرداری نے کہا تھاکہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کے لئے درخواست دیں گے، اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اپوزیشن نے علی وزیر کے پروڈوکشن آرڈر کے لئے درخواست دے دی ہے
اپوزیشن اراکین کا کہنا تھا کہ علی وزیر کے پروڈکش آرڈر جاری کئے جائیں اور علی وزیر کو بطور ممبر قومی اسمبلی عزت و احترام کے ساتھ اپنا ووٹ کاسٹ کرنےکا موقع دیا جائے، جب تک عدم اعتماد کی تحریک کا رزلٹ نہیں نہیں آ جاتا پارلیمنٹ لاجز میں رکھاجائے یہ اسکا حق ہے ،
Submitted letter from joint opposition to the Speaker for @Aliwazirna50's production orders signed by @BBhuttoZardari @CMShehbaz @sakhtarmengal Maulana Asad and others. Hybrid regime's Speaker failed to issue Ali's production orders depriving S. Waziristan from representation. pic.twitter.com/G0yg5nSlIj
— Mohsin Dawar (@mjdawar) March 25, 2022
قبل ازیں اپوزیشن ممبرز کا وفد نوید قمر، ایاز صادق، محسن داوڑ اور دیگر جب علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کی درخوست جمع کرانے کیلیے قومی اسمبلی کے چیمبر میں پہنچے تو اسپیکر قومی اسمبلی کے دروازے پر تالا لگا ہوا ہے اور اوپر والے چیمبر میں جانے والی لفٹ بھی بند کردی گٸی تھی
دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی رکن قومی اسمبلی سید علی نواز شاہ سے اپوزیشن لابی میں ملاقات ہوئی ہے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد آزاد رکن قومی اسمبلی سید علی نواز شاہ نے تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کی حمایت کی یقین دہانی کروا دی
قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کے 159 اراکین نے شرکت کی، اسمبلی اجلاس میں ن لیگ کے 84 اراکین،پیپلز پارٹی کے 56 میں سے 55 اراکین،ایم ایم اے کے 15 میں سے 14 اراکین،اے این پی کے ایک رکن،بی این پی کے چار اراکین،آزاد دو میں سے ایک رکن نے شرکت کی، تین اراکین اپوزیشن کے اجلاس میں نہیں آ سکے، اپوزیشن اتحاد کے اراکین کی تعداد 162 ہے، اور عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے 172 اراکین درکار ہیں،علی وزیر جیل میں ہیں جنکے پروڈکشن آرڈر کی درخواست دی گئی ہے، جماعت اسلامی کا ایک رکن ہے اور وہ اسوقت کسی کے ساتھ نہیں ہے، پیپلز پارٹی کے ایک رکن بھی آج ایوان سے غیر حاضر تھے
This is today’s attendance of opposition. 159 were present. Ali Wazir is in Jail and JI is neutral. and one PPP MNA is abroad. 162 is total strength of opposition. They need 13 more members to pass the resolution of no confidence against PM Mr. Imran Khan.
سندھ ہاوس جانے والے پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑکا بھی کہنا ہے کہ میں حکومت کا ساتھ دوں گا ،میرے کچھ تحفظات تھے اس پر بات ہورہی ہے،
زرداری کے بعد فریال تالپور گرفتار،بزدلوں کی حکومت ہے، بلاول کا رد عمل
زرداری کے پروڈکشن آرڈرکے مطالبہ پر فواد چودھری خاموش نہ رہ سکے
ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ
محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا
پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ
ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس
علی وزیر پر پی ٹی ایم کے پروگرام کے کراچی میں پروگرام کے بعد سہراب گوٹھ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں رکن قومی اسمبلی علی وزیر ، پی ٹی ایم کی مرکزی قیادت سمیت کارکنان کو نامزد کیا گیا تھا۔پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد علی وزیر کی گرفتاری کی کوشش کی مگر خیبرپختونخواہ میں موجودگی کی وجہ یہ ممکن نہ ہوسکا جس کے بعد پولیس اور محکمہ داخلہ سندھ نے خیبرپختونخواہ حکومت سے گرفتاری اور حوالگی میں مدد طلب کی اور علی وزیر کو گرفتار کر لیا،علی وزیر جیل میں ہیں،

رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی ضمانت منظور کر لی
عدالت نے علی وزیر کو 4 لاکھ روپے کے مچلکے ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دے دیا،جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سماعت کی
واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ علی وزیر کی درخواست ضمانت خارج کر چکی ہے، جس پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے، رکن قومی اسمبلی علی وزیر پر اشتعال انگیز تقاریر کا الزام ہے ،چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے دو مہینے فیصلہ محفوظ رکھنے کے بعد علی وزیر کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سنایا تھا اور ضمانت کی درخواست خارج کر دی تھی
زرداری کے بعد فریال تالپور گرفتار،بزدلوں کی حکومت ہے، بلاول کا رد عمل
زرداری کے پروڈکشن آرڈرکے مطالبہ پر فواد چودھری خاموش نہ رہ سکے
ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ
محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا
پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ
علی وزیر پر پی ٹی ایم کے پروگرام کے کراچی میں پروگرام کے بعد سہراب گوٹھ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں رکن قومی اسمبلی علی وزیر ، پی ٹی ایم کی مرکزی قیادت سمیت کارکنان کو نامزد کیا گیا تھا۔پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد علی وزیر کی گرفتاری کی کوشش کی مگر خیبرپختونخواہ میں موجودگی کی وجہ یہ ممکن نہ ہوسکا جس کے بعد پولیس اور محکمہ داخلہ سندھ نے خیبرپختونخواہ حکومت سے گرفتاری اور حوالگی میں مدد طلب کی اور علی وزیر کو گرفتار کر لیا،علی وزیر جیل میں ہیں، آج سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے
ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس

محسن داوڑ اور علی وزیر رہا، کس نے حکم دیا ، خبر نے ہلچل مچادی
پشاور:محسن ڈاوڑ اور علی وزیر رہا ، ان کی رہائی کاحکم ہائی کورٹ نے دیا ہے ، اطلاعات کے مطابق ہائیکورٹ نے خڑ کمر میں فوجی چیک پوسٹ پر حملے کے مقدمے میں گرفتار ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
ذرائع کےمطابق پشاور ہائیکورٹ بنوں سرکٹ بینچ میں محسن داوڑ اور علی وزیر کی اپیل پر جسٹس ناصر محفوظ نے سماعت کی۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد دونوں ارکان اسمبلی کو 10 لاکھ روپے کے مچلکوں اور دو افراد کی شخصی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔دونوں ارکان قومی اسمبلی ان دنوں خیبرپختونخوا کی ہری پور جیل میں قید ہیں ۔

یہ جو وردی ہے، اس کے پیچھے پیچھے دہشت گردی ہے ۔۔۔ بلال شوکت آزاد
مجھے اس خبر پر نہ حیرت ہوئی اور نہ کسی طرح کا اچنبھا البتہ اس بات پر میں حیران ہوں کہ پی ٹی ایم اب تک اس عمل کی طرف راغب کیوں نہیں ہوئی کہ بر وقت عوام کو ان کی اصلیت پتہ چلتی اور بات کسی ایک نکتے پر ختم ہو جاتی۔
خیر یہ حملہ بظاہر آرمی چیک پوسٹ پر ہے لیکن دراصل اس حملے سے پی ٹی ایم بہت سے شکار بیک وقت کرنے کے فراق میں ہے پر شاید دیر ہو چکی کہ میں پہلے کہہ چکا کہ اس عمل کی جانب راغب ہونے میں پی ٹی ایم کی دیر نے ان کے اس وقت کیے اس جارحانہ عمل کو رائیگاں کردیا ہے۔
بھارتی قونصلیٹ متحرک ہوچکے پی ٹی ایم کی مکمل سپورٹ کے لیے افغانستان سے لیکر یورپ و امریکہ تک اور افغان و مغربی میڈیا جو مہینوں سے پی ٹی ایم کو آؤٹ آف دا وے کوریج دیکر تشہیر کا موقع دے رہا تھا اب کھل کر پاک فوج کے خلاف شدید اور سخت پراپیگنڈا چلانے جارہا ہے جس میں دوبارہ انھی لوگوں کو بولنے کا موقعہ دیا جائے گا جنہیں بیرون ملک بار بار آزمانے کے باوجود وہ کوئی خاص تیر نہیں مار سکے پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے افغانستان, بھارت, امریکہ اور اسرائیل کے لیے۔
