Baaghi TV

Tag: غذائیت

  • ایبٹ اور پی آئی اے کے درمیان بہتر غذائیت کے ذریعے بچوں کی نشوونما میں معاونت کے لیے ا شتراک

    ایبٹ اور پی آئی اے کے درمیان بہتر غذائیت کے ذریعے بچوں کی نشوونما میں معاونت کے لیے ا شتراک

    ایبٹ اور پی آئی اے کے درمیان بہتر غذائیت کے ذریعے بچوں کی نشوونما میں معاونت کے لیے ا شتراک

    باغی ٹی وی : ایبٹ پاکستان لمٹیڈ (ایبٹ) اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے)نے باہم شراکت قائم کی ہے جس کا مقصد بچوں کی نشوونما میں بہتر غذائی ضروریات کے لیے معاون ثابت ہونے اور ناقص غذا سے اْن کی بڑھتی عمر میں رکاوٹ بننے کے حوالے سے آگاہی کو فروغ دینا ہے۔بچوں کو باورچی خانے کی سرگرمیوں میں مشغول رکھنے کے لیے آئیڈیاز،کھانے پینے کے حوالے سے رویے کو پہچاننے اور اُن کا سدباب کرنے کے لیے پی آئی اے کی اندرون ملک پروازوں کے مسافروں کومختلف چیزیں فراہم کی جائیں گی۔ اُس کے علاوہ، بچوں کو بورڈ گیمز،پزلز اور کلرنگ بُکس بھی فراہم کیں جائیں گیں۔

    کیفی خلیل کے کنسرٹ میں بدنظی،خواتین کو ہراسانی کا سامنا،خواتین کی گتھم گھتا ہونے کی ویڈیو وائرل

    بچوں کو صحتمند نشوونما اور بڑھتی عمر کے لیے غذائیت سے بھرپور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے،اور بالخصوص، زندگی کے ابتدائی برسوں میں جب اْن کا جسم تکمیل کے مراحل میں ہوتا ہے۔عموماً، بچے طویل عرصے تک کھانے میں نخرے دکھاتے ہیں،لہٰذا، یہ ممکن ہے کہ وہ باقاعدہ خوراک کے ذریعے مکمل اور متوازن غذائیت حاصل نہ کر سکیں جس سے اْن میں غذائیت کی کمی، قوت مدافعت کی کمی، ہڈیوں کی کمزوری، جسمانی نشوونما میں رکاوٹ، پٹھوں میں گوشت کی کمی وغیرہ جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جو تمام عمر برقراربھی رہ سکتے ہیں۔

    زندگی کے پہلے پانچ برسوں میں پیش آنے والے مسائل بچوں کی نشوونما میں دشواری اور مستقبل میں درکار صلاحیت میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ بچے اپنی زندگی کے پہلے پانچ برسوں میں ہی بالغ افراد کے قد کا 60 فیصد حاصل کر لیتے ہیں۔ والدین اوردیکھ بھال کرنے والوں کی یہ بات اولین ترجیح ہونا چاہیے،اوراْنھیں یقینی بنانا چاہیے،کہ مناسب نشوونما کے لیے بچوں کوصحیح غذائیت ملے جس سے اُن کا جسم پوری طرح بڑھ سکے اور وہ اپنی پوری صلاحیت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

    اس حوالے سے ایبٹ کے جنرل منیجر،نیوٹریشن بزنس برائے پاکستان و عراق، عاصم شفیق نے کہ:”ہم بچوں کی نشوونما میں مناسب غذائیت کی اہمیت کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کی غرض سے اپنی قومی ایئر لائن، پی آئی اے، کے ساتھ شراکت پر بہت خوش ہیں۔ ایبٹ، پیڈیا شیور (PediaSure) کے ذریعے،جوپاکستان میں سائنسی بنیادوں پر تیار کردہ دودھ کے طور پر دیئے جانے والے سپلیمنٹ کی فراہمی کے ذریعے اہم کردار ادا کر رہا ہے، غذائیت کی کمی کو دور کرنے اور صحت مند نشوونما کو فروغ دینے مدد کرے گا۔“

    پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایئر وائس مارشل، عامر حیات نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی ایئر لائنز کی حیثیت سے، ہم سمجھتے ہیں کہ اپنے ملک کے مستقبل کی حفاظت اور ترقی میں پی آئی اے کا اہم کردار ہے۔لہٰذا، ہم نے ہیلتھ کیئر میں عالمی راہنما، ایبٹ کے ساتھ شراکت کا فیصلہ کیا ہے۔

    کراچی سےلاپتہ ہونے والی 14سالہ دو لڑکیاں لاہور سے مل گئیں

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ پھل بھر پورغذائیت کا حامل

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ پھل بھر پورغذائیت کا حامل

    رمضان المبارک کے مہینے میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان کھجوروں سے روززہ افطار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ پھل اپنے اندر بھر پور غذائیت رکھتا ہے-

    قرآن پاک میں اس کا ایک سے زیادہ مرتبہ ذکر آیا ہے، تاریخوں کے حوالے سے متعدد احادیث بھی ہیں حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کھجور سے افطار کیا کرتے تھے۔

    روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    کھجور کو سپر فوڈز کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں اور اس کی غذائیت کی وجہ سے بہت سے لوگ افطار کے ساتھ ساتھ سحری میں بھی کھجور کھاتے ہیں۔

    ماہرینِ غذائیت کے مطابق کھجور میں کئی طرح کے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں اس میں کیلوریز، فائبر، پروٹین ہوتے ہیں معدنیات میں پوٹاشیم، میگنیشیم شامل ہیں وٹامن بی اور آئرن پر مشتمل ہے-

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    کھجور کا باقاعدگی سے استعمال کینسر کے امکانات کو بہت حد تک کم کرتا ہے ، دل کے مسائل پر قابو پانے میں کھجور کی اہمیت بہت زیادہ ہے، کھجور دماغی صحت کے لیے بہت اچھی ہے کھجور پوٹاشیم سے بھرپور ہوتی ہے یہ ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے اور خون کی کمی کو دور کرتا ہے –

    دنیا بھر میں اس لذیذ پھل کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ یہ صحت کے لیے فائدہ مند اور غذائیت سے بھرپور ہے، مصر آج دنیا میں کھجور کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے۔

  • روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    دُنیا کے کئی ممالک میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا آغاز ہوگیا جبکہ پاکستان میں کل یعنی بروز اتوار کو پہلا روز ہوگا،رمضان کے دوران روزہ رکھنے سے صحت پر مثبت اثر پڑتا ہے اور روزہ جسم کو نقصان دہ زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے، صحت مند غذائی انتخاب کے نتیجے میں انسان کا میٹابولزم بہتر ہوتا ہے تاہم، افطار کے کھانے کے دوران زیادہ کھانا کھانا یا افطار اور سحری کے درمیان کافی مقدار میں ہائیڈریٹ نہ کرنا صحت کے مسائل یا موجودہ مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    ماہر غذائیت کا کہنا ہے کہ سحری کا مقصد ہمیں طاقت، توانائی اور پائیداری فراہم کرنا ہے یہ کھانا صحت بخش اور بھر پور ہونا چاہیے روزے کے دوران سحری جسم کے لیے توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے جبکہ افطار کا مقصد ہمارے جسم کو دوبارہ توازن اور ریچارج کرنا ہے
    روزے کو بہتر بنانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں صحت مند خوراک کو اپنی غذا میں شامل کرنا چاہیے درج ذیل امور کا خیال رکھ کر آپ اس ماہ صیام کی بابرکت سعادتوں کو صحت مند زندگی میں تبدیل کرسکتے ہیں جن میں سبزیاں، اناج، گری دار میوے، پھل اور دودھ کی مصنوعات شامل ہیں۔

    ماہر غذائیت نے تجویز کیا ہے کہ رمضان المبارک میں افطار اور سحر میں وافر مقدار میں پانی پئیں سحری کے وقت خود کو پانی سے بھرلینا بھی کوئی اچھا خیال نہیں۔زیادہ بہتر یہ ہے کہ رات بھر میں اپنے جسم میں پانی کی سطح کو بڑھائیں۔ افطار میں دو گلاس پانی کے ساتھ آغاز کریں! سونے کے وقت تک ہر گھنٹے میں ایک گلاس پانی پیئیں۔

    رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    اس طرح آپ کو چھ گلاس پانی پی لینا چاہئے جبکہ سحری کے وقت دو گلاس پی کر آپ دن بھر کے لیے 8 گلاس پانی اپنے جسم کا حصہ بنالیں گے، جو عام طور پر کافی ثابت ہوتے ہیں۔سورج کی روشنی میں زیادہ دیر تک گھومنے سے گریز کریں تاکہ پسینے کی شکل میں جسم میں نمی کی کمی نہ ہو، یاد رکھیں کہ چائے اور کافی جسم کو ڈی ہائیڈریشن کا شکار کرتے ہیں اور یہ آپ کے انتخاب نہیں ہونا چاہئیے۔

    سحری میں متوازن کھانا کھائیں، افطار میں زیادہ سے زیادہ مشروبات لیں، اناج جیسے دلیہ اور جو وغیرہ کا استعمال کریں ،شہد کو لازمی افطار اور سحری میں شامل کریں، بادام، اخروٹ، زیتون اور ایوکاڈو شامل کریں-

    ماہِ رمضان میں مصنوعی کولڈ ڈرنکس سے پرہیز کریں ، رمضان میں ڈائٹنگ نہ کریں ، افطار کے فوراً بعد بہت ٹھنڈا اور بہت گرم مشروبات نہ لیں پروسیس شدہ اور پیک شدہ کھانوں سے دور رہیں-

    بہترین اوقات جن میں پانی پینا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے

    تلے ہوئی کھانوں سے پرہیز کریں خاص طور پر افطار میں، زیادہ چکنائی اور زیادہ کیلوریز والی غذاؤں سے پرہیز کریں افطار میں پکوڑوں کی بجائے صحت مند چنا چاٹ کو ترجیح دیں جس میں مختلف سبزیاں اور مصالحوں یا دہی بڑے موجود ہوں جو کہ کم تیل والے ہوتے ہیں-

    آپ گوشت کھانے کے شوقین نہیں، تو غذا میں انڈا، دودھ ، گری دار میوے اور دالیں ضرور شامل رکھیے یہ غذائیں ہمیں پروٹین فراہم کرتی ہیں جسم کے خلیے یہی عنصر پاکر اپنا کام بخوبی انجام دیتے ہیں۔

    رمضان کے دوران قہوہ کے استعمال کے حیرت انگیز فوائد