فتح پور گاوں میں عورت زاہدہ بی بی نے گھریلو حالات سے دلبرداشتہ ہوکر گلے میں پھندا ڈال کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ گزشتہ روز ایک عورت نے خودکشی کی تھی۔
Tag: عورت
اوکاڑہ صدرگوگیرہ میں ایک عورت کو قتل کردیا گیا
اوکاڑہ (علی حسین مرزا)اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 03 جیڈی میں اغواء کی کوشش کے دوران مزاحمت کرنے پر 03 سالہ عورت کو قتل کردیا گیا ۔ واقعات کے مطابق زہرہ بی بی اپنے گھر میں موجود تھی ، اس دوران شفقت اور چار دیگر افراد گھر میں داخل ہو گئے اور عورت کو اغواء کرنیکی کوشش کی لیکن مزاحمت پر اُسے کلہاڑیاں مار کر قتل کردیا اور فرار ہو گئے ۔ مقتولہ کو قبل ازیں بھی شفقت نے اغواء کیا تھا جس کی ایف آئی آر درج ہوئی تاہم پنچائیت کے ذریعے مغویہ کی بازیابی ہو گئی ۔ پولیس تھانہ صدر گوگیرہ نے لاش قبضہ میں لیکر مقتولہ کے خاوند محمد علی کی مدعیت میں متذکرہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے ۔

اوکاڑہ میں عورت نے خودکشی کرلی
ضلع اوکاڑہ (علی حسین) 31 فورایل میں صفیہ نامی خاتون نے خودکشی کرلی۔ گھریلو حالات سے دلبرداشتہ تھی۔ زہریلی گولیاں کھاکر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

منشیات فروش عورت 3 کلو چرس سمیت گرفتار
قصور
منشیات فروشوں کے گرد گھیرا تنگ
عورتوں کا منشیات فروش گینگ رنگے ہاتھوں گرفتار
تفصیلات کے مطابق ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت کی منشیات فروشوں کے خلاف مہم پر ایکشن لیتے ہوئے
ایس ایچ او تھانہ الہ آباد انسپکٹر محمد رمضان ڈوگر اور فیاض احمد SI چوکی انچارج تلونڈی نے اپنی کے ہمراہ بدنام زمانہ منشیات فروش نازیہ بی بی عرف نذراں بی بی سکنہ بگھیانہ خورد سے ساڑھے تین کلو چرس برآمد کر کے اس کے خلاف مقدمہ نمبر 837/19 بجرم 9C/CNSA تھانہ الہ آباد میں درج کر لیا
موٹر سائیکل سوار عورت جانبحق
قصور
چونیاں میں میر کوٹ کے قریب موٹرسائیکل میں دوپٹہ پھنسنے سے موٹرسائیکل سوار جواں سالہ لڑکی جاں بحوق ہو گئ
تفصیلات کے مطابق سترہ سالہ موبینہ شریف اپنے بھائی محمد ندیم کے ساتھ موٹرسائیکل پر جا رہی تھی کہ جب وہ میر کوٹ کے قریب پہنچی تو اسکا ڈوپٹہ موٹرسائیکل کے پہیے آ گیا ڈوپٹہ پھنسنے سے وہ موٹرسائیکل سے گر گئی اور پیچھے آنیوالے نامعلوم تیز رفتار رکشہ کی زد میں آکر کچلی گئی جسے فوری طور پر قریبہ ہسپتال پہنچایا گیا مگر زخموں کی جانبر نا ہوسکی اور دم توڑ گئی
جبکہ نا معلوم رکشہ ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا
پولیس تھانہ چونیاں سٹی نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور مصروف کاروائی ہے
عورت، معاشرے کی اہم اکائی ۔۔۔ اشفاق طاہر
آج کل ’حقوقِ نسواں‘ کے تحفظ کے دعویدار گمراہ کن پروپیگنڈہ کرتے ہوئے یہ دعوت دے رہے ہیں کہ عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ چلنا چاہیے اور کسی بھی میدان میں انھیں مردوں سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ حالانکہ یہ دعوت عورتوں کو بربادی کی طرف دھکیلنے کے برابر ہے،کیونکہ اس کے پیچھے دعویداروں کا مقصد عورتوں کی ترقی نہیں بلکہ ان کا اصل مقصد شرم وحیا کا خون کرنا ہے۔ تاکہ جو شخص جب چاہے، جہاں چاہے اور جسے چاہے اپنے دامِ فریب میں گرفتار کر کے اس کی عزت کو تار تار کر دے۔ جیسا کہ آج کل بصد افسوس ہو رہا ہے !
ہماری بہنوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو مردوں کے لئے سب سے خطرناک فتنہ قرار دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:
’’ جب کوئی مردکسی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔‘‘
بنا بریں! عورتوں کا مردوں سے اختلاط مرد و زن دونوں کے لئے باعثِ فتنہ ہے اور اس سے دونوں کا دین وایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے تمام دروازوں کو بند کر دیا ہے جو مردو زن کے اختلاط کی طرف لے جاتے ہیں۔مثلاً :
1۔ عورت کو اللہ تعالیٰ نے غیر محرم مرد کے ساتھ پست اور نرم آواز میں بات کرنے سے منع فرما دیا ہے تاکہ کوئی مریض دل والا اس کے متعلق شک و شبہ کا اظہار نہ کرے۔ ( سورۃ الأحزاب :آیت 32)
لہذا جب نرم لب و لہجے میں بات تک کرنے کی اجازت نہیں ہے تو مردو زن کے اختلاط کو کیسے درست قرار دیا جا سکتا ہے ؟
2۔ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں کو اجنبی عورتوں سے اپنی نظروں کو جھکانے کا اور اسی طرح مومنہ عورتوں کو بھی اجنبی مردوں سے اپنی نظروں کو جھکانے کا حکم دیا ہے۔ ( سورۃ النور : آیات 30، 31)
اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر محرم عورتوں کو دیکھنا آنکھوں کا زنا قرار دیا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
’’ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے۔اور زبان کا زنا بات چیت کرنا ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چلنا ہے۔‘‘ [ متفق علیہ ]
لہذا جب غیر محرم مرد و عورت کا ایک دوسرے کو دیکھنا حرام ہے تو ان کی آپس میں میل ملاقات اور گھومنا پھرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے ؟
3۔ جو خواتین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرتیں اور وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹنے لگتیں تو انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیا کرتے تھے کہ :
اِسْتَأْخِرْنَ فَإِنَّہُ لَیْسَ لَکُنَّ أَنْ تُحَقِّقْنَ الطَّرِیْقَ ( وَسَطَہَا )، عَلَیْکُنَّ بِحَافَاتِ الطَّرِیْقِ،فَکَانَتِ الْمَرْأَۃُ تَلْصَقُ بِالْجِدَارِ حَتّٰی إِنَّ ثَوْبَہَا لَیَتَعَلَّقُ بِالْجِدَارِ مِنْ لُصُوْقِہَا
’’ تم پیچھے ہٹ جاؤ، کیونکہ تمھارے لئے جائز نہیں کہ تم راستے کے عین درمیان میں چلو، تم پر لازم ہے کہ تم راستے کے کناروں پر چلو۔اس پر وہ خواتین دیوار کے ساتھ چمٹ کر چلتی تھیں حتیٰ کہ ان کی چادریں ( جن سے انھوں نے پردہ کیا ہوتا ) دیواروں سے اٹک جاتی تھیں۔‘‘ [ ابو داؤد:5272 وصححہ الشیخ الألبانی فی الصحیحۃ : 856 ]
تو آپ اندازہ فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز کی ادائیگی کے بعد گھروں کو واپس لوٹنے والی عورتوں کو مردوں کے راستے سے دور رہنے کی تلقین فرمائی تو عام طور پر مردو عورت کا اختلاط کیسے درست ہوسکتا ہے؟
4۔ حضرت عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ تم ( غیر محرم ) عورتوں کے پاس جانے سے پرہیز کرو۔تو ایک انصاری نے کہا : اے اللہ کے رسولؐ ! آپؐ اَلْحَمْو (یعنی خاوند کے بھائی ’دیور‘ ) کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’دیور‘ موت ہے۔ ‘‘ [ بخاری : النکاح باب لا یخلون رجل بامرأۃ، 5232، مسلم :الأدب، 2083]
اس حدیث میں ذرا غور کریں کہ جب دیور ( خاوند کا بھائی ) اپنی بھابھی کے لئے موت ہے تو عام مرد و عورت کا آپس میں اختلاط کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
5۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ إِلاَّ وَمَعَہَا ذُوْ مَحْرَمٍ، وَلاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَۃُ إِلاَّ مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ
’’ کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ ہرگز خلوت میں نہ جائے، ہاں اگر اس کے ساتھ کوئی محرم ہو تو ٹھیک ہے۔اور اسی طرح کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسولؐ ! میری بیوی حج کے لئے روانہ ہو گئی ہے اور میرا نام فلاں فلاں غزوہ کے لئے لکھ لیا گیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ، اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔
[ بخاری: الحج، باب حج النساء،2826، مسلم : الحج، 1341 ]
مذکورہ بالا دلائل اس بات کے ثبوت کے لئے کافی ہیں کہ مردو زن کا اختلاط قطعاً جائز نہیں ہے۔ لہذا مسلمان خواتین کو مغرب زدہ لوگوں کے فریب میں نہیں آنا چاہیے اور قرآن و حدیث کے ان واضح دلائل کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دینا چاہیے۔

عورت، اسلام کے سایہ عافیت میں ۔۔۔ محمد طاہر
ظہور اسلام سے قبل مختلف معاشروں اور اقوام کی تاریخ ہمارے سامنے ہے جہاں انسانی اقدار کی پامالی عام سی بات بن کر رہ گئی تهی خاص طور پر عورت کو تو انتہائی مظلومیت اور بے بسی کی تصویر بنا دیا گیا تها۔ بیٹی کے وجود کو تضحیک کا نشان سمجها جاتا تها۔ عورت کی ذات ذلت، حقارت اور تجارت تینوں منڈیوں کے لیے فراواں تهی۔ وہ تباہی وبربادی کا باعث اور نحوست کی علامت قرار دی جا چکی تهی۔
دنیا میں کوئی ایسانہ تها جو عورت کے حق میں آواز بلند کرتا اور نہ کوئی ایسی قوم تهی جو عورت کی حمایت میں آواز اٹھاتی، بلکہ ان معاشروں کا تو عالم یہ تهاکہ قبائل کے روح رواں اور مصلحین کے ساتھ ساتھ اقوام خود بهی عورت کی اہانت و تضحیک پر کمر بستہ نظر آتے تهے۔
کسی کے ہاں لڑکی کی پیدائش ہوجاتی تو اس لڑکی کا والد اس کو اپنے ساتھ لے جا کر اپنے ہاتهوں سے گڑھا کھود کر اپنی بچی کو اس میں زندہ دفن کر دیتا لیکن یہ صرف ماضی کی بات نہیں آج بھی بعض گھرانے ایسے ہیں جہاں دورِ جہالت کی طرح اب بهی ایک معصوم جان کا قتل کردیا جاتا ہے یا اس کو کچرا دان یا دریا میں پھینک دیا جاتا ہے۔
اسلام ہمیں صرف مرد ہی نہیں بلکہ عورت کے بارے میں بهی بتاتا ہے۔ مر کی طرح عورت کے لیے بھی حقوق کا تعین کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے ایک عالمگیر ضابطہ حیات واخلاق اور دین رحمت کو نازل کیا جس کی تعلیمات کا محور صرف مرد کی ذات نہ تھی بلکہ عورت بهی اسی طرح قابل التفات تهی جس طرح مرد تھا۔ اس احترام نے عورت کو قعر ذلت سے نکال کر عزت و احترام کے بلند مقام پر فائز کیا اس نے مغرب کی طرح عورت کو آزادی دے کر نہ اسے شتر بے مہار چھوڑا، نہ دیگر معاشروں کی طرح اس پر پابندیوں اور سختیوں کے قفل لگائے ہیں، بلکہ اعتدال اور میانہ روی میں رہتے ہوئےاس کے دائرہ کار کی وضاحت کی ہے۔
نبی رحمت جناب محمد ﷺ نے عورت کی مختلف پہلوؤں سے عزت و حیثیت کو اجاگر کیا۔ وہ ماں ہے تو اس کے حقوق کو باپ کی نسبت تین گنا بڑها کر بیان کیا۔ ماں کی خدمت گزاری اور اطاعت کے عوض جنت کا مژدہ سنایا۔ بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دیا، بلکہ جو شخص اسلامی تعلیمات کے مطابق بیٹی کی پرورش اور تربیت کرے اس کو قیامت کے دن اپنی معیت اور جنت میں داخلے کی بشارت دی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی ، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا ۔ (صحیح المسلم 6695)
میاں اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا اور ان دونوں کے تعلق میں پیار و محبت اور الفت و مودت کو خاص اہمیت دی۔بیوی اپنے شوہر کی محکوم اور غلام نہیں بلکہ رفیق حیات ہے اور خانگی زندگی کو باہم مشورے اور اتفاق رائے سے چلانے کی تائید کی۔ تاریخ اسلام اس بات کی شاہد ہے کہ قرونِ اولٰی کی نامور اور بلند کردار مسلمان جواتین نے صالح معاشرے کی تشکیل اور معاشرتی اقدار کے فروغ کے لیے قابل ذکر خدمات سرانجام دی ہیں۔ سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا تربیت اولاد کے لیے اور حالات سے مایوس اور بھٹکی ہوئی خواتین کے لئے روشنی کا مینار ہیں۔ سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کا کسمپرسی
اور فقرو فاقہ کے ایام میں اولاد کی پرورش اور کردار سازی کرنا ایک بہترین نمونہ ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا احکام و مسائل اور دینی و علمی راہنمائی کے لیے ایک دانش گاہ اور مرکز علم و عرفان کی حیثیت رکهتی ہیں۔ ام الشہداءسیدہ خنسا رضی اللہ عنہا کی کوکھ سے جنم لینے والے نامور اور دلاور بیٹوں نے شجاعت و بسالت کی زریں داستان رقم کی ہے۔ سیدہ خولہ ازور رضی اللہ عنہا میدان کارزار میں سر پر عمامہ باندھے بہادری کے جوہر دکها کر مردانِ کارزار کو شرمندہ کر دیتی ہیں۔
تاریخ اسلام ایسے سنہرے واقعات اور زریں داستانوں سے بھری پڑی ہے جو قیامت تک آنے والی خواتین کے لیے نشان راہ بن کر قوموں کے عروج اور تعمیر و ترقی کے لیے سمت اور راستے کا تعین کرتی ہیں۔۔۔۔۔
آج کے اس دور میں ہماری ماؤں بہنوں کو چاہیے وہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات اور سیرت صحابیات اور ان کی سیرت کا مطالعہ کریں اور اس پر عمل کریں نہ کہ مغرب کی اندھی تہذیب کی طرف جائیں۔
بقول اقبال
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف
عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ
کسی بھی معاشرے اور ثقافت کی خوبصورتی اور پائیداری اس کی روایات ہوتی ہیں جبکہ ان روایات سے انحراف نہ صرف معاشرے کی بربادی کا باعث بنتا ہے جبکہ اس معاشرے میں بسنے والے انسانوں پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے جس کی وجہ سے انفرادی زندگیوں سے لے کر خاندانی اور اجتماعی نظام زندگی تک تباہ ہوکر رہ جاتے ہیں.
