Baaghi TV

Tag: عمران کان

  • ’وزیراعظم آخری گیندتک لڑیں گے،این آر او نہیں دیگے‘جیتیں گے بھی:ان شااللہ:شیخ رشید

    ’وزیراعظم آخری گیندتک لڑیں گے،این آر او نہیں دیگے‘جیتیں گے بھی:ان شااللہ:شیخ رشید

    اسلام آباد: ’وزیراعظم آخری گیندتک لڑیں گے ‘جیتیں گے بھی:ان شااللہ،اطلاعات کے مطابق یہ عزم کرتے ہوئےوفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان آخری گیند تک لڑیں گے این آر او نہیں دیں گے، وہ این آر او دینا غداری سمجھتے ہیں۔

    نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ آج انہیں این آر او دے دیا جائے تو ساری عدم اعتماد کی تحریک ختم ہوجائے گی، عمران خان تحریک عدم اعتماد میں کامیاب ہونے جارہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر 28 مارچ کو پیش ہورہی ہے تو اسی دن ووٹنگ نہیں ہوگی، ووٹنگ چار تاریخ کو ہونی ہے، اپوزیشن تحریک لائی ہے 172 ارکان پورے کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

    شیخ رشید نے کہا کہ ملک میں دس، دس ماہ بعد بھی الیکشن ہوئے ہیں، تاریخ ہے وزیراعظم نے کبھی اپنی مدت پوری نہیں کی، وقت حاضر کی مقبول حکومت الیکشن کی طرف جائیں تو سب ساتھ دیتے ہیں، مستقبل میں موجودہ صورت حال کا فائدہ عمران خان کو ہی ہوگا۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن کی بیوقوفی نے عمران خان کو مقبولیت کی انتہا پر پہنچا دیا ہے آئندہ الیکشن یہی کامیابی حاصل کریں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، عوام ان تین چہروں کو دیکھتے ہیں جو عمران خان کے خلاف اکٹھے ہوگئے ہیں، عوام وزیراعظم کی حمایت کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اتحادیوں کا نہیں پتہ لیکن میں عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہوں، ہم سے خفا لوگ واپس آجائیں گے تو کچھ نہیں ہوگا، اتحادی سمجھ دار لوگ ہیں امید ہے وہ بہتر فیصلہ ہی کریں گے۔

  • وزیراعظم عمران خان کا آج کا دورہ لاہوربہت اہمیت اختیار کرگیا

    وزیراعظم عمران خان کا آج کا دورہ لاہوربہت اہمیت اختیار کرگیا

    لاہور:وزیراعظم عمران خان کا آج کا دورہ لاہوربہت اہمیت اختیار کرگیا ،اطلاعات کے مطابق ملک سیاسی محاذ آرائی بڑھنے کے بعد وزیراعظم عمران خان اہم مشن پر لاہور تشریف لا رہے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا کل دورہ لاہور متوقع ہے، وفاقی وزراء بھی ہمراہ ہوں گے، جہاں وہ گورنر اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کریں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی سے بھی ملیں گے، وزیراعظم عدم اعتماد سے متعلق اراکین اور پارٹی رہنماؤں کو اعتماد میں لیں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت سیاسی امور پر اہم اجلاس ہو گا، پنجاب میں سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے آج کراچی میں مصروف دن گزارا، جہاں ایم کیو ایم مرکز پہنچنے کے بعد متحدہ رہنماؤں سے ملاقات بھی کی، جبکہ گورنر ہاؤس میں تقریب سے خطاب کے بعد سندھ مشاورتی کمیٹی اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے ملاقات بھی کی۔

    سندھ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے عمران خان کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، جو پی ٹی آئی والا دھوکہ دے گا اسے دیکھ لیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، کچھ نہیں ہوگا، یہ سازش بھی بے نقاب ہوجائے گی۔ مجھے دیکھ کر آپ لوگوں کو لگ رہا ہے کہ میں گھبرایا ہوا ہوں؟ عدم اعتماد میں اِن چوروں کا ساتھ ان کے اپنے لوگ بھی نہیں دیں گے۔ ایک بار یہ سب ختم ہو جائے، اِن سب کو دیکھ لوں گا۔

  • وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت  RUDA اور CBD  پرجائزہ اجلاس:اہم فیصلے

    وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت RUDA اور CBD پرجائزہ اجلاس:اہم فیصلے

    اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت RUDA اور CBD پرجائزہ اجلاس:اہم فیصلے،اطلاعات کے مطابق “راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی(RUDA)، سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (CBD) والٹن اور نالہ لئی ایکسپریس وے جیسے جدید رئیل اسٹیٹ منصوبوں کے ذریعے شہروں کی ترقی حکومت کی اہم ترجیحات ہیں جن کی جلدازجلد تکمیل کے لیے تیزی سے کام کیا جائے”۔ وزیر اعظم عمران خان نے RUDA اور CBD پر ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا۔

    "یہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ ان جدید منصوبوں کے ذریعے غیر استعمال شدہ سرکاری اراضی کی صورت میں پڑے مردہ سرمائے کو قیمتی اثاثے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کریں گے بلکہ بڑھتی شہری آبادی کی ضروریات کو بھی پورا کریں گے”۔ وزیر اعظم

    قبل ازیں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سی بی ڈی نے لاہور ڈاون ٹاؤن میں 07 مکس یوز کمرشل پلاٹوں کی نیلامی کے ذریعے آمدنی پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ برج الجناح کی تعمیر، پاکستان کی بلند ترین فلک بوس عمارت؛ باب پاکستان میں دو پریمیم رہائشی ٹاورز اور 500 بستروں کے ہسپتال کی تعمیر؛ سی بی ڈی اسکوائر اور والٹن روڈ فلائی اوور کی تعمیر؛ اور والٹن ہوائی اڈے کی میراث برقرار رکھنے کے لیے کلاسک ایوی ایشن میوزیم کی تعمیر بھی CBD کے اہداف میں شامل ہیں۔.

    مزید برآں دریائے راوی واٹر فرنٹ کی ترقی، انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام، سیفائر بے اور راوی چہار باغ سوسائٹی پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔

    وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ ان تاریخی منصوبوں میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے زیادہ سے زیادہ محصولات حاصل کرنے کے لیے میڈیا کے ذریعے ایک موثر آگاہی مہم شروع کی گئی ہے۔

    وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ تمام قانونی رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔

  • وزیراعظم کے گوادر تحریک کے مطالبات کا نوٹس لینے کا خیر مقدم کرتےہیں:وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعظم کے گوادر تحریک کے مطالبات کا نوٹس لینے کا خیر مقدم کرتےہیں:وزیراعلیٰ بلوچستان

    کوئٹہ:وزیراعظم کے گوادر تحریک کے مطالبات کا نوٹس لینے کا خیر مقدم کرتےہیں ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے گوادر تحریک کے مطالبات کا نوٹس لینے کا خیر مقدم کرتے ہیں، مطالبات کے تحت بیشتر اقدامات پر عملدرآمد جاری ہے، غیر قانونی ماہی گیری اور ٹرالنگ کی روک تھام یقینی بنارہےہیں اورغیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ مطالبات کےحوالےسے وزیراعظم عمران خان کی یقین دہانی خوش آئند ہے،گوادرتحریک کےمطالبات انسانی حقوق کےتحفظ پرمبنی ہیں، مطالبات پہلےہی سےموجودہ حکومت کی پالیسی میں شامل ہیں، صوبائی حکومت اپنی پالیسی اور گوادر تحریک کےمطالبات کےتحت بیشتر اقدامات پرعملدرآمد کررہی ہے اورصوبائی حکومت کےدائرہ کارمیں آنے والےمطالبات پرتیزی سےپیش رفت جاری ہے۔

    عبدالقدوس بزنجو نے مزید کہا کہ متعلقہ صوبائی محکمےغیرقانونی ماہی گیری اورٹرالنگ کی روک تھام یقینی بنارہےہیں، غیر ضروری چیک پوسٹوں کوختم کر دیا گیا ہے، سرحدی تجارت کا آغاز اور ٹوکن سسٹم کو ختم کردیا گیا ہے، محکمہ پی ایچ ای کو گوادر شہر میں پانی کے مسائل کے فوری حل کے لئے فنڈز کا اجراء کیا گیا ہے، گوادر اولڈ ٹاؤن کی ترقی کی منصوبہ بندی اور فنڈز فراہم کیۓ جارہے ہیں، بجلی سمیت بعض دیگر مطالبات کا تعلق وفاقی حکومت سے ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی مطالبات کے حوالے سے یقین دہانی سے وفاق سے متعلق مطالبات بھی حل ہونگے، متعلقہ وفاقی و صوبائی محکمے اور ادارے غیر قانونی ٹرالنگ کے سدباب کے لئےمزید مربوط و موثر اقدامات کرینگے، وفاقی اور صوبائی حکومت سرحدی تجارت کے فروغ اور بارڈر مارکیٹوں کے منصوبے کی جلد تکمیل یقینی بنائیں گی، گوادر تحریک کے مطالبات پر پیشرفت کے حوالے سےوزیراعظم کو مفصل رپورٹ پیش کرینگے۔

  • عمران خان کی جگہ جومرضی آئےلیکن کپتان ہمیں اچھا نہیں‌ لگتا:ہٹانےکےلیےہرتیرآزمائیں گے:شہبازشریف

    عمران خان کی جگہ جومرضی آئےلیکن کپتان ہمیں اچھا نہیں‌ لگتا:ہٹانےکےلیےہرتیرآزمائیں گے:شہبازشریف

    لاہور: عمران خان کی جگہ جومرضی آئے لیکن کپتان ہمیں اچھا نہیں‌ لگتا:ہٹانے کے لیے ہرتیرآزمائیں گے:،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے، اپوزیشن تمام آئینی سیاسی اور قانونی ہتھیار بروئے کار لائے گی اور قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔

    پریس کانفرنس میں شہباز شریف نے کہا سیالکوٹ واقعہ سے سر شرم سے جھک گئے، حکومت اس واقعہ کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دے۔ ماضی میں ایسے واقعات ہوئے تو اسے سیاسی رنگ دیا گیا لیکن ہم نے نہ صرف اس واقعہ بلکہ ماضی قریب میں بھی اس طرح کے کسی واقعہ کو کبھی سیاسی رنگ نہیں دیا۔

    انہوں نے کہا کہ معاشی تباہی جاری رہی تو خدانخواستہ پاکستان کو خطر ات لاحق ہو سکتے ہیں۔ کورونا نے صرف پاکستان نہیں پوری دنیا میں تباہی مچائی ہے، لیکن آج مہنگائی کے حوالے سے پاکستان دنیا کی فہرست میں تیسر ے نمبر پر ہے۔ اگر جنگی بنیادوں پر کام نہ کیا گیا تو پھر ہمیں تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا

    شہباز شریف نے کہا کہ ۔آئی ایم ایف کی نئی شرائط نے پوری قوم کو گلے سے جکڑ لیا ہے، قوم کے ہاتھ اور پاؤں زنجیر سے باندھ دیئے ہیں۔ ہمسایہ ملک80ء کی دہائی میں آئی ایم ایف کے پاس گیا اور آج تیس سال ہو گئے ہیں اس نے اس سے جان چھڑ الی ہے۔ حکومت نے انتالیس مہینوں میں71سالہ تاریخ کا 70فیصد قرضہ لے لیا۔ ہمیں بھی ورثے میں قرضے ملے لیکن ہم نے نہ صرف ادائیگی کی بلکہ دس ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبے لگائے، روڈ انفراسٹرکچر بنایا۔ اگر بلین ٹری منصوبہ سچ ہوتا تو آج سموگ نہ ہوتی۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے قرضوں پرکمیشن بنایا تھا لیکن اس کی رپورٹ نہیں آئی، ہمارے ادوار میں قرضوں میں کرپشن نہیں ملی اگر ملتی تو یہ رات بارہ بجے بھی لوگوںکو اٹھا کر اس کا بتاتے۔ تجارتی خسارہ 23 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، صورتحال کو فی الفور کنٹرول کرنے کیلئے اجتماعی اذہان کو جمع کرنا ہوگا۔ یہ تاریخ کی بدترین نااہل، نا تجربہ کار اور کرپٹ حکومت ہے۔

    صدر ن لیگ نے کہا کہ دھاندلی کی پیداوار سلیکٹڈ حکومت کی بد ترین گورننس نے ہر چیز کوتہ و بالا کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے احکامات پر قوم کو غلام بنا رہے ہیں۔ اگر فی الفور کوئی اجتماعی فیصلہ نہ ہوا تو پاکستان کے مفاد کو سنگین خطرات لاحق ہوجائیں گے، پھر آپ کو دفاع کو بھی قرضے لے کر فنانس کرنا پڑے گا۔ ایک سے زیادہ آئینی سیاسی آپشنز ہوتے ہیں اور ہم اس کے مطابق حکمت عملی بنائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر مشاورت نہیں کی، اگر آر ٹی ایس بند ہو سکتی ہے تو ای وی ایم بند ہو سکتی ہے۔ اوورسیز ہمارے سروں کے تاج ہیں انہیں ووٹ کا حق دینے کے طریقہ کار پر اختلاف ہے حکمران بدنیتی سے دھاندلی کے ذریعے ووٹوں کو بکسوں میں ڈلوانا چاہتے ہیں۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کریں۔ جو ہمیں دن رات چور اور ڈاکو کہتے ہیں پتہ چلے انہوں نے کس طرح بھارت اور دوسرے ممالک سے فنڈ ز لئے۔ حکومت دروغ گوئی میں سب سے آگے ہے ان کا جھوٹ بولنے اور یوٹرن لینے میں کوئی ثانی نہیں ، انہوںنے ملک کا کباڑہ کر دیا ،معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ عمران خان حکومت کو ایماندار کہنا سفید جھوٹ ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر 90 لاکھ فوجیوں کے محاصرے میں ہے، عالمی برادری نے کچھ نہ کیا تو پھر  ایٹمی جنگ ہونے کا خدشہ ہے ،وزیراعظم عمران خان کا نیویارک میں عالمی نیوز کانفرنس میں بیان

    مقبوضہ کشمیر 90 لاکھ فوجیوں کے محاصرے میں ہے، عالمی برادری نے کچھ نہ کیا تو پھر ایٹمی جنگ ہونے کا خدشہ ہے ،وزیراعظم عمران خان کا نیویارک میں عالمی نیوز کانفرنس میں بیان

    نیویارک :وزیراعظم پاکستان اس وقت نیویار ک میں دنیا کے سامنے کشمیرکا مقدمہ پیش کررہےہیں ، اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے عالمی تجزیہ نگاروں اور صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اس وقت بھارتی ظالم ، قابض 90 لاکھ فوجیوں کے قبضے میں ہے، بھارت نے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا کر رکھا دیا ہے،

    وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کررکھا ہے نیویارک میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کے ہمرا نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘دو جوہری طاقتیں آمنے سامنے ہیں’۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’80 لاکھ لوگ 50 روز سے محبوس ہے جو غیر انسانی ہے فعل ہے اور سلامتی کونسل اپنی قرار دادوں پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘کشمیر ایک متنازع خطہ ہے، کشمیریوں کو رائے دہی کے ذریعے اپنی خود ارادیت کا حق ہے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ان کا حق ہے اور 70 برس سے ایسا نہیں ہوسکا’۔

    وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ‘کشمیر ایک متنازع خطہ ہے، کشمیریوں کو براہ راست رائے دہی کے ذریعے اپنی خود ارادیت کا حق ہے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ان کا حق ہے اور 70 برس سے ایسا نہیں ہوسکا’۔عمران خان نےکہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا سٹیٹس بدلنا چاہتا ہے

    وزیراعظم عمران خان نے ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کمشیر کی صورت حال بہت ہی خراب ہے اور کسی بھی وقت انسانی بحران جنم لےسکتا ہے، عمران خان نے کہا کہ ‘سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ جب کرفیو اٹھاگیا تو کیا ہوگا، ہمیں خوف ہے کہ 9 لاکھ فوج وہاں ہے اور قتل عام ہوسکتا ہے اس لیے ہم عالمی برداری سے کہتے ہیں کہ وہ اپنا کردار ادا کرے’۔

    نیوز کانفرنس کےدوران ایک سوال کے دوسرے حصے کا جواب دیتے ہوئے عمران کاننے کہا کہ میرا دوسرا خدشہ یہ ہے کہ کشمیر اگر کچھ ہوا تو بھارت اس کا الزام پاکستان پر عائد کرے گا کیونکہ فروری میں ایک کشمیری لڑکے نے بھارتی فوجی پر حملہ کیا تھا جس سے پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن انہوں نے فوری طور پر پاکستان پر الزام عائد کیا حالانکہ ہم نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ ثبوت فراہم کریں ہم کارروائی کریں گے’۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ‘بھارتی طیاروں نے بمباری کی اور ہم نے ان کا پیچھا کیا اور دو طیاروں کو گرایا اور گرفتار بھارتی پائلٹ کو واپس کردیا لیکن بدقسمتی سے اس کو امن کی خاطر خیرسگالی کے طور پر نہیں لیا گیا، ہم دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی نہیں چاہتے تھے لیکن اس عمل کو کمزوری سمجھا گیا’

    وزیراعظم نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرے، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کی ہسپتالوں تک رسائی نہیں اور مجھے خوف ہے کہ جیسے ہی کرفیو اٹھالیا جائے گا تو وہاں خون بہے گا کیونکہ بھارت نے وہاں90 لاکھ فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے۔