Baaghi TV

Tag: عمر عطا بندیال

  • گن اینڈ کنٹری کلب کیس،اگلا بینچ اس کیس کو انجوائے کرے گا،چیف جسٹس

    گن اینڈ کنٹری کلب کیس،اگلا بینچ اس کیس کو انجوائے کرے گا،چیف جسٹس

    سپر یم کورٹ میں گن اینڈ کنٹری کلب ازخود نوٹس پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دلچسپ ریمارکس دیئے، فریقین کے وکیل کی استدعا پر کیس کی سماعت بغیر کسی کاروائی کے ہی ملتوی کر دی گئی، عدالت نے فریقین کی استدعا منظور کر لی،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا باقی وکلا کو اطلاع نہیں ہوئی تھی ہم آپ کو گڈ تو سی یو کہتے ہیں یہ کیس بہت دلچسپ تھا اب یہ کیس نیا بینچ سنے گا ضروری نہیں کہ انسان جو چاہے اس کی وہ خواہش پوری ہو امید ہے اگلا بینچ اس کیس کو انجوائے کرے گا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نومبر 2022 میں گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کے فوری آڈٹ کا حکم دیا تھا ،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ گن اینڈ کنٹری کلب کے آڈٹ کے عمل کو جلد مکمل کیا جائے،2دسمبر 2019 سے 20 جون 2022 تک کا آڈٹ کیا جائے، گن اینڈ کنٹری کلب اور سی ڈی اے میں زمین لیز کے معاملے پر مجاز اتھارٹی کو فیصلے کی ہدایت بھی کی گئی،عدالت نے کہا کہ سیکریٹری آئی پی سی جو چیئرمین کمیٹی بھی ہیں انکی میٹنگ میں چائے کا خرچہ 4لاکھ 16 ہزار روپے تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اجلاسوں میں ہم کھانے پینے کے اخراجات خود ادا کرتے ہیں،

    سپریم کورٹ میں گن اینڈ کنٹری کلب کیس کی سماعت، عدالت نے دیا حکومت کو بڑا جھٹکا

    گن اینڈ کنٹری کلب سے متعلق کیس کی سماعت،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    گن اینڈ کنٹری کلب سے متعلق کیس کی سماعت،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    لاپتہ افراد کے وکیل کی گمشدگی، سپریم کورٹ نے حکومت کو بڑا حکم دے دیا

    رائل پام کنٹری گالف کلب لاہوراراضی عملدرآمد کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    واضح رہے کہ عدالت نے دی گن اینڈ کنٹری کلب کے قیام کے حوالے سے پرویزمشرف دور کی قرارداد غیرقانونی قرار دیتے ہوئے سروے آف پاکستان کو تین ہفتوں میں 145 ایکڑ زمین کی حد بندی کا حکم دیا تھا،عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ 1975 میں لیز کے تحت 175 ایکڑ زمین دی گئی جس میں 2008 میں مزید 33 سال کی توسیع کر دی گئی، دی گن اینڈ کنٹری کلب کو دی گئی زمین کی سی ڈی اے سے منظوری نہیں لی گئی۔

  • ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا،چیف جسٹس

    ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، نئے عدالتی سال کی تقریب کا انعقاد کیا گیا

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ ریفرنس ہوا،سپریم کورٹ میں جاری فل کورٹ ریفرنس میں 15 ججز نے شرکت کی، نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی فل کورٹ ریفرنس میں شریک ہوئے، فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس یحییٰ آفریدی کے سوا تمام ججز شریک ہیں ،جسٹس یحییٰ آفریدی بیرون ملک ہونے کی وجہ سے فل کورٹ ریفرنس میں شریک نہ ہوسکے ،فل کورٹ ریفرنس کی تقریب میں اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرلز نے شرکت کی، سپریم کورٹ بار، پاکستان بار کے نمائندہ اور وکلاء کی بڑی تعداد فل کورٹ تقریب میں شریک تھے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لیڈرشپ میں ہم شفافیت، مستعدی اور عوامی اعتماد کے نئے دور کی جانب بڑھیں گے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے،کیسز کم کرنے کی کاوشوں کو سراہتے ہیں تاہم ابھی بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے،عام سائلین کے مقدمات کے بلاتاخیر فیصلے ہونے چاہیں،اٹارنی سپریم کورٹ کو اپنی توانائیاں عام سائلین کے کیسز کو سننے میں صرف کرنی چاہیں،سپریم کورٹ میں براہ راست سیاسی اور ہائی پروفائل کیسز کی وجہ سے عام سائلین کے مقدمات متاثر ہوتے ہیں،سپریم کورٹ میں براہ راست مقدمات غیر معمولی اور عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے معاملات میں ہونے چاہیں،بنچز کی تشکیل اور ججز تعیناتیوں کی بازگشت پارلیمان میں بھی سنی گئی،سپریم کورٹ نے متعدد مواقع پر صوابدیدی اختیارات میں شفافیت پر زور دیا ہے،کوئی وجہ نہیں کہ سپریم کورٹ اس اصول کا خود پر اطلاق نہ کرے،نئے عدالتی سال کے ساتھ ساتھ ہم جوڈیشل لیڈر شپ کی تبدیلی کے مرحلے سے بھی گزر رہے ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بطور چیف جسٹس عہدہ سنبھالنے کے قریب ہیں، مجھے یقین ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لیڈرشپ میں ہم شفافیت، مستعدی اور عوامی اعتماد کے نئے دور کی جانب بڑھیں گے،سپریم کورٹ کو براہ راست مقدمات سننے کا اختیار استعمال کرتے ہوئے آئینی اداروں کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے،جب عدلیہ اداروں کی حدود کے اصول کا خیال نہیں رکھتی تو پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں تجاوز کرتی ہے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے بلا احتیاط استعمال سے سپریم کورٹ کا تشخض متاثر ہوتا ہے،سپریم کورٹ کے جوڈیشل اور انتظامی معاملات میں شفافیت کی ضرورت ہے ،ججز کی تعیناتیاں ،بنچز کی تشکیل چیف جسٹس کرتے ہیں،یہ اختیار چیف جسٹس کو متنازعہ معاملات کے فیصلوں میں غیر متناسب کنٹرول دیتا ہے،سپریم کورٹ کو براہ راست مقدمات سننے کا اختیار استعمال کرتے ہوئے آئینی اداروں کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے،جب عدلیہ اداروں کی حدود کے اصول کا خیال نہیں رکھتی تو پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں تجاوز کرتی ہے،آئین کے آرٹیکل 184/3 کے بلا احتیاط استعمال سے سپریم کورٹ کا تشخض متاثر ہوتا ہے،

    عام مقدمات کافی دیر کے بعد فکس ہوتے ہیں جس سے عوام مایوس ہوتی ہے نامزد چیف جسٹس اس تاثر کو زائل کریں، ہارون الرشید
    پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین ہارون الرشید نے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدالت عظمی میں لگ بھگ 60 ہزار مقدمات زیر التواء ہیں بار ہا التجاء اور یاد دہانی کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا .زیر التوا مقدمات کو سماعت کیلئے کوئی شفاف نظام وضح نہ کیا جاسکا ،کچھ عرصہ سے سپریم کورٹ میں مقدمات میں مختصر فیصلہ کرنے کی ایک نئیروش چل پڑی ہے اکثر مقدمات میں بروقت تفصیلی فیصلے جاری نہیں ہوتے یہاں تک کہ کچھ ججز ریٹائرڈ بھی ہوجاتے ہیں کچھ کیسسز میں لارجر بینچ ببنے کا حکم ہوا لیکن آج تک وہ لارجر بینچ تشکیل نہیں دئے جاسکے نامزد چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ نئے اور اریجنٹ کیسسز جب فائل ہوں تو اسی ہفتہ میں فکس کئے جائیں کافی تعداد میں ایسے کیسسز صرف پہلی سماعت کے منتظر ہیں ایک عام تاثر ہے کہ چند خاص لوگوں کے مقدمات دائر ہوتے ہیں فورا لگ جاتے ہیں عام مقدمات کافی دیر کے بعد فکس ہوتے ہیں جس سے عوام مایوس ہوتی ہے نامزد چیف جسٹس اس تاثر کو ذائل کریں ایسا سسٹم تشکیل دیں کہ مقدمات کی فکسیشن بلا تفریق ہو،عام لوگوں کو محرومی کا احساس نہ ہو اور اس ادارہ پہ اعتماد قائم رہے بہت سے مقدمات کا فیصلہ ہوجانے کے باوجود ان کی مسل ہائے مختلف ججز کے چیمبرز میں پڑی ہیں ،ان مقدمات کے تحریری حکمنامے بھی ابھی تک نہیں آسکے ،اگر یہ اطلاع درست ہے تو میرے اس ریفرنس کو درخواست تصور کیا جائے ،وکلاء کی سپریم باڈی کو اس کے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جائیں ،امید ہے میری اس درخواست کو رجسڑار سپریم کورٹ کے ذریعہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جائے گا ،وکلاء کے اعلی ترین ادراہ کو معلومات کی رسائی کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا

    ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے نئی عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور چیف جسٹس آخری مرتبہ نئے عدالتئ سال کی تقریب سے خطاب کر رہا ہوں گزشتہ سال عدالت کی ایک سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی تھی تعیناتی کے ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے اس سے پہلے ایک سال میں نمٹائے گئے مقدمات کی زیادہ سے زیادہ تعداد 18 ہزار تھی کوشش تھی کہ زیرالتواء مقدمات 50 ہزار سے کم ہوسکیں زیرالتواء مقدمات کی تعداد میں دو ہزار کی کمی ہی کر سکے،فروری 2023 میں سپریم کورٹ کے سامنے کئی آئینی مقدمات آئے ،آئینی ایشوز میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا ،سخت امتحان اور ماحول کا کئی مرتبہ عدالت خود شکار بنی ،جو واقعات پیش آئے انہیں دہرانا نہیں چاہتا لیکن اس سے عدالتئ کارکردگی متاثر ہوئی ،تمام واقعات آڈیو لیکس کیس میں اپنے فیصلے کا حصہ بنائے ہیں

    چیف جسٹس کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تمام ساتھی ججوں کا میرے ساتھ برتاو بہت اچھا رہا، جہاں آزاد دماغ موجود ہوں وہاں اختلاف ہوتا ہے، میرے دائیں قاضی فائز عیسی ہیں جو بہت اچھے انسان ہیں، میری اور ان کی اپروچ الگ ہے ، صحافی معاشرے کی کان اور آنکھ ہوتے ہیں،صحافیوں سے توقع ہوتی ہے وہ درست رپورٹنگ کریں گے، جہاں پر کوئی غلطی ہوئی اسے ہم نے اگنور کیا، سپریم کورٹ کی جانب سے ڈیمز فنڈ قائم کیا گیا ، ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ، اگست میں بھی فنڈز میں رقم آنے کا مطلب عوام کا سپریم کورٹ پر اعتماد ہے ، ڈیمز فنڈ کے اس وقت 18.6 ارب روپے نیشنل بنک کے ذریعے سٹیٹ بنک میں انویسٹ کیے گئے ہیں، ڈیمز فنڈ کی نگرانی سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ کر رہا ہے،میرے حوالے سے میڈیا میں غلط رپورٹنگ بھی کی گئی،گڈ ٹو سی یو والے میرے جملے کو غلط رنگ دیا گیا،شارٹ اینڈ سویٹ ججمنٹ بارے آبرزویشن دی جس پر غلط رپورٹنگ ہوئی، جو ہوا میں اس کو درگزر کرتا ہوں

    سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق اپنے فیصلہ پر عمل کرانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ،عابد زبیری
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسم گرما کی تعطیلات کے باوجود سپریم کورٹ نے عام آدمی تک انصاف کی فراہمی کا عمل جاری رکھا تعطیلات کے باوجود مسلسل مقدمات کی شنواۃ کا سلسلہ جاری رکھنا لائق تحسین عمل ہے دوران تعطیلات کئ سیاسی نوعیت کے مقدمات بھی سماعت کیلئے مقرر ہوئے جس کی وجہ سے عام عوام کو انصاف کی فراہمی کا عمل سست روری کا شکار ہوا ،جب سیاسی اور پارلیمانی نظام ناکام ہوجائے تو اس کا بوجھ بھی عدلیہ کو اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے،مقدامات کی جلد سماعت کیلئے دائر درخواستوں کا زیر التوا رکھے جانے سے انصاف کی فراہمی کا عمل سست روی کا شکار ہوتا ہے ،عدالت کی توجہ 90 دن میں انتخابات کرانے کے آئنی معملہ پر مبزول کروانا چاہتا ہوں ،الیشکن کمیشن انتخاب آئنی مدت میں کروانے سے گریزاں ہے الیکشن کمیشن کا یہ رویہ رائے دہی کے آئین کے حق کے منافی ہے آئین سے روگردانی پہ آرٹیکل 6 کے تحت الیکشن کمیشن کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق اپنے فیصلہ پر عمل کرانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ،اتنخابات کے حوالہ سے ہماری درخواست کی ابھی تک شنوائی نہیں ہوسکی انتخاب کے حوالے سے ہماری درخواست کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے ،صدر مملکت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد انتخابات کا اعلان کرے ،آفشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی ایکٹ کی آڑ میں بنیادی حقوق کی پامالیاں ہورہی ہیں سویلین کا ٹرائل غیر آئینی اور غیر قانونی ہے جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ،قوم کی بیٹیاں اور بہنیں من گھڑت اور بے بنیاد الزامات پر قید ہیں عدالت ان جبری قید کا نوٹس لے،فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستیں کو فوری مقرر کیا جائے عدلیہ اور ججز کی تضحیک وکلاء برادری کبھی تسلیم نہیں کرے گی،امید کرتے ہیں کہ نئے عدالتی سال میں سپریم کورٹ میں تقسیم کے تاثر کو ختم کرنے کیلئے ٹوس اقدامات اٹھائے جائیں گےنامز چیف جسٹس سے امیدہے کہ وہ آئین اور قانون کی عمل درامد پر یقینی بنائیں گے.

    دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطا بندیال کیلئے فل کورٹ ریفرنس نہ ہونے کا امکان ہے۔ نئے عدالتی سال کے موقع پر صحافی سے سوال کیا کہ کیا آپ فل کورٹ ریفرنس لے رہے ہیں؟ اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ میں نے ابھی تک اس بارے میں نہیں سوچا اور فیصلہ نہیں کیا ،صحافی نے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے سوال کیا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کیا چیف جسٹس کو فل کورٹ ریفرنس دیا جا رہا ہے؟ اس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے جواب دیا کہ ہم بھی انتظار کر رہے ہیں جیسے پتہ چلے گا بتا دیں گے،جسٹس قاضی فائز عسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ویسے انہوں نے آج تقریر میں تو کہا ہے کہ شاید یہ میرا آخری خطاب ہے.

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ایک کیس میں نیب پر برہمی کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی: نیب کی جانب سے ملزم کے بینک اکاونٹس منجمند کرنے کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، درخواست پر سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

    گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا …

    دوران سماعت چیف جسٹس کے استفسار پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 48 ہزار 674 روپے کے بینک اکاونٹ کے فریزنگ آرڈر درکار ہیں۔

    چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا مذاق ہے، نیب اس وقت اختیار کا غلط استعمال کر رہا ہے، نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے، نیب صرف 48 ہزار روہے کے پیچھے پڑا ہوا ہے، 48 کروڑ ہوتے تو بات بھی تھی۔

    عمران خان نے ہی منصوبہ کی تھی کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو کیا …

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ نیب فیٸر نہیں ہے، نیب کو ایسی درخواست داٸر نہیں کرنی چاہیے تھی عدالت کے برہمی ظاہر کرنے پر نیب نے درخواست واپس لے لی، اور سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے پر کیس نمٹا دیا۔

  • چیف جسٹس کی "گڈ ٹو سی یو” کی وضاحت پر مریم نواز کا ردعمل

    چیف جسٹس کی "گڈ ٹو سی یو” کی وضاحت پر مریم نواز کا ردعمل

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی گُڈ ٹو سی یو جملے پر وضاحت پر ردعمل دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پو مرم نواز نے کہا کہ ربوں کے ڈاکے ڈالنے والے کتنے مجرموں کو آپ گڈ ٹو سی یو کہتے ہیں؟ ہر ایک کو ریجسٹرار سے فون کروا کر مرسیڈیز بھی منگوا کر رخصت کرتے ہیں؟ ہر ایک کو جیل سے ریسٹ ہاؤس بھی شفٹ کرتے ہیں؟ –

    میں ہر کسی کو’گڈ ٹو سی یو‘کہتا ہوں ،مجھے تنقید کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس


    انہوں نے مزید کہا کہ سب پر اسی طرح ریمانڈ میں ضمانتوں کی برسات کرتے ہیں؟ سب کو کہتے ہیں دس فیملی میمبرز کو بلائیں، گپیں لگائیں اور سو جائیں؟-

