Baaghi TV

Tag: غذائی بحران

  • وزیر اعظم شہباز شریف کے حکم پر پنجاب کیلیے26 ہزار ٹن گندم یومیہ کوٹہ بحال

    وزیر اعظم شہباز شریف کے حکم پر پنجاب کیلیے26 ہزار ٹن گندم یومیہ کوٹہ بحال

    وزیر اعظم شہباز شریف کے حکم پر پنجاب کیلیے26 ہزار ٹن گندم یومیہ کوٹہ بحال کر دیا گیا ہے.

    وزیر اعظم شہباز شریف نے پنجاب کے عوام کو غذائی بحران سے بچانے کیلیے محکمہ خوراک پنجاب کی جانب سے چند روز قبل26 ہزار ٹن سے کم کر کے 24 ہزار ٹن کیا جانے والا فلورملز کا یومیہ گندم کوٹہ دوبارہ بحال کرو ا دیا ہے۔ وزیر اعظم نے چاروں صوبائی محکمہ خوراک سمیت وفاقی محکمہ پاسکو کو درپیش باردانہ بحران کے خاتمے کیلئے بھی وفاقی وزارتوں کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے باردانہ کے خام مال کی امپورٹ کیلئے ایل سیز کھولنے کی ہدایت کردی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سسٹنٹ کمشنر مستونگ کی گاڑی پرفائرنگ، لیویز اہلکار شہید
    اسلام آباد ، لاہور کراچی سمیت ملک بھر میں بجلی غائب
    محسن نقوی کی نگراں وزیراعلیٰ پنجاب تقرری مسترد،سپریم کورٹ جائیں گے: پرویز الہیٰ
    کرن جوہر نے کارتک کو دوستانہ 2 سے کیوں نکالا؟ اداکار نے خاموشی توڑ دی
    نگران وزیر اعلیٰ محسن رضا نقوی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا:جھنگ میں جشن
    الیکشن کمیشن نے پنجاب اور کے پی کے میں تقرریاں و تبادلوں پر پابندی لگادی
    مزید برآں وزیراعظم کی ہدایت پر محکمہ خوراک نے پنجاب بھر میں سرکاری آٹا کی فروخت کے ٹرکنگ پوائنٹس کی تعداد بڑھا دی ہے، لاہور میں ٹرکنگ پوائنٹس کی تعداد95 سے بڑھا کر145 جبکہ راولپنڈی میں240 کردی گئی ہے۔ علاوہ ازیں سامان کے درمیان چھپا کر سرکاری آٹا سمگل کرنے والے گڈز ٹرانسپورٹ اڈوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں سینکڑوں تھیلے آٹا برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ بند روڈ پر سرکاری آٹا کو ریفائن کر کے اسمگل کرنے والی خفیہ آٹا فیکٹری پکڑی گئی ہے۔

  • ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں،کوئی بحران پیدا نہیں ہوگا:طارق بشیر چیمہ

    ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں،کوئی بحران پیدا نہیں ہوگا:طارق بشیر چیمہ

    اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی طارق بشیر چیمہ نے کہا ہے کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں، ہمارے پاس وافر سٹریٹجک ذخائر موجود ہیں، کسی قسم کا کوئی بحران پیدا نہیں ہوگا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں سید حسین طارق اور دیگر کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کے جواب میں وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ کچھ ایسے معاملات ہیں جن پر ہر وقت کام جاری ہوتا ہے۔ قطعاً پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ملک میں گندم کے مناسب ذخائر موجود ہیں۔ ہمارے پاس گندم کا اتنا ذخیرہ موجود ہے جس کی وجہ سے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو بیجوں کی فہرست ہے وہ ہمیں سندھ اور بلوچستان نے تجویز کئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس پر فیصلہ کل سنائےگا

    قبل ازیں سید حسین طارق نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی سب نے دیکھی ہے، لاکھوں ایکڑ زمین اب بھی پانی کے نیچے ہے، وہاں کاشتکاری نہیں ہو سکتی، وفاقی اور سندھ حکومت اپنا کردار ادا کر رہی ہے مگر زراعت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں ملیریا اور دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ مویشیوں میں بھی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ خوراک اور غذائی تحفظ کا مسئلہ بھی سامنے آرہا ہے۔ اس سال گندم کی کاشت کے ایریا میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں ہمیں غذائی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہمیں پیداوار میں اضافے کے لئے بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس وقت 30 فیصد خوراک کی ضروریات ہم اپنی زراعت سے پوری نہیں کر سکتے۔

    سید حسین طارق نے کہا کہ اعلی معیار کا بیج ہم ابھی تک نہیں بنا سکے، میں ایک چھوٹا سا کسان ہوں مجھے ان کے حالات کا پتہ ہے۔ اتنا پانی کھڑا تھا کہ وہ ایک چولہا تک نہیں جلا سکتے تھے۔ ہمارے زرعی شعبے میں اتنی صلاحیت ہے کہ ہم اپنے تمام مسائل کا حل کر سکتے ہیں۔ ہمیں بہتر بیج دینے کے حوالے سے چین کے ساتھ ایک معاہدہ ہو چکا ہے

  • روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں:ہنگری

    روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں:ہنگری

    ہنگری کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں اور یہ غربت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

    فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہنگری کے وزیراعظم ویکٹر اوربن نے یورپی یونین سے اپیل کی ہے کہ وہ دیر ہونے سے قبل روس کے خلاف امریکی پابندیوں کے بارے میں واشنگٹن سے بات چیت کرے۔انھوں نے کہا کہ روس کے خلاف عائد کردہ پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں اور یہ غربت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔اوربن نے کہا کہ روس کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کا خود یورپی ملکوں پر الٹا اثر پڑ رہا ہے۔

    حال ہی میں ہنگری کے وزیر خارجہ نے بھی روس کے خلاف پابندیوں کے یورپ پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی بنا پر ان پابندیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

    واضح رہے کہ روس کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کے بعد سے روسی گیس کے متبادل کے فقدان کی بنا پر ہنگری ہمیشہ ان پابندیوں پر تنقید کرتا رہا ہے جبکہ یورپی ممالک میں توانائی کی قلت اور تیل و گیس کی قیمت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے جس سے ان ممالک کے عوام پر بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ دنیا گزشتہ دو سال تک کورونا جیسی عالمی وبا سے نبرد آزما ہوکر لاک ڈاؤن کے باعث بد ترین معاشی بحران کا شکار ہونے کے بعد دوبارہ معاشی استحکام کی طرف لوٹ رہی تھی کہ رواں سال کے آغاز میں روس یوکرین جنگ نے اس معاشی بحران کو دوچند کر دیا ہے، دنیا بھر میں بڑھتے مہنگائی کے رجحان نے اس کرہ ارض پر غذائی قلت کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔

    یورپی شہریوں نے فالتو اخراجات سے بھی ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا ہے ، جس کے بعد اب وہ صرف ضروری اشیا کی خریداری پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔ افراطِ زر میں بے تحاشہ اضافے کے بعد اب اشیائے خورونوش کی منڈیوں اور تیل کے ساتھ ساتھ کارسازی اور تعمیرات کے شعبوں میں بھی قیمتوں میں حیرت انگیز اضافہ ہو رہا ہے اور اب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ رواں برس 27 رکنی یورپی یونین کو مجموعی طور پر 7 فیصد سے زائد افراطِ زر کا سامنا ہوگا۔ مختلف یورپی ممالک میں مچھیروں اور کسانوں نے مجموعی مہنگائی کے تناظر میں اپنی پیداوار میں اضافہ کر دیا ہے تو دوسری جانب پٹرول کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کی وجہ سے مال بردار ریل گاڑیوں اور سامان بردار ٹرکوں کی نقل و حرکت میں بھی کمی آئی ہے۔

    خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے روزمرہ استعمال کے لیے روٹی کی مختلف اقسام بھی مہنگی ہوچکی ہیں اور خاص طور پر پولینڈ سے بیلجیم تک اشیائے خورونوش کی دکانوں پر بریڈ مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ، پولینڈ میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں 150 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جس کے بعد بعض یورپی حکومتوں نے ٹیکسوں کی مد میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی امداد کے اشارے بھی دیے ہیں۔

    اس جنگ نے توانائی اور خوراک کے حوالے سے ساری دنیا کو اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا کردیا ہے۔ پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک جہاں امریکا نواز حکومتیں قائم ہیں وہاں روسی تیل حزب اختلاف کے لیے ایک سیاسی ہتھیار بھی ہے۔

    اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے۔ حافظ سعد رضوی

     یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

  • ملک میں کوئی غذائی بحران نہیں بہت کچھ موجود ہے:احسن اقبال

    ملک میں کوئی غذائی بحران نہیں بہت کچھ موجود ہے:احسن اقبال

    اسلام آباد:ملک میں کوئی غذائی بحران نہیں بہت کچھ موجود ہے:اطلاعات کے مطابق نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کا آج شام کو ایک خصوصی اجلاس آج NFRCC میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی چیئرمین احسن اقبال اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز اور ڈائریکٹر جنرل این ایف آر سی سی میجر جنرل اسد چیمہ نے کی۔

    نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کا آج کے اجلاس میں خصوصی سیشن کا محور ضروری اشیائے خوردونوش خصوصاً گندم کی دستیابی کا تفصیلی ذخیرہ تھا۔ فورم کو بتایا گیا کہ ملک میں گندم کا وافر ذخیرہ رکھا جا رہا ہے اور گندم کی کوئی کمی نہیں ہے۔ فورم کو بریفنگ دی گئی کہ گندم، چاول، مکئی اور چینی سمیت تمام اہم غذائی اشیا وافر مقدار میں دستیاب ہیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں تک ان کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں جن میں گڈز ٹرین سمیت ٹرانسپورٹ کے تمام دستیاب ذرائع ہیں۔

    فورم کو بتایا گیا کہ بعض کارٹیل صرف اپنے مفادات کے لیے گندم کی قلت کا جھوٹا تاثر پیدا کر رہے ہیں۔ اس معاملے کے حقائق یہ ہیں کہ گندم کا 153 دن کا سٹاک دستیاب ہے اور 30.5 ملین ٹن گندم کی سالانہ قومی طلب کو یقینی بنانے کے لیے منصوبے جاری ہیں۔ فورم نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے کہا کہ وہ اہم غذائی اشیا کی دستیابی کو یقینی بنائیں، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں غیر معمولی سیلاب سے متاثرہ خواتین کے لیے خشک دودھ اور غذائی سپلیمنٹس سمیت گندم سمیت اہم معاملات پر گفتگو ہوئی ۔

    اس اہم اجلاس میں‌ احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خواتین کے لیے بچوں کی خوراک اور غذائی سپلیمنٹس کی فراہمی کو تیز رفتار بنیادوں پر یقینی بنایا جائے اور گڈز ٹرینوں اور تمام نقل و حمل کے ذرائع کے ذریعے سپلائی لائن کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے۔ فورم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ علاقے کی ضروریات کے مطابق خوراک کے ذخیرہ کی سطح کو برقرار رکھا جائے اور کسی کو بھی ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہ دی جائے۔ فورم نے مختلف سیلاب زدہ علاقوں میں مشترکہ سروے کے نقصانات کے جائزے کا بھی جامع جائزہ لیا اور سروے رپورٹس کے مطابق بحالی کی کوششوں کا اعادہ کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ڈیٹا کی مدد سے سائنسی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • بل گیٹس نے غذائی بحران سے نمٹنے کیلئے ایک دلچسپ تجویز پیش کر دی

    بل گیٹس نے غذائی بحران سے نمٹنے کیلئے ایک دلچسپ تجویز پیش کر دی

    مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے دنیا کو نبرد آزما سب سے اہم مسئلے غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک دلچسپ تجویز پیش کی ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بل گیٹس نے کہا ہے کہ صرف امداد سے غذائی بحران پر قابو نہیں پایا جا سکتا بلکہ جادوئی بیج کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔

    امریکی عدالت نے بہن کی بھائی سے شادی کی اجازت دیدی؟

    بل گیٹس کے مطابق غذائی بحران کی بنیادی وجوہات یوکرین میں جاری جنگ، موسمیاتی تبدیلی اور وبائی امراض کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امداد کے بجائے ٹیکنالوجی پر انحصار کرنا ہوگا۔

    افریقی ممالک میں زراعت کو بہتر بنانے کے لیے2008ء سے اب تک 131 ملین ڈالرز خرچ کردینے والی بل گیٹس کی این جی او ’’ بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن‘‘ نے غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے ’جادوئی بیج‘ تیار کرنے کا عندیہ دیا ہے جسے فصلوں کو موسمیاتی تبدیلیوں اور زرعی کیڑوں کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔

    بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں گیٹس کا کہنا ہے کہ بھوک کا عالمی بحران اتنا بڑا ہے کہ خوراک کی امداد اس مسئلے کو پوری طرح حل نہیں کر سکتی جس چیز کی بھی ضرورت ہے، وہ کاشتکاری کی ٹیکنالوجی میں اختراعات ہیں جو بحران کو دور کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔

    جادوئی بیج کی تجویز پر بل گیٹس کو تنقید کا سامنا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ جادوئی بیج کی تیاری میں کئی برس لگ جاتے ہیں اس لیے یہ لانگ ٹرم حکمت عملی تو ہوسکتی ہے لیکن فوری طور پر غذائی بحران پر قابو پانے کے لیے کارگر نہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بل گیٹس کی تجویز ماحول کے تحفظ کے لیے کی گئی عالمی کوششوں کے خلاف ہے کیوںکہ ایسے بیجوں سے پیداوار حاصل کرنے کے لیے عام طور پر کیڑے مار ادویات اور فوسل فیول پر مبنی کھاد استعمال کرنا پڑتی ہے۔

    ملکہ الزبتھ کی طرف سے عمرے کا دعویٰ کرنے والا شخص گرفتار

  • گندم کاعالمی بحران خطرناک صورتحال اختیارکرگیا،چند ممالک میں بھوک بڑھنےکاخدشہ

    گندم کاعالمی بحران خطرناک صورتحال اختیارکرگیا،چند ممالک میں بھوک بڑھنےکاخدشہ

    ماسکو: گندم کی عالمی مارکیٹ متاثر، چند ممالک میں بھوک بڑھنے کا خدشہ ،اطلاعات کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے گندم کی عالمی منڈی بھی متاثر ہوئی ہے جس کے باعث چند ممالک میں بھوک بڑھنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ روس اور یوکرین کے علاوہ امریکہ، آسٹریلیا اور کینیڈا گندم برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک ہیں۔ جبکہ سب سے زیادہ گندم مصر، انڈونیشیا، نائیجیریا اور ترکی درآمد کرتے ہیں۔ آخر گندم کا کوئی متبادل کوئی کیوں نہیں ہے؟ گندم کو ہی چکی میں پیس کر آٹا و معدہ تیار کیا جاتا ہے جو پھر ڈبل روٹی، نوڈلز اور مختلف قسم کی خوراک تیار کرنے میں استعمال ہوتا ہے جس میں طرح طرح کے میٹھے بھی شامل ہیں۔

    معاشی ماہر اور ’فیڈنگ ہیومینٹی‘ نامی کتاب کے مصنف برونو پرمینٹیئر کا کہنا ہے کہ ’ہر کوئی گندم کھاتا ہے لیکن ہر کوئی گندم پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔‘ دنیا بھر میں صرف چند ایسے ممالک ہیں جو اتنی مقدار میں گندم پیدا کرتے ہیں کہ خود بھی استعمال کریں اور باقی برآمد کر دیں۔

    چین جبکہ گندم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے لیکن اپنی ایک کروڑ 40 ارب کی آبادی کے لیے اسے زیادہ سے زیادہ گندم درآمد بھی کرنا پڑتی ہے۔ دیکھا جائے تو اناج کی قیمت روس کے یوکرین پر فروری میں حملہ کرنے سے پہلے بھی زیادہ تھیں۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ کورونا میں کمی کے بعد جیسے ہی لاک ڈاؤن ختم ہوا اور معیشیت بحال ہونا شروع ہوئی تو ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہوا جس کے بعد نائٹروجن سے بننے والی کھاد کی قیمت بھی بڑھ گئی

  • عالمی معاشی بحران:کیسےقابوپایاجاسکتاہے؟اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل نےتجاویزدے دیں

    عالمی معاشی بحران:کیسےقابوپایاجاسکتاہے؟اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل نےتجاویزدے دیں

    جنیوا:معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی تجویز سامنے آئی ہے ،اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے یوکرین اور روس سے بیک وقت اناج برآمد کرنے پر زور دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ یو ان سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے یوکرین اور روس سے ایک ساتھ اناج برآمد کرنے کے معاہدے کے بارے میں بات کی ہے۔

    دنیا میں اناج کی بڑھتی ہوئی کمی کوپورا کرنے کےلیے اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتین نے تجویز دی تھی کہ اناج کی برآمد کا سب سے آسان اور کم خرچ والا راستہ بیلاروس کے ذریعے ہے، حالانکہ اقوام متحدہ نے حالیہ دنوں بیلاروس کے راستے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ مسٹر گوٹیرس کے نقطہ نظر سے خوراک کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے اور خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے مسائل پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوٹیرس شروع میں اناج کی برآمد کو پہلے یوکرین اور پھر روس سے شروع کرنا چاہتے تھے۔

    واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے مابین جنگ کی وجہ سے عالمی معیشت کو بڑا دھچکا لگا ہے اور اناج کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جس نے سب کو پریشان کر دیا ہے اور نتیجتاً اس بحران سے نکلنے کے راستے ڈھونڈنے کیلئے سب نے کمر کس لی ہے۔

  • یوکرین جنگ،آفات اورغلط حکمت عملی:ڈر ہے کہ کہیں دنیا بھوک سے ہی نہ مرجائے:عالمی ادارے

    یوکرین جنگ،آفات اورغلط حکمت عملی:ڈر ہے کہ کہیں دنیا بھوک سے ہی نہ مرجائے:عالمی ادارے

    نیویارک:چند دن پہلےاقوام متحدہ کی 2 فوڈ ایجنسیوں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) اور ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے پوری دنیا میں خوراک کے متعدد بحرانوں کے بارے میں سخت انتباہ جاری کیا تھا

    ذرائع کے مطابق اس حوالےسے ‘ہنگر ہاٹ اسپاٹس: شدید غذائی عدم تحفظ پر ایف اے او-ڈبلیو ایف پی کے ابتدائی انتباہات’ کے عنوان سے اپنی مشترکہ رپورٹ میں فوڈ ایجنسیوں نے غذائی بحران سے شدید متاثرہ علاقوں کی مدد کے لیے فوری انسانی بنیادوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جہاں اگلے چند ماہ میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

    رپورٹ میں ایتھوپیا، نائیجیریا، جنوبی سوڈان، یمن، افغانستان اور صومالیہ کو سنگین صورتحال کا سامنا کرنے والے ممالک میں شمار کیا گیا، اس میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک میں تقریباً ساڑھے 7 لاکھ افراد کو بھوک اور اموات کا سامنا ہے۔

    جبکہ دوسری طرف یوکرین کی صورتحال نے دنیا کی زندگی اور بھی مشکل میں ڈال دی ، اس وقت ایک ہنگامی صورت حال کا سامنا ہے اور وہ صورتحال غذائی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یوکرین جنگ کی وجہ سر اٹھانے والا غذائی بحران لاکھوں جانیں نگل سکتا ہے۔گلوبل فنڈز ٹو فائٹ ایڈز، ٹی بی اینڈ ملیریا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پیٹر سینڈز کا جی 20 وزرائے صحت کے اجلاس کے موقع پر ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ صحت کے بحران کا آغاز ہو چکا ہے مگر یہ کسی نئے جرثومے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ لوگ خوراک کی کمی کے باعث بیماریوں کا زیادہ شکار ہوں گے۔ متعدی امراض، خوراک کی کمی اور توانائی کے بحران کے مجموعی اثرات کے باعث لاکھوں اموات معمول کی اموات کے علاوہ ہیں۔

     

    پیٹر سینڈز کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی حکومتوں کو چاہیے کہ خوراک کے بحران کے اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے صحت کی سہولتوں پر توجہ دیں، خصوصاً کم آمدنی والے افراد کے لیے، ایسے افراد کو طبی مسائل کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ بنیادی صحت خصوصاً دیہات کے نظامِ صحت پر توجہ مرکوز کی جائے۔ ہسپتال بھی اہمیت کے حامل ہیں تاہم جب اس قسم کے چیلنج کا سامنا ہو تو بنیادی صحت کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

    پیٹر سینڈز کا یہ بھی کہنا تھا کہ کورونا کے خلاف جدوجہد کے دوران وہ وسائل بھی صرف ہو گئے جو تپ دق سے بچانے کے لیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کے باعث 2020ء میں 15 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2020ء میں دیکھا گیا کہ عالمی سطح پر 15 لاکھ افراد نے ٹی بی کا کم علاج کرایا جس کا مطلب ہے کہ ہزاروں لوگ نہ صرف مریں گے بلکہ دوسروں کو بھی متاثر کریں گے۔

    مغرب اور یوکرین روس پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ یوکرین سے اجناس کی برآمد روکنے کے لیے رکاوٹیں ڈال رہا ہے جس سے عالمی سطح پر قحط کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ روس کا کہنا ہے کہ مغربی پابندیوں کی وجہ سے اجناس کی برآمد میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

    اسی لاکھ کم سن بچے موت کے خطرے کا شکار

    پانچ برس تک کی عمر کے قریب 80 لاکھ بچے غذا کی قلت کے سبب موت کے خطرے سے دو چار ہیں۔ یہ بات بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہی ہے۔ سب سے زیادہ خطرے کا شکار ان 15 ممالک کے بچے ہیں جہاں اس وقت خوراک کی قلت ہے۔ ان میں افغانستان، یمن، ایتھوپیا اور ہیٹی بھی شامل ہیں۔ یونیسف کے مطابق موت کے خطرے سے دوچار ایسے بچوں کی تعداد ہر منٹ بڑھ رہی ہے۔ اس بگڑتی صورتحال کی ایک وجہ روس کے یوکرین پر حملے کے سبب عالمی سطح پر اشیائے خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ہیں۔

     

  • سی پیک پاکستان میں غذائی ضروریات کوپوری کرنے میں معاون ثابت ہوگا:سید ظفرعلی شاہ

    سی پیک پاکستان میں غذائی ضروریات کوپوری کرنے میں معاون ثابت ہوگا:سید ظفرعلی شاہ

    اسلام آناد:سی پیک پاکستان میں غذائی ضروریات کوپوری کرنے میں معاون ثابت ہوگا:سید ظفرعلی شاہ نے ایک تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) زرعی تعاون کے ذریعے ملک کی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید کاشتکاری متعارف کروا کر پاکستان کے بڑھتے ہوئے غذائی تحفظ کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد کرے گی۔

    وزارت منصوبہ بندی کے ایک اعلیٰ عہدیدار سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ پاکستان نے محسوس کیا ہے کہ غذائی تحفظ قومی سلامتی کا ایک اہم جزو ہے، اور زرعی شعبے میں مزید سرمایہ کاری کے ذریعے زرعی کاروبار کو فروغ دیا جا رہا ہے، جسے CPEC فریم ورک کے تحت مزید بڑھایا جائے گا۔

    ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خوراک کی حفاظت کو بہتر بنانے کے ایک حصے کے طور پر، اس سال ہم اپنی پیداوار بڑھانے کے لیے پانی کے شعبے اور زراعت کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں… یہ تمام شعبے چین کی طاقت ہیں، جس نے شاندار کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔اپنے ملک کے زرعی شعبے کی صلاحیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے، اہلکار نے کہا کہ یہ دودھ، سبزیوں اور پھلوں کا ایک بڑا پروڈیوسر ہے، لیکن پروسیسنگ یونٹس اور سپلائی چین کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کار اس شعبے کی صلاحیت سے استفادہ کر سکتے ہیں جیسا کہ انہوں نے دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ سیکریٹری نے کہا کہ ان کا ملک CPEC کے لیے پرعزم ہے، اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار میں ہے، اس بات پر مشترکہ اتفاق رائے ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ CPEC ایک کثیر جہتی پروگرام ہے جو پاکستان کی ضروریات کو پورا کرتا ہے، جس میں ملک کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتہائی ضروری اور دباؤ کی طلب بھی شامل ہے جسے CPEC متعارف کرائے جانے کے وقت 18 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا تھا۔ شاہ نے نوٹ کیا کہ CPEC نے مختلف منصوبوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) لا کر پاکستان کی اقتصادی ترقی کو ایک نئی زندگی بخشی۔

    پاکستان کی مجموعی ترقی میں CPEC کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ اس کا آغاز بنیادی ڈھانچے سے ہوا، جس کے بعد صنعت کاری کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا جو CPEC کے فریم ورک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز میں شروع ہونے جا رہا ہے۔ "اقتصادی زونز میں ایف ڈی آئی نے ان ممالک میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے جن کے پاس سرمائے کی کمی تھی … چین دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کاروں میں سے ایک ہونے کے ناطے ہمارا قریبی دوست ہے، اس لیے ہمیں امید ہے کہ چینی سرمایہ کاری پاکستان کی اقتصادی ترقی میں بہت زیادہ حصہ ڈالے گی۔

  • شدید غذائی قلت کا خطرہ ہے، فلورملز ایسوسی ایشن پاکستان

    اسلام آباد: پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین صالح محمد نے کہا ہے کہ حال ہی میں پنجاب حکومت نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے صوبہ پنجاب سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان جانے والی گندم پر ناجائز پابندی عائد کر دی ہے جس کیوجہ سے دونوں صوبوں کی انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہے۔ صوبوں میں بھی غذائی قلت کے خطرات لاحق ہورہے ہیں۔

    پاکستان میں پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں گندم کی پیداوار باقی صوبوں کی نسبت سب سے زیادہ ہوتی ہے، صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی فلور مل انڈسٹری اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے 80 فیصدگندم پنجاب کی اوپن مارکیٹ سے خریدتی ہے ۔

    نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صالح محمد خان نے کہا کہ اس سال نئی فصل مارکیٹ میں آنے کے بعد موجودہ پنجاب حکومت نے مختلف حیلے بہانے کر کے دیگر صوبوں کی خریداری میں روڑے اٹکائے اور پابندیاں لگائیں جس کے عوض ان صوبوں کی فلور ملز ضرورت کے مطابق اسٹاک نہیں خرید سکیں۔