Baaghi TV

Tag: عمل

  • مکافات عمل، جیل جا کر زرداری بیمار ہو جاتے ہیں۔شہباز گل کا بیان وائرل

    مکافات عمل، جیل جا کر زرداری بیمار ہو جاتے ہیں۔شہباز گل کا بیان وائرل

    مکافات عمل ۔
    جیسے کرو گے ویسے بھرو گے ، یہ کہاوت آج سب کے سامنے زندہ مثال بن کر آ چکی۔ عمران خان کو اقتدار ملا تو انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملانے میثاق معیشت کرنے کی بجائے جیلوں میں ڈالا اور جب اپوزیشن رہنما نواز شریف۔آصف زرداری۔شہباز شریف ۔مریم نواز ۔فریال تالیور۔خورشید شاہ بیمار ہوئے انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تو اس پر سیاست کی گئی اور کہا گیا کہ جیلوں میں جانے سے یہ بیمار ہو جاتے ہیں۔

    آج دیکھ لیں دن بدلے ۔ شہباز گل دو روز کے جسمانی ریمانڈ پر رہے پھر جیل بھجوا دیا گیا ۔ دوبارہ ریمانڈ ملا تو شہباز گل بھی ہسپتال پہنچ گئے ۔ شہباز گل کی ہسپتال منتقلی کی ویڈیو سامنے آئی ہیں آکسیجن لگا ہوا ہے ۔اللہ تعالٰی انہیں صحت دے ۔ لیکن ۔۔۔یہ وہی شہباز گل ہیں جو بیان دیا کرتے تھے زرداری جیل جاتے ہیں تو بیمار ہو جاتے ہیں۔ آج وہی شہباز گل جیل گئے تو بیمار ہو کر ہسپتال پہنچ گئے

    قدرت کا انتقام اٹل ہے۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے سچ ثابت ہو چکا۔ عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل جیل گئے تو عمران خان ملاقات کے لئے نہیں گئے اب ہسپتال پہنچے تو اعجاز چودھری کے علاوہ کوئی رہنما ہسپتال نہ پہنچا۔شہباز گل نے بیان دیا تو عمران خان سمیت پارٹی میں سے کسی نے تائید نہ کی بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ اس نے غلط بیان دیا۔

    دوسروں کو جیل بھجوا کر خوشیاں منانے والوں کے چہرے آج دیکھنے والے ہیں۔ جب آئین شکنی ہو گی تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا ۔ عدم اعتماد سے جو آئین شکنی کا سلسلہ شروع ہوا وہ ابھی تک چل رہا ہے ۔ یوں لگ رہا ہے عمران نیازی کا نام تاریخ میں آئین شکن کے طور پر لکھا اور پڑھا جائے گا

  • اب باتوں کا نہیں، عمل کا وقت ہے،وزیراعظم شہباز شریف

    اب باتوں کا نہیں، عمل کا وقت ہے،وزیراعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اب باتوں کا نہیں، عمل کا وقت ہے، گوادر کی تعمیر و ترقی پاکستان کے تابناک مستقبل کی ضامن ہے.

    نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے تمام تر حکومتی ادائیگیاں آن لائن ہو سکیں،سلمان صوفی

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی ملک سے غربت و افلاس کے خاتمے اور پائیدار امن کی بحالی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ انہوں نےکہا کہ گوادرسمیت پورے بلوچستان کو ترقی کے سفر میں دیگر علاقوں کے ہم پلہ کرنا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔ وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہاربلوچستان اور گوادر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

    بجلی کے نرخوں میں اضافے کی سفارش کابینہ نے مسترد کی،وفاقی وزیر

     

    وزیراعظم نے کہا کہ گوادر بندرگاہ اپنے محل وقوع کے علاوہ دفاعی، سیاسی اور معاشی اعتبار سے عالمی تجارت کے لیے انتہائی موزوں اور اہم ہے۔ ہمیں اس بندرگاہ کےراستے ملک کے بالائی اور شمالی علاقہ جات سے درآمدی سامان کی ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے گوادر سے ملک کے بالائی علاقوں تک سڑکوں اور ریلوے لائنوں کا بہترین اور فعال نیٹ ورک کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ہمیں شبانہ روز محنت سے اس ضمن میں ہونے والی مجرمانہ کوتاہیوں کا ازالہ کرنا ہے، اور آگے بڑھنا ہے.

    وزیر اعظم نے برآمدی شعبے کی ترقی اور عوام، خصوصا گوادر کے لوگوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کے لیے گوادر میں چینی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکن اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں چیف سیکرٹری بلوچستان اورسیکرٹری منصوبہ بندی کو چینی کمپنیوں کے وفد سے مشاورت کے ساتھ خوراک، زراعت اور پیٹروکیمیکلز میں سرمایہ کاری کے لیے قابل عمل پلان بنانے کی ہدایت کی۔

     

    عمران خان 73 کے آئین کو ختم کرکے آمرانہ حکومت کا منصوبہ بنا رہے تھے،خواجہ سعد رفیق

     

    وزیر اعظم کو چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری وزارت بحری امور، سیکرٹری ریلوے، چئیرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور چئیرمین چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی پاکستان (COPHC) نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

    چئیرمین نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (NHA) نے وزیر اعظم کو CPEC کے مشرقی اور مغربی روٹس کے زریعے گوادر کی ملک کے بالائی اور شمالی علاقوں تک رسائی سے متعلق وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔وزیر اعظم نے تجارتی سامان کی ترسیل کو یقینی بنانے لے لیے NHA، وزارت بحری امور اور وزارت منصوبہ بندی کو عید کے فورا بعدمشترکہ جائزہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

    سیکرٹری وزارت بحری امور نے وزیر اعظم کو بتایا کہ گوادر پورٹ پر بریک واٹر پراجیکٹ (Concession Agreements) کے تحت تعمیر ہونا تھا۔ اس کے لیے 445 ملین ڈالر کی گرانٹ اور 484 ملین ڈالر کا قرض چینی حکومت نے فراہم کر رکھا ہے، لیکن یہ منصوبہ تعطل کا شکار رہا ہے۔ وزیر اعظم نے اس مجرمانہ غفلت پر برہمی کا اظہار کیا اور چئیرمین وزیر اعظم معائنہ کمیشن کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اس پیشہ وارانہ غفلت کی تحقیق کر کے ایک ہفتے میں جامع رپورٹ پیش کریں۔

    چئیرمین چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی پاکستان (COPHC) نے وزیر اعظم کو بتایا کہ 1.2 ملین گیلن روزانہ کی استعداد والا پلانٹ پاکستان جلد پہنچ جاۓ گا اور اس سال کے آخر تک پیداوار شروع کر دے گا۔

    چیف سیکرٹری بلوچستان نے گوادر کے لیے شمسی توانائی کے منصوبے پر وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ گوادر شہر کے 35,500 گھرانوں میں سے 31,000 آن گرڈ جبکہ 4500 گھرانے آف گرڈ ہیں۔ آن گرڈ گھرانوں کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئٹہ الیکٹریک سپلائی کمپنی (QESCO) اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (BOT) بنیادوں پر منی سولر پارک لگایا جا رہا ہے، جس کے لیے NEPRA پاور پر چیز ایگریمنٹ (Power Purchase Agreement) جاری کرے گا۔ تاہم آف گرڈ گھرانوں کے لیے 1.8 ارب روپے کی لاگت سے 3KW والے سولر ہوم سٹیشنز لگاۓ جا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کوسارا عمل شفاف ٹینڈرنگ کے ذریعے مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نےہدایت کی کہ عوام کی سہولت کو یقینی بنانے کے لیےکم از کم تین سال کے لیے آفٹر سیل سروس (After Sale Service) مہیا کرنا سولرسسٹم مہیا کرنے والی کمپنی کی ذمہ داریوں میں شامل کیا جاۓ۔ انہوں نے چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری بحری امور اور سیکرٹری منصوبہ بندی کو اس حوالے سے جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی۔

    وزیر اعظم نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے عملے کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے صوبے میں جاری تمام ترقیاتی کاموں کی میپنگ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے وزیر داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے جامع سیکیورٹی پلان مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی، کیونکہ معاشی ترقی کا خواب پر امن ماحول پیدا کیے بغیر شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

    سیکرٹری ریلوے نے وزیر اعظم کو گوادر اور ملک کے دیگر شہروں کے درمیان رابطے سے متعلق آگاہ کیا، اور اس سلسلے میں غیر موجود ریلوے ٹریک بچھانے سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی۔ وزیر اعظم نے اسے موثر بنانے کےلیے تمام ممکن اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔

    اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیربحری امور سید فیصل سبزواری، وزیر توانائی انجینئیرخرم دستگیر، وزیر ریلوے و ہوابازی خواجہ سعد رفیق،وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اعلی سرکاری حکام نے شرکت کی۔

    علاوہ ازیں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے مشیر وزیرِاعظم، انجنیئر امیر مقام ،وفاقی وزیر ریاض حسین پیرذادہ،شاہ غلام قادر،مشتاق منہاس،اور چوہدری طاعق فاروق نے ملاقاتیں کی ہیں. ملاقات میں ملک کی سیاسی صورت حال پر بات چیت کی گئی . ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخواہ کے عوام کے لیے سستے آٹے کی فراہمی میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے.

  • ۔دو سال سے زائدعرصہ گذر  گیا، وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ کیا!!

    ۔دو سال سے زائدعرصہ گذر گیا، وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ کیا!!

    کراچی: جنرل اسپتال کراچی کی ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے ایم ٹی آئی آرڈی ننس کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدارتی آرڈی ننس کے تحت جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر،قومی ادارہ امراض قلب اور قومی ادارہ اطفال کو اپنی تحویل میں لے ۔جناح اسپتال میں ڈاکٹر نعیم خان کی زیر صدارت ڈاکٹرایسوسی ایشن کے اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ایم ٹی آئی آرڈی ننس کی بھرپور حمایت کا فیصلہ کیا گیا ۔ڈاکٹر نعیم خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد وفاق کے تینوں اسپتال جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر ،قومی ادارہ امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) اور قومی ادارہ اطفال (این آئی سی ایچ)وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوگئے تھے مگر جنوری 2019میں سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں ان تینوں اسپتالوں کو واپس وفاق کو منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے ۔دو سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ کرتے ہوئے ان تینوں اسپتالوں کا انتظامی کنٹرول حاصل نہیں کیا ۔انہوںنے کہا کہ نومبر 2020میں وفاقی حکومت نے صدارتی آرڈی ننس جاری کیا جس کے تحت جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر،قومی ادارہ امراض قلب اور قومی ادارہ اطفال کو بورڈ آف گورنرز کے تحت انتظامی طور پر چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ڈاکٹر ایسوسی ایشن اس فیصلے کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ کراچی کے ان اسپتالوں کا انتظامی کنٹرول جلد سے جلد حاصل کرے ۔

  • ساجد کیانی کن  حفاظتی اقدامات کو  عمل میں لا  رہے ہیں؟

    ساجد کیانی کن حفاظتی اقدامات کو عمل میں لا رہے ہیں؟

    لاہور 07فروری 2021:
    ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی نے شہر کے مختلف گرجا گھروں، نیو راوی بریج چیک پوسٹ سمیت اہم مقامات کا دورہ کیا. ساجد کیانی نے پولیس کی طرف سے کئے جانے والے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا. انہوں نے چیکنگ پوائنٹس کا معائنہ کیا اور موقع پر موجود افسران و جوانوں کو ضروری ہدایات دیں.انہوں نے ڈیوٹی پر تعینات پولیس جوانوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دوران ڈیوٹی الرٹ رہیں اور مشکوک افراد اور گاڑی پر کڑی نظر رکھیں. ساجد کیانی نے کہا کہ شہریوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور ناکوں پر انہیں غیر ضروری تنگ نہ کیا جائے.ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ کرپشن اور اختیارات سے تجاوز ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا.ناکوں پر شہریوں کے ساتھ بدسلوکی اور کرپشن کی شکایت پر زیرو ٹالرنس ہو گا۔ قصوروار ثابت ہونے پر سخت مہکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی. انہوں نے مزید کہا کہ پولیس ناکے اور دیگر ضروری حفاظتی اقدامات شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے ہیں۔شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے تمام ممکنہ اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیں.

  • رٹو طوطا اور ہم ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    رٹو طوطا اور ہم ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    ایک دانا بندے نے بطور تجربہ ایک بولنے والا طوطا پالا اور روز اسے یہ الفاظ یاد کرواتا ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا، صبح و شام جب بھی اس کا ٹائم لگتا یہی الفاظ طوطے کو یاد کرواتا چند دن کی محنت سے وہ طوطا رٹے رٹائے الفاظ خوب یاد کر چکا اب وہ بندہ جب بھی طوطے کے پنجرے کے پاس آتا طوطا شروع ہو جاتا ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا سارا دن طوطا انھی الفاظ کو دہراتا رہتا اور خوب شور و غل کرتا ایک دن طوطے کے مالک نے طوطے کا امتحان لینے کا ارادہ کیا طوطے کو دانہ ڈال کر اس کے پنجرے کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا اور خود ایک طرف ہٹ کے بیٹھ گیا طوطے صاحب نے وہی الفاظ دہرانے شروع کر دیے اور جب دیکھا کہ پنجرے کا دروازہ کھلا ہے فوری اڑان بھری اور گھر کے صحن میں لگے درخت پر بیٹھ کر وہی الفاظ دہرانے شروع کر دیے ، پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا، وہ شخص اب درخت کے پاس آکر طوطے سے مخاطب ہوا کہ چلو پنجرے میں واپس اور اترو درخت سے نیچے جواباً طوطے نے وہی رٹے رٹائے الفاظ دہرانا شروع کر دیے ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا،
    قارئین ایسے ہی کچھ حالات ہمارے ساتھ ہیں اللہ رب العزت نے ہمیں اپنے قرآن اور نبی محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم سے نوازا جو ہمیں پیدائش سے لے کر موت تک زندگی گزارنے کے ہر اصول سے روشناس کرواتے ہیں اور بطور مسلمان ہمارا اللہ کے فضل سے ایمان قرآن اور محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے مگر ہم اس معاشرے میں رہتے ہوئے رسم و رواج کو برا جانتے تو ہیں مگر کرتے وہی طوطے والی بات ہیں۔
    ہم چوری چکاری کو برا تو سمجھتے ہیں مگر بات وہی طوطے والی الغرض کہ پیدا ہونے سے مرنے تک دنیا کے ہر برے کام کو برا جانتے ہیں مگر عملاً وہ رٹی رٹائی طوطے جیسی باتیں کہ جو پنجرے سے بھاگ کر بیٹھا درخت پر ہے مگر بول رہا ہے ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا۔ تو جس طرح اس طوطے کا مالک اس سے ناخوش ہو گا کہیں ہمارا مالک بھی ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔ یقیناً یہ بڑے خسارے والی بات ہو گی۔