Baaghi TV

Tag: عید الفطر

  • ہانیہ عامر کی’پردے میں رہنے دو‘ اورعمران اشرف کی ’دم مستم‘ کورواں برس عید الفطرپرریلیز کرنے کا اعلان

    ہانیہ عامر کی’پردے میں رہنے دو‘ اورعمران اشرف کی ’دم مستم‘ کورواں برس عید الفطرپرریلیز کرنے کا اعلان

    عمران اشرف اور امر خان کی فلم ’دم مستم‘ کو رواں برس عید الفطر پر ریلیز کرنے کا اعلان کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی :پاکستان میں مارچ 2020 میں کورونا کی وجہ سے سینما بند کیے جانے کے بعد تاحال فلم ساز فلموں کو ریلیز کرنے سے کترا رہے ہیں اور نومبر 2021 سے اب تک محض 3 فلمیں ہی سینماؤں میں پیش کی جا چکی ہیں۔

    "دی کراؤن”کی شوٹنگ کے دوران لاکھوں ڈالرزکے نوادرات چوری ہونے کا انکشاف

    ’دم مستم‘ کو 2020 میں ریلیز کیا جانا تھا اور اس پر 2019 میں ہی کام کا آغاز کردیا گیا تھا مگر کورونا کی وبا کے باعث اس کی نمائش میں تاخیر ہوئی اب طویل عرصے بعد ’دم مستم‘ کا ڈھائی منٹ دورانیے سے زائد کا ٹریلر جاری کرتے ہوئے اسے عید الفطر پر ریلیز کرنے کی تصدیق کردی گئی ہے-

    ’دم مستم‘ کے ذریعے جہاں عمران اشرف بڑے پردے پر ڈیبیو کرنے جا رہے ہیں، وہیں اداکارہ امر خان بھی بطور فلم لکھاری متعارف ہونے جا رہی ہیں علاوہ ازیں ’دم مستم‘ اداکار عدنان صدیقی کی پروڈیوس کردہ پہلی فلم بھی ہوگی جب کہ اس میں ’مجھے مارو‘ سے شہرت حاصل کرنے والے مومن ثاقب بھی اداکاری میں ڈیبیو کرنے جا ہے ہیں-

    فلم کی ہدایات ’سپر اسٹار‘ کی ہدایات دینے والے محمد احتشام الدین نے دی ہے جب کہ اسے عدنان صدیقی کے ہمراہ اختر حسنین نے پروڈیوس کیا ہے جبکہ فلم کی موسیقی اذان سمیع خان، شیراز اپل زئی اور بلال سعید نے دی ہے۔

    ’دم مستم‘ کی کہانی امر خان اور عمران اشرف کے رومانس اور بچپن کے پیار، دوستی اور لڑائیوں کے گرد گھومتی ہے ٹریلر کے مطابق امر خان اور عمران اشرف ایک ہی محلے میں پلے بڑھے ہوتے ہیں اور ایک جیسے ہی خواب دیکھ کر آگے بڑھنے کی لگن رکھتے ہیں۔

    ٹریلر سے عندیہ ملتا ہے کہ امر خان بطور ڈانسر اپنا کیریئر بنانا چاہتی ہیں اور انہیں عدنان صدیقی کی کمپنی بہت بڑا موقع فراہم کرتی ہے عمران اشرف بھی ایک چانس ملنے کے بعد سپر اسٹار گلوکار بن جاتے ہیں فلم میں رومانس اور کامیڈی کے علاوہ مصالحہ بھی دیکھنے کو ملے گا جب کہ فلم میں آئٹم سانگس بھی شامل ہوں گے۔

    فلم کی دیگر کاسٹ میں سہیل احمد، سلیم معراج اور عدنان شاہ ٹیپو سمیت دیگر اداکار بھی شامل ہیں-

    دوسری جانب ہانیہ عامر اور علی رحمٰن کی رومانوی مزاحیہ فلم ’پردے میں رہنے دو‘ کا ٹریلر جاری کرتے ہوئے اسے بھی عید الفطر پر ریلیز کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے فلم ساز وجاہت رؤف کی ہدایت کاری میں بنائی گئی فلم کے ٹریلر سے عندیہ ملتا ہے کہ اس کی کہانی قدرے مختلف ہے۔

    جاری کیے گئے مختصر دورانیے کے ٹریلر سے معلوم ہوتا ہے کہ فلم کی کہانی شادی شدہ جوڑے کے ہاں بچوں کی پیدائش نہ ہونے اور ان کے خاندان کی جانب سے بچوں کی پیدائش کی شدید خواہش کے گرد گھومتی ہے۔

