قومی کپتان بابر اعظم سمیت کرکٹر محمد رضوان اور افتخار احمد ادائیگی حج کے لیے حجاز مقدس پہنچ گئے ،،، عمرہ کی ادائیگی کے بعد تینوں نے تصویر شیئر کر دی ۔فریضہ حج کی ادائیگی ہرعام مسلمان کی طرح اسٹار کرکٹرز کا بھی خواب ہوتا ہے، اس سعادت کے حصول کے لیے کپتان بابر اعظم محمد رضوان اور افتخار احمد نے عمرہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ پہنچے جس کی انہوں نے تصویر بھی شیئر کی جو خوب وائرل ہوئی ، اس سال قومی کرکٹرز میں فخر زمان اور فہیم اشرف کے علاوہ لیجنڈری انضمام الحق عازمین حج میں شامل ہیں ،
Tag: عمرہ

حج عام آدمی کی پہنچ میں کیسے آئے گا……؟ تحریر:محمد نورالہدیٰ
ایک اکانومی عمرہ فقط 3 سے 4 لاکھ روپے میں ہو جاتا ہے۔ جبکہ حج کیلئے اس سے کم از کم 5 گنا زیادہ (ابتدائی) بجٹ درکار ہوتا ہے۔ حج میں عمرہ کی نسبت چند اضافی عبادات شامل ہوتی ہیں، جن میں منیٰ، عرفات (وقوف عرفہ) اور قربانی شامل ہیں۔ مزدلفہ کا قیام، رمی بھی عمرہ سے اضافی عبادات ہیں جو حج کا حصہ ہیں۔ مسجد الحرام سے فرض کی تکمیل کے بعد مذکورہ اسفار و قیام بھی حج کے دیگر اراکین میں شامل ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان ”اضافی“ عوامل کی مد میں حاجیوں کو لاکھوں روپے اضافی دینا پڑتے ہیں۔ مذکورہ ارکان کے بغیر ہونے والا عمل یعنی، عمرہ، جس میں رہائش، ائیرپورٹ سے آنے اور واپس جانے کا سفر، مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے واپس مکہ کا سفر وی آئی پی پیکج کے ساتھ بھی زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ سے اوپر نہیں جاتا۔ اگر آپ نارمل (اکانومی) عمرہ پیکج کا انتخاب کریں گے تو وہ بھی زیادہ سے زیادہ ساڑھے 3 لاکھ سے 4 لاکھ تک ہوگا، اس سے زیادہ نہیں۔
اگر حج کو دیکھا جائے تو اضافی عوامل کے ساتھ یہ بھی اتنا مہنگا نہیں ہونا چاہئے جتنا اسے کر دیا گیا ہے۔ شارٹ اور لانگ حج پیکجز کے ٹکٹ سے لے کر منیٰ، عرفات، مزدلفہ، مدینہ کے اسفار، رہائشی اخراجات اور دیگر سہولیات کا اصل ریٹس پر بریک اپ بنائیں تو یہ رقم زیادہ سے زیادہ بھی 9 لاکھ روپے سے اوپر نہیں جائے گی۔ وی آئی پی حج بھی ہو، تو زیادہ سے زیادہ 11لاکھ روپے تک بآسانی ہو جانا چاہئے۔ موجودہ حج ریٹس مکمل پیکج کے ساتھ 14 لاکھ سے شروع ہو کر 30 لاکھ تک جا رہے ہیں۔ گو، کہ عالمی مہنگائی کے باعث رہائش، مکاتب و مشائر اور دیگر کے اخراجات بڑھے ہیں۔ لیکن مختلف مدات میں ٹیکسز کے اضافے نے حج کی خواہش رکھنے والوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کی نسبت فی حاجی 1 لاکھ روپے خرچہ بڑھا ہے۔ رہائشی اخراجات میں 80 فیصد، طعام میں 100 فیصد، ہوائی سفر کے کرایہ جات کی مد میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی ڈبل ہوئے ہیں جبکہ ویزہ فیس اور دیگر سہولیات کا خرچ بھی بڑھا ہے۔ یوں حج عام آدمی کی پہنچ سے مسلسل دور ہو رہا ہے۔
حج کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر ہوشربا اضافہ کے تناظر میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ ایک طرف، لیکن سعودی عرب میں ٹیکسوں میں اضافہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ 2021 ء میں کورونا کی وجہ سے جب حج کو صرف سعودی باشندوں کیلئے محدود کر دیا گیا تھا، تب بھی عمومی حج حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی حساب سے تقریباً 9 لاکھ روپے کا تھا۔ جبکہ اس سے محض ایک سال قبل تک یعنی 2020ء میں حج کی پاکستانی قیمت 5 سے 6 لاکھ روپے تھی۔ بعد ازاں 2 سالوں میں اب یہ کم از کم 15 لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ گو، کہ مشکل معاشی صورتحال کے باوجود حکومت پاکستان ہر سال حجاج کی سہولت کیلئے زر مبادلہ کا انتظام کرتی ہے۔ حاجیوں کو پیکج میں اچھی خاصی سبسڈی بھی دیتی آئی ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدات کی وجہ سے بھی کافی مشکلات درپیش ہیں۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ حجاج کو محدود بجٹ میں حج کا موقع دیا جائے۔ لیکن پاکستانی حکومت بھی آخر کتنی کوشش کر سکتی ہے، جب تک دوسرے ملک کی حکومت زائرین کیلئے ٹیکس فری انتظامات کے سلسلے میں تعاون نہ کرے۔
یہ کس قدر بدقسمتی ہے کہ پاکستان کو اس مرتبہ حج کا کوٹہ واپس کرنا پڑا؟۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مقامی ہوٹلز کو کنٹرول کرنے کیلئے وہاں کی حکومت کوئی حکمت عملی نہیں بنا سکتی؟ …… ہوٹلز کو سارا سال کمانے کا موقع ملتا ہے۔ عمرہ کی ادائیگی کیلئے پوری دنیا سے لاکھوں لوگ 24/7 بلا کسی تعطل کے اور مسلسل جا رہے ہیں۔ اکثر ایسا وقت بھی آتا ہے جب ہوٹلوں میں عمرہ زائرین کیلئے رہائشی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ جبکہ وہاں کے کاروباری معاملات بھی ہر وقت رننگ میں رہتے ہیں۔ یعنی وہاں کے لوگ روزانہ کی بنیاد پر اچھا خاصہ کما بھی رہے ہیں اور منافع بھی لے رہے ہیں۔ اگر ان مخصوص دنوں (حج کے ایام) میں انتظامی اور دیگر متفرق اخراجات حکومتی سطح پر کم بھی کر دئیے جائیں تو اس قدر منافع ہو جاتا ہے کہ اہلیان سعودیہ کئی سال آرام سے بیٹھ کر کھا سکتے ہیں۔ لہذا اگر حج کیلئے بھی عمرہ کے دنوں والے ریٹ قائم رکھے جائیں، تو رہائش گاہوں کے ”مالی استحکام“ میں فرق نہیں آئے گا، نہ ہی کاروباری سرگرمیوں میں کمی یا عدم استحکام پیدا ہو گا …… لیکن نجانے کیوں حج اور عمرہ کو سیاحت سے منسوب کرتے ہوئے اسے منافع بخش کاروبار کے طور پر لیا جانے لگا ہے۔ دنیا میں کوئی ایک ملک، کوئی ایک مقام، کوئی ایک سفر تو ایسا ہونا چاہئے جو غیر منافع بخش اور ٹیکس فری ہو، بالخصوص اس مقدس اور مبارک سفر کو تو آسان اور قابل رسائی ہونا چاہئے۔ متعلقہ ملک کے ارباب اختیار کو اس پر سوچنا اور مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔
سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز (محمد نورالہدیٰ) 
سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز،محمد نورالہدیٰ
گذشتہ دنوں مجھے سفرِ حجاز کا موقع ملا۔ اس سفر کے دوران بے شمار مشاہدات ہوئے۔ بہت سے زائرین سے ملاقات اور ان کے مسائل سے آگاہی ہوئی۔ زائرین کی پریشانیوں اور ان پریشانیوں کی وجہ بننے والے عناصر کے بارے میں جاننے کا اتفاق ہونے سمیت کافی تلخ حقائق بھی نظر سے گزرے۔
میرے مشاہدے میں آیا کہ حرمین (مسجد الحرام اور مسجد نبوی) میں نمازیوں کی خدمت پر مامور عملہ صرف پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان سے تعلق رکھتا ہے۔ شاید سعودی نجی ادارہ اس کام کیلئے کسی اور ملک کے لوگ رکھتا ہی نہیں۔ ان لوگوں کی ڈیوٹی حرمین کے عربی ملازمین سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ یہ معمولی تنخواہ کے عوض یہاں کام کر رہے ہیں۔ واٹرز کولرز کی بھرائی، حرمین کی بار بار فرشی اور واش رومز کی صفائی کرتے رہنے سمیت دیگر فرائض ہر گزرتے منٹ مسلسل ادا کرنا ان کی ذمہ داری میں شامل ہیں۔ تمام ڈیوٹی کے دوران مسلسل کھڑے رہنا ان پر جیسے فرض کر دیا گیا ہے۔ سخت دھوپ میں بھی انہیں اپنے امور مسلسل نبھاتے رہنا ہے۔ اس دوران انہیں بیٹھنے کی اجازت ہے اور نہ ہی سستانے کی۔ یہ خادمین بظاہر خوش باش دکھائی دیتے ہیں مگر اندر سے یہ خالی ہیں۔ میں نے ان کے چہروں پر بے بسی کے واضح آثار دیکھے ہیں۔
حرمین کے واٹر کولرز (زمزم) پر ذمہ داری ادا کرنے والے ایک ہندوستانی خادم سے میں نے کہا کہ تم فارغ ہی کھڑے ہو۔ پانی کا کولر بھی بھرا ہوا ہے اور پینے والوں کا رش بھی نہیں ہے۔ فالتو کھڑے رہنے کی بجائے تھوڑی دیر بیٹھ کیوں نہیں جاتے؟۔ جواب ملا کہ چاہے پانی پینے والا کوئی نہ ہو، واٹر کولر بھی بیشک بھرا ہو، ہمیں اپنی ڈیوٹی کے دوران بیٹھنے، آرام کی اجازت نہیں ہے…… صفائی کے فرائض سر انجام دینے والے ایک بنگلہ دیشی لڑکے نے بتایا کہ تنخواہ محدود ہے اور ڈیوٹی سخت، مگر جو ملتا ہے صبر و شکر کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔
دورانِ سفر میں نے بارہا ہوٹلوں میں زائرین کو رہائش، آمد و رفت اور ٹریولنگ ایجنسیوں سے متعلقہ دیگر امور پر خوار ہوتے دیکھا۔ انہیں اپنے الاٹ شدہ مقامی ایجنٹوں سے رابطہ میں شدید مشکل اور پریشانی کا سامنے کرتے پایا۔ کیونکہ یہاں آنے کے بعد وہ قدم قدم اُس کمپنی کے ایجنٹ کے محتاج ہوتے ہیں جس کے ذریعے وہ ویزہ لگوا کر یہاں تک پہنچے ہوتے ہیں۔ مگر ایجنٹ حضرات کی جانب سے مناسب رسپانس نہ ملنے پر وہ سخت خاصی کوفت کا شکار رہتے ہیں۔
میرے پاس قلمبند کرنے کو کئی داستانیں موجود ہیں۔زیادہ تر داستانیں پہلی بار حجاز مقدس جانے والوں کی پریشانیوں پر مشتمل ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ زائرین اس بات سے آگاہ نہیں ہوتے کہ ان کی سہولت کیلئے وزارت حج و عمرہ موجود ہے، جہاں وہ اپنے مسائل و مشکلات کے ازالے کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ایجنٹ حضرات اس لاعلمی کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میں نے مشاہدے کی غرض سے کئی ہوٹل وزٹ کئے۔ مجھے مذکورہ صورتحال سے مختلف دکھائی نہیں دی۔ صرف 3 فیصد لوگ اپنے ایجنٹوں سے مطمئن دکھائی دیئے۔ باقی 97فیصد لوگوں سے مجھے ان ٹریول سروسز اور ایجنٹس کے خلاف بددعائیں ہی سننے کو ملیں۔
کئی پاکستانی زائرین سے گفتگو کے دوران مجھے ایک اور مشاہدہ بھی ہوا کہ حج، عمرہ کی سروسز فراہم کرنے والی اکثر کمپنیاں (ٹریولنگ ایجنٹ) غلط بیانی کر کے لوگوں کو بھیجتے ہیں۔ جو لوگ گروپ کی صورت میں جانا چاہتے تھے، انہیں یہ کہہ کر بھیجا گیا کہ آپ چلے جائیں، گروپ وہیں جا کر بنے گا۔ وہاں پہنچ کر کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کون کس کمپنی یا ٹریول ایجنٹ کی طرف سے آیا ہے۔ لہذا انفرادی طور پر آنے والے زائرین کو اکیلے ہی اپنی سرگرمیوں کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ آنے والوں کو تیاری کر کے آنے کے باوجود فرائض کی انجام دہی میں قدم قدم مشکل پیش آتی ہے۔
اس کے برعکس میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک کے لوگ گروپس کی صورت میں آتے ہیں اور اجتماعی عبادات کرتے ہیں جس سے نہ صرف اک دوسرے کو ترویج و تحریک ملتی ہے بلکہ اس اجتماعی عمل سے دیگر افراد بھی استفادہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر پہلی مرتبہ آنے والوں کو مشترکہ سرگرمیوں کی وجہ سے کافی سہولت رہتی ہے۔ انہیں گائیڈ بھی میسر ہوتا ہے جس کی راہنمائی میں وہ عبادات میں خود کفیل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں سفر کا فائدہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
میں نے یہ عمل ملائیشیا، انڈونیشیا، فلپائن، برما، بنگلہ دیش، انڈیا، عراق، اور چند دیگر ممالک سے آنے والوں میں دیکھا۔ جو ہوٹل سے لے کر تمام عبادات اور واپسی تک اجتماعی عوامل سر انجام دے کر اک دوسرے کی راہنمائی کرتے اور قدم قدم پر مشترکہ عمل کرتے ہیں۔ جبکہ گروپس کی یہ سہولت صرف پاکستان کے چند ہی شہروں سے آنے والے زائرین کی صورت میں دکھائی دی۔ شاید پاکستان کے ٹریولنگ ایجنٹس کو یہی غرض ہوتی ہے کہ وہ سالانہ کتنے زائرین بھجوا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انہیں کتنی کمائی ہو رہی ہے۔ زائرین کی پریشانیوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔
دوسری جانب حرمین کے انتظامی معاملات کے حوالے سے مجھے بیشتر امور پر رائے دینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ میں سعودی حکام اور بالخصوص وزارت حج و عمرہ کو اس پر چند تجاویز ارسال کرنے کا متمنی ہوں، کیونکہ ان امور پر ہنگامی اقدامات وقت کا تقاضہ ہیں۔ اپنی ارسال کردہ تجاویز اور آراء میں سعودی وزارت حج و عمرہ سے یہ بھی درخواست کروں گاکہ مختلف ممالک کے شہریوں کو ویزہ جاری کرتے ہوئے عدم تعاون کے حامل مقامی ایجنٹوں کی شکایت کیلئے سہولت کا کوئی نمبر بھی جاری کیا جائے …… زائرین کی آسانی کیلئے نہ صرف ہوٹلوں میں شکایت کاؤنٹر بنائے جائیں، بلکہ ایک فعال آن لائن کمپلینٹ پورٹل بھی بنایا جائے تا کہ زائرین اپنی شکایت رجسٹرڈ کروا سکیں اور ان کی مشکل کا فوری ازالہ ممکن ہو سکے …… حج کا سیزن شروع ہو چکا ہے۔ سعودی حکومت کو چاہئے کہ بیان کردہ صورتحال کی مانیٹرنگ اور یقینی ازالے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے، نیز اگر اپنے ویژن 2030ء میں مذکورہ امور بھی شامل کرلے تو زائرین کی سہولت اور آسانی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو،نورانی چہرے والے بزرگ پاکستان واپس پہنچ گئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک بزرگ کی ویڈیو پچھلے کئی دنوں سے وائرل ہو چکی ہے جس کے بارے میں مختلف باتیں کی جا رہی تھیں، بزرگ کے بارے میں مختلف قصے بیان کئے جا رہے تھے تا ہم گزشتہ روز انکشاف ہوا تھا کہ بابا جی پاکستانی ہیں اور اب وہ عمرہ کی ادائیگی کے بعد پاکستان واپس پہنچ چکے ہیں،
عرب ممالک میں وائرل ہونے والی ویڈیو میں اپنی سادگی اور لباس کی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین کے دل جیتنے والے بزرگ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر حب کے رہائشی ہیں، بزرگ عبدالقادر مری عمرہ کی ادائیگی کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے، انکی فلائٹ کراچی ایئر پورٹ پر اتری جہاں انکے عزیزو اقارب نے انکا استقبال کیا اور عمرے کے مبارکباد دی،
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں عرب ممالک میں ایک بزرگ کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ہاتھ میں عصا اٹھائے مسجد نبویﷺ سے باہر نکل رہے ہیں یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی تھی جس کے بعد پاکستانی قوم نے انہیں سعودی عرب میں فرشتہ بنا دیا تو کسی نے صحابہ کرام کے دور کا بندہ، تاہم اب حقیقت سامنے آئی ہے،
ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی
بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

مسجد الحرام میں عمرہ ادائی کے دوران خاتون روزے کی حالت میں انتقال کرگئیں
مسجد الحرام میں مصری خاتون روزے کی حالت میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئیں۔
باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق هبة القبانی نامی مصری خاتون عمرہ ادائی کے دوران اور روزے کی حالت میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئیں مرحومہ کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔
سعودی عرب نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی
غیرملکی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر هبة القبانى کے شوہر ڈاکٹرعبد المنعم الخطيب نے اپنی بیوی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھ بھال کرنے والی، صالح اور فرمانبردار خاتون تھی۔
رپورٹس کے مطابق خاتون نے پسماندگان میں شوہر اور 5 بچوں کو چھوڑے ہیں۔
شیخ منصور بن زاید آل نہیان یو اے ای کے نائب صدر مقرر
واضح رہے کہ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی رمضان المبارک میں عمرہ ادائی کے لیے دنیا بھر سے سعودی عرب آنے والے زائرین اور متعمرین کا رش لگا ہوا ہے-

رمضان المبارک میں ایک سے زیادہ عمرہ ادا کر پر پابندی عائد
مکہ مکرمہ: رمضان المبارک میں ایک سے زیادہ عمرہ ادا کر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
باغی ٹی وی: سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پابندی کا مقصد یہ ہے کہ ہر شخص کو عمرہ ادا کرنے کا موقع مل سکے۔ رمضان میں ایک مرتبہ عمرے کی پابندی سے دوسروں کو اطمینان اور آسانی کے ساتھ عمرے کا موقع مل سکے گا۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے میں حرمین شریفین کیلئے پرمٹ کی شرط ختم
وزارت حج و عمرہ کے مطابق عمرے کے خواہش مند زائرین ’نسک ایپ‘ کے ذریعے پرمٹ حاصل کریں اور وقت کی پابندی کریں۔ سسٹم میں عمرے کی مقررہ تاریخ اور وقت میں ترمیم کی گنجائش موجود نہیں ہےجو لوگ نسک ایپ کےذریعے عمرہ پرمٹ جاری کرائیں گے اگر وہ اس میں ترمیم چاہتے ہوں تو انہیں پرمٹ منسوخ کروانا ہوگا۔
قبل ازیں رمضان کے آخری عشرے کے لیے حرمین شریفین کے لیے اجازت نامے کی شرط ختم کردی گئی ہے،سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق رمضان کے آخری عشرے میں خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ کے لیے پرمٹ کی ضرورت نہیں ہوگی تاہم زائرین کا کورونا سے متاثر نہ ہونا ضروری ہے۔
شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق
سعودی وزارت حج و عمرہ نے مزید کہا کہ عمرہ یا مسجد نبوی میں روضہ رسول ﷺ کی زیارت کیلئے پرمٹ لازمی ہے۔ پرمٹ نسک ایپلی کیشن سے ان لوگوں کو جاری کیے جائیں گے جو کورونا سے متاثر نہ ہوں یا پھر ان کا کورونا سے متاثرہ شخص سے کوئی رابطہ نہ ہوں۔

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں حرمین شریفین کیلئے پرمٹ کی شرط ختم
مکہ معظمہ: رمضان کے آخری عشرے کے لیے حرمین شریفین کے لیے اجازت نامے کی شرط ختم کردی گئی۔
باغی ٹی وی:سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق رمضان کے آخری عشرے میں خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ کے لیے پرمٹ کی ضرورت نہیں ہوگی تاہم زائرین کا کورونا سے متاثر نہ ہونا ضروری ہے۔
سعودی وزارت حج و عمرہ نے مزید کہا کہ عمرہ یا مسجد نبوی میں روضہ رسول ﷺ کی زیارت کیلئے پرمٹ لازمی ہے۔ پرمٹ نسک ایپلی کیشن سے ان لوگوں کو جاری کیے جائیں گے جو کورونا سے متاثر نہ ہوں یا پھر ان کا کورونا سے متاثرہ شخص سے کوئی رابطہ نہ ہوں۔
دوسری جانب مسجد نبوی کے انتظامی امور کی ذمہ دارجنرل پریذیڈنسی نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی آمد کی مناسبت سے تیاریاں تیز کردی ہیں مسجد نبوی انتظامیہ نے یکم رمضان سے 19 رمضان تک ریاض الجنہ میں نماز کے لیے پرمٹ کے نئے شیڈول کا اعلان کردیا –
پریذیڈنسی ایجنسی رمضان کے مہینے کے لیے اپنے منصوبے کے مطابق مسجد نبوی کو 24 گھنٹے زائرین اور نمازیوں کی آمدورفت کے لیے تمام خدمات کے ساتھ تیار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ رمضان المبارک کے دوران نمازیوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر مسجد نبوی کی چھت کو بھی نمازیوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
روضہ شریف پر یکم رمضان سے 19 رمضان المبارک تک نمازیوں کو جانے کی اجازت ہوگی یکم رمضان سے ریاض الجنہ میں داخلے کے لیے زائرین کو رات ڈھائی بجے سے فجر کی نماز اور صبح ساڑھے 11 سےعشاء تک کے لیے پرمٹ جاری ہوں گے زائر خواتین کو ریاض الجنہ میں داخلے کے پرمٹ نماز فجر کے بعد سے صبح 11 بجے تک اور پھر رات 11 بجے سے دو بجے تک کے لیے جاری ہوں گے۔

میری قبر میری مرضی زارا نور عباس نے ایسا کیوں کہا ؟
اداکارہ زارا نور عباس جو کہ اداکارہ اسماء عباس کی بیٹی ہیں اور اداکار اسد صدیقی کی اہلیہ ہیں انہوں نے حال ہی میں عمرہ کی سعادت حاصل کی ہے . اداکارہ نے اپنی اور اپنے شوہر کی عمرے کے دوران لی گئی تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی ، جہاں بہت سارے لوگوں نے ان کو عمرے کی سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد دی وہیں چند ایک نے عجیب و غریب باتیںکیں، ثمن نامی ایک صارف نے زارا کو لکھا کہ اداکارہ ہونے کا مطلب کیا ہے؟ پورا سال فحاشی پھیلائو ، آدھے کپڑے پہنو ، اپنا جسم دکھا کر لوگوںکو اپنی جانب متوجہ کرو اور پھر سال کے آخر میں عمرہ کرنے چلے جائو ، اس صارف کو زارا نور عباس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ” میں چاہے جو بھی کروں میرا اللہ میری قبر ، آپ میری قبر میں گھسنے کی کوشش
کیوں کررہی ہیں؟بہت معذرت میری قبر میںآُپ کے لئے جگہ نہیں ہے پلیز اپنے بارے میں فکر کریں . یوں زارا نور عباس نے گھٹیا کمنٹ پر سنجیدگی سے جواب دیکر اپنے مداحوں کے دل جیت لئے. جبکہ ثمن نامی صارف کو دوسرے صارفین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا. یاد رہےکہ اس برس بہت ساری شوبز سلیبرٹیز نے عمرے کی سعادت حاصل کی .

شائستہ لودھی نے عمرہ کی سعادت حاصل کر لی
اداکارہ و میزبان شائستہ لودھی جو اپنے مارننگ شوز کی وجہ سے ایک بڑی تعداد میں فین فالونگ رکھتی ہیں، ان کی حال ہی میں سوشل میڈیا پر چند تصاویر وائرل ہو رہی ہیں اور وہ تصاویر ہیں شائستہ لودھی کی مکہ مکرمہ کی . شائستہ لودھی نے نیو ائیر پر عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کا پلان بنایا اور اسی غرض سے وہ سعودی عرب پہنچیں. اداکارہ نے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے دوران اور بعد میں خوبصورت لمحات کی تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کی. جیسے ہی شائستہ لودھی نے اپنی عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کیں تو ان کے مداحوں
اور قریبی دوستوں نے انہیںمبارکباد دینے کے سلسلہ شروع کیا.یاد رہے کہ ان سے پہلے ماورا حسین ، ہمایوں سعید ، شہزاد نصیب ، نرگس ، مایا علی سمیت دیگر بھی عمرہ کی سعادت حاصل کر چکے ہیں. شائستہ لودھی نے ایک عرصے سے شوبز کی سرگرمیاں کم کر دی ہیں وہ کم کم ہی ٹی وی پر نظر آتی ہیں یہاں تک کہ وہ شوبز کی تقریبات میں بھی نظر نہیںآتیں ، وہ آج کل اپنا کلینک چلانے میں کافی مصروف ہیں وہ کراچی سمیت دیگر شہروںمیں سکن اور چہرے کے حوالے سے ٹریٹمنٹ کرتی ہوئی نظر آتی ہیں . تاہم ان کے مداح ان کو ٹی وی پر دیکھنےکےلئے بےتاب رہتے ہیں. ب گش

مایا علی نے عمرے کی سعادت حاصل کر لی
اداکارہ مایا علی جو ایک بڑی تعداد میں فین فالونگ رکھتی ہیں انہوں نے حال ہی میں عمرے کی سعادت حاصل کی ہے ان سے چند دن قبل اداکار ہمایوں سعید انکی اہلیہ اور شہزاد نصیب نے عمرے کی سعادت حاصل کی جن کی تصاویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئیں. مایا علی نے عمرے کی سعادت حاصل کرنے دوران اپنی کچھ تصاویر انسٹاگرام پر جاری کیں اور انہوںنے کیپشن لکھا کہ بے شک خدا کی ذات جس کو جب چاہیے عزت سے نوازے اور اپنے گھر بلا لے. انہوں نے خدا کے گھر میں خدا کی نعمتوںکا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے جو کچھ دیا اس کے لئے الحمد اللہ . مایا علی نے کچھ تصاویر ایسی بھی شئیر کیں جن کے کیپشن میں انہوں نے لکھا کہ کیا روح پرور مناظر ہیں کہ جن کو میں اپنے لفظوں میں بھی بیان نہیں کر سکتی . میں بس خدا کی دی ہوئی نعمتوںکی شکر گزار
ہوں. یاد رہےکہ مایا علی آج کل شعیب منصور کی فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہیں اس میں ان کے ساتھ بطور ہیرو عماد عرفانی کام کررہے ہیں. شعیب منصور کے ساتھ مایا علی اور عماد عرفانی پہلی بار کام کررہے ہیں. عماد عرفانی نامو ماڈل ہیں اور مایا علی ایک اسٹیبلش اداکارہ ہیں ان کی پہلی ہی فلم طیفا انٹربل نے ان کو فلموںکی سپر سٹار بنا دیا تھا .









