Baaghi TV

Tag: غریب

  • نجی گندم مارکیٹ کریش ہوگئی، قیمت میں بڑی کمی

    نجی گندم مارکیٹ کریش ہوگئی، قیمت میں بڑی کمی

    نجی گندم مارکیٹ کریش ہوگئی، قیمت میں بڑی کمی

    پنجاب کی نجی گندم مارکیٹ شدید مندی کے نتیجے میں کریش ہوگئی۔ جبکہ راولپنڈی میں نجی گندم کی قیمت میں 750 روپے فی من کمی ہوگئی جس کے نتیجے میں گندم کی قیمت 5250 سے کم ہو کر 4500 روپے ہو گئی۔ پنجاب میں نجی گندم کی قیمت 4500 تا4600 روہے فی من ہے مگر خریدار غائب ہیں۔ سرکاری گندم کوٹہ بڑھ جانے کے بعد فلور ملز نے نجی گندم کی خریداری کم کر دی۔ ذخیرہ اندوزوں نے فلور مل مالکان کو سستے داموں گندم فروخت کرنے کی پیشکش شروع کردی تاہم ملز نے انکار کردیا۔ لاہور میں سرکاری آٹے کی دستیابی میں بہتری کا آغاز ہوگیا۔ مختلف علاقوں میں ٹرکنگ پوائنٹس پر بھیجے گئے آٹے کی فروخت کم ہوگئی۔ تاہم شمالی لاہور میں سرکاری آٹے کی اضافی طلب اور فروخت برقرار ہے۔ محکمہ خوراک نے اسمگلنگ روکنے کےلیے سرحدی اضلاع کی چیک پوسٹوں پر اسپیشل ٹیمیں تعینات کر دیں۔

    دوسری جانب ملک میں آٹے کی قلت دور کرنے کےلیے حکومت کی جانب سے گندم درآمد کی جارہی ہے۔ روس سے حکومتی سطح پر منگوائی جانیوالی گندم کی پہلی کھیپ کراچی پہنچ گئی ہے۔ وزارت فوڈ سکیورٹی حکام نے بتایا کہ روس سے گندم کے دو جہاز پہنچے ہیں۔ روس سے مزید ساڑھے 4 لاکھ ٹن گندم بذریعہ گوادر پاکستان پہنچے گی۔ حکومتی سطح پر مجموعی طور پرساڑھے 7 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جا رہی ہے۔ 30 مارچ تک روس سے حکومتی سطح پر درآمد کی جانیوالی گندم کے تمام جہاز پاکستان پہنچ جائیں گے۔

    مختلف ممالک سے بھی درآمدی گندم لیکر جہاز کراچی پورٹ پہنچ چکے ہیں۔ اب تک ساڑھے تین لاکھ ٹن گندم کراچی پورٹ آچکی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ ملک بھر میں آٹے کی قیمتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں اور اس سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ جبکہ سستا آٹا لینے کے چکر میں گزشتہ روز ایک ہرسنگ نامی مزدور کی بھگ دڑ میں جان بھی چلی گئی تھی.


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نائیجیریا میں ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے منتظر 32 افراد اغوا
    ٹائٹن اروم نامی پھول جو 7 سے 10 سال میں ایک بار کھلتا ہے
    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی

    یاد رہے ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر کے آخری ہفتے میں آٹے کی قیمت میں تقریباً تین فیصد (2.81 فیصد) تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ رواں ہفتے میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں کم از کم 200 روپے تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔

  • ملک بھر میں غریب سے روٹی کانوالہ چھن گیا

    ملک بھر میں غریب سے روٹی کانوالہ چھن گیا

    ملک بھر میں غریب سے روٹی کانوالہ چھن گیااور شہری آٹے کی قیمتوں میں اضافے سے سخت پریشان ہیں۔پاکستان میں عام آدمی کا آئے روز مہنگائی کی نئی لہر سے واسطہ پڑ رہا ہے، مہنگے آٹے اور روٹی کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں شہری آٹےکی قیمتوں میں اضافے سے پریشان ہیں اور گیس کی قلت کے باعث روٹی باہر سے خریدنے پر بھی مجبور ہیں تاہم وہاں بھی روٹی اور نان کی قیمتیں آئے روز بڑھتی ہی جارہی ہیں۔کمشنر لاہور نے روٹی کی قیمت بڑھانے سے انکار کردیا ہے جب کہ روٹی کی قیمت نہ بڑھانے پر نان بائی ایسوسی ایشن نے جمعرات کو احتجاج کا اعلان کیا ہے۔فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم رضا کہتے ہیں کہ جب تک سرکاری گندم کا کوٹا نہیں بڑھایا جاتا یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، مارکیٹ میں گندم وافر ہوگی تو آٹا سستا ہو گا۔دوسری طرف محکمہ خوراک کی ترجمان اور ڈپٹی ڈائریکٹر مس نعیم افضل کا کہنا ہے کہ فلور ملوں کو وافر گندم دے رہے ہیں، جگہ جگہ ٹرکوں پر سستا آٹا بھی فروخت ہو رہا ہے، سرکاری آٹے کی قلت ہے اور نہ ہی قیمت بڑھائی ہے، بے ضابطگیوں پر ملوں کے خلاف کارروائی بھی کر رہے ہیں۔
    پشاور میں نان بائیوں نے روٹی کی قیمت میں 10 روپے کا اضافہ کردیا ہے،170 گرام کی روٹی 20 روپے سے بڑھ کر 30 روپے پر فروخت ہونے لگی ہے۔
    خیبر پختونخوا میں آٹے کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کا جینا محال کردیا ہے، شہریوں کے لیے سرکاری آٹے کا حصول مشکل ہوگیا ہے حکومت اور فلور ملز مالکان کے مطابق ملک اور صوبے میں گندم کی کوئی کمی نہیں۔صوبےکی سالانہ گندم کی ضرورت 50 لاکھ میٹرک ٹن ہے جس میں 12 لاکھ صوبےکی پیداوار ہے جب کہ باقی پنجاب سے درآمد کی جاتی ہے، پنجاب سے آٹے کی ترسیل پر پیش آنے والے مسائل قیمتوں میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔
    ادھر کوئٹہ سمیت بلوچستان میں بھی آٹے اور گندم کا بحران جاری ہے، پاسکو سے خریدی گئی دو لاکھ بوری گندم میں سے دس ہزار بو ر ی گندم کوئٹہ پہنچ گئی ہے جس سے بحران میں کمی کا امکان ہے۔
    لاڑکانہ اورٹھٹھہ میں آٹا 160 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے، ہوٹل مالکان نے بھی روٹی اور سالن کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ کردیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہےکہ پرائس کنٹرول کمیٹی غیر فعال اور مکمل طور پر غائب ہے۔

  • غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    پیٹرول کی قیمت میں دوبارہ اضافے کا اعلان کیا ہوا کہ میرے لئے تو کمبختی آ گئی۔وہ یوں کہ رات گئے جونہی حکومت نے پندرہ دنوں بعد پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا اعلان کیا تو "ماما بلو” جسے مجھ سے ملے ہوۓ کافی عرصہ ہو گیا تھا وہ آن دھمکا اور لگا ہاتھ اٹھا اٹھا کر صلواتیں سنانے-! یہ ہے تمہاری حکومت جس نے اب پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھا دی ہے۔کیسی ہے یہ حکومت ؟ جو دن کے اوقات میں قیمتیں بڑھانے کی سمری کو مسترد کرتی ہے اور جونہی رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے۔اور لوگ سونے کی کوشش میں ہوتے ہیں تو ایسے میں تم قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیتے ہو تاکہ سوۓ ہوۓ لوگ صبح بیدار ہوں تو ان کو یہ روح فرسا خبر ملے اور ان کے آنے والے پورے دن کا ستیاناس کر دے۔ آخر آپ چاہتے کیا ہیں-؟

    یہی کہ لوگ اب مر جائیں کیونکہ پہلے ہی اتنی مہنگائی ہو چکی ہے کہ اب یہی راستہ ان کے پاس رہ گیا ہے کہ وہ خودکشی کر لیں۔نہ صرف خود مر جائیں بلکہ اپنی "جیا جنت "کو بھی ساتھ لیکر ملک عدم کو سدھار جائیں۔

    آپ نے حکومت میں آتے وقت دعوے تو بہت بڑے بڑے کئے تھے۔اب وہ سب دعوے کیا ہوۓ۔؟عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ۔لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کا دعویٰ۔عوام کو سہولیات دینے کا دعویٰ۔مہنگائی کو ختم کرنے کا دعویٰ- عوام میں ہائی جانے والی بے چینی کو کم کرنے کا دعویٰ۔ذخیرہ اندوز مافیا کو لگام دینے کا دعویٰ۔صحت اور تعلیم کی سہولیات کو عام کرنے کا دعویٰ۔

