Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری

    عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا ،اور ان کا دوبارہ طبی معائنہ کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس معاملے کی سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے طبی معائنے کے لیے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائےعدالت نے اپنے حکم میں ہدایت دی کہ چیف کمشنر اسلام آباد میڈیکل بورڈ تشکیل دیں جو بانی تحریک انصاف کا تفصیلی طبی معائنہ کرے گا اور ان کی صحت کے حوالے سے مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کرے گا۔

    عدالت نے حکم دیا کہ اس میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھی شامل کیا جائے تاکہ طبی معائنے کا عمل جامع اور شفاف انداز میں مکمل ہو سکے۔

    آبنائے ہرمز میں کتنے جہازوں پر حملے ہوئے؟

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان کا دوبارہ مکمل طبی معائنہ کیا جائے اور ان کی صحت سے متعلق تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، عدالت نے ہدایت کی کہ معائنے کے بعد تیار ہونے والی میڈیکل رپورٹ متعلقہ حکام کو فراہم کی جائے، جیل رولز کے مطابق عمران خان کی فیملی کو طبی معائنے کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ بھی اس عمل سے باخبر رہیں۔

    عدالت نے مزید ہدایت دی کہ ڈاکٹر ندیم قریشی عمران خان کی فیملی کے ساتھ رابطے میں رہیں اور طبی معائنے سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرتے رہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ پہلے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سامنے آنے دی جائے تاکہ ان کی صحت کی صورتحال کے بارے میں واضح تصویر سامنے آ سکے۔

    امریکا کا پشاور میں قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے خدشات موجود ہیں اور انہیں مناسب طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کا بہترین علاج جاری ہے اور ان کی صحت تسلی بخش ہے اس پر جسٹس ارباب طاہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ آپ علاج کروا رہے ہیں۔

    جسٹس ارباب طاہر نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں ان کے طبی ٹیسٹ کروائے جائیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ ٹیسٹ ایک یا 2 گھنٹے میں ہو سکتے ہیں تو پھر انہیں وہاں لے جانے میں کیا مسئلہ ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    سماعت کے دوران جسٹس ارباب طاہر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عدالت کے پاس اب تک عمران خان کی کوئی باقاعدہ میڈیکل رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی،اس موقع پر جسٹس خادم سومرو نے بھی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدالت کے سامنے صرف سپرنٹنڈنٹ جیل کا بیان موجود ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا محض اسی بیان کی بنیاد پر کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟-

    درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان کو مختلف طبی مسائل درپیش ہیں اور جیل میں موجود طبی سہولتیں ان کے مکمل علاج کے لیے ناکافی ہیں،وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ انسانی بنیادوں پر انہیں فوری طور پر کسی مناسب اسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہے تاکہ ان کا مکمل طبی معائنہ اور علاج ممکن ہو سکے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے عمران خان کو تمام ضروری طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، سرکاری مؤقف کے مطابق جیل میں طبی عملہ موجود ہے اور بوقت ضرورت ڈاکٹرز بھی معائنہ کرتے ہیں۔

    عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، اس موقع پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے پر 15 منٹ کے وقفے کے بعد فیصلہ سنائے گی، سماعت کے دوران عدالت میں غیر معمولی سنجیدگی دیکھنے میں آئی جبکہ بانی تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے مختلف قانونی نکات پر بھی بحث ہوئی۔

    
ایران کا فیفا ورلڈکپ 2026 کے بائیکاٹ کا اعلان

  • توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    اسلام آباد:توشہ خانہ ٹو کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرتے ہوئے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر نمبر لگانے کا حکم دے دیا۔

    جسٹس خادم حسین سومرو نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیلیں بروقت دائر نا ہونے کا اعتراض ختم کرنے کی درخواست پر سما عت کی،عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت کے سامنے پیش ہوئے بانی کی بہن علمیہ خان، سلمان اکرم راجا اور انتظار پنجھو تہ بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے۔

