Baaghi TV

Tag: عمر فاروق ظہور

  • تحریک انصاف دور میں مقدمات،جے آئی ٹی رپورٹ میں عمر فاروق ظہور بے گناہ قرار

    تحریک انصاف دور میں مقدمات،جے آئی ٹی رپورٹ میں عمر فاروق ظہور بے گناہ قرار

    تحریک انصاف کے دور حکومت میں بے بنیاد مقدمات بھگتنے والے، دبئی میں مقیم پاکستانی تاجر،عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ کی گھڑی خریدنے والے عمرظہور پر عائد الزامات بارے جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آئی ہے

    نجی ٹی وی کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عمر فاروق ظہور کے کسی جرم میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا،تحقیقات کرنے والی ٹیم میں ایف آئی اے کے تین سینیئر ڈائریکٹرز شامل تھے، تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی مرزا شہزاد اکبر جو اس وقت لندن میں مقیم ہیں نے ایف آئی اے کو عمرفاروق کی سابقہ اہلیہ کی مدد کا کہا تھا، قانونی تقاضے پورے کیے بغیر عمر فاروق ظہور کے غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیے گئے اور ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا،جوڈیشل مجسٹریٹ عمران عابد نے فیصلے میں کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ حقیقت پر مبنی ہے

    جوڈیشل مجسٹریٹ کے مطابق 2009 میں ایف آئی آر کے وقت عمر فاروق ظہور پاکستان میں تھے ہی نہیں ان کے خلاف مقدمہ میرٹ اور قانون کے مطابق درج نہیں ہوا تھا،عمرفاروق ظہور کے خلاف کوئی مصدقہ مواد نہیں ملا، ناکافی شواہد پائے گئے

    گزشتہ برس انٹرپول نے عمر فاروق ظہور کا نام اپنی لسٹ سے نکال دیا تھا جبکہ ان کو لاہور کی مجسٹریٹ عدالت نے بھی بری کر دیا تھا،لاہورمجسٹریٹ کورٹ نے عمر فاروق ظہور کو جعلی شاختی کارڈ اور اپنی ہی بیٹیوں کے اغوا کے الزام سے بھی بری کیا تھا

    عمر فاروق ظہور سے کس نے رابطہ کیاِ؟

    عمر فاروق ظہور منی لانڈرنگ کے دو کیسز میں بری

    توشہ خانہ کی گھڑی؛ عمران خان کی عمرفاروق ظہور کیخلاف دی گئی درخواست خارج

    گھڑی سے متعلق انکوئری: عمرفاروق ظہور نے ثبوت پیش کردیئے

    صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    میرے مؤقف کی تصدیق ہوئی،عمران خان کو سزا پر عمر فاروق ظہور کا ردعمل

    واضح رہے کہ دبئی میں مقیم ارب پتی تاجر عمر فاروق ظہور اس انکشاف کے بعد پاکستانی خبروں کی سرخیوں میں آئے کہ انہوں نے دبئی میں ایک لین دین کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کی قیمتی گراف گھڑی، وہ مشہور گھڑی جو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان نے عمران خان کو تحفے میں دی تھی، فرح خان سے تقریباً 2 ملین ڈالرز میں خریدی تھی۔

  • میرے مؤقف کی تصدیق ہوئی،عمران خان کو سزا پر عمر فاروق ظہور کا ردعمل

    میرے مؤقف کی تصدیق ہوئی،عمران خان کو سزا پر عمر فاروق ظہور کا ردعمل

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت کی جانب سے تین سال کی سزا سنا ئے جانے پر توشہ خانہ کی گھڑی خریدنے والے عمر فاروق ظہور کا ردعمل آیا ہے،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے عمرفاروق ظہور کا کہنا تھا کہ الحمداللہ میں درست ثابت ہو گیا ،عمران خان کرپشن کے مرتکب قرار پائے عدالت نے میرا مؤقف درست تسلیم کر لیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے 20 لاکھ ڈالرز میں مجھے گھڑی فروخت کی عدالت نے میرا مؤقف درست تسلیم کر لیا کہ گھڑی فرح گوگی کے ذریعے دبئی میں بیچی گئی عدالت اور شواہد سے میرے مؤقف کی تصدیق ہوئی .

    واضح رہے کہ توشہ خان کے حوالہ سے عمر فاروق ظہور کا کہنا تھا کہ میں نے دبئی میں ایک لین دین کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کی قیمتی گراف گھڑی فرح خان سے تقریباً 2 ملین ڈالرز میں خریدی تھی جب فرح میرے پاس آئی تو انہوں نے مجھے ایک خاص گھڑی دکھائی جسے دیکھ کر میں حیران ہوگیا جبکہ ان سے کہا کہ میں اسے چیک کروا لوں اور جب مارکیٹ لے گیا تو انہوں نے دیکھتے ہی حیرانی ظاہر کی کہ یہ گھڑی آپ کے پاس کیسے آئی کیونکہ یہ تو سعودی شہزادہ نے دو ٹکڑے بنوائے تھے خصوصی طور پر تو خیر انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کو اگر ملتی ہے تو لے لو پھر میں نے ساڑھے سات ملین درہم میں یہ گھڑی خرید لی. ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ صاحبہ (فرح گوگی) پیسے لیکر چلی گئیں اور پھر کچھ عرصے بعد میرے خلاف پاکستان میں وارداتیں شروع ہوگئیں، کیونکہ اس وقت کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے پہلے مجھ سے ناجائز فرمائشیں کی لیکن جب انہیں منع کیا گیا تو انہوں نے جھوٹے مقدمات بنوا دیئے، جبکہ میری سابقہ اہلیہ کے ساتھ مل کر میرے بچوں کے میرے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کروا دیئے، اور پھر مجھے انٹرپول پر ڈال دیا جبکہ بچوں کو کہا گیا وہ گم شدہ ہیں جبکہ یہ سب حقیقت نہ تھا.

    واضح رہے کہ عمران خان کو عدالتی فیصلے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے، توشہ خانہ کیس ،عمران خان کو نااہل کردیا گیا عدالت نے عمران خان کو تین سال قید ہی سزا سنا دی عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ بھی کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

  • عمر فاروق ظہور منی لانڈرنگ کے دو کیسز میں بری

    عمر فاروق ظہور منی لانڈرنگ کے دو کیسز میں بری

    لاہور؛ جوڈیشل مجسٹریٹ کی طرف سے کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور کو منی لانڈرنگ اور فراڈ کے دو مقدمات میں بری کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے خلاف ان کی سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا نے سابق وفاقی وزیر احتساب شہزاد اکبر کی مدد سے درج کرائے گئے مقدمات میں کامیاب ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کی پی ٹی آئی کی حکومتی کابینہ نے ان کیسز کی منظوری دی تھی۔

    جیو نیوز کے صحافی مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت کے جج غلام مرتضیٰ ورک نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے کیئے گئے کیسز میں عمر فاروق ظہور کو بری کرنے کے ساتھ دو فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) کو منسوخ کر دیا ہے کیونکہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ملزم فراڈ، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی میں ملوث نہ پایا گیا ہے .

    یاد رہے کہ یہ دونوں کیسز جون 2020 کے اوائل میں اس وقت شروع ہوئے تھے جب شہزاد اکبر کی مدد سے ایف آئی اے لاہور کے کارپوریٹ سرکل سے رابطہ کرنے، اور ظہور اور اس کے بہنوئی سلیم کی جانب سے تقریباً 16 ارب روپے کے فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر تحقیقات کی منظوری کے لیے کابینہ سے رجوع کیا گیا تھا.

    جبکہ شہزاد اکبر نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ عمر فاروق ظہور نے 2010 میں ناروے میں 89.2 ملین ڈالر کا بینک فراڈ کیا تھا جبکہ 2004 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر میں بھی کوئی مبینہ کیس سامنے آیا تھا. یوں اس وقت کے وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی شہزاد اکبر مرزا شکایات کابینہ کے سامنے لیکر گئے تھے اور کابینہ سے کہا تھا کہ عمر فاروق ظہور سے اس کی تفتیش ہونی چاہئے ۔

    خیال رہے کہ عمر فاروق ظہور ایک کامیاب بزنس مین ہیں اور اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی دولت اس مرحلے پر لاکھوں ڈالرز میں ہے۔ انہوں نے دبئی اور کئی دوسرے ممالک میں رئیل اسٹیٹ، آئی ٹی کے کاروبار، توانائی کے منصوبوں، زراعت کے شعبے وغیرہ میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ وہ مشرق وسطیٰ میں شاہی خاندان کے بہت سے ارکان کے ساتھ اور افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا، کیریبین اور جنوبی امریکہ کے کئی سربراہان مملکت کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں۔

    عمر فاروق مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کے لئے لائبیریا کے ایمبیسڈر ایٹ لارج بھی ہیں۔ عمر فاروق ظہور اپنی سابقہ ​​اہلیہ، ماڈل اور اداکارہ صوفیہ مرزا کے ساتھ طویل عرصے سے جاری عدالتی لڑائی کے حوالے سے کئی سالوں سے پاکستانی خبروں میں رہے۔ جوڑے کی دو جڑواں بیٹیاں ہیں جو دبئی میں محمد بن راشد سٹی ڈسٹرکٹ ون کے ایک خاص محلے میں ظہور کے ساتھ رہتی ہیں۔

    یاد رہے کہ عمر فاروق ظہور کا نام 2021 میں پہلی بار پاکستانی میڈیا پر اس وقت آیا جب تمام ٹی وی چینلز نے ایف آئی اے کے حوالے سے رپورٹنگ شروع کی، جو اس وقت شہزاد اکبر کے ماتحت تھا، کہ یہ ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن تھے جنہوں نے ظہور کو شاہی خاندان کے رکن کے ساتھ سرکاری دورے پر پاکستان آنے کی اجازت دی تھی۔ خبروں میں بشیر میمن اور ظہور کو جوڑا گیا اور ظہور کو قانون کا ’’مفرور‘‘ کہا گیا تھا۔

    جبکہ عمر فاروق ظہور ناروے میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی پاکستانی والدین کے ہاں پیدا ہوئے۔ عمر فاروق ظہور نے ابتدائی تعلیم ناروے میں حاصل کی اور پھر تقریباً 22 سال قبل مشرق وسطیٰ چلے گئے۔ عمر فاروق ظہور کا دعویٰ ہے کہ وہ شہزاد اکبر کو اچھی طرح جانتے ہیں اور مارچ 2019 میں انہوں نے فرح شہزادی کو ان سے ملوایا تھا۔

    علاوہ ازیں واضح رہے کہ ایف آئی اے نے مرزا کی شکایت پر مزید الزام لگایا تھا کہ ظہور نے 2010 میں ناروے کے اوسلو میں مبینہ طور پر 89.2 ملین ڈالرز کا بینک فراڈ کیا، اور2014 میں برن، سوئٹزرلینڈ میں 12 ملین ڈالر کی رقم کا ایک اور فراڈ کیا، کم سن بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث تھے، 9.37 ملین ترک لیرا کا فراڈ کیا، گھانا میں 510 ملین ڈالر کے مشکوک معاہدے پر عمل درآمد کیا، کالے دھن کی شکل میں لاکھوں ڈالر کی نقدی کے مالک ہیں، اور دبئی اور پاکستان میں کروڑوں ڈالر مالیت کے کئی مکانات اور جائیدادوں کے مالک ہیں، بشمول دبئی کے اعلیٰ درجے کے اضلاع، سیالکوٹ، گوادر اور اسلام آباد۔

    تاہم جیسے ہی وفاقی کابینہ نے ظہور کے خلاف کارروائی کی منظوری دی تھی، ایف آئی اے لاہور کے سربراہ ڈاکٹر رضوان نے ظہور کے خلاف کارروائی شروع کردی تھی؛ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا گیا تھا، ایک ایف آئی آر میں ناقابل ضمانت وارنٹ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر عدالت سے حاصل کیے گئے تھے، اور مذکورہ ناقابل ضمانت وارنٹ کی بنیاد پر ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا جبکہ ظہور کی گرفتاری کے لیے نیشنل کرائم بیورو پاکستان کی جانب سے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس بھی جاری کیے گئے تھے۔

    لیکن اب عمر فاروق ظہور ان دو کیسز میں باعزت بری ہوچکے ہیں.

  • اداکارہ صوفیہ مرزا اور شہزاداکبراورسابق ڈی ایف آئی اے  پرمقدمہ درج

    اداکارہ صوفیہ مرزا اور شہزاداکبراورسابق ڈی ایف آئی اے پرمقدمہ درج

    اسلام آباد:اداکارہ صوفیہ مرزا اور شہزاداکبر پرمقدمہ درج،اطلاعات کے مطابق اداکارہ صوفیہ مرزا کے سابق شوہر کی طرف سے دائر درخواست کے بعد اسلام آباد میں ایک مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ،

     

    اسلام آباد پولیس نے  شہزاد اکبر ، اداکارہ صوفیہ مرزااور سابق ڈی جی ایف آئی اے ثناءاللہ عباسی کے خلاف تھانہ سیکرٹریٹ نے صوفیہ مرزا کے سابق شوہر عمر فاروق ظہور کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا

    اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ صوفیہ مرزا اورمرزا شہزاد اکبر اور سابق ڈی جی ایف آئی اے ثنا اللہ عباسی نے ملک کر صوفیہ مرزا کے سابق شوہر عمر فاروق ظہور کے خلاف ایک خود ساختہ کہانی گھڑ کرمقدمے میں پھنسا کرگرفتار کرنے کی سازش کی اور اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی عمرفاروق ظہور جو کہ پاکستان کے لائبیریا کے لیے ایک ایمبسڈر کے طورفرائض سرانجام دے رہے تھے ، ان کو بیرون ملک بھی پریشان کیا گیا

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”558721″ /]

    سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر، اداکارہ صوفیہ مرزا اور سابق ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی کیخلاف اسلام آباد میں مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں فراڈ، ریکارڈ ٹیمپرنگ سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ میں صوفیہ مرزا کے سابق شوہر عمر فاروق نے مقدمے کے اندراج کی درخواست دائر کی، جس پر پولیس نے سابق مشیر احتساب، شہزاد اکبر، ادکاارہ صوفیہ مرزا اور سابق ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی کیخلاف مقدمہ درج کرلیا۔

    مقدمے میں فراڈ، ریکارڈ ٹیمپرنگ سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہزاد اکبر اور سابق ڈی جی ایف آئی اے نے دیگر کے ساتھ ملکر جعلی وارنٹس تیار کروائے، صوفیہ مرزا، شہزاد اکبر اور ثناء اللہ عباسی نے جھوٹے مقدمے بھی درج کرائے۔

    ایف آئی آر کے متن میں مزید لکھا گیا ہے کہ ملزمان نے بوگس عدالتی دستاویزات تیار کیں، ملزمان نے غیرقانونی طور پر عدالتی ریکارڈ تیار کرکے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا۔

  • صوفیہ مرزا کے سابق شوہر نے اداکارہ کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کر دیا

    صوفیہ مرزا کے سابق شوہر نے اداکارہ کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کر دیا

    اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا جو وقتا فوقتا سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی زندگی ڈسکس کرتی رہتی ہیں اور وہ مسلسل اپنے سابق شوہر پر الزامات لگاتی رہتی ہیں حالانکہ دونوں کے کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں اس کے باوجود صوفیہ مرزا ذہر اگلنے سے باز نہیں آتیں. صوفیہ مرزا کی جانب سے مسلسل اپنے سابق شوہر عمر فاروق ظہور کی سوشل میڈیا پر کردار کشی سے تنگ آکر اداکارہ کے خلاف ہتک عزت کا پچاس کروڑ روپے کا دعوی دائر کر دیا ہے. عدالت نے صوفیہ مرزا کو نوٹس جا ری کر دیا ہے.عمر فاروق ظہور کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت صوفیہ مرزا کے خلاف 50کروڑ روپے کی ہتک عزت کی ڈگری جاری کرے سیشن عدالت نے صوفیہ مرزا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 7ستمبر تک جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل صوفیہ مرزا نےاپنے شوہر کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اپنی بیٹیوں سے دس سال سے نہیں‌ملی کیونکہ میرا سابق شوہر مجھے ان سے ملنے نہیں دیتا، انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے یہ بھی استدعا بھی کی تھی کہ وہ اس ضمن میں ان کی مدد کریں اور ان کی بیٹیاں ان کو واپس دلوا دیں .صوفیہ مرزا نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ان کا سابق شوہر دھوکے سے ان کی بیٹیوں کو دبئی لیکر گیاہے.