ڈیووس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں ہونے والے اجلاس میں غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے ہیں۔
دوسرے عالمی رہنماؤں کے ہمراہ دستخطی تقریب میں وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ چارٹر پر دستخط کیے اور امریکی صدر سے مصافحہ اور گفتگو کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر تمام ممالک کے مشکور ہیں اور رکن ممالک قابل احترام ہیں تمام ممالک مشرق وسطیٰ میں امن کے خواہاں ہیں حالانکہ ایک وقت تھا جب اس خطے میں امن کا تصور بھی ممکن نہیں تھا،صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اس دن کو ’’انتہائی پُرجوش اور طویل عرصے سے تیاری میں رہنے والا دن‘‘ قرار دیا دنیا بھر کے ممالک ان کے مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور وہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ان کی قیادت میں ناممکن اور بڑے بڑے کام ممکن بنائے گئےاقتدار میں آنے کے بعد وہ اب تک 8 جنگیں ختم کرا چکے ہیں اور ایک اور بڑا معاہدہ بہت جلد ہونے جا رہا ہے تاہم انہوں نے یوکرین جنگ کو سب سے مشکل مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ تنازع ہے جسے وہ آسان سمجھ رہے تھے مگر یہ سب سے پیچیدہ ثابت ہوا۔
امریکی صدر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل میں 59 ممالک شامل ہیں اور کئی ممالک نے ’بورڈ آف پیس‘ کی حمایت کی ہے اگر حماس نے اپنے وعدے پورے نہ کیے اور ہتھیار نہ ڈالے تو یہ ان کا انجام ہوگا انہیں اسلحہ ترک کرنا ہوگا، ایران کے جوہری مراکز پر گزشتہ موسمِ گرما میں ہونے والی کارروائی ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے اور جلد مذاکرات ہوں گے، جبکہ شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یورپ، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کو لاحق خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور ’دنیا میں کئی اچھی پیش رفت ہو رہی ہیں،ایک سال قبل دنیا آگ میں جل رہی تھی، مگر اب صورتحال پرسکون ہو رہی ہےپاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ ٹرمپ کی کوششوں سے کروڑوں جانیں بچیں، 8 جنگیں ختم کرنے کے بعد کئی عالمی رہنما میرے دوست بن چکے ہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے دورِ حکومت میں امریکا معاشی طور پر مضبوط ہوا، جبکہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں معیشت تباہ حال اور غیر قانونی امیگریشن عروج پر تھی، ایک سال میں ’معجزہ‘ ہوا ہے، ٹیکسوں میں کمی کی جا رہی ہے اور بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں۔
وینزویلا کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہاں کے حوالے سے اچھے اقدامات کیے گئے ہیں جس سے وینزویلا کے عوام خوش ہیں،انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ وینزویلا کی نئی قیادت سے رابطے میں ہیں اور اس ملک کے پاس دنیا کے 62 فیصد تیل کے ذخائر موجود ہیں، امریکا نے آج دنیا کو مزید محفوظ بنا دیا ہے اور وہ اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے، میں نے ایران، اسرائیل، مصر اور ایتھوپیا کے در میان تنازعات کے حل میں بھی کردار ادا کیا، جبکہ شامی صدر سے بات چیت کے بعد پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔

