Baaghi TV

Tag: غزہ جنگ

  • غزہ جنگ کا واحد پائیدارحل سفارتی اور سیاسی مذاکرات ہیں،پوپ لیو

    غزہ جنگ کا واحد پائیدارحل سفارتی اور سیاسی مذاکرات ہیں،پوپ لیو

    ویٹیکن: کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے غزہ کی سنگین صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

    اپنے بیان میں پوپ لیو نے کہا کہ وہ غزہ کے بے سہارا عوام کے ساتھ دلی ہمدردی رکھتے ہیں جو مسلسل خوف اور غیر انسانی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، کے عوام ایک بار پھراپنی زمینوں سے بے دخل کیے جا رہے ہیں اورانہیں ایسے حالات میں دھکیلا جا رہا ہے جو کسی طورقابلِ قبول نہیں۔

    پوپ لیو نے عالمی برادری کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سب مل کراس جنگ کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں،پوپ لیو نے مغویوں کی رہائی پر بھی زوردیا اور کہا کہ انسانی جانوں کو یرغمال بنانا عالمی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، غزہ جنگ کا واحد پائیدارحل سفارتی اور سیاسی مذاکرات ہیں، جن کے ذریعے نہ صرف جنگ بندی ممکن ہے بلکہ خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکتا ہے۔

    اپنے پیغام میں پوپ نے عالمی طاقتوں اوراقوامِ متحدہ پرزوردیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی مکمل پاسداری یقینی بنائیں اورفوری طورپرایسے اقدامات کریں جن سے غزہ کے عوام کو ریلیف پہنچایا جا سکے۔

  • غزہ جنگ، اسرائیلی خیراتی ادارے سے کھانا لینے پر مجبور

    غزہ جنگ، اسرائیلی خیراتی ادارے سے کھانا لینے پر مجبور

    غزہ جنگ کے اخراجات اوت نیتن یاہو حکومت کی معاشی پالیسیوں نے اسرائیلی عوام خیراتی ادارے سےکھانا لینے پر مجبور ہوگئے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس وقت غزہ جنگ کے اخراجات اور بدترین معاشی حالت کی وجہ سےلاکھوں اسرائیلی خاندان خیراتی اداروں کے کھانوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ا س حوالے سےاسرائیل کے میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن مائیر کوہن نے نیتن یاہو حکومت پر شدید تنقید کی.مائیر کوہن کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مہنگائی عروج پر پہنچ گئی ہے، خیراتی اداروں کے سامنے ہزاروں شہریوں کی قطاریں معمول کی بات بن چکی ہیں۔

    مائیر کوہن کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی غفلت اور نا اہلی کی وجہ سے کئی اسرائیلیوں کو ایک وقت کا کھانا بھی دستیاب نہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک اسرائیلی خیراتی ادارے نت بتایا کہ شدید معاشی حالت کے سبب اسرائیل میں ہر تین خاندانوں میں سے ایک انتہائی غربت کی زندگی گزار رہا ہے۔

    پی ٹی آئی میں الزام تراشی، بیرسٹر گوہراور سلمان اکرم کے درمیان تلخ کلامی

    امریکا کا چین پر 125 فیصد اور باقی ممالک پر ٹیرف میں وقفےکا اعلان

    امریکا کا چین پر 125 فیصد اور باقی ممالک پر ٹیرف میں وقفےکا اعلان

    خیبرپختونخوا ،ملزمان انٹرویو اور پولیس کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی

  • مزید 34 فلسطینی شہید، جنرل اسمبلی میں فوری جنگ بندی پر ووٹنگ آج ہوگی

    مزید 34 فلسطینی شہید، جنرل اسمبلی میں فوری جنگ بندی پر ووٹنگ آج ہوگی

    اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر حملوں
    میں کم از کم 34 فلسطینی شہید ہو گئے، اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں گھس کر حملہ کیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طبی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کے علاقے بیت حنون میں اسرائیل کی فضائی فورسز کی جانب سے ایک بلند عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 25 افراد شہید اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔فلسطینی سول ایمرجنسی کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، آن لائن پوسٹ کی جانے والی تصاویر (جن کی رائٹرز فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکا) میں لاشوں کو شہر کی ایک اجتماعی قبر میں قطار میں دیکھا جا سکتا ہے۔ وسطی غزہ میں نصرات پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر ایک اور فضائی حملے میں کم از کم 7 افراد شہید ہوئے، طبی عملے اور فلسطینی سول ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک اور شخص نے انکلیو کے جنوب میں رفح میں 2 افراد کو ہلاک کر دیا۔مقامی لوگوں کے مطابق ساحل کے قریب دیر البلاح میں اسرائیلی بحری افواج نے 6 فلسطینی ماہی گیروں کو حراست میں لے لیا، جو بحیرہ روم میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق 14 ماہ سے جاری اسرائیلی فوج کی مہم میں اب تک 44 ہزار 700 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔امریکا کے حمایت یافتہ عرب ثالثوں مصر اور قطر کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں ناکام رہی ہیں، لیکن اسرائیلی اور فلسطینی حکام میں امید کے حالیہ اشارے بتاتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جلد کسی معاہدے پر پہنچا جاسکتا ہے۔اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ شام میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد حماس کی بڑھتی ہوئی تنہائی، قیدیوں کی واپسی کے معاہدے کے دروازے کھول سکتی ہے، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ کوششیں کامیاب ہوں گی یا نہیں۔

