Baaghi TV

Tag: عمران ریاض خان

  • جج کے خلاف سوشل میڈیا مہم ، عمران ریاض پر مقدمہ درج

    جج کے خلاف سوشل میڈیا مہم ، عمران ریاض پر مقدمہ درج

    عمران ریاض خان سمیت 8 افراد کے خلاف ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا.

    باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق سائبر کرائم نے جج کے بھتیجے کی مدعیت میں پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ،مقدمہ میں مشیر اینٹی کرپشن کے پی کے مصدق عباسی بھی نامزد ہیں جبکہ احمد صدیق کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے مقدمے کے متن بھی کہا گیا کہ ملزمان نے سوشل میڈیا کے ذریعے ان کے چچا کے خلاف منفی بیانیہ بنایا، چچا جوڈیشری کے ممبر ہیں جن پر کرپشن کے الزمات عائد کئے گئے اور انکوائری کے دوران ملزمان کے ملوث پائے جانے پر مقدمہ درج کیا گیا. مقدمے کے دیگر ملزمان میں مجاہد علی شاہ ، اللہ نواز خان ، سہیل احمد ، عمر صدیق ، صدیق انجم اور طارق سلیم شامل ہیں.

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کئی افراد عمران ریاض کے خلاف ہتک عزت اور شہرت کو نقصان پہنچانے پر مقدمے درج کروا چکے ہیں.

  • صحافی عمران ریاض خان لاہور ایئر پورٹ سےاحرام کی حالت میں گرفتار

    صحافی عمران ریاض خان لاہور ایئر پورٹ سےاحرام کی حالت میں گرفتار

    لاہور: معروف صحافی عمران ریاض خان لاہور ایئر پورٹ سے گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : عمران ریاض علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے حج کے لیے روانہ ہو رہے تھے،عمران ریاض خان کی گرفتاری کی ذمہ داری لاہور پولیس کے 24 سے زائد اہلکاروں کو سونپی گئی تھی انہیں احرام کی حالت میں گرفتار کیا گیا،حراست میں لیے جانے کے بعد گاڑی میں بیٹھے عمران ریاض خان گرفتار کرنے والی ٹیم کو دیکھ کر مسکراتے رہےگرفتار کرنے کے بعد پولیس پارٹی نے عمران ریاض خان کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

  • عمران ریاض کی بازیابی کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں،نمائندہ وزارت دفاع

    عمران ریاض کی بازیابی کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں،نمائندہ وزارت دفاع

    لاہور: اینکر پرسن عمران ریاض کی بازیابی کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر سماعت کے دوران وزارت دفاع کے نمائندے کا کہنا تھا عمران ریاض کی بازیابی کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں ۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے کیس کی سماعت کی، اس دوران وزارت دفاع اور دیگر حکام کی جانب سے رپورٹس عدالت میں پیش کی گئیں آئی جی پنجاب عدالت میں پیش نہیں ہوئے، ایڈیشنل آئی جی اور ڈی پی او سیالکوٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

    دوران سماعت وزارت دفاع کے نمائندے کے عدالت کو بتایا کہ عمران ریاض کی بازیابی کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ لوکیشنز سمیت دیگر ایشوز پر کام کررہے ہیں اگر درخواست گزار کو کچھ انتظامی رکاوٹوں کا مسئلہ ہے تو اس کو دیکھ لیتے ہیں، کوشش کررہے ہیں کہ عمران ریاض جلد بازیاب ہوجائیں۔

    کراچی میں لڑکی سے سرعام زیادتی کی کوشش

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ تمام ادارے عمران ریاض خان کی بازیابی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں، کوششوں سے لگتا ہے کہ عمران ریاض خان جلد بازیاب کرلئے جائیں گے کچھ جگہ پر انتظامی نوعیت کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