    معاشرے میں موجود نا انصافی اور استحصال کو جڑ سے اکھاڑنے کا دعویٰ۔یہ سب دعوے اب کیا ہوۓ۔لوگ تو اب مایوس ہونے لگے ہیں آپ سے بھی اور وہ بھی اتنی جلدی-! ۔لیکن جب کوئی آپ سے اس بارے میں پوچھتا ہے تو آپ اس بحران کو سابقہ حکومت کے کھاتے میں ڈالنا شروع کر دیتے ہو۔او بھائی-! یہ سابقہ حکومت کا گند تھا تو آپ نے کیوں اسے اپنے کندھوں پہ اٹھا لیا۔؟ کیوں ان کی برائیوں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا۔؟ چلنے دیتے ان کو اور کچھ عرصہ اپنے ان کرتوتوں کیساتھ۔اگر ملک کی بھلائی اور عوام کی اشک سوئی ہی آپ کا مقصد تھا تو اب وہ مقصد کہاں گیا۔؟

    معلوم ہوا تمہارے پاس کوئی پالیسی کوئی پلان اور کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں۔ایسا لگتا ہے کہ تم بھی بغیر کسی تیاری کے آۓ ہو ان سابقہ حکمرانوں کی طرح جنہیں حکومت کرنے کا تو کوئی تجربہ ہی نہ تھا سواۓ ملک کو لوٹنے کے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تم صرف نے سابقہ حکمرانوں کے بغض میں اس بھاری پتھر کو چوما ہے۔

    "ماما بلو” اپنی لمبی چوڑی اس تقریر کے بعد جب اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو میں نے اسے کہا کہ تمہاری یہ باتیں بلکل سچ ہیں۔ نئی آنے والی موجودہ اتحادی حکومت نے بھی تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے ذریعے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ  دعویٰ کیا تھا کہ اس کی پہلی ترجیح  یہ ہو گی کہ ملک کی معاشی اور اقتصادی کارکردگی کو بہتر بنایا جاۓ اور  اس کیساتھ   ساتھ افراط زر میں بڑھتی ہوئی شرح کو کم کیا جاۓ گا مگرحالیہ دو مہینوں میں روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں جو  ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور اس کیساتھ ساتھ  بجلی اور گیس کے نرخوں میں جو  اضافہ ہوا ہے اس نے  تو عوام کی کمر ہی توڑ کر رکھ  دی ہے بلکہ اس کی چیخیں ہی نکال دیں ہیں-

    اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ حکومت بظاہر صرف دعووں پر جی رہی ہے  اور وعدوں پر انحصارکر رہی ہے اور عوام کو سہولت پہنچانے اور مہنگائی ختم کرنے کے یہ دعوے اب دھوکہ سمجھے جانے لگے ہیں کیونکہ اب اس طرف کسی کی بھی کوئی نظر یا توجہ نہیں ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ اس مہنگائی کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں کوئی جواب نہیں ہے۔وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف جنہیں حکومت کرنے کا وسیع تجربہ ہے وہ بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ یہ حکومت اتحادیوں کے رحم و کرم پر ہونے کی وجہ سے کمزور وکٹ پر کھڑی ہے اور انہیں خوش کر کے اور ان کے مفادات پورے کر کے ہی حکومت کی جا سکتی ہے ۔

    اس اتحادی حکومت نے آتے ہی قرضہ لینے کی خاطر آئی ایم ایف کے مطالبے پر صرف پندرہ دنوں کے اندر اندر تیل کی قیمتوں میں چوراسی روپے کا خطیر اور ہوشربا اضافہ کیا تھا جس سے ہر وہ شخص بلبلاء کے رہ گیا جو کما کے کھاتا ہے۔جو مزدور ہے جو دیہاڑی دار ہے۔ جو ٹھیلے والا اور سبزی فروش ہے اور جو پینشنر ہے۔ مہنگائی کی یہ شرح اسی طرح بڑھتی رہی تو وہ وقت دور نہیں بلکہ اب وہ وقت آ چکا ہے اور کسی بھی وقت یہ لاوا پھٹنے کو ہے ۔ موجودہ حکومت نے آئے روز بجلی گیس پٹرول سمیت اشیائے خوردونوش میں اضافہ کرکے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔

    اگرچہ حکومت کی طرف سے سرکاری یوٹیلیٹی سٹورز  پر  کئی اشیاء کم قیمت پر فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن آبادی کے تناسب سے انہتائی کم تعداد پر موجود ان سٹوروں پر ساری اشیائے خردو نوش دستیاب نہیں ہیں اور شومئی قسمت ان یوٹیلیٹی اسٹورز سے بھی لوگ مطمن نہیں ہیں اور اکثر لوگ ان کی انتظامیہ کے بارے میں یہ  شکائیت کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں کہ بعض اشیاء جیسے چینی اور گھی باہر ہی باہر اپنے تعلق داروں یا دوکانداروں کو فروخت کر دیا جاتا ہے اور عوام اس سے محروم ہی رہتی ہے۔

    اس وقت یوٹیلیٹی سٹورز کے باہر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں اور لوگ ہاتھوں میں پیسے لئے آٹے گھی اور چینی کی تلاش میں جگہ جگہ مارے مارے پھرتے دکھائی دے رہے ہیں مگر ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔وہ سارا سارا دن ذلیل و خوار ہو کر شام کو بے نیل و مرام اپنے گھر واپس چلے جاتے ہیں۔

    اس بد نظمی ہی کی وجہ سے آج ہمارا ہر شعبہ زندگی انحطاط کا شکار ہے۔ہر جگہ کوئی نہ کوئی مافیا قبضہ جماۓ بیٹھا ہے۔بلکل اسی طرح سیاست کا شعبہ بھی بد ترین فرعونیت کا شکار ہے۔ ہر ایک خود کو ہی جمہوریت کا ٹھیکیدار اور چیمپین سمجھتا ہے اور کسی دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔موجودہ سیاسی بحران اس کی بہترین مثال ہے۔ آئین کو ایک کھلونا بنا کے رکھ دیا ہے۔

    بڑے بڑے آئینی عہدیدار ہی آئینی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔اسی لئے ہماری عدلیہ پہ بھی بوجھ بڑھ گیا ہے۔عام لوگوں کے سالہا سال تک فیصلے نہیں ہوتے اور وہ انصاف کیلئے ترستے اور جیلوں میں بند رہتے ہیں دوسری طرف پوری دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ ٹیکس امیروں سے لیا جاتا ہے اور اسے غریبوں کی فلاح و بہبود پہ خرچ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے بلکل برعکس ہے۔یہاں غریبوں سے ٹیکس لیا جاتا ہے اور امیروں پہ خرچ کیا جاتا ہے۔غریبوں سے بجلی کے بل اس پہ انواع و اقسام کے اضافی ٹیکس لگا کر لئے جاتے ہیں اور امیروں اور واپڈا اہلکاروں کو بجلی مفت مہیا کی جاتی ہے۔موجودہ ماہ کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس کے نام پر ہزاروں روپے ڈال دئے گئے ہیں ۔

    طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس پہ کسی قسم کا کوئی تاسف یا پریشانی کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اسے بلوں میں شامل کر دیا جاتا ہے۔یہ بہت بڑا ظلم ہے جو واپڈا نے غریب عوام پہ ڈھا رکھا ہے ۔ غریبوں کیلئے تیل مہنگا کیا جاتا ہے اور اہل ثروت اور اہل اقتدار کیلئے اس کے مفت کوٹے مقرر ہیں۔حکومت اگر کسی چیز پہ سبسڈی دیتی ہے تو اس سبسڈی کا بہت بڑا حصہ یہ بڑی بڑی توندوں اور پیٹوں والے کھا جاتے ہیں اور غریب بیچارا بھوکا رہ جاتا ہے۔

    ہماری تاریخ گواہ ہے کہ یہی وہ رویہ ہے جس نے ملک کو استحکام نصیب نہیں ہونے دیا۔جو بھی حکومت میں آتا ہے وہ فرعون بن بیٹھتا ہے اور دوسرا اس کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیتا ہے ۔پولیس اور انتظامیہ کا مورال ڈاؤن کرنے کیلئے پروگرام بناۓ جاتے ہیں اور انہیں برسر اقتدار آنے کی صورت میں سزا کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ زیادہ دور کی بات نہیں جب نوے کی دہائی میں دو سیاسی پارٹیوں نے حکومت میں ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے وہ وہ جتن کئے جو آج بھی ریکارڈ پر ہیں اور یہی کچھ بعد میں آنے والوں نے بھی کیا اور کسی کو کام نہ کرنے دیا بلکہ احتجاج دھرنے اور لانگ مارچ کر کے ایک دوسرے کو زچ کرنے کی کوشش کی۔ نتیجے کے طور پر حکومتیں بر طرف ہوئیں اور ہر برطرفی کے پیچھے جمہوریت کے کسی نہ کسی دعویدار اور ٹھیکیدار کا ہاتھ ہی محسوس کیا گیا۔

    سوال یہ ہے اب شکائیت کس سے کریں کہ کب تک ایسا ہوتا رہیگا اور کب تک عوام مہنگائی نا انصافی اور ظلم کی چکی میں پستی رہے گی اور کب تک امیر اور غریب کے درمیان موجود یہ تقسیم باقی رہے گی۔؟ دنیا داروں نے تو جینے کا حق ہی چھین لیا۔لہذا اب شکائیت صرف اللہ سے ہے جو قادر مطلق ہے اور پالنے والا ہے سب جہانوں کا۔ اسلئے خدارا سوچو۔سوچو -! اس ملک کی بہتری کیلئے اس کی بقاء اور ترقی کیلئے اس کے استحکام اور حفاظت کیلئے کیونکہ یہ ملک ہی ہے جس کی بناء پر دنیا میں ہماری پہچان ہے۔

  • حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 15 روپے اضافہ کردیا

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 15 روپے اضافہ کردیا

    اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصںوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 85 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 248 روپے 74 پیسے مقرر ہوگئی۔

    ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 276 روپے 54 پیسے ہوگئی۔

    اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں 18 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 230 روپے 26 پیسے ہوگی۔لائٹ ڈیزل کی قیمت میں بھی 18 روپے 68 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے اور نئی قیمت 226 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

    علاوہ ازیں پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 10 روپے فی لیٹر عائد کی گئی ہے جبکہ ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل پر 5، 5 روپے پیٹرولیم لیوی عائد کی گئی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرولیم مصںوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

  • "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے          کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    کراچی:”چوری دے کپڑے تےڈانگاں دے گز”قوم کے خون پسینے کی کمائی:کرکٹ کے میدان سے تہلکہ خیزرپورٹ آگئی ،اطلاعات کے مطابق پچھلے چند گھنٹوں سے میڈیا پر کچھ ایسی خبریں بھی آرہی ہیں جن کو دیکھ کر قوم پریشان ہے کہ کس طرح ایک ایک فرد پر سالانہ کروڑوں روپے بہائے جارہے ہیں‌، یہ خبران حلقوں کے لیے تو شاید پریشانی کا باعث نہ ہوجو اس بٹوارے میں شامل ہیں لیکن غریب عوام جو اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس پر ٹیکس ادا کررہےہیں ان افسران کی تنخواہیں اور مراعات دیکھ کر حواس باختہ ہوگئے ہیں

    اس حوالے سے منطرعام پرآنے والے تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی سی بی کے سی او او کی ’’ترقیاں‘‘ آڈٹ میں نمایاں ہو گئیں جب کہ فروری 2019 میں سینئر جنرل منیجر لیگل سے چیف آپریٹنگ آفیسر بننے پر تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔یہ حقائق اور اعدادوشمار یہ بتا رہے ہیں کہ قومی دولت کے کس طرح بٹیارے کیئے گئے ،ایک شخص کو راتوں رات اس قدر نوازنے کا آخرراز کیا ہے ،

     

     

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ میں پیش کردہ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5 ستمبر 2011 کو سلمان نصیر کا بطور منیجر لیگل بغیر کوئی اشتہار جاری کیے ابتدائی طور پر90 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کنٹریکٹ ملازم کی حیثیت سے تقرر ہوا،اس کے بعد مختصر وقت کے لیے ان کی دیگر حیثیتوں میں تقرری/ ترقی ہوتی رہی۔پی سی بی ذرائع کا ہی کہنا ہے کہ یہ ترقیاں غیرقانونی تھیں جن کے لیے نہ تو کوئی قواعد وضوابط طئے تھے اور نہ اس کی پی سی بی کے آئین میں گنجائش ہے

    15 جولائی 2012 تک وہ منیجر لیگل ہی رہے،16 جولائی 2012 سے4 نومبر 2013 تک 16 ماہ تک منیجر لیگل آنری رہے، تنخواہ30 ہزارماہانہ کے اضافے سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے ہو گئی، 5 نومبر 2013 سے3 مارچ 2015 تک80ہزار تنخواہ بڑھنے سے وہ بطور منیجر لیگل16 ماہ تک2 لاکھ ماہانہ وصول کرتے رہے، پھر ان کے عہدے میں سینئر اور چیک پر35 ہزار ماہانہ کا اضافہ ہوا۔
    سینئر منیجر لیگل کی حیثیت سے سلمان نصیر نے 4 مارچ 2015 سے7 مارچ 2016 کے درمیان 12 ماہ تک ماہانہ 2 لاکھ 35 ہزار روپے لیے،پھر تنخواہ تو 15 ہزار بڑھی لیکن وہ جنرل منیجر لیگل بن گئے،8 مارچ 2016 سے یکم جولائی 2018 تک28ماہ تک انھیں ہر ماہ ڈھائی لاکھ روپے دیے جاتے رہے،پھر عہدے میں سینئر اور تنخواہ میں 25 ہزار کا اضافہ ہوا، بطور سینئر جنرل منیجر وہ یکم جولائی 2018 سے 11 فروری 2019 تک 7 ماہ تک 2 لاکھ 75 ہزارروپے ماہانہ پاتے رہے۔

    اس کے بعد سلمان نصیر کی قسمت نے پلٹا کھایا اور انھیں 12 فروری 2019 کو چیف آپریٹنگ آفیسر بنا دیا گیا، تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا اور وہ 2 لاکھ 75 ہزار سے 11 لاکھ روپے ماہانہ ہو گئی۔

    آڈٹ رپورٹ کے مطابق اپنے دور ملازمت میں سلمان30 جولائی 2021 تک3 کروڑ 64 لاکھ 65 ہزارروپے وصول کر چکے ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تو ان کی تنخواہ مزید اضافے سے 12 لاکھ 45 ہزار روپے ماہانہ ہو چکی۔

    رپورٹ کے مطابق انھیں ملازمت پررکھنے سے قبل اخبار میں کوئی اشتہار دیا گیا نہ ہی کم از کم تعلیمی قابلیت، تجربے اور عمر کا خیال رکھا گیا،سلمان نصیر کو مختصر وقت میں بغیر کسی توجہیہ پیش کیے ہائیر اسکیل کی پوسٹس پر تعینات کیا جاتا رہا۔

    آڈٹ رپورٹ میں لکھا گیاکہ بغیر اشتہار سلمان نصیر کی بطور منیجر لیگل تقرری، معاہدے کے دور میں بار بار پروموشنز،ایک سال میں اعلیٰ عہدے پرتقرر بے قاعدہ،غیرمجاذ اور پی سی بی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بغیر کوئی اشتہار دیے ان کی بطور چیف آپریٹنگ آفیسر تعیناتی بھی خلاف ضابطہ ہے۔

    12 جنوری 2021 کو منعقدہ اجلاس میں ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈے اے سی) نے مینجمنٹ کو معاملے کی تحقیقات،ذمہ داری کے تعین اور رپورٹ آڈٹ کے ساتھ شئیر کرنے کا بھی کہا تھا۔

    دوسری طرف یہ خطرناک اور تہلکہ خیز انکشافات سامنے آنے پر عوام الناس میں شدید غم وغصہ پایا جارہاہے ، عوام الناس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کرٹیکس دے رہے ہیں اور کرکٹ بورڈ اس قدر عیاش ہےکہ بورڈ کےسب افراد ملکر قومی دولت کے بٹوارے کررہےہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے غریبوں پرشاید لکھ دیاگیا ہے کہ وہ دن رات محنت کریں اور ان کی کمائی پرکرکٹ بورڈ عیاشی کرے

  • حمزہ شہبازاور شہباز شریف کی ضمانت میں‌ پھرتوسیع

    حمزہ شہبازاور شہباز شریف کی ضمانت میں‌ پھرتوسیع

    لاہور :طاقتورحمزہ شہبازاور شہباز شریف کی ضمانت میں‌ پھرتوسیع،،اطلاعات کے مطابق بینکنگ جرائم کورٹ نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی مقدمات میں عبوری ضمانتوں کا تحریری فیصلہ جاری کرديا ہے۔

    تحریری فیصلے کے مطابق شہباز شریف اورحمزہ شہبازکی ضمانت میں21جنوری تک توسیع کی گئی ہے،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز متعلقہ عدالت سے عبوری درخواست ضمانت کے لیے رجوع کریں۔

    درخواست گزار کے وکلا کی استدعا پر متعلقہ عدالت سے رجوع کی مہلت دی گئی ہے، ضمانت کے لیے مہلت دینے پر ایف آئی اے وکلاء کو اعتراض نہیں ہے۔

    فیصلہ کے مطابق ایف آئی اے نے اس عدالت کا دائرہ اختیار نہ ہونے پر چالان واپس لینے کی استدعا کی گزشتہ روزعدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے دائرچالان واپس کیا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کی بنکنگ جراٸم کورٹ کے جج راٸے طاہر صابر نے شوگر انکواٸری منی لانڈرنگ کیس میں ایف آٸی اے کو چالان واپس کردیا۔ عدالت نے سات روز کے لیے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔

    قبل ازیں بینکنگ جرائم کورٹ میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف شوگر مل کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے موقع پر عدالت نے شہبازشریف کی حاضری معافی درخواست منظور کرلی۔

  • غریب کی عزت بھی گئی اوراصل مسئلہ بھی دبادیاگیا!!!۔

    غریب کی عزت بھی گئی اوراصل مسئلہ بھی دبادیاگیا!!!۔

    لاہورمیں لڑکی کےساتھ زیادتی کےمقدمےمیں پولیس نےگھرپرقبضےکاذکرہی نہ کیا۔متاثرہ لڑکی کےوالدنےگھر کاقبضہ چھڑانے کے لئےوزیراعظم پورٹل پردرخواست دےرکھی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم پورٹل پرشکایت کیوں کی؟ لاہورکےعلاقےمزنگ میں غریب کی بیٹی کوزیادتی کانشانہ بناڈالاگیا۔ پولیس نےمقدمہ درج کرتےوقت حقائق سےمنہ پھیرلیا۔گھرپرقبضےکاذکرہی نہ کیااورصرف زیادتی کا مقدمہ درج کیا۔غریب کی عزت بھی گئی اوراصل مسئلہ بھی دبادیاگیا۔

    متاثرہ لڑکی کےوالدکاکہناہےکہ ملزم آدھےگھرپرقابض ہیں اورپورے قبضہ جمانے کے لئے ڈراتےدھمکاتےرہتےہیں،گھرکاقبضہ چھڑانے کے لئے وزیراعظم پورٹل پردرخواست کی تو ملزم بپھرگئے۔متاثرہ اہلخانہ درخواست میں پولیس پرملزمان کےساتھ سازبازکرنےکاالزام عائدکرچکےہیں۔

    واضح رہے گزشتہ روز مزنگ کے علاقے میں 20 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی ہوئی، پولیس نے دو نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیاتھاجن میں ملزم احسان اور حسن شامل ہیں۔ متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا کہ گھر والوں کی غیر موجودگی میں محلے کے لڑکوں نے زیادتی کی ، ملزمان کسی تیسرے شخص کی فون کال آنے پر فرار ہوئے۔ پولیس نے بتایا کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے ، جلد ملزمان گرفتار ہوں گے۔

    آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کرلی اور ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ متاثرہ لڑکی کو انصاف کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے۔

    یاد رہے کہ شہر میں لرزہ خیزوارداتوں کا ہونا معمول بن چکا ہے، پولیس عوامی تحفظ کے لئے موثر اقدامات کرتو رہی مگر ان میں چھپی کالی بھیڑیں ملزموں کی پست پناہی میں لگی ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں زیادتی، چوری، ڈکیتی، رہزانی اور جنسی ہراساں جیسے جرائم میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہورہا ہے۔

  • تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    یہ بات ہی غلط ہے کہ عمران حکومت نے یہ اپنا پہلا بجٹ پیش کیا ہے۔ دو اضافی منی بجٹوں سے تحریک انصاف اس قوم کو پہلے ہی نواز چکی ہے۔جن کے ثمرات سے ہم رمضان اور عید پر استفادہ حاصل کرچکے ہیں. اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جو صرف اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے۔

    سب سے پہلے بات کر لیتے ہیں۔ کہ جب سے عمران خان اقتدار میں آئیں ہیں انھوں نے کیا تیرچلائے ہیں اور کتنے پیسے اکٹھے کر لیے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ حکومت اقتصادی سروے کے تقریباً تمام اہداف حاصل کرنے میں مکمل فیل ہو گئی ہے۔ یہ وہ کارکردگی ہے جس کے بلند وبانگ دعوے کیے جاتے تھے ۔ اور اب بھی کیے جارہے ہیں۔ اس نئے بجٹ میں ہر چیز پر نئے ٹیکس لاگوکر دیے گئے ہیں۔ شاید ہی کوئی چیز بچی ہو جو ٹیکسوں سے مستثنی ہو۔ چلیں سگریٹ، مشروبات، سی این جی، ایل این جی، سیمنٹ اور گاڑیوں پر عائد ٹیکسز کی شرح میں اضافہ توشاید یہ سوچ کر کیا گیا ہو کہ یہ سب عیاشی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اور اس ملک میں عیاشی صرف حکومت اور وزیروں کا ہی حق ہے ۔ مگرتبدیلی کے دعوے داروں نے کوکنگ آئل، گھی، چینی پر ٹیکسوں میں اضافہ کرکے ثابت کردیا۔ کہ تبدیلی سرکار بھی گزشتہ حکومتوں کی طرح ہی عوام دشمن اور غریب دشمن ہے ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

     