    وکیل سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کل ہمیں توقع تھی کہ رمضان میں ہمیں کچھ ریلیف مل پاتا، کل بڑے طویل عرصے کے بعد ہم چیف جسٹس کے ساتھ ملے ہیں، میرے لیے پریشانی یہ ہے کہ مجھے طویل عرصے سے وکالت نامے نہیں مل رہے، تین سو کیسز میں وکیل ہوں۔

    خلیجی پانیوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ

    سلمان صفدر نے کہا کہ کل چیف جسٹس نے ہمیں یقین دہانی کروائی کہ جینوئن ایشوذ آپ کے ایڈریس ہوں گے، میں نے بوجھل دل کے ساتھ یہ درخوا ست دائر کی ہے یہ وکالت نامے دستخط نا کرکے دینے کی وجہ سے ہوا، اب میں نے اس معاملے پر عدالت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے-

    جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیئے کہ آپ گھٹنے نا ٹیکیں 21 سال ہم بھی اس طرف کھڑے رہے ہیں،سلمان صفدر نے کہا کہ آپ ڈویژن بینچ میں بھی ایک کیس سن رہے ہیں،جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس میں کہا کہ اپیل میں وکیل کو وکالت نامے کے ضرورت نہیں ہوتی، جس پر وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آپ تو کہہ رہے ہیں لیکن دائری برانچ اس کو نہیں سنتی۔

    مشرق وسطی میں کشیدگی، فلائٹ آپریشن بدستور متاثر

    جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ وکالت نامے دستخط نہیں کرکے دے رہے، سلمان صفدر نے کہا کہ جی بالکل سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل وکالت نامے دستخط کروا کر نہیں دے رہے،وکیل کے دلائل کے بعد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرتے ہوئے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر نمبر لگانے کا حکم دے دیا۔

    سلمان صفدر نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر عدالت آئندہ کی کوئی تاریخ عنایت فرما دے، جس پر جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ ہمارے سامنے تو آپ کی اپیل ہر ہفتے لگ رہی ہے، آپ کو یہاں سے تو کوئی مسئلہ نہیں۔

    سینئر اداکار عاصم بخاری انتقال کرگئے

    کیس ختم ہونے کے بعد روسٹرم کے قریب ہی علیمہ خان نے اپیل پر نمبر لگانے کے حوالے سے سلمان صفدر سے پوچھنا شروع کر دیا، علمیہ خان کی بات سن کر جسٹس خادم حسین سومرو نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ارے بابا نمبر مل جائے گا، آرڈر کر دیا ہے،جسٹس خادم حسین سومرو نے علمیہ خان کو دیکھ کر ریمارکس دیے کہ آپ کے وکیل بڑے تگڑے ہیں، سلمان صفدر نے کہا کہ میں ان کو بتا دیتا ہوں۔

  • عمران خان کو علاج کیلیے شفاء اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    عمران خان کو علاج کیلیے شفاء اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیا۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو نے تحریری حکمنامہ جاری کیا تحریری حکم نامے میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر تین اعتراضات دور اور دو برقرار رکھے گئےہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اسلام آباد کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔

    سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے طلب کی گئی رپورٹ میں پوچھا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی توشہ خانہ فوجداری کیس میں کتنی سزا کاٹ چکے؟اسلام آباد ہائیکورٹ نے دو اعتراضات پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ رجسٹرار آفس متفرق درخواست کو نمبر لگا کر مرکزی اپیل کے ساتھ مقرر کرے، رجسٹرار آفس اپیلوں کی پیپر بُک آئندہ سماعت 10 مارچ سے پہلے تیار کرے۔

    پاسداران انقلاب کا شمالی خلیج میں امریکی ٹینکر پر حملہ

    امریکا کو بحری جہاز پر حملہ بہت مہنگا پڑے گا، ایرانی وزیرِ خارجہ

    بیواؤں اور یتیم بچوں کی کفالت کیلئے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

  • عمران خان کا آنکھ کے علاج کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    عمران خان کا آنکھ کے علاج کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    اسلام آباد:بانی پی ٹی آئی عمران خان نے آنکھ کے علاج کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    وکیل سردار لطیف کھوسہ نے بانی پی ٹی آئی کے آنکھ کے علاج سے متعلق درخواست عدالت عالیہ میں دائر کر دی ہے، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کی غرض سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ علاج کے دوران بانی کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم کو بھی رسائی فراہم کی جائے۔

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے احتجاجی واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔

  • سابق برطانوی وزیر خارجہ کا پاکستان پر عمران خان کے علاج کیلئے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

    سابق برطانوی وزیر خارجہ کا پاکستان پر عمران خان کے علاج کیلئے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

    زیک گولڈ سمتھ نے برطانیہ سے پاکستان پر عمران خان کے علاج کے لیے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے-

    برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے سابق سالے زیک گولڈ سمتھ نے برطانیہ کی پارلیمنٹ میں عمران خان کے جیل میں حالات کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا اور برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یقینی بنائے کہ خان کو انسانی حقوق اور صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

    گولڈسمتھ نے کہا کہ خان کو وکیل، اہل خانہ بشمول 2 بیٹوں اور ڈاکٹروں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، اور وہ زیادہ تر وقت قید میں تنہائی میں گزار رہے ہیں، جس سے ان کی صحت تیزی سے بگڑ رہی ہے،انہوں نے برطانیہ کی پاکستان کو دی جانے والی امداد پر بھی نظر ثانی کا عندیہ دیا اور کہا کہ پاکستان کو کمیو نین چارٹر کے مطابق عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لیے واضح عزم دکھانا ہوگا۔

    رمضان میں ’محفلِ شبینہ‘ کی تیاریاں مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی ہدایت

    سیاسی استحکام کے لیے مشترکہ کاوشیں ضروری ہیں، پاکستان گورننس فورم

    ڈچ ائیر لائن کا اسرائیل کیلئے پروازیں بند کرنے کا اعلان

  • عظمیٰ خان نے سابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف درخواست دائر کردی

    عظمیٰ خان نے سابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف درخواست دائر کردی

    عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے سابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست جمع کرا دی ہے۔

    درخواست تھانہ صدر بیرونی پولیس نے وصول کر لی ہے، جس میں سابق سپرنٹنڈنٹ جیل پر انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی اور عمران خان کو بروقت طبی سہولت فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہےدرخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جیل انتظامیہ نے بنیادی انسانی اور قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا اور زیر حراست شخص کو ضروری طبی امداد فراہم کرنے میں غفلت برتی۔

    قبل ازیں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نےکہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا گیا اور جرم سابق سپرنٹنڈنٹ جیل عبدالغفور انجم نےکیا، مقدمہ عبدالغفور انجم کے خلاف دائرکیا جائےگا۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا انتخابات میں نواز شریف کی کامیابی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ بانی نےکہا کہ ان کی ایک آنکھ کی بینائی واپس نہیں آئی اور صرف روشنی دیکھ سکتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کا علاج اُن ڈاکٹرز سے کروایا جائےجن پر بانی اور اہل خانہ کو اعتماد ہو بانی کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا گیا اور جرم عبدالغفور انجم نے کیا، یہ مقدمہ عبدالغفور انجم کے خلاف چلایا جائے ، بانی نے کہا کہ آنکھ میں تکیلف ہے تو سادہ سا ڈراپ دیا گیا۔

    بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا تھا کہ کئی ہفتوں تک نہیں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ خراب ہو رہی ہے، بانی کا علاج شفاء میں ہوگا اور ان کے ذاتی معالج کی موجودگی میں ہوگا آج دل ہل گیا ہم نے ڈھائی سال جیل میں بیٹھےشخص کے ساتھ اچھا نہیں کیا ، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفورانجم کو تین ماہ سے بتایا جارہا تھا کہ آنکھ میں تکلیف ہے، بانی پی ٹی آئی تین ماہ سےکہتے رہےکہ مجھے نظر نہیں آرہا، اس جیل میں عبدالغفور ہی نہیں بلکہ کیمروں سے سب دیکھ رہے ہیں، یہ دو ہفتے سے دیکھ رہے تھےکہ بانی کی آنکھ دیکھنا بند ہوگئی، تین ماہ سے انہوں نے بتایا نہیں کہ ان کی آنکھ خراب ہوجائے گی۔

    معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے،سپریم کورٹ

    علیمہ خان کہنا تھا کہ اس وقت انصاف مل رہا ہوتا تو بانی جیل میں نہ ہوتے، ان کے پاس دو دن ہیں بہتر ہے وہ بانی کا علاج کرالیں،عبدالغفورکے لیے بہتر ہےکہ وہ علاج کرائے اور فوری صحت پر کام ہونا چاہیے، یہ سرکاری باتیں ہورہی ہیں کہ بنی گالہ شفٹ کیا جا رہا ہے سب جھوٹ ہے،بانی نے واضح کیا کہ میں ان کے سامنے نہیں جھکوں گا۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر اور علی محمد خان نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات کی، جس میں بانی پی ٹی آئی کے زیرالتواء مقدمات جلد مقرر کرنے کی درخواست کی گئی،ملاقات کے دوران بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی کی صحت کا معاملہ سیاسی نہیں بلکہ انسانی نوعیت کا ہے، اور ان کے ذاتی معالج اور اہل خانہ کو رسائی دی جائے-

    ذرائع کے مطابق رجسٹرار سپریم کورٹ نے بیرسٹر گوہر کو جلد سماعت کی درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی، اور درخواست موصول ہونے پر مقدمات کو جلد مقرر کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

    عتیقہ اوڈھو سرجریز کروالیں تو ان کا ہیرو بن جاؤں گا، فہد مصطفیٰ

  • پمز اسپتال میں آنکھ کے اہم آپریشن کے بعد عمران خان اڈیالہ جیل منتقل

    پمز اسپتال میں آنکھ کے اہم آپریشن کے بعد عمران خان اڈیالہ جیل منتقل

    عمران خان کو فالو اپ طبی معائنے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا جہاں ان کی آنکھ کے علاج کا اہم مرحلہ مکمل کر لیا گیا۔

    پریس ریلیز کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید عمران احمد خان نیازی کو 24 فروری 2026 کو آنکھ کے علاج کے سلسلے میں اینٹی VEGF انٹرا وٹریل انجیکشن کی دوسری خوراک لگانے کے لیے اسپتال لایا گیا طبی عمل سے قبل ماہرین کے بورڈ نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا، جس میں کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ کی جانب سے ایکو کارڈیوگرافی اور ای سی جی کی گئی، جن کے نتائج نارمل آئے جبکہ کنسلٹنٹ فزیشن نے بھی انہیں طبی طور پر مستحکم قرار دیا۔

    دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے،سیف اللہ قصوری

    ڈاکٹرز نے باقاعدہ رضامندی حاصل کرنے کے بعد آپریشن تھیٹر میں مقررہ حفاظتی پروٹوکول اور مانیٹرنگ کے تحت کنسلٹنٹ آپتھلمولوجسٹ کی نگرانی میں مائیکروسکوپی گائیڈنس کے ساتھ اینٹی VEGF انجیکشن کی دوسری خوراک دی، جسے کامیاب قرار دیا گیا ،یہ انجیکشن کنسلٹنٹ ماہر امراضِ چشم، کنسلٹنٹ وٹریو ریٹینل سرجن کی نگرانی میں لگایا گیا، جن کا تعلق پمز اور الشفا ٹرسٹ آئی اسپتال سے تھا،طبی عمل کے بعد عمران خان کو مزید نگرانی کے لیے ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی رکھا گیا جبکہ ان کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا جا رہا ہے،یہ ایک ڈے کیئر سرجری تھی، یعنی مریض کو اسی روز فارغ کر دیا گیا،انہیں ضروری ہدایات، فالو اَپ شیڈول اور طبی دستاویزات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔

    افغانستان کوبتادیا ہے دہشتگرد اورپاکستان میں کسی ایک کا انتخاب کرلیں، رانا ثنااللہ

    واضح رہے کہ عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید ہیں اور انہیں آنکھوں کے جاری علاج کے سلسلے میں اسپتال لایا گیا تھا۔

  • عطا اللہ تارڑ کی بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے خبروں کی سخت تردید

    عطا اللہ تارڑ کی بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے خبروں کی سخت تردید

    وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کسی ڈیل یا رعایت کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے-

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر شئیر کئے گئے اپنے پیغام میں وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ عمران خان کے حوالے سے نا کوئی ڈیل ہے اور نا ہی کوئی ڈھیل، کسی بھی قسم کی رعایت کا تاثر دینا بالکل غلط ہے،عمران خان عدالتوں سے سزا یافتہ مجرم ہیں اور رعایت کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں، ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں۔

    سہیل آفریدی کی ٹک ٹاک بنوانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،صارفین کی شدید تنقید

    چھوٹو گینگ کیس:رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پراور منگل کی تاریخ پر دلچسپ مکالمہ

    پی ایچ ایف صدر مستعفیٰ،کپتان پر دو سال کی پابندی عائد کر دی

  • بانی پی ٹی آئی  کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، بیرسٹر گوہر

    بانی پی ٹی آئی کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گوہر علی خان نے کہا کہ پارٹی کی خواہش بدستور یہی ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا مکمل اور شفاف طبی معائنہ ممکن ہو سکے دھرنے کا اعلان اس رپورٹ کے بعد کیا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے یہ خبر نہایت تشویشناک تھی اور اسی باعث احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔

    تاہم بعد ازاں بتایا گیا کہ عمران خان کی آنکھ کی حالت میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا عمران خان کو اسپتال منتقل کر کے ان کے ذاتی معالجین، پارٹی کے ڈاکٹروں اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں علاج کی سہولت دی جانی چاہیے تھی، حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ ملاقاتوں پر پابندی ہی بیشتر مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔

    مارچ میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اگر ملاقاتوں کی اجازت ہوتی تو پارٹی قیادت کو بروقت معلوم ہو جاتا کہ عمران خان کی صحت کی صورتحال کیا ہے، کیا علاج ہو رہا ہے اور کسی ممکنہ آپریشن یا طبی پیش رفت کی تفصیلات کیا ہیں اہلِ خانہ، وکلا اور معالجین کو ملاقات کی اجازت نہ دینا زیادتی ہے، خصوصاً جب بات ایک سابق وزیرِاعظم اور ملک کے مقبول سیاسی رہنما کی ہو۔