    عدالت نے عمران ریاض خان کی بازیابی کیلئے 25 جولائی تک مہلت دیدی۔

    گزشتہ سماعت کے دورانلاہور ہائیکورٹ نے اینکر پرسن عمران ریاض کی بازیابی کے لیے ورکنگ کمیٹی سے آئندہ سماعت پر کارکردگی رپورٹ طلب کی،عمران ریاض کے وکیل میاں علی اشفاق نے عدالت کی جانب سے بنائی گئی ورکنگ کمیٹی پر اعتماد کا اظہار کیا کہا کہ ورکنگ کمیٹی کی جانب سے تفتیش میں ہونے والی پیشرفت حوصلہ افزاء ہے، امید ہے عمران ریاض کسی بھی وقت بحفاظت ہمارے درمیان ہوں گے، ہم ورکنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔آئی جی پنجاب نے یقین دہانی کرائی کہ عمران ریاض کی بازیابی کی کوششیں جاری ہیں، پولیس کی جانب سے ملنے والی اطلاعات حوصلہ افزاء ہیں، امید ہے پولیس اگلی سماعت تک اچھی خبر لیکر آئے گی اور عمران ریاض کو بازیاب کرائے گی۔

    بچوں کو صرف تحفظ دینا مقصد نہیں بلکہ انہیں مضبوط بھی بنانا ہے، چیف جسٹس

    دریں اثنا آئی جی ڈاکٹر عثمان انور نے عدالت کو بتایا تھا کہ تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں اور پنجاب پولیس کے اسپیشل ورکنگ گروپ نے اپنے اجلاس منعقد کیے جس میں عمران ریاض کی بازیابی کے لیے محکمہ انسداد دہشت گردی سمیت تمام پولیس یونٹس کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

    پولیس نے عمران ریاض کو 11 مئی کو سیالکوٹ ایئرپورٹ سے گرفتار کرکے جیل منتقل کرنے کا اعتراف کیا تھا، پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کی طرف سے نظربندی کا حکم واپس لیے جانے اور جیل سے رہائی کے بعد سے اینکر پرسن کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہو سکا۔

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

  • عمران ریاض خان کی گرفتاری کیوں ہوئی؟ درج مقدمہ کی تفصیل

    عمران ریاض خان کی گرفتاری کیوں ہوئی؟ درج مقدمہ کی تفصیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے حامی اینکر عمران ریاض خان کو گرفتار کیا گیا ہے

    عمران ریاض خان پر ایف آئی اے نے مقدمہ درج کیا ہے، مقدمہ ایک تقریب میں تقریر کے حوالہ سے کیا گیا، درج مقدمہ میں عمران ریاض خان کی تقریر کا متن پیش کیا گیا ہے جس میں عمران ریاض خان نے اداروں کے خلاف بات کی تھی،سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر باجوہ پر تنقید عمران ریاض پر مقدمہ کی وجہ بنی، مقدمہ لاہور میں 29 نومبر کو درج کیا گیا تھا، اس مقدمے میں عمران ریاض خان کو گزشتہ شب گرفتار کیا گیا ہے

    واضح رہے کہ عمران ریاض خان کو گزشتہ شب بیرون ملک جاتے ہوئے ایف آئی اے نے لاہور سے گرفتار کیا ہے، عمران ریاض خان کو دوسری بار گرفتار کیا گیا ہے، اس سے قبل پاکستان کے کئی شہروں میں عمران ریاض پرمقدمے درج کئے گئے تھے ، عمران ریاض خان کو عدالت نے ضمانت پر رہا کیا تھا تا ہم ضمانت کے بعد بھی عمران ریاض خان نے اداروں پر تنقید کرنا نہ چھوڑی،

    دوسری جانب صحافیوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عمران ریاض خان صحافی نہیں رہے، صحافی نیوٹرل ہوتا ہے اور وہ صرف خبر دیتا ہے، عمران ریاض خان خبر دینے کی بجائے یوٹیوب اور ٹویٹر پر نہ صرف پی ٹی آئی کے ترجمان بنے ہوئے تھے بلکہ وہ پاک فوج کے خلاف بھی مسلسل تنقید کر رہے تھے

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    fir

  • عمران ریاض خان اورڈاکٹرمعید پیرزادہ رات کی تاریکی میں پاکستان چھوڑگئے

    عمران ریاض خان اورڈاکٹرمعید پیرزادہ رات کی تاریکی میں پاکستان چھوڑگئے

    لاہور:عمران ریاض خان اور معید پیرزادہ رات کی تاریکی میں پاکستان چھوڑگئے،اطلاعات کے مطابق اس وقت بہت اہم خبریں گردش کررہی ہیں جن میں کہاجارہا ہےکہ معروف اینکرعمران ریاض خان اور معید پیرزادہ پاکستان سے چلے گئےہیں

     

    اس حوالے سے سب سے پہلے ان کے پاکستان چھوڑنے کی خبرسنیئرتجزیہ نگارمبشرلقمان نے ٹویٹر پرایک پیغام کے ذریعے دی یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عمران ریاض خان اتحاد ایئرلائنز کے ذریعے دوبئی چلے گئے ہیں‌

     

    اس حوالے سے مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ ڈاکٹر معید پیرزادہ بھی پاکستان چھوڑ گئے ہیں ، انکا یہ بھی کہنا تھاکہ عین اس وقت جب پاکستان میں عمران خان کا لانگ مارچ زوروں پر عمران ریاض‌ خان اور معید پیرزادہ کا پاکستان چھوڑنا معنی خیز لگتا ہے

  • ضمانت کیلئے بابر غوری نے انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کرلیا

    ضمانت کیلئے بابر غوری نے انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کرلیا

    کراچی: متحد قومی موومنٹ کے رہنما بابر غوری نے ضانت کیلئے انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق بابر غوری نے ضمانت کیلئے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رجوع کرلیا ہے، عدالت نے تفتیشی افسر کے پیش نہ ہوئے، عدالت نے بابر غوری کی درخواست ضمانت پر تفتیشی افسر سے جواب طلب کرتے ہوئے بابر غوری کے طبی معائنے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے بابر غوری کا آئندہ سماعت تک طبی معائنہ نہ کرانے کی صورت میں وجوہات سے متعلق آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے بابر غوری کی درخواست ضمانت پر سماعت 13 جولائی تک ملتوی کردی ہے۔

    خیال رہے کہ بابر غوری کو پولیس نے 4 جولائی کو امریکہ سے واپسی پر کراچی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا تھا، بابر غوری کے خلاف سائٹ سپر ہائی وے تھانے میں مقدمہ درج ہے، بابر غوری پر ملک مخالف اور اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری کا الزام ہے۔ عدالت نے بابر غوری کو 12 جولائی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میں دیا ہے۔

  • عمران ریاض کی گرفتاری اور مبشر لقمان کا کھڑاک

    عمران ریاض کی گرفتاری اور مبشر لقمان کا کھڑاک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،عمران ریاض خان کی اینکر کے طور پر کام کرنے کی سفارش میں نے کی تھی، عمران ریاض خان اس بات کو خود تسلیم کرتا ہے

    مبشر لقمان یوٹیوب چینل پر ایک سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران ریاض کیس اتنا سادہ نہیں جتنا ہم لوگ سمجھ رہے ہیں، یہ ایک لائن ہے جو متعدد بار کراس ہوئی ہے، ہم سارے صحافی ہیں اور کبھی نہ کبھی ایک ریڈ لائن کراس کرتے ہیں لیکن اس کو کراس کر کے نہیں رکھتے اور ایسے سٹیج پر نہیں جاتے جہاں ذاتی لڑائی کو سٹیٹ کی لڑائی میں کنورٹ کر دیں، اس کا حق ہمیں نہیں، عمران ریاض سے میرے بڑے اچھے تعلقات ہیں جب وہ ایکسپریس میں کرائم رپورٹر تھے تو میں نے لاکھانی صاحب کو کہا تھا کہ اسکو اینکر بنائیں یہ اچھا اینکر بنے گا، عمران خود بھی اس بات کا اعتراف کرتا ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک طرف لڑائی ہے، ایک طرف جدوجہد ہے، ایک طرف ملکی سلامتی ہے تین باتیں ہیں، ابھی جو صحافی کہہ رہے ہیں کہ صحافت پر حملہ ہوا، جب ڈاکٹر شاہد مسعود جیل میں تھے،حامد میر کو گولیاں لگیں، ابصار عالم کو گولیاں لگیں اسوقت وہ خوش تھے، اور اسکو پرسنل بنا دیا، غلط الزام بھی لگائے اور شرم نہیں آئی، سب چپ رہے، کوئی نہیں بولا، جب عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی کے خلاف مہم چلائی گئی بہت بری تھی، میں اپنے کیسز کا حوالہ نہیں دوں گا، آج میں پھر ایک کیس جاتا ہوں اسلام آباد ہائیکورٹ میں، عمران خان نے جاتے جاتے میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیا تھا، آج میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے وہ کیس جیتا ہوں، ہم ساروں کو مشکلیں برداشت کرنی پڑتی ہیں لیکن ہم اپنی ریڈ لائن کو نہیں کراس کرتے، پرسنل نہیں جاتے،آج میں چیف جسٹس کے نام سے وی لاگ کرنا شروع کر دوں اور انہیں تھریٹ کروں ،یا کسی سروس چیف یا کسی اور کو تو پھر تعزیرات پاکستان اور آئین پاکستان کے تحت انکی پوزیشن پروٹیکٹڈ ہے، اگر کچھ اعتراض ہے تو لابنگ کریں اور پارلیمنٹ میں ترمیم کر لیں، جب قانون ہے تو اسکا مطلب ہے قانون توڑ رہے ہیں، جب گرفتاری ہوئی تو خبریں آئیں کہ اسلام آباد ٹول پلازہ سے گرفتار کیا گیا، حالانکہ وہ کافی دور تھے، وہاں کیمرے تھے ، فوٹیج آئی، دوسری بات یہ ہے کہ جب مختلف مقدمات میں ہوتے ہیں تو نان بیل ایبل وارنٹ نکلتے ہیں، جب پیشیوں پر نہین جاتے تو ایسا ہوتا ہے، قانون کچھ نہ کچھ تو لحاظ کر جاتا ہے، نون اور ان نون آدمی کے لئے قانون میں فرق ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہتری یہ ہے کہ ثالثی کر کے اسکو افہام و تفہیم سے ختم کیا جائے، کچھ ایسے صحافی جو اسی ڈگر پر چل رہے ہیں اور باقاعدہ جھوٹ بول رہے ہیں، پرائیویٹ نمبر فیڈ کر کے بندہ خود ہی کال کر سکتا ہے، آپ کوئی کھڑپینچ ہیں ؟ اگر ہوتے تو کر لیتے، ملکی اداروں کے سربراہوں بارے جو آپکے دل میں آتا ہے بول دیتے ہیں، ایسے نہیں ہوتا، عمران خان ایک پاپولر لیڈر ہے، اسکی رپورٹ کرنے سے نہیں روکا جا رہا، کونسا چینل ہے جو عمران خان کی خبر نہیں چلاتا، اسکی پریس کانفرنس نہیں چلاتا، جو اسکے جلسے کورنہیں کرتا، شہباز گل جو زبان استعمال کر رہے ہیں، وہ ٹی وی پر نہیں چلنی چاہئے،روکنی چاہئے، پروپیگنڈہ کرنا غلط ہے، مین سٹریم میڈیا پر پی ٹی آئی کو کوریج مل رہی ہے، جھوٹ بولنے کا حق نہین اور جب بولیں گے تو پھر تیار رہیں، اگر آپکو کوئی سمجھاتا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ اگلا کمزور ہو گیا ہے تو ایسا نہیں ہوتا،

  • مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اینکر عمران ریاض خان کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ پاک فوج اور اداروں پر تنقید پر کتنی سزا کا حکومت نے بل پاس کیا ہے

    صحافی عمر چیمہ نے عمران ریاض خان کی ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ عمران ریاض خان کہتے ہیں کہ مسلح افواج اور ان کے اداروں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف دو سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا کی بل کی منظوی دے دی گئی ہے ،یہ بل منظور کر لیا گیا ہے، کچھ سوالات پیدا ہوئے تھے کچھ چیزیں کلیئر ہو گئی ہیں، یہ کلیئر ہو گیا ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت افواج پاکستان پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے، باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ تنقید کی جا رہی ہے،نواز شریف نے شروع کیا، ہر جلسے جلوس میں فوج کو گالی دی،نعرے بازی کی، جرنیلوں کے نام لے کر گھٹیا قسم کے الزامات لگائے گئے، یہ سلسلہ انہوں نے شروع کیا،

    عمران ریاض خان کا مزید کہنا تھا کہ اس پروپیگنڈہ سے افواج پاکستان میں بے چینی پیدا ہوئی، پروپیگنڈہ اس لیول پر چلا گیا ہے کہ گلی محلوں میں چلا گیا ہے، سوشل میڈیا پر لوگوں نے آگ لگائی ہوئی ہے، پیڈ کیمپئن چل رہی ہے، یہ جو بے چینی ہے یہ ثابت ہوتی ہے کہ اسلئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے

    عمران ریاض خان کا مزید کہنا تھا کہ جو فوج پر تنقید کرتے ہیں،گالی دیتے ہیں، فوج سے پیار کرنے والے انکو مؤثر جواب نہیں دیتے، تگڑا جواب ملنا چاہئے تھا، پروپیگنڈے کو روکنا چاہئے تھا

     

    واضح رہے کہ عمران ریاض خان کی یہ ویڈیو اس وقت کی ہے جب تحریک انصاف کی حکومت تھی، تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد عمران ریاض خان نے پاک فوج پر کڑی تنقید شروع کر دی تھی،جس کے بعد عمران ریاض خان کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں مقدمات درج کر لئے گئے تھے،گزشتہ شب عمران ریاض خان کو گرفتار کیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست پر کہا ہے کہ عمران ریاض خان لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کریں کیونکہ گرفتاری پنجاب سے ہوئی

    دوسری جانب صحافیوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عمران ریاض خان صحافی نہیں رہے، صحافی نیوٹرل ہوتا ہے اور وہ صرف خبر دیتا ہے، عمران ریاض خان خبر دینے کی بجائے یوٹیوب اور ٹویٹر پر نہ صرف پی ٹی آئی کے ترجمان بنے ہوئے تھے بلکہ وہ پاک فوج کے خلاف بھی مسلسل تنقید کر رہے تھے

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

  • پاک فوج پر تنقید,عمران ریاض خان کیخلاف اٹک میں مقدمہ درج

    پاک فوج پر تنقید,عمران ریاض خان کیخلاف اٹک میں مقدمہ درج

    اینکر پرسن عمران ریاض خان کے خلاف اٹک میں بھی شہری کی جانب سے مقدمہ درج کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اٹک کے رہائشی ملک مرید عباس نے اینکر عمران ریاض خان کے خلاف پاک فوج کے خلاف بیان بازی پر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرایا-

    ایف آئی آر کے متن میں درخواست گزار کی طرف سے کہا گیا کہ بعض سیاستدانوں اور بعض الیکٹرانک میڈیا کے لوگوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ پاکستان کی سلامتی کو کمزور کرنا ہے اور پاکستان کی افواج کی طاقت کو کمزور کرنا ہے دشمن ممالک کے ایجنڈے کو طاقت دینی ہے اور پاک فوج کے گراف اور امیج کو نقصان پہنچانا ہے-

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ آئین پاکستان میں پاک فوج کے خلاف بیان بازی کرنا اور گفتگو کرنا جرم ہے اور پاکستان کے قانون میں بھی جرم ہے ماضی میں بھی پاکستان کی افواج کے خلاف بیرونی عناصر کی ایما پر ایسی گھناؤنی سازشیں ہوتی رہی ہیں بالآخر ملک دشمن عناصر خود اپنی موت مر جاتے ہیں –

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ پاک فوج دنیا کی مضبوط ترین افواج میں شامل کی جاتی ہے جس کی پیشہ وارانہ مہارت کو پوری دنیا بھی تسلیم کر تی ہے اینکر پرسن عمران ریاض خان نے پاک فوج کے خلاف زبان درازی کی ہے اور پاک فوج کی توہین کرنے کی کوشش کی ہے پاک فوج کے امیج اور نیک نامی کو نقصان پہنچایا ہے جو کہ انتہائی تکلیف دہ اور ناقابل برداشت فعل ہے-

    ایف آر آئی کے مطابق عمران ریاض خان کا یہ امر پورے پاکستان میں دیکھا اور سُنا گیا جس سے ہر پاکستانی کا دل دکھی ہو اہے اور جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اس شخص نے پاک فوج پر بہیودہ الزام لگائے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ایسے لوگوں کو احساس نہیں کہ پاک فوج پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے اور ب تک تقریباً ساٹھ ہزار افراد جام شہادت نوش کر چکے ہیں-

    درخواست گزار نے کہا کہ ایسے مغلظات کہنے والے لوگوں نے آج تک ملک کے لئے کیا ہی کیا ہے؟ اور یہ پاک فوج پر الزامات لگا کر ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں جو کہ قابل گرفت ہے استدعا ہے کہ اینکر پرسن عمران ریاض خان کے خلاف قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا جائے-

    واضح رہے کہ عمران ریاض خان کے خلاف پہلے بھی متعدد مقدمات درج کئے جاچکے ہیں جبکہ عمران ریاض خان کو گزشتہ شب گرفتار کیا گیا تھا اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا ہے-

  • عمران ریاض خان کے گرد گھیرا تنگ،پنجاب کے کئی شہروں میں مقدمے درج

    عمران ریاض خان کے گرد گھیرا تنگ،پنجاب کے کئی شہروں میں مقدمے درج

    عمران ریاض خان کے گرد گھیرا تنگ،پنجاب کے کئی شہروں میں مقدمے درج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اداروں کے خلاف تنقید پر اینکر عمران خان پر پاکستان کے کئی شہروں میں مقدمے درج کر لئے گئے ہیں

    اینکر عمران خان پر لاہور، گوجرانوالہ، جھنگ،میانوالی، ٹھٹھہ سمیت کئی شہروں میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، عمران خان نے پہلے درج ہونے والے مقدمات میں ضمانت کروا لی تھی تا ہم ابھی عمران ریاض کے خلاف پنجاب کے کئی شہروں میں مزید مقدمات درج کئے گئے ہیں،

    عمران ریاض خان کے خلاف اب سابق وزیراعظم عمران خان کے شہر میانوالی میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے، تھانہ کالا باغ میں درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ سائل پاکستانی شہری ہے اور افواج پاکستان سے پیار کرتا ہےاینکر عمران ریاض خان کو کافی عرصے سے فالو کر رہا تھا 30 جون کو عمران ریاض خان نے ایک ویڈیو یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کی، جس کا ٹاپک رجیم چینج تھا سائل نے ویڈیو کو غور سے سنا ،اور اسکے جذبات مجروح ہوئے،عمران ریاض خان نے ویڈیو میں افواج پاکستان کو برا بھلا کہا اور تنقید کی ،پاکستانی افواج کی توہین کرنے کی کوشش کی،پاک فوج کے امیج کو نقصان پہنچایا،عمران ریاض خان کا یہ فعل ناقابل برداشت ہے ،افواج پاکستان ہمارے ملک کی طاقت ہے، عمران ریاض خان کا ویڈیو جرم، مقدمہ درج کیا جائے، تھانہ کالا باغ میانوالی میں عمران ریاض خان کے خلاف حاجی محمد پرویز کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

    لاہور کے تھانہ سول لائن میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے،مدعی محمد آصف کی مدعیت میں درج مقدمے میں پاک فوج پر تنقید اور توہین کا کہا گیا ہے

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر