Baaghi TV

Tag: غزہ امن منصوبے

  • مصر مذاکرات، حماس کے اسرائیل سے مستقل جنگ بندی اور انخلا کے مطالبات

    مصر مذاکرات، حماس کے اسرائیل سے مستقل جنگ بندی اور انخلا کے مطالبات

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے پر مصر میں جاری مذاکرات میں حماس نے مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا سمیت متعدد مطالبات پیش کیے ہیں۔

    قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حماس نے مذاکرات کے دوران اپنی بنیادی شرائط کی تفصیلات جاری کر دیں۔ حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا کہ وفد ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے جو غزہ کے عوام کی امنگوں پر پورا اترے۔فوزی برہوم کے مطابق حماس کے اہم مطالبات میں شامل ہیں جن میں مستقل اور جامع جنگ بندی،اسرائیلی افواج کا غزہ کے تمام علاقوں سے مکمل انخلا،انسانی و امدادی سامان کی بلا روک ٹوک فراہمی،بے گھر افراد کی اپنے گھروں کو واپسی،غزہ کی تعمیر نو کا فوری آغاز، جو ایک فلسطینی قومی ٹیکنوکریٹس ادارے کی نگرانی میں ہو اور قیدیوں کے تبادلے کا منصفانہ معاہدہ شامل ہیں.

    حماس کے ترجمان نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ موجودہ مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسا کہ ماضی کے تمام مراحل کو بھی جان بوجھ کر سبوتاژ کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ وحشیانہ فوجی طاقت، لامحدود حمایت اور غزہ میں نسل کشی کی جنگ میں امریکی شراکت داری کے باوجود اسرائیل جھوٹی فتح کی تصویر پیش کرنے میں ناکام رہا ہے اور آئندہ بھی کامیاب نہیں ہوگا۔

    نیشنل پریس کلب حملہ،جوائنٹ کمیٹی کا چارٹر آف ڈیمانڈ وزارت داخلہ کے حوالے

    تجارت اور سرمایہ کاری،سعودی کاروباری وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    مریم نواز وزیراعظم بننے کی تیاری کر رہی ہیں، رانا ثنااللہ

  • نیتن یاہو  غزہ امن منصوبے پر کیسے مجبور ہوئے، امریکی اخبار نے بھانڈا پھوڑ دیا

    نیتن یاہو غزہ امن منصوبے پر کیسے مجبور ہوئے، امریکی اخبار نے بھانڈا پھوڑ دیا

    قطر کے دارالحکومت پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد امریکا اور عرب ممالک کے دباؤ نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کو مجوزہ "غزہ امن منصوبے” میں نرمی دکھانے پر مجبور کر دیا۔

    نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں اسرائیلی حملے نے قطر میں جاری مذاکرات سبوتاژ کر دیے، جس پر واشنگٹن اور خطے سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ تاہم امریکی دباؤ کے باوجود نیتن یاہو نے منصوبے کی کئی شقوں میں ترامیم کرا کے انہیں اسرائیل کے حق میں ڈھال دیا، خاص طور پر غزہ سے انخلا اور فلسطینی ریاست کے ذکر کو کمزور کر دیا گیا۔20 روز بعد ایک غیر متوقع لمحے میں نیتن یاہو اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں ایک ساتھ کھڑے امن منصوبے کا اعلان کرتے دکھائی دیے۔

    ٹرمپ نے اسے ”تاریخ کا عظیم ترین دن“ قرار دیا، جبکہ نیتن یاہو نے محتاط انداز میں کہا کہ یہ منصوبہ ہمارے جنگی مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔یہ پیش رفت ایک پیچیدہ سفارتی عمل کا نتیجہ تھی۔ 8 ستمبر کو امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی میامی رہائش گاہ پر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور اسرائیلی مشیر رون ڈرمر کے ساتھ طویل ملاقات میں منصوبے کی شقوں پر بحث ہوئی۔ بعد ازاں ڈرمر نے دوحا میں ایک قطری عہدیدار سے رابطہ کیا، مگر صرف 12 گھنٹے بعد اسرائیل نے وہی مقام نشانہ بنا دیا جہاں مذاکرات ہو رہے تھے، جس پر قطر سخت برہم ہوا۔

    حملے کے باوجود سفارت کاری جاری رہی۔ بالآخر حماس نے جمعے کی شب اعلان کیا کہ وہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے پر تیار ہے، حتیٰ کہ وہ لاشیں بھی جو دورانِ قید جاں بحق ہو گئیں۔ تاہم حماس نے منصوبے کے چند اہم نکات جیسے ہتھیار ڈالنے اور مستقبل میں مزاحمت نہ کرنے کی یقین دہانی قبول نہیں کی، جس سے منصوبے کی کامیابی مشکوک ہو گئی۔

    نیتن یاہو نے امن منصوبے میں ترامیم کر کے اسے اپنی سیاسی بقا اور دائیں بازو کی حکومت کے مفادات کے مطابق ڈھالا۔ انہوں نے سیز فائر کی شرائط نرم کیں، جبکہ غزہ سے فوجی انخلا، فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور حماس کو محفوظ راستہ دینے جیسے معاملات پر خاموشی اختیار کی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماضی میں کئی امن منصوبے ناکام ہو چکے ہیں، لیکن اس بار امریکا کا فعال کردار، عرب دنیا کی متحدہ حمایت اور اسرائیل کی جزوی لچک ایک نیا موقع فراہم کر رہی ہے۔جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نیڈ لازاروس کے مطابق چاہے منصوبہ کامیاب ہو یا نہ ہو، لیکن اسرائیل، امریکا اور عرب دنیا کو ایک ساتھ میز پر بٹھانا ٹرمپ انتظامیہ کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

    اسپنر ابرار احمد کی شادی، ولیمہ 6 اکتوبر کو ہوگا

    کم عمر سوئیڈش ماحولیاتی کارکن سےاسرائیلی حراست میں غیر انسانی سلوک

    ایمل ولی خان کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی

    بھارتی ٹیچر نے دولت میں شاہ رخ خان کو پیچھے چھوڑ دیا

    یورپ کے بڑے شہروں میں اسرائیلی مظالم کے خلاف مظاہرے

  • مصر کی حماس کو جنگ بندی کی امریکی تجاویز پر قائل کرنے کی کوشش

    مصر کی حماس کو جنگ بندی کی امریکی تجاویز پر قائل کرنے کی کوشش

    مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ مصر، قطر اور ترکیہ کے ساتھ مل کر حماس کو امریکی جنگ بندی تجاویز پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ حماس کے ساتھ ملاقاتیں جاری ہیں تاکہ غزہ امن منصوبے پر پیش رفت ہو سکے۔بدر عبدالعاطی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ منصوبے میں کئی خلاء موجود ہیں جنہیں پُر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق منصوبے پر مزید بات چیت لازمی ہے، خاص طور پر غزہ کی حکمرانی اور سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت غزہ کے عوام کی جبری بے دخلی قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر حماس نے ٹرمپ منصوبہ منظور نہ کیا تو صورتحال بہت مشکل ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔مصری وزیرِ خارجہ نے امید ظاہر کی کہ حماس اس منصوبے کا مثبت جواب دے گی تاکہ غزہ میں امن قائم ہو سکے۔

    وزارتِ دفاع 4 ارب اور وزارتِ داخلہ کے لیے 20 ارب روپے فنڈز کی منظوری

    خیبر پختونخوا کابینہ میں مزید ردوبدل، وزراء کے محکمے دوبارہ تقسیم

    ہندو انتہا پسند خاتون رہنماکے افئیر کے بعد تعلقات خراب، عاشق قتل کروا دیا