Baaghi TV

Tag: عورت مارچ

  • اسلام آباد :عورت مارچ پر پولیس کارروائی، متعدد خواتین،مرد اور منتظمین گرفتار

    اسلام آباد :عورت مارچ پر پولیس کارروائی، متعدد خواتین،مرد اور منتظمین گرفتار

    انٹرنیشنل ویمنز ڈے کے موقع پر اسلام آباد میں عورت مارچ کے منتظمین اور شرکاء پر پولیس نے سخت کارروائی کی، جس کے دوران متعدد خواتین اور کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا،اسلام آباد پولیس نےسیکٹرایف 6 سےعورت مارچ میں شریک 11 خواتین،اور 3 مرد گرفتارکرلیے-

    عورت مارچ آرگنائزیشن کی رکن نشاط مریم کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں معروف ویمن رائٹس ایکٹیویسٹ ڈاکٹر فرزانہ باری بھی شامل ہیں مارچ کے لیے این او سی کی درخواست ایک ماہ قبل جمع کروائی گئی تھی، لیکن انتظامیہ کی جانب سے این او سی جاری نہیں کیا گیا، جس کی بنیاد پر پرامن اجتماع کے حق سے شرکا کو محروم کیا گیا،پولیس نے منتظمین کو گاڑی سے باہر نکلتے ہی زبردستی حراست میں لیا،قریباً 8 خواتین کو گرفتار کرکے جی-7 تھانے منتقل کیا گیا اور بعد میں مزید منتظمین اور بعض اہل خانہ کو بھی حراست میں لیا گیا۔

    آپریشن ’غضب للحق‘:583 افغان طالبان ہلاک، 242 چیک پوسٹیں تباہ اور 38 پر قبضہ

    دوسری جانب ترجمان اسلام آباد پولیس نے بتایا کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت ہر قسم کے احتجاج اور اجتماعات پر پابندی ہے، اور عورت مارچ کے لیے این او سی جاری نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی کی گئی،جبکہ عورت مارچ کے منتظمین اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس کارروائی کو پرامن احتجاج پر ریاستی جبر قرار دیا اور کہا کہ شہریوں کو آئین کے تحت پرامن اجتماع کا حق حاصل ہے، جسے بلا وجہ روکا جا رہا ہے۔

    افغان کرکٹر راشد خان کا خاندان کے ہمراہ پشاور میں قیام ،خواجہ آصف کا شدید ردعمل

  • مرد ظالم ہوتا ہے یا عورت؟  عتیقہ اوڈھو نے عورت مارچ مباحثے پر کھل کر ردعمل

    مرد ظالم ہوتا ہے یا عورت؟ عتیقہ اوڈھو نے عورت مارچ مباحثے پر کھل کر ردعمل

    پاکستان کی معروف سینئر اداکارہ نے کہا ہے کہ ہر مرد برا نہیں ہوتا اور مردوں کو مجموعی طور پر منفی انداز میں پیش کرنا درست نہیں۔

    عتیقہ اوڈھو نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں کہا کہ یہ کہنا کہ تمام مرد برے ہیں، ایک غلط بیانیہ ہے وہ اس سوچ سے متفق نہیں ہیں جب لوگ یہ بات کرتے ہیں تو انہیں یوں لگتا ہے جیسے ان کے والد، شوہر یا بھائی کی توہین کی جا رہی ہو، جبکہ وہ سب بہت اچھی شخصیت کے حامل ہیں۔

    عتیقہ اوڈھو نے اس بات پر زور دیا کہ انسان کو جنس نہیں بلکہ کردار کی بنیاد پر جانچا جانا چاہیےمعاشرے میں منفی رویے صرف مردوں تک محدود نہیں، خواتین بھی بعض اوقات ناانصافی یا سخت رویوں کی حامل ہو سکتی ہیں عتیقہ اوڈھو نے مثال دی کہ میرے والد اور بھائی بھی مرد ہیں اور وہ بہترین انسان ہیں اس لیے ہر مرد کو ایک سا سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے، میں مانتی ہوں، خواتین کے مسائل حقیقی ہیں اور ان پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں لیکن اس کی بنیاد پر تمام مردوں کو ایک سا سمجھنا ناانصافی ہے۔

    کراچی: ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث لیاری یو سی 3 کا کونسلر گرفتار

    اداکارہ نے مزید کہا کہ دنیا میں مسائل صرف پاکستان تک محدود نہیں ہیں خواتین کو درپیش مشکلات عالمی سطح پر بھی موجود ہیں، اس لیے صرف ایک معاشرے کو نشانہ بنانا مناسب نہیں، ہمیں مسئلے کو مجموعی اور متوازن انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے اچھے اور برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں،ایسے مرد بھی ہیں جو رشتوں اور شادیوں میں ذہنی دباؤ اور مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، لیکن ان کی بات کم سنی جاتی ہے، معاشر ے کو دونوں پہلوؤں کو سنجیدگی سے سننا چاہیے، خواتین کے حقوق پر بات ضروری ہے، لیکن یہ مکالمہ نفرت یا عمومی الزامات کے بجائے انصاف اور توازن کے ساتھ ہونا چاہیے۔

    عدالت کے حکم پر 4سال سے لاپتہ ہونے والی لڑکی کو بازیاب کروا لیا گیا

  • بغیر اجازت احتجاج کرنے پر عورت مارچ کی قیادت کیخلاف مقدمہ درج

    بغیر اجازت احتجاج کرنے پر عورت مارچ کی قیادت کیخلاف مقدمہ درج

    بغیر اجازت اسلام آباد میں احتجاج کرنے پر عورت مارچ قیادت کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عورت مارچ کی قیادت کے خلاف مقدمہ پرامن اسمبلی ایکٹ کے سیکشن 8 کے تحت درج کیا گیا جبکہ سٹی مجسٹریٹ کی مدعیت میں دونوں گروپس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔مقدمے کے متن کے مطابق فرزانہ باری کی جانب سے 100/150 خواتین کے ہمراہ احتجاج کیا گیا۔تھانہ کوہسار میں درج مقدمے کے اندراج کے مطابق فرزانہ باری کی جانب سے 100/150 خواتین کے ہمراہ احتجاج کیا گیا، صدر مسلم طلبہ اور اسلامی نظریاتی پارٹی کے 50/60 کارکنان بھی شہید ملت چوک اکٹھے ہوئے، طلبہ کے گروپ کی جانب سے عورت مارچ کے شرکا کو روکنے کی کوشش کی گئی۔

    مقدمے کے متن میں بتایا گیا کہ اس دوران دونوں گروپس کی جانب ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی گئی، دونوں فریقین کی جانب سے شہید ملت چوک کو بلاک کیا گیا۔مقدمے کے مطابق دونوں فریقین کی جانب سے کسی نے احتجاج سے قبل این او سی نہیں لیا، اسلام آباد میں دفعہ 144 کے نفاذ کے تحت ہر قسم کے احتجاج پر پابندی ہے، فرزانہ بازی اور بلال ربانی کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی احتجاج کیا۔

    جڑواں شہروں میں 2 روز کیلئے ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند

    لاہور قلندرز کا یو نیوورسٹی فین کلب فرینڈز آف قلندرز کا آغاز

    کوئٹہ سے ٹرین سروس تاحال بحال نہ ہوسکی،انٹرنیٹ سروس بھی بند

    عرب امارات کا امریکا میں سینکڑوں ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان

  • عورت مارچ شرکاء کےشادی اور طلاق کے قوانین میں تبدیلی کے مطالبے

    عورت مارچ شرکاء کےشادی اور طلاق کے قوانین میں تبدیلی کے مطالبے

    عورت مارچ لاہور چیپٹر نے رواں سال کیلئے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق خواتین نے لاہور میں ایجرٹن روڈ پر دھرنا دے دیا اورخواتین محاذِ عمل نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا، جس میں خواتین پر جنسی تشدد ختم کروانے، شادی اور طلاق کے قوانین میں تبدیلی لانے کا مطالبہ کیا گیا۔مطالبہ کیا گیا کہ کام کی جگہوں پر خواتین کو اچھا ماحول دیا جائے، پنجاب ہتکِ عزت ایکٹ 2024 اور دفعہ 144 کو کالعدم قرار دیا جائے۔عورت مارچ سے قبل لاہور پریس کلب میں خواتین محاذ عمل کی کنوینئیر نائلہ ناز نے امِ لیلہ، جلوت علی، رفعت مقصود، ارم کاشف، فائقہ جبیں اور انعم مختار کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مذہب کی جبری تبدیلی کا سلسلہ روکا جائے اور خواجہ سرا اور صنفی اقلیتوں سے امتیازی سلوک ختم کیا جائے، جنس کا تعین از خود کرنے کا حق برقرار رکھا جائے۔شرکاء نے پریس کلب سے ایجرٹن روڈ تک عورت مارچ کیا، شرکاء نے اپنے مطالبات کے حق میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔دوسری جانب عورت مارچ کی سیکیورٹی کیلئے لاہور پولیس کی خواتین پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا، نوٹیفکیشن جاری

    شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا، نوٹیفکیشن جاری

    صائم ایوب کے ساتھ خاتون مداح کی بدتمیزی ،ویڈیو وائرل

    پاکستان کی جنوبی افریقہ کو 6 وکٹوں سے شکست، وزیراعظم کی مبارکباد

    کراچی کا معاشی قتل بند ،تعمیراتی منصوبے فی الفور مکمل کیے جائیں،منعم ظفر خان

  • خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی نا ممکن

    خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی نا ممکن

    خواتین کا عالمی دن،پاکستان میں صنفی مساوات کو آگے بڑھانے کا مشن
    تحریر۔۔ناظم الدین
    خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور بااختیار بنانے کا مطلب اس کوبہادربنانااوروسیع پیمانے پر اپنی زندگی کوتشکیل دینے کے لئے انتخاب اوراس پر عمل کی آزادی کو آگے بڑھانا ہے یعنی وسائل اور فیصلوں پر کنٹرول ہے۔ ایک بااختیارعورت وہ ہو گی جو پر اعتماد ہو، جو اپنے ماحول کا تنقیدی تجزیہ کرتی ہو اور جو اپنی زندگی کو متاثر کرنے والے فیصلوں پرکنٹرول رکھتی ہو۔ بااختیار بنانے کا خیال سماجی تعامل کی تمام سطحوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ کمزور اور پسماندہ لوگوں کو آوازدینے میں پایا جاتا ہے۔ اس کے لیے صلا حیتوں کی توسیع کے لیے ضروری آلات اور مواد تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے۔خواتین کو بااختیار بنانے کے پانچ اجزاء ہیں: خواتین میں خود کی قدر کا احساس، انتخاب کرنے اور تعین کرنے کا ان کا حق، مواقع اور وسائل تک رسائی کا ان کا حق، گھر کے اندر اور باہر، اپنی زندگی کو کنٹرول کرنے کااختیار،پسندیدہ چیز حاصل کرنے کا ان کا حق اور قومی اور بین االقوامی سطح پر ایک زیادہ منصفانہ سماجی اور اقتصادی ترتیب بنانے کے ل یے سماجی تبدیلی کی سمت کو متاثر کرنے کی ان کی صالحیت۔ عام طور پر، بہت کم لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا اور صنف ایک غیر ملکی ایجنڈا ہے لیکن اس کی واحد غلط فہمی پوری دنیا میں خواتین کو تاریخ کے آغاز سے ہی چیلنجز اور صنفی عدم مساوات کا سامنا رہا ہے۔ اگر ہم قرآن اور حدیث سے مدد لیں تو معلوم ہوگا کہ دونوں خواتین کے حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیتے ہیں جن میں تعلیم، عبادت، آزادی رائے، شریک حیات کے انتخاب، معاشی آزادی اور سماجی کردار کے حقوق شامل ہیں۔قومی ترقی کومردوں اور عورتوں دونوں میں وسائل کی مساوی تقسیم کے ساتھ متوازن ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان میں خواتین کل آبادی کا تقریبا 51 فیصد ہیں اور خواتین کی فعال شمولیت کے بغیرپاکستان ترقی کی مطلوبہ سطح کو حاصل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی اسے غربت کی لعنت وراثت میں ملی اور اس غربت کا بوجھ خواتین کی آبادی پر بہت زیادہ ڈاال گیا جس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین کی اکثریت زراعت کے کاموں، گھر کی دیکھ بھال، پانی اٹھانے اور جمع کرنے کے کاموں میں مصروف ہے۔ لیکن پیداواری سرگرمیوں میں ان کا کام غیر تسلیم شدہ ہے اور اس وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت کم دکھائی دیتی ہے۔اس حوالے سے محمد علی جناح نے فرمایا ” کوئی بھی قوم اس وقت تک عظمت کی بلندی پرنہیں چڑھ سکتی جب تک کہ تمہاری عورتیں تمہارے شانہ بشانہ نہ ہوں۔ ہم بری رسم و رواج کا شکار ہیں۔ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے کہ ہماری خواتین کو گھروں کی چار دیواری میں قیدی بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ہماری خواتین کو جس ناگفتہ بہ حالت میں رہنا پڑتا ہے اس کی کہیں بھی ”اجازت نہیں ہے۔عالمی سطح پر صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانا، ترقی کے حصول کے لیے اہم ہتھیار ہیں اس لیے خواتین کو مرکزی دھارے میں النا بہت ضروری ہے تاکہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

    ایک زیادہ جامع معاشرے کا مشترکہ وژن، جہاں ہر عورت ترقی کر سکتی ہے اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے، ان اجتماعی کوششوں کا مرکز ہے۔ آئی پی ایم جی کا قیام 2009 میں پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے تعاون کو بڑھانے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہ اسمبلی ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہے، تعاون کو فروغ دیتی ہے اور پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے راستے پر مثبت تبدیلی کا آغاز کرتی ہے۔ آؤ مل کر ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے متحد ہو جائیں جہاں ہرعورت کی آواز گونجتی ہو، اور اس کے حقوق اور شراکت کی قدر ہو۔ ”IPMG پاکستان کی منفرد ضروریات کو پورا کرنے کیلئے موزوں حل وضع کرنے کے لیے ایک اختراعی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل ہے۔ ڈیٹا کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ہم پالیسی کے خلاء کی نشاندہی کرنے اور باخبر فیصلے کرنے کیلئے حکام کو بااختیار بنانے میں اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل جسے UN کی مالی مدد حاصل ہے، صنف سے متعلق ڈیٹا کا ایک معتبر اور جامع ذریعہ ہے۔ بہتر ڈیٹا اکٹھا کرنا، تجزیہ کرنا اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرنے والے عطیہ دہندگان دونوں کی طرف سے زیادہ باخبر فیصلہ سازی کی راہ ہموار کرتی ہے۔بین الصوبائی وزارتی گروپ کے ایک حصے کے طور پر، ہم تبدیلی کے عمل میں سب سے آگے کھڑے ہیں۔ آئی پی ایم جی ایک فورس کے طور پر کام کرتا ہے، اختراعی حکمت عملیوں اور باہمی تعاون کی کوششوں کو بھڑکاتا ہے، ہمیں ایسے مستقبل کی طرف لے جاتا ہے جہاں مساوات اور انصاف سب کے لیے غالب ہو۔نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل (این جی ڈی پی) کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی، ایک پورٹل جو این سی ایس ڈبلیو کی چھتری تلے اقوام متحدہ کی خواتین اور نسٹ کے تعاون سے قائم کیا گیا تھا اسے خواتین سے متعلق اعدادوشمار/معلومات کے کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بیس کے طور پر اس طرح سے منظم اور پروگرام کیا گیا ہے کہ یہ قومی، صوبائی اور ضلعی سطحوں پر فیصلہ سازوں کے لیے خواتین کی حیثیت کے بارے میں باقاعدہ تجزیہ اور رپورٹس تیار کرتا ہے۔ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے اپنی قیمتی معلومات، بصیرت اور درپیش چیلنجز کا اشتراک کیا۔

    خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے ورکنگ ویمن کوپرتحفظ ورک اسٹیشنزاورخواتین کو وراثتی جائیداد میں حصہ کی فراہمی کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدات کی جس میں ہوم نیٹ پاکستان، سرکاری وغیرسرکاری اداروں،سول سوسائٹی اور وکلائنے شرکت کی۔خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہراسگی کی روک تھام کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جبکہ اداروں میں منفی رجحانات اور خواتین کو وراثتی جائیداد کی فراہمی میں کوتاہی کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہراسگی کے خاتمے اورویمن پراپرٹی رائٹس کی فراہمی کے لیے میڈیا کا رول بھی اہم ہے اس حوالے سے ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد لازمی ہے۔ اسی مناسبت سے غیر فعال ہراسانی کی کمیٹیاں جلد فنکشنل کردی جائیں گی اس حوالے سے صوبے میں واچ کمیٹیوں کا دائرہ کار بھی وسیع کیا جائے گا۔

    ہیلتھ سیکٹر کی بہتری حکومت کی اولین تر جیحات ہیں۔پرائمری ہیلتھ کے بعض ہسپتال بہت بہتر حالت میں ورکنگ کررہے ہیں،مظفر گڑھ کا رجب طیب اردوان ہسپتال لاہور کے بعض بڑے ہسپتالوں سے بھی بہتر حالت میں ہے۔لاہور سمیت تمام بڑے ہسپتالوں کی ری ویمپنگ شروع کر دی گئی ہے۔ رورل ایمبولینس میں نئی گاڑیاں آنے سے سروسز میں بہتری اور عوام کو سہولت ملی ہے۔ صوبے کے دیہات میں 493 ایمبولینسز اور بچے کی صحت اور ماں بچے کو صحت کی بہترین سہولتوں کی رسائی کے لئے کام کررہی ہیں۔آئی آر ایم این سی ایچ پراجیکٹ کے تحت پنجاب کے دیہات میں 500ایمبولینس گاڑیاں حاملہ خواتین وبچوں اور معذور افراد کو مراکز صحت تک پک اینڈ ڈراپ کی سروس دے رہی ہیں۔حاملہ خواتین اور ان کے اہل خانہ ٹال فری نمبر1034 پر کال کرکے مفت پک اینڈ ڈراپ کی سروس حاصل کی جا رہی ہے۔ہیضہ اور نمونیا میں مبتلا کمسن بچوں کو بھی مراکز صحت تک لانے کے لئے رورل ایمبولینس سروس حاصل کی جا رہی ہے۔معذور افراد بھی فزیو تھراپی کے لئے روزانہ ہسپتال جانے کے لئے رورل ایمبولینس سروس استعمال کر رہے ہیں۔دور دراز دیہات میں 3بنیادی مراکز صحت کے ساتھ ایک رورل ایمبولینس سروس منسلک ہے۔مریض کو ایمبولینس سروس کے ذریعے مراکز صحت سے ہسپتال بھی منتقل کیا جارہا ہے۔

    محکمہ بہبود آبادی پنجاب کی جانب سے پاپولیشن پالیسی کی تشکیل نو کے لئے ڈرافٹ تیارکر لیا ہے۔پالیسی کے تحت فیملی پلاننگ سروسز اور کاؤنسلنگ کی سہولت عوام کی دہلیز پر فراہم ہو گی۔کمیونیکیشن کے ذریعے عوام میں فیملی پلاننگ اور اس کے فوائد کے متعلق آگہی اور علم کو یقینی بنایا جائے گا۔نئی پاپولیشن پالیسی 2024-29 کے ویژن میں خوشحال، صحت مند اور تعلیم یافتہ معاشرے کی تشکیل شامل ہے.تولیدی صحت، بھرپور غذا اور بہتر معیار زندگی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ پالیسی میں پاپولیشن گروتھ کی شرح میں کمی کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بہتر کوارڈینیشن قائم کرنا بھی شامل ہے۔ امام اور خطیب حضرت کے ساتھ ساتھ کمیونیٹیز اور لوگوں کو بھی اس سارے عمل حصہ بنایا جائے گا۔محکمہ بہبود آبادی پنجاب صوبہ بھر میں تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی میں دیگر صوبوں کے لئے رول ماڈل ثابت ہو رہا ہے۔مواصلات، آگاہی اور علم کے ذریعے ہر شخص کو اس کی دہلیز پر خدمات اور مشاورت کی توسیع کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہے۔نئی پالیسی میں میں ہر خاندان کی منصوبہ بندی اور بہتر پرورش کی سہلیات کو فوکس کیا گیا ہے۔ تمام شہریوں کی زندگی کا معیار، تولیدی صحت کی بہتری کے حصول کے لیے رسائی اور انتخاب فراہم کیا گیا ہے۔صوبہ میں نئی حکومت نے چھوٹے خاندان کی خوشحالی اور سہو لیات کی فراہمی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ورلڈ بنک کا پنجاب میں خاندانی منصوبہ بندی کے عظیم پراجیکٹ کا آغاز ہوا ہے جو عالمی بینک کا پروگرام خاندانی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے، مانع حمل ادویات کے استعمال اور آبادی میں اضافے کو کم کرنے پر مبنی ہے۔خاندانی منصوبہ بندی کی معیاری خدمات تک مفت رسائی،خدمات میں نگہداشت کا معیار ادارہ جاتی شکل پر مشتمل ہے۔ ورلڈ بنک کا پروگرام کے تحت خاندانی منصوبہ بندی کے فوائد،ڈیلیوری سسٹم اوربہتر صحت سے وابستہ سہولیات کی فراہمی ہے۔ ورلڈ بینک کا یہ پروگرام کلینکل فرنچائزنگ، واؤچر سکیموں، اور کمیونٹی لیڈرز کے ذریعے فیملی پلاننگ کونسلنگ جیسی اختراعات کو بڑھا نے میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔ ورلڈ بنک پروگرام کو پنجاب کے مختلف اضلاع میں پائلٹ کیا گیا ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز، فیملی ویلفیئر ورکرز اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے صحت کی سہولیات، فیملی ہیلتھ کلینک اور فیملی ویلفیئر سے منسلک۔واؤچر ترغیبی اسکیم، سماجی مارکیٹنگ، مرد اور کمیونٹی رہنماؤں کی مصروفیت، اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات میں اضافے کے لیے نوجوانوں کے پلیٹ فارمز کو بڑھا نے میں مدد گار ہو گا۔ ورلڈ بنک پروگرام کے ذریعے خاندانی منصوبہ بندی سے وابستہ خدمات فراہم کرنے والوں کے باہمی رابطے کو بہتر بنانے میں کارگر ثابت ہو گا۔ کم عمری کی شادی بچیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ بلوغت کی عمر بچیوں کی زندگی کا نازک ترین دور ہوتا ہے جس میں کسی قسم کا صدمہ، بیماری یا کمزوری ان بچیوں کے لئے شدید مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ چنانچہ پاکستان میں بچیوں کی شادی کی لئے ان عمر بڑھاناضروری ہے۔ بچیوں کی شادی کی کم سے کم عمر کا تعین کرنے کے لیے قانون سازی اور اس پر عمل درامد کرنے کی ضرورت ہے۔ شادی سے پہلے بچیوں کو خاندانی اور معاشرتی معاملات سے آگاہی ہونابے حد ضروری ہے۔ بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جائے تا کہ انہیں شعور حاصل ہو۔ ماں کو تعلیم دیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ ایک عورت باشعور ہو تو پوری نسل کو تبدیل کر دیتی ہے۔ پنجاب میں مشاورت سے کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جا رہا ہے۔ کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے صوبائی سطح پر منعقدہ مشاورتی پروگرام کا انعقاد و قت کی اہم ضرورت ہے۔ کم عمری کی شادی بچوں کو بنیادی انسانی حقوق جن میں تعلیم اور صحت کے حق سر فہرست ہے سے محرم کر دیتی ہے۔کم عمری کی شادی ہماری معاشی اور سماجی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ہمیں مل کر باہمی مشاورت اور تعاون سے اس رواج کا خاتمہ کرنا یوگا۔متعلقہ ادارے کم عمری کی شادی پر قوانین میں تبدیلی کے لیے ہر دم کوشاں ہے تاکہ مثبت معاشرتی تبدیلی لائی جا سکے۔مشاورت کا مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز کے ہمراہ کم عمری کی شادی کی وجوہات، محرکات، نتائج اور خاتمہ سنجیدگی سے لائحہ عمل کرنا ہو گا۔

    پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں محکمہ بہبود آبادی کے دفاتر میں تعینات عملے کے کام کی آن لائن لائیو وڈیو مانیٹرنگ اور اس کے لیے مرکزی مانیٹرنگ اور کنٹرول روم قائم کیا ہے۔ اس مقصدکیلئے سیکر ٹری پاپولیشن اور ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئرنے وزیر اعلیٰ کے ویژن کے مطابق محکمہ کی طرف سے کئے جانے والے کاموں، بجٹ اور کاموں کے بارے میں مانیٹرنگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ شہریوں کو ضروری معلومات اور رہنمائی کی فراہمی کے لیے چار ہندسوں پر مشتمل ہیلپ لائن قائم کرنے اور اسے روزانہ 12 گھنٹے فعال رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس مقصد کے لئے محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے ایک موثر میڈیا مہم چلائی جارہی ہے۔ محکمے کے کاموں کی اہمیت کے پیش نظر عملے کی تربیت کے لیے ایک جامع نظام وضع کیا جا رہا ہے۔ عوامی آگاہی کے پیغامات اور پروگراموں کی تیاری کے لیے پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں اسٹوڈیو قائم کیا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے ‘چھوٹے خاندان کا خوشحال پاکستان’ کے نعرے کو فروغ دینا ہو گا۔ محکمہ بہبود آبادی کی تنظیم نو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق کی جارہی ہے۔ صوبہ بھر میں محکمہ کے سوشل موبلائزرز اور فیلڈ ورکرز کی کارکردگی قابل ذکر ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب کے مختلف منصوبوں کی رپورٹنگ اور مانیٹرنگ کے لیے ویب پورٹلز اور ڈیش بورڈز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں ای رجسٹریشن، سٹریٹجک مینجمنٹ یونٹ، علمائے کرام اور خطیبوں سے رابطے، خدمات کو مضبوط بنانے اور سروس ڈیلیوری پروگرام شامل ہیں۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی ٹیم نے تمام ڈیش بورڈز اور پورٹلز بنانے میں بے حد معاونت کی ہے۔

    باخبر انتخاب کرنا اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق خاندان قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کے درمیان مشاورت ایک خوشحال مستقبل کی طرف ایک چھلانگ ہے کیونکہ ماں اور بچے کی صحت کے لیے پیدائش میں وقفہ ضروری ہے۔ اس سلسلے میں نوبیاہتا جوڑوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ہمیں خواتین کو سماجی و اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کا عہد بھی کرنا ہے۔ ایک بااختیار عورت آبادی میں تیزی سے اضافہ وغیرہ جیسے چیلنجوں پر قابو پانے میں مدد کر سکتی ہے۔ باپ، بھائی اور شوہر، خاندان کے مرد ارکان ہونے کے ناطے، ہمیں اپنی خواتین خاندان کے ارکان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔ پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب ہم سب اپنے معاشرے میں چھوٹے اور متوازن خاندان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز، سرکاری محکموں اور ترقیاتی شراکت داروں کی مشاورت سے پنجاب پاپولیشن پالیسی تیار کی گئی۔ جس کا مقصد وسائل کی منصفانہ تقسیم، پائیدار ترقی اور صوبے بھر کے عوام کو صحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات کی فراہمی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب آبادی میں اضافے کو روکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ صوبہ بھر میں قائم خاندانی بہبود کے مراکز پنجاب کے کونے کونے میں محفوظ، محفوظ اور قابل اعتماد خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات مفت فراہم کر رہے ہیں۔ ہمارے تربیت یافتہ مرد اور خواتین متحرک افراد گھر گھر جا کر خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں بیداری پیدا کر رہے ہیں۔ موبائل ہیلتھ یونٹس پنجاب کے دور دراز علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ PWD کو بااختیار بنانے کے لیے مانع حمل لاجسٹک مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کیا گیا ہے اس کے علاوہ نچلی سطح سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے PITB کا تعاون حاصل کیا گیا۔ ان تمام کوششوں کے لیے شہریوں کے تعاون کی ضرورت ہے تاکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع انداز اپنایا جا سکے۔ آبادی کی روک تھام کے سلسلہ میں ہم تمام پاکستانیوں کواس آگاہی مہم کے مشعل بردار بننے کا عزم اور اپنے خوشحال مستقبل کے حوالے سے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کو اجاگرکرنا ہو گا۔ ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئر سمن رائے نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں تقریباً ہر خاندان میں مرد فیصلہ ساز ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی پیدائش، جگہ اور تعداد کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ اس لیے پیغام پہنچانے کے لیے مرد اراکین کو بھی برابر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.

    ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    خواتین وارڈنز کئی شعبوں میں مرد وارڈنز سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں،سی ٹی او لاہور

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

  • خواتین صحافیوں کے لئے حجامہ طریقہ علاج پرخصوصی لیکچر، علاج میں 50 فیصد رعایت کا اعلان

    خواتین صحافیوں کے لئے حجامہ طریقہ علاج پرخصوصی لیکچر، علاج میں 50 فیصد رعایت کا اعلان

    ؒٓلاہور پریس کلب اور نورالفلاح فاﺅنڈیشن کے اشتراک سے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں خواتین صحافیوں کیلئے حجامہ طریقہ علاج سے آگاہی بارے خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا گیا ۔

    نور الفلاح فاﺅنڈیشن کی سی ای او بشریٰ اظہر نے حجامہ طریقہ علاج کے بارے میں لیکچردیتے ہوئے بتایا کہ حجامہ سنت نبوی ہے جس میں ہر طرح کی بیماری سے شفاءموجود ہے، اس وقت پوری دنیا میں حجامہ کے ذریعے علاج کیا جا رہا ہے جس میں اسے قوی علاج کا درجہ حاصل ہے جبکہ اس قدیم یونانی طریقہ علاج کو امریکہ سمیت دنیا بھر میں نہ صرف پڑھایا جا رہا ہے بلکہ سکھایا بھی جا رہا ہے۔ بشریٰ اظہر نے مزیدبتایاکہ حجامہ ڈپریشن سمیت ہر بیماری کا علاج ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ معالج مریض کی بیماری سے متعلق مکمل طور پر آگاہ ہو اور اس کیلئے کلینکل ٹیسٹ بھی اسی قدر ضروری ہے جس طرح میڈیکل میں، حجامہ ہرگز بھی تکلیف دہ نہیں، اس کے بے شمار فوائد ہیں۔

    انھوں نے لاہورپریس کلب کے ممبران اور ان کے اہلخانہ کو حجامہ علاج میں 50 فیصد رعایت دینے کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ صحافی معاشرے کا اہم جز ہیں ان کی خدمت کرکے ہمیں خوشی ہوگی ۔اس موقع پر سیکرٹری لاہور پریس کلب زاہد عابد نے حجامہ میڈیکل کیمپ قائم کرنے اور لاہورپریس کلب کے ممبران کو حجامہ علاج میں 50 فیصد رعایت دینے پر نورالفلاح فاﺅنڈیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ کلب کی ممبران خواتین کیلئے اس قسم کے کیمپس بہت فائدہ مند ہیں اور دنیا بھر میں حجامہ کو پذیرائی مل رہی ہے ۔آگاہی لیکچر کے اختتام پر بشریٰ اظہر نے حجامہ کا عملی مظاہرہ بھی کیا ۔

    حجامہ آگاہی لیکچر میں ممبر گورننگ بادی فاطمہ مختار بھٹی، سینئر صحافی سعدیہ صلاح الدین، فرزانہ چوہدری، عطیہ زیدی، عفت علوی، فوزیہ غنی، فوزیہ سلطانہ، مصباح چوہدری، غلام زہرہ، فریحہ شہزاد، ناجیہ آصف اور ثنا اسلم سمیت دیگر نے شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی کے فرائض سینئر صحافی تمثیلہ چشتی نے ادا کئے۔ سیکرٹری لاہور پریس زاہد عابد نے معزز مہمان کو کلب کی جانب سے گلدستہ پیش کیا

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

    ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    خواتین وارڈنز کئی شعبوں میں مرد وارڈنز سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں،سی ٹی او لاہور

  • ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے
    پاکستان کی بہادر خواتین کو آج خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، ایسے میں‌ ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم کررہی ہیں، ایف سی بیٹل اسکول میں یہ بہادر بلوچ بہنیں، بہترین ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں تاکہ دشمنوں کوزوردار جواب دیا جا سکے،روزانہ کی بنیاد پر ان خواتین سولجرز کو فٹنس کے لیے سخت سے سخت ٹریننگ کروائی جاتی ہے جو ان کی پیشہ ورانہ تربیت کا ایک اہم حصہ ہے، کھیل کا میدان ہویاجنگ کامیدان، بلوچ قوم کی ان بہادر بیٹیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے ملک پر آنچ نہیں آنے دیں گی،یہ پاکستان کی بیٹیاں اپنے بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاتے ہوئے ملک کی حفاظت میں ساتھ ساتھ ہیں۔ پاکستان کی ان بیٹیوں کی ہمت ،بہادری اورہماری بلوچ بہنوں کا جذبہ دیکھ کر یقیناً ہم سب کے سر فخر سے بلند ہو گئے ہیں

    پاکستانی خواتین دفاع وطن کے لئے مردوں کے شانہ بشانہ شاندار خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ خواتین نہ صرف مختلف شعبوں میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں بلکہ وہ قیادت اور فیصلہ سازی میں بھی برابر کی شریک ہیں،پاکستان آرمی میں پہلے خواتین صرف طِب کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ آج خواتین کور آف سگنلز، الیکٹریکل اینڈ مکینکل انجیئرنگ، آرڈیننس، آرمی سروسزکور،میڈیکل کور، ایجوکیشن برانچ، ایڈمن اینڈ سروسز، پبلک ریلیشنز، لابرانچز کے علاوہ بحریہ اور پاک فضائیہ کے مختلف شعبوں بشمول جی ڈی پائلٹ کے اپنی کارکردگی کے جوہر دکھا رہی ہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر اس کی ایک زندہ مثال ہیں جو اسلامی دُنیا کی پہلی خاتون سرجن جنرل بنیں۔ میجر سلمیٰ ممتاز کو 1971  کی جنگ میں خدمات کے جذبے پر فلورنس نائٹ اینگل کے اعزاز سے نوازا گیا۔

    فلائیٹ لیفٹینٹ عائشہ فاروق پہلی پاکستانی خاتون فائٹر پائلٹ تھیں۔ فلائینگ آفیسر مریم مختیار شہید کو فرض شناسی کے اعزاز میں تمغہ بسالت کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس وقت پاکستانی خواتین اقوامِ متحدہ چھتری تلے امن مشن کا حصہ ہیں۔

    عالمی امن کے لئے شاندار خدمات پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستانی Women Peace Keepersکی خدمات کو انتہائی متاثر کُن اور قابلِ تقلید قرار دیا۔ 2020ء میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستانی خواتین کے15رکنی امن دستے کو بہترین کارکردگی پر تمغوں سے نوازا۔

    اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ آف پولیس، سیدہ شہر بانو نقوی نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، فروری2024 کو لاہور کے اچھرہ بازار کے مشتعل ہجوم سے ایک خاتون کو بحفاظت نکالا۔

    پاکستانی خواتین نے قوم کی عزت اور وقار میں اضافے کے لیے بے پناہ خدمات سر انجام دی ہیں۔ یونیفارم میں خواتین نے اپنی صلاحیتیں منوائی ہیں، یونیفارم میں خواتین نے قوم اور انسانیت کی بڑی خدمت کی ہے

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

  • خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے خواتین کے عالمی دن پر خصوصی پیغام جاری کیا ہے

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خواتین کا عالمی دن ہر شعبے میں خواتین کی کامیابیوں کے اعتراف کا دن ہے، معاشرے کی ترقی خواتین کے تعمیری کردار کے بغیر ممکن نہ تھی، خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے خواتین کو بااختیار بنانے اور منصفانہ حقوق کے لیے مزید کام کرنا ہے

    وزیر اعظم شہباز شریف نے یقین دہانی کروائی کہ حکومت خواتین کو تعلیم و ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرتی رہے گی۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے جس کا مقصد خواتین کی سماجی اقتصادی ثقافتی اور سیاسی کامیابیوں کو اجاگر کرنا ہے،اس سال دن کا موضوع ہے ”ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لئے خواتین کی شمولیت”اس دن کے حوالے سے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جارہا ہے

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    قبل ازیں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی،قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن حنا پرویز بٹ نے جمع کروائی، قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان خواتین کے عالمی دن پر تمام شعبوں میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کرتا ہے، پاکستان کی بہادر خواتین نے سیاست، دفاع، سول سروس، صحافت، طب سمیت دیگر شعبوں میں خدمات سرانجام دی ہیں،یہ ایوان جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والے خواتین بیگم کلثوم نواز،بے نظیر بھٹو، بیگم نسیم ولی،مریم نواز کو خراج تحسین پیش کرتا ہے، تمام خواتین اس عزم کا ادا کرتی ہیں کہ ملکی ترقی اور خوشحالی میں اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائیں گی، خواتین ہر شعبے میں اپنا لوہا منوائیں گی

  • خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    قومی ادارہ براے وقار نسواں ( این سی ایس ڈبلیو) اور پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) نے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے نیشنل لائبریری میں قومی خواتین کانفرنس کا اہتمام کیا۔

    تقریب سے خطاب میں پی پی اے ایف کے سربراہ نادر گل بڑیچ نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ خواتین کی ترقی کا اثر انفرادی نہیں اجتماعی ہوتا ہے، ایک خاتون کا ترقی یافتہ ہونا خاندان اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ خواتین کو مالی وسائل تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے، اثاثوں اور بلاسود قرضوں کی فراہمی اور تکنیکی اور مالیاتی تربیت کے ذریعے، PPAF غربت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات کا حصول پائیدار ترقی کے دیگر تمام اہداف سے جڑا ہوا ہے، جیسے کہ گڈ گورننس، انسانی حقوق، ماحولیاتی پائیداری، غربت میں کمی، سبز ماحول اور پرامن معاشروں کی تشکیل۔ فیصلہ سازی کے حلقوں میں خواتین کی ترقی کے سفر کی رکاوٹوں کو ہمیں دور کرنا ہے۔ آج کی تقریب میں قومی ترقی میں خواتین کے کردار کو اجاگر کیے جانے کے لیے مختلف کالجز کی بچیاں مستحکم خواتین کے عالمی یوم خواتین کی تھیم کے مطابق مقابلوں کا حصہ بن رہی ہیں، ہمارا آج یہاں اکٹھے ہونا ہماری خواتین پر ہمارے بھروسے اور ان کی صلاحیتوں اور برابری کی سطح پر حقوق کی فراہمی پر ہمارے بھروسے کا عکاس ہے۔ آج حکومتی نمائندگان، بین الاقوامی معززین، ترقیاتی شعبے، سول سوسائٹی کی تنظیموں، نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کی ممتاز شخصیات اس ایک چھت تلے ایک مشن اور روشن کل کی سوچ کے ساتھ موجود ہیں، ہمیں یقین ہے خواتین کی شمولیت کے بنا پاکستان کو درپیش معاشی، معاشرتی اور دیگر اہم چیلنجز پر گرفت پانا ممکن نہیں۔ مختلف شعبہ ہاے زندگی میں نمایاں قردار ادا کرنے والی خواتین کو ایوارڈز دیے جانے کا مقصد ملک کی دیگر با ہمت اور با صلاحیت خواتین کو محنت کی جانب راغب کرنے کی ایک کوشش اور ان خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کے اعتراف میں حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس کانفرنس میں قومی بیانیے ‘پیغام پاکستان’ اور ‘دختران پاکستان’ پر بھی روشنی ڈالی گئی، جو اتحاد، امن، سماجی ہم آہنگی اور خواتین کو اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کے اقدامات کو فروغ دیتے ہیں۔

    تقریب کی مہمان خصوصی چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو نیلوفر بختیار نے خطاب میں کہا کہ اس تقریب کا مقصد خوشحال اور روشن پاکستان کی جانب بڑھنے کے لیے خواتین کے نمایاں قردار کی اہمیت کو عیاں کرنا ہے۔ خواتین کو تعلیم صحت روزگار کے برابری کی سطح پر مواقع فراہم کیے بنا ترقی کے سفر میں کامیابی سے ہمکنار ہونا ممکن نہیں۔ ہمیں پاکستان کی خواتین کو با اختیار بنانا ہے اس کے لیے انکی صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا۔ ہمیں نئی نسل کو اپنے عزائم کو بنا کسی خوف سے آگے بڑھانے اور پاکستان کے معاشی اور سماجی تانے بانے میں اپنا حصہ ڈالنے کی ترغیب دینے کے لیے باصلاحیت اور با ہمت بنانا ہے۔ ہم آج یہاں موجود ہیں یہ ایک ایسے مستقبل کی نوید ہے کہ جہاں خواتین نہ صرف موجود ہیں بلکہ قومی ترقی اور خوشحالی کی داستان میں رہنما ہیں۔

    تقریب سے سابقہ انسپکٹر جزل پولیس حیلینہ اقبال سعید، ڈاکٹر امینہ حسن، ڈاکٹر صائمہ افضال اور ڈاکٹر بختاور خالد نے اپنے خطاب میں مختلف شعبوں میں چیلنجز پر کامیابی سے قابو پانے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی خواتین کے ہمراہ خطاب میں اپنی کامیابی کے سفر کی داستان گوئی کی اور شرکا جس میں جڑواں شہروں کے کالجز کی طالبات اور خواتین کی اکثریت موجود تھی انہیں ذاتی، خاندان اور معاشرے کے روشن مستقبل کے لیے اپنی کاوشوں کو مسلسل نکھارتے رہنے اور سفر کی مشکلات سے نہ گھبرانے کے رہنما اصولوں کو اپناے رکھنے کی ترغیب دی۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے کالجز کی طالبات کو خواتین کو بااختیار بنائے جانے کے موضوع پر فنی مقابلوں کا حصہ بننے اور پہلی، دوسری، تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر انعامات سے نوازا گیا۔

  • عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    لاہور ہائیکورٹ نے عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج کر دی،

    عدالت نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا،گزشتہ روز عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،درخواست گزار کی جانب سے رانا سکندر ایڈووکیٹ پیش ہوئے تھے،درخواست میں پنجاب حکومت ، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا،جسٹس شاہد کریم نے شہری اعظم علی بٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری کیا،

    درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ عورت مارچ کے کارڈز اور بینرز اسلامی معاشرے کے لئے کسی صورت قابل قبول نہیں، خدشہ ہے کہ ایک اور عورت مارچ سے نقصِ امن کا ویسا ہی خطرہ پیدا ہوگا جیسا ماضی میں ہوتا رہا ہے، اگر کسی کو بنیادی حقوق نہیں مل رہے تو وہ عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین لاہور سمیت کئی شہروں میں‌عورت مارچ کے نام سے تقریب کا انعقاد کرتی ہیں، گزشتہ برس بھی عورت مارچ کو رکوانے کےلئے درخواست دائر کی گئی تھی تا ہم عدالت نے مشروط اجازت دی تھی

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں