Baaghi TV

Tag: عیسائی

  • جب منی پور  کےعیسائیوں کی زندگی ایک لمحے میں بدل گئی،  بی جے پی اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی

    جب منی پور کےعیسائیوں کی زندگی ایک لمحے میں بدل گئی، بی جے پی اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی

    3 مئی 2023 کو، شمال مشرقی ہندوستان کے ایک علاقے منی پور ریاست میں رہنے والے ہزاروں عیسائیوں کی زندگی ایک لمحے میں بدل گئی۔

    ان ماننے والوں میں سے ایک سیانگ موانگ ہیں، ایک پادری جو ریاست میں متعدد اجتماعات کی خدمت کرتا ہے۔ سیان کہتے ہیں، "میں علاقے میں 10 سے زیادہ گرجا گھروں میں پادری کرتا تھا "3 مئی 2023 کو، چرچ کی پانچ عمارتیں مکمل طور پر جل گئیں؛ باقی کو لوٹ لیا گیا اور شدید نقصان پہنچا ہم نے سب کچھ کھو جانے کے باوجود، میری بیوی اور میں نے اپنے مجرموں کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا، یہ یاد کرتے ہوئے کہ کس طرح مسیح نے ہمیں معاف کیا –

    سیان اور اس کا خاندان اس کی بیوی، جینی اور ان کی 2 سالہ بیٹی، ٹیا کچھ نہیں کر سکے کیونکہ انہوں نے منی پور ریاست میں ہزاروں کو بھاگتے، گرجا گھروں کو جلاتے اور توڑ پھوڑ ہوتے دیکھا۔

    تشدد کی جڑ ریاست منی پور میں نسلی اور مذہبی دونوں طرح کی کشیدگی میں تھی۔ کوکی لوگ (جو اکثریت عیسائی ہیں) ہندوستان میں ایک "شیڈولڈ قبیلہ” ہیں ہندوستانی قانون کے تحت ایک سرکاری حیثیت جو ان گروہوں کو حکومتی فوائد فراہم کرتی ہے جن کو اہم سماجی و اقتصادی نقصانات کا سامنا ہے وہ منی پور میں آبادی کی ایک اقلیت ہیں منی پور ریاست میں زیادہ تر لوگ میتی لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں ایک نسلی گروہ جو زیادہ تر ہندو ہے میٹی شیڈولڈ ٹرائب کی حیثیت کے لیے لڑ رہے تھے، جس کی وجہ سے کوکی کی جانب سے احتجاج کیا گیا یہ مظاہرے اپریل 2023 میں شروع ہوئے تھے اور شروع میں بڑے پیمانے پر پرامن تھے،لیکن وہ جلد ہی پرتشدد ہو گئے۔

    اور عیسائیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ میتی سے تعلق رکھنے والے گرجا گھروں پر بھی ہندو انتہا پسندوں نے حملہ کیا، اور کچھ انتہا پسند گروہ مییٹی کمیونٹیز میں گھر گھر جا کر مطالبہ کرتے رہے کہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے یسوع میں اپنا عقیدہ ترک کر دیں۔

    سیان نے تشدد کے مذہبی عنصر کو پہلے ہاتھ سے دیکھا وہ پانچ سو سے زیادہ شدت پسندوں کے ہجوم کی وضاحت کرتا ہے، جو چرچ کی املاک کو نشانہ بناتا ہے اور نظر آنے والی ہر چیز کو توڑ دیتا ہے "انہوں نے بائبلوں کو جلایا اور مسیحی برادری کو گالی دی”انہوں نے گھروں پر چھاپے مارے اور گرجا گھروں کو جلایا، عیسائی باشندوں کو ان کے گھروں سے نکالنے پر مجبور کیا میرے خیال میں یہ انتہا پسندوں کی طرف سے منی پور ریاست سے عیسائیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک جان بوجھ کر حملہ تھا، کیونکہ چرچ کی عمارتوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تھا-

    سیان اور اس کا خاندان بھی کوکی ہے اس لیے انہیں دوہرا خطرہ تھا وہ اور اس کے خاندان کو معلوم تھا کہ انہیں آسانی سے قتل کیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اگر وہ ہمیں مل جاتے تو وہ یقیناً ہم میں سے ہر ایک کو اور ہمارے بچوں کو قتل کر دیتے۔‘‘

