Baaghi TV

Tag: غذائی قلت

  • افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین، عالمی ادارے نےخبردار کر دیا

    افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین، عالمی ادارے نےخبردار کر دیا

    افغانستان میں بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور لاکھوں بچے خوراک اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں جاری معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان میں تقریباً 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث ان میں سے بڑی تعداد کو امداد فراہم نہیں کی جا سکی۔

    ادارے نے خبردار کیا ہے کہ وسائل کی کمی کے سبب تقریباً 17.4 ملین افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں رہا دور دراز علاقوں میں رہنے والے خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں اور کئی بیمار بچے علاج کے مراکز تک بھی نہیں پہنچ پا رہے اگر فوری مالی معاونت فراہم نہ کی گئی تو لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق افغانستان کو درپیش معاشی اور انتظامی بحران نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے بھی ملک میں وسائل کی کمی اور بدانتظامی کے باعث عوامی محرومی کی نشاندہی کر چکے ہیں انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر امداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ مزید انسانی المیہ جنم نہ لے۔

  • 48 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار، کیسے پڑھائی پر توجہ دیں؟ سیکرٹری تعلیم

    48 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار، کیسے پڑھائی پر توجہ دیں؟ سیکرٹری تعلیم

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کا اجلاس ہوا

    چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر بشری انجم بٹ نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ وزارت تعلیم کے ذیلی اداروں کی سربراہان کی متعدد پوسٹیں لک آفٹر چارج پر رکھی گئی ہیں ۔ اس کیلئے ٹائم فریم کیا ہے ۔اس کیلئے کالنگ پیریئڈ ضروری ہونا چاہیئے ۔ وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ نگران حکومت کا دورانیہ بڑھنے کے سبب یہ مسائل بڑھے ہیں ہیں ۔ سیکرٹری ایجوکیشن نے کہا کہ اداروں کے سربراہان کی مستقل تقرریوں کی اتھارٹی پی ایم آفس ہے۔این بی ایف اور فیڈرل بورڈ میں دو ماہ سے لک آفٹر چارج پر تعیناتیاں کی گئی ہیں ۔ چیئرپرسن قائمہ کمیٹی نے کہا کہ میری اطلاع کے مطابق وزارت تعلیم کے متعدد ذیلی اداروں میں گزشتہ ایک سال سے سربراہان لک آفٹر چارج پر بیٹھے ہیں ۔ سیکرٹری ایجوکیشن نےکہا کہ گزشتہ ایک ماہ میں متعدد اداروں کی سربراہان کیلئے شارٹ لسٹنگ کر لی گئی ہے آئندہ ایک ماہ تک مستقل تقرریاں ہو جائیں گیں۔

    ہمارے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں، صرف ول پاور ہونی چاہیئے وہ اب آپ کو نظر آئیگی،سیکرٹری تعلیم
    سیکرٹری ایجوکیشن کی طرف سے کمیٹی کو وزارت اور اس کے 29 ماتحت اداروں بارے بریفنگ دی گئی، سیکرٹری ایجوکیشن نے گزشتہ ایک سو دنوں میں وزارت تعلیم کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی اور کہا کہ ہمارے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں۔ صرف ول پاور ہونی چاہیئے وہ اب آپ کو نظر آئیگی،48 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں ۔اس سے بچے کیسے پڑھائی پر توجہ دیں گے ،ہم نے اسکولوں میں کھانا دینے کے پروجیکٹ شروع کیے ہوئے ہیں ،بلوچستان میں بھی اسکولوں میں اسکولز میٹس پروگرام کر رہے ہیں،اسلام آباد کے 34 ہزار بچوں کو 18 ہزار گلگت بلتستان اور بلوچستان میں 11 ہزار بچوں کو کھانا مل رہا ہے ۔بچوں کی نظر بھی چیک کی جاتی ہے جس کی آئی سائٹ کمزور ہے انکو گلاسز بھی دے رہے ہیں،ارلی چائلڈ ایجوکیشن سینٹر کا افتتاح کیا ہے آئندہ ماہ سو اور بن جائیں گے ۔کریکٹر ایجوکیشن پالیسی بنائی ہے۔36 ہفتوں کی الگ الگ تھیم ہو گی ،والدین کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا ۔ اسلام آباد آؤٹ آف چلڈرن کا ب فارم نہ ہونے کی وجہ سے داخلہ نہیں مل رہا تھا ،اس پر ہم نے ب فارم کی شرط ختم کر دی ،ان میں زیادہ بچے دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے ہیں ۔زیادہ رش والے 51 اسکولوں میں ایوننگ کلاسز شروع کی ہے ،کچھ عمارتیں جو زیر استعمال نہیں تھیں انکو آپ گریڈ کر کے سکولوں میں کنورٹ کر دیا گیا ہے ،نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایکسیلنس ان ٹیچر ایجوکیشن پروگرام بھی جاری ہے ،اس میں اساتذہ کو ایک دن میں پانچ منٹ کی ٹریننگ دی جاتی ہے ، اساتذہ کو اسباق کی تیاری کرائی جاتی ہے ،لائف لرننگ ڈیٹا کو مانیٹر کیا جاتا ہے

    سیکریٹری تعلیم ہمیں جنت کا منظر دکھا رہے ہیں،سینیٹر فلک ناز
    سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ کیا یہ تمام پروگرامز قابل عمل ہیں؟ چل رہے ہیں؟ سیکرٹری تعلیم نے کہا کہ کمیٹی ممبران کو اسکولز کا دورہ کرائیں گے تا کہ معلوم ہو یہ تمام پروگرامز چل رہے ہیں، سینیٹر فلک ناز نے کہا کہ ہمارے کئی طلبہ کو ڈگریاں نہیں مل رہی ہیں، سیکریٹری تعلیم ہمیں جنت کا منظر دکھا رہے ہیں مگر طلبہ کے مسائل پر وفاقی وزیر تعلیم کی توجہ چاہتی ہوں،شام کے اسکولز میں جس طرح کے معیار کی تعلیم ہوتی ہے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے،

    ملک میں 262 پبلک پرائیویٹ یونیورسٹیز کام کر رہی ہیں، چیئرمین ایچ ای سی
    ڈاکٹر مختار احمد چیئرمین ایچ ای سی نے کمیٹی کو بریفنگ میں کہا کہ 2002میں یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کو ہائی ایجوکیشن کمیشن میں اپ گریڈ کیا گیا ،ہمارا اکیس ممبر کا بورڈ ہے ،رولز آف بزنس کے ذریعے ہم وزارت تعلیم سے ایفیلیئٹ ہیں،ہم ریسٹ آف دی ورلڈ فیس ویلیو ہیں ،جو ادارے پاکستان سے باہر جا کر کام کرنا چاہتا ہے اسے بھی ریگولیٹ کرتے ہیں ،ایچ ای سی ریگولیٹر کا کام کرتا ہے ،2002میں ہمارے پاس اکاون یونیورسٹیز تھیں ،اس وقت ہمارے ملک میں 262 پبلک پرائیویٹ یونیورسٹیز کام کر رہی ہیں،شروع میں صرف 32 فیصد بچیاں یونیورسٹی پارٹ تھیں،اب خواتین کو یونیورسٹی پارٹ 52 فیصد ہے ،اب ہم 40ہزار سے زائد اچھے جرنلز شائع کر رہے ہیں ،اس وقت کوالٹی اور گوورنس کے ایشوز فنڈنگ سے بڑے ہیں ،2017-18کا بجٹ 65بلین ایچ ای سی کیلئے تھی ،آج بھی ہم اسی فنڈنگ پر کھڑے ہیں ،حالانکہ دوسری طرف اس دورانیہ میں 165فیصد صرف تنخواہوں میں اضافہ ہو چکا ہے ،پاکستان میں اپرچونٹیز بہت زیادہ ہیں ،چیلنجز بھی ہیں جو کہاں نہیں ہوتے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں ہر تیسرے ماہ اساتذہ تنخواہوں کے معاملے پر سڑکوں پر ہوتے ہیں، چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی آزاد ہے مگر ان کے معاشی مسائل ہیں جو ذمہ داری لینے پر حل ہو سکتے ہیں،

  • غذائی قلت کے نتیجے میں قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے،صدر عالمی بینک

    غذائی قلت کے نتیجے میں قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے،صدر عالمی بینک

    عالمی بینک نے اپنی شرح نمو میں ایک فیصد سے زائد کی کمی کر دی-

    باغی ٹی وی : عالمی بینک نے جنوری میں شرح نمو میں4.1 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی تاہم اب عالمی بینک نے اب شرح نمو میں 2.9 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے-

    عالمی بینک کی طرف سے پاکستان کو 258ملین ڈالر دینے کی منظوری

    صدر عالمی بینک کا کہنا ہے کہ بہت سےممالک کے لیے کساد بازاری سے بچنا مشکل ہو گا، رواں سال تیل کی قیمتوں میں 42 فیصد اضافہ ہوگا، دیگر اشیاء کی قیمتوں میں 18 فیصد اضافے کا امکان ہے جبکہ غذائی قلت کے نتیجے میں قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے۔

    قبل ازیں عالمی بینک نے پاکستان کو 258 ملین ڈالرز امداد کی منظوری دے دی ہے عالمی بینک کی جانب سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان کے لیے رقم کی منظوری عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے دی۔

    پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس کا ایجنڈا جاری

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم پاکستان میں بنیادی صحت کے نظام میں بہتری کے لیے خرچ ہو گی کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی کیلئے اصلاحات کی جائیں گی صوبائی ہیلتھ سسٹم کومضبوط بنانے میں بھی مدد دی جائے گی، جب کہ ہیلتھ کیئر کوریج، اسٹاف اور دواں کی سپلائی بہتربنائی جائے گی۔

  • تھر:  غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث رواں سال درجنوں خواتین اور 500 سے زائد بچےانتقال کر چکے

    تھر: غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث رواں سال درجنوں خواتین اور 500 سے زائد بچےانتقال کر چکے

    مٹھی : صحرائے تھر کے باسیوں کی خوشحالی ،تعلیم اور صحت کے شعبوں میں غیر ملکی فنڈز سمیت سندھ حکومت کی جانب سے اربوں روپے کے منصوبے باسیوں کی زندگی میں خوشحالی لاسکے نہ ہی ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی آسکی-

    باغی ٹی وی : محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق رواں سال اب تک 80 خواتین اور 550 بچے غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث انتقال کرگئے، جبکہ مجموعی طور پر چھ سال کے دوران ساڑھے تین ہزار سے زائد بچے زندگی بازی ہارگئےان میں پانچ سو سے زائد وہ بچے بھی شامل ہیں جوقبل از پیدائش ہی انتقال کرگئے.

    ماہرین کے مطابق نا مناسب غذا،خون کی کمی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ نہ ہونا خواتین اور بچوں کی اموات کا بڑا سبب ہیں صحرائے تھر کے پسماندہ علاقوں میں سال میں لگ بھگ پندرہ سے بیس ہزار حاملہ خواتین بچوں کو جنم دیتی ہیں لیکن پسماندہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولت نہ ہونے کے باعث اسپتال پہنچنے سے پہلے خواتین پہنچ نہیں پاتی حاملہ خواتین کھلے آسمان تلے صحرا میں ہی بچے کو جنم دینے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔

    نامعلوم ملزمان نومولود بچہ جھلسی ہوئی حالت میں پھینک کر فرار

    صحرائے تھر پاکستان کی جنوب مشرقی اور بھارت کی شمال مغربی سرحد پر واقع ہے۔ اس کا رقبہ 200,000 مربع کلومیٹر يا 77,000 مربع ميل ہے اس كا شمار دنيا کے نويں بڑے صحرا کے طور پر کیا جاتا ہے-

    یہاں عام دنوں میں یہاں پانی کی شدید قلت رہی ہے اکثر انسانوں اور جانوروں کے لیے دو سے تین سو فٹ کہرے کنوَں سے پانی حاصل کیا جاتا ہے ۔ اس لیے کھیتی باڑی صرف وہاں ہوتی ہے جہاں ترائی میں یا جہاں پشتے بناکر بارش کے پانی کو محفوظ کیا گیا ہو ۔ اگر مناسب وقت پر مناسب بارش ہوجائے تو باجرہ اور دوسری بہت عمدہ فضیں حاصل ہوتی ہیں ۔ لیکن یہاں کے بشتر باشندے گلے بانی کرتے ہیں اور اپنے جانور ، گھی اور قالین وغیرہ فروخت کرکے وہاں سے اپنی ضرورت کا غلہ حاصل کرتے ہیں ۔