مجھے ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور صاحب کی آخری پریس کانفرنس کے بعد یقین اور انتظار تھا کہ کب پی ٹی ایم ایسا قدم اٹھاتی ہے جس میں عام پختون اور فوج آمنے سامنے آجائے لیکن شاید کچھ دیر ہوگئی, جس میں ایک وجہ اسلام آباد میں زیادتی کے بعد قتل ہوئی بچی فرشتہ کا کیس سامنے آنا تھا۔
کہ پی ٹی ایم کو لگا کہ ہمیں ایک معصوم افغان لاش مل گئی ہے وہ بھی دارلحکومت اسلام آباد سے تو ہم جتنا پریشر ڈویلپ کرسکتے ہیں کرلیں اور عوام کو ایک داخلی قانونی واقعہ کی آڑ میں گھیر کر فوج کے مد مقابل لے آئیں اور اس خانہ جنگی کی بنیاد ڈال دیں جس میں ان سے پہلے ٹی ٹی پی والے ناکام ہو گئے اور بری طرح پٹ کر واپس مالکان کی گود میں جا بیٹھے۔
گلا لئی اسمعیل اور محسن داوڑ کا فرشتہ قتل کیس کی آڑ میں فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا نئی بات نہیں تھی پر اس دفعہ ان کی حرکت میں شدت کے ساتھ یہ عنصر غالب نظر آیا کہ "آر یا پار”, مطلب اب عوام بالخصوص ان کی حامی پختون عوام کو جتنا مینیوپلوٹ کیا جاسکتا ہے فوج کے خلاف کیا جائے اور حالات اس نہج پر لائے جائیں کہ ان کے حامیان بندوق اٹھا کر فوج کی تنصیبات کا رخ کریں اور وہ سلسلہ دوبارہ شروع کریں جو ٹی ٹی پی کی سرکوبی کے بعد تھم گیا تھا۔
اسلام آباد کی شاہراہوں پر ناکامی اور عوام کے اشتعال کو دیکھ کر محسن داوڑ نے آج ریڈ لائن کی بھی بارڈر لائن کراس کرنے کی ٹھانی کہ اس کے بیرونی آقا مسلسل اس کی ناکامیوں کے بعد اس کو ری پلیس کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں کہ اسی ہفتے میں وزارت داخلہ سے پی ٹی ایم کو سیکیورٹی اپڈیٹ دیا گیا تھا ایجنسیوں کی رپورٹ کے تناظر میں کہ این ڈی ایس اور را جلد ہی پی ٹی ایم کی کور کمیٹی اور رہنماؤں کو نشانہ بنا سکتے ہیں لہذا اپنی سیکیورٹی کا بندوبست کرلیں, اسی تھریٹ الرٹ کی وجہ سے محسن داوڑ, گلالئی اسمعیل, علی وزیر اور منظور پشتین کو یہ سوجھ رہا ہے جو وہ کرتے پھر رہے ہیں کہ جتنا ہوسکے یہ سب مین سٹریم نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنے رہیں اور ان کی پراپیگنڈا مشینریاں چلتی رہیں۔
اس وقت دشمن کا وار بلکل سیدھا اور براہ راست ہے کہ وہ پاکستان کو ففتھ جنریشن, ہائبرڈ وار اور انفارمیشن وار فیئر میں بلکل وقفہ اور گنجائش دینے کو تیار نہیں بالخصوص ایکٹو لسانی جماعتوں اور مسلکی گروہوں کی آڑ میں مہرے ہلا کر۔
اس وقت محب وطن ایکٹوسٹس ہونے کے ناطے ہمیں ارد گرد پوری نظر رکھنی ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے سلیپر سیلز یکدم ایکٹو ہونگے اور پاک فوج کے خلاف من گھڑت کہانیاں اور پراپیگنڈے آن کی آن میں پھیلائے جائیں گے تاکہ عالمی رائے عامہ پاکستان کے خلاف تیار ہو سکے۔
محسن داوڑ اور علی وزیر نے یہ داؤ بہت سوچ سمجھ کر اور مکمل پلاننگ کے ساتھ کھیلا ہے تاکہ ایک افراتفری مچ جائے اور یہ لوگ فرشتہ مرڈر کیس کے بعد اصلی نسلی پختونوں کے جس عتاب کا شکار ہونے جا رہے تھے اور جس طرح انھوں نے ریاست کو للکار کر اپنی شامت بلائی تھی, اس سے فی الوقت کسی اور طرف موڑ کر اپنی جان خلاصی بھی کروا لیں, بیرونی آقاؤں کو بھی راضی کر لیں اور حامیان سمیت ناراض پختونوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائیں کہ
"یہ جو دشتگردی ہے, اس کے پیچھے وردی ہے”۔
لیکن میں پورے وثوق سے بتاتا چلوں کہ دراصل
"یہ جو وردی ہے, اس کے پیچھے پیچھے دہشتگردی ہے”۔
مطلب اس وقت دوبارہ پھر سے "وردی” کو "دہشتگردی” کا شکار بنانے کی کوشش ہے تاکہ جس طرح ٹی ٹی پی کے دور میں "وردی” پہننا جرم بنا تھا اور "وردی والوں” کو "دہشتگردی” کی بھینٹ چڑھایا جاتا تھا بالکل اسی طرح دوبارہ "وردی” کے پیچھے ہاتھ دھو کر لسانی دہشتگرد پڑ گئے ہیں تاکہ "وردی” پہننا ایک بار پھر جرم بن جائے۔
لیکن بس, اب کی بار ان شاء ﷲ ہم ان اندرورن و بیرون اور دیدہ و نادیدہ دشمنوں کا یہ وار کامیاب نہیں ہونے دیں گے جس کو بڑی محنت سے ہم ایک بار ٹکر دے چکے اور اب دوبارہ یہ یہی حرکت کریں گے تو پھر جواب ہم بھی شدید اور سخت دیں گے۔