    اداکارہ صبا قمرجلد شادی کرنے والی ہیں ان کے شوہرکو جانتی ہوں،انوشے اشرف

    اہم سماجی مسئلے پر بنائی گئی فلم میں علی رحمٰن اور ہانیہ عامر نے میاں اور بیوی کا کردار ادا کیا ہے، جن کی شادی کو چند سال گزر جانے کے باوجود ان کے ہاں بچوں کی پیدائش نہیں ہوتی۔

    ٹریلر میں دکھایا گیا ہے کہ بچوں کی پیدائش نہ ہونے پر بیوی اپنے شوہر کو ٹیسٹ کرانے کا کہتی ہیں، جس پر وہ روایتی شوہروں کی طرح ناراض ہوجاتے ہیں۔

    شادی شدہ جوڑے کےہاں بچوں کی پیدائش نہ ہونے کے معاملے پر بنائی گئی فلم میں جاوید شیخ، یاسر حسین، حسن رضا، منزہ عارف، سعدیہ فیصل، سیفی حسن اور نور الحسن سمیت دیگر اداکار شامل ہیں۔

    عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کی بیٹی اور ان کی ٹیم آسکر اور بافٹا ایوارڈ کے لئے نامزد

    ’پردے میں رہنے دو‘ کی کہانی محسن علی نے لکھی ہے جب کہ اس کی ہدایات وجاہت رؤف نے دی ہیں اور انہوں نے ہی اہلیہ شازیہ وجاہت کے ہمراہ فلم کو پروڈیوس کیا ہے فلم میں وجاہت رؤف کے بیٹے عاشر وجاہت کو بھی بطور موسیقار شامل کیا گیا ہے۔

    ’پردے میں رہنے دو‘ کے ذریعے ہانیہ عامر لگ بھگ چار سال بعد بڑے پردے پر واپسی کر رہی ہیں، اس سے قبل وہ آخری بار 2018 کی فلم ’پرواز ہے جنون‘ میں مرکزی کردار میں نظر آئی تھیں ہانیہ عامر ’پرواز ہے جنون‘ کے بعد ’سپر اسٹار اور لوڈ ویڈنگ‘ جیسی فلموں میں بھی مختصر کرداروں میں دکھائی دی تھیں مگر وہ فلم کی کاسٹ کا حصہ نہیں تھیں۔
    https://youtu.be/jkF4SWpmaxc

  • عید الفطر کا تیسرا دن ضلعی انتظامیہ مکمل ناکام

    عید الفطر کا تیسرا دن ضلعی انتظامیہ مکمل ناکام

    قصور
    عید الفطر کا تیسرا روز ،عید مذہبی جوش و جذبے مگر سادگی سے منائی گئی،گراں فروشوں کی چاندی،ضلعی حکومت گراں فروشی روکنے میں مکمل ناکام، پولیس کی سخت سیکیورٹی،1075 مقامات پر عید الفطر کی پولیس کی موجودگی میں ادائیگی،ساڑھے بارہ سو پولیس اہلکاران ڈیوٹی پر مامور

    تفصیلات کے مطابق قصور عیدالفطر کے موقع پر ضلع بھر میں 1075 مقامات پر پولیس کی سیکیورٹی میں نماز عیدالفطر ادا کی گئی جبکہ 1250 اہلکاروں پر سیکیورٹی پر تعینات کیا گیا ہے تاہم عید کے پر مسرت موقع پر ضلعی انتظامیہ گراں فروشی روکنے میں مکمل ناکام رہی ہے عید سے ایک روز قبل بڑے گوشت کی قیمت 550 روپیہ رات عید کے اعلان ہوتے ہی 600 روپیہ اور نماز عید کے بعد 700 روپیہ وصول کی جاتی رہی جبکہ سرکاری قیمت 430 روپیہ مقرر ہے اسی طرح دودھ،دھی،پھل،سبزیاں،کولڈ ڈرنکس و دیگر ضروریات زندگی لوگوں نے ضلعی انتظامیہ کی نااہلی کی بدولت مہنگے داموں خریدی جبکہ دکانداروں سے شہریوں کی شکایت میں کہا گیا کہ بڑے تاجر ہمیں چیزیں مہنگی دے رہے ہیں گورنمنٹ ان کو قابو کرے تو مہنگائی کنٹرول ہو سکتی ہے
    پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے کے باعث شہریوں نے موٹر سائیکل،رکشہ و گاڑیوں پر سفر کیا تاہم چند ایک مقامات میں سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی دیکھی گئی