    کےالیکٹرک کے ایریا میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں ، نیپرا رپورٹ

    روس جلد افغان حکومت کو تسلیم کر سکتا ہے

    پاک بحریہ کی رائل عمان اور اسپین کے ساتھ مشترکہ مشقیں

  • القسام بریگیڈ کا حملہ ،میجر سمیت 4 اسرائیلی فوجی ہلاک، 11 زخمی

    القسام بریگیڈ کا حملہ ،میجر سمیت 4 اسرائیلی فوجی ہلاک، 11 زخمی

    غزہ میں القسام بریگیڈ کے حملے میں میجر سمیت 4 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے.

    میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنے ریزرو فوج کے میجر 34 سالہ اتامار لیوین فرائیڈ مین کے حماس کے ہاتھوں مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ القسام کی جانب سے ٹینک پر میزائل حملہ کیا گیا تھا، جس میں اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگیا۔دوسری جانب جنوبی لبنان میں حزب اللّٰہ کے ہاتھوں گزشتہ دنوں زخمی ہونے والا ایک اور فوجی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔یاد رہے کہ اسرائیلی فوج کے مطابق 27 اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی میں زمینی آپریشن کے آغاز سے اب تک 369 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد مارے جانیوالے اسرائیلی فوجیوں کی کل تعداد 783 ہو گئی ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ میں فوری اور غیرمشروط جنگ بندی، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی فوری روکنے اور غزہ کی ناکہ بندی ختم کرکے وہاں خوراک، پانی، بجلی اور طبی امداد کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ریاض میں منعقدہ غیرمعمولی عرب اسلامی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ پر جارحیت کی ہر حد پار کرچکا، غزہ میں انسانی بحران تصور سے باہر ہے، زندگیاں ختم ہورہی ہیں، گھر تباہ ہورہے ہیں اور خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ کب تک ہسپتالوں کو بچوں کی لاشیں اٹھائے خواتین سمیت دھماکوں سے اڑایا جاتا رہے گا اور انسانیت اپنی آنکھیں بند کیے رکھے گی؟

    کراچی میں شہری لاوارث، ڈکیتی مزاحمت پر تین بچوں کا باپ قتل

    ڈونلڈ ٹرمپ کو جیت کے بعد امریکی خواتین تحریک کا سامنا

    کسانوں کی جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی کو یقینی بنائیں گے، امریکی سفیر

    بھارتی ہٹ دھرمی، پاکستانی اسکریبل پلیئرز کوبھی ویزے دینے سے انکار

  • اسرائیل غزہ پر جارحیت کی ہر حد پار کرچکا ہے، وزیر اعظم

    اسرائیل غزہ پر جارحیت کی ہر حد پار کرچکا ہے، وزیر اعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ میں فوری اور غیرمشروط جنگ بندی، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی فوری روکنے اور غزہ کی ناکہ بندی ختم کرکے وہاں خوراک، پانی، بجلی اور طبی امداد کی فوری فراہمی کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی شہر ریاض میں منعقدہ غیرمعمولی عرب اسلامی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہ اسرائیل غزہ پر جارحیت کی ہر حد پار کرچکا، غزہ میں انسانی بحران تصور سے باہر ہے، زندگیاں ختم ہورہی ہیں، گھر تباہ ہورہے ہیں اور خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ کب تک ہسپتالوں کو بچوں کی لاشیں اٹھائے خواتین سمیت دھماکوں سے اڑایا جاتا رہے گا اور انسانیت اپنی آنکھیں بند کیے رکھے گی؟وزیر اعظم نے کہاکہ فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگی جرائم کو عالمی عدالت انصاف اور میڈیا نسل کشی قرار دے چکا ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ اسرائیل ہراخلاقی ضابطے کو پامال کررہا ہے، قتل و غارت اور تباہی تاحال جاری ہے اور اس کے خاتمے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، انہوں نے کہاکہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس جارحیت کو کب تک نظر انداز کیا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہاکہ دنیا کی خاموشی اسرائیل کے لیے حوصلہ افزائی کا کام کررہی ہے، انسانیت کی فوری جنگ بندی اور بلا تعطل امداد کی فراہمی اور شہریوں کے تحفظ کی درخواستوں کو مسلسل پامال کیا جارہا ہے۔ایک طرف گھروں کو مکینوں سمیت بموں سے اڑیا جارہا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی جاری ہے اور ساتھ ہی اسے غیر مشروط تعاون اور حفاظت کی یقین دہانی بھی کروائی جارہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ عالمی انسانی قوانین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، غزہ میں انسانیت آزمائش میں بار بار ناکام ہورہی ہے اور دنیا بہری بن کر خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی ہے۔شہباز شریف نے فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ عجوبہ نہیں ہے تو اور کیا ہے کہ دہائیوں سے جاری مظالم اور جارحیت کے باوجود فلسطینی عوام کے مزاحمت کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی ، بے رحم محاصرے کے باوجود آزادی کے شعلے پوری آب و تاب کے ساتھ بھڑک رہے ہیں۔ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے اور 1967 سے قبل کی سرحدات پر مشتمل ایک ایسی آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے غیر متزلزل حمایت کااعادہ کرتا ہے، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو، انہوں نے کہا کہ مقدس سرزمین پر انصاف اور دیرپا امن کے قیام یہی ایک واحد حل ہے۔

    پی ٹی آئی کی سندھ پولیس کیخلاف توہین عدالت کی درخواستیں

    روس پاکستان سے بہترین تعلقات چاہتا ہے ،گورنرسندھ

    پاکستان کسٹمز میں گریڈ 10سے 18تک کی 69آسامیاں مستقل ختم

  • فلسطین کے معاملے پر تمام ممالک خاموش ہیں،سعیدغنی

    فلسطین کے معاملے پر تمام ممالک خاموش ہیں،سعیدغنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ دنیا میں کہی بھی چھوٹا واقعہ ہو تو فورا مذمت کی جاتی ہے، مگر فلسطین کے معاملے پر امریکہ سمیت تمام بڑے ممالک خاموش ہیں.

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز اسرائیل کی غزہ اور فلسطین پر جارحیت کا ایک سال مکمل ہونے کے خلاف پیپلز پارٹی کے تحت منعقدہ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرین سے پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری و وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی سید وقار مہدی، وزیر اعلی سندھ کے مشیر سید نجمی عالم، پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ سائوتھ کے جنرل سیکرٹری تیمور ٹالپور، پیپلز لائرز فورم کے ارشد نقوی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر سینکڑوں کی تعداد میں خواتین اور مرد کارکنان نے ہاتھوں میں فلسطین کے پرچم تھامے ہوئے تھے اور وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ آج بھی فلسطین اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور بربریت جاری ہے اور افسوس کہ جو ممالک اپنے آپ کو انسانی حقوق کا چیئمپین کہتے ہیں وہ خاموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج پورے پاکستان میں یوم یکجہتی فلسطین منایا جارہا ہے، آج سے ایک سال قبل اسرائیلی جارحیت کا آغاز ہوا تھا اور اب تک اسرائیل نے دہشت گردی کر کے 40 ہزار سے زائد مظلوموں کو شہید کیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اسرائیل کی دہشت گردی سے فلسطین ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، ایسی دہشت گردی حالیہ ماضی میں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اس جارحیت پر بڑی بڑی طاقتیں خاموش ہیں۔ دنیا میں کہی بھی چھوٹا واقعہ ہو تو فورا مذمت کی جاتی ہے، مگر فلسطین کے معاملے پر امریکہ سمیت تمام بڑے ممالک خاموش ہیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ آج یوم یکجہتی کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینیوں کو پتہ لگے کے پاکستان ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں کھڑے ہوکر فلسطین سے ہمدردی کرسکتے ہیں، مگر اسرائیل کو روکنے کے لیے بڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔سعید غنی نے کہا کہ جب تک کوئی بڑا اور اجتماعی فیصلہ نہیں ہوگا تب تک اسرائیل رکے گا نہیں، ڈر اس بات کا ہے کہ اسرائیل ایک بھی فلسطینی کو زندہ نہیں رکھنا چاہتا۔ سعید غنی نے کہا کہ ایک سال میں 42000 سے زائد بچے، خواتین و مظلوم فلسطینی اس بربریت کاشکار ہوئے ہیں۔ بلڈنگز، رہائشی علاقے مسلمار کئے گئے ہیں، اج بھی کئی عمارتوں کے ملبے تلے بھی ہزاروں لوگ اجل کاشکار ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں ایسے واقعات ہوتے ہیں، آوازیں اٹھتی ہیں۔ لیکن اسرائیلی دھشتگردی پر دنیا کی بڑی طاقتیں خاموش ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ایران اور لبنان کی طرف سے ردعمل کے طور پر کچھ کیا جاتا ہے، تو دنیا ردعمل کا اظہار کرتی ہے۔ حسن نصراللہ ہو ایرانی صدر کوٹارگیٹ کیاجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر یہ مظاہرے اس بات کا اظہار ہے کہ ہم اپنے مظلوم فسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔مسلم دنیا کے بڑے طاقت ور ممالک امریکا ،یورپ سے اب کوئی توقع نہیں۔ اب مسلم دنیا ایک ہوکر ردعمل دے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بھرپور اور اجتماعی ردعمل نہیں دیا جائے گا، تب تک یہ ظلم فلسطین میں ہوتا رہے گا کیونکہ اسرائیل چوتھی جنگ عظیم چاہتا ہے۔ اب تواس نے جنگ بڑھا دی ہیہمیں اب مذمتوں سے آگے بڑھنا ہوگا اور آل پارٹی کانفرنس طے کرے کہ ہمیں فلسطینیں کے لئے مزید کیا کرنا ہے۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سید وقار مہدی نے کہا کہ پیپلز پارٹی فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی منارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اسرائیلی جارحیت کو پورا ایک سال ہوگیا ہے۔ اس دوران 42000 سے زائد مظلوم فلسطینی شہید ہوچکے ہیں لیکن افسوس کہ اس تمام کے باوجود مسلمان ممالک خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھلے خاموش رہے پاکستان پیپلزپارٹی خاموش نہیں رہ سکتی۔

    کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی پھر مہنگی

  • برطانیہ میں مظاہرین کا اسرائیلی ڈرونز کے پرزے بنانیوالی فیکٹری کے سامنے احتجاج

    برطانیہ میں مظاہرین کا اسرائیلی ڈرونز کے پرزے بنانیوالی فیکٹری کے سامنے احتجاج

    ایڈن برگ: برطانوی علاقے اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں غزہ جنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسرائیلی ڈرون کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری کے داخلی راستے کو بند کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے علی الصبح گلاسگو میں تھیلس گوون فیکٹری کے دروازے کو بند کرکے برطانیہ کی اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے، غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خاتمے کا مطالبہ کیا یہ احتجاج یوم نکبہ کی 76 ویں برسی کے موقع پر کیا گیا جب 1948 کی جنگ میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تھا اور لاکھوں فلسطینیوں کا قتل عام کرکے 80 فیصد سے زیادہ فلسطینی آبادی کو فلسطین سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا گیا تھا اس قتل عام اور ہجرت کی یاد میں فلسطینی ہر سال 15 مئی کو یوم نکبہ مناتے ہیں جس کا معنی ہیں تباہی۔

    گلاسگو کے مقامی انسانی حقوق کے کارکنوں کے ایک گروپ نے احتجاج کے طور پر گوان کے علاقے میں تھیلس پلانٹ کو بند کردیا جہاں اسرائیلی دفاعی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے ساتھ مشترکہ طور پر جاسوس ڈرونز تیار کیے جاتے ہیں۔

    سیکیورٹی خدشات کےباعث 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ملتوی

    دوسری جانب امریکا نے اسرائیل کو ایک ارب ڈالر کے ہتھیار فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، بائیڈن انتظامیہ نے غزہ میں بہت بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے باعث اسرائیل کو بموں کی ڈلیوری دینے سے انکار کردیا تھا، اس کے باوجود صہیونی حکومت کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی جاری ہے۔

    بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کے لیے ہتھیاروں کی ڈلیوری کے بارے میں کانگریس کو مطلع کردیا ہے یہ اقدام ایسے وقت کیا گیا ہے جب مصر سے متصل غزہ کے علاقے رفح میں اسرائیلی فوجی آپریشن جاری ہےاسرائیلی ٹینک رفح میں بہت اندر تک آچکے ہیں۔

    ہمیں سزا سنا دیں ہم بہتر محسوس کریں گے ہماری جان چھوڑیں، شیخ رشید

    اس سے قبل امریکا نے کہا تھا کہ اسرائیل کو غزہ کے بعد اب رفح میں فوجی آپریشن سے گریز کرنا چاہیے اور یہ کہ اس آپریشن میں امریکا اُس کا ساتھ نہیں دے گا، بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کو رفح میں کارروائی سے خبردار کیا تھا مگر اس کے باوجود صہیونی قیادت نے اپنے منصوبے کے مطابق آپریشن جاری رکھا ہے-