    مارچ میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

  • بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،محسن نقوی

    بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور اسی لیے کہا گیا کہ اگر ضرورت ہو تو وہ اپنے کسی ذاتی ڈاکٹر کا نام بھی دے دیں تاکہ طبی معائنے کے عمل کو مزید واضح بنایا جا سکے،اپوزیشن سے رابطوں کا عمل کسی خط کے بعد شروع نہیں ہوا بلکہ محمود خان اچکزئی کے خط لکھنے سے پہلے ہی حکومت اپوزیشن سے رابطے میں تھی، حکومت سنجیدہ مذاکرات اور معاملات کے حل پر یقین رکھتی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا کہ کوئی بھی قیدی ہو، اسے آئین و قانون کے مطابق علاج کی مکمل سہولت فراہم کی جائے گی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے معاملے پر بھی یہی اصول اپنایا گیا، حکومت کی جانب سے ایک غیر سیاسی ڈاکٹر کا نام مانگا گیا، جس کے بعد کہا گیا کہ فیملی کا نما ئندہ بھی ساتھ لے جایا جائے حکومت نے ڈاکٹر قاسم زمان کا نام تجویز کیا،بعد ازاں مطالبہ سامنے آیا کہ عمران خان کو ایک ہفتے کے لیے اسپتا ل منتقل کیا جائے، جس پر حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا، چاہے وہ ایک ہفتہ ہو یا 2 ہفتے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ آنکھوں کے معاملے پر بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا ان کے بقول عمران خان کے معالجین نے خود کہا کہ انہیں بہترین طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض معاملات میں سب فریقین متفق ہو جاتے ہیں مگر علیمہ خان ویٹو کر دیتی ہیں، کچھ اینکرز کی جانب سے یہ تک کہا گیا کہ عمران خان کی پوری آنکھ ضائع ہو چکی ہے، جو حقائق کے منافی ہے انہوں نے زور دیا کہ بینائی سے متعلق منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو صحافیوں کو جیل لے جا کر سہولتیں دکھائی جا سکتی ہیں تاکہ تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں ان کے بقول وہ چاہیں تو میڈیا نمائندوں کو خود وہاں لے جا سکتے ہیں تاکہ معاملہ ہمیشہ کے لیے واضح ہو جائےحکومت پہلے ہی اپوزیشن سے رابطے میں تھی اور محمود خان اچکزئی کے خط سے قبل ہی معاملات پر بات چیت جاری تھی،حکومت نے واضح یقین دہانی کرائی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کی ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔

    وزیر داخلہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے میڈیکل چیک اپ کے لیے ایک نان پولیٹیکل آئی اسپیشلسٹ تجویز کیا گیا اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنے اعتماد کے کسی ماہر چشم کا نام دے دیں چیک اپ کے دوران فیملی ممبر کو بھی شامل ہونے کی اجازت دی گئی معائنے کے بعد بانی پی ٹی آئی قریباً ڈیڑھ گھنٹہ اسپتال میں موجود رہے بعد ازاں ایک ہفتے کے لیے اسپتال میں داخلے کا مطالبہ سامنے آیا، تاہم حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ داخلے کا فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا مزید ٹیسٹ کرانے کی پیشکش بھی کی گئی تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی، اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور بیرسٹر گوہر علی خان کو ملاقات کی دعوت دی گئی، جس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے پمز اسپتال میں ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی اس دوران قریباً 45 منٹ تک ڈاکٹروں نے فون پر تفصیلی بریفنگ دی اور میڈیکل رپورٹ بھی شیئر کی گئی، جس پر ڈاکٹرز نے اطمینان کا اظہار کیا بانی پی ٹی آئی کو اسپتال لانے کا مقصد صرف آنکھ کا علاج تھا اور حکومت یا ادارے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتےغیر مصدقہ معلومات پھیلانا اور عوام کو گمراہ کرنا زیادتی ہے اگر سیاسی انتقام مقصود ہوتا تو جیل میں سختی کی جاتی، مگر حکومت نے ہمیشہ قانون اور انسانی تقاضوں کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ بعض رہنما بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے زیادہ اپنی سیاست کے بارے میں فکر مند دکھائی دیتے ہیں اگر سنجیدہ قیادت کی بات سنی جاتی تو آج کی صورتحال پیدا نہ ہوتی اور 9 مئی جیسے واقعات سے بھی بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ذمہ داروں کو خود احتسابی کرنا ہوگی اسلام آباد کے ریڈ زون میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے اور عدالت کے فیصلوں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گافیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ وہ سنجیدہ قیادت کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ وہ کسی بھی بحران یا مسئلے پر بات چیت کے لیے حاضر ہیں کیونکہ یہ ان کا فرض ہے، تاہم این آر او سے متعلق کسی قسم کی بات چیت ان کا موضوع نہیں، قومی مفاد کے معاملات پر گفتگو ہو سکتی ہے لیکن ذاتی رعایتوں پر نہیں، حکومت نے دہشتگردی کے معاملے پر عالمی سطح پر اپنا مؤقف پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ دہشتگردی کو مظلومیت کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں گے بلوچستان میں دہشتگردی کے لیے فنڈنگ میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں جب تک عالمی برادری حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گی، دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