  • کیسی عید؟کونسی عید؟

    کیسی عید؟کونسی عید؟

    تحریر (زین علی)
    عید خوشیوں کا تہوار ہے،رمضان کے روزے رکھنے کے بعد عید کا دن خوشی کا پیغام لے کر آتا ہے۔لیکن اس دفعہ ۔۔۔کیسی عید؟کونسی خوشی؟
    جب ایک عالمی وبا کے سبب روزانہ ملک بھر میں کئی افراد جان سے ہاتھ دھو رہے ہوں،جہاں ہر پل زندگی دم توڑ رہی ہو،جہاں ہر دوسرے گھر میں کرونا وائرس کا مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں ہو ۔۔۔۔وہاں کیسی عید۔۔۔؟جہاں ہسپتالوں میں ایک عجیب ماحول برپا ہے،ہر شخص دوسرے کو وائرس زدہ سمجھ رہا ہے،جہاں گلے ملنا تو دور ہاتھ ملانے سے بھی ڈر لگتا ہے۔۔۔وہاں کیسی عید۔۔؟

    پھر ایسے میں جب عید سے محض دو روز قبل لاہور سے کراچی جانے والا طیارہ حادثے کا شکار ہو جائے اور 98 قیمتی زندگیاں لقمہ اجل بن جائیں ۔۔۔۔۔وہاں عید کیسی۔۔۔
    طیارے میں سوار بیشتر افراد اپنوں کے ساتھ عید منانے ہی جا رہے تھے، کوئی لاک ڈاون کی وجہ سے دیر سے گھر جا رہا تھا تو کوئی روزگار کے چکر میں لاہور ٹھہرا ہوا تھا۔
    سوچیے طیارے میں سوار افراد کے پرواز سے قبل جزبات کیا ہونگے۔طیارے میں سوار افراد نے آ خری مسکراہٹ کے ساتھ ہی اپنی اڑان بھری ہوگی۔عملے سمیت 99 ہنستی مسکراتی زندگیاں ہوا کے دوش پراپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوئی ہونگی۔
    سفر مکمل ہونے کے بعدکے منصوبوں کی پرواز طیارے سے بھی کئی گنا اونچی ہوگی، نہ جانے ائیر پورٹ پہ کتنی آنکھیں منتظر ہوں گی۔۔ کہ بابا آرہے ہیں۔۔۔ ماما پہنچنے والی ہیں۔۔ بیٹا آرہا ہے۔۔ پرسوں عید ہے ناں اکھٹے منائیں گے۔ جیسے جیسے طیارہ ہوا میں بلند ہورہاتھاانسانی ذہنوں کی پرواز طیارے سے اونچی اُڑانیں بھررہی ہوگی
    سوچیے جب طیارہ رن وے کے قریب پہنچا ہوگا تو تمام مسافروں کے ذہنوں میں تخیلات کا ایک طوفان برپا ہوا ہوگا، کسی کو ائیرپورٹ سے نکلتے ہی بچوں کے لیے شاپنگ کرنا تھی،کسی کو ماں باپ کو عید کے تحائف دینے تھے۔۔۔مگر زندگی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔

    30 سکینڈ قبل لینڈنگ سے زندگی جیسے رک سی گئی ہوگی، طیارے میں سوارافراد کے چہرے پر وہ مسکراہٹ جو وہ لے کر اڑان بھرے تھے وہ خوف اور گھبراہٹ میں بدل چکی ہوگی۔۔۔منصوبوں کے وہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو چکے ہونگے۔۔۔اور دیکھتے ہی دیکھتے ائیرپورٹ پر انتظار کرنے والے مسافروں کے اہلخانہ کے لیے قیامت صغرٰی برپا ہو چکی ہوگی۔۔۔ائیرپورٹ سے قبل طیارہ جب گھروں پر گرا ہوگا تو ہر مسافر کی آنکھوں میں زندگی ملنے کی شاید ایک آخری امید بچی ہو لیکن طیارے میں لگی آگ نے ان امیدوں کو جلا کر راکھ کر دیا اور کئی گھرانوں کی روشنیاں اسی طیارے کی راکھ میں جل گئی ۔۔کس کو معلوم تھا کہ جو لوگ اپنے پیاروں کو لینے ائیرپورٹ پہنچے ہیں انہی کی میت کو پہچاننے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروانا ہوگا۔۔۔کسی کا بھائی اس سے بچھڑ گیا تو کوئی اپنے پورے خاندان سمیت اس آگ کی نظر ہوگیا۔ کسی کے سر سے باپ کا سایہ ہٹ گیا تو کوئی ماں کی ممتا سے محروم ہوگیا۔۔۔پوچھئیے زرا ان سے کہ کیسی عید ؟؟؟کونسی عید۔۔۔۔؟جب لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں تک نہ پہچان پا رہے ہوں وہاں عید کیا اور خوشی کیا۔۔۔۔

  • مسئلہ عید پر فواد و مفتی منیب مقابلے بازی پر میری رائے از طہ منیب

    گئے دنوں کی بات ہے صاحب حکومت کے ترجمان ہوا کرتے تھے، میڈیا کی سکرینوں پر راج ہوا کرتا تھا، کیمرہ مین آگے پیچھے پھرتے تھے، سب اچھا چل رہا تھا ، پھر کسی کے اشارہ ابرو پر اس وزارت سے سائیڈ پر لگا دئے گئے تو وہ درد اور غم ایسا تھا کہ ناقابل برداشت۔ وزرات سائنس و ٹیکنالوجی کی بدقسمتی کہ ایک بدزبان و بدچلن وکالت کا پیشہ رکھنے والا آدمی جس کی زبان اور ہاتھ دونوں سے لوگ پریشان ہیں اسے میڈیا میں ان رہنے کیلئے کچھ تو چاہیے تھا۔

    بھلا ہوا ہمارے دینی بھائیوں کہ ان سیکیورٹی کا کہ حضرت کا آسان ترین ہدف رویت ہلال اور اسکے ماضی کے تضادات اچھا ہدف نظر آئے تو سو بسم اللہ کر گزشتہ سال کی طرح امسال دوپہر میں ہی اعلان کر دیا کہ آج ٹھٹھہ میں چاند نظر آئے گا اور کل عید ہوگی۔ ہمارا دینی طبقہ حسب سابق ان سیکیورٹی کا شکار ہو کر دفاعی و جارحانہ پوزیشن میں آگیا اور یوں صاحب بہادر کو مطلوبہ اہداف حاصل ہو گئے۔

    اور رویت کے مسئلہ پر لبرل و سیکولر بریگیڈ کی جانب سے فواد چوہدری کی اس نوک جھونک کو سائنس و ٹیکنالوجی کی فتح قرار دیا جانا بھی کسی بیوقوفی سے کم نہیں ہے۔ ایک مشیر نے تو یہاں تک کہا ہے کہ یہ پریس کانفرنس ملک میں سائنس و ٹیکنالوجی کے نئے باب کھولے گی۔

    ان کو عرض کی کہ لگتا ہے ‏فواد چوہدری کی پریس کانفرنس کے اگلے ہی لمحے پاکستان نے چاند پر قدم رکھ دئیے، کرونا کی ویکسین ایجاد ہو گئی، غربت مٹ گئی، دنیا بھر سے طلباء ٹیکنالوجی کی تعلیم لینے پاکستان آ رہے ، چینی، روسی و امریکی ماہرین کی اعلی تعلیم کیلئے فواد چوہدری سے اپیل کرنے لگے ہیں، جس پر کچھ ان کے بہی خواہوں کو تکلیف پہنچی تو گزارش کی کہ ‏نان ایشو کو ایشو بنانے اور اسکی بنیاد پر پورے ملک میں انتشار پر مبنی اقدام کو سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی سے تعبیر کرنے پر اگر کچھ جواب دے ہی دیا تو وہ گستاخی ہو گئی۔

    اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہم ایک شہرت کے بھوکے میڈیا کے ترسے شخص کو ویلیو کیوں دیں؟ اس کی اسلام دشمنی جو وہ مولوی کو گالی اور جہالت کے طعنے دے کر پوری کرے اسے لفٹ ہی کیوں کرائیں۔ دونوں فریقین میں بنیادی اختلاف اپنی آنکھ سے دیکھنا اور ایپ سے سائنٹیفکلی جاننا ہے اور ہونا وہی ہے جو رویت ہلال کمیٹی نے طے کرنا ہے کہ کل عید ہو گی یا نہیں اور اسی بنیاد پر کل عید کا فیصلہ کر دیا ہے ۔

    ایسے گھٹیا طور طریقے اختیار کر کے کبھی اسلام پسند کو پاکستان کے قیام کا اور اسکی ترقی کا دشمن قرار دینے والے شخص کو آپکا حد سے زیادہ ڈسکس کرنا اسے یقیناً اور تسکین پہنچائے گا۔