    عمران خان کی نظر میں چینی اتنی بڑی عیاشی ہے کہ اس پرعائد 8 فیصد سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 17 فیصدکردیا گیا ہے۔ جس سے چینی کی فی کلو گرام قیمت میں ساڑھے 3 روپے سے زائد کا اضافہ ہونے کی نوید ہے۔ ایسا ہوناہی تھا۔اس عوام کا مقدر ہی ایسا ہے جب حکومت بنی ہی شوگرمافیا کی مدد سے ہو ۔ جب شوگرمافیانااہلی کے باوجود کابینہ اجلاسوں میں ڈھٹائی سے بیٹھتی ہو۔ تو عوامی استعمال کی اشیاء پر ہی ٹیکس لگائے جاتے ہیں مافیاز پر نہیں ۔ چکن، مٹن اور مچھلی کی سیمی پروسسڈ اور ککڈ اشیاء پر 17 فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ کیونکہ غریب تو کھاتا ہی دال سبزی ہے ۔ گو شت تو امیروں کے چونچنلے ہیں۔ سو اچھا ہی ہوا اس پر ٹیکس لگا دیا گیا ۔ حکومت نے دودھ، بالائی، خشک اور بغیر فلیور والے دودھ پر بھی 10 فیصد ٹیکس تجویز کیا ہے۔ یہ بھی لگثرری ایٹمز ہیں ۔غریبوں کی پہنچ سے تو یہ پہلے ہی بہت دورہیں۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

     

    حکومت نے ہزار سی سی اور اس سے چھوٹی گاڑیو ں پر 2.5فیصد ٹیکس عائد کرکے بھی احسن اقدام کیا ہے۔ کیونکہ گاڑی تو صرف امیر بندہ ہی رکھ سکتا ہے۔مگر متوسط طبقہ پتہ نہیں کیوں اس فیصلے پر تڑپ اُٹھا ہے۔ عام آدمی پیدل چلے ، سائیکل رکھے ، موٹرسائیکل چلائے گاڑی سے اس کا کیا لینا دینا۔ حکومت کا یہ بہت اچھا فیصلہ ہے ۔ اس ملک میں تمام حقوق صرف امیروں کے لیے ہیں ۔ اسی لیے تو مہنگی اور بڑی بڑی گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کر کے امیر افراد کو مزید فائدہ پہنچایاگیا ہے۔ کیونکہ امیروں کے پیسوں سے ہی تو کپتان حکومت میں آئے ہیں ۔ غریبوں اور متوسط طبقے کے ووٹ تو ہر کوئی لے لیتا ہے۔شاید نوجوانوں کے لیڈر کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کم پاور اور نسبتاً کم قیمت گاڑیاں متوسط طبقہ استعمال کرتا ہے۔ یہ وہ گاڑیاں ہیں جنہیں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پرائیویٹ ٹیکسی کے طور پر چلا کر سفید پوشی برقرار رکھنے کی جدو جہد میں استعمال کرتے تھے جن پر اب ٹیکس لگا کر حکومت نے صرف ظلم نہیں کیا ۔ بلکہ اپنا ووٹ بینک بھی متاثر کر لیا ہے۔

    اعلی تعلیم بھی صرف امیروں کے بچوں کا حق ہے اس لیے اس بجٹ میں اعلی تعلیم کا بجٹ 57 ارب سے کم کرکے 43 ارب کردیاگیاہے۔کیونکہ تمام جاگیردار اور وڈیرے خود اسمبلیوں میں موجود ہیں اس لیے زراعت پر ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا ۔ اس اسمبلی میں جتنے بیٹھے ہیں۔ یہ خود تو دور کی بات شاید ان کے ملازم بھی17500 روپوں میں اپنے گھر کا خرچہ نہ چلا سکیں ۔ ٹیکسوں کی بھرمار اور اتنی مہنگائی کے بعد سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرنا حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کے مترادف ہے۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

     

    حکومت خود تو ٹیکس نیٹ بڑھانے میں مکمل ناکام رہی ہے مگر جو پہلے سے ٹیکس دے رہے تھے ان کو مزید نچوڑا جا رہا ہے۔ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہر چیز پر ہر کسی نے ہر حال میں ٹیکس دینا ہے ۔ پہلے صرف ان ڈائریکٹ ٹیکس دیتے تھے ۔ اب ان ڈائریکٹ ٹیکس کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹ ٹیکس بھی دینا ہوگا۔ جس طرح اس حکومت نےٹیکسوں کی بھرمار کی ہے۔ اب ٹیکس ادا کرنے کے لیے بھی ہر کسی کو ایک نئی نوکری کرنی پڑے گی ۔

    ریاستِ مدینہ کا نعرہ لگا کرتحریک انصاف نے اس قوم کے ساتھ وہ کیا ہے کہ شاید یہ قوم آئندہ کبھی کسی کا اعتبار نہ کرے۔ اس بجٹ سے اندازہ ہواہے کہ اصل نیا پاکستان اب بنا ہے ۔
    شکریہ تحریک انصاف
    شکریہ عمران خان
    اگر اجازت ہو تو اب تھوڑا سا گھبرا لیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں