Baaghi TV

Tag: عمران ریاض

  • آئی جی پنجاب کے بیان کی تعریف پر توہین آئی جی کا مقدمہ بنا دیا،وکیل عمران ریاض

    آئی جی پنجاب کے بیان کی تعریف پر توہین آئی جی کا مقدمہ بنا دیا،وکیل عمران ریاض

    سیشن کورٹ صحافی عمران ریاض خان کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم کا مقدمہ ،عمران ریاض عبوری ضمانت کی معیاد ختم ہونے پر عدالت پیش ہوئے

    عدالت نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا تفتیش مکمل ہوچکی ہے؟ ایف اے تفتیشی نے عدالت میں کہا کہ عمران ریاض کی حد تک تفتیش مکمل ہوچکی ہے ،عدالت نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ، ایف آئی اے تفتیشی نے کہا کہ آئی جی پنجاب کے حوالے سے متعدد ٹویٹس کیے گئے جنہیں عمران ریاض کے اکاؤنٹ سے ری ٹویٹ کیا گیا، عدالت نے استفسار کیا کہ یہ بتائیے کہ مقدمہ کب کیا گیا تھا ،وکیل عمران ریاض نے کہا کہ مقدمے کے وقت عمران ریاض اغوا تھے ،عدالت نے کہا کہ جس ٹویٹ کی بنیاد پر مقدمہ درج ہوا وہ ٹوئٹ تو پہلے ہی ڈیلیٹ ہوچکا تھ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مقدمہ درج کرنے سے پہلے ٹویٹ ڈیلیٹ ہوچکا ہے،ایف آئی اے تفتیشی نے کہا کہ جی یہ بات درست ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ جو ریکارڈ آپ دکھا رہے ہیں اس میں سے ایک چیز نکال دیں جو عمران ریاض کے خلاف ہو ،

    عمران ریاض ایف آئی اے قبل از گرفتاری درخواست پر میان علی اشفاق نے دلائل دیئے،اور کہا کہ عمران ریاض نے جو کوٹ ٹویٹ کیا اس پر ان پر توہین آئی جی کا مقدمہ درج کردیا،آئی جی پنجاب نے ویڈیو میں دشمن کو پسا کرنے کی ترغیب دی، عمران ریاض نے آئی جی پنجاب کے بیان کی حمایت کی، عمران ریاض کے بیان پر حمایت کو توہین آئی جی قرار دے دیا گیا،جس خاتون نے ٹویٹ کیا،، کیا انکوائری کے دوران عمران ریاض کا کوئی تعلق ثابت ہوا، نہیں،کیا عمران ریاض اس خاتون کو کبھی ملے، جواب نہیں،کیا عمران ریاض کا کوٹ ٹویٹ کرنا کسی قانون کیخلاف ورزی ہے، جواب نہیں،صرف ذاتی انتقام کا نشانہ بنانے کےلئے عمران ریاض پر مقدمہ بنایا گیا، پراسکیوشن بتائے وہ ویڈیو کہاں ہے، پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ ویڈیو ڈیلیٹ ہو چکی ہے،وکیل میاں علی اشفاق نے کہا کہ ان کے پاس وہ ویڈیو موجود نہیں کیا انہوں نے فرانزک کروایا، کیا ان کے پاس وہ تریدی بیان یا اسکی کاپی ہے، جواب نہیں ہے،صرف ایک چار ستروں کے ٹویٹ پر انہوں نے توہین آئی جی پنجاب کی توہین قرار دیا، آئی جی پنجاب نے اس ویڈیو میں 10 مرتبہ یہ بات کی میں نے انکی بیان کی تائید کی،آئی جی پنجاب کے بیان کی تائید کرنے پر مقدمہ درج ہوگیا، میرے موکل پر 21 مرتبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں مقدمات درج کیے گئے،142 دن میرا موکل مختلف مقامات پر رہا ہے، میرا جرم یہ ہے کہ سچ بولتا ہوں با ببانگ دہل بولتا ہوں،

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    عمران ریاض خان کی رہائی کیسے ہوئی؟ پنکی کے سابق شوہر کی گرفتاری

    بولنے میں دشواری،وزن کم،عمران ریاض کو کیا ہوا؟

    عمران ریاض خان پر ایک اور مقدمہ درج

    عمران ریاض کا پتا چل گیا۔ جان کو خطرہ ،عمران خان پر کڑا وار ،سیاست دفن

    وزارت دفاع کے نمائندے کا کہنا تھا عمران ریاض کی بازیابی کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں ۔

  • عمران ریاض بازیابی کیس،آئی جی پنجاب کو ملی مزید مہلت

    عمران ریاض بازیابی کیس،آئی جی پنجاب کو ملی مزید مہلت

    لاہور ہائیکورٹ میں یوٹیوبر،اینکر عمران ریاض کے والد کی درخواست پر عمران ریاض کی بازیابی کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے درخواست پر سماعت کی، آئی جی پنجاب عثمان انور عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ عمران ریاض کی بازیابی میں کافی مثبت پیش رفت ہوئی ہے ہم آئندہ دس سے پندرہ دنوں میں خوشخبری دینگے آئی جی پنجاب نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے عمران ریاض کو بازیاب کرانے کے لیے مزید مہلت مانگ لی

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ صرف مزید مہلت مانگی جا رہی ہے کوئی پیش رفت بھی ہے کیا؟ آئی جی پنجاب عثمان انور نے عدالت میں کہا کہ آپ ہمیں صرف دس دن کی ہی مہلت عنایت کر دیں ہم خوشخبری ہی سنائیں گے ،عدالت نے آئی جی پنجاب کی عمران ریاض کو بازیاب کرنے کے لیے 13 دنوں کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ کوئی پیش رفت بھی ہونی چاہیے

    وکیل عمران ریاض نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں آئی جی پنجاب ایک گھنٹہ کی میٹینگ کا وقت دیں، جس پرچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ آئی جی پنجاب آج شام پانچ بجے عمران ریاض کے والد اورلیگل ٹیم سے ملاقات کریں ،لاہور ہائیکورٹ نے سماعت 13ستمبر تک ملتوی کر دی،

    عدالت پیشی کے موقع پر عمران ریاض کے والد کا کہنا تھا کہ عمران ریاض سے نہ تو ملاقات ہوئی اور نہ ہی بات، مگر مجھے اللہ سے پوری امید ہے کہ میرا بیٹا خیریت سے ہوگا،

    دوسری جانب عمران ریاض کے وکیل ایڈوکیٹ میاں علی اشفاق کا کہنا ہے کہ جس وقت ہم عدالت پہنچے، عمران ریاض خان صاحب کے والد کو آج سماعت سے پہلے ایک انتہائی اہم کال موصول ہوئی ہے جسکی تصدیق آج شام 5 بجے تک آئی جی پنجاب کریں گے، آئی جی پنجاب نے بھی آج عدالت کو بتایا کہ انکے پاس بھی عمران ریاض کے حوالے سے اہم شواہد ہیں، ہم نے اسی لئے عدالت سے کہا کہ آئی جی سے وقت لے کر دیں تا کہ ہم آنے والی کال کی تصدیق کر سکیں، آئی جی سے عدالت نے پوچھا تو انہوں نے دو ہفتوں کی مہلت مانگی،

    عمران ریاض خان پر ایک اور مقدمہ درج

    عمران ریاض کا پتا چل گیا۔ جان کو خطرہ ،عمران خان پر کڑا وار ،سیاست دفن

    وزارت دفاع کے نمائندے کا کہنا تھا عمران ریاض کی بازیابی کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں ۔

    پولیس نے عمران ریاض کو 11 مئی کو سیالکوٹ ایئرپورٹ سے گرفتار کرکے جیل منتقل کرنے کا اعتراف کیا تھا، پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کی طرف سے نظربندی کا حکم واپس لیے جانے اور جیل سے رہائی کے بعد سے اینکر پرسن کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہو سکا۔

    عمران ریاض ہمیں مطلوب نہیں تھا 

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

  • ہم عمران ریاض کی زندگی کے لیے دعاگو ہیں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    ہم عمران ریاض کی زندگی کے لیے دعاگو ہیں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ ،یوٹیوبرعمران ریاض بازیابی کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے عمران ریاض کو بازیاب کرنے کے لئے پولیس کو دس روز کی مزید مہلت دے دی ،آئی جی پنجاب سمیت دیگر افسران عدالت کے روبرو پیش ہوئے ،وکیل میاں علی اشفاق نے کہا کہ ہم ورکنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں آئی جی پنجاب نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ہم کوششیں کررہے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ ورکنگ کمیٹی کی کاوش سے مطمئن ہیں ،وکیل عمران ریاض نے کہا کہ ہمیں عمران ریاض کی بازیابی درکار ہے اس کے لیے آئی جی پنجاب سمیت اسکی ٹیم کام کررہی ہے ،وکیل عمران ریاض عبداللہ ملک نے عدالت میں کہا کہ ہم امید کرتے ہیں پولیس جلد عمران ریاض کو بازیاب کرائے گی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم عمران ریاض کی زندگی کے لیے دعاگو بھی ہیں اور کوشش بھی کر رہے ہیں

    درخواست میں حکومت پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ، درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عمران ریاض خان صحافی اور سینئر اینکر پرسن ہیں عمران ریاض خان نے اپنے پروگراموں میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی تنقید کرنے پر اور عمران خان کی گرفتاری کے بعد عمران ریاض خان کو گرفتار کرلیا گیا پولیس اور ایف آئی اے حکام نے غیر قانونی طور پر عمران ریاض خان کو گرفتار کیا عدالت عمران ریاض خان کو فوری بازیاب کراکے رہا کرنے کا حکم دے عدالت عمران ریاض خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے

    عمران ریاض ہمیں مطلوب نہیں تھا 

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

  • عمران ریاض کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے؟ عدالت کا آئی جی سے استفسار

    عمران ریاض کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے؟ عدالت کا آئی جی سے استفسار

    لاہور ہائیکورٹ میں اینکر عمران ریاض خان کی بازیابی کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے عمران ریاض خان کے والد محمد ریاض کی درخواست پر سماعت کی ،عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سمیت اعلیٰ افسران پیش ہوئے ،عدالتی حکم پر جیل حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے،آئی جی پنجاب نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جی آئی جی صاحب کیا پراگریس ہے، آئی جی پنجاب عثمان انورنے کہا کہ عمران ریاض خان کے گھر ریڈ سے متعلق تفتیش کی، وہ ریڈ پولیس نے نہیں ماری تھی،ہمیں عمران ریاض مطلوب نہیں تھا، عہمیں ایجنسی نے کہا ہم نے معاونت کی،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ پراگریس نہیں دیھا رہے تو آپکے خلاف کاروائی شروع کرتا ہوں، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم نے تمام ایجنسیوں سے رابطہ کیا میٹنگز کیں، پاکستان کی کسی بھی ایجنسی کے پاس عمران ریاض خان موجود نہیں ہے، ہم نے آف دی ریکارڈ سب سے رابطے کیے ہیں، عدالت وزرات دفاع اور وزارت داخلہ کو نوٹس کردے تو معاونت ہوسکے،ہم پر شک کیا جا رہا ہے کہ کہیں ہم ملوث ہیں، میرے تابع کوئی ایجنسی نہیں ہے، ایجنسی نے پولیس کی گاڑی کو بلایا تھا کیوں بلایا تھا یہ آپ ایجنسی کو بلا کر پوچھ سکتے ہیں ۔عمران ریاض ہمیں مطلوب نہیں تھا ۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے ورنہ آپکے خلاف کاروائی کروں گا ۔ آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ ہم نے کل رات بھی میٹنگ کی ہے ساری ایجنسیوں کے لوگ آئے تھے ۔ پورے پاکستان کی پولیس سے پوچھ لیا ہے کسی کے پاس عمران ریاض نہیں ہے ۔ عدالت سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع سے بھی اس بارے جواب مانگے اور انہیں کہیں کہ ہماری مدد کرے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپکو مزید وقت چاہیے ۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ جی بالکل ہم نے خود وزارت داخلہ سے رابطہ کیا ہے لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔

    درخواست میں حکومت پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ، درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عمران ریاض خان صحافی اور سینئر اینکر پرسن ہیں عمران ریاض خان نے اپنے پروگراموں میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی تنقید کرنے پر اور عمران خان کی گرفتاری کے بعد عمران ریاض خان کو گرفتار کرلیا گیاپولیس اور ایف آئی اے حکام نے غیر قانونی طور پر عمران ریاض خان کو گرفتار کیا عدالت عمران ریاض خان کو فوری بازیاب کراکے رہا کرنے کا حکم دےعدالت عمران ریاض خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

  • عمران ریاض کے گھر والوں کو تحفظ فراہم کریں،عدالت کا آئی جی پنجاب کو حکم

    عمران ریاض کے گھر والوں کو تحفظ فراہم کریں،عدالت کا آئی جی پنجاب کو حکم

    لاہور ہائیکورٹ میں صحافی عمران ریاض کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے عمران ریاض کے والد محمد ریاض کی درخواست پر سماعت کی ،ڈی پی او سیالکوٹ عدالت کے روبرو پیش ہوئے،ڈی پی او سیالکوٹ کیجانب سے ابتک کی کاروائی سے متعلق رپورٹ جمع کروا دی ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے عمران ریاض کے اغواء پر جوائنٹ انوسٹی گیشن بنانے کا عندیہ دے دیا ، وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ آئی جی پنجاب کو بلایا جائے، چیف جسٹس امیر بھٹی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی پنجاب نے کیا کرنا ہے ان کا بھی یہی موقف ہونا ہے، وکیل نے استدعا کی کہ آپ عمران ریاض کو پیش کرنے کا حکم دیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس کو کہوں کہ عمران ریاض کو بازیاب کروائیں پولیس نے تو کہہ دیا ہمارے پاس نہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہاں جو نگران حکومت ہے اسکی ذمہ داری ہے، میں ایسی بات نہیں کرنا چاہتا،،اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھانے والی بات ہو جائے گی، اس وقت ایک مثال قائم کرنا ہوگی،ہم چاہتے ہیں کہ عمران ریاض کو بازیاب کروایا جائے،

    عمران ریاض خان کے وکلاء نے سیکرٹری دفاع کو طلب کرنے کی استدعا کر دی، عدالت نے کہا کہ ہم آئی جی اور سیکرٹری ہوم کوبلا لیتے ہیں، وکیل عمران ریاض نے کہاکہ آئی جی سی ٹی ڈی کو بلا لیں، عدالت نے کہا کہ انکو بلانے کی کیا ضرورت ہے، وہ تو دہشت گردوں کو ڈیل کرتے ہیں، وکیل عمران ریاض خان نے کہا کہ آج کل سی ٹی ڈی ہی یہ سب دیکھ رہے ہیں، عدالت نے 1 گھنٹے میں آئی جی پنجاب اور سیکرٹری ہوم کو طلب کرلیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو آئی جی پنجاب عدالت پیش ہو گئے اور کہا کہ مکمل رپورٹ کے لیے وقت دیا جائے،موبائل وٹس ایپ وغیرہ کو چیک کر رہے ہیں، تمام سی سی ٹی وی فوٹیج کو دیکھا گیا ہے، عدالت نے کہا کہ ان تمام باتوں پر بات ہو چکی ہے،تمام معزز ایجنسیوں کو بلائیں وہ اسی لیے ہیں کہ ان سے مدد لی جائے،آئی جی پنجاب نے کہا کہ کمیٹی تشکیل دے دیتے ہیں،تحقیقات کر کے مکمل رپورٹ پیش کر دیں گے ،وکیل درخواست دہندہ نے کہا کہ تمام افراد عمران ریاض کی بازیابی کے لیے کھڑے ہیں،آرٹیکل دس میں طریقہ کار موجود ہے،کشمیر میں رہائش پذیر نہیں ہیں،یہ اس کا اقرار کر رہے ہیں کہ یہ بے بس ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اب معاملہ آپ کے سپرد کر دیں،ہم نے ایجنسیوں سے ہی کام لینا ہے،

    سرکاری وکیل نے اظہر صدیق کے دلائل دینے پر اعتراض کر دیا ،کہا کہ اظہر صدیق اس کیس میں وکیل ہی نہیں ہیں، کیسے دلائل دے سکتے ہیں، صرف متعلقہ وکیل ہی دلائل دے ،عدالت نے آئی جی پنجاب سے استفسارکیا کہ آپ کیا کر سکتے ہیں،ڈی پی او کا رزلٹ پانچ روز سے زیرو ہے،عدالت نے آئی جی پنجاب کو حکم دیا کہ عمران ریاض کے گھر والوں کو تحفظ فراہم کریں،ایجنسیوں سے رابطہ کر کے معاملے کو حل کریں،آپ کو چارج دے دیا ہے آپ جوابدہ ہیں،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے کئی شہروں میں احتجاج ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان نے جلاؤ گھیراؤ کیا جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور شرپسندوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا، پنجاب سمیت تمام صوبوں میں‌ شرپسند عناصر کیخلاف کاروائی کی جا رہی ہے،کور کمانڈر ہاﺅس لاہور کو بھی جلا دیا گیا پاک فوج کی دیگر تنصیبات پر بھی حملہ کیا گیا،پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو آگ لگائی گئی

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

  • عمران ریاض کوسیالکوٹ ائیر پورٹ سے گرفتار کرنے والا ایس ایچ او معطل

    عمران ریاض کوسیالکوٹ ائیر پورٹ سے گرفتار کرنے والا ایس ایچ او معطل

    لاہور ہائیکورٹ نے نیوز اینکر عمران ریاض خان کو گرفتار کرنے والے ایس ایچ او کو معطل کر دیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ میں نیوز اینکر عمران ریاض خان کی گرفتاری کے خلاف ان کے والد محمد ریاض کی درخواست پر سماعت ہوئی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے کیس کی سماعت کی-

    فرخ حبیب کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق فیصلہ محفوظ

    دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ عمران ریاض تو پہلے ہی ملک سے باہر جا رہے تھے پھر گرفتاری کیا ضرورت تھی؟ ائیرپورٹ سے گرفتار کیا، ایس ایچ او سیالکورٹ تھانہ کیا نظر بندی کے احکامات لے کر گئے تھے؟

    ایچ ایچ او نے جواب میں بتایا کہ نظر بندی کے احکامات بعد میں جاری ہوئے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر گرفتاری کس بات کی تھی؟جب آپ ائیرپورٹ گرفتار کرنے گئے دکھائیں کہاں روز نامچے میں اندارج کیا؟ عدالت کی حکم پر ایس ایچ او نے ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا۔

    چیف جسٹس امیر بھٹی نے استفسار کیا کہ اس روزنامچے میں تو واپسی پر اندارج ہوا ہے، مجھے دکھائیں آپ کی راونگی کہاں ہے؟ آپ کے پاس کہاں نظر بندی کےاحکامات تھے؟ایس ایچ او نے بتایا کہ انہوں نے اینکر عمران ریاض خان کو پہلے گرفتار کیا اور جیل بھیجا اس کے بعد اندارج کیا۔

    پاکستان میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کا جائزہ لے رہے ہیں،آئی ایم ایف

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے نظر بندی کے احکامات کے موصول کیے بغیر عمران ریاض کو کیسے گرفتار کرلیا؟آپ نے خلاف قانون کے ایک معصوم شہری کو گرفتار کرلیا، مجھے ثابت کریں کہ آپ نے روزنامچہ میں لکھا، ڈیپٹی کمشنر نے فون کیا یا کوئی ثبوت دیں، عدالت آپ کیخلاف تادیبی کاروائی کا حکم دے گی اور آپ کو معطل کرکے جیل بجوا دیا جائے گا-

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیوں نہ ڈی پی او سیالکوٹ کو بھی عہدے سے فارغ کر دیا جائے۔ آپ نے گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے اس کا ریکارڈ کہاں ہے، میں وہاں تک پہنچنا چاہ رہا ہوں جہاں سے آپ کو آرڈر مل رہے تھے۔

    ڈی پی او سیالکوٹ نے کہا کہ ایس ایچ او کے کردار کو جسٹیفائی نہیں کروں گا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے عمران ریاض کی جیل سے رہائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کمرہ عدالت میں چلانے کی ہدایت کردی۔

    یاسمین راشد کو سروسز اسپتال سے پولیس لائن اسپتال منتقل کر دیا گیا

    عدالت نے ایس ایچ او کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 روز میں جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا اور 7 روز کیلئے انہیں معطل کر دیاچیف جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ آپ 7 روز تک معطل رہیں گے اگر عدالت کو مطمن نا کر سکے تو پھر عدالت سزا سنائے گی۔

    واضح رہے کہ معروف نیوز اینکر عمران ریاض خان کو سیالکوٹ ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں عدالتی حکم پر جیل سے رہا کر دیا گیا تھا تاہم وہ رہائی کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

    پشاور: جلاؤ گھیراؤ میں ملوث پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے کی مدد …

  • عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ محسن بیگ کے ساتھ کیا ہوا تھا، اسکے گھر میں گھس کر اسکے بچوں، نوکروں کو مارا تھا، دہشت گردی کے پرچے کٹ گئے،تھانے میں زدو کوب کیا گیا، ویڈیو بنا بنا کر ایف آئی اے والے بھجواتے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل نے بڑا کام کیا ہے اس میں کوئی شک نہیں، سب سے بڑا یہ کہ اسکو لوگوں کے سامنے برا بننا پڑ رہا ہے، مشکل فیصلہ کرنا ہی کرنا تھا ورنہ پاکستان ڈیفالٹ کر جاتا، پچھلی حکومتوں کے معاہدوں پر عمل کیا انہوں نے، مفتاح اسماعیل نے کمال معاہدہ کیا کہ تیل کی قیمتیں کم ہوں گی عالمی سطح پر تو یہاں بھی ریلیف ملے گا، یہ معاہدہ ہو چکا ہے، ن لیگ میں دو گروپ ایک دوسرے پر اٹیک کر رہے ہیں ایک مفتاح اور ایک اسحاق ڈار کا گروپ ہے، کافی لوگوں کا خیال ہے کہ مفتاح ڈے ٹو ڈے مینج کر رہے ہیں، اسحاق ڈار اگر وزیر خزانہ بننا چاہیں گے تو بن جائیں گے ،نواز شریف کو جو اعتماد اسحاق ڈار پر ہے فنانس کے حوالہ سے وہ کسی اور پر نہیں، مفتاح کو لوگ سپورٹ کرتے ہیں، وہ انکے لئے کافی ہے، وہ بھی تگڑے امیدوار ہیں، سوال یہ ہے کہ اسحاق ڈار وہ کونسا پہلو ہے جو کر سکتے ہیں جس سے پاکستان کی اکانومی سنبھلے، یہ وہی بتا سکتے ہیں، اسحاق ڈار عید کی چھٹیوں میں پاکستان آ رہے ہیں، میری ان سے ذاتی بات ہوئی ہے،انکا آخری چیک اپ کل یا پرسوں ہونا ہے، اسحاق ڈار وہ آکر نیب کی عدالت میں پیش ہوں گے، اس سے انکو گرفتار نہیں کیا جا سکتا، وہ وہاں حاضری دیں گے عدالت میں، مجھے لگتا یہ ہے کہ آنے والے دو ماہ میں پاکستان کی اکانومی بہتر ہونا شروع ہو جائے گی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں ابھی پرسوں بھی عدالت میں پیشی بھگت کر آیا ہوں ، کبھی کراچی کبھی لاہور، کبھی اسلام آباد، 56 کیسز میرے اوپر ایک ساتھ ہوئے تھے، 11 کیسز ابھی بھی بھگت رہا ہوں، میرے پاس پولیس کئی بار دیواریں پھلانگ کر آئی لیکن میں نے کبھی واویلا نہیں مچایا ، میرے کنٹینٹ پر لوگوں کو اعتراض تھا کہ میں نے کہا کہ نواز شریف ،اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کی تو میرے کنٹینٹ پر لوگوں کو اعتراض تھا، میری زبان پر نہیں، میں نے کبھی کسی کو دھمکی نہیں دی، پچھلے کافی عرصے سے ہمارے کچھ اینکر ایکٹوسٹ ہو گئے وہ اینکر نہیں رہے، میں پی ٹی آئی کے ساتھ تھا تو اقرار کیا کہ ساتھ ہوں یہ نہیں کہا تھاکہ نیوٹرل ہوں، بڑے دعوے کئے تھے عمران ریاض نے کہ پانچ گھنٹے بعد ویڈیو اپلوڈ ہو جائے گی، 36 گھنٹے ہو گئے میں ویڈیو کا انتظار کر رہا ہوں، جمیل فاروقی یا کچھ اور انکی ٹون ایک دم سے بدلنا شروع ہو گئی ہے، پوری دنیا میں ایک بات بڑی کلیئر ہے، امریکہ نے کتنی جنگیں لڑیں، لیکن آج تک امریکی جنرل تجزیہ نہیں دے سکتا، طالبان نے امریکی فوج کے ساتھ کیا کیا لیکن انکا میڈیا کچھ نہیں بولتا، اداروں کے خلاف بات کریں ،آئین کے خلاف بات کریں اور جب یہ پتہ ہو کہ آئین میں انہیں تحفظ حاصل ہے جنکے خلاف تنقید کی جا رہی ہے، جس قانون کے تحت عمران ریاض پکڑا گیا یہ پی ٹی آئی نے بنایا، یہ قانون ہے، جو بھی اداروں پر بے جا تنقید کرے گا اسکو سزا ہو گی، اس پر عمران ریاض خان نے وی لاگ بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بالکل بہت صحیح ہوا ہے، محسن بیگ کے ساتھ کیا ہوا تھا، اسکے گھر میں گھس کر اسکے بچوں، نوکروں کو مارا تھا، دہشت گردی کے پرچے کٹ گئے،تھانے میں زدو کوب کیا گیا، ویڈیو بنا بنا کر ایف آئی اے والے بھجواتے، اسد طور، حامد میر کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ یہی عمران ریاض خان اسوقت کیا بول رہے تھے؟

    ہ قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

  • عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز ہی وزیراعلی رہیں گے تحریک انصاف پانچ مخصوص سیٹوں کا نوٹیفکیشن چاہتی ہے تا کہ انکے ووٹ بڑھیں بارہ کروڑ عوام کا صوبہ ہے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے نے کافی لوگوں کر پریشان کیا ہے ۔ میری کافی سینئر وکلاء سے بات ہوئی

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی یہ بات کر رہی ہے کہ صدر عارف علوی یہ کہہ دیں کہ شہباز شریف ووٹ آف کنفیڈنس لیں کیونکہ اتحادی ان سے خوش نہیں اور دو تین اراکین کی ڈیتھ یا ریزائن ہوا تھا، اب ووٹ آف کانفیڈنس لیں، پھر دوڑیں لگ گئیں، اگر اراکین پورے نہیں ہوتے تو سسٹم کا کیا ہو گا؟ پاکستان میں کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا ہے تحریک انصاف کی خواہش ہے کہ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے ۔ پی ٹی آئی کے پاس کرائسز کو ڈیل کرنے کا بڑا وقت تھا اب کافی سیریس کرائسز ہے پہلے اکنامک کرائسز ہے پٹرول ڈیزل کی قیمت رات کو بڑھ گئی اگر اسی طرح لڑائیاں چلتی رہیں تو پھر یہ کسی تیسرے کو دعوت دے رہے ہیں کیونکہ انکی لڑائیاں ختم نہیں ہو رہیں۔ پھر کیسے مسئلہ حل ہو گا

    مبشر لقمان نے عمران خان کے گھر سے ڈیوائس لگوائے جانے کے حوالہ سے سوال پر کہا کہ گھر سے بات نکل رہیں گھر میں ہی تلاشی کروا لیں ڈیوائس 24 گھنٹے چلے گی اسکو پھر چارج کرنا پڑے گا خان کے دفتر میں ایسے لوگ آ رہے ہیں جو شاید گھر والوں کو نہیں پسند۔ اس لیول کے بندوں پر ٹائپنگ ہوتی ہے دنیا کی ایجنسیاں کر رہی ہوتی ہیں لیکن اسکا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ عمران خان کسی کے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے گورننس اور انکے دور میں جو کرپشن ہوئی ا سپر وہ بات نہیں کر رہے صحافی تو ہر طرح کے سوال پوچھیں گے ۔کچھ صحافیوں کو انہوں نے اداروں سے بھی فارغ کروا دیا ہے۔ بلٹ پروف گاڑی کا عمران ریاض کا لائسنس کینسل کر دیا گیا۔ دیا کیوں گیا تھا مجھے تھریٹ تھا لیکن میں نے تو گاڑی نہیں لی نہ ہی سیکورٹی لی ،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران ریاض سے زیادہ ہر صحافی کو تھریٹ رہے ہیں۔ جیو کی ڈی ایس این جی کی توڑپھوڑ ہوتی رہیں۔ جہاں انکے لوگ جاتے ان پر حملے ہوتے رہے کیا انکو بھی بلٹ پروف گاڑیاں دی گئی تھیں ،نہیں تو پھر عمران ریاض خان کو کس نے اور کیوں دی تھی ؟مجھے بلٹ پروف گاڑی کا شوق نہیں ہے سہی لیکن اس میں دم گھٹتا ہے۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کل میریٹ میں جو فنکشن ہوا ایاز امیر نے جو تقریر کی پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیا انہوں نے لفظ خباثت کا استعمال کیا۔ خباثت کا لفظ میں نے جرنلزم میں نہیں سنا۔ پراپرٹی ڈیلر کی بات کر رہے تھے ایک ملک ریاض اور انیل مسرت کا طعنہ ایاز امیر نے دیا لیکن عمران خان نے ابھی تک جواب نہیں دیا ۔ میں نے بشری بی بی ۔عثمان بزدار کی کرپشن کھول کر رکھی۔ اس کا کوئی جواب نہیں آیا

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    مبشر لقمان نے بڑی خوشخبری سنا دی،اچھا وقت کب شروع ہو گا، الیکشن کب ہونگے؟
  • سینئرصحافی عمران ریاض خان سے بلٹ پروف گاڑی استعمال کرنے کی سہولت واپس لے لی گئی

    سینئرصحافی عمران ریاض خان سے بلٹ پروف گاڑی استعمال کرنے کی سہولت واپس لے لی گئی

    لاہور:سینئرصحافی عمران ریاض خان کوبلٹ پروف گاڑی استعمال کرنے سے روک دیا گیا ،اطلاعات کے مطابق سینئرصحافی عمران ریاض خان کومیسربلٹ پروف گاڑی کی سہولت واپس لے لی گئی ہے اوراس سلسلے میں باقاعدہ ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے

     

    اس حوالے سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 2017 کی ایک پالیسی کے تحت پچھلے سال عمران ریاض خان کوبلٹ پروف گاڑی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی ، اس نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مرسڈیز بینز2004 کار کی سہولت فراہم کی گئی تھی جوبعض ناگزیروجوہات کی بنا پرواپس لی جارہی ہے،

    اس نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق فوری نافذ العمل ہے ،

     

     

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اداروں کے خلاف تنقید پر اینکر عمران خان پر پاکستان کے کئی شہروں میں مقدمے درج کر لئے گئے ہیں

    اینکر عمران خان پر لاہور، گوجرانوالہ، جھنگ،میانوالی، ٹھٹھہ سمیت کئی شہروں میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، عمران خان نے پہلے درج ہونے والے مقدمات میں ضمانت کروا لی تھی تا ہم ابھی عمران ریاض کے خلاف پنجاب کے کئی شہروں میں مزید مقدمات درج کئے گئے ہیں،

    عمران ریاض خان کے خلاف اب سابق وزیراعظم عمران خان کے شہر میانوالی میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے، تھانہ کالا باغ میں درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ سائل پاکستانی شہری ہے اور افواج پاکستان سے پیار کرتا ہےاینکر عمران ریاض خان کو کافی عرصے سے فالو کر رہا تھا 30 جون کو عمران ریاض خان نے ایک ویڈیو یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کی، جس کا ٹاپک رجیم چینج تھا سائل نے ویڈیو کو غور سے سنا ،اور اسکے جذبات مجروح ہوئے،عمران ریاض خان نے ویڈیو میں افواج پاکستان کو برا بھلا کہا اور تنقید کی ،پاکستانی افواج کی توہین کرنے کی کوشش کی،پاک فوج کے امیج کو نقصان پہنچایا،عمران ریاض خان کا یہ فعل ناقابل برداشت ہے ،افواج پاکستان ہمارے ملک کی طاقت ہے، عمران ریاض خان کا ویڈیو جرم، مقدمہ درج کیا جائے، تھانہ کالا باغ میانوالی میں عمران ریاض خان کے خلاف حاجی محمد پرویز کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

     

    لاہور کے تھانہ سول لائن میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے،مدعی محمد آصف کی مدعیت میں درج مقدمے میں پاک فوج پر تنقید اور توہین کا کہا گیا ہے