Baaghi TV

Tag: غائب

  • کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا

    کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا

    سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) نے کہا ہے کہ بجلی کے بریک ڈاون، سڑکوں کی بندش، راشن کی قلت اور عوام کو درپیش دیگر مشکلات سے حکام کے بلند و بانگ دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں۔کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا ہے

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سی پی آئی(ایم )کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ شدید برفباری خطے کے لیے کوئی نئی بات نہیں لیکن جو بلند وبانگ دعوے کیے گئے تھے، وہ ایک مذاق ثابت ہو رہے ہیں۔انہوں نے بڑے پیمانے پر بجلی کے بریک ڈاون کا حوالہ دیتے ہوئے جس نے پوری وادی کو مکمل تاریکی میں ڈبو دیاہے، کہا کہ حکام بجلی کی سپلائی بحال کرنے میں ناکام رہے۔

    انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ چند انچ برف پڑنے سے پوری انتظامیہ ٹھپ ہوکررہ جاتی ہے جس سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہارکیاکہ ابھی تک کئی سڑکوں سے برف نہیں ہٹایاگیا ہے اور وادی کے دیہی علاقوں میں سڑکوں پر ابھی تک ٹریفک بحال نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سے عوام کوشدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    دریں اثناوادی چناب کے کشتواڑ، رامبن اور ڈوڈہ اضلاع میں بھی بارش اور شدید برف باری ہوئی جس کے نتیجے میں سردی کی لہر نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جبکہ زیادہ تر علاقوں میں بجلی معطل ہے۔

    اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کشتواڑ شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ رات کے دوران شدید برف باری ہوئی جبکہ ضلع کے علاقوںبھجواہ، چھاترو، پڈر، ناگسنی، گندوہ، بھدرواہ، مرمت، ڈیسا اور ضلع ڈوڈہ کے کئی علاقوں میں بھی بھاری سے درمیانی درجے کی برف باری ہوئی ہے۔اسی طرح ضلع رامبن کے بہت سے علاقوں میں بھی شدید برف باری ہوئی اور سڑک کی پھسلن اور بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرنے کے باعث حکام نے جموں سرینگر ہائی وے کو ٹریفک کے لئے بند کردیا ہے۔

  • 21 روز قبل لاپتہ ہونے والا نوجوان تاحال لاپتہ

    21 روز قبل لاپتہ ہونے والا نوجوان تاحال لاپتہ

    قصور
    21 روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والا 35 سالہ نوجوان ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود تاحال نا مل سکا

    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی علاقہ کوٹ اسلام پورہ کا رہائشی فیاض احمد ولد محمد یاسین قوم انصاری 23/11/21 سے اپنے کام دین گڑھ الخیر ٹینری سے واپسی آتے ہوئے شام 6 بجے کے قریب لاپتہ ہوا جسے ہر جگہ ڈھوندا گیا مگر کوئی سراغ نا ملا
    اس کے والد غلام یاسین کا کہنا ہے کہ ہم نے اسے ہر جگہ تلاش کیا لیکن کہیں سے کوئی سراغ نا ملا ہے جس پر میں نے اس کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف تھانہ بی ڈویژن قصور میں درج کروا دی ہے اور آج اسے لاپتہ ہوئے 21 دن سے ہو گئے ہیں میری ڈی پی او قصور سے استدعا ہے کہ جلد سے جلد میری بیٹے کو تلاش کیا جائے
    جبکہ دوسری جانب پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور پولیس نے بذریعہ سوشل میڈیا بھی لاپتہ نوجوان کے پوسٹر لگا دیئے ہیں اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اس بابت کسی کو کچھ معلوم ہو تو فوری پولیس کو دیئے گئے نمبران پر مطلع کیا جائے نیز پولیس کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنیکل طریقوں سے بھی لاپتہ نوجوان کا سراغ لگایا جا رہا ہے

  • اوکاڑہ نہر سے تیس سالہ نوجوان کی نعش برآمد

    اوکاڑہ نہر سے تیس سالہ نوجوان کی نعش برآمد

    اوکاڑہ ( علی حسین ) اوکاڑہ میں فیصل محمود کالونی کے قریب سے گزرنے والی نہر سے تیس سالہ نوجوان کی لاش برآمد ہو ئی ہے۔ لاش کی شناخت شہباز علی ساکن عید گاہ روڈ اوکاڑہ کے نام سے ہوئی ہے۔ شہباز رکشہ ڈرائیور تھا اور تین روز سے غائب تھا۔ متوفی کا رکشہ جنرل بس سٹینڈ اوکاڑہ سے ملا ہے تاہم آج لاش نہر سے برآمد ہوئی ہے۔ متوفی کو اغواء کے بعد قتل کرکے نہر میں پھینکنے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ پولیس نے لاش تحویل میں لیکر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

  • سستا ہونے پر غائب،مہنگا ہونے پر وافر

    سستا ہونے پر غائب،مہنگا ہونے پر وافر

    قصور
    پیٹرول پمپوں سے پیٹرول غائب ہوئے تین دن ہو گئے شہری پریشان پیٹرول پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ سپلائی نہیں مل رہی لوگوں کے مطابق پیٹرول سستا ہونے پر ہر ماہ ایسا ہی ہوتا ہے
    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں آج تین دنوں سے پیٹرول نہیں مل رہا پورے قصور شہر میں چند ایک پیٹرول پمپوں سے پیٹرول مل رہا ہے باقی پر دستیاب نہیں اس بابت پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی سپلائی نہیں مل رہی جبکہ دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ جب پندراں پندراں روپیہ فی لیٹر پیٹرول مہنگا ہونا ہوتا تھا تب یہ لوگ ہزاروں لیٹر پہلے سے خرید کر جمع کر لیتے تھے اب جب سے پیٹرول سستا ہونا شروع ہوا ہے تب سے پیٹرول غائب ہونا شروع ہو گیا ہے جو کہ سراسر پیٹرول پمپ مالکان کی بے ایمانی اور خوف الہٰی کا نا ہونا ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ پمپ مالکان نے جان بوجھ کر پہلے پیٹرول نہیں منگوایا تھا کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ قیمتیں کم ہونی ہیں مگر جب پیٹرول کی قیمتیں زیادہ ہونی ہوتی تھیں تب یہ لوگ لاکھوں لیٹر پہلے سے لے کر ذخیرہ کر لیتے تھے لہذہ اوگرا اور وزیراعظم ان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان کے لائسنس کینسل کرے اور ساتھ جرمانے بھی