    قبل ازیں مریم نواز نے چیف جسٹس عمرعطا بندیال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمر عطا بندیال صاحب! سپریم کورٹ کی اس سفید سنگ مر مر کی عمارت کو آپ نے اپنی ایمانداری سے نہیں بلکہ عمرانداری سے داغدار کرنے کی کوشش کی ہے ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ عمرعطا بندیال کا لاڈلہ عمران خان تھا.تنصیات پر حملوں کے ہیچھے چھ ماہ کی پلاننگ ہے-

    پی ٹی آئی کا کورکمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے پر ردعمل

    انہوں نے کہا کہ آج جب پاکستان کی افواج جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے تو جوڈیشل مارشل لاء بھی یہاں سے لگا ہے.چیف جسٹس کی ساس کہتی ہیں اب تو یہ کمبخت مارشل لاء بھی نہیں لگاتے،پنجاب اسمبلی تڑوانے کا پوشیدہ کردار عمر عطا بندیال تھا-

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سول مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے وکیل اصغر سبزواری سے مکالمہ کیا کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، کافی وقت بعد آپ میری عدالت آئے، مجھے ’گڈ ٹو سی یو‘ کہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، میں ہر ایک کو احترام دیتا ہوں، ادب و اخلاق تو سب کے لیے ضروری ہے،ادب و اخلاق کے بغیر مزہ نہیں۔

    9 مئی کے یوم سیاہ اور15 مئی کے عوامی احتجاج میں فرق پوری دنیا نے …

  • میں ہر کسی کو’گڈ ٹو سی یو‘کہتا ہوں ،مجھے تنقید کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس

    میں ہر کسی کو’گڈ ٹو سی یو‘کہتا ہوں ،مجھے تنقید کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ’گڈ ٹو سی یو‘ میں ہر کسی کو کہتا ہوں۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں سول مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے وکیل اصغر سبزواری سے مکالمہ کیا کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، کافی وقت بعد آپ میری عدالت آئے۔

    فرخ حبیب کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ’گڈ ٹو سی یو‘ کہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، میں ہر ایک کو احترام دیتا ہوں، ادب و اخلاق تو سب کے لیے ضروری ہے،ادب و اخلاق کے بغیر مزہ نہیں۔

    واضح رہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کےبعد سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر چیف جسٹس نے عمران خان کو دیکھ کر کہا تھا ’ویلکم خان صاحب! ’گڈ ٹو سی یو‘-

    عمران خان کی دو مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع

    چیف جسٹس کے ریمارکس پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا،وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارات کابینہ اجلاس میں چیف جسٹس کے ان ریمارکس سمیت دیگر کلمات کی شدید مذمت کی گئی تھی عدل کی اعلیٰ ترین کرسی پر بیٹھے شخص کا یہ کہنا عدل کے ماتھے پر شرمناک دھبہ ہے اسلام، مہذب دنیا اور عدالتی فورمز کی تاریخ گواہ ہے یہ طرز عمل منصف کا نہیں ہو سکتا۔

    علی زیدی کی رہائش گاہ سب جیل قرار

  • پنجاب انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی

    پنجاب انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں پنجاب انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نظر ثانی درخواست پر چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ اڑھے بارہ بجےسماعت کرے گا۔ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی بینچ میں شامل ہیں۔

    مسلم لیگ نواز کے بعد اے این پی نے بھی پی ڈی ایم احتجاج …

    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم پر نظر ثانی دائر کررکھی ہے جس میں موئقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ کا حکم نہیں دے سکتی، عدالت نے تاریخ دیکر اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

    دریں اثنا سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات نہیں ہوسکے، 4 اپریل کو سپریم کورٹ نے 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔

    ملک میں ایک ہی دن انتخابات کرانے سے متعلق سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے مذاکراتی عمل کیلئے کوئی ڈائریکشن نہیں دی، پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم نامہ برقرار رہے گا سپریم کورٹ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکراتی عمل کو سراہتی ہے۔ سیاسی جماعتیں انتخابات ایک دن کرانے پر متفق ہوتی ہیں تو یہ قابلِ ستائش عمل ہے عدالت واضح کرتی ہے کہ مذاکراتی عمل میں عدالت کا کوئی کردار نہیں۔

    سپریم کورٹ کو بلیک میل کرنے کا عوامی قوت سے جواب دیا جائےگا،پی ٹی آئی

    واضح رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 14 مئی کو پنجاب بھر میں انتخابات کرانے کا حکم دے رکھا تھا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے 4 اپریل کے فیصلے کو عدالت عظمٰی میں چیلنج کیا گیا تھا دوسری طرف پاکستان پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آج بروز پیر سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو پیغام میں کہا تھا کہ احتجاج ضرور کریں مگر مقام تبدیل کرلیں ، رانا ثنا اور اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ دھرنا پرامن ہوگا، ایک گملا بھی نہیں ٹوٹے گا، دھرنے کے مقام کا تعین صبح کیا جائے گا۔

    نیوکراچی:نامعلوم افراد کی فائرنگ سے بچےسمیت 3 افراد زخمی

    مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ اعلان کرچکے ہیں ، فیصلہ اب عوام کی عدالت میں ہوگا ، فضل الرحمان نے تمام سیاسی جماعتوں کو دھرنے میں شرکت کی دعوت دی ہےاسلام آباد میں پی ڈی ایم کے دھرنے میں شرکت کے لیے ملک بھر سے قافلے رواں دواں ہیں مسلم لیگ ن کے جلوس کی قیادت مریم نواز کریں گی ، پاکپتن اور ملتان سے ن لیگ کے قافلے بھی چل پڑے جبکہ پشاور سے ن لیگ کا قافلہ صبح 8 بجے اور پنڈی سے صبح 10 بجے اسلام آباد کے لیے نکلے گا جے یو آئی ایف کے علاوہ، مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی،عوامی نیشنل پارٹی احتجاج میں شرکت کا اعلان کر چکی ہیں ۔