    سیان اور اس کا خاندان درحقیقت اس وقت الگ ہو گیا جب حملہ شروع ہوا، جس سے خطرے کی ایک اور تہہ بڑھ گئی”جب حملہ شروع ہوا، میں اپنے گھر سے دور تھا، ایک مختلف گاؤں میں چرچ کے کچھ ممبروں کی خدمت کر رہا تھا، اس بات سے بے خبر تھا کہ کیا ہو رہا ہے کیونکہ حملہ آور اس جگہ نہیں پہنچے تھے، وہ اس جگہ پہنچ گئے جہاں میں تھا، بہت بعد میں۔

    وہ کہتا ہے "مجھے اپنی بیوی کا فون آیا، اور میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ ایک ہجوم ہمارے پڑوس میں پہنچ گیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تباہ کر رہا ہے؛ وہ ہمارے بچے کے ساتھ بستر کے نیچے چھپی ہوئی تھی اس مختصر گفتگو کے بعد، اس نے اپنا فون بند کر دیا کیونکہ اسے حملہ آوروں سے ڈر لگتا تھا جو ممکنہ طور پر آس پاس تھے۔”

    جیسے ہی منی پور میں گرجا گھروں کو جلایا گیا اور عیسائی خواتین کو چھین لیا گیا، بی جے پی نے منہ موڑ کر دیکھا، مودی حکومت خاموش تماشائی بنی ہی پولیس خاموش کھڑی رہی، ہجوم نے اپنے جرائم کی فلم بندی کی، اور مسیحی حقوق اکثریت کے حوالے کر دیے گئے۔

    منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ، جو کہ خود میتی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، نے مجرموں کو کڑی سزائیں، بشمول سزائے موت، دینے کا وعدہ کیا ہے۔ مگر جب اس تنازع پر ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’میں اس میں نہیں پڑنا چاہتا، میرا کام امن قائم کرنا اور شرپسندوں کو سزا دینا ہے۔‘

  • پاپائے اعظم پوپ ایمریٹس بینڈکٹ کی یاد میں لاہور میں تعزیتی ریفرنس

    پاپائے اعظم پوپ ایمریٹس بینڈکٹ کی یاد میں لاہور میں تعزیتی ریفرنس

    سیکرٹ ہاٹ کیتھیڈرل چرچ لاہور آرچ بشپ سبسچئن شاء کی زیر صدارت تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

    لاسیکرٹ ہاٹ کیتھیڈرل چرچ لاہورمیں آرچ بشپ سبسچئن شاء کی زیر صدارت پاپائے اعظم پوپ ایمریٹس بینڈکٹ کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں پولیٹیکل اسسٹنٹ وزیراعلی پنجاب برائے انسانی حقوق رابنسن عزیز فرانسس، چیئرمین قومی کمیشن برائے بین المذاہب آرچ بشپ سبیسٹین فرانسس شاء، چیئرمین کل مسالک علماء بورڈ مولانامحمدعاصم مخدوم،سابق پردھان گردوارہ پربندھک کمیٹی سردار بشن سنگھ،علامہ قاری خالد محمود،پروفیسر سید محمود غزنوی،پروفیسر عدنان فیصل،فادر اشفاق انتھونی،فادر قیصر فیروز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر انسانی حقوق میاں عمر حیات سمیت دیگر نے شرکت کی۔

    تعزیتی ریفرنس میں پوپ ایمریٹس بینڈکٹ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا جبکہ ان کی یاد میں شمع بھی روشن کی گئی۔آرچ بشپ سبسچئین شاء نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاپائے اعظم کی ملی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔انہوں نے دنیا میں قیام امن کیلئے بے مثال خدمات سرانجام دی ہیں جبکہ امن اور رواداری کے لیے ان کی جدوجہد قابل تحسین ہے۔پولیٹیکل اسسٹنٹ برائے انسانی حقوق رابنسن عزیز نے پا پائے اعظم کی بین المذاہب خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تمام زندگی انسانیت کی خدمت میں گزر گئی اور انکا ایک ہی پیغام تھا کہ دنیا بھر میں امن و محبت قائم ہو۔ مولانا عاصم مخدوم نے کہا کہ ہر مذہب میں امن کا پیغام عام ہے اور ہم سب کو اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھتے ہوئے مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ دینے کے لیے ملکر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔تعزیتی ریفرنس سے دیگر مذہبی رہنماؤں نے بھی مختصر خطاب کیا اور یقین دلایا کہ وہ اپنے اردگرد بین المذاہب ہم آہنگی کو بڑھاوا دینے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے۔

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • ایسٹر کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، بلاول، عمران خان کی مسیحی برادری کو مبارکباد

    ایسٹر کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، بلاول، عمران خان کی مسیحی برادری کو مبارکباد

    ایسٹر کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، بلاول، عمران خان کی مسیحی برادری کو مبارکباد
    وزیراعظم شہبازشریف نے مسیحی برادری کو ایسٹر کی مبارکباد دی ہے ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور دنیا بھر کی مسیحی برادری کو ایسٹر کی خوشیاں مبارک ،ہم مسیحی برادری کی خدمات کی بہت قدر کرتے ہیں،پاکستانی عیسائیوں نے ملک کے تمام شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں،آئیے ہم سب امن اور محبت کے مشترکہ پیغام کو پھیلائیں،

    سابق وزیراعظم عمران خان نے مسیحی برادری کو ایسٹر کی مبارکباد دی ہے ،پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایسٹر کے موقعے پر مسیحی پاکستانیوں کے نام پیغام جاری کیا ہے

    پی پی پی چیئرمین بلاول زرداری نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسٹر منانے والوں کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ،بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ عیدیں اور تہوار معاشرے کے لیئے خوشی و مسرت کا وسیلہ ہوتے ہیں دعاگو ہوں، یہ پرمسرت موقع دنیا میں رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے فروغ کی بنیاد ثابت ہو پاکستان پیپلز پارٹی ملک میں یکساں حقوق اور مساوات کی علمبردار ہے مسیحوں سمیت تمام اقلیتی برادریوں کے بلاامتیاز تحفظ، بھبود اور ترقی کے لیے آئینی ضمانتیں دلوانا پیپلز پارٹی کا طرہِ امتیاز ہے

    بلاول زرداری نے اپیل کی کہ ایسٹر کے موقعے پر مسیحی بھائی و بہنیں پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیئے دعائیں مانگیں

    واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسیحی برادری آج ایسٹر کا تہوار منا رہی ہے ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں میں خصوصی عبادات کا اہتمام کیا گیا ہے، ویٹی کن میں بھی دعائیہ تقریب کا انعقاد ہوا

    قائمقام سی سی پی او لاہور شہزادہ سلطان نے مسیحی برادری کو ایسٹر کی مبارکباد دی ہے، سی سی پی او نے لاہور پولیس کے تمام مسیحی افسران و اہلکاروں کو بھی مبارکبا دی ، اور کہا کہ ایسٹر پر لاہور پولیس کے سکیورٹی انتظامات مکمل ہیں

    سندھ کے علاقے سانگھڑ چرچ میں ایسٹر کا کیک کاٹا گیا جس میں مسیح اور ھندو برادری نے شرکت کی ۔ ہندو ۔ مسلم ۔ اور مسیح سب ایک ساتھ اپنے عیدیں مناتے ہیں اور اس مین مذہبی ہم آہنگی ، اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ملک بھر خصوصاً خیبرپختونخوا میں بسنے والی مسیحی برادری کو انکے مذہبی تہوار ایسٹر کے موقع پر دلی مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت مسیحی برادری کی خوشیوں میں شریک ہے۔

    ایسٹر سنڈے دنیا بھر میں عیسائیوں کے تہواروں میں سے ایک ہے جو بائبل کے مطابق حضرت عیسی ؑ کو 2,000 سال پہلے یروشلم سے زندہ اٹھائے جانے کی یاد مین منایا جا تا ہے پاکستان میں اقلیتی برادری کو اپنے عبادت اور تہوار منانے کی مکمل آزادی ہے اور ملک بھر میں تقریباً 2,652 گرجا گھر ہیں جو فی چرچ 664 کمیونٹی کا احاطہ کرتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں برطانیہ میں ہر 2,249 مسلمانوں کے لئے ایک مسجد ہے۔ پاکستان کی ریاست اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل انتظامی اور قانون سازی کے اقدامات کر رہی ہے تاکہ انہیں بغیر کسی امتیاز کے ایک محفوظ اور آزاد ماحول فراہم کیا جا سکے ۔ قومی اقلیتی کمیشن (این سی ایم) کی حال ہی میں دوبارہ تشکیل ہوئی ہے۔نو تشکیل شدہ این سی ایم نے اقلیتی برادریوں کی رکنیت میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ چیلا رام کیولانی کو کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے اوپن میرٹ کے علاوہ تمام وفاقی سرکاری خدمات میں اقلیتوں کے لیے ملازمتوں کا 5 فیصد کوٹہ بھی مختص کر رکھا ہے جس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کے 10 مذہبی تہوار بشمول عیسائیوں کے لیے کرسمس اور ایسٹر سرکاری سطح پر منائے جاتے ہیں تاکہ معاشرے کے تمام طبقات میں افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔

    کرونا مریضوں میں اضافہ، کراچی میں آغا خان ہسپتال سمیت دیگر نے مریض لینے سے انکار کر دیا

    لیاقت نیشنل ہسپتال کا کارنامہ،ٹریفک حادثہ میں جاں بحق خاتون کو کرونا مثبت قرار دیکر لاش ضبط کر لی

    کرونا کے کتنے مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں؟ وہ کونسا صوبہ جہاں وینٹی لیٹرز پر کوئی مریض نہیں؟

    پنجاب میں کرونا کے بعد ٹائیفائیڈ بخار زور پکڑ گیا،10 دن میں 20 ہزار مریض سامنے آ گئے

    باغی ٹی وی کی جانب سے مسیحی برادری کو انکے مذہبی تہوار ایسٹر کے موقع پر دلی مبارک باد

  • بھارت:پولیس نے پادری سمیت تین افراد گرفتارکرلیے: عیسائیوں پرقاتلانہ حملے،تشدد جاری

    بھارت:پولیس نے پادری سمیت تین افراد گرفتارکرلیے: عیسائیوں پرقاتلانہ حملے،تشدد جاری

    بھوپال :بھارت:پولیس نے پادری سمیت تین افراد گرفتارکرلیے:عیسائیوں پرقاتلانہ حملے،تشدد،مگرعالمی برادری کچھ نہٰں‌کرے گی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس نے کیتھولک چرچ کے ایک پادری سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان پر قبائلیوں کو عیسائیت اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق گرفتار کیے جانے والوںکے نام فادر جام سنگھ ڈنڈور، پادری انسنگھ نناما اور منگو مہتاب بھوریہ بتائے جاتے ہیں۔ انہیں جھابوا ضلع کے ایک گاو¿ں سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ یہ کارروائی جھابوا ضلع کے ایک تھانے میں درج ایک شکایت کی بنیاد پر کی گئی۔پولیس نے بتایا کہ ان تینوں پر مدھیہ پردیش فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2021 کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے جسے مذہب کی تبدیلی کے مخالف قانون کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    دریں اثنا جھابوا ضلع میں عیسائی مشنریوں نے الزام لگایا ہے کہ مدھیہ پردیش کے قبائلی اکثریتی علاقوں میں ان کے خلاف ایک مہم چلائی جا رہی ہے اور ان پر مذہب تبدیل کرانے کا بے بنیاد الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

    ادھر بھارتی حکومت نے بھی نوبیل انعام یافتہ مدر ٹریسا کے فلاحی ادارے کی بیرونی فنڈنگ روکنے کی کوششیں شروع کردیں۔مدر ٹریسا نے مشنریز آف چیریٹی ادارہ 1950 میں قائم کیا تھا اور اس کے تحت 240 سے زائد فلاحی ادارے چلائے جارہے ہیں۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مدرٹریسا مشنریز آف چیریٹی کے منتظمین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ نے بیرون ملک سے نقد وصولی کی درخواست کی تجدید سے انکارکردیا ہے۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مشنریز آف چیریٹی بیرون ملک سے فنڈز اکٹھے کرتا ہے جبکہ چیریٹی نے اپنے تمام اداروں کو مسئلہ کے حل تک تنظیم کے غیرملکی فنڈز کے اکاؤنٹ کو آپریٹ نہ کرنےکی ہدایات جاری کی ہیں۔

    اس حوالے سے بھارتی حکومت نے 27 دسمبر کو ایک بیان جاری کیا اور کہا کہ مشنریز آف چیریٹی کی درخواست کو رد کردیا گیا ہے اور اس کی وجہ درخواست فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ سے مطابقت نہیں رکھتی اور منفی چیزیں بھی سامنے آئی ہیں۔

    اُدھر بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مدر ٹریسا کا مشنریز آف چیریٹی ادارہ بھارت بھر میں کئی شلیٹرز ہوم چلاتا ہے اور اسے 2020-21 میں بیرون ممالک سے 75 کروڑ ڈالرز کی امداد موصول ہوئی تھی۔

  • بھارت:انتہاپسند ہندوؤں نے کرسمس پر’سانتا کلاز‘کو بھی نہ بخشا :مگرعالمی برادری پھربھی خاموش تماشائی

    بھارت:انتہاپسند ہندوؤں نے کرسمس پر’سانتا کلاز‘کو بھی نہ بخشا :مگرعالمی برادری پھربھی خاموش تماشائی

    نئی دہلی :بھارت:انتہاپسند ہندوؤں نے کرسمس پر’سانتا کلاز‘کو بھی نہ بخشا :مگرعالمی برادری پھربھی خاموش تماشائی ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کے نفرت انگیز اقدامات جاری ہیں اور کرسمس کے موقع پر سانتا کلاز کے پتلے کو نذر آتش کردیا۔

    انتہا پسند ہندووں کی بدمعاشیوں کا تذکرہ تو بھارتی میڈیا نے بھی کیا ،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر آگرہ میں ہندو انتہا پسند جماعت بجرنگ دل نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ کرسمس کے موقع پر انتہا پسند کی جماعت کی جانب سے بھارت میں ہندوؤں کی مبینہ جبری تبدیلی مذہب کو بنیاد بنا کر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق بجرنگ دل کی جانب سے مظاہرہ 24 دسمبر کو سینٹ جان چوک پر کیا گیا جبکہ انتہاپسند مظاہرین نے ’سانتا کلاز مردہ باد اور گو بیک سانتا کلاز‘ کے نعرے بھی لگائے۔

    خیال رہے کہ بھارت اقلیتوں کیلئے غیر محفوظ ملک سمجھا جاتا ہے، امریکا کے کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے بھارت کو اقلیتوں کیلئے خطرناک ملک قرار دیا تھا۔

    گزشتہ دنوں انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی حکمران جماعت نے ہندو انتہا پسندوں کو اقلیتوں پر حملہ کرنے اور انہیں ہراساں کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔

    اور ادھر آج بھارت میں مسیحی برادری پر مظالم کے تہلکہ خیز انکشافات امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز سامنے لے آیا، ہندو انتہا پسند مسیحی کمیونٹی کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ، زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

    امریک یاخبار دی نیو یارک ٹائمز میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے مطابق ہندو انتہا پسند عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے اور ان کو عبادت سے روکتے ہیں، عیسائیوں پر بڑھتے ظلم کی وجہ ہندو انتہا پسندانہ سوچ ہے جس کی وجہ سے اقلیت خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں، ہندو انتہا پسند بھارت میں رہنے والے عیسائیوں کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

    نیو یارک ٹائمز کے مطابق موت کے خوف سے عیسائیوں خود کو ہندو ظاہر کرنا شروع کر دیا، عیسائیوں کے زیر تسلط چلنے والے خیراتی ادارے کو ہندو انتہا پسند وکلا نے بند کروانے کیلئے متعدد بار شکایت درج کروائیں، ہندو انتہا پسندبھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی مسلمانوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کی نسل کشی پر بھی خاموش۔

    امریکی اخبار کے مطابق اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بھارتی وزیر اعظم کی خاموشی پر عالمی برادری کو شدید تحفظات ہیں، ہندو انتہا پسند مودی ہندوستان کو قوم پرست ملک بنانے کے خواہ ہیں

  • بھارت میں مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے: امریکی میڈیا بھی چیخ اُٹھا

    بھارت میں مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے: امریکی میڈیا بھی چیخ اُٹھا

    نیو یارک:بھارت میں مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے: امریکی میڈیا بھی چیخ اُٹھا ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں مسیحی برادری پر مظالم کے تہلکہ خیز انکشافات امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز سامنے لے آیا، ہندو انتہا پسند مسیحی کمیونٹی کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ، زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

     

    امریک یاخبار دی نیو یارک ٹائمز میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے مطابق ہندو انتہا پسند عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے اور ان کو عبادت سے روکتے ہیں، عیسائیوں پر بڑھتے ظلم کی وجہ ہندو انتہا پسندانہ سوچ ہے جس کی وجہ سے اقلیت خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں، ہندو انتہا پسند بھارت میں رہنے والے عیسائیوں کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

     

    نیو یارک ٹائمز کے مطابق موت کے خوف سے عیسائیوں خود کو ہندو ظاہر کرنا شروع کر دیا، عیسائیوں کے زیر تسلط چلنے والے خیراتی ادارے کو ہندو انتہا پسند وکلا نے بند کروانے کیلئے متعدد بار شکایت درج کروائیں، ہندو انتہا پسندبھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی مسلمانوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کی نسل کشی پر بھی خاموش۔

     

     

    امریکی اخبار کے مطابق اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بھارتی وزیر اعظم کی خاموشی پر عالمی برادری کو شدید تحفظات ہیں، ہندو انتہا پسند مودی ہندوستان کو قوم پرست ملک بنانے کے خواہ ہیں۔