ایک اسلامی معاشرے کی یہ احسن ترین روایت اور ثقافت ہے کہ اسلامی معاشرہ مرد سے زیادہ عورت کو تحفظ دیتا ہے کیونکہ عورت جسمانی اور عقلی طور پر مرد سے قدرے ناقص ہوتی ہے. یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اور سوسائٹی عورت کی اس کمزوری کو دیکھتے ہوئے اس کو ہر ممکنہ تحفظ دیتے ہیں اور یہ تحفظ عورت کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اسلامی معاشرے کا اہم ترین فرد اور حصہ عورت ہے.
عورت کی اسی اہمیت کے پیش نظر اسلام بطور مذہب اور اسلامی معاشرہ اس پر نہایت اہم ذمہ داری ڈالتے ہیں اور وہ ہے نسل نو کی تربیت اور یہ بات نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ نسل انسانی کے مستقبل کا دارومدار عورت کے اپنے کردار و افکار پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نپولین بونا پارٹ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا”.اس نہایت اہم اور مشکل ذمہ داری کے باعث ایک اسلامی معاشرہ عورت کے لیے یہ آسانی پیدا کرتا ہے کہ اس کو دنیاوی امور مثلاً تجاورت و کاروبار، محنت و مزدوری وغیرہ سے استثنیٰ دیتا ہے مزید اس کو تحفظ دیتے ہوئے اس کے اور اسکے بچوں کے نان و نفقہ کا ذمہ دار مرد کو ٹھہراتا ہے.
ان سب کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرہ عورت کو کمال تحفظ دینے کے لیے اس کو پردے اور چار دیواری میں ٹھہرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ کسی کی گندی نگاہوں کا مرکز بن کر کہیں اس کی عزت و حرمت کو تار تار نہ کیا جائے. اسلامی معاشرہ قطعاً بھی عورت پر پابندیاں نہیں لگاتا بلکہ اس کو کھلا اختیار دیتا ہے کہ وہ سجے سنورے، وہ کھیلے کودے مگر اپنے مرد کے لیے اور اسی کے سامنے ناکہ اغیار کی شمع محفل بنے. یہ فطرتی عمل ہے کہ عورت صرف اپنے ہی مرد کے لیے سجے سنورے اسی کے ساتھ کھیلے اور اٹھکلیاں کرے. اس کی مثال ہمیں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کے کردار میں واضح طور پر ملتی ہے کہ وہ کھیلتے بھی تھے، دوڑ بھی لگاتے تھے، مقابلے بھی کرتے تھے.

یہ وہ کمال کا تحفظ اور توجہ ہے جو اسلامی معاشرہ ہی ایک عورت کو فراہم کرتا ہے اور یہ صرف ایک اسلامی معاشرے کا ہی حسن ہے جو کہیں اور نظر نہیں آتا. دنیا بھر کے معاشرے وہ چاہے مذہبی ہوں یا سیکولر، وہ متشدد ہوں یا لادین سبھی معاشرے عورت کے استحصال میں مصروف ہیں اور عورت کو اس کی حقیقی اور فطرتی ذمہ داری سے ہٹا کر اس کو ایک شو پیس، جنسی تسکین کا ذریعہ، چیزوں کی خرید و فروخت کا ذریعہ، ایک اشتہار اور رونق محفل بنائے ہوئے اور اس رویہ نے معاشروں سے اخلاقی اقدار کو تہس نہس کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں بہن، بیوی اور بیٹی کا فرق مٹ چکا ہے وہاں عورت بس عورت ہے جو مرد کی جنسی ضرویات پوری کرنے کی پراڈکٹ ہے اور اس وجہ سے ان معاشروں میں جہاں اخلاقی اقدار رخصت ہوئیں وہاں سکون قلب، ذہنی تسکین اور مذہب تک تباہ و برباد ہوکر رہ گئے.
بعینہ ہمارے معاشرے میں بھی کچھ جنسی گدھ عورت کو چادر اور چار دیواری کے تحفظ سے نکال کر آزادی کے نام ان کو ایک اندھے غار میں دھکیلنا چاہتے ہیں جہاں عورت کے لیے بربادی تو ہے، تذلیل تو ہے، عفت و عصمت کا تار تار تو ہونا ہے لیکن عزت نہیں ہے، حرمت نہیں ہے، احترام نہیں ہے.
یہی عورت جب ان جنسی گدھوں کے دلفریب نعروں اور نظریات سے متاثر ہوکر اپنی اسلامی روایات اور اپنے آپ کو ملنے والی خصوصی توجہ اور تحفظ کو ٹھکرا کر چادر اور چار دیواری کو بوجھ سمجھتے ہوئے گھر سے قدم نکالتی ہے تو معاشرے کی تباہی اور بے سکونی کا باعث بنتی ہے. آئے روز ملنے والی خبریں کہ جن میں عورتوں کے ساتھ زیادتی و ظلم کے کیس سامنے آتے ہیں وہ انہی دلفریب نعروں پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے.
لہذا اگر عورت اپنا تحفظ چاہتی ہے اور جو ذمہ داری اس کو اسلامی معاشرہ تفویظ کرتا ہے اس کو احسن انداز میں پورا کرکے ایک بہترین نسل تیار کرتی ہے تو وہ معاشرے کی بہترین عورت ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے اور خاندانوں کی محسنہ ہوتی ہے.

Muhammad Abdullah 
میری پہچان تم سے ہے ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد
(سال کے مختلف ایام کو مختلف ناموں سے موسوم کر دیا گیا ہے جیسے آج کا دن "فادرز ڈے” کے نام سے معروف ہے۔ اس حوالے سے انتہائی اہم بات کہ بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سال میں صرف ایک دن ہی باپ کے نام نہیں بلکہ ہر دن باپ کا احترام ہونا چاہیے تو اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ میری دانست میں اس دن کو منانے کا ہرگز یہ مقصد نہیں جو بعض لوگوں نے سمجھ لیا ہے۔ یہ تو محض یاد دہانی کے لیے ہے کہ اس دن غور و فکر کریں اور کچھ خاص کریں۔)
(نوٹ: یہ ذاتی رائے کا اظہار ہے اس سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے۔)وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
ابو البشر سے ہی ہوتا ہے یہ جہاں پیدااس کائنات کا نظام امداد باہمی کے اصول پر چل رہا ہے۔ ہر اک شے کسی دوسری چیز پر منحصر ہے اور کسی کو بھی افتراقِ انحصار حاصل نہیں ہے۔ مرد و زن نسلِ انسانی کے ارتقاء کے لیے بنیاد ہیں تو آدم ہی بنی آدم کی ابتدا۔ الغرض انسان کے لیے پدر و مادر دونوں اہم اور ضروری ہیں مگر آج کے دن کی مطابقت سے ہم باپ کے حوالے سے بات کریں گے ۔
بنی نوع انسان کا آغاز وجود آدم سے ہی ہوا جو باپ کی مرکزی حیثیت اور اس کے کردار کو تسلیم کرنے کے لیے کافی ہے۔ باپ اس دنیا میں وہ واحد ہستی ہے جو انسان کی پیدائش سے پہلے بچے کے اس جہان میں آنے کا انتظام و انصرام کرتی ہے اور اسے یہ بھی فکر لاحق ہوتی ہے کہ میرے بعد میرے بچوں کی گزران کس طرح ہو گی۔ اپنا شباب، اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں اپنے اہل خانہ کے لیے صرف کر دینا ایک مرد کا شیوہ ہے۔ زمانے کے کٹھن حالات کا سامنا کرنا اور اہل خانہ کو راحت پہنچانا اس کا طرہ امتیاز ہے۔ باپ کی شفقت اور پیار مثالی ہے۔ یہ باپ ہی تو ہے جس کی تھپکی ایک بچے میں خود اعتمادی پیدا کر دیتی ہے اور زندگی میں آنے والے مشکل مراحل کا سامنا کرنے کی ہمت دیتی ہے۔
باپ کی ان قربانیوں اور اس کردار کے پیش نظر ہی خالق کائنات نے باپ کو ایک اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمایا ہے کہ باپ کی رضامندی میں اپنی رضا اور باپ کی ناراضگی میں اپنی ناراضگی رکھ دی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کو جنت کا دروازہ قرار دیا۔
ہمارے معاشرے میں ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک کسان گرمی کے موسم میں کھیت میں کام کر رہا تھا۔ جب اس کے باپ نے اپنے بیٹے کو پسینے میں شرابور دیکھا تو کہا بیٹا کچھ آرام کر لو۔ تھوڑی دیر میں سایہ ہوتا ہے تو کام پورا کر لینا۔ بیٹے نے باپ کو تسلی دی کہ مجھے گرمی نہیں لگ رہی اور بدستور کام میں جتا رہا۔ باپ کی روح کو سکون نہ ملا تو اس کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے اپنے پوتے کے ساتھ دھوپ میں کھیلنا شروع کر دیا۔ اب بیٹے کو فوراً اپنے بیٹے کی فکر ہوئی اور کہنے لگا ابا جان اس چھوٹے کو سائے میں لے جائیں، دھوپ تیز ہے۔ تب بوڑھے باپ نے کہا واہ اپنے بیٹے کے لیے دھوپ تیز ہے اور میرے بیٹے لے لیے گرمی کی پرواہ ہی نہیں۔
ایک باپ ہی کل کے معمار تعمیر کرتا ہے اور ایسے باغ کی آبیاری کرتا ہے جس کا پھل شاید اسے خود کو میسر نہ آئے مگر وہ پوری تندہی سے اپنے کنبے کی پرورش کرتا ہے اور بغیر کسی صلہ کی خواہش کے اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے۔
آئیے اب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ بچے اپنے والد کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو والدین کا احترام اور ان کی فرمانبرداری نہایت ضروری ہے۔ جان لیں کہ والدین آپ کے خیرخواہ ہیں وہ ہمیشہ آپ کا بھلا ہی چاہیں گے۔ ان کے خواب آپ سے وابستہ ہیں اور وہ آپ کے روشن مستقبل کے لیے آپ سے زیادہ فکر مند ہیں ۔ انھوں نے اس وقت آپ کے مستقبل کے بارے میں سوچنے کا آغاز کیا جب آپ طفلِ ناداں اور نا سمجھ تھے۔
والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور ان کی خواہشات کا احترام کریں۔ والدین سے مل کر خوشی کا اظہار کریں اور مسکرا کر ملیں۔ ان سے اپنے مسائل شئیر کریں، مشکلات میں ان سے رہنمائی لیں اور ان کو اپنا بہترین دوست سمجھیں۔
والدین آپ سے اپنے لیے کچھ نہیں چاہتے وہ آپ سے جو بھی مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ ہی کی ذات کے لیے ہوتا ہے۔ آپ اپنے عمل سے صرف ان کا نام بنا سکتے ہیں اور برا بھی کر سکتے ہیں ۔ آپ کی اچھائی والدین کی نیک نامی اور آپ کی برائی والدین کی بدنامی کا باعث بنتی ہے۔ مگر پھر بھی بہت سے نوجوان اپنے عمل کو اپنی ذاتی زندگی سے تعبیر کرتے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ بات ہے ۔
آج کے دن بالخصوص اور پورا سال بھی ایسے افراد جن کے والدین اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں سوچتے ہیں کہ ان کو والدین سے حسن سلوک کا موقع میسر نہیں آیا اور وہ والدین کی کماحقہ خدمت نہیں کر سکے تو ان کو چاہیے کہ اپنے والد اور والدہ کے قریبی رشتہ داروں، ان کے دوستوں اور ان کے قریب العمر افراد سے حسن سلوک کریں ایسا کرنے پر ان کو والدین سے حسن سلوک جیسا ہی اجر عطا ہو گا اور دل کو راحت بھی ملے گی۔
آج کے دن کا یہی پیغام ہے کہ والدین کی قدر کریں اور ان کا خیال رکھیں اور اگر وہ دنیا میں نہیں رہے تو ان کو دعاؤں میں یاد رکھیں اور ان کے قریبی افراد سے ان جیسا ہی حسن سلوک کریں۔
یو نٹی آف اپوزٹ (جنس مخالف کا اشتراک) ۔۔۔ فرحان شبیر
مسئلہ یہ ہے کہ ہم مردوں نے فطرت کے تقسیم کار یعنی Distribution of work کی بنا پر مرد اور عورت میں پائے جانے طاقت اور قوت کے فرق ، جسمانی و ذہنی ساخت کے فرق کو عورت پر غلبہ اور تسلط کا ہتھیار بنا لیا ہے ۔ وہی جو ہر طاقتور کمزور کے ساتھ کرتا ہے وہی ہم مردوں نے عورت کے ساتھ کیا ۔ لیکن دنیا میں کسی جاندار کے نر نے مادہ کے ساتھ یہ سلوک نہیں رکھا جو نوع انسان میں مرد نے عورت کے ساتھ کیا ۔ بلے اور بلی میں نہ بلا برتر ہے نا گھوڑے اور گھوڑی میں گھوڑی کمتر ۔ کبھی ہم نے سوچا کہ آخر جانوروں میں یہ پھٹیک کیوں نہیں ہے کہ کتیا ، کتے کی محتاج ہو یا بلی ، بلے کے کھانے کے لئیے اچھی اچھی بوٹیاں الگ کر رہی ہے ۔
یہ ہم انسانوں نے عجب تیر مارا ہے اس ساری کائینات کی انواع و اقسام کی حیات میں ۔ ہم نے حیات کے اس سفر میں اپنے ہی ہم سفر کو اپنے قدموں تلے روندھنا شروع کردیا اور یہ بھول گئے کہ فطرت کے اس توازن کو بگاڑنے کا نتیجہ مرد کی پرواز کو بھی متاثر کریگا ۔ آج گھر کی گاڑی چل تو رہی ہے لیکن اک پہیہ گول اور ایک چوکور ۔ ایک محکوم شخصیت کی عورت کیسے زندہ و آزاد مرد کی پرورش کر پائیگی ۔ مرد کے اسی جذبہ تغلب نے مرد اور عورت دونوں کو ہی حاکم اور محکوم کی نفسیات کا اسیر بنا کر ان دونوں کی آپسی زندگی کو ہزار الجھاووں میں گرفتار کر رکھا ہے ۔
ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ مرد اور عورت میں طاقت کا توازن ہو یا عقل اور جذبات کے کم زیاددہ استعمال کا معاملہ ۔ خواتین کا زیادہ بولنا ہو یا مردوں کا دوستوں میں چائے پر دو دو گھنٹے ، بھلے خاموشی میں ہی گزار دینا ۔ یہ مرد اور عورت کے different ہونے ، دو الگ الگ جزبات ، احساسات رکھنے والی ذاتوں اور پرسینیلیٹیز ہونے کو ظاہر کرتا ہے نہ کہ انکی inequality یا عدم برابری کو ۔ اس جسمانی اور جذباتی اختلاف سے کوئی حاکم اور محکوم نہیں بن جاتا ۔ کسی کو برتری اور کمتری کا سرٹیفیکیٹ نہیں مل جاتا ۔
مرد اور عورت میں ان اختلافات کا ذمہ دار فطرت کا وہ تقسیم کار رہا ہے جس کے لحاظ سے مرد کا کردارlunch chaser کا ہوتا تھا اور ہے ۔ یعنی گھر کے معاش کا ، بچوں کے کھانے کا انتظام کرنا ۔ اب چاہے وہ جنگل میں بھالے سے ہرن کا شکار کرنا ہو یا پھر سنگلاخ زمینوں کا سینہ چیر کر خوشہ گندم کو اگانا۔ اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئیے مرد کو جس طرح کی صلاحتیں چاہئیے تھی اس میں انہی صلاحیتوں کا ارتقا ہوتا چلا گیا ۔ جنگل میں خونخوار درندوں کا شکار ہو یا پہاڑ کھود کر فصل اگانا ۔ چوڑا سینہ ، مضبوط کاٹھی ، Tunnel vision کا زیادہ ہونا ، شکار کو تیر اور بھالے سے نشانہ بنانے کے لئیے دماغ میں اسپیشیل (spatial ) کیلکولیشن کا خانہ بڑا ہونا یا مردوں کی دیگر صلاحیتیں اسی لنچ چیسنگ ٹاسک کو پورا کرنے کے لئیے درکار ہوتی تھی ۔
اور فطرت کے اسی تقسیم کار کی رو سے عورت کا کردار Nest defender کا رہا ہے یعنی جس نے اپنے بچوں کی ، غاروں سے لیکر جنگلات میں جھونپڑیوں اور زمینوں پر بنے پکے مکانوں میں رینگنے والے حشرات الارض سے محفوظ رکھنے سے لیکر اپنے بچوں کو طرح طرح کے invaders سے بچانا تھا ۔جہاں عورت نے تنگ و تاریک اندھیرے غاروں میں کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ بیک وقت چار پانچ بچوں پر نظر بھی رکھنی ہوتی تھی ۔ گھر کو سجانا بھی تھا اور بچوں کی رونے کی آواز سے انکی پرابلم بھی سمجھ لینا بھی لازمی ۔یہی وجہ ہے کہ خواتین کا spherical vision زیادہ ہوتا ہے ۔ یعنی خواتین کو ذرا سائیڈ دیکھنے کے لئیے نظر گھمانی نہیں پڑتی ۔ خواتین جذبات کو emotions کو بہت اچھی طرح sense کرتی ہیں ۔ ظاہر ہے ایک دودھ پیتے بچے کو سمجھنے کے لئیے دماغ میں emotional faculty کا بڑا ہونا ضروری ہے ۔
اسی طرح خواتین سرگوشی یا آواز سننے میں مردوں سے آگے ہوتی ہیں لیکن آواز کی سمت یا ڈائریکشن بتانے میں مرد زیادہ بہتر ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے جنگلات میں شکار کرتے ہوئے خود کو بھی جانوروں سے بچانا ہوتا تھا اور اسکے لئیے ایک ایک آہٹ پر کان لگانے ہوتے تھے کہ نہ جانے کس سمت سے کوئی سانپ یا چیتا دبوچ لے ۔ اسکے لئیے فوکس یااٹینشن کا ہونا لازمی ہے زرا سی distraction سے زندگی داو پر لگ سکتی تھی ۔ No wonder کہ ہم مرد گاڑی چلاتے ہوئے فون پر بات کرتے وقت ٹیپ کا والیم بھی کم کرتے ہیں اور سب سے چپ رہنے کی التماس بھی جبکہ ہماری بیگمات اور امائیں کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ ، ڈرامہ سیریل ، فون پر آدھے خاندان کے ساتھ Gossips اور آپکو بھی نمٹا رہی ہوتیں ہیں .خواتین multi tasking میں اسی لئیے مردوں سے بہتر ہوتی ہیں کہ وہ ہزاروں سال سے یہی ملٹی ٹاسکنگ کرتی آرہی ہیں ۔ آج بھی جب گھر میں بچہ روتا ہے ماں کو رونے سے پتہ چل جاتا ہے کہ بچہ بھوکا ہے یا کان میں درد ہے جبکہ مرد حضرات کا ایک ہی جملہ ہوتا ہے ” یار یہ روئے جا رہا ہے چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے ، آخر اسکا مسلہ کیا ہے ، دودھ پی لیا اب سو جا بھائی ۔ وغیرہ وغیرہ ”
خواتین اور مردوں کا مختلف professions کا چننا اور subjects choice میں بھی دونوں کا یہ difference نظر آتا ہے ۔ generally خواتین ڈے کئیر ، پرائمری و سیکینڈری ایجوکیشن ، آرٹس ، ایموشنل انٹیلیجنس ، لینگویجز، لٹریچر، ڈیزائننگ (اور لڑکوں کے شکوں کے مطابق رٹے?) میں بہتر ہوتی ہیں ۔جبکہ مرد عمومی طور پر پیور سائینسز ، گیمز ، گیجٹز، انجینئرنگ، کشتی ، گھڑسواری ، وار فئیر، بلو کالر جابس میں زیادہ رجحان رکھتے ہیں ۔ ( واضح رہے کہ یہ لازم نہیں کہ کوئی خاتون انجینئر نہیں بن سکتی یا مرد میک اپ آرٹسٹ یا ڈے کئیر پر جاب نہیں کر سکتا ۔ لیکن عموما یہ تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہوتی ہے ۔ حتی کہ یورپ اور امریکہ میں بھی ایسا نہیں کہ جتنے مرد انجینئر یا پائلٹ ہیں اتنے ہی خواتین بھی یا ڈے کئیر میں بھی اتنے ہی مرد ہوں جتنی کہ خواتین )
جب تک انسان غاروں ، پہاڑوں اور جنگلات کی زندگی گذارتا رہا تب تک تو غالبا ٹھیک ہی چلا ہوگا لیکن جس دن انسان نے اپنی محنت کا سودا کیا اور دوسرے انسان نے اسکی محنت کا مول لگایا اس دن سے جہاں معاشرے میں دو طبقات ، دو کلاسز نے جنم لے لیا وہیں فیملی یونٹ میں بھی پیسے کمانے والے اور نہ کمانے والے کی بنیاد پر درجہ بندی ، غالب و مغلوب ، برتر و کمتر کی تقسیم در آئی ۔ گو کہ فطرت کا منتہا و مقصود مرد اور عورت دونوں کا اپنی اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرنا اور ایک دوسرے کی کمیوں کو پورا کرتے ہوئے حیات (life) کے اس سفر میں نسل انسانی کو بہتر سے بہتر بناتے چلے جانا ہے ۔ لیکن مرد نے اپنی طاقت اور کمائی کو عورت پر غالب ہونے ، اس پر حکم چلانے اور اپنا مطیع و فرمانبردار بنانے میں استعمال کیا ۔
حقیقت تو یہ کہ کمہار کے ایک ہی چاک سے بنے برتنsize اور shapes میں الگ ہوتے ہیں لیکن انکی مٹی انکا substance ایک ہی ہوتی ہے ۔ کوئی نہیں کہتا کہ گھڑا چونکہ بڑا ہے پانی اسٹور کرتا ہے لہذا اس
کی مٹی برتر ہے اور پیالہ چونکہ چھوٹا ہوتا ہے لہذا اسکی مٹی کمتر ۔ یہ دونوں فطرت کے ایک تقسیم کار کے تحت لازم و ملزوم ہیں ۔ ایک کے بغیر دوسرے کا وجود ادھورا ہی رہتا ہے اور استعمال کرنے والا بھی مشکل میں ۔ اسی طرح مرد ہو یا عورت جب تک ایکدوسرے کے فزیکل ، ایموشنل اور کھوپڑی کے مختلف ہونے کا برابری کی بنیاد پر احترام نہیں کرینگے تب تک غلبہ و تسلط کی یہ جنگ دونوں ذاتوں یعنی مرد اور عورت میں ایک حقیقی پیار ، محبت اور احترام کا تعلق پیدا کرنے میں رکاوٹ ڈالتی رہیگی ۔ہم مردوں کو بھی چاہئیے کہ پہلے خواتین کو ایک ذات، ایک شخصیت ، ایک پرسینیلیٹی ، ایک آزاد شعور تو سمجھیں ۔ عورت کی جس نرم و نازک جسمانی ساخت کو ہم نے اسکی کمزوری سمجھ رکھا ہے وہ رحم مادر میں جنین سے لیکر ایک بچہ کی پرورش کے لئیے لازمی درکار تھی جیسے ہم مردوں کا سخت جان ہونا ہماری کوئی فضیلت نہیں ہمارے آبا و اجداد نے جس کام کا ذمہ اپنے سر لیا یعنی lunch chasing کا ، یہ اسی کا نتیجہ ہے ۔ غلبہ اور تسلط کی اس جنگ میں کبھی ہم نے سوچا ایک قوت فیصلہ سے محروم ، زمانے کے سرد و گرم سے ناآشنا ، کچلی ہوئی ، پسی ہوئی ، کبھی باپ ، تو کبھی بھائی اور پھر شوہر اور اولاد کے سہاروں پر زندگی گزارے جانے کا احساس لے کر جینے والی عورت کس طرح ایک ، مضبوط ، خوش باش ، پراعتماد قسم کی اولاد کی تربیت کر پائیگی ۔ اگر انسان نے شاہراہ حیات پر اپنے سفر کو خوشگوار بنانا ہے تو اسے اپنے شریک سفر کو سمجھنا ہوگا عورت کے opposites کو مرد کے opposites کے ساتھ unite کرنا ہوگا ۔










