Baaghi TV

Tag: عوام

  • اوکاڑہ میں محرم الحرام کے فل پروف سکیورٹی کے پیش نظر کنٹرول روم قائم کردیا گیا۔

    اوکاڑہ میں محرم الحرام کے فل پروف سکیورٹی کے پیش نظر کنٹرول روم قائم کردیا گیا۔

    اوکاڑہ(علی حسین) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اوکاڑہ عمر سعید ملک نے باغی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ محرم الحرام کی مناسبت سے ضلع بھر میں سکیورٹی کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں اور شہر میں فول پروف سکیورٹی کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے جہاں سے ضلع بھر میں منعقد ہونیوالی مجالس عزا اور جلوسوں کی مانیٹرنگ کی جائیگی۔ عمرسعید ملک نے مزید کہا ہے کہ پولیس اپنے وقار کو ہمیشہ قائم رکھے گی اور عوام الناس کی جان و مال کی حفاظت کریگی۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام میں کسی قسم کی شرانگیزی پھیلانے والے خلاف سختی سے نمٹا جائیگا۔

  • اوکاڑہ بھر میں یوم استحصال کشمیر منایا گیا۔ شہر اور مضافات سے یکجہتی ریلیاں نکالی گئیں۔

    اوکاڑہ بھر میں یوم استحصال کشمیر منایا گیا۔ شہر اور مضافات سے یکجہتی ریلیاں نکالی گئیں۔

    اوکاڑہ(علی حسین) ضلع بھر میں یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے ریلیوں اور پروگرامز کا انعقاد کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر آفس اوکاڑہ سے ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس سے سول سوسائٹی، وکلاء، سیاسی اور سماجی شخصیات نے خطاب کیا۔ دیپالپور ، بصیر پور، صدر گوگیرہ، رینالہ خورد اور دیگر علاقوں میں بڑی اور چھوٹی ریلیاں نکالی گئیں۔ ضلع اوکاڑہ میں صحافی طبقے نے بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پروگرامز منعقد کیے۔

  • اوکاڑہ میں تاجروں نے سمارٹ لاک ڈاؤن ماننے سے انکار کردیا۔ پولیس کی بھاری نفری طلب

    اوکاڑہ میں تاجروں نے سمارٹ لاک ڈاؤن ماننے سے انکار کردیا۔ پولیس کی بھاری نفری طلب

    اوکاڑہ(علی حسین ) حکومت پاکستان کی جانب سے نافذ کیے گئے ملک گیر سمارٹ لاک ڈاؤن کو اوکاڑہ مین بازار کے تاجروں نے ماننے سے صاف انکار کردیا ۔ پولیس تھانہ اے ڈویژن اور بی ڈویژن سے پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ تاجروں اور پولیس کے مابین تلخ کلامی ہوئی ۔ تاجروں نے حکومتی حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے حق بازار ، صدر بازار، کچہری بازار اور ریل بازار میں دکانیں کھول لیں۔ پولیس کے پہنچنے پر دکانداروں کی بڑی تعداد احتجاج کے لیے اکٹھا ہوگئی جس پر اوکاڑہ پولیس نے مظاہرین کو مشتعل کرنا شروع کردیا۔ دکانداروں اور تاجروں نے باغی ٹی وی کو بتایا ہے کہ عید سے قبل لاک ڈاؤن کا نفاذ غیر اخلاقی عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عید سے کئی دن قبل عید کی تیاری کے لیے خریداروں کے لیے سٹاک جمع کررکھا تھا جو عید سے قبل فروخت کرنا تھا لیکن حکومتی پالیسی کی وجہ سے کاروبار میں نقصان یقینی ہے ۔

  • ناقص گوشت کی فروخت کا دھندہ عروج پر

    ناقص گوشت کی فروخت کا دھندہ عروج پر

    اوکاڑہ(علی حسین) شہربھر میں مضر صحت اور ناقص گوشت کی فروخت کا دھندہ عروج پر ہے۔ قیمتیں بھی زیادہ ہیں ۔ کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔ شہریوں نے حکام سے ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔

  • اوکاڑہ می‍ں گزشتہ روز انتقال کرنے والے ڈاکٹر عمر دراز کی کرونا ٹیسٹ رپوٹ نیگٹو نکلی

    اوکاڑہ می‍ں گزشتہ روز انتقال کرنے والے ڈاکٹر عمر دراز کی کرونا ٹیسٹ رپوٹ نیگٹو نکلی

    اوکاڑہ( علی حسین) اوکاڑہ میں گزشتہ روز فوت ہونے والے ڈاکٹر عمر دراز کو کرونا سے متاثر قرار دیکر دفن کردیا گیا لیکن بعد ازاں رپورٹ آنے پر نتیجہ نیگیٹو آیا۔ شہریوں نے جب متذکرہ ڈاکٹر کی موت کیوجہ کرونا کے متعلق سنا تو پورے شہر میں اضطراب اور خوف کی لہر دوڑ گئی لیکن بعد از تدفین رپورٹس نیگیٹو آنے پر عوام میں برہمی اور غصے کے احساسات دیکھنے میں ملے۔ باغی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے متعدد شہریوں نے بیان دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کرونا وائرس اگرچہ بطور بیماری موجود ہے لیکن موجودہ حالات میں کرونا کو لیکر صرف خوف و ہراس پھیلایا جارہا ہے۔ بعض شہریوں نے کہا کہ پوری دنیا میں حالات معمول پر آرہے ہیں جبکہ پاکستان میں سختی کی جارہی ہے جو کہ مشکوک ہے۔

  • اوکاڑہ رمضان میں مہنگائی کا طوفان

    اوکاڑہ رمضان میں مہنگائی کا طوفان

    ضلع اوکاڑہ(علی حسین مرزا) کرونا لاک ڈاون کے دوران رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہوا ہے ساتھ ہی یہاں مہنگائی مافیا نے خوردونوش سمیت دیگر اشیائے ضرورت زندگی کی قیمتوں میں کئی گبا اضافہ کردیا ہے۔ دو روز قبل 140 فی کلو فروخت ہونیوالی کھجور300 روپے فی کلو میں ، 150 روپے فی کلو فروخت ہونیوالا چکن 230 روپے فی کلو میں، 120 روپے والی شکر 150 میں اور پھلوں سبزیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ شہریوں نے مقدس مہینہ میں روزہ داروں کو ریلیف فراہم کرنیکا مطالبہ کیا ہے۔

  • "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    حالیا الیکشن کے دوران حکمران جماعت نے جو نعرہ سب سے ذیادہ لگایا وہ تھا دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام نے پچھلے 70 سالوں میں صرف اور صرف نعرے ہی سنیں ہیں ۔ وہی سیاسی جماعتیں ، وہی چہرے ، وہی نعرے ہاں اگر ان میں کچھ نیا تھا تو وہ تھا یہ نعرہ کہ دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام یہ نعرہ سن کر یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ شاید اب کی بار ہی ہماری قسمت بدل جاٸے ، شاید اب کی بار ہی ہمیں وہ حقوق مل جاٸیں جن پر برسوں سے ہمارا حق تھا ، شاید اب ہماری دعاٸیں رنگ لے آٸیں جو ہم برسوں سے اپنی غریبی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مانگ رہے تھے ۔ عوام تو سمجھ رہے تھے کہ شاید اب ہمارے وزیر اور مشیر ہمارے ساتھ عوامی گاڑیوں میں سفر کریں گے ، ان وزیروں کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ ایک ہی جگہ ، ایک ہی سکول ، ایک ہی نصاب ، ایک ہی طریقہ تدریس ، ایک ہی استاد سے تعلیم حاصل کریں گے ۔ لیکن کیا فرق آیا ابھی تک ۔ وہی جو کچھ پرانی حکومتوں میں حکمران اور وزیر مشیر کرتے تھے ۔ آج بھی غریب کا بچہ فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہا ہے بلکہ کچھ جگہوں پر تو فرش بھی میسر نہیں ۔ استاد کا دل کرے پڑھاٸے دل کرے تو نہ پڑھاٸے ۔ جبکہ امیر کا بچہ دنیا کا مہنگا ترین نصاب ، سکول اور جدید ترین طریقہ تدریس کے مطابق قابل اساتذہ کی زیر نگرانی تعلیم حاصل کر رہا ۔ امیر تو آج بھی اپنے علاج مہنگے ترین پراٸیویٹ اسپتالوں سے کرواتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ آج بھی کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے کمشنر آفس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے ۔ کسی ایم پی اے یا ایم این اے نے آج بھی کسی سکول یا کالج کا دورہ کرنا ہو تو غریب کی بیٹیاں اب بھی گھنٹوں روڈز پر کھڑی ہوتی ہیں تاکہ ان عوامی نماٸیندوں کا استقبال بہترین طریقے سے کیا جاسکے۔ آج بھی بڑے بڑے چور ڈاکو مقدمات ہونے کے باوجود پروٹوکول کے ساتھ اسمبلی میں آتے ہیں ، آج بھی سرکاری خرچ پر علاج کروا رہے ہیں ، قوم کے پیسے سے عیاشیاں کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف صلاح الدین جیسے غریب کو تفتیش کے دوران ایسی اذیت ناک موت دی جاتی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ 500 روپے چوری کرنے والے کو تو مار مار کر قتل کر دیا جاتا ہے جبکہ قوم کا خون تک نچوڑ کر اپنی اولاد پر لٹا دینے والے کو جیلوں میں بھی عیاشیاں کرواٸی جا رہی ہیں ۔

    قصور کی زینب کو انصاف نہ مل سکا کیونکہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ نظام تھے لیکن قصور کے بچے تو اب بھی زینب کی طرح دردناک موت کا سامنا کر رہے ہیں جن کا کوٸی پرسان حال نہیں ۔ ساہیوال جیسے واقعات جہاں فیڈر ہاتھوں میں پکڑے بچے دہشت گرد قرار دے دٸیے جاتے ہیں جن کے سامنے ان کے والدین کو شہید کر دیا جاتا ہے کیا انہیں انصاف مل پایا ؟ کیا صلاح الدین جیسے لوگوں کو انصاف مل پایا ؟ کیا اب عدالتی نظام ، سکول کا نظام ، پولیس کا نظام امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا ہے ؟ کیا اب عام وزیر سے لے کر وزیر اعظم تک مدینہ کے سربراہ کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔ کیا اب عوامی نماٸیندے عوام کے ساتھ سفر کرتے ہیں ؟ کیا وزیر اعظم پاکستان اب ایک مزدور کے برابر تنخواہ لیتا ہے ؟ کیا امیر اور غریب کے بچے کا معیار تعلیم ، معیار خوراک ، معیار ادویات ایک جیسا ہوگیا ہے ؟ کیا اب گستاخوں کو اسلامی شریعت کے مطابق سزاٸیں دی جاری ہیں یا پھر تحفظ دیا جارہا ہے ؟ کیا اب حکمرانوں کے بچے پاکستان میں ہی رہ کر یہی کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ؟ کیا یہ عوامی نماٸیندے اب عوام کی طرح سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھا کر ہی اپنا علاج کرواتے ہیں ؟ قصور وار کون ؟ ہم ہیں قصور وار ۔ ہاں ہم عوام ہی قصور وار ہیں کیونکہ ہم شخصیت پرست ہے دو دو چار چار سو میں پرچی بیچ دینے والی عوام ، دو دو چار چار سو کے لیے اپنا ضمیر بیچ دینی والی قوم ، اپنی زبان ، اپنی ٹویٹ ، اپنی پوسٹ بیچ دینے والی عوام ۔ جنہوں نے کبھی ان عوامی نماٸیندوں ، ان وزیروں مشیروں کا گریبان نہیں پکڑا ، ان سے سوال پوچھنا تو دور جو سوال پوچھے اسے ہم بیچ چوراہے ایسا ذلیل و رسوا کرتے ہیں کہ وہ انسان دوبارہ کسی حکمران سے سوال پوچھنے کی غلطی نہیں کرتا ۔

    اللہ کرے کہ کبھی ان شہدا کا پاکیزہ خون رنگ لے آٸے جنہوں نے پاکستان بنانے سے لے کر اب تک اس پاک دھرتی کے لیے قربانیاں دی ہیں ، جانیں لٹاٸی ہیں تاکہ یہ پاک وطن حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست بن سکے ۔ آمین