    عمران خان حکومت سے محاذ آرائی روک دے۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کا مطالبہ

  • پریکٹس اینڈ‌پروسیجر بل کیس:موجودہ کیس آئینی ترامیم کا نہیں ہےججز پر الزام لگے تو ٹرائل سپریم کورٹ کا ہوتا ہے،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ درخواست میں کی گئی استدعا اچھے الفاظ میں نہیں لیکن عدالت کو سمجھ آ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بینچ کا حصہ تھے۔

    جسٹس مسرت ہلالی بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعینات

    سپریم کورٹ نےگزشتہ سماعت میں تمام فریقین کو تحریری جوابات جمع کرانے کی ہدایت کی تھی، عدالت نے اٹارنی جنرل سے پارلیمنٹ کی کارروائی اور قائمہ کمیٹیوں کا ریکارڈ بھی طلب کر رکھا تھا۔

    دورانِ سماعت اٹارنی جنرل منصور اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے فل کورٹ تشکیل دینے کیلئے متفرق درخواست دائر کی ہے ن لیگ نے بھی فل کورٹ کی تشکیل کے لیے عدالت کو درخواست دے دی۔ جس پر جسٹس اعجاز الحسن نے ن لیگی وکیل صلاح الدین احمد سے کہا کہ آپ کی درخواست پر تو ابھی نمبر بھی نہیں لگا۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آپ نے پارلیمانی کارروائی کی دستاویزات جمع کروا دی ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ امید ہے کل تک پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ مل جائے گا۔ اسپیکر آفس سے باضابطہ اور غیر رسمی طور پر بھی رابطہ کیا ہے۔

    اوچ شریف :کھیتوں سے ایک شخص کی لاش برآمد

    اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت قراردے چکی ہےکہ آئین کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہےقانون میں بینچوں کی تشکیل اور اپیلوں کا معاملہ طے کیا گیا ہے۔ عدالتی اصلاحات بل میں وکیل کی تبدیلی کا بھی حق دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے رولز فل کورٹ نے تشکیل دیے تھےسپریم کورٹ رولز میں ترمیم بھی فل کورٹ ہی کرسکتی ہےعدلیہ کی آزادی اور رولز سے فیصلہ و مقدمہ بھی فل کورٹ کو سننا چاہیے۔ قانون براہ راست ان ججز پر بھی لاگو ہو گا جو مقدمہ نہیں سن رہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سوال قانون سازی کے اختیارات کا ہے رولز میں ترمیم کا نہیں۔ قانون سازی کے اختیار کے مقدمات مختلف بینچز معمول میں سنتے رہتے ہیں –

    جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ جیسی قانون سازی ہوئی ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ 1992 تک رولز بنانے کیلئے صدر کی اجازت درکار تھی۔ جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ آرٹیکل 91 کے ہوتے ہوئے ایسی قانون سازی کیسے ہو سکتی ہے؟-

    اٹارنی جنرل نےکہا کہ صدر کی اجازت کا اختیار واپس لے لیا گیا تھا 1973 تک رولز بنانے کے لیے صدرکی اجازت درکار تھی۔رولز آئین و قانون کے مطابق بنانے کی شق برقرار رکھی گئی ماضی میں کبھی ایسا مقدمہ نہیں آیا اس لیے فل کورٹ تشکیل دی جائے۔

    مذاکرات تحریک انصاف نے سبوتاژ کئے ہیں. قمرزمان کائرہ

    جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 191 کے ہوتے ہوئے ایسی قانون سازی کیسے ہوسکتی ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ آپ نے اپنی درخواست میں کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے اس لیے فل کورٹ سنے،اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ماضی میں کبھی ایسا مقدمہ نہیں آیا اس لیے فل کورٹ تشکیل دی جائے۔

    جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ ہم ہر وقت معمول کے مطابق اپنی نوعیت کے پہلے کیسز سنتے رہتے ہیں سپریم کورٹ کا کوئی بھی بینچ کوئی بھی مقدمہ سن سکتا ہےکیا حکومت فل کورٹ کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے؟ کیا حکومت چاہتی ہے کہ عدالت کی اندرونی بحث باہر آئے؟ ہر مقدمہ اہم ہوتا ہے یہ یقین کیسے ہوگا کہ کونسا کیس فل کورٹ سنے؟ عدلیہ کی آزادی کا ہر مقدمہ فل کورٹ نے سنا تھا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ افتخار چودھری کیس سمیت کئی مقدمات فل کورٹ نے سنے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 1996 سے عدلیہ کی آزادی کے مقدمات سنے جارہے ہیں، بظاہر یہ آپ کا مقدمہ نہیں لگتا کہ فل کورٹ بنائی جائے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے تمام مقدمات فل کورٹ نے نہیں سنے۔

    سیالکوٹ :مراد پور پولیس کی کاروائی،شمعون گینگ کے چار ڈکیت گرفتار

    جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ آپ کی منطق سمجھ سے باہر ہے فل کورٹ کا فیصلہ اچھا اور تین رکنی بینچ کا برا ہو گا۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ فل کورٹ کا جواب خود پارلیمنٹ نے اپنے بنائے گئے قانون میں دے دیا ہے۔ عدالتی اصلاحات بل کے مطابق پانچ رکنی بینچ آئین کی تشریح کا مقدمہ سنے گا۔ یا تو آپ کہیں کہ پارلیمنٹ نے قانون غلط بنایا ہے جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ کیا آپ کا مدعا یہ ہےکہ رولز فل کورٹ نے بنائے تو تشریح بھی وہی کرے؟

    جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ فل کورٹ کا جواب خود پارلیمنٹ نے اپنے بنائےگئے قانون میں دے دیا ہے، عدالتی اصلاحات بل کے سیکشن4 کے مطابق کمیٹی کا بنایا گیا 5 رکنی بینچ آئین کی تشریح کا مقدمہ سنےگا، جب پارلیمنٹ خود اپنے ایکٹ میں5 رکنی بینچ کہہ رہی ہے تو کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ نے قانون غلط بنایا ہے؟

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت نے قانون پر عمل درآمد سے روک رکھا ہے۔ جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر حکم امتناع نہ ہوتا تو فل کورٹ کی استدعا کہا جاتی؟پارلیمنٹ کہتی ہے کہ پانچ رکنی بینچ ہو اٹارنی جنرل کہتے ہے فل کورٹ ہو۔ لگتا ہے حکومت کی گنتی کمزور پڑگئی ہے کہ یہاں کتنے ججز بیٹھے ہیں۔

    پرویز الٰہی جھوٹ بولنے سے پرہیز کریں تو بہتر ہوگا. نگران وزیر اطلاعات پنجاب

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فل کورٹ کی استدعا کیس کی مناسبت سے کی جاسکتی ہے، قانون میں کم سےکم 5 ججزکا لکھا ہے۔ جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ 5 ججز سے مطمئن ہے تو اٹارنی جنرل یا کابینہ کیوں نہیں؟

    جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے بنائے گئے قوانین کےخلاف درخواستیں عدالت معمول میں سنتی ہے، ہائی کورٹس بھی قوانین کے خلاف درخواستیں سنتی ہیں، کیا ہائی کورٹ میں بھی فل کورٹ کی استدعا کی گئی؟

    جسٹس مظاہرعلی کا کہنا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ نہیں ہے، 2012 میں بھی اس نوعیت کا مقدمہ سنا جاچکا ہے، فل کورٹ کی درخواست میں لکھا ہےکہ بینچ حکم امتناع میں اپنا موقف دے چکا ہے جسٹس منیب اختر نےکہا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں فل کورٹ میں60 اور سندھ ہائی کورٹ میں 40 ججز سماعت کریں گے؟ اس پر اٹارنی جنرل نےکہا کہ عدالتی اصلاحات بل ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں اس پربات نہیں کروں گا۔

    جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا کہ درخواست میں وفاق نے چیف جسٹس کو حکم دینے کی استدعا کر رکھی ہے، اس طرح کی استدعا پر عدالت کس قسم کا حکم دے سکتی ہے؟چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وفاق کی استدعا اچھے الفاظ میں نہیں لیکن سمجھ چکے ہیں۔

    عمران خان نے اداروں کوبدنام کرنے کی ہر حد پار کردی ہے. آصف علی زرداری …

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پھانسی کے مقدمے میں بینچ پر اعتراض کیا تھا۔ جج پر اعتراض ہوا اور 9 رکنی فل کورٹ نے مقدمہ سنا۔ اس وقت کے چیف جسٹس انورالحق نے اعتراض مسترد کیا۔ نو رکنی فل کورٹ میں چیف جسٹس خود بھی شامل تھے۔ موجودہ درخواست میں کسی جج یا چیف جسٹس پر اعتراض نہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اعتراض ہو تو فیصلہ جج نے کرنا ہوتا ہے کہ وہ مقدمہ سنے یا نہیں۔ تعین کرنا ہے کہ بینچ کن حالات میں فل کورٹ تشکیل دینے کا کہہ سکتا ہے۔عدالت کو اس حوالے سے مزید معاونت چاہیے۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف آئین کی تشریح یا عدالت کی آزادی کا نہیں ہے، آئینی ترامیم کیس میں عدالت نے فوجی عدالتیں درست قرار دی تھیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ موجودہ کیس آئینی ترامیم کا نہیں ہےججز پر الزام لگے تو ٹرائل سپریم کورٹ کا ہوتا ہے۔ معاملہ سنگین نوعیت کا ہونے پر ہی فل کورٹ بنا تھا اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلہ مستقبل کے لیے ہوتا ہے، 20 سال بعد شاید زمینی حقائق اور آئین مختلف ہو، استدعا ہے کہ عدالت فل کورٹ بنائے۔

    تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے متعدد رہنماء پیپلز پارٹی میں شامل

    مسلم لیگ ن کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے فل کورٹ پر دلائل دیتے ہوئےکہا کہ حکم امتناع کے ذریعے پہلی بار قانون پر عمل درآمد روکا گیا ہے، فل کورٹ کے لیے درخواستیں معمول میں دی جاتی ہیں، جسٹس فائز عیسٰی کیس میں بھی فل کورٹ بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

    جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ جسٹس فائز عیسٰی کیس کا معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا گیا تھا، چیف جسٹس خود جسٹس فائزعیسٰی کیس نہیں سن رہے تھےبیرسٹرصلاح الدین کا کہنا تھا کہ سات رکنی بینچ نے فل کورٹ تشکیل دینےکی ہدایت کی تھی، بعض اوقات بینچ خود بھی فل کورٹ کی تشکیل کے لیے فائل چیف جسٹس کوبھجواتا ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ افتخار چوہدری اور جسٹس فائز عیسٰی کیسز صدارتی ریفرنس پر تھے، ججز پر الزام لگے تو ٹرائل سپریم کورٹ کا ہوتا ہے، معاملہ سنگین نوعیت کا ہونے پر ہی فل کورٹ بنا تھا، دونوں ججز کے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیے، کسی اور مقدمے میں فل کورٹ کی مثال ہے تو دیں۔بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا تھا کہ آئی جی جیل خانہ جات کیس میں بھی فل کورٹ تشکیل دی گئی تھی۔

    جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ افتخار چوہدری کیس میں جج کو معزول کردیا گیا تھا، وہ ماسٹر آف روسٹرکا اختیار استعمال نہیں کرسکتے تھے، معزولی کے بعد قائم مقام چیف جسٹس اس اختیار کو استعمال کر رہے تھے، مسلم لیگ ن پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت ہے، جو قانون پارلیمنٹ نے بنایا ہے اس میں 5 رکنی بینچ کی بات کی گئی ہے، مسلم لیگ ن فل کورٹ کی استدعا کیسے کرسکتی ہے؟

    کراچی؛ ضمنی بلدیاتی انتخابات کے غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج آنے کا سلسلہ جاری

    جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے درخواست میں موجودہ بینچ پر اعتراض اٹھایا ہے،کیا مسلم لیگ ن کو موجودہ بینچ پر اعتماد نہیں ہے؟

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے نوٹس کیا ہو تو میں اس معاملے کو خاموشی سے سن رہا ہوں، کیس کو خاموشی سے اس لیے سن رہا ہوں کہ یہ چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ہے، چیف جسٹس کو ہی بینچز بنانے کا اختیار ہے، فل کورٹ سےمتعلق کوئی جوڈیشل آرڈر دینا نہیں چاہتے جو مستقبل میں عدالتی نظیر کے طور پر استعمال ہو، موجودہ نکتے پر ابھی دلائل باقی ہیں اور دوسرے فریقین کو بھی سننا ہے۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ کل تک جمع کرانےکا حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیخلاف درخواستوں پر سماعت 3 ہفتوں تک ملتوی کردی گئی۔

    شہباز شریف سے اسکاٹ لینڈ فرسٹ منسٹر کی ملاقات؛ سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں …

  • چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کی طبیعت ناساز،بینچ ڈی لسٹ

    چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کی طبیعت ناساز،بینچ ڈی لسٹ

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطاء بندیال کا بینچ اچانک ڈی لسٹ کردیا گیا-

    باغی ٹی وی: رجسٹرار سپریم کورٹ نے مقدمات ڈی لسٹ ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق بینچ کے سامنے سماعت کے لئے مقرر تمام مقدمات بھی ڈی لسٹ کر دیے گئے ہیں تاہم نوٹیفکیشن میں بینچ ڈی لسٹ کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

    چیف جسٹس پاکستان کے بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللّٰہ بھی شامل تھے بینچ کے سامنے آج 12 مقدمات سماعت کے لئے مقرر کیے گئے تھے سپریم کورٹ کے بینچ نمبر 2 کے مقدمات کی فہرست بھی منسوخ کردی گئی جبکہ جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل بینچ کی کازلسٹ بھی منسوخ کردی گئی۔

    سپریم کورٹ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کا بینچ چیف جسٹس کے عدم دستیابی کے باعث ملتوی کیا گیا، چیف جسٹس خرابی صحت کے باعث آج سپر یم کورٹ نہیں آئے۔

    آڈیو لیک کی گفتگو انتہائی سنگین ہے،وزیر قانون

    بینچ نمبر 2 کے تمام مقدمات کی سماعت کے لئے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے،سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے نئے بینچ نمبر 2 کے مقدمات کی فہرست جاری کردی۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال طبیعت ناسازی کے باعث سپریم کورٹ نہیں آ سکے۔ باخبرزرائع کے مطابق ڈاکٹر نے چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر انکا طبی معائنہ کیا اور انہیں آرام کرنے کی ہدایت کی، جس کی وجہ سے آج کی کاز لسٹ منسوخ کی گئی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بخار ہے اور اپنی رہائشگاہ پر ہیں

    زمان پارک کے باہر مختلف رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اجتجاج

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     زمان پارک پر ایک بار پھر پولیس آپریشن کا خدشہ

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • چیف جسٹس کی ساس اور پی ٹی آئی وکیل خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ کی عطا بندیال کو میسجز پہنچانے،جج منیب اختر کو واٹس ایپ پیغام بھیجنے سے متعلق گفتگو لیک

    چیف جسٹس کی ساس اور پی ٹی آئی وکیل خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ کی عطا بندیال کو میسجز پہنچانے،جج منیب اختر کو واٹس ایپ پیغام بھیجنے سے متعلق گفتگو لیک

    پاکستان تحریک انصاف کے وکیل خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ اورچیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ساس کی مبینہ ٹیلیفونک گفتگو لیک ہوگئی ہے جس میں

    باغی ٹی وی : لیک آڈیو میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ساس ماہ جبین نون کہتی ہیں ہیلو رافعہ کیا ہو گا یار میں تو رات سے نا عمر کیلئے پڑھ پڑھ کے میں تمہیں بتا نہیں سکتی دعائیں مانگ مانگ کے صبح سےبہت پریشانی ہے-

    عمران خان سے ملاقات کیلئے 1 کروڑ روپے دینا ہوں گے. اعجاز چودھری کی مبینہ آڈیو لیک


    جس پر پی ٹی آئی کے وکیل کی اہلیہ رافیعہ طارق کہتی ہیں یار لوگوں کو بھی کہا ہے اور عمر کو ایک پیغام بھیجا میں نے ،جس میں میں نے کہا کہ تم نے لاہور کے جلسے میں وہاں موجود تھی وہاں لاکھوں بندہ تھا اسی طرح ہر شہر میں لاکھوں بندہ ہے اور تم صرف یہ اندازہ لگا لو کہ تمہارے لئے کتنی دنیا دُعا کر رہی ہے اس وقت جس سے تمہاری ہمت اور سیفٹی ، میں نے عمر کو کہہ دیا ہے کہ عوام آپ کے ساتھ ہیں اور دعا کر رہی ہیں آپ ڈٹے رہیں۔

    جس پر چیف جسٹس کی ساس کہتی ہیں اللہ تعالی اسے ہمت دے اور اس کے مطابق جس پر خواجہ طارق کی اہلیہ بات کاٹتے ہوئے کہتی ہیں نہیں نہیں اس کی حفاظت ضروری ہے-

    مبینہ آڈیو لیک : اعجاز چوہدری کا ردعمل سامنے آگیا


    جس پر چیف جسٹس کی ساس کہتی ہیں ان کو کمزور کرے اورا ن (چف جسٹس ) کو ہمت دے ،رافعیہ طارق کہتی ہیں ان کو تو اللہ کرے جو باقیوں کو ندھا کر دے میں تو یہ کہہ رہی ہوں وہ تو وہ تو اس ملک کے غدار ہیں دیکھو جس طرح وہ کر رہے ہیں –

    چیف جسٹس کی ساس کہتی ہیں کہ وہی نا لیکن اب وہ کہہ رہے ہیں کہ اسے(چیف جسٹس عمر عط بندیال) کوایسا کرنے کا اختیار کیوں ملا،چیف جسٹس پی ٹی آئی کو جان کر فائدہ دے رہے ہیں اور اب دوسری چیزیں بھی اس پر ڈال رہے ہیں،اور سوال بھی کہ سومو موٹو کیوں دیا گیا ہے،عمر کو تو نہیں دیا نا یہ تو پہلے کا ہوا ہوا ہے-

    سلمان خان کی فلم ’کسی کا بھائی کسی کی جان‘ آن لائن لیک ہوگئی

    جس پر پی ٹی آئی وکیل کی اہلیہ کہتی ہیں نہیں کوئی اور دوسری چیز نہیں ڈال رہے بلکہ سوموموٹو تو اس کا حق ہے ،یہ تو ہر چیف جسٹس کا حق ہے ،اگر آپ نے قانون بدلنا ہے تو اپنی مرضی سے بدلو ویلا نا لیکن اس ٹائم نہیں،جس پر ماہ جبین نون کہتی ہیں لیکن اب اسے تبدیل نہیں کر سکتے-

    رافیعہ طارق کہتی ہیں ابھی نہیں وہ اسے بعد میں تبدیل کر سکتے ہیں لیکن ابھی نہیں۔ یہ قانون ہے،ماہ جبین نون کہتی ہیں قانون ہے وہی نا-

    رافیعہ طارق کہتی ہیں ہاں وہی تو وہ اتنا اچھا کر رہا ہے،عمرعطا بندیال کی ساس کہتی ہیں تم بالکل نا آؤ تم عمر کے ساتھ رہو اسے اس وقت تمہاری ضرورت ہے –

    کراچی:مختلف پولیس مقابلوں میں ایک ڈاکوہلاک جبکہ چار ڈاکوگرفتار

    رافعیہ طارق کہتی ہیں نہیں نوین بھی نا آئے اور میں نے یمان کو بھی کہا ہے بیٹا ہر وقت اپنے ابا کے ساتھ رہو ،میں تو رت کو میں نے تو رات کو میں نے دونوں کو اس کو اور منیب کو گڈ بھیجا تو دونوں نے پتہ کیا مجھے بھیجا وہ نہیں شکل ہوتی تو کہ دانتوں میں آپ دبا لیتے ہو اپنی زبان ،مجھے کہہ رہے تھے محتاط رہیں،میں کیوں محتاط رہوں کیوں؟

    ماہ جبین ہتی ہیں یا ر جلدی سے جلدی الیکشن ہوں ابھی ،رافیعہ طارق کہتی ہیں الیکشن دیکھونا اگر یہ نہیں ہوتی نا پھر یہ سمجھ لیں کہ پھر مارشل لاء لگے گا یہ نہیں رہ سکتے نا بس بات ختم، ماہ جبین کہتی ہیں مارشل لاء بھہ وہ کمبخت نہیں لگانے کو تیارنا پی ٹی آئی وکیل کی اہلیہ کہتی ہیں بالکل تیار ہیں-

    بیوی کی حراست کے بعد خالصتان کے حامی امرت پال سنگھ نے گرفتاری دے دی

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد : چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر کردیں۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال اس کی سماعت کریں گے، حکومت کی جانب سے کیوریٹوریو واپس لینے کی درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے چیف جسٹس پاکستان 10 اپریل کو ان چیمبر سماعت کریں گے-

    چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    واضح رہےکہ وفاقی حکومت نےجسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف کیوریٹو ریویو واپس لینےکےلیےسپریم کورٹ سےرجوع کیاتھا،حکومت کا مؤقف تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس کمزور اور بے بنیاد وجوہات پر دائر کیا گیا تھا لہٰذا حکومت نے اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ پہلے ہی اس فیصلے کی منظوری دے چکی ہے۔

    اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیاگیا، یہ ریفرنس نہیں تھا، آئین اور قانون کی راہ پر چلنے والے ایک منصف مزاج جج کے خلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران خان کی انتقامی کارروائی تھی۔

    پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا …

    شہباز شریف نے مزید کہا تھاکہ یہ ریفرنس عدلیہ کی آزادی پر شب خون اور اسے تقسیم کرنے کی مذموم سازش تھی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں نےاپوزیشن کےدورمیں بھی اس جھوٹےریفرنس کی مذمت کی تھی عمران خان نےصدرکےآئینی منصب کا اس مجرمانہ فعل کے لیے ناجائز استعمال کیا، صدر عارف علوی عدلیہ پر حملے کے جرم میں آلہ کاراورایک جھوٹ کےحصہ دار بنےپاکستان بار کونسل سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی، ہم ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں-

    خیال رہے کہ صدارتی ریفرنس خارج ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے دور میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو دائر کیا گیا تھااس حوالے سے سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی اعتراف کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنا ہماری حکومت کی غلطی تھی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا