Baaghi TV

Tag: غزہ بمباری

  • مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے پریس کلب پریحییٰ السنوار کی غائبانہ نمازجنازہ ادا

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے پریس کلب پریحییٰ السنوار کی غائبانہ نمازجنازہ ادا

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کراچی کے زیر اہتمام پریس کلب پر شہیدحماس رہنما یحیی السنوار کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔نماز جنازہ کی امامت مرکزی مسلم لیگ کے رہنما مفتی محمدیوسف کشمیری نے کی ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے رہنماں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکا نے فلک شگاف نعرے لگائے اور یحیی السنوار کو خراج تحسین پیش کیا۔جنازہ کے موقع پر شرکاسے خطاب کرتے ہوئے کراچی کے صدراحمدندیم اعوان نے کہاکہ اہل غزہ اپنی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں، اور فلسطینی قیادت قربانیوں میں سر فہرست ہے۔اسرائیلی سربریت پر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جبکہ اقوام متحدہ بھی کوئی مثر کردار ادا نہیں کر رہا۔ غزہ کے لوگوں نے دلیری کی مثال قائم کی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ ہر پلیٹ فارم پر فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھے گی۔ان کا کہناتھاکہ اسرائیل فلسطینی ماں، بہنوں اور بچوں کے خون کاپیاسا بن چکا ہے۔ اب تک اسرائیل پینتالیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔لیکن اقوام متحدہ فلسطینیوں کی نسل کشی پر خاموش ہے۔ پوری دنیا اس صورتحال پر گونگی تماشائی بنی ہوئی ہے۔مرکزی مسلم لیگ حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ اے پی سی کی تجاویز پر عمل درآمد کرے اور مسئلہ فلسطین پر عملی کردار ادا کرے۔جنازے کے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ اسرائیل اس دور کا فرعون بن چکا ہے، اور اس نے انبیا کی سرزمین کو خون سے رنگین کر دیا ہے۔
    یحیی السنوار نے قبلہ اول کی خاطر اپنی جان قربان کی۔ مرکزی مسلم لیگ یحیی السنوار شہید کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور فلسطینی شہدا کو سلام پیش کرتی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ اقوام متحدہ مسلمانوں کے بارے میں دوغلی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ جانوروں کے حقوق کی بات کرنے والے فلسطینی شہدا کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے سربراہوں کی خاموشی ایک المیہ ہے۔مسلمانوں کا بچہ بچہ قبلہ اول کی آزادی کے لیے جذبہ شہادت سے سرشار ہے، اور مسلم حکمرانوں کو ایک مضبوط پالیسی اختیار کرنی ہوگی۔

    شہر قائد میں پسند کی شادی کا انجام نئی نویلی دلہن کے افسوس ناک قتل پر ختم

    کراچی میں سمندری ہوائیں بند ، موسم گرم رہنے کا امکان

  • حکمران اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں ، ملی یکجہتی کونسل سندھ

    حکمران اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں ، ملی یکجہتی کونسل سندھ

    جماعت اسلامی کے سابق رکن قومی اسمبلی و ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسد اللہ بھٹو کی زیر صدارت کونسل کے صوبائی عہدیداران کا اجلاس ادارہ نور حق میں منعقد ہوا ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اسرائیل کی جانب سے اہل غزہ پر امریکی سرپرستی میںایک سال سے جاری حالیہ جارحیت و دہشت گردی ، فلسطینیوں کی نسل کشی ، لبنان پر حملے اور جارحیت کا دائرہ وسیع کرنے کی شدید مذمت کی گئی ، اہل غزہ و فلسطین کے ساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کیا گیا ۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ موجودہ حالات میں امت ِ مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے اور مسالک و فرقہ وارانہ بنیادوں پر تفریق و اختلافات پیدا کرنے کی سازشوں کو اتحاد ِ امت کے جذبے کے تحت ناکام بنایا جائے ۔اسرائیل تمام مسلمانوں کا دشمن ہے اور اس کا نشانہ امت ِ مسلمہ ہے ۔ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور پھر حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت اسرائیل کی مسلم دشمنی کا واضح ثبوت ہے ، اجلاس میں اہل غزہ پر اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی جنگی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل بمباری ، ہسپتالوں ، اسکولوں اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے ، خواتین اور بچوں کو شہید کرنے کی شدید مذمت کی گئی ، ان کی قربانیوں اور جدو جہد کو سلام پیش کیا گیا اور عالم اسلام کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی روکنے کے لیے اپنی بے حسی ترک کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کریں اگر ایسانہ کیا گیا تو غزہ کے بعد لبنان کو نشانہ بنانے والا اسرائیل امریکہ کی سرپرستی میں کل کسی اور مسلم ملک پر بھی حملہ کر سکتا ہے ۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ صورتحال میں ملی یکجہتی کونسل کے تحت بہت جلد ’’قومی فلسطین کانفرنس ‘‘منعقد ہوگی جس کی میزبانی اسلامی تحریکِ پاکستان کرے گی ۔ کانفرنس کی تیاریوں و انتظامات کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم جاری رکھی جائے گی ۔ امت ِ مسلمہ کا اتحاد اور عالم اسلام کے حکمرانوں کا راست اقدام اسرائیل کو یقینی طور پر پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے گا ۔اجلاس میں جماعت اسلامی کی جانب سے اتحاد ِ امت کی کوششوں کو سراہا گیا اور کہا گیا کہ اسماعیل ہنیہ اور حسن نصر اللہ کی غائبانہ نماز جنازہ کی ادائیگی سے دنیا بھر میں اتحاد ِ امت کا واضح پیغام گیا ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ اہل غزہ و فلسطین کی قربانیوں اور شہداء کے خون کے طفیل اسرائیل کا بھیانک چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے ۔دنیا بھر میں اہل ِ دل اور باضمیر انسان بھی اسرائیل کی مذمت اور فلسطینیوں کی حمایت کر رہے ہیں ۔ عالم اسلام کے لیے بھی اسرائیل کے خلاف جدو جہد کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم ہونے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ پوری امت اور حکمران :اسرائیل کے خلاف ایک نکاتی ایجنڈے پر جمع ہو جائیں ۔ اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل سندھ کے جنرل سیکریٹری قاضی احمد نورانی ، امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی ، نائب امیر کراچی مسلم پرویز ، مجلسِ وحدت المسلمین کراچی کے صدر مولانا محمد صادق جعفری ، مرکزی جمعیت الحدیث کراچی کے صدر علامہ مرتضیٰ خان رحمانی ، فلسطین فائونڈیشن کے مرکزی سیکریٹری صابر ابو مریم ، اسلامی تحریک ِ پاکستان کے سید ناظر عباس تقوی ،شعیہ علماء کونسل کے صوبائی صدر جعفر سبحانی ، پاکستان عوامی تحریک سندھ کے رہنما ممتاز رضا سیال ، عالمی مجلسِ تحفظِ ختم نبوت ؐ کراچی کے امیر محمد اعجاز مصطفیٰ ، مرکزی مسلم لیگ کے ثقلین اسحاق ، متحدہ جمعیت الحدیث کے طارق رشید ، جمعیت علماء پاکستان کے سید عقیل انجم قادری و دیگر رہنمائوں نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا ، جبکہ قومی فلسطین کانفرنس کے سلسلے میں قائم کی گئی کمیٹی میں ناظر عباس تقوی ، محمد حسین محنتی ، عقیل انجم قادری ، رانا انور اور علامہ صادق جعفری شامل ہیں ۔

    حکمران اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں ، ملی یکجہتی کونسل سندھ

    حکومت کی سمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں: گاڑیوں کی ضبطی کا حکمحیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی روزنامہ 92 کے دفاتر بند کرنے کی مذمت

    حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی روزنامہ 92 کے دفاتر بند کرنے کی مذمت

  • غزہ میں 10 ہزار سے زائدلاشیں لاکھوں ٹن ملبے تلے دبی ہونے کا انکشاف

    غزہ میں 10 ہزار سے زائدلاشیں لاکھوں ٹن ملبے تلے دبی ہونے کا انکشاف

    اسرائیلی فوج نے غزہ کو ایک سال میں کنکریٹ کا جنگل بنا دیا، غزہ کے باشندے حیران ہیں کہ لاکھوں ٹن ملبے سے کیسے نمٹا جائے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ غزہ میں جنگ کے بعد 42 ملین ٹن سے زائد ملبہ جمع ہو چکا ہے، جو 2008 سے لے کر جنگ کے آغاز تک جمع ہونے والے ملبے کی 14 گنا مقدار ہے۔ ملبے کی اتنی بڑی مقدار کو ہٹانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق یہ کام مکمل کرنے میں 14 سال لگ سکتے ہیں۔اس تباہی کی شدت سے نمٹنے کے لیے، غزہ کے حکام اور اقوام متحدہ نے مل کر ایک پائلٹ منصوبہ شروع کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ خان یونس اور دیگر علاقوں سے سڑکوں پر پڑے ملبے کو صاف کیا جا سکے۔ لیکن اس کام کے لیے بڑے پیمانے پر مشینری اور فنڈز کی ضرورت ہے، جو موجودہ حالات میں ایک چیلنج ہے۔

    ملبے کا استعمال اور مستقبل کی تعمیر

    غزہ کے حکام امید رکھتے ہیں کہ ملبے کا ایک حصہ سڑکوں اور سمندری کناروں کو مضبوط کرنے کےلیے دوبارہ استعمال کیا جائے گا، لیکن موجودہ جنگی صورتحال اور اسرائیلی پابندیوں کے باعث یہ عمل سست روی کا شکار ہے۔خان یونس میں اپنے دو منزلہ گھر کے ملبے پر کھڑا 11 سالہ محمد گرے ہوئے چھت کے ٹکڑوں کو ایک ٹوٹے ہوئے ڈول میں جمع کرتا ہے اور اسے کنکریوں میں تبدیل کرتا ہے، جسے اس کا والد جنگ کے متاثرین کی قبریں بنانے کےلیے استعمال کرے گا۔11 سالہ محمد کے والد جو تعمیراتی کمپنی میں بھی کام کرچکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ ملبہ گھروں کو بنانے کےلیے نہیں جمع کرتے، بلکہ قبریں اور کتبے بنانے کےلیے۔ یعنی ایک مصیبت سے دوسری مصیبت میں جا رہے ہیں۔‘اس محنت کے ساتھ ایک دکھ بھری حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے۔ مارچ میں، شمالی کے بیٹے، اسماعیل کی قبر بنانے میں بھی یہی ملبہ استعمال ہوا، جو گھر کے کام کاج کے دوران شہید ہوگیا تھا۔

    بی جے پی کو ہریانہ اور مقبوضہ کشمیر میں بھی شکست کا امکان

    فلسطین سے اظہار یکجہتی کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کل منعقد ہوگی